Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • نمل (The Ant, The Ants)

    93 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    سابق سورہ میں یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ یہ قرآن کوئی شاعری اور کہانت نہیں ہے بلکہ اللہ کا اتارا ہوا کلام ہے لیکن جو لوگ اس پر ایمان نہیں لانا چاہتے وہ اس کے انذار کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ یہ ہے کہ قرآن ان کو جس چیز سے ڈرا رہا ہے جب وہ اس کو دیکھ لیں گے تب اس پر ایمان لائیں گے اور اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ وہ عذاب کو دعوت دینے کے بجائے رسولوں اور ان کے جھٹلانے والوں کی تاریخ سے سبق حاصل کریں۔ اس سورہ میں یہ واضح فرمایا ہے کہ اس کتاب کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت و بشارت بنا کر نازل فرمایا ہے لیکن اس پر ایمان وہی لائیں گے جن کے دلوں کے اندر آخرت کا خوف ہے۔ جو لوگ اس دنیا کے عیش و آرام میں مگن ہیں وہ اپنے ان مشاغل سے دست بردار نہیں ہو سکتے ہیں جن میں وہ مشغول ہیں۔ ان کے اعمال ان کی نگاہوں میں اس طرح کھبا دیے گئے ہیں کہ اب کوئی تذکیر و تنبیہ بھی ان پر کارگر نہیں ہو سکتی۔ پچھلی سورہ میں بحث کی بنیاد صفات الٰہی میں سے صفات ۔۔۔ عزیز و رحیم ۔۔۔ پر رکھی ہے جن کے تمام پہلوؤں کی وضاحت ہم کر چکے ہیں۔ اس سورہ کی بنیاد صفات ۔۔۔ حکیم و علیم ۔۔۔ پر ہے کہ یہ قرآن خدائے حکیم و علیم کا اتارا ہوا ہے تو وہ جو کچھ کرے گا وہ حکمت اور علم پر مبنی ہو گا۔ پیغمبرؐ اور ان کے ساتھیوں کو اپنے رب حکیم و علیم پر بھروسہ رکھنا چاہیے کہ وہ ان کو اچھے انجام سے ہم کنار کرے گا۔

  • نمل (The Ant, The Ants)

    93 آیات | مکی

    النمل ۔ القصص

    ۲۷ ۔ ۲۸

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو تسلی اور بشارت دینا اور آپ کے منکرین کو متنبہ کرنا ہے کہ آخرت سے بے خوف اور دنیا کے عیش و آرام میں مگن ہو کر وہ جس سرکشی پر اترے ہوئے ہیں، اُسے چھوڑ دیں، اپنے اوپر خدا کی نعمتوں اور عنایتوں کا شکر ادا کریں اور اپنے پیغمبر کو پہچانیں۔

    دونوں سورتوں میں اصل بناے استدلال موسیٰ علیہ السلام کی سرگذشت ہے۔ اِس کے علاوہ جو سرگذشتیں سنائی گئی ہیں، وہ تبعاً اِسی کے بعض پہلوؤں کی مزید وضاحت کرتی ہیں۔

    اِن میں خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہوا ہے اور قریش مکہ سے بھی، لیکن روے سخن زیادہ تر اُنھی کی طرف ہے۔

    دونوں سورتوں کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب ہجرت و براء ت کا مرحلہ قریب آ چکا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 027 Verse 001 Chapter 027 Verse 002 Chapter 027 Verse 003
    Click translation to show/hide Commentary
    یہ سورۂ ’طٰسٓ‘ ہے۔ یہ قرآن اور ایک واضح کتاب کی آیتیں ہیں۔
    یعنی ایسی کتاب کی جو حقائق کو اِس طرح واضح کر دیتی ہے کہ آپ ہی اپنی حجت بن جاتی ہے۔ اُس کی صحت و صداقت کو جانچنے کے لیے کسی خارجی شہادت یا معجزے اور نشانی کی ضرورت نہیں رہتی۔ آیت میں ’تِلْکَ‘ کا مشار الیہ ’طٰسٓ‘ ہے۔ اِس کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر ہم سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۱کے تحت بیان کر چکے ہیں۔
    ایمان والوں کے لیے ہدایت اور بشارت۔
    ہدایت کے ساتھ بشارت کا ذکر یہاں خاص طور پر اِس لیے ہوا ہے کہ آگے سورہ کے مضامین اِسی کی شہادت دے رہے ہیں۔
    جو نماز کا اہتمام کرتے ہیں، زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور وہی آخرت پر فی الواقع یقین رکھتے ہیں۔
    یہ دونوں عبادات ایمان و اسلام کا لازمی ظہور ہیں۔ اہل عرب کے لیے یہ کوئی اجنبی چیزیں نہیں تھیں۔ دین ابراہیمی کی ایک روایت کی حیثیت سے وہ نہ صرف یہ کہ اِن سے واقف تھے، بلکہ اُن کے صالحین اِن کا اہتمام بھی کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اِن کی کوئی تفصیلات بیان نہیں کی ہیں۔ چنانچہ یہی چیز اُن کے ایمان لانے اور نماز اور زکوٰۃ کا اہتمام کرنے کا باعث بن گئی ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List