Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الجمعۃ (The Congregation, Friday)

    11 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    سورۂ صف اور سورۂ جمعہ کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ صرف اسلوب بیان اور نہج استدلال دونوں کے الگ الگ ہیں۔ سابق سورہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق حضرت مسیح علیہ السلام کی پیشین گوئی کا حوالہ ہے۔ اس میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی دعا کی طرف اشارہ ہے۔ بنی اسمٰعیل کو متنبہ فرمایا گیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے ان کو جس عظیم نعمت سے نوازا ہے اس کی قدر کریں، یہودیوں کی حاسدانہ سازشوں کا شکار ہو کر اپنے کو اس فضل عظیم سے محروم نہ کر بیٹھیں۔ اسی ذیل میں مسلمانوں کے ایک گروہ کو ملامت فرمائی ہے کہ اس نے دنیوی کاروبار کے طمع میں جمعہ اور رسول کا احترام ملحوظ نہیں رکھا۔ اگر تجارت کی طمع لوگوں کو جمعہ کے احترام اور رسول کی موعظت سے زیادہ عزیز ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ انھوں نے اس بیع و شراء کی حقیقت نہیں سمجھی جو وہ اپنے رب سے کر چکے ہیں (جس کا ذکر سابق سورہ میں ہو چکا ہے) ، ساتھ ہی اس ناقدری کے انجام سے بھی آگاہ فرمایا ہے کہ یہ روش اختیار کر کے یہود اللہ کی شریعت سے محروم ہو گئے۔ مسلمان فلاح چاہتے ہیں تو ان کی تقلید سے بچیں۔

  • الجمعۃ (The Congregation, Friday)

    11 آیات | مدنی
    الصف - الجمعۃ

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں رسول پر ایمان کے بعد اُس کی نصرت کے لیے جہاد سے گریز کرنے والوں اور دوسری میں اُس کی قدرشناسی اور اتباع و اطاعت میں کوتاہی کرنے والوں کو تنبیہ کی گئی ہے۔ دونوں میں خطاب ایمان کا دعویٰ رکھنے والوں سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینۂ طیبہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ تزکیۂ و تطہیر میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ — الصف — کا موضوع کمزور مسلمانوں کو اِس بات پر متنبہ کرنا ہے کہ رسول پر ایمان کے بعد اُس کی نصرت کے لیے جہاد سے گریز کرو گے تو تمھارا حال بھی وہی ہو گا جو یہود کا ہوا ہے۔ اِس معاملے میں صحیح رویہ یہود کا نہیں، سیدنا مسیح کے حواریوں کا تھا، اِس لیے پیروی کرنی ہے تو اُن کی کرو، یہ تو ہمیشہ کے لیے خدا کی ہدایت سے محروم ہو چکے ہیں۔

    دوسری سورہ — الجمعۃ — کا موضوع اِنھی مسلمانوں کو توجہ دلانا ہے کہ رسول کی حیثیت اُن کے لیے ایک نعمت عظمیٰ کی ہے۔ وہ اُس کی قدر پہچانیں اور یہود کے حاسدانہ پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر اپنے آپ کو اِس نعمت سے محروم نہ کر بیٹھیں۔ رسول کی موعظت اور اُس کی لائی ہوئی شریعت کا احترام اُنھیں دنیا کی ہر چیز سے زیادہ عزیز ہونا چاہیے۔ وہ متنبہ رہیں کہ اِس میں
    کوتاہی ہوئی تو اُن کا انجام بھی وہی ہو گا جو اِس سے پہلے یہود کا ہو چکا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 062 Verse 001 Chapter 062 Verse 002 Chapter 062 Verse 003 Chapter 062 Verse 004
    Click translation to show/hide Commentary
    زمین اورآسمانوں کی سب چیزیں اللہ کی تسبیح کرتی ہیں۔ (اللہ)، جو بادشاہ ہے، قدوس ہے، زبردست ہے، بڑی حکمت والا ہے۔
    یہ تمہید کا جملہ ہے۔ اِس میں فعل مضارع ’یُسَبِّحُ‘ دوام و استمرار پر دلالت کرتا اور تصویر حال کا فائدہ دے رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ بادشاہ ہے، اِس لیے جب چاہتا ہے، اپنا فرمان واجب الاذعان بندوں کے لیے نازل کر دیتا ہے؛ قدوس ہے، اِس لیے بندوں کے خیر و شر سے بے نیاز نہیں ہو سکتا؛ زبردست ہے، اِس لیے اپنے فیصلوں میں کسی سے مرعوب نہیں ہوتا؛ اور حکیم ہے، اِس لیے جو کام کرتا ہے، ایک خاص مقصد سے اور اپنی اسکیم کے مطابق کرتا ہے، اُس کا کوئی فیصلہ الل ٹپ نہیں ہوتا۔ لہٰذا یہود اگر امیوں میں پیغمبر کی بعثت پر معترض ہیں تو اُنھیں غور کرنا چاہیے کہ وہ کس ہستی کے فیصلے پر اعتراض کر رہے ہیں۔ زمین و آسمان کی سب چیزیں اُس کی تسبیح کرتی ہیں۔ وہ اِس سے پاک ہے کہ کسی کی جانب داری کرے۔ یہ نہیں مانتے تو نہ مانیں۔ اِن کی خواہشات کے علی الرغم اُس کا فیصلہ ہر حال میں نافذ ہو جائے گا۔
    اُسی نے امیوں کے اندر ایک رسول اُنھی میں سے اٹھایا ہے جو اُس کی آیتیں اُنھیں سناتا اور اُن کا تزکیہ کرتا ہے، اور (اِس کے لیے) اُنھیں قانون اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اِس سے پہلے یہ لوگ کھلی گمراہی میں تھے۔
    یعنی اُن لوگوں کے اندر جو صدیوں سے خدا کی کتاب اور نبوت سے بہرہ یاب نہیں ہوئے تھے۔ اِس سے بنی اسمٰعیل مراد ہیں۔ یہود اِسی بنا پر اُن کو امی کہتے تھے، لیکن بنی اسمٰعیل نے اِس میں چھپے ہوئے مذہبی پندار اور جذبۂ تحقیر کے باوجود اِس پر کبھی اعتراض نہیں کیا، بلکہ اِسے ایک حقیقت کے طور پر قبول کر لیا تھا۔ قرآن نازل ہوا تو اُس نے بھی یہ لفظ اِسی طریقے سے استعمال فرمایا۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...قرآن نے اُن کے لیے اور اُن کی طرف مبعوث ہونے والے رسول کے لیے اِس لفظ کو بطور ایک وصف امتیازی کے ذکر فرمایا تو اِس کا رتبہ اتنا بلند ہو گیا کہ اہل عرب کے لیے اِس نے گویا ایک تشریف آسمانی کی حیثیت حاصل کر لی جس سے قدرت کی یہ شان ظاہر ہوئی کہ جن کو ان پڑھ اور گنوار کہہ کر حقیر ٹھیرایا گیا، وہ تمام عالم کی تعلیم و تہذیب پر مامور ہوئے اور جن کو اپنے حامل کتاب و شریعت ہونے پر ناز تھا، وہ ’کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا‘ ’چارپائے برو کتابے چند‘ کے مصداق قرار پائے۔‘‘(تدبرقرآن ۸/ ۳۷۸) بنی اسمٰعیل میں سے جو لوگ ایمان لا چکے تھے، مگر رسول کی قدر شناسی اور اتباع و اطاعت میں جن سے کوتاہیاں ہو جاتی تھیں، وہی سورہ کے مخاطبین ہیں۔ اُنھیں توجہ دلائی ہے کہ اللہ نے یہ رسول اُنھی کے اندر سے اٹھایا ہے تاکہ وہ جاہلیت کی اُس تاریکی سے نکلیں جو اب تک اُن پر چھائی رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن کو یہ نعمت ملی ہے، وہ اِس پر خدا کا شکر ادا کریں ، اِسے حرز جاں بنائیں اور دوسروں کو بھی دعوت دیں کہ وہ اِس کی قدر کریں۔ یہ اُنھی مسلمانوں پرامتنان اور اظہار فضل و احسان کے لیے مزید وضاحت ہے کہ اِس رسول کے ذریعے سے جو دعوت پیش کی جا رہی ہے ، وہ اُن کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو پاکیزہ بنانے کی دعوت ہے۔ پھر اِس سے بڑھ کر اُن کے حق میں نصح و خیر خواہی کی بات اور کیا ہو سکتی ہے؟ اِس مفہوم کے لیے عربی زبان کا جو لفظ اختیار کیا گیا ہے ،وہ تزکیہ ہے۔ اِس کے معنی کسی چیز کو آلایشوں سے پاک کرنے کے بھی ہیں اور نشوونما دینے کے بھی۔ انبیا علیہم السلام انسانوں کو جس قانون و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں، اُس سے یہ دونوں ہی چیزیں حاصل ہوتی ہیں۔ اصل میں ’یُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ ’الْکِتٰب‘ قرآن کی زبان میں جس طرح خط اور کتاب کے معنی میں آتا ہے، اِسی طرح قانون کے معنی میں بھی مستعمل ہے۔ قرآن کے نظائر سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اور ’الْحِکْمَۃ‘ جب عطف ہو کر آتے ہیں تو ’الْکِتٰب‘ سے شریعت اور ’الْحِکْمَۃ‘ سے دین کی حقیقت اور ایمان و اخلاق کے مباحث مراد ہوتے ہیں۔ یہ مخاطبین کے جذبۂ شکر و سپاس کو ابھارنے کے لیے اُس تاریکی کی طرف توجہ دلائی ہے جس میں وہ گھرے ہوئے تھے۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...مطلب یہ ہے کہ اگر وہ جاہلیت کی اُس گھٹا ٹوپ تاریکی کا خیال کریں جس میں وہ گرفتار رہ چکے ہیں، تب اُنھیں اپنے رب کے فضل و احسان کا کچھ اندازہ ہو گا کہ اُس نے اُن کو کس چاہ ظلمت سے نکالا اور کس آسمان رفعت و عزت پر پہنچایا!‘‘(تدبرقرآن ۸/ ۳۷۹)  
    اور امیوں میں سے اُن دوسروں میں بھی جو (ایمان لا کر) ابھی اُن میں شامل نہیں ہوئے ہیں۔ اللہ زبردست اور حکیم ہے۔
    اِس سے پیچھے اُن لوگوں کا ذکر ہے جو بنی اسمٰعیل میں سے ایمان لا چکے تھے۔ اب فرمایا ہے کہ یہ نعمت اُن کے لیے بھی ہے جنھوں نے اُن میں سے ابھی تک اسلام قبول نہیں کیا۔ اِس میں اگر غور کیجیے تو دعوت بھی ہے اور بشارت بھی۔ یعنی ابھی تک قبول نہیں کیا، لیکن توقع یہی ہے کہ عنقریب کر لیں گے، لہٰذا آگے بڑھیں اور اِس سعادت سے بہرہ یاب ہوں۔ یعنی زبردست ہے، اِس لیے چاہے تو ساری خلق کو ہدایت بخش دے، لیکن چونکہ حکیم بھی ہے ، اِس لیے اُنھی کو بخشے گاجو اُس کی حکمت کے تحت اِس کے سزاوار ہوں گے۔
    یہ اللہ کا فضل ہے، جس کو چاہتا ہے، عطا فرماتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔
    یعنی نبوت و رسالت اللہ کا فضل ہے۔ اِس کا فیصلہ وہی کرتا ہے کہ یہ نعمت کسے عطا فرمائے گا، کوئی دوسرا اِس میں مداخلت نہیں کر سکتا۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List