Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الحجرات (The Private Apartments, The Inner Apartments)

    18 آیات | مدنی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ الفتح ۔۔۔ کا ضمیمہ و تتمہ ہے۔ سورۂ فتح کی آخری آیت میں، تورات کے حوالہ سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی یہ صفت جو وارد ہوئی ہے کہ ’مُّحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗٓ أَشِدََّآءُ عَلَی الْکُفََّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَہُمْ‘ (محمدؐ اللہ کے رسول اور جو ان کے ساتھ ہیں کفار کے لیے سخت اور باہمدگر نہایت مہربان ہوں گے)۔ یہ پوری سورہ اسی ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے۔ جہاں تک اس کی اہمیت کا تعلق ہے اس کی وضاحت سورۂ فتح کی تفسیر میں ہو چکی ہے۔ اس کی یہ اہمیت مقتضی ہوئی کہ اس کے وہ مضمرات یہاں وضاحت سے بیان کر دیے جائیں جن کا بیان کیا جانا اس وقت مسلمانوں کے معاشرے کی اصلاح کے لیے نہایت ضروری تھا۔ یہ بات اپنے محل میں بیان ہو چکی ہے کہ قرآن میں احکام و ہدایات کا نزول حالات کے تقاضوں کے تحت ہوا ہے تاکہ لوگوں پر ان کی صحیح قدر و قیمت واضح ہو سکے۔ چنانچہ یہ سورہ بھی ایسے حالات میں نازل ہوئی ہے جب نئے نئے اسلام میں داخل ہونے والوں کی طرف سے بعض باتیں ایسی سامنے آئیں جن سے ظاہر ہوا کہ یہ لوگ نہ تو رسول کے اصلی مرتبہ و مقام ہی سے اچھی طرح واقف ہیں اور نہ اسلامی معاشرہ کے اندر اپنی ذمہ داریوں ہی سے۔ چنانچہ اس ضمیمہ میں ضروری ہدایات دے دی گئیں جو اس وقت کے حالات کے اندر ضروری تھیں۔ ان احکامات و ہدایات کا تعلق تمام تر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے باہمی حقوق ہی سے ہے۔ کفار کا معاملہ اس میں زیربحث نہیں آیا۔ ان کے ساتھ مسلمانوں کو جو رویہ اختیار کرنا چاہیے اس کی وضاحت پچھلی سورتوں میں ہو چکی ہے۔
    سورہ کے تیسرے گروپ میں جس نوعیت کا تعلق سورۂ نور کا سورۂ مومنون کے ساتھ ہے اسی نوعیت کا تعلق اس سورہ کا سورۂ فتح کے ساتھ ہے دونوں کا مزاج باہمدگر بالکل ملتا جلتا ہوا ہے۔

  • الحجرات (The Private Apartments, The Inner Apartments)

    18 آیات | مدنی

    الحجرات

    ۴۹

    یہ ایک منفردسورہ ہے جس پر قرآن مجید کا یہ پانچواں باب ختم ہو جاتا ہے۔ اپنے مضمون کے لحاظ سے یہ سابق سورہ ۔۔۔ الفتح ۔۔۔ کا تکملہ ہے۔ سورۂ فتح کی آخری آیت میں تورات کے حوالے سے صحابۂ کرام کی جو تمثیل بیان ہوئی ہے، یہ پوری سورہ گویا اُسی کی تفسیر ہے۔ چنانچہ اِس کا موضوع وہی تزکیہ و تطہیر ہے جو پچھلی دونوں سورتوں سے چلا آرہا ہے۔ اِس کے تحت اِس سورہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے باہمی حقوق سے متعلق ضروری ہدایات دی گئی ہیں۔
    اِس میں خطاب اہل ایمان سے ہے اور اِس کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینۂ طیبہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ تزکیہ و تطہیر میں اُس وقت نازل ہوئی ہے، جب آپ کے دنیا سے رخصت ہو جانے کا وقت قریب آگیا تھا اور اندیشہ تھا کہ اخلاقی تربیت کی کمی، باہمی منافرت اور قبائلی عصبیت کے جھگڑے اُن کی قومی وحدت کو پارہ پارہ کر دے سکتے ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 049 Verse 001
    Click translation to show/hide Commentary
    ایمان والو، اللہ اور اُس کے رسول کے آگے اپنی راے کو مقدم نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بے شک، اللہ سمیع و علیم ہے۔
    یہ خطاب اگرچہ عام ہے، لیکن مضمون کے تدریجی ارتقا سے واضح ہو جائے گا کہ روے سخن درحقیقت اُن اہل بدو کی طرف ہے جو مسلمانوں کی طاقت سے مرعوب ہو کر اسلام تو لے آئے تھے، مگر ابھی تک نہ ایمان و اسلام کے تقاضوں کو پوری طرح سمجھتے تھے اور نہ صحابۂ کرام کی صحبت سے دور ہونے کی وجہ سے اپنی کچھ تربیت ہی کر پائے تھے۔ پھر یہی نہیں، اُن کے سردار خاص کر ایک غلط قسم کے پندار میں بھی مبتلا تھے کہ اُنھوں نے بغیر کسی جنگ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت قبول کر لی ہے تو آپ پر یہ اُن کا احسان ہے۔ چنانچہ اُن کا یہ پندار اُن کے انداز گفتگو اور طرزعمل، ہر چیز سے نمایاں ہوتا تھا۔ یعنی خدا کے رسول کو اپنے سرداروں کی طرح ایک سردار سمجھ کر اور اپنے آپ کو اُن سے زیادہ مدبر خیال کرکے اپنی راے سے آپ کو متاثر کرنے یا آپ کی بات پر اپنی بات کو مقدم کرنے کی کوشش نہ کرو، اِس لیے کہ یہ درحقیقت خدا کی بات پر اپنی بات کو مقدم کرنا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’(آیت میں) ’بَیْنَ یَدَیِ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ‘ کے الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ اللہ و رسول کا معاملہ الگ الگ نہیں ہے۔ اللہ کا رسول اللہ کا سفیر و نمایندہ ہوتا ہے۔ اُس کو بن پوچھے مشورہ دینا خود اللہ تعالیٰ کو مشورہ دینا ہے، اُس کی بات پر اپنی بات کو مقدم کرنا اللہ کی بات پر اپنی بات کو مقدم کرنا ہے اور اُس سے بڑھ کر اپنے آپ کو مدبر سمجھنا خود خداے علیم و حکیم سے بڑھ کر اپنے کو مدبر و حکیم سمجھنا ہے۔ یہ آدمی کے اِس رویے کے لازمی نتائج ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کسی شخص کواُ س کی بلادت کے سبب سے اِن نتائج کااحساس نہ ہو، لیکن اِن کے لازمی نتائج ہونے سے انکار ناممکن ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۷/ ۴۸۷) یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد یہی حیثیت آپ کی لائی ہوئی ہدایت کی ہے ۔ اب وہ آپ کی قائم مقام ہے اور اُس کے ساتھ بھی ہر مسلمان کا رویہ وہی ہونا چاہیے جو یہاں بتایا گیا ہے۔ لہٰذا جو کچھ کرو گے، وہ اُس سے چھپا نہیں رہے گا۔ اُس کے نتائج بھی لازماً بھگتنا پڑیں گے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List