Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الرحمان (The Most Gracious, The Beneficent, The Mercy Giving)

    78 آیات | مدنی

    سورہ کا مزاج، عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    اس سورہ کو بعض لوگوں نے مدنی قرار دیا ہے لیکن پوری سورہ کا مدنی ہونا تو الگ رہا اس کی ایک آیت بھی مدنی نہیں معلوم ہوتی۔ پوری سورہ بالکل ہم آہنگ و ہم رنگ ہے اور پڑھنے والا صاف محسوس کرتا ہے کہ یہ بیک دفعہ نازل ہوئی ہے۔

    اپنے مزاج اور مطالب کے اعتبار سے یہ سورتوں کے اس زمرے سے تعلق رکھتی ہے جو مکی زندگی کے اس دور میں نازل ہوئی ہیں جب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کے جوش میں مخالفین اس مطالبہ پر اڑ گئے ہیں کہ جب تک ان کو کوئی نشانئ عذاب نہ دکھا دی جائے گی اس وقت تک نہ وہ یہ ماننے کے لیے تیار ہیں کہ اس نئی دعوت کی تکذیب کے نتیجہ میں ان پر کوئی عذاب آ جائے گا اور نہ یہ تسلیم کرنے والے ہیں کہ فی الواقع آگے کوئی دن آنے والا ہے جس میں ان کو دائمی عذاب اور ابدی رسوائی سے دوچار ہونا پڑے۔

    ضد اور ہٹ دھرمی کی اس ذہنیت کے سبب سے سابق سورہ میں بھی آپ نے دیکھا ہے کہ ’فَکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِن مُّدَّکِرٍ‘ کی تذکیر بار بار دہرائی گئی ہے اور اس سورہ میں ’فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ‘ کی تنبیہ بار بار آئی ہے۔ کسی ایک ہی بات کی طرف باربار توجہ دلانے کا یہ اسلوب ظاہر ہے کہ اسی صورت میں اختیار کیا جاتا ہے جب مخاطب یا تو اتنا ضدی ہو کہ اپنی خواہش کے خلاف کوئی بات ماننے کے لیے تیار ہی نہ ہو یا اتنا غبی ہو کہ جب تک اس کو کان پکڑ پکڑ کر ایک ایک چیز کی طرف توجہ نہ دلائی جائے اس سے کسی معقول بات کے سمجھنے کی توقع ہی نہ کی جا سکتی ہو۔

    کلام میں مخاطب کی ذہنیت اور اس کے مزاج کی رعایت ایک ناگزیر شے ہے۔ اگر متکلم یہ چیز ملحوظ نہ رکھ سکے تو اس کا کلام نہ مطابق حال ہو گا، نہ بلیغ۔ جو لوگ کلام کے ان تقاضوں سے نابلد ہوتے ہیں وہ اس نوعیت کے کلام کی خوبیوں اور نزاکتوں کے پرکھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ وہ ایک آیت کے باربار اعادے کو تکرار پر محمول کرتے اور اس تکرار کو ایک عیب قرار دیتے ہیں۔ چنانچہ اس سورہ پر بھی بعض کم سوادوں نے یہ اعتراض کیا ہے کہ اس میں ایک ہی آیت کا بار بار اعادہ ہے۔ حالانکہ اگر وہ یہ سمجھ جائیں کہ اس میں مخاطب کس ذہنیت کے لوگ ہیں تو وہ پکار اٹھیں کہ اس سورہ کی ایک ایک ترجیع اپنے محل میں اس طرح جڑی ہوئی ہے جس طرح انگشتری میں نگینہ ہوتا ہے۔

    سورۂ قمر میں قریش کے ہٹ دھرموں کو یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ رسولوں اور ان کی قوموں کی تاریخ سے آخر کیوں سبق نہیں لیتے؟ کیوں اڑے ہوئے ہو کہ جب عذاب کا تازیانہ دیکھ لو گے تب ہی مانو گے؟ یہ تو اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہے کہ اس نے تمہاری تعلیم و تذکیر کے لیے ایک کتاب اتاری جو ہر پہلو سے اس مقصد کے لیے نہایت موزوں ہے! اس سورہ میں اسی مضمون کو ایک نئے اسلوب اور نہایت اچھوتے انداز سے لیا ہے اور انھیں یہ سمجھایا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمانیت ہے کہ اس نے تمہاری تعلیم کے لیے قرآن اتارا۔ تمہاری فطرت کا تقاضا یہی تھا کہ اس مقصد کے لیے قرآن ہی اتارا جائے۔ جب اللہ نے تم کو نطق و بیان کی صلاحیت سے نوازا ہے تو تم بات سمجھ بھی سکتے ہو اور سمجھا بھی سکتے ہو۔ اس اعلیٰ صلاحیت کا حق یہی ہے کہ اسی کو تمہاری تعلیم کا ذریعہ بنایا جائے نہ کہ عذاب کے ڈنڈے کو، لیکن تمہاری یہ بدبختی ہے کہ تم اس نعمت و رحمت سے فائدہ اٹھانے کے بجائے کوئی نئی نشانی دیکھنے کے لیے مچلے ہوئے ہو۔ اگر کوئی نشانی ہی مطلوب ہے تو آسمان و زمین اور آفاق و انفس کی نشانیوں پر کیوں نہیں غور کرتے جو ہر روز تمہارے مشاہدے میں آتی ہیں اور تمہیں انہی حقائق کے درس دیتی ہیں جن کی دعوت قرآن دے رہا ہے۔ ان نشانیوں کے ہوتے کسی نئی نشانی کی کیا ضرورت ہے؟ اس کے بعد زمین و آسمان کی ایک ایک نشانی پر انگلی رکھ کر اور گویا ان ضدیوں کے کان پکڑ پکڑ کر توجہ دلائی ہے کہ یہ نشانیاں نہیں ہیں تو کیا ہیں! آخر اپنے رب کی کن کن نشانیوں کو جھٹلاتے رہو گے!

  • الرحمان (The Most Gracious, The Beneficent, The Mercy Giving)

    78 آیات | مدنی
    القمر —— الرحمٰن

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں میں ترجیع ہے، چنانچہ یہظاہری مناسبت بھی بالکل واضح ہے۔ دونوں سورتوں کا موضوع اثبات قیامت اور اُس کے حوالے سے انذار و بشارت ہے۔ پہلی سورہ میں خدا کی دینونت کے ظہور اور دوسری سورہ میں انفس و آفاق کے اندر اُس کی رحمت، قدرت اور حکمت و ربوبیت کی نشانیوں سے استدلال کیا گیا ہے۔

    دونوں میں خطاب قریش سے ہے جو عذاب کے لیے کسی نشانی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اُنھیں ایک ایک واقعے اور ایک ایک نشانی کی طرف توجہ دلاکر متنبہ کیا گیا ہے کہ اِن نشانیوں کو کیوں نہیں دیکھتے اور اِن واقعات سے کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے؟ ترجیع کی آیتیں دونوں سورتوں میں اِنھی ہٹ دھرم اور ضدی مخاطبین کو جھنجھوڑنے کے لیے آئی ہیں۔

    اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 055 Verse 001 Chapter 055 Verse 002 Chapter 055 Verse 003 Chapter 055 Verse 004
    Click translation to show/hide Commentary
    رحمٰن۔
    n/a
    (رحمٰن) نے قرآن کی تعلیم دی۔
    n/a
    (اِس لیے کہ) اُس نے انسان کو پیدا کیا ہے۔
    n/a
    اُسے نطق و بیان کی صلاحیت عطا فرمائی ہے۔
    یعنی تمھارا پروردگار سراسر رحمت ہے۔ اُس نے تمھیں جانور نہیں، بلکہ انسان بنا کر پیدا کیا اور نطق و بیان کی صلاحیت عطا فرمائی ہے۔ یہ صلاحیت بتاتی ہے کہ تم ایک صاحب عقل اور صاحب ادراک ہستی ہو، خیر و شر میں تمیز کرسکتے ہو، کلیات سے جزئیات اور جزئیات سے کلیات بناسکتے ہو، استدلال، استنباط اور اجتہاد کی صلاحیت رکھتے ہو۔ اِس کے بعد ضروری تھا کہ تم سے بات کی جائے۔ تمھارے پروردگار نے یہی کیا ہے اور تمھاری پیٹھ پر تادیب کا تازیانہ برسانے کے بجاے قرآن کے ذریعے سے تمھاری تعلیم کا اہتمام کر دیا ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List