Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الروم (The Romans)

    60 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ، سابق سورہ ۔۔۔ عنکبوت ۔۔۔ کا مثنیٰ ہے اور دونوں کا قرآنی نام بھی ایک ہی یعنی الٓمّٓ ہے۔ اس وجہ سے دونوں کے عمود میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ پچھلی سورہ میں ظاہری حالات کے علی الرغم مسلمانوں کو نصرت الٰہی اور غلبہ کی بشارت دی گئی ہے اور اس بشارت کی بنیاد اس حقیقت پر رکھی گئی ہے کہ اس کارخانۂ کائنات کو اللہ تعالیٰ نے بالحق پیدا کیا ہے۔ وہ وحدہٗ لاشریک ہے۔ تمام امر و نہی اسی کے اختیار میں ہے۔ وہ اس دنیا میں بھی اپنے رسول اور اپنے ساتھیوں کو غلبہ بخشے گا اور اس دنیا کے بعد آخرت بھی ہے جس میں اس کے کامل حق و عدل کا ظہور ہو گا۔ اس وقت باطل یکسر نابود ہو جائے گا اور حق و اہل حق کو ابدی بادشاہی حاصل ہو گی۔
    یہ مسائل مشرکین مکہ اور مسلمانوں کے درمیان زیربحث ہی تھے کہ اسی اثناء یعنی ۶۱۴ء میں پڑوس کے ملک یعنی شام اور فسلطین میں یہ انقلاب پیش آیا کہ مجوسیوں نے حملہ کر کے رومیوں کو وہاں سے بے دخل کر دیا۔ رومی چونکہ نصرانیت کے پیرو تھے اس وجہ سے دین و عقیدہ کے اعتبار سے وہ مسلمانوں سے قریب تھے اور اس قربت کے سبب سے قدرتی طور پر مسلمانوں کو ان سے ہمدردی تھی۔ اس کے برعکس مجوسی دین شرک کے پیرو تھے اس وجہ سے مشرکین کی تمام ہمدردیاں ان کے ساتھ تھیں۔ مجوسیوں کے ہاتھوں رومیوں کی اس شکست سے مشرکین مکہ کو بڑی شہ ملی۔ اس کی آڑ میں انھوں نے قرآن کی ان تمام باتوں کا مذاق اڑانا شروع کر دیا جو ان کی خواہشوں کے خلاف تھیں۔ مثلاً یہ کہ مسلمان جو یہ کہتے ہیں کہ دین توحید ہی حق ہے یا مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہو گا یا قیامت آنے والی ہے جس میں حق کا بول بالا ہو گا، یہ سب باتیں ان کی محض لایعنی ہیں۔ اگر ان کی یہ باتیں سچی ہوتیں تو بھلا مجوسیوں کو رومیوں پر کس طرح غلبہ حاصل ہوتا! یہ واقعہ تو اس بات کی صاف شہادت ہے کہ ہمارا ہی دین و عقیدہ اور ہمارا ہی نظریۂ زندگی صحیح ہے اور ہم ہی غالب و حاکم رہیں گے۔
    قرآن نے اس سورہ میں اسی واقعہ کو بنیاد بنا کر ان تمام حقائق کو ازسرنو مبرہن کیا ہے جن کو مشرکین نے مشتبہ بنانے کی کوشش کی۔

  • الروم (The Romans)

    60 آیات | مکی

    العنکبوت ۔ الروم

    ۲۹ ۔ ۳۰

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع منکرین رسالت کو تہدید و وعید، اُن کے شبہات کی تردید اور اہل ایمان کے لیے، اگر وہ ثابت قدمی کے ساتھ اپنے ایمان پر قائم رہیں تو انجام خیر کی بشارت ہے۔ پہلی سورہ ۔۔۔ العنکبوت ۔۔۔ میں اِسی رعایت سے اُنھیں مصائب و شدائد کے ہجوم میں عزیمت و استقامت کی تلقین کی گئی ہے۔ اِس کے لیے بناے استدلال پہلی سورہ میں زیادہ تر تاریخ کے حقائق اور دوسری میں انفس و آفاق کی نشانیاں ہیں۔
    اِن میں خطاب اگرچہ بعض مقامات پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہوا ہے اور اہل ایمان سے بھی، لیکن روے سخن ہر جگہ قریش مکہ ہی کی طرف ہے۔
    دونوں سورتوں کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب ہجرت و براء ت کا مرحلہ قریب آ چکا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 030 Verse 001 Chapter 030 Verse 002 Chapter 030 Verse 003 Chapter 030 Verse 004 Chapter 030 Verse 005 Chapter 030 Verse 006 Chapter 030 Verse 007
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ سورۂ ’الٓمّٓ‘ ہے۔
    یہ سورہ کا نام ہے۔ اِس کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر ہم بقرہ (۲) کی آیت ۱ کے تحت بیان کر چکے ہیں۔
    رومی (قریب کی سرزمین میں) مغلوب ہو گئے ہیں۔
    n/a
    (رومی) قریب کی سرزمین میں (مغلوب ہو گئے ہیں)۔ اپنی اِس مغلوبیت کے بعد وہ اگلے چند برسوں میں غالب ہو جائیں گے۔
    اصل میں ’اَدْنَی الْاَرْضِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن سے مراد یہاں شام و فلسطین کی سرزمین ہے جو عرب کی سرزمین کے بالکل متصل تھی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی تو اُس وقت دنیا میں دو بڑی سلطنتیں تھیں: ایک مسیحی رومی سلطنت، دوسرے مجوسی ایرانی سلطنت۔ دونوں میں ہمیشہ رقیبانہ کشمکش جاری رہتی تھی۔ ۶۰۳ ء کا واقعہ ہے کہ ایک بغاوت کو فرو کرنے کا بہانہ بنا کر ایران نے رومی سلطنت پر حملہ کر دیا۔ اِس کے بعد رومیوں کو شکست پر شکست ہوتی رہی، یہاں تک کہ ۶۱۶ء تک یروشلم سمیت روم کی مشرقی سلطنت کا بڑا حصہ ایرانیوں کے قبضے میں چلا گیا۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا چھٹا یا ساتواں سال تھا۔ قرآن نے یہ پیشین گوئی ۶۱۷ء اور ۶۲۰ء کے درمیان کسی وقت کی ہے۔ ’’زوال روما*‘‘ کے مصنف ایڈورڈ گبن کا بیان ہے کہ یہ جس زمانے میں کی گئی، اُس وقت کوئی بھی پیشگی خبر اتنی بعید از وقوع نہیں ہو سکتی تھی، اِس لیے کہ رومی حکمران ہرقل کے پہلے بارہ سال رومی سلطنت کے خاتمے کا اعلان کر رہے تھے۔ قرآن نے صراحت کے ساتھ فرمایا کہ بہت دن نہیں لگیں گے، یہ زیادہ سے زیادہ اگلی دہائی (بِضْعِ سِنِیْنَ) کے اندر پوری ہو جائے گی۔ چنانچہ ٹھیک اِس اعلان کے مطابق یہ پوری ہو گئی اور مارچ ۶۲۸ء میں رومی حکمران اِس شان سے قسطنطنیہ واپس آیا کہ اُس کے رتھ کو چار ہاتھی کھینچ رہے تھے اور بے شمار لوگ دارالسلطنت کے باہر چراغ اور زیتون کی شاخیں لیے اپنے ہیرو کے استقبال کے لیے موجو د تھے۔ اِس تعیین و تصریح کے ساتھ اور اِس حتمی اسلوب میں یہ پیشین گوئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے اثبات کی دلیل کے طور پر کی گئی۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیحیوں کے ساتھ مذہبی قربت، قرآن کی دعوت اور مسلمانوں کے ساتھ بالخصوص حبشہ میں اُن کے طرزعمل کی وجہ سے مسلمان قدرتی طور پر اُن سے ہم دردی رکھتے تھے۔ قرآن نے اُنھیں اطمینان دلایا کہ وہ رنجیدہ خاطر نہ ہوں، اُن کے اہل کتاب بھائی عنقریب غلبہ حاصل کر لیں گے اور یہ پیشین گوئی اُس نبوت کی بھی بہت بڑی دلیل بن جائے گی جس پر وہ ایمان لائے ہیں، اِس لیے کہ خدا کے سوا کوئی بھی ایسی صراحت اور حتمیت کے ساتھ مستقبل کے بارے میں اِس طرح کی خبر نہیں دے سکتا۔ _____ * زوال روما،ایڈورڈ گبن۲/ ۷۸۸۔
    اِس سے پہلے جو کچھ ہوا ہے، وہ بھی اللہ کے حکم سے ہوا ہے اور جو کچھ بعد میں ہو گا، وہ بھی اللہ ہی کے حکم سے ہو گا اور ایمان والے اُس دن (اللہ کی مدد سے) مسرور ہوں گے۔
    یعنی اُس قانون کے مطابق ہو گا جو خدا نے قوموں کے امتحان اور اُن کے عزل و نصب کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔ چنانچہ وہ دیکھتا ہے کہ زمین میں اقتدار پا کر وہ کیا رویہ اختیار کرتی ہیں، پھر اُسی کے لحاظ سے اپنا فیصلہ صادر فرماتا ہے۔ یعنی یہ وہ زمانہ ہو گا، جب مسلمانوں کے لیے بھی اللہ کی مدد آ چکی ہو گی، جو اِس وقت ستائے جا رہے ہیں اور قریش کے ظلم و ستم سے نجات پا کر وہ بھی خوش و خرم ہوں گے۔ چنانچہ معلوم ہے کہ ۶۲۴ء میں جب قیصر روم کی فتوحات کی ابتدا ہوئی تو مسلمان نہ صرف یہ کہ یثرب میں متمکن ہو چکے تھے، بلکہ بدر کی جنگ میں قریش پر فتح پا کر اُن کی پوری قیادت کا خاتمہ بھی کر چکے تھے۔ اِس میں، ظاہر ہے کہ یہ خوشی بھی شامل ہوگی کہ جس کتاب پر وہ ایمان رکھتے ہیں، اُس کی ایک عظیم پیشین گوئی حرف بہ حرف پوری ہو گئی اور وہ لوگ غالب ہو گئے جو مذہب میں اُن سے قریب تر ہیں۔ اِس سے، اگر غور کیجیے توغلبۂ حق کی اُس بشارت کا زمانہ بھی اللہ تعالیٰ نے بالکل متعین کر دیا ہے جو قرآن میں جگہ جگہ دی گئی ہے۔
    (ایمان والے اُس دن) اللہ کی مدد سے (مسرور ہوں گے)۔ اللہ جس کی چاہتا ہے، مدد فرماتا ہے اور وہ زبردست بھی ہے اور بڑا مہربان بھی۔
    یعنی بڑا مہربان ہے، اِس لیے اپنا کوئی مشن جب اپنے بندوں کے سپرد کرتا ہے تو لازماً اُن کی مدد بھی کرتا ہے اور اُس کے ساتھ زبردست بھی ہے، اِس لیے جب مدد کا فیصلہ کر لیتا ہے تو اُس کا یہ فیصلہ نافذ ہو کر رہتا ہے ،اُس میں کوئی مزاحم نہیں ہو سکتا۔
    اللہ کا حتمی وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔
    آیت میں ’وَعْد‘ کا نصب مصدرکا ہے، یعنی ’وَعَدَ اللّٰہُ ذٰلِکَ وَعْدًا‘۔ اِس سے مراد اُسی نصرت کا وعدہ ہے جس کا ذکر پیچھے ’بِنَصْرِ اللّٰہِ‘ کے الفاظ میں ہوا، اور جس کے نتیجے میں مسلمانوں کو بھی اپنے مخالفین پر اُسی طرح غلبہ حاصل ہوجائے گا، جس طرح رومیوں کے غلبے کی پیشین گوئی کی گئی ہے۔ آگے اِسی سورہ کی آیات ۴۷،۶۰ میں اِس کی وضاحت ہو گئی ہے۔
    (اِس لیے کہ) وہ دنیا کی زندگی کے صرف ظاہر کو جانتے ہیں اور آخرت سے تو وہ بالکل ہی بے خبر ہیں۔
    چنانچہ نہ حالات کے باطن میں اتر کر کائنات میں خدا کے ہاتھ کی کارفرمائی کو دیکھ سکتے ہیں اور نہ ابتلا اور جزا و سزا اور عزل و نصب کے لیے اُس کے قوانین کو سمجھ سکتے ہیں، اِس لیے کہ آخرت سے بالکل ہی بے خبر ہیں۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List