Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • القمر (The Moon)

    55 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    اس سورہ کا آغاز اسی مضمون سے ہوا ہے جس پر سابق سورہ ختم ہوئی ہے۔ سابق سورہ ’أَزِفَتْ الْاٰزِفَۃُ‘ (۵۷) (قریب آ پہنچی قریب آنے والی) کی تنبیہ پر تمام ہوئی۔ اس سورہ کا آغاز ’اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ‘ (۱) (عذاب کی گھڑی قریب آ پہنچی اور چاند شق ہو گیا) سے ہوا ہے۔ گویا ’أَزِفَتْ الْاٰزِفَۃُ‘ کے اجمال کی اس میں تفصیل فرما دی گئی ہے۔ اس مناسبت کے علاوہ ایک اور ظاہری مناسبت بھی دونوں میں واضح ہے۔ پہلی سورہ میں ستاروں کے ہبوط و سقوط سے دعوے پر شہادت پیش کی گئی ہے اور اس میں چاند کے پھٹنے سے۔ اس میں آیت ’وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِن مُّدَّکِرٍ‘ باربار دہرائی گئی ہے۔ جس سورہ میں کسی آیت کی ترجیع ہو اس کو سورہ میں خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ گویا متکلم تھوڑے تھوڑے وقفہ سے اپنے دعوے پر دلائل بیان کرتے ہوئے ضدی مخاطب کو باربار توجہ دلاتا ہے کہ اپنی ضد ہی پر کیوں اڑے ہوئے ہو، اس واضح حقیقت پر کیوں نہیں غور کرتے جو تمہارے سامنے دلائل کی روشنی میں پیش کی جا رہی ہے۔

    مخاطب اس میں وہ مکذبین ہیں جو قرآن کے انذار کی تصدیق کے لیے کسی ایسی نشانئ عذاب کا مطالبہ کر رہے تھے جو انھیں قائل کر دے کہ فی الواقع قرآن کی یہ دھمکی سچی ہو کے رہے گی اگر وہ اس کو جھٹلاتے رہے۔ ان کو پچھلی قوموں کی تاریخ، جس کی طرف پچھلی سورہ میں بھی اشارہ ہے، نسبتاً تفصیل کے ساتھ سنا کر متنبہ فرمایا ہے کہ آخر ان قوموں کے انجام سے کیوں عبرت نہیں حاصل کرتے؟ کیوں مچلے ہوئے ہو کہ جب یہی کچھ تمہارے سروں پر بھی گزر جائے گا تب مانو گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہے کہ اس نے تمہیں عذاب کی نشانی دکھانے کی جگہ ایک ایسی کتاب تم پر اتاری ہے جو تمہاری تعلیم و تذکیر اور تمہارے شکوک و شبہات دور کرنے کے لیے ہر پہلو سے جامع و کامل اور تمام ضروری اوصاف و محاسن سے آراستہ ہے۔ لیکن تمہارا حال یہ ہے کہ اللہ تعالی کی رحمت کی جگہ تم اس کے عذاب کے طالب بنے ہوئے ہو۔

  • القمر (The Moon)

    55 آیات | مکی
    القمر —— الرحمٰن

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں میں ترجیع ہے، چنانچہ یہظاہری مناسبت بھی بالکل واضح ہے۔ دونوں سورتوں کا موضوع اثبات قیامت اور اُس کے حوالے سے انذار و بشارت ہے۔ پہلی سورہ میں خدا کی دینونت کے ظہور اور دوسری سورہ میں انفس و آفاق کے اندر اُس کی رحمت، قدرت اور حکمت و ربوبیت کی نشانیوں سے استدلال کیا گیا ہے۔

    دونوں میں خطاب قریش سے ہے جو عذاب کے لیے کسی نشانی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اُنھیں ایک ایک واقعے اور ایک ایک نشانی کی طرف توجہ دلاکر متنبہ کیا گیا ہے کہ اِن نشانیوں کو کیوں نہیں دیکھتے اور اِن واقعات سے کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے؟ ترجیع کی آیتیں دونوں سورتوں میں اِنھی ہٹ دھرم اور ضدی مخاطبین کو جھنجھوڑنے کے لیے آئی ہیں۔

    اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 054 Verse 001 Chapter 054 Verse 002 Chapter 054 Verse 003 Chapter 054 Verse 004 Chapter 054 Verse 005 Chapter 054 Verse 006 Chapter 054 Verse 007 Chapter 054 Verse 008
    Click translation to show/hide Commentary
    وہ گھڑی قریب آ گئی (جس سے اِنھیں خبردار کیا جا رہا ہے )اور چاند شق ہو گیا۔
    یعنی قیامت کی گھڑی جو رسول کے مکذبین کے لیے اُس عذاب سے شروع ہو جاتی ہے جو اُس کی تکذیب پر اصرار کے نتیجے میں اُن پر لازماً آتا ہے۔ قیامت کی جس گھڑی سے خبردار کیا ہے، یہ اُس کی علامت بیان ہوئی ہے۔ سورۂ حٰم السجدہ (۴۱) کی آیت ۵۳ میں فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انذار کی تقویت اور آپ کی قوم پر اتمام حجت کے لیے اللہ تعالیٰ عنقریب انفس و آفاق میں اپنی بعض غیر معمولی نشانیاں دکھائیں گے۔ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اِنھی میں سے ایک نشانی چاند کے شق ہو جانے کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’اِس طرح کی نشانیوں کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ رسول نے اِن کو اپنے معجزے کے طور پر پیش کیا ہو، بلکہ اِن کا ظہور کسی اعلان و تحدی کے بغیر بھی ہو سکتا ہے۔ یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ کفار نے بعینہٖ اُسی نشانی کا مطالبہ کیا ہو جو ظاہر ہوئی، بلکہ اُن کی طرف سے کسی مطالبے کے بغیر محض اِس لیے بھی اِن کا ظہور ہوتا ہے کہ کفار کے پیش کردہ شبہات کا اُن کو جواب مل جائے۔ کفار قیامت کو جو بہت بعید از عقل چیز خیال کرتے تھے، اُس کا ایک بہت بڑا سبب یہ بھی تھا کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ یہ ساری کائنات ایک دن بالکل درہم برہم ہو جائے۔ پہاڑوں سے متعلق اُن کا جو سوال قرآن میں نقل ہوا ہے ، اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ اِن چیزوں کو وہ بالکل اٹل، غیر متزلزل اور غیر فانی سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے شق قمر کی نشانی دکھا کر اُن کو بتایا کہ اِس کائنات کی چیزوں میں سے کوئی چیز بھی خواہ وہ کتنی ہی عظیم ہو، نہ خودمختار ہے، نہ غیر فانی، نہ غیرمتزلزل ، بلکہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہے۔ وہ جب چاہے گا، اِن سب کو درہم برہم کرکے رکھ دے گا۔‘‘ (تدبر قرآن ۸/ ۹۱)  
    (مگر یہ نہ مانیں گے) اور خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں، اُس سے منہ ہی موڑیں گے اور کہیں گے: یہ تو جادو ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔
    یہ جملہ اِس بات کی صریح دلیل ہے کہ شق قمر کا یہ واقعہ مستقبل کی کوئی خبر نہیں ہے، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیش آنے والا ایک واقعہ ہے جس سے قرآن نے عذاب اور قیامت کے وقوع پر استدلال کیا ہے۔ اِس لیے کہ ’اِنْشَقَّ الْقَمَرُ‘ کے معنی اگر یہ کیے جائیں کہ چاند شق ہو جائے گا تو اِس کے بعد یہ جملہ بالکل بے جوڑ ہو جاتا ہے۔چنانچہ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ ہجرت سے تقریباً ۵ سال پہلے پیش آیا۔ قمری مہینے کی چودھویں رات تھی ۔چاند تھوڑی دیر پہلے طلوع ہوا تھا۔ یکایک وہ شق ہوا اور اُس کا ایک ٹکڑا سامنے کی پہاڑی کے ایک طرف اور دوسرا ٹکڑا دوسری طرف نظر آیا۔ ایک لحظے کے لیے لوگوں نے یہ کیفیت دیکھی اور پھر دونوں ٹکڑے باہم مل گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت منیٰ میں تشریف فرما تھے۔ آپ نے لوگوں کو توجہ دلائی کہ خدا کی یہ نشانی دیکھو اور گواہ رہو۔ قریش نے اِسے جادو قرار دے کر جھٹلانے کی کوشش کی۔* قرآن نے اِسی پر تبصرہ کیا ہے کہ اِس طرح کی ہر نشانی کے بارے میں یہ منکرین یہی کہیں گے کہ جادو ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔ اِس سے وہ یہ تاثر دینا چاہتے تھے کہ جادو ہونے کے لحاظ سے بھی اِس میں کوئی ندرت نہیں ہے۔ یہ اُسی طرح کے کرشمے ہیں جو اِ س سے پہلے کے جادوگر دکھاتے رہے اور جو برابر منتقل ہوتے چلے آرہے ہیں۔ _____ * بخاری، رقم ۳۶۵۶، ۴۵۸۳۔ احمد، رقم ۱۶۷۹۶۔
    (چنانچہ یہی ہوا ہے) اور اِنھوں نے (اب بھی) جھٹلا دیا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کی ہے۔ اور (ہم نے اُسی وقت اِن کو نہیں پکڑا، اِس لیے کہ ہمارے ہاں) ہر کام کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔
    یہ تکذیب کی علت بیان فرمائی ہے کہ یہ اپنی خواہشوں کے غلام ہو چکے ہیں، اِ س لیے خیال کرتے ہیں کہ جزا و سزا کو مانیں گے تو اِن خواہشوں سے دستبردار ہونا پڑے گا، لہٰذا انکار کر دیتے ہیں اور پیغمبر کو جھٹلانے کے لیے طرح طرح کی سخن سازیاں کرتے ہیں۔
    اِن کے سامنے ماضی کی وہ سرگذشتیں آ چکی ہیں جن میں (اِن کے لیے) بہت کچھ سامان عبرت ہے۔
    n/a
    نہایت دل نشیں حکمت۔ مگر تنبیہات (اِن سرکشوں کے معاملے میں) کیا کام دیں گی!
    n/a
    اِس لیے اِن سے رُخ پھیر لو اور اُس دن کا انتظار کرو، جس دن پکارنے والا اُس چیز کے لیے پکارے گا جو سخت ناگوار ہو گی۔
    اصل الفاظ ہیں: ’فَتَوَلَّ عَنْھُمْ، یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ‘۔ جملے کی تالیف سے واضح ہے کہ ’تَوَلَّ‘ یہاں ’اِنْتَظِرْ‘ کے مفہوم پر متضمن ہے۔ ہم نے ترجمے میں اِسے کھول دیا ہے۔
    اِن کی نگاہیں (اُس دن) جھکی ہوں گی۔ [یہ پکارنے والے کی طرف دوڑتے ہوئے] اِس طرح قبروں سے نکلیں گے گویا بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں۔
    n/a
    یہ پکارنے والے کی طرف دوڑتے ہوئے [اِس طرح قبروں سے نکلیں گے گویا بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں]۔ (اُس وقت) یہ منکر کہیں گے: یہ دن تو بہت مشکل آیا ہے۔
    n/a


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List