Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • صبا (Sheba)

    54 آیات | مکی

    سورتوں کا پانچواں گروپ

    سورۂ سبا سے سورتوں کا پانچواں گروشروع ہو رہا ہے جو سورۂ حجرات پر ختم ہوتا ہے۔ اس میں ۱۳ سورتیں ۔۔۔ از سبا تا الاحقاف ۔۔۔ مکی ہیں، آخر میں تین سورتیں ۔۔۔ محمد، الفتح، الحجرات ۔۔۔ مدنی ہیں۔

    گروپ کا جامع عمود

    مطالب اگرچہ اس گروپ میں بھی مشترک ہیں یعنی قرآنی دعوت کی تینوں اساسات ۔۔۔ توحید، قیامت، رسالت ۔۔۔ پر جس طرح پچھلے گروپوں میں بحث ہوئی ہے اسی طرح اس میں بھی یہ تمام مطالب زیر بحث آئے ہیں! البتہ نہج استدلال اور اسلوب بیان مختلف اور جامع عمود اس کا اثبات توحید ہے جو اس مجموعہ کی تمام سورتوں میں نمایاں نظر آئے گا۔ دوسرے مطالب اسی کے تحت اور اسی کے تضمنات کی وضاحت کے طور پر آئے ہیں۔

    سورۂ سبا کا عمود

    اس گروپ کی پہلی سورہ، سورۂ سبا ہے۔ اس کا عمود اثبات توحید و قیامت ہے۔ بنیاد اس کی شکر اور اس کے مقتضیات پر ہے اور مخاطب مترفین قریش ہیں۔

  • صبا (Sheba)

    54 آیات | مکی

    سبا ۔ فاطر

    ۳۴ ۔ ۳۵

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں میں انذار و بشارت کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کی دعوت دی گئی اور اُس کی توحید کا اثبات کیا گیا ہے۔ چنانچہ دونوں کا موضوع ایک ہی ہے۔ پہلی سورہ میں، البتہ تاریخی استدلال اور دوسری میں ملائکہ کی الوہیت کے ابطال کا پہلو نمایاں ہے۔ اِنھیں ’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘ سے شروع کرکے اِن کے اِس تعلق کی طرف قرآن نے خود اشارہ کر دیا ہے۔
    دونوں سورتوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔


  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 034 Verse 001 Chapter 034 Verse 002
    Click translation to show/hide Commentary
    شکر کا سزاوار وہی اللہ ہے کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، سب اُسی کا ہے۔ اور آخرت میں بھی اُسی کی حمد ہو گی اور وہی حکیم و خبیر ہے۔
    یہ ایک بدیہی حقیقت کا بیان ہے جس سے سورہ کی ابتدا ہوئی ہے کہ وہی اللہ جو زمین و آسمان کی سب چیزوں کا خالق و مالک ہے، وہی اُن تمام مخلوقات کے شکر کا حقیقی سزاوار بھی ہے جو اُس کی پیدا کی ہوئی اِن سب چیزوں سے متمتع ہو رہی ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ اُس کی مخلوقات کا یہی تعلق آخرت میں بھی آشکارا ہو گا۔ اِس فقرے سے جو حقائق معلوم ہوتے ہیں، استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اُن کی وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’ایک یہ کہ اِس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے ربوبیت کا جو اہتمام فرمایا ہے، اُس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اُس کے بعد آخرت کا ظہور ہو۔ اگر آخرت نہ ہو تو یہ تمام ربوبیت بالکل بے معنی و بے غایت ہو کے رہ جاتی ہے۔ اِس نکتے کی وضاحت متعدد مقامات میں ہو چکی ہے، اِس وجہ سے یہاں اشارے پر اکتفا کیجیے۔ دوسری یہ کہ یہ اہل ایمان کے اِس ترانۂ حمد کی طرف اشارہ ہے جو آخرت میں تمام حقائق کے ظہور اور اللہ تعالیٰ کے جملہ وعدوں کے ایفا کے بعد اُن کی زبانوں سے بلند ہو گا۔ اِس کی طرف سورۂ یونس میں اشارہ ہے: ’وَاٰخِرُ دَعْوٰہُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘* (اور اُن لوگوں کی آخری صدا یہ ہو گی کہ شکر کا حقیقی سزاوار اللہ، عالم کا خداوند ہے)۔ تیسری یہ کہ یہ شرکا و شفعاکی کلی نفی ہے کہ یہ تمام مزعومہ دیوی دیوتا جن کی شفاعت کی امید پر مشرکین نچنت بیٹھے ہیں، آخرت میں سب ہوا ہو جائیں گے۔ اِن میں سے کوئی کسی کے کام آنے والا نہیں بنے گا۔ اُس دن مشرکین اپنے معبودوں پر لعنت کریں گے اور معبود اپنے پجاریوں سے اعلان براء ت کریں گے۔ سب کی پیشی اللہ واحد کے حضور میں ہو گی، اُسی کا فیصلہ ناطق ہو گا اور سب پر یہ حقیقت آشکارا ہو جائے گی کہ سزاوار حمد صرف اللہ رب العٰلمین ہے۔ ‘‘(تدبرقرآن۶/ ۲۹۰) یہ اوپر کے تمام دعاوی کی دلیل ہے کہ وہ حکیم ہے، اِس وجہ سے لازم ہے کہ ایک ایسا دن لائے جس میں اُس کے بے لاگ عدل کا ظہور ہو اور اُس کے شکر گزار بندے اپنی شکر گزاری کا صلہ پائیں ۔اور اِس کے ساتھ خبیر بھی ہے، لہٰذا کوئی بات اُس سے چھپی نہ رہے گی اور نہ وہ فیصلے کے لیے کسی دوسرے کے علم و خبر کا محتاج ہو گا۔ آگے اِسی محیط کل علم کی وضاحت ہے۔ یہ اور اِس سے پہلے کی تمام باتیں حصر کے اسلوب میں فرمائی ہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ جب وہی خالق و مالک اور حکیم و خبیر ہے تو اُس کے سوا کوئی دوسرا اُس کی مخلوقات کے حمد و شکر کا سزاوار کس طرح ہو سکتا ہے؟ _____ * یونس۱۰: ۱۰۔
    جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو کچھ اُس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا اور جو کچھ اُس میں چڑھتا ہے، وہ اُس کو جانتا ہے اور وہی غفور و رحیم ہے۔
    اِس کی ایک مثال وہ دانہ ہے جو زمین میں ڈالا جاتا اور اُس سے لہلہاتے ہوئے پودے کی صورت میں برآمد ہو جاتا ہے۔ اِس کی نہایت واضح مثال لوگوں کے لیے خیر و شر کے فیصلے ہیں جو فرشتے لے کر آتے اور حاضری کے دن جن کے نفاذ کی تمام روداد اوپر لے جا کر خدا کے حضورمیں پیش کر دیتے ہیں۔ لہٰذا اُس کو ہرگز ضرورت نہیں ہے کہ اُس کے کوئی شرکا ہوں جو اِس عظیم کائنات کا نظم چلانے کے لیے اُس کی مدد کریں۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’... علم الٰہی کے اِس احاطے کی وضاحت اِس مقصد سے کی گئی ہے کہ شرک کے عوامل میں سے ایک بہت بڑا عامل مشرکین کا یہ مغالطہ ہے کہ بھلا اتنی ناپیداکنار کائنات کے ہر کونے اور گوشے، ہر ایک کے قول و عمل اور ہر ایک کے دکھ اور درد سے خدا ہر لمحہ کس طرح واقف رہ سکتا ہے! اِس وجہ سے اپنے تصور کے مطابق اِس کائنات کے مختلف حصوں کو اُنھوں نے الگ الگ دیوتاؤں میں تقسیم کیا۔ اُس کا تقرب حاصل کرنے اور اُس کو اپنی ضروریات سے آگاہ کرنے کے لیے وسائل و وسائط ایجاد کیے۔ جنوں کو آسمان کی خبریں لانے والا مان کر اُن کی پرستش کی، فرشتوں کو شفاعت کرنے والا سمجھ کر اُن کو دیویوں کا درجہ دیا۔ اِس آیت نے اِن تمام توہمات پر ضرب لگائی کہ خدا کا علم ہر چیز کو محیط ہے، اِس وجہ سے کوئی اُس کا شریک و سہیم نہیں ہے۔ وہ اپنی پوری کائنات کے سارے نظام پر خود حاوی اور تنہا کافی ہے۔‘‘(تدبر قرآن۶/ ۲۹۱) لہٰذا کوئی غلطی اور کوتاہی ہو جائے تو اُس کے لیے بھی کسی دوسرے کی سعی و سفارش کی ضرورت نہیں ہے۔ ہر گناہ گار کو براہ راست اُسی کے دروازے پر آنا چاہیے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List