Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • النجم (The Star)

    62 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ الطّور ۔۔۔ کی توام سورہ ہے۔ مرکزی مضمون دونوں کا ایک ہی ہے، یعنی جزا اور سزا کا اثبات۔ بس یہ فرق ہے کہ سابق سورہ میں عذاب کے پہلو کو نمایاں فرمایا ہے اور اس میں اس شفاعت باطل کی تردید ہے جس میں مشرکین عرب مبتلا تھے۔ اس کی وجہ، جیسا کہ پچھلی سورتوں میں ہم واضح کر چکے ہیں، یہ ہے کہ اس عقیدۂ باطل کے باقی رہتے ہوئے مشرکین کے لیے بڑے سے بڑے عذاب کی دھمکی بھی بالکل بے اثر تھی۔ قرآن نے اسی وجہ سے قیامت اور توحید دونوں کا ذکر ہمیشہ ساتھ ساتھ کیا ہے تاکہ مشرکین کے لیے کوئی راہ فرار باقی نہ رہے۔ اس حقیقت کی طرف اشارہ پچھلی سورہ میں بھی ہے، اس سورہ میں اس اشارہ کی پوری وضاحت ہو گئی ہے۔ گویا ان دونوں سورتوں کا مشترک مضمون یہ ہے کہ منکرین و مکذبین کے لیے اللہ کا عذاب لازمی ہے، اپنے جن معبودوں کی شفاعت پر یہ تکیہ کیے بیٹھے ہیں اول تو ان کی کوئی حقیقت نہیں، محض فرضی نام ہیں جو انھوں نے رکھ چھوڑے ہیں اور اگر کچھ حقیقت ہے تو اللہ تعالیٰ کا معاملہ لوگوں کے ساتھ کامل علم اور کامل عدل پر مبنی ہو گا۔ اس بات کا وہاں کوئی امکان نہیں ہے کہ کسی کی شفاعت اس کے علم میں کوئی اضافہ کر سکے، یا اس کے فیصلہ کو تبدیل کر سکے یا باطل کو حق بنا سکے۔

    عمود اور مضمون کے علاوہ سابق سورہ کے خاتمہ اور اس سورہ کے آغاز پر بھی ایک نظر ڈالیے تو دونوں میں بڑی واضح مناسبت نظر آئے گی۔ سورۂ طور کی آخری آیت ’وَمِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْہُ وَإِدْبَارَ النُّجُوۡمِ‘ ہے اور اس سورہ کی پہلی آیت ’وَالنَّجْمِ إِذَا ہَوٰی‘ ہے۔ گویا سابق سورہ کی آخری اور اس سورہ کی پہلی آیت نے دونوں میں ایک نہایت خوب صورت حلقۂ اتصال کی شکل پیدا کر دی ہے۔ اس قسم کا اتصال اکثر مقامات میں موجود ہے۔ بعض جگہ لفظی، بعض جگہ معنوی، اور بعض مقامات میں لفظی اور معنوی دونوں قسم کا۔ اس قسم کی بعض چیزوں کی طرف ہم نے پچھلی سورتوں میں اشارے کیے ہیں۔

  • النجم (The Star)

    62 آیات | مکی
    الطور——- النجم

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع اثبات قیامت اور اُس کے حوالے سے انذار و بشارت ہے۔ پہلی سورہ میں انذار عذاب اور سرداران قریش کے رویے پر تنقید، اور دوسری سورہ میں خدا اور آخرت کے بارے میں اُن کے جاہلانہ عقائد کی تردید کا پہلو نمایاں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی کا مضمون دونوں سورتوں میں ہے۔ دونوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہوتا ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 053 Verse 001 Chapter 053 Verse 002 Chapter 053 Verse 003 Chapter 053 Verse 004 Chapter 053 Verse 005 Chapter 053 Verse 006 Chapter 053 Verse 007 Chapter 053 Verse 008 Chapter 053 Verse 009 Chapter 053 Verse 010 Chapter 053 Verse 011 Chapter 053 Verse 012
    Click translation to show/hide Commentary
    تارے گواہی دیتے ہیں، جب وہ گرتے ہیں۔
    یہ اُنھی تاروں کا ذکر ہے جن کے متعلق بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُنھیں ’رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ‘* (شیطانوں کے لیے سنگ ساری) بنا رکھا ہے۔ مدعا یہ ہے کہ یہ جب گرتے ہیں تو زبان حال سے گواہی دیتے ہیں کہ ہم اُن راستوں کی پاسبانی کر رہے ہیں جن سے جبریل امین اِس قرآن کو لے کر آتے ہیں۔ اُن میں کسی شیطان کے لیے دراندازی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اِسے جنوں کا الہام اور کاہنوں کا کلام قرار دے کر رد کرنے کی کوشش نہ کرو۔ اِس کی حریم قدس تک اِن شیطانوں کی رسائی کہاں! یہ تو اُس کے قریب بھی پھٹکنا چاہیں تو شہاب ثاقب کی صورت میں ہم اِن پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ _____ *الملک ۶۷:۵۔
    کہ تمھارا رفیق نہ بھٹکا ہے، نہ بہکا ہے۔
    رفیق سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں۔ اِس کے بعد دو لفظ استعمال ہوئے ہیں: ایک ’ضَلَّ‘ اور دوسرا ’غَوٰی‘۔ ’ضَلَّ‘ اُس گمراہی کے لیے آتا ہے، جب کوئی شخص راستہ نہ جاننے کی وجہ سے کسی غلط راستے پر چل پڑے اور ’غَوٰی‘ کا تعلق اُس گمراہی سے ہے جو انسان نفس کی اکساہٹ سے اور جان بوجھ کر اختیار کر لیتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اِس آیت میں ’صَاحِبُکُمْ‘ کے لفظ سے ہوا ہے۔ یہ دلیل کے محل میں ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’لفظ ’صَاحِب‘ یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے استعمال ہوا ہے اور ضمیر خطاب کے مخاطب قریش ہیں۔ اُن کو خطاب کر کے کہا جا رہا ہے کہ یہ پیغمبر جو تمھارے اپنے دن رات کے ساتھی ہیں، تمھارے لیے کوئی اجنبی نہیں ہیں۔ تم اِن کے ماضی و حاضر، اِن کے اخلاق و کردار اور اِن کے رجحان و ذوق سے اچھی طرح واقف ہو۔ تم نے کب اِن کے اندر کوئی ایسی بات دیکھی ہے جس سے یہ شبہ بھی ہو سکے کہ اِن میں کہانت یا نجوم کا کوئی میلان پایا جاتا ہے۔ اِس طرح کا ذوق کسی کے اندر ہوتا ہے تو دن رات کے ساتھیوں سے وہ عمر بھر چھپا نہیں رہتا۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ جو چیز اتنی مدت تک تم نے اُن کے اندر کبھی محسوس نہیں کی، اب جب اُنھوں نے نبوت کا دعویٰ کیا اور تم کو اللہ کا کلام سنایا تو تم نے اِن کو کاہن اور نجومی کہنا شروع کر دیا، حالاں کہ اِن کی زندگی اور اِن کا کلام شاہد ہے کہ اِن کے اندر کسی ضلالت یا غوایت کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۸/ ۵۳)  
    وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتا۔
    یعنی کاہن اور نجومی تو جو کچھ کہتے ہیں، اپنے نفس کی تحریک سے کہتے ہیں، لیکن اِس کلام کا منبع اور منشا اور ہے۔ نفس اور اُس کی خواہشوں سے اِس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
    یہ (قرآن) تو ایک وحی ہے جو اُسے کی جاتی ہے۔
    n/a
    اُس کو ایک زبردست قوتوں والے نے تعلیم دی ہے۔
    n/a
    جو بڑا صاحب کردار، بڑا صاحب حکمت ہے۔
    یعنی جس فرشتے نے یہ کلام پیغمبر پر اتارا ہے، وہ تمام اعلیٰ صلاحیتوں کا حامل اور علم و عقل اور سیرت و کردار کے لحاظ سے نہایت محکم ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...اِس امر کا کوئی امکان نہیں ہے کہ کوئی دوسری روح اُس کو متاثر یا مرعوب کر سکے، اُس سے خیانت کا ارتکاب کرا سکے یا اُس کی تعلیم میں کوئی خلط مبحث کر سکے یا اُس سے کوئی فروگذاشت ہو سکے یا اُس کو کوئی وسوسہ لاحق ہو سکے۔ اِس طرح کی تمام کمزوریوں سے اللہ تعالیٰ نے اُس کو محفوظ رکھا ہے تاکہ جو فرض اُس کے سپرد فرمایا ہے، اُس کو وہ بغیر کسی خلل و فساد کے پوری دیانت و امانت کے ساتھ ادا کر سکے۔‘‘ (تدبرقرآن ۸ /۵۳)  
    چنانچہ وہ نمودار ہوا، اِس طرح کہ وہ آسمان کے اونچے کنارے پر تھا۔
    اصل میں ’الْاُفُقُ الْاَعْلٰی‘ کے الفاظ آئے ہیں، یعنی وہ افق جو سمت رأس میں ہوتا ہے۔ یہ پہلی وحی اور جبریل امین کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی ملاقات کا ذکر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ بالکل جلی اور غیرمشتبہ صورت میں اِس طرح نمودار ہوئے، جس طرح ماہ تمام یا مہر نیم روز نمودار ہوتا ہے اور پیغمبر نے کھلی آنکھوں کے ساتھ اُن کا مشاہدہ کیا۔
    پھر قریب ہوا اور جھک پڑا۔
    یہ اُس التفات و اہتمام اور غایت شفقت کا بیان ہے جس کے ساتھ جبریل امین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تعلیم دی تاکہ جو ہدایات آپ کو دی جا رہی ہیں، آپ اُنھیں اچھی طرح سن اور سمجھ لیں۔
    یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اُس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا۔
    یہ تشبیہ اہل عرب کے ذوق کے لحاظ سے ہے اور غایت قرب و اتصال کی تعبیر کے لیے آئی ہے۔ اِس میں ’اَوْ‘ اِس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پیش نظر محض قرب کا بیان ہے، اِس سے مقدار فاصلہ کی تعیین مقصود نہیں ہے۔ یہ کم یا زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔
    پھر اللہ نے وحی کی اپنے بندے کی طرف جو وحی کی۔
    n/a
    جو کچھ اُس نے دیکھا، وہ دل کا وہم نہ تھا۔
    n/a
    اب کیا تم اُس چیز پر اُس سے جھگڑتے ہو جو وہ آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔
    n/a


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List