Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الفتح (The Victory, Conquest)

    29 آیات | مدنی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے ربط

    سابق سورہ کی آیت ۳۵ میں اہل ایمان سے یہ وعدہ جو فرمایا ہے کہ اگر تم کمزور نہ پڑے تو تمہی سربلند ہو گے، تمہارے حریف ذلیل و پامال ہوں گے، اس سورہ میں اسی وعدہ کے ایفاء کی واقعاتی شہادت ہے۔ اس کا آغاز صلح حدیبیہ کے ذکر سے ہوا ہے جو فتح مکہ کی تمہید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت پر اتمام نعمت کا فتح باب ثابت ہوئی۔ اس میں فتح و غلبہ کی ان پیشین گوئیوں اور بشارتوں کا بھی حوالہ ہے جو اس امت کے باب میں تورات اور انجیل میں وارد ہوئی ہیں تاکہ اہل ایمان اور اہل کفر دونوں پر اچھی طرح واضح ہو جائے کہ یہ جو کچھ ہوا، ہو رہا ہے اور آگے ہو گا، ان میں سے کوئی بات بھی اتفاقی نہیں ہے بلکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی سکیم میں پہلے سے طے ہے اور یہ سکیم پوری ہو کے رہے گی۔ کسی کی طاقت نہیں ہے کہ اس میں مزاحم ہو سکے۔

  • الفتح (The Victory, Conquest)

    29 آیات | مدنی

    محمد ۔ الفتح

    ۴۷ ۔ ۴۸

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے نتیجے میں جو لوگ آپ پر ایمان لے آئے تھے، اُن کے علم و عمل کا تزکیہ اور اُن کی جماعت کی تطہیر ہے۔ اِس کے ساتھ اُنھیں آخرت میں جنت اور دنیا میں فتح و نصرت کی بشارت بھی نہایت واضح الفاظ میں دی گئی ہے جس کا لازمی نتیجہ منکرین اور مکذبین کی ہزیمت اور اُن کے لیے جہنم کی وعید ہے۔
    اِن سورتوں میں خطاب اصلاً اہل ایمان سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینہ طیبہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ تزکیہ و تطہیر میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب منکرین حق کے خلاف فیصلہ کن اقدام میں کچھ زیادہ وقت نہیں رہ گیا تھا۔


  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 048 Verse 001 Chapter 048 Verse 002 Chapter 048 Verse 003
    Click translation to show/hide Commentary
    اِس میں کچھ شک نہیں، (اے پیغمبر) کہ ہم نے تم کو کھلی فتح عطا کر دی ہے۔
    سورہ کے مطالعے سے واضح ہو جاتا ہے کہ اِس سے حدیبیہ کا معاہدہ مراد ہے جو روایتوں کے مطابق ذی القعدہ ۶ ؍ہجری میں قریش مکہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان طے پایا، جب اپنے ایک رویا کی بنا پر آپ ہدی کے جانور ساتھ لیے ہوئے اپنے کم و بیش چودہ پندرہ سو صحابہ کی معیت میں عمرے کے لیے وہاں پہنچے، لیکن قریش نے آپ کو اِس کی اجازت نہیں دی۔ یہ معاہدہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوا اور اِس کے شرائط درج ذیل تھے: ۱۔ دس سال تک فریقین کے درمیان جنگ بند رہے گی۔ اِس دوران میں کوئی فریق بھی ایک دوسرے کے خلاف کوئی خفیہ یا علانیہ کارروائی نہیں کرے گا۔ ۲۔ اِس دوران میں قریش کا کوئی آدمی اگر اپنے ولی کی اجازت کے بغیر بھاگ کر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس جائے گا تو آپ اُسے واپس کر دیں گے۔ اور اگر مسلمانوں میں سے کوئی آدمی قریش کے پاس آجائے گا تو وہ اُس کو واپس نہیں کریں گے۔ ۳۔ قبائل عرب میں سے جو قبیلہ بھی چاہے، فریقین میں سے کسی کاحلیف بن کر اِس معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے۔ ۴۔ مسلمان اِس سال واپس چلے جائیں گے۔ آیندہ سال وہ عمرے کے لیے آ کر تین دن تک مکے میں ٹھیر سکتے ہیں۔ اسلحہ میں سے ہر شخص صرف ایک تلوار میان میں لا سکتا ہے۔ اِن تین دنوں میں اہل مکہ اُن کے لیے شہر خالی کر دیں گے تاکہ کسی تصادم کا اندیشہ نہ رہے۔* یہی معاہدہ ہے جسے قرآن نے یہاں کھلی فتح قرار دیا ہے۔ اِس کے متعدد پہلو بالکل واضح ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’ایک یہ کہ یہ پہلا موقع ہے کہ قریش نے علانیہ بیت اللہ پر مسلمانوں کا حق تسلیم کیا اور یہ تسلیم کرنا بطور احسان نہیں، بلکہ مسلمانوں سے دب کر ہوا۔ آگے آیت۲۴ سے واضح ہو گا کہ اگر معاہدہ نہ ہوتا اور جنگ چھڑتی تو مسلمانوں کی فتح یقینی تھی۔ قریش نے صورت حال کا اچھی طرح اندازہ کر لیا تھا، اِس وجہ سے وہ معاہدے کے دل سے خواہش مند تھے۔ البتہ اپنی ناک ذرا اونچی رکھنے کے لیے یہ چاہتے تھے کہ مسلمان اِسی سال عمرہ کرنے پر اصرار نہ کریں، بلکہ آیندہ سال آئیں۔ مسلمانوں کو اِس بات پر راضی کرنے کے لیے اُنھوں نے بہت بڑی رشوت بھی دی کہ تین دن کے لیے وہ شہربالکل خالی کر دیں گے تاکہ کسی تصادم کا کوئی اندیشہ نہ رہے۔ قریش کی طرف سے یہ پیش کش کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ دوسرا یہ کہ قریش نے اِس معاہدے کی رو سے مسلمانوں کو اپنے برابر کی ایک حریف قوت عرب میں تسلیم کر لیا۔ اُن کی نظر میں مسلمانوں کی حیثیت اب باغیوں اور غداروں کی نہیں رہی تھی، جیسا کہ وہ علانیہ اب تک کہتے رہے تھے، بلکہ مساوی درجے کی ایک سیاسی قوت کی ہو گئی۔ چنانچہ اُنھوں نے علانیہ اُن کے لیے یہ حق تسلیم کر لیا کہ عرب کے جو قبائل اُن کے حلیف بننا چاہیں، وہ اُن کو اپنا حلیف بنا سکتے ہیں۔ تیسرا یہ کہ قریش نے مسلمانوں کی جنگی صلاحیت کا لوہا بھی اِس حد تک مان لیا کہ خود اصرار کر کے معاہدے میں دس سال کے لیے جنگ بندی کی شرط رکھوائی۔ چوتھا یہ کہ اِس موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر اور مسلمانوں کو جنگ کی اجازت جو نہیں دی تو اِس کی وجہ مسلمانوں کی کوئی کمزوری نہیں تھی، بلکہ صرف یہ تھی کہ مکہ میں بہت سے ظاہر اور مخفی مسلمان تھے جو وہاں سے ابھی ہجرت نہیں کر سکے تھے۔ اندیشہ تھا کہ جنگ کی صورت میں اُن کو خود مسلمانوں کے ہاتھوں نقصان پہنچ جائے گا۔ غرض اِس کے ایک فتح مبین ہونے کے گوناگوں پہلو واضح تھے جو مسلمانوں سے مخفی نہیں ہو سکتے تھے، لیکن قریش نے اپنی حمیت جاہلیت کا مظاہرہ کچھ اِس طرح کیا اور بعض واقعات نہایت اشتعال انگیز، مثلاً ابوجندل کا واقعہ ۔۔۔ اِس دوران میں ایسے پیش آگئے کہ مسلمانوں کے اندر عام احساس یہ پیدا ہو گیا کہ یہ معاہدہ دب کر کیا جا رہا ہے۔ جذبات کے ہیجان میں لوگ اِس کے ہر پہلو پر غور کر کے یہ اندازہ نہ لگا سکے کہ اِس معاہدے کی رو سے اُنھوں نے کیا پایا اور کیا کھویا۔ اِس سورہ نے جب اصل حقائق کی طرف توجہ دلائی، تب لوگوں کو محسوس ہوا کہ فی الواقع اُنھوں نے معاہدے کے مضمرات سمجھنے میں غلطی کی اور جب اُس کے نتائج سامنے آئے تو ہر شخص نے کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ فی الواقع یہی معاہدہ فتح مکہ کی تمہید ثابت ہوا۔‘‘(تدبرقرآن ۷/ ۴۳۶) _____ * السیرۃ النبویہ، ابن ہشام ۳/ ۲۹۱۔
    کہ (تم سرخ روئی کے ساتھ اپنی ذمہ داری سے سبک دوش ہو جاؤ اور اِس کے صلے میں) اللہ تمھارے اگلے اور پچھلے سب گناہوں کو بخش دے اور تم پر اپنی نعمت تمام کرے اور تمھارے لیے ایک سیدھی راہ کھول دے۔
    یہ عظیم بشارت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اِس فتح کے نتیجے میں اب عنقریب وہ وقت آئے گا کہ آپ فریضۂ رسالت کی ذمہ داریوں سے سبک دوش ہو جائیں گے اور یہ سبک دوشی نہایت سرخ روئی اور سرفرازی کے ساتھ ہو گی کہ اِس کے دوران میں اگر کوئی لغزش کہیں ہوئی ہے یا بعد میں بھی اگر ہو تو معاف کر دی جائے اور اللہ تعالیٰ نے جس عظیم مشن پر آپ کو مامور فرمایا تھا، اُس کے بارے میں کوئی چھوٹی یا بڑی مسؤلیت آپ پر باقی نہ رہے۔ آپ کے لیے، اگر غور کیجیے تو یہ پروردگار عالم کی خوشنودی کا ایسا پروانہ ہے کہ اِس سے بڑا کوئی پروانہ نہیں ہو سکتا۔ یہ اِسی کی شکر گزاری تھی کہ آخری زمانے میں آپ کا زیادہ وقت تسبیح و مناجات، استغفار اور نماز میں گزرتا تھا۔ آیت میں لغزش یا ’ذَنْب‘کی جو نسبت آپ کی طرف ہوئی ہے، اُس کی نوعیت کیا ہے؟ اِس کی وضاحت ہم نے سورۂ محمد (۴۷) کی تفسیر میں حاشیہ ۳۵ کے تحت کر دی ہے۔ یہ دوسری عظیم بشارت ہے کہ جس دین کی ہدایت اللہ تعالیٰ نے اُس کی تمام تفصیلات کے ساتھ پہلی وحی سے دینا شروع کی تھی، وہ پایۂ تکمیل تک پہنچا دیا جائے۔ چنانچہ یہ نعمت پوری ہو گئی تو قرآن نے سورۂ مائدہ (۵) کی آیت ۳ میں اعلان کر دیا کہ آج میں نے تمھارے دین کو پورا کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی ہے اور تمھارے لیے دین کی حیثیت سے اسلام کو پسند فرمایا ہے۔ یہ اُس نعمت کا ثمرہ ہے جس کا ذکر ہوا کہ اِس کے نتیجے میں توحید کی راہ ہر سالک کے لیے روشن ہو جائے گی اور ام القریٰ مکہ میں وہ مرکز نور بھی اپنے اصلی جلال و جمال کے ساتھ بے نقاب ہو جائے گا جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے ہدایت کی اصل شاہ راہ کی طرف رہنمائی کے لیے تعمیر کیا تھا۔
    اور اللہ تمھاری ایسی مدد کرے جو ناقابل شکست ہو۔
    یعنی جس کے نتیجے میں قریش کا زور بالکل ختم ہو جائے، بیت اللہ مسلمانوں کی تحویل میں آجائے اور سرزمین عرب میں دین حق کا غلبہ قائم ہو جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس مشن کے لیے مامور تھے، اُس کے لیے ایسی مدد ہی ناقابل شکست ہو سکتی تھی۔ یہ بشارتیں یہاں جس ترتیب سے بیان کی گئی ہیں، اُس کی بلاغت بھی قابل توجہ ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’... جو چیز سب سے پہلے ظہور میں آنے والی ہے، اُس کا ذکر آخر میں ہوا اور جو چیز سب کا خلاصہ ہے اور سب سے آخر میں ظاہر ہو گی، اُس کا ذکر سب سے پہلے ہوا۔ یہ ترتیب نزولی ہے، یعنی بیان مطالب میں نیچے سے اوپر چڑھنے کی نہیں، بلکہ اوپر سے نیچے اترنے کی ترتیب اختیار فرمائی گئی ہے۔ اِس کی وجہ ہمارے نزدیک یہ ہے کہ یہ موقع آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بشارت دینے کا تھا۔ فتح مکہ کی بشارت بھی اگرچہ اہم بشارت تھی، لیکن اِس سے بھی بڑی، بلکہ سب سے بڑی بشارت آپ کے لیے یہ تھی کہ وہ انعام اخروی آپ کے سامنے رکھ دیا جائے جو آپ کو ملنے والا ہے اور جس کے ملنے میں اب زیادہ دیر نہیں رہ گئی ہے۔‘‘ (تدبرقرآن ۷/ ۴۴۰)


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List