Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • المجادلۃ (The Pleading, She That Disputeth, The Pleading Woman)

    22 آیات | مدنی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    سابق سورہ کا خاتمہ اہل کتاب کے اس اعتراض کے جواب پر ہوا ہے جو انھوں نے جہاد کے خلاف اٹھایا۔ اس اعتراض سے تعرض کی ضرورت ظاہر ہے کہ اس وجہ سے پیش آئی کہ مخالفین کے یہ اعتراضات منافقین اٹھا لیتے اور پھر ان کو چپکے چپکے مسلمانوں کے اندر پھیلانا شروع کر دیتے کہ ان کے عقیدہ کو متزلزل اور ان کے جوش جہاد کو سرد کریں۔ اس سورہ کے زمانۂ نزول میں معلوم ہوتا ہے کہ منافقین کی یہ سرگرمیاں بہت بڑھ گئی تھیں۔ یہ صورت حال داعی ہوئی کہ اس خفیہ پراپیگنڈہ کا سدباب کیا جائے چنانچہ اس سورہ میں منافقین کی اس طرح کی حرکتوں پر نہایت شدت کے ساتھ گرفت بھی کی گئی اور اس کے سدباب کے لیے بعض ضروری تدبیریں اختیار کرنے کی بھی مسلمانوں کو ہدایت فرمائی گئی۔ ساتھ ہی ایک نہایت مؤثر عملی مثال سے یہ سبق بھی لوگوں کو دیا گیا کہ اگر کسی کو اسلام کے سبب سے زندگی میں کوئی مشکل پیش آئے تو اس کو نہایت خلوص کے ساتھ اللہ و رسول کے سامنے عرض کرے۔ امید ہے کہ اس کی مشکل حل ہونے کی کوئی راہ اللہ تعالیٰ کھول دے گا۔ رہے وہ لوگ جو کسی فرضی یا واقعی مشکل کو بہانہ بنا کر اسلام کے خلاف پراپیگنڈے کی مہم شروع کر دیتے ہیں وہ درحقیقت اللہ اور رسول کے خلاف محاذ جنگ کھولنا چاہتے ہیں۔ اس طرح کے لوگ یاد رکھیں کہ وہ ذلیل ہو کے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا قطعی فیصلہ ہے کہ غلبہ اور سرفرازی صرف اللہ اور اس کے رسولوں کے لیے ہے۔

  • المجادلۃ (The Pleading, She That Disputeth, The Pleading Woman)

    22 آیات | مدنی
    الحدید —— المجادلۃ

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں جس جہاد و انفاق کے لیے ابھارا ہے، دوسری میں اُسی کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے منافقین کو اُن کے رویے پر سخت تنبیہ کی گئی ہے۔ دونوں میں خطاب مسلمانوں سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینۂ طیبہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ تزکیہ و تطہیر میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ — الحدید — کا موضوع مسلمانوں کو سابقین اولین کے مرتبے تک پہنچنے کے لیے جہاد و انفاق کی ترغیب اور اُن لوگوں کو تنبیہ و تلقین ہے جو ایمان کے تقاضوں سے پوری طرح آشنا نہ ہونے کی وجہ سے اسلام کے اِن مطالبات کو پورا کرنے سے گریزاں تھے۔

    دوسری سورہ — المجادلۃ — کا موضوع ایمان و اسلام کے تقاضوں کی وضاحت، منافقین کو تہدیدووعید اور اُن کے اُس پروپیگنڈے کا سدباب ہے جو وہ مسلمانوں کے عقائد کو متزلزل اور اُن کے جوش جہاد کو سرد کرنے کے لیے کر رہے تھے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 058 Verse 001
    Click translation to show/hide Commentary
    اللہ نے اُس عورت کی بات سن لی ہے جو تم سے اپنے شوہر کے معاملے میں جھگڑ رہی تھی اور اللہ سے فریاد کیے جاتی تھی۔ اللہ تم دونوں کی باتیں سن رہا تھا۔ بے شک، اللہ سمیع و بصیر ہے۔
    سننے سے مراد یہاں محض سن لینا نہیں ہے، بلکہ قبول کر لینا ہے۔ ہماری زبان میں بھی یہ لفظ قبول کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اِس خاتون کا نام روایتوں میں خولہ بنت ثعلبہ آیا ہے۔ اِن کے شوہر اوس بن صامت انصاری قبیلۂ اوس کے سردار حضرت عبادہ بن صامت کے بھائی تھے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے مزاج میں کچھ تیزی تھی، پھر بڑھاپے میں کچھ چڑچڑے بھی ہو گئے تھے۔ اِس حالت میں بیوی سے ظہار کر بیٹھے۔ یہ اِسی واقعے کا ذکر ہے۔* سورہ کی ابتدا میں یہ واقعہ سورہ کے مخاطبین کو یہ بتانے کے لیے سنایا گیا ہے کہ دین کے معاملے میں اگر کوئی مشکل پیش آجائے تو بندۂ مومن کو اِس خاتون کی طرح اپنی مشکل اپنے پروردگار کے سامنے پیش کرنی چاہیے۔ اپنی مشکلات کو منافقوں کی طرح دین پر نکتہ چینی اور اللہ و رسول کے خلاف محاذ آرائی کا بہانہ نہیں بنا لینا چاہیے۔ اِس میں الحاح و اصرار بھی ممنوع نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اِسے نہایت توجہ اور شفقت سے سنتا ہے۔ اصل میں ’تُجَادِلُکَ‘ کا لفظ آیا ہے۔ اِس سے پہلے عربیت کے معروف قاعدے کے مطابق ایک فعل ناقص حذف ہو گیا ہے۔ اِس سے یہ بات نکلتی ہے کہ جس خاتون کا یہ واقعہ ہے، اُنھوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ اور الحاح و اصرار کے ساتھ اپنا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا۔ قرآن نے یہ لفظ ’مُجَادَلَۃ‘ اچھے اور برے دونوں معنوں میں استعمال کیا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’... برے معنی اِس کے کٹ حجتی کرنے اور جھگڑنے کے ہیں اور اچھے معنی اِس کے کسی سے اپنی بات محبت، اعتماد، حسن گزارش، تدلل اور اصرار کے ساتھ منوانے کی کوشش کرنے کے ہیں۔ اِس میں جھگڑنا تو بظاہر ہوتا ہے، لیکن یہ جھگڑنا محبت اور اعتماد کے ساتھ ہوتا ہے ، جس طرح چھوٹے اپنی کوئی بات اپنے کسی بڑے سے، اُس کی شفقت پر اعتماد کرکے منوانے کے لیے جھگڑتے ہیں۔ اِس مجادلۂ محبت کی بہترین مثال سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا وہ مجادلہ ہے جو اُنھوں نے قوم لوط کے باب میں اپنے رب سے کیا ہے اور جس کی اللہ تعالیٰ نے نہایت تعریف فرمائی ہے... یہاں اِن خاتون کے جس مجادلہ کی طرف اشارہ ہے ، اُس کی نوعیت بالکل یہی ہے۔‘‘ (تدبرقرآن ۸/ ۲۴۷) اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی کو تباہی سے بچانے کے لیے بار بار فریاد کر رہی تھیں اور چاہتی تھیں کہ مسئلے کا کوئی حل نکل آئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اُس وقت وحی الٰہی کی کوئی واضح رہنمائی اِس معاملے میں موجود نہیں تھی۔ چنانچہ آپ متردد تھے کہ اُنھیں کیا جواب دیں، یہاں تک کہ اُن کی فریاد اُس پروردگار نے سن لی جو سمیع و بصیر ہے، یہ تمام گفتگو جس کے سامنے ہو رہی تھی اور جو خاص توجہ اور مہربانی سے اُسے سن رہا تھا۔ _____ * احمد، رقم۲۷۳۶۰۔  


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List