Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الشوری (The Consultation)

    53 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور زمانۂ نزول

    اس سورہ کا بھی مرکزی مضمون توحید ہی ہے۔ اسی کے تحت قیامت سے بھی ڈرایا گیا ہے اس لیے کہ توحید کی اصلی اہمیت اسی وقت سامنے آتی ہے جب اس بات پر ایمان ہو کہ انصاف کا ایک دن لازماً آنے والا ہے اور اس دن ہر شخص کو سابقہ اللہ واحد و قہار ہی سے پیش آئے گا، کسی کی مجال نہیں ہو گی کہ اس کی پکڑ سے کسی کو بچا سکے یا اس کے اذن کے بغیر اس کے سامنے زبان ہلا سکے۔
    استدلال کی بنیاد اس میں دعوت انبیاء کی تاریخ پر ہے کہ آدمؑ و نوحؑ سے لے کر اب تک تمام انبیاء نے اسی دین توحید کی دعوت دی اور ان کو بھی اللہ نے اسی طرح وحی کے ذریعہ سے تعلیم دی جس طرح یہ قرآن وحی کیا جا رہا ہے۔ مختلف حلقوں نے دین کے معاملہ میں جو اختلاف کیا ہے اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ اللہ کے رسولوں نے الگ الگ دینوں کی تعلیم دی بلکہ اس کی وجہ صرف باہمی عداوت و رقابت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صحیح علم آ جانے کے باوجود مختلف گروہوں نے اپنی ضد اور اپنی برتری قائم رکھنے کے زعم میں حق سے اختلاف کیا اور اس طرح لوگ مختلف گروہوں اور حلقوں میں بٹتے گئے۔ یہ قرآن اسی اختلاف کو مٹانے کے لیے ایک میزان حق بن کر نازل ہوا ہے۔ اگر لوگ اس میزان کے فیصلہ کو قبول نہیں کریں گے تو اب قیامت کی میزان عدل لوگوں کا فیصلہ کرے گی۔
    سورہ کے مطالب پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مکی دور کے آخر میں، ہجرت سے متصل زمانے میں نازل ہوئی ہے چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے قریش کے لیڈروں کو اس میں جو خطاب ہے اس کی نوعیت ودَاعیِ خطاب کی ہے، گویا ان سے متعلق پیغمبرؐ کی جو ذمہ داری تھی وہ پوری ہو گئی، اب ذمہ داری لوگوں کی اپنی ہے۔ اگر انھوں نے یہ ذمہ داری اب بھی محسوس نہ کی تو اس کے نتائج کے لیے تیار رہیں۔ اسی طرح مسلمانوں سے متعلق اس میں جو باتیں فرمائی گئی ہیں ان سے مترشح ہوتا ہے کہ اب وہ ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جس میں ان کو ایک ہیئت اجتماعی کی شکل میں اپنے فرائض ادا کرنے ہیں جس کے تقاضے پورے کرنے کے لیے انھیں تیار رہنا چاہیے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں بار بار یہ تسلی دی گئی ہے کہ تمہاری ذمہ داری لوگوں کو واضح طور پر حق پہنچا دینے کی تھی وہ تم نے پوری کر دی۔ لوگوں کے دلوں میں ایمان اتار دینا تمہاری ذمہ داری نہیں ہے۔ اب ان کا معاملہ اللہ کے حوالے کرو۔ اسی ضمن میں بعض اعتراضات کے جواب بھی دیے گئے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر مخالفین کی طرف سے کیے گئے۔

  • الشوری (The Consultation)

    53 آیات | مکی

    حٰم السجدہ ۔ الشوریٰ

    ۴۱ ۔۴۲

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع توحید کا اثبات اور اُس کے حوالے سے قریش کو انذار و بشارت ہے۔ پہلی سورہ میں، البتہ تنبیہ اور دوسری میں تفہیم کا پہلو نمایاں ہے۔ دونوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ ہجرت و براء ت میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 042 Verse 001 Chapter 042 Verse 002 Chapter 042 Verse 003 Chapter 042 Verse 004 Chapter 042 Verse 005 Chapter 042 Verse 006
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ سورۂ ’حٰمٓ (عٓسٓقٓ‘ ہے)۔
    اِس نام کے معنی کیا ہیں؟ اِس کے متعلق اپنا نقطۂ نظر ہم نے سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۱ کے تحت بیان کر دیا ہے۔ پچھلی سورہ کا نام بھی ’حٰمٓ‘ ہے۔ یہاں اُس پر ’عٓسٓقٓ‘ کا اضافہ ہے۔ یہ اِس بات کا قرینہ ہے کہ سورۂ حٰم السجدہ کے ساتھ اِس سورہ کا تعلق ایک تکملہ یا تتمہ کا ہے جس میں بعض خاص مطالب کی توضیح کی گئی ہے جو پچھلی سورہ میں بیان نہیں ہوئے ہیں۔
    یہ (سورۂ ’حٰمٓ) عٓسٓقٓ‘ ہے۔
    اِس نام کے معنی کیا ہیں؟ اِس کے متعلق اپنا نقطۂ نظر ہم نے سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۱ کے تحت بیان کر دیا ہے۔ پچھلی سورہ کا نام بھی ’حٰمٓ‘ ہے۔ یہاں اُس پر ’عٓسٓقٓ‘ کا اضافہ ہے۔ یہ اِس بات کا قرینہ ہے کہ سورۂ حٰم السجدہ کے ساتھ اِس سورہ کا تعلق ایک تکملہ یا تتمہ کا ہے جس میں بعض خاص مطالب کی توضیح کی گئی ہے جو پچھلی سورہ میں بیان نہیں ہوئے ہیں۔
    اللہ ، غالب اور حکیم اِسی طرح تمھاری طرف وحی کرتا ہے اور جو تم سے پہلے گزرے ہیں، اُن کی طرف بھی اِسی طرح وحی کرتا رہا ہے، (اِنھی مطالب کے ساتھ اور اِسی طریقے سے)۔
    یعنی جو زبردست ہے اور چاہے تو گردن کشوں کی گردن دبا سکتا ہے، لیکن وہ حکیم بھی ہے، اِس لیے اُنھیں مہلت دیتا اور اُن کی ہدایت کے لیے یہ اہتمام فرماتا ہے مدعا یہ ہے کہ آپ بھی اپنے رب عزیز و حکیم پر بھروسا رکھیں۔ آپ کے مخاطبین کی مہلت ختم ہو جائے گی تو یہ بھی اُس کی گرفت سے بچ نہیں سکیں گے۔ یعنی اُسی دین کی تعلیمات کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ نے تمام پیغمبروں کو وحی کے ذریعے سے دیا۔ چنانچہ اِس قرآن میں نہ کوئی نیا دین بیان ہوا ہے اور نہ اُس کے دینے کے لیے پچھلے پیغمبروں کے طریقے سے مختلف کوئی طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔ قرآن کے مخاطبین جن چیزوں پر اصرار کر رہے ہیں کہ خدا خود اپنے فرشتوں کے ساتھ بدلیوں میں نمودار ہو یا اُن میں سے ہر شخص سے براہ راست رابطہ کرکے اُس کو اپنا پیغام پہنچائے، اِن میں سے کوئی طریقہ بھی خدا نے کبھی اختیار نہیں کیا۔ اُس کا طریقہ ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ انسانوں میں سے اپنے کچھ خاص بندوں کو وہ نبوت کے لیے منتخب کرتا ہے، پھر اُن کو وحی کے ذریعے سے اپنا پیغام دیتا اور اُنھی کے ذریعے سے اُس کو لوگوں تک پہنچاتا ہے۔
    آسمانوں میں جو کچھ ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، اُسی کا ہے اور وہ برتر اور عظیم ہے۔
    لہٰذا اُس کی بارگاہ میں اِس طرح کے مطالبات پیش کرنے کی جسارت کسی کو بھی نہیں کرنی چاہیے کہ وہ سامنے آئے اور لوگوں سے خود ہم کلام ہو۔
    قریب ہے کہ آسمان (اُس کی ہیبت کے مارے) اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے، (وہ تو) اپنے پروردگار (کی خشیت کے سبب سے اُس) کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح اور زمین والوں کے لیے مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ سنو، حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
    تسبیح میں تنزیہہ کا پہلو غالب ہے اور حمد میں اثبات کا۔ استاذ امام کے الفاظ میں، یعنی وہ اللہ تعالیٰ کو تمام خلاف شان باتوں سے، جن میں سب سے زیادہ نمایاں شرک ہے، پاک اور تمام اعلیٰ صفات سے، جن میں سب سے مقدم توحید ہے، متصف قرار دیتے ہیں۔ مدعا یہ ہے کہ تمام قربت کے باوجود ، جو فرشتوں کو خدا کی بارگاہ میں حاصل ہے، اُن کا حال یہ ہے کہ خدا کی خشیت سے لرزاں و ترساں ہیں اور یہ احمق اُنھیں معبود بنائے بیٹھے ہیں، جبکہ وہ اِس کا تصور بھی نہیں کر سکتے کہ کسی کو خدا کا شریک ٹھیرا دیں۔ یعنی زمین پر جو اہل ایمان ہیں، اُن کی مغفرت کے لیے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ یہی اُن کی شفاعت ہے۔ اِس سے آگے کوئی چیز اُن کے اختیار میں نہیں ہے۔
    اِس کے باوجود جن لوگوں نے اُس کے سوا دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں، اللہ اُن پر نگران ہے اور، (اے پیغمبر)، تم اُن پر ذمہ دار نہیں بنائے گئے ہو۔
    یہ نہایت سخت وعید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نگران ہے تو اِن کے تمام کرتوتوں کو دیکھ بھی رہا ہے، لہٰذا مہلت پوری ہو جائے گی تو اِن کواِن کے انجام تک پہنچا دے گا۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ تمھاری ذمہ داری صرف دعوت و تبلیغ کی ہے۔ اِس لیے یہ نہیں مانتے تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اِن کی پرسش اِنھی سے ہونی ہے، تم سے نہیں ہونی ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List