Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الممتحنۃ (The Examined One, She That Is To Be Examined, Examining Her)

    13 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    پچھلی سورتوں میں منافقین کا اہل کتاب، بالخصوص یہود، سے قطع تعلق کا حکم دیا گیا ہے اور یہ منافقین تھے بھی، جیسا کہ ہم اشارہ کر چکے ہیں، بیشتر اہل کتاب ہی میں سے۔ اس سورہ میں مشرکین مکہ سے قطع تعلق کا حکم دیا گیا ہے اور خطاب خاص طور پر ان لوگوں سے ہے جو اسلام میں داخل بھی تھے اور دین کی خاطر انھوں نے ہجرت بھی کی تھی لیکن اہل مکہ سے رشتہ و برادری کے جو تعلقات تھے اس کی زنجیریں ابھی انھوں نے نہیں توڑی تھیں اس وجہ سے امتحان کے مواقع پر ان سے ایسی کمزوریاں صادر ہو جاتیں جو ایمان و اخلاص کے منافی ہوتیں۔ گویا نفاق کی بیخ کنی یا تطہیر مومنین جو تمام مسبحات کا مشترک مضمون ہے وہی مضمون اس سورہ کا بھی ہے۔ بس یہ فرق ہے کہ اس میں روئے سخن ان مسلمانوں کی طرف ہے جنھوں نے ہجرت تو کی لیکن ہجرت کی اصل ابراہیمی حقیقت ابھی ان پر اچھی طرح واضح نہیں ہوئی تھی۔ ان کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوۂ حسنہ کی یاددہانی فرمائی گئی ہے کہ اگر ہجرت کی برکات سے متمتع ہونا چاہتے ہو تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرح اپنے سابق ماحول سے ہر قسم کا تعلق منقطع کر کے کلیۃً اللہ اور رسول سے وابستہ ہو جاؤ۔

  • الممتحنۃ (The Examined One, She That Is To Be Examined, Examining Her)

    13 آیات | مدنی
    الحشر - الممتحنۃ

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں منافقین کو اُن یہودیوں کے انجام سے سبق لینے کی تلقین فرمائی ہے جن کو وہ شہ دے رہے تھے، اور دوسری سورہ میں کمزور مسلمانوں کو اُن مشرکین کے ساتھ رشتہ و پیوند کے نتائج سے خبردار کیا ہے جو اللہ و رسول کے دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ دونوں میں خطاب ایمان کا دعویٰ رکھنے والوں سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینۂ طیبہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ تزکیہ و تطہیر میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ — الحشر — کا موضوع منافقین کو متنبہ کرنا ہے کہ وہ اگر آنکھیں رکھتے ہوں تو اُن لوگوں کے انجام سے عبرت حاصل کریں جن کو وہ ناقابل تسخیر سمجھے بیٹھے تھے، قرآن کی دعوت پر لبیک کہیں اور اللہ کی پاداش سے ڈریں۔

    دوسری سورہ — الممتحنۃ — کا موضوع اُن مسلمانوں کو ایمان و اسلام کے تقاضے سمجھانا ہے جو ہجرت کرکے آ تو گئے تھے، مگر ہجرت کی حقیقت ابھی اُن پر واضح نہیں ہوئی تھی۔ چنانچہ امتحان کے موقعوں پر اُن سے ایسی کمزوریاں صادر ہو جاتی تھیں جو اُنھیں منافقین کے قریب لے جاتی تھیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 060 Verse 001
    Click translation to show/hide Commentary
    ایمان والو، میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ تم اُن سے محبت کی پینگیں بڑھاتے ہو، دراں حالیکہ جو حق تمھارے پاس آیا ہے، وہ اُس کا انکار کر چکے ہیں۔ وہ خدا کے رسول کو اور تمھیں محض اِس لیے وطن سے نکال دیتے ہیں کہ تم اپنے رب، اللہ پر ایمان لائے ہو۔ تم اُنھیں رازدارانہ دوستی کے پیغام بھیجتے ہوئے اگر میری راہ میں جہاد کے لیے اور میری رضا کی طلب میں نکلتے ہو، دراں حالیکہ میں جانتا ہوں جو تم چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو (تو سوچو کہ کیا کرتے ہو)۔ اور حقیقت یہ ہے کہ تم میں سے جو یہ کرتے ہیں، وہ سیدھی راہ سے بھٹک گئے ہیں۔
    یہ خطاب اگرچہ عام ہے، لیکن روے سخن اُنھی مسلمانوں کی طرف ہے جو ہجرت کرکے مدینہ آگئے تھے، مگر اپنی طبعی کمزوریوں اور مصلحت پرستی کے باعث مشرکین مکہ سے اپنے سابق خاندانی اور عزیزانہ تعلقات ختم نہیں کر سکے تھے۔ قرآن نے اِسے ایمان کے منافی قرار دیا اور فرمایا کہ ایمان کا دعویٰ رکھتے ہو تو یہ تعلقات اب ختم کر دو، اِس لیے کہ یہ لوگ صرف منکر نہیں ہیں، بلکہ اِس سے آگے بڑھ کر میرے اور تمھارے دشمن بن چکے ہیں اور تمھارے خلاف برسر جنگ ہیں۔ اصل الفاظ ہیں: ’تُلْقُوْنَ اِلَیْھِمْ بِالْمَوَدَّۃِ‘۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...(یہ) اُسی طرح کا اسلوب بیان ہے، جس طرح ’وَلَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ‘* ہے۔ اِس طرح کے کام نامہ و پیام اور وسائل و وسائط سے انجام پاتے ہیں، اِس وجہ سے تعبیر مطلب کے لیے یہ اسلوب نہایت موزوں ہے۔‘‘ (تدبرقرآن ۸/ ۳۲۴) یہ حال کا صیغہ اِس لیے اختیار فرمایا ہے کہ صورت حال بالکل نگاہوں کے سامنے آجائے۔ چنانچہ حال یہاں تصویر حال کا فائدہ دے رہا ہے۔ یعنی جو تمھارا رب ہے، تم نے اُسی کا حق پہچانا ہے، لیکن تمھاری یہ حق شناسی تمھارے ساتھ اُن کی دشمنی کا باعث بن گئی ہے۔ اِس جملے میں ’اِنْ کُنْتُمْ‘ کا جواب محذوف ہے۔ یہ آگے ’وَمَنْ یَّفْعَلْہُ‘ سے واضح ہو جاتا ہے جو اِسی پر عطف کیا گیا ہے۔ ہم نے ترجمے میں اُسے کھول دیا ہے۔مطلب یہ ہے کہ خدا کی رضا کے لیے اور اُس کی راہ میں جہاد کی غرض سے نکلنا ہے تو خدا کے اِن دشمنوں سے موالات کی خواہش دلوں میں لیے ہوئے اور اِن سے نامہ و پیام کرتے ہوئے نہیں نکل سکتے۔ یہ موقع موالات کا نہیں، دشمنی کے اظہار کا ہے۔ اللہ کی راہ میں جہاد اور اُس کی رضا طلبی اوراللہ و رسول کے دشمنوں کے ساتھ دوستی دو بالکل متضاد چیزیں ہیں، اِس لیے یک سو ہو جاؤ اور اُن کے ساتھ دوستی کے خیالات ذہن سے نکال دو۔ تمھارا رویہ یہی رہا تو اِس کے معنی یہ ہوں گے کہ تم خدا کا راستہ چھوڑ کر شیطان کے راستے پر چل پڑے ہو۔ _____ * البقرہ ۲: ۱۹۵۔ ’’اور اپنے ہی ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔‘‘  


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List