Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الطور (The Mount)

    49 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ اس گروپ کی تیسری سورہ ہے۔ پچھلی دونوں سورتوں ۔۔۔ قٓ اور الذّٰریٰت ۔۔۔ میں زندگی بعد موت، حشر و نشر اور جزاء و سزا کے عقلی و انفسی اور آفاقی و تاریخی دلائل بیان ہوئے ہیں اور انداز بیان عمومیت یعنی جزا اور سزا دونوں کے پہلو لیے ہوئے ہے چنانچہ الذّٰریٰت میں عمود کی حیثیت، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ہے، ’اِنَّمَا تُوعَدُوْنَ لَصَادِقٌ ۵ وَإِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ‘ (بے شک جس چیز کی تم کو دھمکی دی جا رہی ہے وہ سچی ہے اور جزاء و سزا واقع ہو کے رہے گی) کو حاصل ہے اور اس کی وضاحت کرتے ہوئے ہم لکھ چکے ہیں کہ یہ جزا و سزا کے دونوں پہلوؤں پر حاوی ہے، خواہ اس کا تعلق رحمت سے ہو یا عذاب سے۔ اس سورہ میں عذاب کے پہلو کو زیادہ نمایاں فرمایا ہے چنانچہ چند تاریخی اور آفاقی شواہد کا حوالہ دینے کے بعد قریش کو نہایت واضح الفاظ میں دھمکی دی ہے کہ ’إِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ لَوَاقِعٌ ۵ مَا لَہٗ مِنۡ دَافِعٍ‘ (۷-۸) (بے شک تیرے رب کا عذاب واقع ہو کے رہے گا اور کوئی بھی اس کو دفع کرنے والا نہ بن سکے گا) یہی دھمکی اس سورہ میں مقسم علیہ کی حیثیت بھی رکھتی ہے اور یہی اس سورہ کا عمود بھی ہے۔

  • الطور (The Mount)

    49 آیات | مکی
    الطور——- النجم

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع اثبات قیامت اور اُس کے حوالے سے انذار و بشارت ہے۔ پہلی سورہ میں انذار عذاب اور سرداران قریش کے رویے پر تنقید، اور دوسری سورہ میں خدا اور آخرت کے بارے میں اُن کے جاہلانہ عقائد کی تردید کا پہلو نمایاں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی کا مضمون دونوں سورتوں میں ہے۔ دونوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہوتا ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 052 Verse 001 Chapter 052 Verse 002 Chapter 052 Verse 003 Chapter 052 Verse 004 Chapter 052 Verse 005 Chapter 052 Verse 006 Chapter 052 Verse 007 Chapter 052 Verse 008
    Click translation to show/hide Commentary
    طور گواہی دیتا ہے۔
    اِس سے جبل طور مراد ہے جس کی ایک مقدس وادی طویٰ میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو نبوت دی گئی اور خدا کے اخلاقی قانون کی بنیاد پر ایک قوم کو اٹھانے اور دوسری کو گرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ فرعون اور اُس کے لشکروں کی غرقابی کے بعد بنی اسرائیل کو اِسی کے دامن میں تورات ملی اور اُن سے شریعت الٰہی کی پابندی کا عہد لیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کی جس دینونت کا ظہور بنی اسرائیل کی تاریخ میں بغیر کسی انقطاع کے ہوتا رہا ہے، یہ پہاڑ اُس کی تاریخی علامت ہے۔ قرآن نے جزا و سزا پر اِس کی گواہی اِسی لحاظ سے پیش کی ہے۔
    اور لکھی ہوئی کتاب بھی۔
    یعنی تورات، جس میں بنی اسرائیل کے لیے دینونت کاپورا قانون اُس کی تمام جزئیات کے ساتھ مرقوم ہے۔ اِس کے ساتھ ’فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍ‘ کی صفت آئی ہے۔ ’رَقّ‘ باریک کھال کو کہتے ہیں جو زمانۂ قدیم میں لکھنے کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ یہ حوالہ کیوں دیا گیا ہے؟ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...اِس کتاب کے پھیلے ہوئے اوراق میں ہونے کا حوالہ یہاں خلق پر اتمام حجت کے پہلو سے ہے۔ یعنی یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، بلکہ ایک آشکارا حقیقت ہے جو بالکل کھلے اور پھیلے ہوئے اوراق میں بیان ہوئی ہے۔ جو شخص چاہے، اِس کو پڑھ سکتا ہے اور اگر پڑھ نہیں سکتا تو اِس کو پڑھوا کر سن سکتا ہے۔ بلکہ اُس کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اِس کتاب کے حاملین سے مطالبہ کرے کہ وہ اُس کو بتائیں اور سنائیں کہ اِس کتاب میں اللہ تعالیٰ نے کیا بیان فرمایا ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۸/ ۱۷)  
    جھلی کے کھلے اوراق میں۔
    یعنی تورات، جس میں بنی اسرائیل کے لیے دینونت کاپورا قانون اُس کی تمام جزئیات کے ساتھ مرقوم ہے۔ اِس کے ساتھ ’فِیْ رَقٍّ مَّنْشُوْرٍ‘ کی صفت آئی ہے۔ ’رَقّ‘ باریک کھال کو کہتے ہیں جو زمانۂ قدیم میں لکھنے کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ یہ حوالہ کیوں دیا گیا ہے؟ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...اِس کتاب کے پھیلے ہوئے اوراق میں ہونے کا حوالہ یہاں خلق پر اتمام حجت کے پہلو سے ہے۔ یعنی یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے، بلکہ ایک آشکارا حقیقت ہے جو بالکل کھلے اور پھیلے ہوئے اوراق میں بیان ہوئی ہے۔ جو شخص چاہے، اِس کو پڑھ سکتا ہے اور اگر پڑھ نہیں سکتا تو اِس کو پڑھوا کر سن سکتا ہے۔ بلکہ اُس کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اِس کتاب کے حاملین سے مطالبہ کرے کہ وہ اُس کو بتائیں اور سنائیں کہ اِس کتاب میں اللہ تعالیٰ نے کیا بیان فرمایا ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۸/ ۱۷)  
    (اِسی طرح) آباد گھر، (یہ تمھاری زمین) گواہی دیتی ہے۔
    n/a
    اور (آسمان کی) اونچی چھت۔
    n/a
    اور لبریز سمندر بھی۔
    یہ آفاق کی گواہی ہے۔ زمین و آسمان اور لبریز سمندر اُس پوری کائنات کا بیان ہیں جو ہمارے گردوپیش میں پھیلی ہوئی ہے۔ زمین کے لیے ’آباد گھر‘، آسمان کے لیے ’اونچی چھت‘ اور سمندر کے لیے ’لبریز‘ کے الفاظ خدا کی قدرت، عظمت، ربوبیت اور کبریائی کو ظاہر کرتے ہیں۔ مدعا یہ ہے کہ زمین کے نباتات، جمادات اور حیوانات، آسمان کی سقف نیلگوں میں قدرت کے عجائب تصرفات اور سمندر میں گوناگوں آیات الٰہی، یہ سب گواہی دیتے ہیں کہ کائنات عبث نہیں بنائی گئی اور انسان بھی اِس میں کوئی شتر بے مہار نہیں ہے۔ یہ اپنی غایت کو پہنچے گی اور انسان کو بھی لازماً مسؤل ٹھیرایا جائے گا۔ اِسی طرح یہ گواہی دیتے ہیں کہ جس پروردگار نے یہ عظیم کائنات بنا دی ہے، اُس کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ہے کہ جب چاہے، ایک نئی دنیا بنائے اور انسان کو بھی اُس میں مرنے کے بعد دوبارہ اٹھا کھڑا کرے۔
    کہ تیرے پروردگار کا عذاب واقع ہو کر رہے گا۔
    اِس سے مراد یہاں آخرت کا عذاب ہے۔ اِس کی وضاحت آگے کی آیات سے ہو جاتی ہے۔
    اُسے کوئی ہٹانے والا نہیں ہے۔
    n/a


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List