Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • محمد (Muhammad)

    38 آیات | مدنی

    سورہ کا عمود اور گروپ کے ساتھ اس کے تعلق کی نوعیت

    پچھلی سورہ ۔۔۔ سورۂ احقاف ۔۔۔ پر اس گروپ کی مکی سورتیں تمام ہوئیں۔ اب آگے تین سورتیں مدنی ہیں، سورۂ احقاف کے بعد یہ سورہ اس طرح بلا تمہید شروع ہو گئی ہے گویا احقاف کی آخری آیت میں کفار کے لیے جو وعید ہے اس میں اس کا عملی ظہور ہے۔ پچھلی سورتوں میں آپ نے دیکھا کہ یہ حقیقت اچھی طرح واضح کر دی گئی ہے کہ قریش اور ان کے حامی اہل کتاب جس باطل کی حمایت میں لڑ رہے ہیں نہ آفاق و انفس اور عقل و فطرت کے اندر اس کی کوئی بنیاد ہے نہ انبیاء کی تاریخ اور آسمانی صحیفوں میں اس کی کوئی شہادت ہے۔ یہ گھورے پر اگا ہوا ایک درخت ہے جس نے محض اس وجہ سے جگہ گھیر رکھی ہے کہ اس کو اکھاڑنے والا ہاتھ موجود نہیں ہے۔ اب اس سورہ اور اس کے بعد کی دونوں سورتوں میں یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ اس کو اکھاڑ پھینکنے والے ہاتھ اللہ نے پیدا کر دیے ہیں اور تقدیر کا یہ اٹل فیصلہ صادر ہو چکا ہے کہ کفار کی وہ تمام کوششیں رائگاں ہو کے رہیں گی جو انھوں نے خلق کو اللہ کے راستہ سے روکنے کے لیے صرف کی ہیں۔ ساتھ ہی اہل ایمان کو یہ بشارت دی گئی ہے کہ ان کی مساعی اس دنیا میں بھی بارآور ہو گی اور آخرت میں بھی وہی سرخرو ہوں گے بشرطیکہ وہ اپنے فرائض پورے عزم و حوصلہ کے ساتھ ادا کرنے کے لیے آگے بڑھیں۔ اسی ضمن میں منافقوں کو دھمکی دی گئی ہے جو مدعی تو ایمان کے تھے لیکن ان کی ہمدردیاں کفار اور اہل کتاب کے ساتھ تھیں۔ ان کو آگاہ فرمایا گیا ہے کہ اگر انھوں نے اس نفاق کو چھوڑ کر یکسوئی کے ساتھ اللہ اور رسول کا ساتھ نہ دیا تو ان کا بھی وہی حشر ہونا ہے جو کفار و مشرکین کے لیے مقدر ہو چکا ہے۔

  • محمد (Muhammad)

    38 آیات | مدنی

    محمد ۔ الفتح

    ۴۷ ۔ ۴۸

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے نتیجے میں جو لوگ آپ پر ایمان لے آئے تھے، اُن کے علم و عمل کا تزکیہ اور اُن کی جماعت کی تطہیر ہے۔ اِس کے ساتھ اُنھیں آخرت میں جنت اور دنیا میں فتح و نصرت کی بشارت بھی نہایت واضح الفاظ میں دی گئی ہے جس کا لازمی نتیجہ منکرین اور مکذبین کی ہزیمت اور اُن کے لیے جہنم کی وعید ہے۔
    اِن سورتوں میں خطاب اصلاً اہل ایمان سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینہ طیبہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ تزکیہ و تطہیر میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب منکرین حق کے خلاف فیصلہ کن اقدام میں کچھ زیادہ وقت نہیں رہ گیا تھا۔


  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 047 Verse 001 Chapter 047 Verse 002 Chapter 047 Verse 003
    Click translation to show/hide Commentary
    جن لوگوں نے انکار کیا اور اللہ کے راستے سے روکا، اُن کے اعمال اللہ نے رایگاں کر دیے ہیں۔
    سورۂ احقاف (۴۶) منکرین حق کے لیے جس تہدید و وعید پر ختم ہوئی ہے، یہ سورہ بغیر کسی تمہید کے اُسی مضمون سے شروع ہو گئی ہے۔ اعمال کے رایگاں کرنے کا جو ذکر یہاں ہوا ہے، اُس سے مراد اُن کی کوششوں کا رایگاں کرنا ہے جو وہ لوگوں کو خدا کے راستے سے روکنے کے لیے کر رہے تھے۔ یہ مستقبل کی بشارت ہے جو اللہ تعالیٰ کے فیصلے کی قطعیت کو ظاہر کرنے کے لیے ماضی کے صیغے میں بیان کی گئی ہے۔
    اور جو ایمان لائے اور اُنھوں نے اچھے عمل کیے اور اُس چیز کو مان لیا جو محمد پر نازل کی گئی ہے ۔۔۔اور اُن کے پروردگار کی طرف سے وہی حق ہے ۔۔۔ اُن کی برائیاں اللہ نے اُن سے دور کر دیں اور اُن کا حال درست کر دیا ہے۔
    یعنی اُن لوگوں کے پروپیگنڈے سے متاثرنہیں ہوئے جو کفر و اسلام میں سمجھوتے کی باتیں کر رہے تھے کہ کچھ گنجایش اُن کے لیے بھی تسلیم کر لی جائے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان کے لیے اصرار نہ کیا جائے۔ اِس طرح کے لوگوں کا معاملہ پچھلی سورتوں میں بھی زیر بحث آچکا ہے۔ آگے قرآن ہی کے حق ہونے کی تصریح بھی اِسی لیے کی گئی ہے۔ یہ ایک جامع تعبیر ہے اور ظاہر و باطن، دونوں قسم کے احوال کا احاطہ کرتی ہے۔
    یہ اِس لیے کہ انکار کرنے والوں نے باطل کی پیروی کی اور ایمان والوں نے اُس حق کی پیروی کی ہے جو اُن کے پروردگار کی طرف سے آیا ہے۔ اِس طرح اللہ اُن کی مثالیں لوگوں کے لیے بیان کرتا ہے۔
    یہ اِس لیے فرمایا کہ پیغمبر کی طرف سے اتمام حجت کے بعد حق و باطل میں وہ فیصلہ لازماً ہوتا ہے جس کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ یعنی تمثیل کے پیرایے میں وہ حقائق سمجھاتا ہے جو عنقریب سب کے سامنے آ جائیں گے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List