Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الذاریات (The Wind That Scatter, The Winnowing Winds)

    60 آیات | مکی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ، سابق سورہ ۔۔۔ قٓ ۔۔۔ کی مثنیٰ ہے۔ سورۂ قٓ کی تفسیر میں آپ نے دیکھا کہ ان لوگوں کو جواب دیا گیا ہے جو قرآن کے اس دعوے کو بعید از امکان قرار دیتے تھے کہ لوگ مرنے کے بعد ازسرنو زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔ اس سورہ میں ایک قدم اور آگے بڑھ کر قرآن کے انذار عذاب کو بھی ثابت کیا گیا ہے اور جزا و سزا کو بھی۔ سورہ کا عمود اس کی تمہید ہی میں ان الفاظ سے واضح فرما دیا گیا ہے: ’إِنَّمَا تُوۡعَدُوۡنَ لَصَادِقٌ ۵ وَإِنَّ الدِّیْنَ لَوَاقِعٌ‘ (بے شک جو وعید تم کو سنائی جا رہی ہے وہ بالکل سچی ہے اور جزا و سزا لازماً واقع ہو کے رہے گی)۔

    خطاب قریش کے مکذبین ہی سے ہے اور استدلال کی بنیاد تمام تر آفاق و انفس کے دلائل پر ہے۔ آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سورہ میں بھی اسی طرح تسلی دی گئی ہے جس طرح سابق سورہ میں دی گئی ہے۔

  • الذاریات (The Wind That Scatter, The Winnowing Winds)

    60 آیات | مکی
    ق - الذاریات

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع اثبات قیامت اور اُس کے حوالے سے انذار و بشارت ہے۔ دوسری سورہ میں اثبات قیامت کے تاریخی دلائل، البتہ پہلی سورہ کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ اِس کے ساتھ قرآن کے انذار عذاب کو بھی ثابت کیا گیا ہے۔ دونوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہوتا ہے کہ ام
    القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    دونوں سورتوں کا خاتمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی کے مضمون پر ہوا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 051 Verse 001 Chapter 051 Verse 002 Chapter 051 Verse 003 Chapter 051 Verse 004 Chapter 051 Verse 005 Chapter 051 Verse 006 Chapter 051 Verse 007
    Click translation to show/hide Commentary
    تند ہوائیں گواہی دیتی ہیں جو غبار اڑاتی ہیں۔
    اصل الفاظ ہیں: ’وَالذّٰرِیٰتِ ذَرْوًا‘۔ اِن میں ’ذَرْوًا‘ تاکید فعل کے لیے ہے۔ لفظ ’تند‘ سے ہم نے اِسی مفہوم کو ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ عربی زبان کا یہ خاص اسلوب ہے جسے اردو ترجمے میں منتقل کرنا آسان نہیں ہے۔
    پھر (پانی سے لدے ہوئے بادلوں کا) بوجھ اٹھاتی ہیں۔
    اصل میں ’فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًا‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ اور اِس کے بعد کی دونوں صفتیں بھی ہواؤں کی ہیں، اِس لیے کہ ’ف‘ سے عطف ہوئی ہیں جو یہاں ترتیب پر دلالت کر رہا ہے۔
    پھر نرمی کے ساتھ چلتی ہیں۔
    یہ برسنے سے پہلے ہواؤں کی کیفیت بیان ہوئی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...عام قاعدہ یہ ہے کہ پہلے تند اور غبار انگیز ہوائیں چلتی ہیں جو مختلف سمتوں سے بادلوں کو ہانک ہانک کر لاتی اور جس علاقے کو سیراب کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے، اُس پر اُن کو تہ بہ تہ جما دیتی ہیں۔ پھر ہوا کی رفتار نرم ہو جاتی ہے اور مینہ برسنا شروع ہو جاتا ہے۔‘‘ (تدبرقرآن ۷/ ۵۷۹)  
    پھر الگ الگ معاملہ کرتی ہیں۔
    یعنی جہاں برسنا ہے، برستی ہیں اور جس علاقے کو نیم تشنہ اور خشک چھوڑنا ہوتا ہے، چھوڑ دیتی ہیں۔ اِسی طرح کسی قوم کے لیے ابر رحمت کی بشارت بنتی ہیں اور کسی کے لیے عذاب کا طوفان بلاخیز، جس کی زد میں جو آتا ہے، تباہ ہو جاتا ہے۔
    کہ جس عذاب کی وعید تمھیں سنائی جا رہی ہے، وہ یقیناً سچ ہے۔
    اِس سے مراد وہ عذاب ہے جو رسولوں کی تکذیب کے نتیجے میں اُن کی قوموں پر اِسی دنیا میں آ جاتا ہے۔
    اور جزا و سزا واقع ہو کر رہے گی۔
    یہ وہ بات ہے جس پر ہوا اور بادلوں کے عجائب تصرفات کی گواہی پیش کی گئی ہے۔ مدعا یہ ہے کہ دنیا کی تاریخ میں بارہا دیکھ چکے ہو کہ یہی ہوائیں بادلوں کو اٹھاتی اور سرکش قوموں پر ایسا طوفان بنا کر برساتی رہی ہیں کہ چشم زدن میں وہ خس و خاشاک کی طرح اڑ جاتی تھیں، اور یہی ہوائیں بہت سی قوموں کے لیے خدا کی رحمت و برکت اور دشمنوں سے اُن کی نجات کا ذریعہ بنتی رہی ہیں۔ لہٰذا بصیرت کی نگاہ ہو تو اب بھی دیکھ سکتے ہو کہ ہوا اور بادلوں کے ذریعے سے جزا و سزا کے یہ واقعات گواہی دے رہے ہیں کہ جس عذاب کی وعید تمھیں سنائی جا رہی ہے اور جس قیامت سے خبردار کیا جا رہا ہے، وہ آکر رہیں گے۔
    (یہ گواہی دیتی ہیں) اور دھاریوں والا آسمان بھی۔
    یہ اُس آسمان کی تصویر ہے جس میں بادلوں کے ٹکڑے تہ بر تہ موجوں اور توبرتو روئی کے گالوں کی طرح بکھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ ہواؤں کے بعد یہ بادلوں کی گواہی اُسی مضمون کی تکمیل کے لیے ہے جو ہواؤں کی گواہی سے بیان کرنا مقصود ہے۔ ہوا اور بادلوں میں لازم و ملزوم کا رشتہ ہے۔ پچھلی قوموں کی تباہی میں شمال کی باد تند اور سرما کے سرخ دھاریوں والے بادلوں کو بڑا دخل رہا ہے۔ چنانچہ ہواؤں کی ہلاکت خیزی کو نمایاں کرنے کے لیے یہ اضافہ کر دیا ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List