Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الاحزاب (The Clans, The Confederates, The Combined Forces)

    73 آیات | مدنی

    سورہ کا عمود، گروپ کے ساتھ اس کا تعلق اور زمانۂ نزول

    جس طرح سورۂ نور اپنے گروپ کے آخر میں پورے گروپ کے تکملہ و تتمّہ کی حیثیت رکھتی ہے اسی طرح سورۂ احزاب اپنے پورے گروپ کا جو فرقان سے شروع ہوا ہے، تکممہ و تتمّہ ہے۔ یہ گروپ، جیسا کہ ہم واضح کر چکے ہیں، قرآن و رسالت کے اثبات میں ہے۔ اس تعلق سے اس سورہ میں چند باتیں خاص طور پر نمایاں ہوئی ہیں۔
    ۔۔۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بحیثیت رسول جو ذمہ داری اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈالی گئی تھی اس کی وضاحت اور بے خوف لومۃ لائم اس کو ادا کرنے کی تاکید۔
    ۔۔۔ انبیاء و رسل کے طبقہ کے اندر آپ کو جو امتیاز خاص اور جو مرتبہ و مقام حاصل ہے اس کا بیان۔
    ۔۔۔ امت کے ساتھ آپ کے تعلق کی نوعیت اور امت پر آپ کے حقوق اور ان کے مقتضیات کی وضاحت۔
    ۔۔۔ حضورؐ کی ازواج مطہراتؓ کا درجہ امت کے اندر اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے تعلق کی مخصوص نوعیت۔
    ۔۔۔ اس عظیم امانت کا حوالہ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان پر ڈالی گئی ہے اور جس کی وضاحت کے لیے اللہ نے اپنی کتاب نازل فرمائی ہے۔ اس عظیم ذمہ داری کے حقوق و فرائض کی یاددہانی۔
    یہ سورہ اس دور میں نازل ہوئی ہے جب منافقین و منافقات نے قرآن کی بعض اصلاحات کو بہانہ بنا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف پراپیگنڈے کی ایک نہایت مکروہ مہم چلا رکھی تھی۔ یہاں تک کہ ازواج مطہراتؓ کے ذہن کو بھی انھوں نے مسموم کرنے کی کوشش کی۔ اس میں ان فتنوں کی طرف بھی اشارات ہیں جو منافقین نے غزوۂ احزاب کے دوران، جو ۵ھ میں واقع ہوا، مسلمانوں کو بددل کرنے کے لیے اٹھائے۔ اسی سلسلہ میں حضرت زیدؓ اور حضرت زینبؓ کے واقعہ کی اصل نوعیت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے اس لیے کہ اس واقعہ کو بھی واقعۂ افک کی طرح، جس کا ذکر سورۂ نور میں گزر چکا ہے، منافقین نے فتنہ انگیزی کا ذریعہ بنا لیا تھا۔

  • الاحزاب (The Clans, The Confederates, The Combined Forces)

    73 آیات | مدنی

    الاحزاب

    ۳۳

    یہ ایک منفرد سورہ ہے جس پر قرآن کے اِس چوتھے باب کا خاتمہ ہورہا ہے۔ ہم بیان کر چکے ہیں کہ اِس باب کا موضوع اثبات رسالت اور اِس کے حوالے سے قریش کو انذار و بشارت ہے۔ چنانچہ اِسی تعلق سے یہ سورہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق و فرائض بیان کرتی اور آپ اور آپ کی ازواج مطہرات کے بارے میں جو رویہ اُس زمانے کے منافقین و منافقات نے اختیار کر رکھا تھا، اُس پر اُنھیں شدید تنبیہ کرتی ہے۔ نیز مسلمانوں کو ہدایت کرتی ہے کہ اِن کے مقابلے میں وہ اپنے رب ہی پربھروسا رکھیں، اُس کی مدد شامل حال رہی تو یہ اُن کا کچھ بھی بگاڑ نہ سکیں گے، جیسا کہ غزوۂ احزاب کے موقع پر ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ارادہ و اختیار کے ساتھ عہد اطاعت کی جو عظیم امانت انسان کو دے رکھی ہے، اُس کے حقوق کی یاددہانی بھی اِسی مناسبت سے کی گئی ہے۔ اِس لحاظ سے یہ سورہ بالکل اُسی طرح اِس باب کی تمام سورتوں کا تکملہ و تتمہ ہے، جس طر ح سورۂ نور پچھلے باب کا تکملہ و تتمہ ہے۔
    اِس کے مخاطب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں اور اہل ایمان بھی، اور اِس کے مضمون سے واضح ہے کہ ہجرت کے بعد یہ مدینۂ طیبہ میں اُس وقت نازل ہوئی ہے، جب مسلمانوں کی ایک باقاعدہ حکومت وہاں قائم ہو چکی تھی اور منکرین کے خلاف آخری اقدام سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ماننے والوں کا تزکیہ و تطہیر کر رہے تھے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 033 Verse 001 Chapter 033 Verse 002 Chapter 033 Verse 003
    Click translation to show/hide Commentary
    اے نبی، اللہ سے ڈرو اور اِن منکروں اور منافقوں کی باتوں پر کان نہ دھرو۔ اِس میں کچھ شک نہیں کہ اللہ علیم و حکیم ہے۔
    یہ اُن باتوں کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر آگے آئے گا اور جنھیں کفار اور منافقین نے آپ کے خلاف فتنہ انگیزی کا ذریعہ بنا لیا تھا۔ چنانچہ اِس میں جو بات کہی گئی ہے، اُس کی تنبیہ کا رخ درحقیقت اُنھی کی جانب ہے۔ یعنی اُس نے اگر کوئی حکم دیا ہے تو وہی علم و حکمت کا تقاضا ہے۔ اُس کے خلاف کسی کی کوئی چیز بھی لائق التفات نہیں ہے۔
    تم اُس چیز کی پیروی کرو جو تمھارے پروردگار کی طرف سے تم پر وحی کی جا رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ اُن سب چیزوں سے با خبر ہے جو تم لوگ کرتے ہو۔
    اِن آیتوں میں خطاب تمام تر واحد کے صیغے میں ہے، لیکن یہاں جمع کا صیغہ استعمال فرمایا ہے۔ اِس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ دین کے معاملے میں وہی رویہ ہر مسلمان کو اختیار کرنا چاہیے، جس کی یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلقین کی جا رہی ہے۔
    اور اللہ پر بھروسا رکھو اور بھروسے کے لیے اللہ کافی ہے۔
    n/a


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List