Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • ق (The Letter Qaf)

    45 آیات | مکی

    گروپ پر ایک اجمالی نظر

    سورۂ قٓ سے سورتوں کا چھٹا گروپ شروع ہو رہا ہے۔ اس میں کل سترہ سورتیں ہیں۔ جن میں سے سات سورتیں ۔۔۔ قٓ، ذاریات، طور، قمر، نجم، رحمان اور واقعہ ۔۔۔ بالترتیب مکی ہیں۔ صرف سورۂ رحمان کو بعض مصاحف میں مدنی ظاہر کیا گیا ہے، لیکن اس کی تفسیر سے واضح ہو جائے گا کہ یہ رائے بالکل بے بنیاد ہے۔ پوری سورہ کا مدنی ہونا تو درکنار اس کی کوئی ایک آیت بھی مدنی نہیں ہے۔

    سورۂ واقعہ کے بعد دس سورتیں ۔۔۔ حدید، مجادلہ، حشر، ممتحنہ، صف، جمعہ، منافقون، تغابن، طلاق اور تحریم ۔۔۔ مدنی ہیں۔

    اس گروپ کا جامع عمود بعث اور حشر و نشر ہے۔ اس کی تمام مکی سورتوں میں یہ مضمون ابھرا ہوا نظر آئے گا۔ اگرچہ قرآن کے بنیادی مطالب، دوسرے گروپوں کی طرح، اس میں بھی زیربحث آئے ہیں لیکن وہ اسی جامع عمود کے تحت آئے ہیں۔ علیٰ ہذا القیاس جو مدنی سورتیں اس میں شامل ہیں وہ بھی اسی اصل کے تحت ہیں۔ بعث اور حشر و نشر پر ایمان کا لازمی نتیجہ اللہ اور اس کے رسول کی کامل اطاعت ہے۔ مدنی سورتوں میں اسی تسلیم و اطاعت کے وہ مقتضیات بیان ہوئے ہیں جن کے بیان کے لیے زمانۂ نزول کے حالات داعی ہوئے ہیں۔

    مکی سورتوں میں تمام رد و قدح کفار قریش کے عقائد و مزعومات پر ہے اور وہی ان میں اصلاً مخاطب بھی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں سے اگر خطاب ہے تو بطور التفات و تسلی ہے۔ مدنی سورتوں میں خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں سے ہے اور خاص طور پر ان لوگوں کی کمزوریاں زیربحث آئی ہیں جو اللہ و رسول پر ایمان کے مدعی تو بن بیٹھے تھے لیکن ایمان کے تقاضوں سے ابھی اچھی طرح آشنا نہیں ہوئے تھے۔ انہی کے ضمن میں اہل کتاب بھی زیربحث آئے ہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس دور میں اہل کتاب بھی قریش کی حمایت اور اسلام کی مخالفت کے لیے میدان میں اتر آئے تھے، دوسری وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر منافقین کا گروہ جو گھس آیا تھا وہ بیشتر انہی اہل کتاب کے زیراثر تھا۔ اس گروپ کی پہلی سورہ ۔۔۔ قٓ ۔۔۔ ہے۔ اب اللہ کا نام لے کر ہم اس کی تفسیر شروع کرتے ہیں۔

    سورہ کا عمود

    اس سورہ کا عمود بعث یعنی زندگی بعد الموت کا اثبات ہے۔ قرآن نے جب لوگوں کو آگاہ کیا کہ مرنے کے بعد لوگ ازسرنو زندہ کیے جائیں گے اور اپنے رب کے آگے اپنے اعمال و اقوال کی جواب دہی کے لیے پیش ہوں گے تو یہ چیز قریش کے لیڈروں پر بہت شاق گزری کہ انہی کے اندر کا ایک شخص مدعئ نبوت بن کر ان کو اس بات سے ڈرا رہا ہے کہ مرنے کے بعد لوگ پھر زندہ کیے جائیں گے۔ بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ مرنے اور سڑ گل جانے کے بعد لوگ ازسرنو زندہ ہوں! اس سورہ میں لوگوں کے اسی استبعاد کو موضوع بحث بنا کر ان کے شبہات کے جواب دیے گئے ہیں۔

  • ق (The Letter Qaf)

    45 آیات | مکی
    ق - الذاریات

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع اثبات قیامت اور اُس کے حوالے سے انذار و بشارت ہے۔ دوسری سورہ میں اثبات قیامت کے تاریخی دلائل، البتہ پہلی سورہ کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ اِس کے ساتھ قرآن کے انذار عذاب کو بھی ثابت کیا گیا ہے۔ دونوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہوتا ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

    دونوں سورتوں کا خاتمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی کے مضمون پر ہوا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 050 Verse 001 Chapter 050 Verse 002 Chapter 050 Verse 003
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ سورۂ ’ق‘ ہے۔ قرآن مجید (آپ ہی اپنی) گواہی ہے۔
    اِس نام کے معنی کیا ہیں؟ اِس کے متعلق ہم نے اپنا نقطۂ نظر سورۂ بقرہ (۲)کی آیت ۱ کے تحت تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔ اصل میں ’وَالْقُراٰنِ الْمَجِیْدِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن میں ’و‘ قسم کے لیے ہے اور اِن کا مقسم علیہ محذوف ہے، اِس کی وجہ یہ ہے کہ کلام کے سیاق و سباق سے وہ خود واضح ہو جاتا ہے۔ قرآن میں اِس طرح کی قسمیں بطور شہادت آتی ہیں۔ لفظ ’الْمَجِیْد‘ قرآن میں اللہ تعالیٰ کی صفت کے طور پر بھی آیا ہے اور قرآن کی صفت کے طور پر بھی۔ اِس کے معنی بزرگ، بلند مرتبہ اور صاحب عظمت کے ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...ہر کلام متکلم کی صفات کا مظہر ہوتا ہے۔ اِس وجہ سے جس طرح اللہ تعالیٰ بزرگ و برتر ہے، اِسی طرح اُس کا کلام بھی بزرگ و برتر ہے اور یہ برتری و بزرگی قرآن کی ایک ایک آیت سے نمایاں ہے۔ ممکن نہیں ہے کہ کوئی صاحب ذوق قرآن کو سنے یا پڑھے اور اُس کی عظمت و شوکت سے متاثر و مرعوب نہ ہو۔ اگر کوئی اُس کی عظمت و جلالت سے متاثر نہ ہو تو وہ یا تو نہایت ہی بلید ہے یا اُس کا دل بالکل سیاہ ہو چکا ہے۔ آدمی تو درکنار اگر یہ قرآن پہاڑوں پر بھی اتارا جاتا تو وہ بھی، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے، اللہ تعالیٰ کی خشیت سے پاش پاش ہو جاتے۔‘‘ (تدبرقرآن ۷/ ۵۳۳)  
    (اِن کے جھٹلانے کی وجہ وہ نہیں ہے جو یہ ظاہر کر رہے ہیں)، بلکہ اِنھیں تعجب اِس بات پر ہوا ہے کہ (روز قیامت کے لیے) ایک خبردار کرنے والا خود اِنھی کے اندر سے اِن کے پاس آ گیا ہے۔ چنانچہ اِن منکروں نے کہا ہے کہ یہ عجیب بات ہے۔
    n/a
    کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی ہو جائیں گے (تو دوبارہ اٹھائے جائیں گے)؟ یہ واپسی تو بڑی بعید ہے۔
    اِس جملے کی ابتدا لفظ ’بَلْ‘ سے ہوئی ہے۔ یہ اِس بات پر دلیل ہے کہ اِس سے پہلے نفی کا ایک جملہ مقدر ہے۔ ہم نے ترجمے میں اُس کو کھول دیا ہے۔ مدعا یہ ہے کہ قرآن سے اِن کے فرار کا باعث یہ نہیں ہے کہ یہ فی الواقع اُس کو شاعری، کہانت، سحرو ساحری یا القاے شیطانی کے قسم کی کوئی چیز سمجھتے ہیں اور اِس بات پر دل سے مطمئن ہو گئے ہیں کہ یہ خدا کا کلام نہیں ہے، بلکہ اِس کا باعث اِن کا استکبار ہے کہ یہ اپنے ہی اندر کے ایک شخص کو خدا کا بھیجا ہوا رسول ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ چنانچہ یہ قرآن کے بھی منکر ہو گئے ہیں اور قیامت کے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ یہ تو بالکل ہی بعید از قیاس چیز ہے۔ آخر مرنے اور مرکر مٹی ہو جانے کے بعد کوئی شخص دوبارہ کس طرح زندہ ہو سکتا ہے؟


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List