Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • السجدہ (The Prostration, Worship, Adoration)

    30 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ لقمان ۔۔۔ کا مثنیٰ ہے۔ دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ قرآنی نام بھی دونوں کا ایک ہی یعنی ’الٓمّٓ‘ ہے۔ تمہید بھی دونوں کی ایک ہی نوع کی ہے۔ اس کا آغاز اس مضمون سے ہوتا ہے کہ یہ کتاب خداوند عالم کی اتاری ہوئی کتاب ہے۔ اس کو اتار کر اللہ تعالیٰ نے ان امّی عربوں پر عظیم احسان فرمایا ہے جن کے اندر اب تک کوئی منذر نہیں آیا تھا۔ وہ انتہائی ناشکرے ہوں گے اگر انھوں نے اس کی قدر کرنے کے بجائے اس کے کتاب الٰہی ہونے کے دعوے کو افتراء قرار دیا۔ اس کے کتاب الٰہی ہونے میں ذرا شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ اس کے بعد کلام کا رخ قرآن کے ان دعاوی کے اثبات کی طرف مڑ گیا ہے جو خاص طور پر مخالفین کی وحشت کا باعث تھے اور جن کے سبب سے وہ اس کی مخالفت کر رہے تھے۔ آخر میں تورات کا حوالہ ہے کہ اسی طرح کتاب، اللہ نے حضرت موسیٰؑ پر بھی اتاری تھی جس کی فرعون اور اس کی قوم نے مخالفت کی اور اس کا نہایت برا انجام ان کے سامنے آیا۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ جس طرح تورات کے حاملین کو صبر کے امتحانوں سے گزرنے کے بعد کامیابی حاصل ہوئی اسی طرح تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو بھی صبر کے امتحان سے گزرنا پڑے گا۔ اگر تم ان مراحل سے کامیابی سے گزر گئے تو فتح تمہی کو حاصل ہو گی۔ تمہارے یہ مخالفین بالآخر پامال ہو کر رہیں گے۔

  • السجدہ (The Prostration, Worship, Adoration)

    30 آیات | مکی

    لقمان ۔ السجدہ

    ۳۱ ۔ ۳۲

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ حکیم لقمان کے حوالے سے دین فطرت کے جن حقائق کا اثبات کرتی ہے، دوسری میں اُنھی کے متعلق لوگوں کے اُن شبہات کو رفع کیا گیا ہے جو اُس وقت پیش کیے جا رہے تھے۔
    دونوں کا موضوع وہی انذار و بشارت ہے جو پچھلی سورتوں سے چلا آ رہا ہے اور دونوں کے مخاطب قریش مکہ ہیں۔
    اِن سورتوں کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب ہجرت و براء ت اور فتح و نصرت کا مرحلہ قریب آ گیا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 032 Verse 001 Chapter 032 Verse 002 Chapter 032 Verse 003
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ سورۂ ’الٓمّٓ‘ ہے۔
    یہ سورہ کا نام ہے۔ اِس کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر ہم نے سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۱ کے تحت بیان کر دیا ہے۔
    اِس میں کچھ شک نہیں کہ اِس کتاب کی تنزیل جہانوں کے پروردگار کی طرف سے ہے۔
    n/a
    کیا یہ کہتے ہیں کہ اِس شخص نے اِسے خود گھڑ لیا ہے؟ (ہرگز نہیں)، بلکہ یہ تیرے پروردگار کی طرف سے حق آیا ہے، اِس لیے کہ تم اُن لوگوں کو خبردار کرو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا، اِس لیے کہ وہ راہ پر آ جائیں۔
    یہ استفہام حیرت و استعجاب کی نوعیت کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا ایسے اندھے بہرے ہو گئے ہیں کہ قرآن جیسی کتاب کو تمھارا افترا قرار دے رہے ہیں۔ یعنی اِس لحاظ سے بھی حق کہ فی الواقع خدا کی طرف سے ہے اور اِس لحاظ سے بھی کہ جو کچھ اُس میں بیان کیا گیا ہے، اُس میں کسی باطل کی آمیزش کا کوئی امکان نہیں ہے۔ یعنی قریش مکہ کو، جن کے اندر اسمٰعیل علیہ السلام کے بعد کوئی پیغمبر نہیں آیا تھا، دراں حالیکہ وہ زمین پر خدا کے اولین معبد کے متولی بنائے گئے تھے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List