Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الصف (The Ranks, Battle Array)

    14 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود اور اس کا خطاب

    اس سورہ میں خطاب ان مسلمانوں سے ہے جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے سمع و طاعت کا عہد کر چکنے کے بعد اللہ کی راہ میں جہاد سے جی چرا رہے تھے، ان کو متنبہ فرمایا ہے کہ اگر عہد اطاعت میں داخل ہو چکنے کے بعد تمہاری روش یہی رہی تو یاد رکھو کہ تمہارا بھی وہی حال ہو گا جو یہود کا ہوا۔ انھوں نے اطاعت کا عہد کر چکنے کے بعد قدم قدم پر اپنے پیغمبر، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نافرمانی کی۔ اس کج روی کی سزا ان کو یہ ملی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل اس طرح کج کر دیے کہ وہ ہمیشہ کے لیے ہدایت سے محروم ہو گئے۔ چنانچہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے پاس آخری نبی کی بشارت لے کر آئے اور نہایت کھلے ہوئے معجزات دکھائے تو انھوں نے سارے معجزات کو جادو قرار دیا اور ان کو جھٹلا دیا اور اب وہ اسلام کی مخالفت کے درپے ہیں حالانکہ اسلام، ان کے اور مشرکین دونوں کے علی الرغم، اس سرزمین کے تمام ادیان پر غالب آ کے رہے گا۔ اس کے بعد اس صحیح روش کی طرف رہنمائی فرمائی ہے جو مسلمانوں کو اختیار کرنی چاہیے اور جو اس عہد کا لازمی تقاضا ہے جو اللہ کے رسول سے انھوں نے کیا ہے۔ ساتھ ہی ان کو اس فتح عظیم کی بشارت دی ہے جو مستقبل قریب میں حاصل ہونے والی ہے اگر وہ اس عہد پر مضبوطی سے قائم رہے۔ آخر میں ان کے سامنے ان لوگوں کا نمونہ رکھا ہے جنھوں نے حق کی طرف سبقت اور اس کی تائید و رفاقت کی نہایت اعلیٰ مثال قائم کی اور دعوت دی ہے کہ پیروی کے قابل نمونہ ان کا ہے نہ کہ یہود کا جو ہمیشہ کے لیے اللہ کی ہدایت سے محروم ہوئے۔

    ب۔ سابق سورتوں سے تعلق

    غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ جس طرح پچھلی مدنی سورتوں میں منافقین کا کردار زیربحث رہا ہے اس طرح اس سورہ میں بھی انہی کے ایک گروہ کا کردار زیربحث ہے۔ بس یہ فرق ہے کہ پچھلی سورتوں میں جن منافقین سے بحث ہے وہ اپنے نفس کی داخلی کمزوریوں کے ساتھ ساتھ خارجی بندھنوں میں گرفتار تھے لیکن اس سورہ اور اس کے بعد کی مدنی سورتوں میں منافقین سے بحث ہے جن کی کمزوریاں بیشتر داخلی ہیں۔ مثلاً اس سورہ میں اور اس کے بعد سورۂ جمعہ میں، جو اس کے مثنیٰ کی حیثیت رکھتی ہے، حبِّ مال و جان کی بیماری کی نشان دہی کی گئی ہے اور اس کو ان کے نفاق کا سبب بتایا گیا ہے۔ ساتھ ہی ان کے علاج کی تدابیر کی نشان دہی بھی فرمائی گئی ہے۔

  • الصف (The Ranks, Battle Array)

    14 آیات | مدنی
    الصف - الجمعۃ

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں رسول پر ایمان کے بعد اُس کی نصرت کے لیے جہاد سے گریز کرنے والوں اور دوسری میں اُس کی قدرشناسی اور اتباع و اطاعت میں کوتاہی کرنے والوں کو تنبیہ کی گئی ہے۔ دونوں میں خطاب ایمان کا دعویٰ رکھنے والوں سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینۂ طیبہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ تزکیۂ و تطہیر میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ—- الصف—- کا موضوع کمزور مسلمانوں کو اِس بات پر متنبہ کرنا ہے کہ رسول پر ایمان کے بعد اُس کی نصرت کے لیے جہاد سے گریز کرو گے تو تمھارا حال بھی وہی ہو گا جو یہود کا ہوا ہے۔ اِس معاملے میں صحیح رویہ یہود کا نہیں، سیدنا مسیح کے حواریوں کا تھا، اِس لیے پیروی کرنی ہے تو اُن کی کرو، یہ تو ہمیشہ کے لیے خدا کی ہدایت سے محروم ہو چکے ہیں۔

    دوسری سورہ—- الجمعۃ—- کا موضوع اِنھی مسلمانوں کو توجہ دلانا ہے کہ رسول کی حیثیت اُن کے لیے ایک نعمت عظمیٰ کی ہے۔ وہ اُس کی قدر پہچانیں اور یہود کے حاسدانہ پروپیگنڈے سے متاثر ہو کر اپنے آپ کو اِس نعمت سے محروم نہ کر بیٹھیں۔ رسول کی موعظت اور اُس کی لائی ہوئی شریعت کا احترام اُنھیں دنیا کی ہر چیز سے زیادہ عزیز ہونا چاہیے۔ وہ متنبہ رہیں کہ اِس میں کوتاہی ہوئی تو اُن کا انجام بھی وہی ہو گا جو اِس سے پہلے یہود کا ہو چکا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 061 Verse 001
    Click translation to show/hide Commentary
    زمین اور آسمانوں کی ہر چیز نے اللہ کی تسبیح کی ہے اور وہ زبردست ہے، بڑی حکمت والا ہے۔
    یہ تمہید کا جملہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اپنی راہ میں جہاد کے لیے خدا تمھارا محتاج نہیں ہے۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اُس کی تسبیح میں سرگرم ہے۔ اُس نے تم سے جہاد کا تقاضا کیا ہے تو اِس میں تمھارا ہی بھلا ہے۔کیا تم اُس پر بھروسا نہیں رکھتے کہ اُس کی راہ میں جہاد سے جی چراتے ہو؟ اگر یہی بات ہے تو تم سے بڑھ کر بد قسمت کون ہو گا جو ایسی زبردست اور صاحب حکمت ہستی پر بھروسا نہ کرے۔ آیت کی ابتدا میں فعل ’سَبَّحَ‘ ماضی کے صیغے میں ہے۔ بیان واقعہ اور بیان حقیقت کے لیے یہ اسلوب قرآن مجید میں کئی جگہوں پر اختیار کیا گیا ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List