Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الحشر (The Mustering, The Gathering, Exile, Banishment)

    24 آیات | مدنی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    سابق سورہ ۔۔۔ المجادلۃ ۔۔۔ میں فرمایا ہے کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کر رہے ہیں وہ بالآخر ذلیل و خوار ہو کے رہیں گے، غلبہ اللہ اور اس کے رسولوں کے لیے ہے، اس سورہ میں اسی دعوے کو بعض واقعات سے مبرہن فرمایا ہے جو اس دوران میں پیش آئے اور منافقوں کو آگاہ کیا ہے کہ اگر وہ آنکھیں رکھتے ہیں تو ان واقعات سے سبق لیں کہ جن دشمنوں کو وہ ناقابل تسخیر خیال کیے بیٹھے تھے اللہ تعالیٰ نے کس طرح ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا کہ وہ خود اپنے ہاتھوں اپنے گھروں کو اجاڑ کر جلاوطنی کی زندگی اختیار کرنے پر مجبور ہوئے اور ان کے حامیوں میں سے کوئی ان کا ساتھ دینے والا نہ بنا۔

    پوری سورہ میں خطاب منافقین ہی سے ہے۔ آخر میں یہ بات بھی ان پر واضح فرما دی گئی ہے کہ ان کے شبہات و شکوک دور کرنے اور ان کے دلوں کے اندر گداز پیدا کرنے کے لیے اس قرآن میں اللہ تعالیٰ نے وہ سب کچھ نازل کر دیا جو ضروری ہے۔ اگر یہ قرآن کسی پہاڑ پر بھی اتارا جاتا تو وہ بھی اللہ کی خشیت سے پاش پاش ہو جاتا۔ اگر یہ تمہارے دلوں پر اثر انداز نہیں ہو رہا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ تمہارے دل پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہیں اور تم سزاوار ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ وہی معاملہ کرے جو تمہارے جیسے سنگ دلوں کے ساتھ وہ کیا کرتا ہے۔

  • الحشر (The Mustering, The Gathering, Exile, Banishment)

    24 آیات | مدنی
    الحشر - الممتحنۃ

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں منافقین کو اُن یہودیوں کے انجام سے سبق لینے کی تلقین فرمائی ہے جن کو وہ شہ دے رہے تھے، اور دوسری سورہ میں کمزور مسلمانوں کو اُن مشرکین کے ساتھ رشتہ و پیوند کے نتائج سے خبردار کیا ہے جو اللہ و رسول کے دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ دونوں میں خطاب ایمان کا دعویٰ رکھنے والوں سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینۂ طیبہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ تزکیہ و تطہیر میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ—- الحشر—- کا موضوع منافقین کو متنبہ کرنا ہے کہ وہ اگر آنکھیں رکھتے ہوں تو اُن لوگوں کے انجام سے عبرت حاصل کریں جن کو وہ ناقابل تسخیر سمجھے بیٹھے تھے، قرآن کی دعوت پر لبیک کہیں اور اللہ کی پاداش سے ڈریں۔

    دوسری سورہ—- الممتحنۃ—- کا موضوع اُن مسلمانوں کو ایمان و اسلام کے تقاضے سمجھانا ہے جو ہجرت کرکے آ تو گئے تھے، مگر ہجرت کی حقیقت ابھی اُن پر واضح نہیں ہوئی تھی۔ چنانچہ امتحان کے موقعوں پر اُن سے ایسی کمزوریاں صادر ہو جاتی تھیں جو اُنھیں منافقین کے قریب لے جاتی تھیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 059 Verse 001 Chapter 059 Verse 002
    Click translation to show/hide Commentary
    زمین اورآسمانوں کی ہر چیز نے اللہ کی تسبیح کی ہے اور وہی غالب اور حکیم ہے۔
    یعنی کائنات کی ہر چیز نے ہمیشہ اپنے وجود سے اِس حقیقت کا اظہار و اعلان کیا ہے کہ اللہ اِس سے پاک ہے کہ ظالموں اور نیکوکاروں کو انجام کے لحاظ سے یکساں کر دے۔ چنانچہ وہ ظالموں کو پکڑے گا، اِس لیے کہ حکیم ہے اور کوئی ظالم اُس کی پکڑ سے بچ نہ سکے گا، اِس لیے کہ زبردست بھی ہے۔
    وہی ہے جس نے اہل کتاب کے منکروں کو پہلے حشر کے لیے اُن کے گھروں سے نکال باہر کیا ہے۔ تمھیں گمان نہ تھا کہ وہ کبھی (اِس طرح) نکلیں گے اور وہ بھی یہی سمجھتے تھے کہ اُن کے قلعے اُنھیں اللہ کے عذاب سے بچالیں گے۔ مگر اللہ اُن پروہاں سے آ پہنچا، جہاں سے اُنھوں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا اور اُن کے دلوں میں ہیبت ڈال دی۔ وہ اپنے گھر اپنے ہاتھوں سے اجاڑ رہے تھے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے بھی۔۷؂ سو عبرت حاصل کرو، اے آنکھیں رکھنے والو!
    یعنی پہلے حشر کے طور پر۔ اِس میں یہ تنبیہ ہے کہ ابھی کچھ حشر اور بھی ہیں جن سے اُنھیں دوچار ہونا پڑے گا۔ یہ یہود بنی نضیر کے اخراج کا ذکر ہے جو مدینۂ طیبہ کے قریب آباد تھے۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’... اِن کا واقعہ یہ ہے کہ اِنھوں نے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اگرچہ صلح و امن کا معاہدہ کر رکھا تھا، لیکن بدر کے چھٹے مہینے معاہدے کے خلاف اِنھوں نے اسلام کے دشمنوں سے سازباز بھی کی اور آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کی ایک ناکام سازش کے بھی مرتکب ہوئے۔ اِن کے اِس جرم کی پاداش میں آپ نے اِن کو مدینہ سے نکل جانے کا حکم دیا۔ پہلے تو وہ اِس حکم کی تعمیل پر آمادہ ہو گئے، لیکن بعد میں مشہور منافق عبداللہ بن ابی نے اِنھیں اکسایا کہ میرے دو ہزار آدمی تمھارے ساتھ ہیں، نیز قریش اور غطفان بھی تمھاری حمایت کریں گے، تم نکلنے سے انکار کر دو۔ عبداللہ بن ابی کی اِن باتوں سے وہ اُس کے چکمے میں آگئے اور نکلنے سے انکارکر دیا۔ بالآخر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اِن پر فوج کشی کی۔ اُس وقت نہ بنو قریظہ نے اِن کا ساتھ دیا، نہ قریش اور غطفان نے۔ ناچار اِنھیں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرنی پڑی۔ آپ نے ازراہ عنایت یہ اجازت اِنھیں دے دی کہ جتنا سامان وہ اونٹوں پر لے جا سکتے ہیں، اتنا لے جائیں۔ چنانچہ وہ جتنا سامان لے جا سکے، لے کر خیبر اور اذرعات چلے گئے۔ اِن کی باقی املاک و جائداد پرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبضہ کر لیا۔‘‘*(تدبرقرآن ۸/ ۲۸۳) یہ خطاب اُنھی منافقین سے ہے جو اِس سورہ کے مخاطب ہیں۔ اصل میں ’مِنَ اللّٰہِ‘ کا لفظ آیا ہے۔ اِس میں مضاف عربیت کے قاعدے کے مطابق حذف ہو گیا ہے۔ یعنی ’مِنْ بَاْسِ اللّٰہِ‘ یا ’مِنْ عَذَابِ اللّٰہِ‘۔ یہ نشان دہی فرمائی ہے کہ اللہ کہاں سے آ پہنچا۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’... وہ اپنے اردگرد اینٹوں اور پتھروں کی دیواریں چن کر سمجھے کہ خدا کی پکڑ سے باہر ہو گئے، لیکن اللہ نے اُن کی دیواریں ہٹانے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی، بلکہ براہ راست اُن کے دلوں میں رعب ڈال دیا جس کا اثر یہ ہوا کہ وہ قلعے اور گڑھیاں رکھتے ہوئے ایسے مرعوب ہوئے کہ اپنے بنائے ہوئے گھروں کو اُنھوں نے خود اپنے ہاتھوں اجاڑا۔‘‘(تدبرقرآن ۸/ ۲۸۴) یعنی کچھ بربادی مسلمانوں کے حملے سے ہوئی اور کچھ اُنھوں نے خود اجاڑ دیے کہ اُن کے نکل جانے کے بعد مسلمان اُن سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ _____ * بخاری، رقم ۳۸۰۴۔  


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List