Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الجاثیۃ (The Kneeling Down, Crouching)

    37 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ نام، تمہید اور بنیادی مطالب میں سابق سورہ کا مثنیٰ ہے۔ فرق ہے تو اجمال و تفصیل کا ہے۔ اس میں قریش کو صاف الفاظ میں دھمکی دی گئی ہے کہ توحید اور قیامت کے دلائل سے آسمان و زمین کا ہر گوشہ معمور ہے اور ان کی تفصیل اللہ نے اپنی کتاب میں بھی بیان کر دی ہے۔ اگر یہ دلیلیں تمہاری سمجھ میں نہیں آ رہی ہیں تو دنیا کی کوئی چیز بھی تمہاری سمجھ میں نہیں آ سکتی۔ اب تمہارا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ وہی تمہارا فیصلہ فرمائے گا۔
    مسلمانوں کو اس میں صاف الفاظ میں فتح و غلبہ کی بشارت دی گئی ہے کہ کچھ دنوں صبر کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرو۔ اگر استقلال کے ساتھ تم اپنے موقف پر ڈٹے رہے تو آخری کامیابی تمہارا ہی حصہ ہے۔ اس راہ میں جو مصیبتیں بھی تم جھیلو گے وہ رائگاں نہیں جائیں گی بلکہ اللہ تعالیٰ ان کا بھرپور صلہ دے گا۔
    یہ سورہ اس دور کی سورتوں میں سے ہے جب یہود کھلم کھلا قریش کی پیٹھ ٹھونکنے لگ گئے تھے۔ اس وجہ سے اس میں یہود کو بھی نہایت واضح الفاظ میں ملامت ہے کہ اللہ نے ان کو امامت کے جس منصب پر فائز فرمایا تھا اپنی شامت اعمال سے انھوں نے اس کو ضائع کر دیا۔ اب ان کا معاملہ اللہ کی عدالت میں پیش ہو گا اور وہی ان کا فیصلہ فرمائے گا۔ ساتھ ہی مسلمانوں کو یہ تنبیہ ہے کہ اللہ نے جو روشن شاہراہ تم کو دکھائی ہے اس پر چلو اور ان دین بازوں سے ہوشیار رہو۔ یہ زور لگا رہے ہیں کہ اپنی ایجاد کردہ بدعات میں مبتلا کر کے تمہیں بھی اللہ کی راہ سے اس طرح محروم کر دیں جس طرح وہ خود محروم ہو بیٹھے ہیں۔

  • الجاثیۃ (The Kneeling Down, Crouching)

    37 آیات | مکی

    الجاثیہ ۔ الاحقاف

    ۴۵ ۔ ۴۶

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع وہی انذار و بشارت ہے جو پچھلی سورتوں سے چلا آ رہا ہے۔اِس کا جو پہلو، البتہ دونوں سورتوں میں نمایاں ہے، وہ مخاطبین کے اعتراضات و شبہات کی تردید اور اُن کے اُس رویے پر تہدید ہے جو وہ قرآن اور اُس کی دعوت کے مقابلے میں اختیار کیے ہوئے تھے۔ دونوں سورتوں کو ایک ہی آیت سے شروع کرکے قرآن نے اِن کے اِس تعلق کی طرف خود اشارہ کر دیا ہے۔
    اِن سورتوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضامین سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ ہجرت و براء ت میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 045 Verse 001 Chapter 045 Verse 002 Chapter 045 Verse 003 Chapter 045 Verse 004 Chapter 045 Verse 005
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ سورۂ ’حٰمٓ‘ ہے۔
    پچھلی سورتوں کی طرح اِس سورہ کا نام بھی ’حٰمٓ‘ ہے۔ یہ اشتراک مطالب پر دلیل ہے اور قرآن کا ہر طالب علم اِسے تمام حوامیم میں بالکل نمایاں دیکھ سکتا ہے۔ اِس نام کے معنی کیا ہیں؟ اِس کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر ہم نے سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۱ کے تحت بیان کر دیا ہے۔
    اِس کتاب کی تنزیل اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست ہے، بڑی حکمت والا ہے۔
    یہ تہدید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس نے یہ کلام اتارا ہے، وہ کوئی ضعیف و ناتواں ہستی نہیں ہے، بلکہ اِس کائنات کا بادشاہ ہے اور اِس کا تمام اختیار و اقتدار اُسی کے قبضے میں ہے۔ یہ اُس کا فرمان واجب الاذعان ہے۔ اِس لیے جو لوگ اِس کی ناقدری کریں گے، وہ سوچ لیں کہ اپنے لیے کس انجام کو دعوت دے رہے ہیں۔ یہ تسلی ہے کہ اگر ناقدری کرنے والوں کو مہلت مل رہی ہے تو اِس سے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ صرف زبردست ہی نہیں ہے، اِس کے ساتھ بڑی حکمت والا بھی ہے۔ چنانچہ اِسی بنا پر منکرین اور مکذبین کو بھی مہلت پر مہلت دیے چلا جاتا ہے۔ اِس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ جن کے اندر اصلاح کی کچھ صلاحیت ہے، وہ اِس مہلت سے فائدہ اٹھا کر اپنی اصلاح کر لیں اور جو ہٹ دھرم ہیں، اُن پر اُس کی حجت ہر لحاظ سے پوری ہو جائے تاکہ قیامت کے دن وہ کوئی عذر نہ پیش کر سکیں۔
    حقیقت یہ ہے کہ زمین اور آسمانوں میں بہت سی نشانیاں ہیں۔
    n/a
    اُن کے لیے جو ایمان لانے والے ہوں۔ اور خود تمھاری خلقت میں اور اُن حیوانات میں بھی جو اُس نے (تمھارے لیے) پھیلا رکھے ہیں۔
    مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر حقیقت کی جستجو اور منزل کی سچی طلب ہو تو خالق کائنات نے زمین و آسمان میں ہر جگہ ایسے معالم رکھ دیے ہیں کہ اُن کو دیکھ کر وہ سیدھا وہاں پہنچ سکتا ہے، جہاں یہ قرآن پہنچنے کی دعوت دے رہا ہے۔ یعنی انسان اگر اِسی بات پر غور کرے کہ کس طرح پانی کی ایک بوند اُس کے جسم کے کارخانے میں اُنھی بے جان چیزوں سے پیدا ہو جاتی ہے جو وہ شب و روز کھاتا اور پیتا ہے، اور پھر اُسی بوند سے درجہ بدرجہ ترقی کرکے ایک حیرت انگیز مخلوق وجود میں آتی ہے جو اعلیٰ سائنس کا بے نظیر شاہ کار ہے تو اُسے نہ خدا کی معرفت کے معاملے میں کوئی شبہ پیش آسکتا ہے اور نہ اُس کے حضور میں جواب دہی کے معاملے میں کوئی تردد لاحق ہو سکتا ہے۔ یہ اُس سامان ربوبیت کی طرف اشارہ ہے جو زمین پر انسان کے لیے مہیا کیا گیا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’... اگر انسان غور کرے تو اِس امر میں ذرا شبہے کی گنجایش نہیں ہے کہ انسان چوپایوں سے جو گوناگوں فوائد حاصل کر رہا ہے، یہ اِس کو محض اتفاقی واقعے کے طور پر نہیں حاصل ہو رہے ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اِنھی فوائد کے لیے اِن چیزوں کو وجود بخشا اور ہر اعتبار سے اِن کو اِن کے فوائد کے لیے موزوں بنایا ہے۔ انسان کو سواری اور باربرداری کا محتاج بنایا تو سواری اور باربرداری کے لیے نہایت موزوں جانور پیدا کیے، اُس کو دودھ اور گوشت اور کھال اور اون کا ضرورت مند بنایا تو اِن تمام ضروریات کے لیے الگ الگ نہایت مناسب چوپایے عطا کیے۔ یہ چیز اِس بات کی صاف دلیل ہے کہ اِس کائنات کا خالق نہایت مہربان ہے اور اُس کی شکرگزاری واجب ہے۔ پھر اِس سے یہ بات بھی لازم آتی ہے کہ جب اُس نے انسان کو اِس اہتمام کے ساتھ اپنی نعمتوں سے نوازا ہے تو لازم ہے کہ ایک ایسا دن بھی آئے جس دن وہ اِن نعمتوں کے متعلق لوگوں سے سوال کرے، جنھوں نے اِن کا حق پہچانا ہو، اُن کو انعام دے اور جو اِن کو پا کر خدا کو بھول بیٹھے ہوں، اُن کو اِس کفران نعمت کی سزا دے۔‘‘(تدبرقرآن ۷/ ۳۰۳)
    اُن لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو یقین کرنا چاہیں۔ اور شب و روز کے بدل کر آنے میں اور اُس روزی میں جو اللہ نے (پانی کی صورت میں)آسمان سے اتاری، پھر اُس سے زمین کو اُس کے مر جانے کے بعد زندہ کر دیا اور ہواؤں کے پھیرنے میں بھی اُن لوگوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیں۔
    یہ بھی خدا کی قدرت و حکمت کی ایک بڑی نشانی ہے۔ ہماری زمین پر زندگی کی ساری لطافت اور سارا حسن رات اور دن کی باہمی سازگاری اور موافقت سے ہے۔ یہ اگرچہ ضدین ہیں، لیکن اپنی اِس سازگاری اور موافقت سے شہادت دے رہے ہیں کہ دونوں ایک ہی خدا کے بنائے ہوئے ہیں جس نے اِنھیں ہماری خدمت میں لگا دیا ہے اور یہ پوری پابندی اوقات کے ساتھ اُس کے حکم سے یہ خدمت انجام دے رہے ہیں۔ اصل میں ’رِزْق‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اِس سے مراد ،جیسا کہ اوپر بیان ہوا،یہاں پانی ہے جو ذریعۂ رزق بنتا ہے۔ یہ سبب کے لیے مسبب کا استعمال ہے جو دنیا کی ہر زبان میں معروف ہے۔ توحید اور قیامت پر استدلال کے لیے قرآن نے جگہ جگہ اِس نشانی کی طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ بارش اگرچہ آسمان سے ہوتی ہے، لیکن وہ رزق کے خزانے زمین والوں کے لیے لے کر آتی ہے۔ یہ اِس بات کی صریح دلیل ہے کہ زمین اور آسمان ، دونوں میں ایک ہی ارادہ کارفرما ہے۔ پھر یہی نہیں، خشک اور بے آب و گیاہ زمین کو وہ جس طرح زندہ کر دیتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے اُس کا ہر گوشہ سبزے سے لہلہا اٹھتا ہے، اُس سے صاف واضح ہوتا ہے کہ اُس کا برسانے والا اگر یہ کہتا ہے کہ ایک دن وہ پورے عالم پر بھی اِسی طرح اپنی رحمت کی بارش برسائے گا اور زمین میں مدفون ہمارے سب آباو اجدادکو اپنے سامنے اٹھا کھڑا کرے گا تو اِس پر بھی تعجب نہ ہونا چاہیے۔ اُس کے لیے یہ کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔ یعنی جس طرح وہ گردش کرتی ، کبھی رکتی، کبھی چلتی اور کبھی صر صر اور کبھی صبا بن جاتی ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...(اِس سے) صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی مصرف کے ہاتھ میں اِن کی باگ ہے اور وہی اپنی حکمتوں کے تحت اِن کو استعمال کرتا ہے۔ اگر وہ اِن کو روک دے تو چشم زدن میں ساری دنیا تباہ ہو جائے۔ وہ چاہے تو ایک قوم کے لیے اِس کو رحمت بنا دے اور دوسری قوم کے لیے نقمت۔ اِسی ہوا کی گردش سے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور اُن کی قوم کو نجات بخشی اور اِسی کی گردش سے فرعون اور اُس کی قوم کو ہلاک کیا۔ آئے دن یہ بات مشاہدے میں آتی رہتی ہے کہ کسان اپنی فصل کے مستقبل سے نہایت مطمئن ہوتے ہیں، لیکن دفعتاً کوئی ایسی ہوا چل جاتی ہے کہ مستقبل تاریک ہو جاتا ہے۔ ملاح اپنی کشتیوں کے بادبان کھولے ہوئے اور کسان اپنی گندم صاف کرنے کے آلات لیے ہوئے سازگار ہوا کے انتظار میں چشم براہ ہوتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے اختیار میں نہیں کہ سازگار ہوا چلا دے۔ اِس زمانے میں سائنس کی بدولت اگرچہ انسان کے اندر یہ زعم پیدا ہو گیا ہے کہ اُس نے ابرو ہوا کو بہت بڑی حد تک اپنے قابو میں کر لیا ہے، لیکن قدرت ذرا سا جھنجھوڑ دیتی ہے تو اِس ادعا کا سارا بھرم کھل جاتا ہے۔ یہ باتیں اِس بات کی صاف شہادت ہیں کہ ایک ہی ذات ہے جو اِس کائنات کے تمام عناصر پر حکمران ہے۔ اُس کے اذن کے بغیر ایک پتا بھی اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتا۔‘‘(تدبرقرآن ۷/ ۳۰۵) اِس سے پہلے فرمایا کہ جو ایمان لانے والے ہوں، جو یقین کرنا چاہیں۔ مدعا یہ ہے کہ قرآن جن حقائق پر ایمان کی دعوت دے رہا ہے، اُن کی نشانیاں تو قدم قدم پر موجود ہیں، مگر یہ نظر اُنھی کو آتی ہیں جن کے اندر اِن کو دیکھنے اور قبول کرنے کا ارادہ پایا جاتا ہو، جو ماننے کے لیے تیار ہوں، بے یقینی کے مرض میں مبتلا نہ ہو گئے ہوں اور جو عقل سے کام لیں۔ جن کے اندر یہ صفات نہ ہوں، اُنھیں کوئی بڑی سے بڑی نشانی بھی اپنی طرف متوجہ نہیں کر سکتی۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List