Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الزمر (The Crowds, The Troops, Throngs)

    75 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ سورۂ صٓ ۔۔۔ کے مثنیٰ کی حیثیت رکھتی ہے۔ جس مضمون پر سابق سورہ ختم ہوئی ہے اسی مضمون سے اس کا آغاز ہوا ہے۔ سورۂ صٓ کے آخر میں فرمایا ہے کہ یہ قرآن دنیا والوں کے لیے ایک عظیم یاددہانی ہے، لوگوں کو یاد دلا رہا ہے کہ آخرت شدنی ہے اور سب کو ایک ہی رب حقیقی کے آگے پیش ہونا ہے تو جو لوگ آج اس کو جھٹلا رہے ہیں وہ بہت جلد اس کی صداقت اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ اب اس سورہ کی تلاوت کیجیے تو اس کا آغاز بھی اسی مضمون سے ہوتا ہے کہ خدائے عزیز و حکیم نے یہ کتاب نہایت اہتمام سے اس لیے اتاری ہے کہ لوگوں نے اللہ کی توحید کے بارے میں جو اختلافات پیدا کر رکھے ہیں ان کا فیصلہ کر دے تاکہ حق واضح ہو جائے اور جو لوگ اپنے فرضی دیویوں دیوتاؤں کے بل پر آخرت سے نچنت بیٹھے ہیں وہ چاہیں تو وقت آنے سے پہلے اپنی عاقبت کی فکر کر لیں۔ اسی پہلو سے اس میں توحید کے دلائل بھی بیان ہوئے ہیں، شرک اور شرکاء کی تردید بھی فرمائی گئی ہے اور قیامت کے دن مشرکین کا جو حشر ہو گا اس کی تصویر بھی کھینچی گئی ہے۔ سورہ کی بنیاد توحید پر ہے اور اسی تعلق سے اس میں قیامت کا بھی بیان ہوا ہے۔ یہ سورہ اس گروپ کی ان سورتوں میں سے ہے جو کشمکش حق و باطل کے اس دور میں نازل ہوئی ہیں جب ہجرت کے آثار ظاہر ہونا شروع ہو گئے تھے۔ چنانچہ بعد کی سورتوں میں یہ مضمون بالتدریج واضح ہو تا گیا ہے۔

  • الزمر (The Crowds, The Troops, Throngs)

    75 آیات | مکی

    الزمر ۔ المؤمن

    ۳۹ ۔ ۴۰

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں میں انذار و بشارت کے ساتھتوحید پر ایمان کی دعوت دی گئی ہے۔ پہلی سورہ میں، البتہ اثبات اور دوسری میں منکرین کے لیے تنبیہ و انذار اور اہل ایمان کے لیے تسلی، تشویق اور حوصلہ افزائی کا پہلو نمایاں ہے۔ اِسی طرح جو لوگ ابھی تذبذب میں تھے، اُنھیں بھی رہنمائی دی گئی ہے کہ مصلحتوں سے بے پروا ہو کر وہ بھی آگے بڑھیں اور دعوت حق کی اِس جدوجہد میں پیغمبر کے ساتھی بن جائیں۔ دونوں کی ابتدا الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ ایک ہی آیت سے ہوئی ہے۔ اِس سے خود قرآن نے اِن کے اِس تعلق کی طرف اشارہ کر دیا ہے اور الفاظ کے اِس فرق سے یہ بات بھی واضح کر دی ہے کہ پہلی سورہ میں خدا کی حکمت اور دوسری میں اُس کاعلم بناے استدلال ہے۔
    اِن سورتوں سے آگے مزید چھ سورتوں کے مطالب بھی کم و بیش وہی ہیں جو اوپر سورۃ ’المؤمن‘ کے بیان ہوئے ہیں۔ چنانچہ اِن کا نام بھی اللہ تعالیٰ نے ایک ہی، یعنی ’حٰم‘ رکھا ہے اور اِسی بنا پر یہ حوامیم کہلاتی ہیں۔
    دونوں سورتوں کے مخاطب قریش ہیں اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ ہجرت و براء ت میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 039 Verse 001 Chapter 039 Verse 002 Chapter 039 Verse 003
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ کتاب اللہ کی طرف سے اتاری گئی ہے، نہایت اہتمام کے ساتھ، جو زبردست ہے، بڑی حکمت والا ہے۔
    یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی اور قرآن کے مکذبین کے لیے تہدید و وعید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس خدا نے یہ کتاب اتاری ہے، اُس کے ارادوں میں کوئی مزاحم نہیں ہو سکتا۔ وہ اگر لوگوں کو ڈھیل دے رہا ہے تو یہ اُس کی حکمت کا تقاضا ہے اور ڈھیل کے اِس عرصے میں اگر کچھ مزاحمتیں اِس کتاب کے منکرین کی طرف سے پیش آ رہی ہیں تو اُنھیں بھی اِسی حکمت پر محمول کرنا چاہیے۔ اِس لیے یہ منکرین بھی متنبہ ہوں اور آپ بھی مطمئن رہیے، اُس کا فیصلہ صادر ہو جائے گا تو کوئی اُسے ٹالنے والا نہیں ہو گا۔
    ہم نے، (اے پیغمبر)، اِس کتاب کو تمھاری طرف قول فیصل کے ساتھ اتارا ہے۔ سو اب اللہ ہی کی بندگی کرو، اپنی اطاعت کو اُسی کے لیے خالص کرتے ہوئے۔
    یعنی شرک اور توحید کے باب میں جو اختلافات پیدا کر دیے گئے ہیں، اُن کے لیے قول فیصل کے ساتھ اتارا ہے۔ یعنی اِس طرح کہ پرستش بھی اُسی کی ہو اور کسی قید و شرط کے بغیر حکم بھی اُسی کا مانا جائے۔ یعنی ایسی بے آمیز اطاعت جس میں نفس اور غیر، دونوں کی طرف سے کسی شرکت کا شائبہ نہ ہو۔
    سنو، خالص اطاعت اللہ ہی کے لیے ہے۔ اللہ کے سوا جن لوگوں نے دوسرے کارساز بنا رکھے ہیں، (اور اُس کی توجیہ یہ کرتے ہیں کہ) ہم تو اُن کی عبادت صرف اِس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہم کو اللہ سے قریب تر کر دیں، اللہ یقیناًاُن کے درمیان اُس بات کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کررہے ہیں۔ بے شک، اللہ اُن لوگوں کو راہ یاب نہیں کرتا جو جھوٹے اور ناشکرے ہیں۔
    دنیا بھر کے مشرکین اپنے شرک کے لیے بالعموم یہی استدلال کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ نہ دنیا میں ہدایت دیتا ہے اور نہ آخرت میں منزل مراد تک پہنچاتا ہے۔ یعنی اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں کہ اُس نے فلاں اور فلاں کو اپنا شریک بنایا ہے اور سب نعمتیں اُسی سے پاتے ہیں، لیکن دوسروں کی حمد و ثنا میں رطب اللسان رہتے ہیں۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List