Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • لقمان (Luqman)

    34 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    دونوں سابق سورتوں ۔۔۔ العنکبوت اور الرّوم ۔۔۔ کی طرح اس سورہ کا قرآنی نام بھی ’الٓمّٓ‘ ہی ہے۔ یہ اس بات کا قرینہ ہے کہ ان کے عمود و مضمون میں فی الجملہ اشتراک ہے۔ اس سورہ کی تمہید سورۂ بقرہ کی تمہید سے ملتی جلتی ہوئی ہے اور بقرہ کا قرآنی نام بھی یہی ہے۔ بقرہ کی تمہید میں یہ بتایا گیا ہے کہ کس قسم کے لوگ اس کتاب پر ایمان لائیں گے اور کس قسم کے لوگ اس سے اعراض کریں گے۔ اسی طرح اس سورہ کی تمہید میں بھی یہ بتایا گیا ہے کہ کس قسم کے لوگ اس برکت و رحمت سے فائدہ اٹھائیں گے اور کون لوگ اس سے محروم رہیں گے۔
    سابق سورہ میں یہ حقیقت واضح فرمائی گئی ہے کہ یہ قرآن اس دین فطرت کی دعوت ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اور اس دعوے پر آفاق و انفس کے دلائل پیش کیے گئے ہیں۔ اس سورہ میں آفاق و انفس کے دلائل کے ساتھ ساتھ عرب کے مشہور حکیم ۔۔۔ لقمان ۔۔۔ کے نصائح کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کا مقصود اہل عرب پر یہ واضح کرنا ہے کہ ان کے اندر جو صحیح فکر و دانش رکھنے والے لوگ گزرے ہیں انھوں نے بھی انہی باتوں کی تعلیم دی ہے جن باتوں کی تعلیم یہ پیغمبرؐ دے رہے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ عقل سلیم (COMMON SENSE) انہی باتوں کے حق میں ہے جو قرآن میں بیان ہوئی ہیں، نہ کہ ان باتوں کے حق میں جن کی وکالت قرآن کے مخالفین کر رہے ہیں۔ یہ اس بات کا نہایت واضح ثبوت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی اصل فطرت یہی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ سوچنے سمجھنے والے لوگ ان حقائق تک کس طرح پہنچتے؟
    یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ مغربی فلاسفہ جب اخلاقیات پر بحث کرتے ہیں تو اس کی بنیاد وہ عقل عام کے معروف اخلاقی مسلمات (COMMON SENSE ETHICS) ہی پر رکھتے ہیں۔ لیکن وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ یہ اخلاقی مسلمات کہاں سے پیدا ہو گئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک حکیم فاطر اور فطرۃ اللہ کو تسلیم کرنے سے گریز کرنا چاہتے ہیں۔ اس حقیقت سے گریز کی سزا ان کو اللہ تعالیٰ نے یہ دی کہ ان کا سارا فلسفۂ اخلاق بالکل بے بنیاد اور بے معنی ہو کے رہ گیا ہے۔ ان کی تمام فلسفیانہ کاوشیں نہ تو نیکی اور بدی کے امتیاز کے لیے کوئی کسوٹی معین کر سکیں اور نہ وہ یہ بتا سکے کہ کیوں انسان کو نیکی کرنی چاہیے اور کیوں بدی سے بچنا چاہیے۔ سود مندی، لذت، خوشی اور فرض برائے فرض وغیرہ کی قسم کے جتنے نظریات بھی انھوں نے ایجاد کیے سب پادر ہوا ثابت ہوئے اور خود انہی نے ان کے بخیے ادھیڑ کے رکھ دیے۔ قرآن نے نہ صرف اخلاقیات کی بلکہ پورے دین کی بنیاد فطرت پر رکھی ہے اور یہ فطرت چونکہ ایک حکیم فاطر کی بنائی ہوئی ہے اس وجہ سے کسی کے لیے اس سے انحراف جائز نہیں ہے۔ جو شخص اپنی فطرت سے انحراف اختیار کرے گا وہ اپنے آپ کو تباہ اور اپنے فاطر کو ناراض کرے گا۔ انسان کی رہنمائی کے لیے اس کی فطرت اپنے اندر حقائق و معارف کا خزانہ رکھتی ہے لیکن انسان اپنے ماحول سے متاثر ہو کر بگڑ بھی سکتا ہے اور اپنے اختیار سے غلط فائدہ اٹھا کر اپنی فطرت کی خلاف ورزی بھی کر سکتا ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور اپنی کتابوں کے ذریعے سے فطرت کے تمام مضمرات واضح کر دیے تاکہ کسی کے لیے کسی التباس و اشتباہ کی گنجائش باقی نہ رہ جائے۔ بلکہ ہر شخص فطرت کی سیدھی راہ پر چل کر دنیا کی فوز و فلاح اور آخرت میں اپنے رب کی خوشنودی حاصل کر سکے۔
    اس سورہ میں لقمان کی حکمت کے حوالے سے مقصود، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، قرآن کی تائید میں ایک ایسے حکیم کی شہادت پیش کرنا ہے جس نے زندگی کے حقائق پر غور کیا تھا اور جو قرآن کے مخالفین کے نزدیک بھی نہایت ہی بلند پایہ اور واجب الاحترام حکیم سمجھا جاتا رہا ہے۔ ساتھ ہی اس میں قرآن کی دعوت کی تائید میں آفاق و انفس کے دلائل ایک نئے اسلوب سے پیش کیے گئے ہیں۔

  • لقمان (Luqman)

    34 آیات | مکی

    لقمان ۔ السجدہ

    ۳۱ ۔ ۳۲

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ حکیم لقمان کے حوالے سے دین فطرت کے جن حقائق کا اثبات کرتی ہے، دوسری میں اُنھی کے متعلق لوگوں کے اُن شبہات کو رفع کیا گیا ہے جو اُس وقت پیش کیے جا رہے تھے۔
    دونوں کا موضوع وہی انذار و بشارت ہے جو پچھلی سورتوں سے چلا آ رہا ہے اور دونوں کے مخاطب قریش مکہ ہیں۔
    اِن سورتوں کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب ہجرت و براء ت اور فتح و نصرت کا مرحلہ قریب آ گیا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 031 Verse 001 Chapter 031 Verse 002 Chapter 031 Verse 003 Chapter 031 Verse 004 Chapter 031 Verse 005
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ سورۂ ’الٓمّٓ‘ ہے۔
    یہ سورہ کا نام ہے۔ اِس کے متعلق اپنا نقطۂ نظر ہم نے سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۱ کے تحت بیان کر دیا ہے۔
    یہ پر حکمت کتاب کی آیتیں ہیں۔
    n/a
    اُن کے لیے جو خوبی سے عمل کرنے والے ہیں ہدایت اور رحمت بن کر نازل ہوئی ہیں۔
    یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کی طرف اشارہ ہے جنھوں نے اللہ کی بنائی ہوئی فطرت کی پیروی کی ، سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں سے صحیح کام لیا، پوری بصیرت کے ساتھ حقائق کو تسلیم کیا اور اُن کے جو تقاضے بھی سامنے آئے، پورے اخلاص کے ساتھ اُن کے مطابق عمل کرنے لگے۔ یعنی دنیا میں ہدایت اور آخرت میں فضل و رحمت جو اِس ہدایت کو اختیار کرنے کا لازمی نتیجہ ہے۔
    یہ جو نماز کا اہتمام کر رہے ہیں اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ یہی ہیں جو آخرت پر سچا یقین رکھتے ہیں۔
    اِس سے معلوم ہوا کہ آخرت پر سچا یقین ہو تو آدمی نماز اور زکوٰۃ سے غافل نہیں ہو سکتا اور اپنی اِس غفلت کے باوجود اگر وہ اِس کا مدعی ہے کہ آخرت پر ایمان رکھتا ہے تو اپنے اِس دعوے میں بالکل جھوٹا ہے۔
    یہی اپنے پروردگار کی ہدایت پر ہیں اور یہی فلاح پانے والے ہوں گے۔
    n/a


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List