Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • یس (Ya-seen)

    83 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    سورۂ یٰسٓ اور گروپ کی پچھلی دونوں سورتوں کے عمود میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ پچھلی سورتوں میں توحید، معاد اور رسالت کے جو مطالب زیربحث آئے ہیں انہی پر اس میں بھی بحث ہوئی ہے۔ البتہ تفصیل و اجمال اور نہج استدلال کے اعتبار سے فرق ہے۔ پچھلی سورہ کے بعض مطالب اس میں تاریخی اور فطری دلائل سے اچھی طرح محکم و مدلل کر دیے گئے ہیں۔ اس کا آغاز اثبات رسالت کے اسی مضمون سے ہوا ہے جس پر سابق سورہ تمام ہوئی ہے۔ اور فلسفۂ دین کے نقطۂ نظر سے غور کیجیے تو یہ حقیقت بھی واضح طور پر نظر آئے گی کہ اس کی بنیاد بھی، پچھلی سورتوں کی طرح، شکر اور اس کے مقتضیات ہی پر ہے۔ آگے ہم سورہ کے مطالب کا تجزیہ پیش کرتے ہیں جس سے اس کا عمود اور نظام ان شاء اللہ اچھی طرح واضح ہو جائے گا۔

  • یس (Ya-seen)

    83 آیات | مکی

    یٰس

    ۳۶

    یہ ایک منفردسورہ ہے جس سے اِس باب میں اتمام حجت کی ابتدا ہو رہی ہے۔ اِس کے اور پچھلی دونوں سورتوں کے مضمون میں اِس کے سوا کوئی خاص فرق نہیں ہے کہ اسلوب بیان میں تنبیہ و تہدید، ملامت اور زجر و توبیخ کی شدت نمایاں ہوگئی ہے۔ اِس لحاظ سے یہ اگلی دونوں سورتوں کے لیے گویا اُس مضمون کی تمہید ہے جو اُن میں پایۂ تکمیل کو پہنچتا ہے۔
    اِس کے مخاطب قریش کے متکبرین ہیں اور اِس کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 036 Verse 001 Chapter 036 Verse 002 Chapter 036 Verse 003 Chapter 036 Verse 004 Chapter 036 Verse 005 Chapter 036 Verse 006 Chapter 036 Verse 007 Chapter 036 Verse 008 Chapter 036 Verse 009 Chapter 036 Verse 010 Chapter 036 Verse 011 Chapter 036 Verse 012
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ سورۂ ’یٰسٓ‘ ہے۔
    اِس نام کے معنی کیا ہیں؟ اِس کے متعلق ہم نے اپنا نقطۂ نظر سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۱ کے تحت بیان کر دیا ہے۔
    یہ سراسر حکمت قرآن گواہی دیتا ہے۔
    n/a
    کہ یقیناً تم رسولوں میں سے ہو۔
    اِس لیے کہ ایسا حکیمانہ اور معجز کلام صرف خدا کا رسول ہی پیش کر سکتا ہے جس میں خدا بولتا ہوا نظر آئے، جو اُن حقائق کو واضح کرے جن کا واضح ہونا انسانیت کی شدید ضرورت ہے اور وہ کسی انسان کے کلام سے کبھی واضح نہیں ہوئے، جو اُن معاملات میں رہنمائی کرے جن میں رہنمائی کے لیے کوئی دوسرا ذریعہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ ایک ایسا کلام جس کے حق میں وجدان گواہی دے، علم و عقل کے مسلمات جس کی تصدیق کریں، جو ویران دلوں کو اِس طرح سیراب کر دے، جس طرح مردہ زمین کو بارش سیراب کرتی ہے، جس میں وہی شان، وہی حسن بیان، وہی فصاحت و بلاغت اور وہی تاثیر ہو جو قرآن کا پڑھنے والا، اگراُس کی زبان سے واقف ہو تو اُس کے لفظ لفظ میں محسوس کرتا ہے۔
    ایک نہایت سیدھی راہ پر۔
    اصل الفاظ ہیں: ’عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ‘۔ یہ خبر کے بعد دوسری خبر ہے جو حرف عطف کے بغیر آ گئی ہے، اِس لیے کہ قرآن کی شہادت یہاں بہ یک وقت دونوں باتوں پر پیش کی گئی ہے، اِس پر بھی کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اِس پر بھی کہ آپ صراط مستقیم پر ہیں۔ ہم نے ترجمے میں اِسے ملحوظ رکھا ہے۔
    یہ پورے اہتمام کے ساتھ اُس ہستی کی طرف سے اتارا گیا ہے جو زبردست ہے، جس کی شفقت ابدی ہے۔
    آیت میں لفظ ’تَنْزِیْل‘ کا نصب فعل محذوف سے ہے اور یہ جس ہستی کی طرف سے ہے، اُس کی دو صفتوں کا حوالہ دیا گیا ہے: ایک ’عَزِیْز‘، دوسری ’رَحِیْم‘۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...اِن میں ایک صفت انذار کے لیے ہے اور دوسری بشارت کے لیے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اِس کی تکذیب کریں گے، وہ یاد رکھیں کہ یہ کسی سائل کی درخواست نہیں، بلکہ ایک عزیز و مقتدر کا فرمان واجب الاذعان ہے جو سرکشی کرنے والوں کو لازماً سزا دے گا۔ ساتھ ہی وہ رحیم بھی ہے اور اپنی اِس رحمت ہی کے لیے اُس نے یہ کتاب اتاری ہے تو جو اللہ کے بندے اِس قرآن کی قدر کریں گے، اُن کو وہ اپنی بے پایاں رحمتوں سے نوازے گا۔‘‘(تدبر قرآن۶/ ۴۰۱)
    اِس لیے اتارا گیا ہے کہ تم اُن لوگوں کو خبردار کرو جن کے اگلوں کو خبردار نہیں کیا گیا تھا، لہٰذا غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔
    یہ اشارہ بنی اسمٰعیل کی طرف ہے جن کے پاس پچھلے ڈھائی ہزار سال میں کوئی رسول نہیں آیا تھا۔
    اُن میں سے بہتوں پر ہماری بات پوری ہو چکی ہے، سو وہ ایمان نہیں لائیں گے۔
    یعنی وہ بات جو ہم نے ابلیس کے جواب میں کہی تھی کہ جو تیری پیروی کریں گے، خواہ جن ہوں یا انسان، اُن سے میں جہنم کو بھر دوں گا۔ قرآن میں نقل ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات اُس وقت فرمائی تھی، جب ابلیس نے یہ دھمکی دی تھی کہ میں آدم کے بیٹوں کی اکثریت کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا۔
    (وہ ایسے متکبر ہیں کہ) اُن کی گردنوں میں ہم نے (گویا) طوق ڈال دیے ہیں اور وہ ٹھوڑیوں تک پہنچے ہوئے ہیں، سو اُن کے سر اٹھے رہ گئے ہیں۔
    یعنی گردنیں ایسی تنی ہوئی ہیں کہ اوپر نیچے اور دائیں بائیں کوئی حقیقت دکھائی نہیں دے رہی۔ یہ مستکبرین کی تصویر ہے۔ اِسی طرح کے لوگ ہیں جو اعتراف حق کی سعادت سے ہمیشہ کے لیے محروم کر دیے جاتے ہیں اور یہ اُس سنت الٰہی کے مطابق ہوتا ہے جو ہدایت و ضلالت کے باب میں مقرر کی گئی ہے۔ اِن کی اِس حالت کو اللہ تعالیٰ نے اِسی بنا پر اپنی طرف منسوب فرمایا ہے۔
    ہم نے اُن کے آگے بھی ایک دیوار کھڑی کر دی ہے اور اُن کے پیچھے بھی ایک دیوار کھڑی کر دی ہے۔ اِس طرح ہم نے اُن کو ڈھانک دیا ہے تو اُنھیں اب کچھ سجھائی نہیں دے رہا ہے۔
    n/a
    اُن کے لیے برابر ہے، تم اُنھیں خبردار کرو یا نہ کرو، وہ نہیں مانیں گے۔
    n/a
    تم تو، (اے پیغمبر)، صرف اُنھی کو خبردار کر سکتے ہو جو نصیحت پر چلیں اور بن دیکھے خداے رحمن سے ڈریں۔ سو اِس طرح کے لوگوں کو مغفرت کی اور (خدا کی طرف سے) با عزت صلے کی بشارت دو۔
    n/a
    یقیناً ہم ہی (ایک دن) مردوں کو زندہ کریں گے اور (اُن کے حساب میں بھی ہمیں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی، اِس لیے کہ) اُنھوں نے جو کچھ آگے بھیجا اور جو کچھ پیچھے چھوڑا ہے، وہ سب ہم لکھتے جا رہے ہیں اور ہم نے ہر چیز ایک واضح کتاب میں درج کر لی ہے۔
    یہ تہدید کے لیے فرمایا ہے کہ کوئی اِس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اتنی وسیع دنیا اور اتنے بے شمار انسانوں کے اعمال کا حساب کون کرے گا اور کس طرح کرے گا؟


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List