Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الدخان (The Smoke)

    59 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    اس سورہ کا قرآنی نام وہی ہے جو سابق سورہ کا ہے اور اس کی تمہید بھی اصل مدعا کے اعتبار سے تقریباً وہی ہے جو سابق سورہ کی ہے۔ البتہ دونوں میں یہ فرق ہے کہ سابق سورہ میں توحید کے دلائل کا پہلو نمایاں ہے اور اس میں توحید کے دلائل کے بجائے انذار کا پہلو غالب ہے۔ پوری سورہ پر تدبر کی نظر ڈالیے تو معلوم ہو گا کہ اس میں قرآن اور رسالت کا اثبات اس پہلو سے ہے کہ قرآن منکرین کو جس انجام کی خبر دے رہا ہے وہ دنیا میں بھی شدنی ہے اور آخرت میں بھی۔ تاریخ اس کی شہادت دے رہی ہے اور یہی عقل و فطرت کا تقاضا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ سابق سورہ کی آخری آیت میں یہ جو فرمایا ہے کہ

    فَاصْفَحْ عَنْہُمْ وَقُلْ سَلَامٌ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ‘ (الزخرف: ۸۹)

    (ان کو نظر انداز کرو اور کہو میرا سلام لو، پس یہ عنقریب جان لیں گے)

    اس سورہ میں اسی تہدید کے دلائل و قرائن کی وضاحت ہے۔ گروپ کی آگے کی سورتوں میں یہ مضمون زیادہ واضح ہوتا جائے گا۔ یہاں تک کہ گروپ کے آخر میں جو مدنی سورتیں ہیں ان میں قریش کے عزل اور اہل ایمان کی نصرت اور ان کے غلبہ کا بالکل قطعی الفاظ میں اعلان فرما دیا گیا ہے۔

  • الدخان (The Smoke)

    59 آیات | مکی

    الزخرف ۔ الدخان

    ۴۳ ۔ ۴۴

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع توحید کے منکرین کو انذار ہے۔ پہلی سورہ میں البتہ توحید کے اثبات اور شرک کے ابطال کا پہلو نمایاں ہے اور دوسری میں انذار کا جس میں اُن لوگوں کے لیے سخت تہدید اور اِس تہدید کے دلائل و قرائن کی وضاحت ہے جو توحید کی اِس دعوت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا افترا قرار دے رہے تھے اور اِس طرح قرآن کے بارے میں یہ کہہ رہے تھے کہ یہ اِنھی کا گھڑا ہوا ہے جسے خدا کی کتاب کہہ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ قرآن کی عظمت و شان اور اُس کے اہتمام نزول کا مضمون اِسی رعایت سے بیان ہوا ہے۔ دونوں سورتوں کو ایک ہی آیت سے شروع کرکے قرآن نے اِن کے اِس تعلق کی طرف خود اشارہ کر دیا ہے۔
    اِن سورتوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ ہجرت و براء ت میں نازل ہوئی ہیں۔


  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 044 Verse 001 Chapter 044 Verse 002 Chapter 044 Verse 003 Chapter 044 Verse 004 Chapter 044 Verse 005 Chapter 044 Verse 006 Chapter 044 Verse 007 Chapter 044 Verse 008
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ سورۂ ’حٰمٓ‘ ہے۔
    پہلی سورتوں کی طرح اِس سورہ کا نام بھی ’حٰمٓ‘ ہے۔ یہ اشتراک مطالب پر دلیل ہے اور قرآن کا ہر طالب علم اِسے تمام حوامیم میں بالکل نمایاں دیکھ سکتا ہے۔ اِس نام کے معنی کیا ہیں؟ اِس کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر ہم نے سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۱ کے تحت بیان کر دیا ہے۔
    یہ واضح کتاب (آپ ہی اپنی) گواہی ہے۔
    اصل میں ’وَالْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن میں ’وَ‘قسم کے لیے ہے۔ اِس قسم کا مقسم علیہ محذوف ہے اور لفظ ’مُبِیْن‘ اِس کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ مدعا یہ ہے کہ یہ واضح کتاب اپنے دعووں کی صداقت پر خود حجت قاطع ہے۔ اُن کے دلائل ڈھونڈنے کے لیے اِس سے کہیں باہر جانے کی ضرورت نہیں ہے، اُنھیں مبرہن کرنے کے لیے یہ خود کافی ہے۔
    اِس میں کچھ شک نہیں کہ ہم نے اِسے ایک خیر و برکت والی رات میں اتارا ہے، اِس لیے کہ ہم لوگوں کو خبردار کرنے والے تھے۔
    یعنی لیلۃ القدر۔ سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۱۸۵ میں قرآن نے تصریح کردی ہے کہ اُس کا نزول رمضان کے مہینے میں ہوا، لہٰذا یہ رمضان ہی کی کوئی رات تھی۔ آگے وضاحت ہے کہ یہ فیصلوں کی رات ہے۔ یہ فیصلے رحمت و نقمت، دونوں قسم کے امور سے متعلق ہو سکتے ہیں، لیکن چونکہ اُس ذات کی طرف سے ہوتے ہیں جس کا ہر فیصلہ رحمت و حکمت پر مبنی اور سراسر عدالت ہے، اِس وجہ سے باعتبار نتیجہ یہ مبارک ہی ہوتے ہیں۔ اِس کو خیر و برکت والی رات اِسی بنا پر کہا گیا ہے۔ اِس میں مخاطبین کے لیے یہ تنبیہ ہے کہ وہ اِسے کہانت یا نجوم یا شاعری کی قسم کی کوئی چیز سمجھ کر اپنے آپ کو اِس کی برکتوں سے محروم نہ کریں۔ یہ اُن کے لیے خدا کی عظیم رحمت ہے جس کی قدر اگر اُنھوں نے نہیں پہچانی تو اِس کے نتائج اُن کے لیے نہایت ہول ناک ہوں گے۔ اِس سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ پورا قرآن ایک ہی رات میں نازل ہوا ہو، بلکہ اِس کے نزول کا فیصلہ اگر اِس رات میں کر دیا گیا اور پہلی وحی نازل ہو گئی تو ’اَنْزَلْنٰہُ‘ کا جو لفظ اصل میں آیا ہے، وہ اِس صورت حال کی تعبیر کے لیے بالکل موزوں ہو گا۔ خدا خود لوگوں کو خبردار کرنے کا فیصلہ کرے، یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ چنانچہ اِس کے لیے وہ مبارک رات منتخب کی گئی جس کے بارے میں آگے فرمایا ہے کہ اُس میں مہمات امور کی تقسیم ہوتی ہے۔ اِس سے یہ بات بھی ضمناً معلوم ہوئی کہ جس طرح مادی عالم میں خاص چیزوں کے لیے موسم اور مہینے مقرر ہیں، اِسی طرح روحانی عالم میں بھی خاص خاص کاموں کے لیے دن اور مہینے مقرر کیے گئے ہیں۔ اگر کوئی معاملہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اِن کے ساتھ متعلق کر دیا جائے تو اُس کی تمام برکتیں اُسی دن اور مہینے کی پابندی سے حاصل ہوتی ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر اِس رات کی جستجو میں رہے یا لوگوں کو اِس کی ترغیب دی تو اِس پر تعجب نہیں ہونا چاہیے۔پروردگار کی طرف سے یہ جان لینے کے بعد کہ یہ بڑی رحمت و برکت کی رات ہے، ایک بندۂ مومن کاردعمل یہی ہو سکتا تھا۔ مسلمان آپ ہی کی اتباع میں ہر سال رمضان کے مہینے میں اِس کی جستجو کرتے اور اِس کے لیے عبادت و ریاضت میں سرگرم ہو جاتے ہیں۔
    اِس رات میں تمام حکمت والے معاملات خاص ہمارے حکم سے تقسیم کیے جاتے ہیں۔
    یہ درحقیقت اُس فیصلے کی عظمت کا اظہار ہے جو اِس رات میں کیا گیا۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’اِس کا حوالہ دینے سے مقصود اِس حقیقت کا اظہار ہے کہ اِس قرآن کا نزول نہ کوئی اتفاقی واقعہ ہے، نہ یہ کوئی بے وقت کی راگنی ہے، نہ یہ بے موسم کا کوئی خود رو پودا ہے، نہ یہ کوئی من گھڑت چیز ہے، بلکہ یہ اُس اسکیم کا ظہور ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی خلق کی اصلاح و ہدایت کے لیے پسند فرمائی ہے۔ چنانچہ اِس مبارک رات میں اِس کو اُس نے اتارا ہے جو تمام امور حکمت کی تقسیم کے لیے خاص ہے۔ پس جن لوگوں کے لیے یہ اتاری گئی ہے، اُن کا فرض ہے کہ وہ اِس کے شایان شان اِس کی قدر کریں، ورنہ یاد رکھیں کہ جو چیز اللہ نے اِس شان و اہتمام کے ساتھ اتاری ہے، اُس کی ناقدری وہ کبھی معاف نہیں فرمائے گا۔ یہ کوئی ہوائی چیز نہیں ہے کہ یہ اِس کو مذاق میں اڑا دیں اور یہ اڑ جائے۔ اِس کی تصدیق یا تکذیب، دونوں ہی چیزیں نہایت اہم نتائج کی حامل ہیں اور یہ نتائج لازماً سامنے آ کے رہیں گے۔‘‘(تدبرقرآن ۷/ ۲۶۹)
    اور اِس لیے کہ خاص تیرے پروردگار کی رحمت سے ہم (اِن لوگوں کی طرف) رسول بھیجنے والے تھے۔
    یعنی لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے محض ایک نبی نہیں، بلکہ رسول بھیجنے والے تھے۔ رسولوں کے بارے میں ہم کئی جگہ واضح کر چکے ہیں کہ وہ زمین پر خدا کی عدالت بن کر آتے اور اپنی قوموں کا فیصلہ کرکے دنیا سے رخصت ہوتے ہیں۔ اِس میں، اگر غور کیجیے تو اُن پیشین گوئیوں کی طرف بھی اشارہ ہے جو حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح علیہم السلام سے بنی اسمٰعیل کے اندر آخری رسول کی بعثت سے متعلق منقول ہیں۔ چنانچہ فرمایا کہ اُن کے لیے ہماری اِس عظیم رحمت کاظہور ایک ایسی رات میں ہوا جو اِس طرح کے امور مہمہ کے ظہور کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ آیت میں ’رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ‘ کے الفاظ اِس تنبیہ کے لیے آئے ہیں کہ وہ اگر تمھاری تصدیق نہیں کریں گے تو تمھارا کچھ نہیں بگاڑیں گے، اپنے ہی کو خدا کی سب سے بڑی رحمت سے محروم کریں گے۔
    یقیناً وہی سمیع و علیم ہے۔ اُس پروردگار کی رحمت سے۔
    یعنی سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...اِن صفات کے حوالے میں ایک پہلو یہ ملحوظ ہے کہ اِس کائنات کا رب ایک دانا و بینا ہستی ہے، وہ اپنی خلق کو شتر بے مہار بنا کر نہیں چھوڑ سکتا۔ اُس کے دانا و بینا ہونے کالازمی تقاضا ہے کہ وہ خلق کے حالات پر پوری نظر رکھے۔ لوگوں کو اپنے احکام و اوامر سے آگاہ کرے۔ اگر وہ اُن کی تعمیل کریں تو دنیا و آخرت ،دونوں میں اُس کا انعام دے اور اگر سرکشی کریں تو اُس کی سزا دے۔ دوسرا یہ کہ اِس وقت اللہ کی کتاب اور اُس کے رسول کے ساتھ قریش کے لیڈر جو کچھ کر رہے ہیں، خداے سمیع و علیم اُس سے بے خبر نہیں ہے۔ ہر بات اُس کے علم میں ہے اور جب ہر بات اُس کے علم میں ہے اور کوئی چیز بھی اُس کی قدرت سے باہر نہیں ہے تو نبی اور اہل ایمان اطمینان رکھیں کہ جو کچھ اُس کی حکمت کا تقاضا ہو گا، وہ لازماً ظہور میں آئے گا۔ کوئی چیز بھی اُس کی راہ میں مزاحم نہ ہو سکے گی۔‘‘(تدبرقرآن ۷/ ۲۷۱)
    جو زمین اور آسمانوں اور اُن کے درمیان کی سب چیزوں کا پروردگار ہے، اگر تم یقین کرنے والے ہو۔
    n/a
    اُس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ وہی زندہ کرتا اور وہی مارتا ہے، تمھارا پروردگار اور تمھارے باپ دادوں کا پروردگار جو پہلے گزر چکے ہیں۔
    n/a


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List