Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • غافر (The Forgiver (God), The Believer)

    85 آیات | مکی

    سورہ کا عمود

    گروپ کی پچھلی سورتوں کی طرح اس سورہ کی بنیاد بھی توحید ہی پر ہے۔ قرآن کے دوسرے اصولی مطالب بھی اس میں زیر بحث آئے ہیں لیکن اصلاً نہیں بلکہ ضمناً توحید کے لوازم و مقتضیات کی حیثیت سے آئے ہیں۔
    اس کا قرآنی نام ’حٰمٓ‘ ہے اور یہی نام اس کے بعد کی چھ سورتوں کا بھی ہے۔ یہ ساتوں ’حوامیم‘ کے نام سے مشہور ہیں اور اپنے ناموں کی طرح اپنے مطالب میں بھی مشترک ہیں۔ یہ تمام سورتیں دعوت کے اس دور سے تعلق رکھنے والی ہیں جب توحید و شرک کی بحث نے اتنی شدت اختیار کر لی تھی کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں پر مکہ میں عرصۂ حیات تنگ ہونے لگا تھا۔ ہجرت کی طرف ایک ہلکا سا اشارہ پچھلی سورتوں میں بھی گزر چکا ہے۔ اب اس میں اور آگے کی سورتوں میں وقت کے یہ حالات بالتدریج نمایاں ہوتے جائیں گے اور ان کے تقاضے سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا وعدۂ نصرت و حمایت بھی بالکل واضح ہوتا جائے گا۔ جو مسلمان اس وقت حالات سے نبرد آزما تھے ان کی اس میں حوصلہ افزائی کی گئی ہے، جو خطرات میں تھے ان کو تسلی دی گئی ہے اور جو دعوت کے ساتھ ہمدردی رکھنے کے باوجود، کسی مصلحت سے، اب تک کھل کر اس کی حمایت کے لیے میدان میں نہیں اترے تھے ان کو یہ رہنمائی دی گئی ہے کہ مصلحتوں سے بے پروا ہو کر وہ کلمۂ حق کی سربلندی کے لیے اٹھ کھڑے ہوں، اللہ تعالیٰ ان کا حامی و ناصر ہو گا۔

  • غافر (The Forgiver (God), The Believer)

    85 آیات | مکی

    الزمر ۔ المؤمن

    ۳۹ ۔ ۴۰

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں میں انذار و بشارت کے ساتھتوحید پر ایمان کی دعوت دی گئی ہے۔ پہلی سورہ میں، البتہ اثبات اور دوسری میں منکرین کے لیے تنبیہ و انذار اور اہل ایمان کے لیے تسلی، تشویق اور حوصلہ افزائی کا پہلو نمایاں ہے۔ اِسی طرح جو لوگ ابھی تذبذب میں تھے، اُنھیں بھی رہنمائی دی گئی ہے کہ مصلحتوں سے بے پروا ہو کر وہ بھی آگے بڑھیں اور دعوت حق کی اِس جدوجہد میں پیغمبر کے ساتھی بن جائیں۔ دونوں کی ابتدا الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ ایک ہی آیت سے ہوئی ہے۔ اِس سے خود قرآن نے اِن کے اِس تعلق کی طرف اشارہ کر دیا ہے اور الفاظ کے اِس فرق سے یہ بات بھی واضح کر دی ہے کہ پہلی سورہ میں خدا کی حکمت اور دوسری میں اُس کاعلم بناے استدلال ہے۔
    اِن سورتوں سے آگے مزید چھ سورتوں کے مطالب بھی کم و بیش وہی ہیں جو اوپر سورۃ ’المؤمن‘ کے بیان ہوئے ہیں۔ چنانچہ اِن کا نام بھی اللہ تعالیٰ نے ایک ہی، یعنی ’حٰم‘ رکھا ہے اور اِسی بنا پر یہ حوامیم کہلاتی ہیں۔
    دونوں سورتوں کے مخاطب قریش ہیں اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ ہجرت و براء ت میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 040 Verse 001 Chapter 040 Verse 002 Chapter 040 Verse 003
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ سورۂ ’حٰمٓ‘ ہے۔
    اِس نام کے معنی کیا ہیں؟ اِس کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر ہم نے سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۱ کے تحت بیان کر دیا ہے۔ یہی نام اِس سے آگے تمام مکی سورتوں کا بھی ہے اور یہ اُن کے اسلوب، مضامین اور مزاج میں فی الجملہ اشتراک پر دلالت کرتا ہے۔
    اِس کتاب کی تنزیل اللہ کی طرف سے ہے، جو زبردست ہے، سب کچھ جاننے والا ہے۔
    لفظ ’تَنْزِیْل‘ اہتمام پر دلالت کے لیے ہے اور اِس میں یہ اشارہ ہے کہ جس نے یہ اہتمام فرمایا ہے، لوگ اُس کے شکر گزار ہوں اور اُس نے جو کتاب نازل کی ہے، اُس کی قدر کریں اور اُس سے ہدایت حاصل کریں۔ یعنی اگر قدر کرنے اور ہدایت حاصل کرنے کے بجاے آمادۂ مخالفت ہوں گے تو وہ زبردست ہے اور مخالفت کرنے والوں کو دنیا اور آخرت، دونوں میں سزا دے سکتا ہے۔ چنانچہ یہ بھی جانتا ہے کہ اِس کتاب کی تنزیل سے جو کشمکش برپا ہوئی ہے، اُس میں کون کیا کر رہا ہے۔
    گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے، سخت سزا دینے والا اور بڑی قدرت والا ہے۔ اُس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، (بالآخر) اُسی کی طرف لوٹنا ہے۔
    یہ ترغیب کے لیے فرمایا ہے کہ جو لوگ اب تک سرکشی کرتے رہے ہیں، وہ بھی اگر اپنی روش سے باز آ جائیں تو خدا کا دامن رحمت وسیع ہے، وہ اُس میں جگہ پا سکتے ہیں۔ اصل میں ’ذِی الطَّوْلِ‘کے الفاظ آئے ہیں۔ ’طَوْل‘کا لفظ کئی معنی کے لیے آتا ہے۔ یہاں تقابل کے اصول کو پیش نظر رکھ کرقدرت کے معنی کو ترجیح دی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا کی صفات کا یہ پہلو بھی سامنے رہنا چاہیے کہ وہ اگر توبہ کرنے والوں کی توبہ آگے بڑھ کر قبول کرتا ہے تو مخالفت کرنے والوں کے لیے اُس کے عذاب اور اُس کی قدرت کی شانیں بھی اِسی طرح ظاہر ہو جایا کرتی ہیں۔ یعنی اُس کے سوا نہ کوئی سہارا دے سکتا ہے اور نہ اُس سے بھاگ کر کہیں جانے کی کوئی جگہ ہے۔ بالآخر لوٹنا اُسی کی طرف ہو گا اور اُس کے اذن کے بغیر کوئی بھی کسی کے کام نہ آ سکے گا۔ سورہ کی یہ تمہید، اگر غور کیجیے تو مخاطبین کے لیے اظہار امتنان بھی ہے اور اُن کو تنبیہ بھی۔ اِس میں اللہ تعالیٰ کی صفات کا حوالہ اِن دونوں ہی پہلوؤں سے دیا گیا ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List