Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • القصص (The Narrations, The Stories)

    88 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ نمل ۔۔۔ کا مثنیٰ ہے۔ اس وجہ سے دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ البتہ اجمال و تفصیل اور اسلوب بیان و نہج استدلال کے اعتبار سے دونوں میں فرق ہے۔ سابق سورہ میں حضرت موسیٰؑ کی سرگزشت کا صرف اتنا حصہ اجمالاً بیان ہوا ہے جو ان کو رسالت عطا کیے جانے اور فرعون کے پاس جانے کے حکم سے متعلق ہے۔ اس سورہ میں وہ پوری سرگزشت، نہایت تفصیل سے بیان ہوئی ہے، جو ان کی ولادت باسعادت سے لے کر ان کو تورات عطا کیے جانے تک کے احوال و مشاہدات پر مشتمل ہے۔ سابق سورہ میں بنی اسرائیل کی طرف صرف ایک مخفی اشارہ تھا، اس سورہ میں ان کے صالحین و مفسدین دونوں کا رویہ نسبتہً وضاحت سے زیربحث آیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں یہود کھل کر سامنے آ گئے تھے۔
    حضرت موسیٰؑ کی سرگزشت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بعینہٖ اسی مقصد سے سنائی گئی ہے جس مقصد سے سورۂ یوسف میں حضرت یوسفؑ کی سرگزشت سنائی گئی ہے کہ اس آئینہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اچھی طرح دیکھ لیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کی حفاظت و صیانت اور اپنی اسکیموں کو بروئے کار لانے کے لیے اپنی کیا شانیں دکھاتا ہے اور آپؐ کے مخالفین بھی دیکھ لیں کہ اس دعوت کی مخالفت میں بالآخر ان کو کس انجام سے دوچار ہونا ہے۔
    قریش پر اس سورہ میں یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ جس طرح اللہ نے حضرت موسیٰؑ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا تھا اسی طرح اس نے اس پیغمبر اور اس کتاب کو تمہاری طرف بھیجا ہے تاکہ تم پر اللہ کی ہدایت پوری طرح واضح ہو جائے اور تمہارے پاس گمراہی پر جمے رہنے کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔
    بنی اسرائیل پر یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ اگر یہ (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول نہ ہوتے تو کس طرح ممکن تھا کہ حضرت موسیٰؑ کی زندگی کے ان گوشوں سے بھی یہ واقف ہوتے جن سے تم بھی صحیح صحیح اور اس تفصیل سے واقف نہیں ہو! اور ساتھ ہی اس امر واقعی کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے کہ جو ہدایت، اللہ نے تم پر نازل فرمائی تھی وہ تم نے اختلافات میں پڑ کر گم کر دی اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ اپنے اس رسول کے ذریعہ سے اس ہدایت کو ازسرنو زندہ کرے اور خلق پر اپنی حجت تمام کرے۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں یہ تسلی دی گئی ہے کہ اس قرآن کو تم نے اللہ سے مانگ کر نہیں لیا ہے بلکہ اللہ نے خود تم پر اس کی ذمہ داریاں ڈالی ہیں تو جب اس نے خود تم پر اس کا بار ڈالا ہے تو تم مخالفوں کی مخالفت اور راہ کی مشکلات سے بے پروا ہو کر اپنا فرض انجام دو۔ جس اللہ نے یہ بوجھ تم پر ڈالا ہے وہ خود ہر قدم پر تمہاری رہنمائی و دست گیری فرمائے گا اور تمہیں کامیابی کی منزل پر پہنچائے گا۔

  • القصص (The Narrations, The Stories)

    88 آیات | مکی

    النمل ۔ القصص

    ۲۷ ۔ ۲۸

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو تسلی اور بشارت دینا اور آپ کے منکرین کو متنبہ کرنا ہے کہ آخرت سے بے خوف اور دنیا کے عیش و آرام میں مگن ہو کر وہ جس سرکشی پر اترے ہوئے ہیں، اُسے چھوڑ دیں، اپنے اوپر خدا کی نعمتوں اور عنایتوں کا شکر ادا کریں اور اپنے پیغمبر کو پہچانیں۔

    دونوں سورتوں میں اصل بناے استدلال موسیٰ علیہ السلام کی سرگذشت ہے۔ اِس کے علاوہ جو سرگذشتیں سنائی گئی ہیں، وہ تبعاً اِسی کے بعض پہلوؤں کی مزید وضاحت کرتی ہیں۔

    اِن میں خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہوا ہے اور قریش مکہ سے بھی، لیکن روے سخن زیادہ تر اُنھی کی طرف ہے۔

    دونوں سورتوں کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب ہجرت و براء ت کا مرحلہ قریب آ چکا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 028 Verse 001 Chapter 028 Verse 002 Chapter 028 Verse 003
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ سورۂ ’طٰسٓمّٓ‘ ہے۔
    اِس نام کے معنی کیا ہیں؟ اِس کے متعلق اپنا نقطۂ نظر ہم سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۱ کے تحت بیان کر چکے ہیں۔
    یہ نہایت واضح کتاب کی آیتیں ہیں۔
    n/a
    ہم اُن لوگوں کی ہدایت کے لیے جو ایمان لانا چاہیں، موسیٰ اور فرعون کی سرگذشت کا کچھ حصہ ٹھیک ٹھیک تمھیں سناتے ہیں۔
    اصل الفاظ ہیں: ’لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ‘۔ اِن میں فعل ارادۂ فعل کے مفہوم میں ہے۔ یہ ایک قسم کی تنبیہ ہے۔ قرآن نے ابتدا ہی میں بتا دیاہے کہ اِس سرگذشت سے ہدایت اُنھی کو ملے گی جو ہدایت پانا چاہیں گے۔ اُن کے لیے اِس میں کوئی ہدایت نہیں ہے جو فیصلہ کر چکے ہیں کہ اندھے اور بہرے بن کر ہی جئیں گے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List