Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الحدید (The Iron)

    29 آیات | مدنی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ الواقعہ ۔۔۔ کی مثنیٰ ہے۔ اگرچہ دونوں میں مکی اور مدنی ہونے کے اعتبار سے فی الجملہ زمانی اور مکانی بُعد ہے لیکن معنوی اعتبار سے دونوں میں غایت درجہ ربط و اتصال ہے۔ سابق سورہ میں یہ اصولی حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ جزاء و سزا کا دن لازماً آ کے رہے گا اور اس دن لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے۔ ایک گروہ سابقون اوّلون کا ہو گا، دوسرا اصحاب یمین کا، تیسرا اصحاب شمال کا۔

    اس سورہ میں خاص طور پر مسلمانوں کو مخاطب کر کے ان کو سابقین اولین کی صف میں اپنی جگہ پیدا کرنے پر ابھارا ہے اور اس کا طریقہ یہ بتایا ہے کہ فتح مکہ سے پہلے پہلے جو لوگ جہاد و انفاق کریں گے وہ سابقین کے زمرے میں شامل ہوں گے اور ان کا مرتبہ ان لوگوں سے اونچا ہو گا جو فتح مکہ کے بعد جہاد و انفاق کی سعادت حاصل کریں گے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ دونوں ہی سے اچھا ہے تاہم تقرب الٰہی کے اعتبار سے دونوں میں جو فرق ہے وہ واضح ہے۔ اسی ضمن میں ان مسلمانوں کو جہاد و انفاق پر ابھارا ہے جو اسلام میں داخل تو ہو گئے تھے لیکن ایمان کے مقتضیات سے اچھی طرح آشنا نہ ہونے کے سبب سے، اس کے مطالبات پورے کرنے کے معاملے میں کمزور تھے۔ ان کو تنبیہ فرمائی ہے کہ اگر دنیا کی محبت میں پھنس کر تم نے آخرت کی ابدی بادشاہی حاصل کرنے کا حوصلہ کھو دیا تو یاد رکھو کہ بالآخر یہود کی طرح تمہارے دل بھی سخت ہو جائیں گے اور تمہارا انجام وہی ہو گا جو ان کا ہوا۔

    اس معنوی ربط کے ساتھ ساتھ دونوں صورتوں میں ظاہری ربط بھی نہایت واضح ہے۔ سابق سورہ کا خاتمہ ’فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ‘ کے الفاظ پر ہوا ہے اور اس کا آغاز ’سَبَّحَ لِلَّہِ مَا فِیْ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ... الاٰیۃ‘ کے الفاظ سے ہوا ہے۔ گویا اُس کی آخری اور اِس کی پہلی آیت نے ایک حلقۂ اتصال کی شکل اختیار کر کے دونوں کو نہایت خوبصورتی سے باہم دگر مربوط کر دیا ہے اس قسم کے ربط کی نہایت خوبصورت مثالیں پیچھے بھی گزر چکی ہیں اور یہ قرآن کے ایک منظم و مربوط کتاب ہونے کا ایک واضح قرینہ ہے۔

  • الحدید (The Iron)

    29 آیات | مدنی
    الحدید —— المجادلۃ

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں جس جہاد و انفاق کے لیے ابھارا ہے، دوسری میں اُسی کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے منافقین کو اُن کے رویے پر سخت تنبیہ کی گئی ہے۔ دونوں میں خطاب مسلمانوں سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینۂ طیبہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ تزکیہ و تطہیر میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ — الحدید — کا موضوع مسلمانوں کو سابقین اولین کے مرتبے تک پہنچنے کے لیے جہاد و انفاق کی ترغیب اور اُن لوگوں کو تنبیہ و تلقین ہے جو ایمان کے تقاضوں سے پوری طرح آشنا نہ ہونے کی وجہ سے اسلام کے اِن مطالبات کو پورا کرنے سے گریزاں تھے۔

    دوسری سورہ — المجادلۃ— کا موضوع ایمان و اسلام کے تقاضوں کی وضاحت، منافقین کو تہدیدووعید اور اُن کے اُس پروپیگنڈے کا سدباب ہے جو وہ مسلمانوں کے عقائد کو متزلزل اور اُن کے جوش جہاد کو سرد کرنے کے لیے کر رہے تھے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 057 Verse 001 Chapter 057 Verse 002 Chapter 057 Verse 003
    Click translation to show/hide Commentary
    زمین اور آسمانوں کی ہر چیز نے اللہ کی تسبیح کی ہے اور وہ زبردست ہے، بڑی حکمت والا ہے۔
    یعنی کائنات کی ہر چیز نے ہمیشہ اپنے وجود سے اِس حقیقت کا اظہار و اعلان کیا ہے کہ اُس کے خالق نے دنیا محض کھیل تماشے کے لیے نہیں بنائی ، وہ اِس سے پاک ہے کہ اِس طرح عبث کوئی کام کرے۔ چنانچہ انسان کو بھی یہی کرنا چاہیے ۔ ورنہ وہ زبردست ہے، ایک دن پکڑ بلائے گا اور اُسے لازماً پکڑ بلانا چاہیے ، اِس لیے کہ وہ حکیم بھی ہے۔ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ظالموں اور نیکوکاروں کو وہ انجام کے لحاظ سے یکساں کر دے؟
    زمین اور آسمانوں کی بادشاہی اُسی کی ہے۔ وہی زندہ کرتا اور وہی مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
    n/a
    وہی اول بھی ہے اور آخر بھی، اور ظاہر بھی ہے اور باطن بھی، اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔
    احاطۂ قدرت کے بعد اب یہ اللہ تعالیٰ کے احاطۂ علم کا بیان ہے کہ وہ زمان و مکان کی محدودیتوں سے بالاتر ہے۔ چنانچہ اول ہے، اُس سے پہلے کچھ نہیں ہے؛ آخر ہے، اُس کے بعد بھی کچھ نہیں ہے؛ ظاہر ہے، اُس کے اوپر کچھ نہیں ہے؛ باطن ہے، اُس کے نیچے بھی کچھ نہیں ہے۔ اُس کا علم ابتدا، انتہا اور اندر باہر ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List