Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • فاطر (The Originator)

    45 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ سورۂ سبا ۔۔۔ کی توام سورہ ہے اس وجہ سے دونوں کے عمود میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ اس کا بھی اصل مضمون توحید ہی ہے۔ اس کا آغاز خدا کی حمد کے اثبات اور فرشتوں کی الوہیت کے تصور کے ابطال سے ہوا ہے۔ پھر توحید ہی کے تحت رسالت و معاد سے متعلق وہ باتیں بیان ہوئی ہیں جو مقصد انذار کے پہلو سے ضروری اور سورہ کے مزاج اور اس کے زمانۂ نزول سے مناسبت رکھنے والی ہیں۔ پچھلی سورہ میں، یاد ہو گا، جنوں اور ملائکہ کی الوہیت کے تصور کا ابطال فرمایا ہے۔ اس سورہ میں ملائکہ کی الوہیت کے تصور کی تردید نسبۃً زیادہ واضح الفاظ میں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مشرکین عرب کے مزعومہ معبودوں میں سب سے زیادہ اہمیت فرشتوں ہی کو حاصل تھی۔

  • فاطر (The Originator)

    45 آیات | مکی

    سبا ۔ فاطر

    ۳۴ ۔ ۳۵
    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں میں انذار و بشارت کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کی دعوت دی گئی اور اُس کی توحید کا اثبات کیا گیا ہے۔ چنانچہ دونوں کا موضوع ایک ہی ہے۔ پہلی سورہ میں، البتہ تاریخی استدلال اور دوسری میں ملائکہ کی الوہیت کے ابطال کا پہلو نمایاں ہے۔ اِنھیں ’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘ سے شروع کرکے اِن کے اِس تعلق کی طرف قرآن نے خود اشارہ کر دیا ہے۔

    دونوں سورتوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 035 Verse 001
    Click translation to show/hide Commentary
    شکر اللہ ہی کے لیے ہے، زمین اور آسمانوں کا خالق، فرشتوں کو پیغام رساں بنانے والا، جن کے دو دو ، تین تین، چار چار پر ہیں۔ وہ خلق میں جو چاہے، اضافہ کر دیتا ہے۔ یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔
    یہ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس خدا نے زمین و آسمان بنائے ہیں، فرشتوں کو بھی اُسی نے وجود بخشا ہے اور اِس کا مقصد اپنی مخلوقات تک پیغام رسانی ہے۔ لہٰذا زمین و آسمان اور اُن کے درمیان کی سب مخلوقات کی طرح وہ بھی خدا کی ایک مخلوق ہیں۔ وہ اِن کے بنانے میں شریک کس طرح ہو سکتے ہیں؟ اور اُن کا الوہیت میں کوئی حصہ کس طرح مانا جا سکتا ہے؟ جو لوگ اُن کو یہ حیثیت دے رہے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ اُنھوں نے نہ خدا کی قدر پہچانی ہے، نہ اِن پیغام بروں کی اور نہ اپنی ہی۔ یعنی اپنی قوت پرواز کے لحاظ سے متفاوت ہیں، کچھ دو پروں کی قوت سے اڑتے ہیں، کچھ چار پروں کی اور کچھ اِس سے بھی زیادہ۔ یہ فرق خود بتا رہا ہے کہ اُنھیں کسی بنانے والے نے بنایا اور اُن کے مراتب و منازل متعین کیے ہیں، وہ آپ سے آپ نہیں بن گئے ہیں کہ سب اپنا مرتبہ یکساں بنا لیتے۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’... مقصود یہاں صرف یہ واضح کرناہے کہ جن نادانوں نے فرشتوں کو الوہیت کے زمرے میں داخل کر رکھا ہے، اُن کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ بلند کا پتا نہیں ہے۔ خدائی میں شریک ہونا تو درکنار، اُس کے قاصد اور سفیر ہونے میں بھی اُن سب کا درجہ و مرتبہ ایک نہیں ہے، بلکہ کسی کی رسائی کسی منزل تک ہے اور کسی کی پہنچ کسی مقام تک۔‘‘(تدبرقرآن ۶/ ۳۵۴) یعنی جن صلاحیتوں کی مخلوق چاہے، پیدا کر سکتا ہے۔ چنانچہ وہ فرشتوں سے بھی زیادہ قوت و صلاحیت کی کوئی مخلوق اگر پیدا کر دے تو یہ اُس کی قدرت و حکمت کا ایک ادنیٰ کرشمہ ہو گا۔ اِس کے ہرگز یہ معنی نہیں ہوں گے اور نہیں ہو سکتے کہ اُس کی خدائی میں وہ کسی نوعیت سے شریک ہو گئی ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List