Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الفرقان (The Criterion, The Standard)

    77 آیات | مکی

    سورتوں کے چوتھے گروپ پر ایک اجمالی نظر

    سورۂ فرقان سے سورتوں کا چوتھا گروپ شروع ہو رہا ہے۔ اس میں آٹھ سورتیں ۔۔۔ فرقان، شعراء، نمل، قصص، عنکبوت، روم، لقمان، سجدہ ۔۔۔ مکی ہیں، آخر میں صرف ایک سورہ ۔۔۔ احزاب ۔۔۔ مدنی ہے۔ سورتوں کے جوڑے جوڑے ہونے کا اصول دوسرے گروپوں کی طرح اس میں بھی مَرعی ہے۔ البتہ سورۂ احزاب کی حیثیت خلاصۂ بحث یا سورۂ نور کی طرح تکملہ و تتمہ کی ہے۔ اسلامی دعوت کے تمام ادوار ۔۔۔ دعوت، ہجرت، جہاد ۔۔۔ اور تمام بنیادی مطالب ۔۔۔ توحید، رسالت، معاد ۔۔۔ اس میں بھی زیربحث آئے ہیں البتہ اسلوب، انداز اور مواد استدلال دوسرے گروپوں سے اس میں فی الجملہ مختلف نظر آئے گا۔
    اس گروپ کا جامع عمود اثبات رسالت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور قرآن کے وحی الٰہی ہونے کے خلاف قریش اور ان کے حلیفوں نے جتنے اعتراضات و شبہات اٹھائے اس گروپ کی مختلف سورتوں میں، مختلف اسلوبوں سے، ان کے جواب بھی دیے گئے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کا اصل مرتبہ و مقام بھی واضح فرمایا گیا ہے۔ اسی کے ضمن میں قرآن پر ایمان لانے والوں کو، مرحلۂ امتحان سے گزرنے کے بعد، دنیا اور آخرت دونوں میں، فوز و فلاح کی بشارت دی گئی ہے اور جو لوگ اس کی تکذیب پر اڑے رہیں گے، اتمام حجت کے بعد، ان کو ان کے انجام سے آگاہ کیا گیا ہے۔

  • الفرقان (The Criterion, The Standard)

    77 آیات | مکی

    الفرقان ۔ الشعراء

    ۲۵ ۔۲۶

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع اثبات رسالت اور اُس کے حوالے سے انذار وبشارت ہے۔ دوسری سورہ میں، البتہ اُن سرگذشتوں کی تفصیل کر دی گئی ہے جن کی طرف پہلی سورہ میں بالاجمال اشارہ فرمایا ہے۔ نیز کاہن اور شاعر ہونے کا جو الزام قریش مکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر لگاتے تھے، اُس کی اِس سورہ میں خاص طور پر تردید کی گئی ہے۔
    دونوں میں خطاب قریش سے ہے جو آپ کی صداقت کے ثبوت کے لیے اُس زمانے میں آپ سے بار بار عذاب کی کسی نشانی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ دوسری سورہ میں آیت ترجیع اِسی حوالے سے وارد ہوئی ہے۔

    دونوں سورتوں کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذار عام میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 025 Verse 001 Chapter 025 Verse 002 Chapter 025 Verse 003
    Click translation to show/hide Commentary
    بہت بزرگ، بہت فیض رساں ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر یہ فرقان اتارا ہے، اِس لیے کہ وہ اہل عالم کے لیے خبردار کرنے والا ہو۔
    یعنی ایک ایسی کتاب جو حق وباطل میں امتیاز کے لیے ایک کسوٹی، ایک معیار فیصلہ اور حجت قاطع ہے۔ دوسری جگہ یہی حقیقت لفظ ’میزان‘ سے واضح فرمائی ہے، یعنی ایک ترازو تاکہ ہر شخص اُس پر تول کر دیکھ سکے کہ کیا چیز حق اور کیا باطل ہے۔ چنانچہ اپنے دعاوی اور اپنے پیش کرنے والے کی صداقت کوثابت کرنے کے لیے بھی یہ کسی خارجی دلیل کی محتاج نہیں ہے، بلکہ بجاے خود دلیل وحجت ہے۔ قرآن کی یہی حیثیت ہے جس کی بنا پر ہم نے اپنی کتاب ’’میزان‘‘ کے مقدمہ ’’اصول و مبادی‘‘ میں لکھا ہے کہ خدا کی اِس کتاب کے بارے میں یہ دو باتیں بطور اصول ماننی چاہییں: ’’پہلی یہ کہ قرآن کے باہر کوئی وحی خفی یا جلی، یہاں تک کہ خدا کا وہ پیغمبر بھی جس پر یہ نازل ہوا ہے، اِس کے کسی حکم کی تحدید وتخصیص یا اِس میں کوئی ترمیم وتغیر نہیں کر سکتا۔ دین میں ہر چیز کے رد و قبول کا فیصلہ اِس کی آیات بینات ہی کی روشنی میں ہو گا۔ ایمان وعقیدہ کی ہر بحث اِس سے شروع ہو گی اور اِسی پر ختم کر دی جائے گی۔ ہر وحی، ہر الہام، ہر القا، ہر تحقیق اور ہر راے کو اِس کے تابع قرار دیا جائے گا اور اِس کے بارے میں یہ حقیقت تسلیم کی جائے گی کہ بوحنیفہ وشافعی، بخاری ومسلم، اشعری وماتریدی اور جنید وشبلی، سب پر اِس کی حکومت قائم ہے اور اِس کے خلاف اِن میں سے کسی کی کوئی چیز بھی قبول نہیں کی جا سکتی۔ دوسری یہ کہ اِس کے الفاظ کی دلالت اِس کے مفہوم پر بالکل قطعی ہے۔ یہ جو کچھ کہنا چاہتا ہے، پوری قطعیت کے ساتھ کہتا ہے اور کسی معاملے میں بھی اپنا مدعا بیان کرنے سے ہرگز قاصر نہیں رہتا۔ اِس کا مفہوم وہی ہے جو اِس کے الفاظ قبول کر لیتے ہیں، وہ نہ اُس سے مختلف ہے نہ متبائن۔ اِس کے شہرستان معانی تک پہنچنے کا ایک ہی دروازہ ہے اور وہ اِس کے الفاظ ہیں۔ وہ اپنا مفہوم پوری قطعیت کے ساتھ واضح کرتے ہیں، اُس میں کسی ریب وگمان کے لیے ہرگز کوئی گنجایش نہیں ہوتی۔‘‘(۲۵) یعنی صرف ام القریٰ مکہ اور اُس کے گرد وپیش کے لوگوں کے لیے نہیں، بلکہ پورے عالم کے لیے۔ سورۂ انعام (۶) کی آیت ۱۹ میں مزید وضاحت فرمائی ہے کہ قرآن کی دعوت آنے والے تمام زمانوں کے لیے بھی ہے۔ ارشاد فرمایا ہے: ’اُوْحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنُ لِاُنْذِرَکُمْ بِہٖ وَمَنْ م بَلَغَ‘ (یہ قرآن میری طرف وحی کیا گیا ہے کہ اِس کے ذریعے سے میں تمھیں انذار کروں اور اُن کو بھی جنھیں یہ پہنچے)۔قرآن کی یہ حیثیت لازماً تقاضا کرتی ہے کہ بعد میں آنے والوں کے لیے بھی یہ اپنے ثبوت اور دلالت کے لحاظ سے اُسی طرح قطعی رہے، جس طرح اپنے اولین مخاطبین کے لیے تھا۔ خدا کی عنایت ہے کہ ایسا ہی ہے اور اُس کی یہ کتاب اِسی قطعیت کے ساتھ ہمارے پاس موجود ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے آیت میں ’عَلٰی عَبْدِہٖ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ التفات خاص کا اسلوب ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’...اِس التفات کا یہاں ایک خاص محل ہے۔ آگے کفار کے وہ اعتراضات نقل ہوئے ہیں جو وہ نہایت تحقیر آمیز انداز میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر کرتے تھے۔ یہ اعتراضات زیادہ تر مکہ اور طائف کے دولت مندوں کے اٹھائے ہوئے تھے۔ وہ اپنی مالی برتری کے گھمنڈ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیوی اسباب و وسائل سے بے تعلقی پر چوٹیں کرتے اور اِس چیز کو آپ کی رسالت کی تردید کی ایک بہت بڑی دلیل کی حیثیت سے پیش کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں مستکبرین کی اِسی ذہنیت کو سامنے رکھ کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندۂ خاص پر ’فرقان‘ کی شکل میں جو نعمت عظمیٰ اتاری ہے، اُس کے بعد وہ کسی چیز کا محتاج نہیں ہے۔ خلق کے انذار کے وہ جس مشن پر مامور ہے، اُس کی تکمیل کے لیے وہ جس زاد وراحلہ کا محتاج ہے، وہ سب بدرجۂ کمال اُس کے پاس موجود ہے۔‘‘(تدبر قرآن ۵/ ۴۴۳)
    وہی جس کے لیے زمین اور آسمانوں کی بادشاہی ہے،اُس نے اپنی کوئی اولاد نہیں بنائی ہے، اُس کی بادشاہی میں کوئی اُس کا شریک نہیں ہے، اُس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اُس کا ایک خاص اندازہ ٹھیرایا ہے۔
    مطلب یہ ہے کہ کوئی اِس کتاب کو سائل کی درخواست نہ سمجھے۔ یہ اِس کائنات کے بادشاہ حقیقی کا فرمان واجب الاذعان ہے۔ اِسے جھٹلایا گیا تو اُس کی گرفت سے بچانے والا کوئی نہ ہو گا۔ خدا کے لیے جن لوگوں نے بیٹے اور بیٹیاں فرض کر رکھی ہیں، اُن کے بارے میں وہ لازماً اِس زعم میں مبتلا ہوتے ہیں کہ اُنھیں وہ خدا کی پکڑ سے بچا لیں گی۔ قرآن نے یہ اِسی زعم باطل کی نفی کی ہے۔ یہ خدا کی توحید اور یکتائی کی دلیل بیان ہوئی ہے کہ جب وہ ہر چیز کا خالق ہے اور اُسی نے ہر چیز کے لیے صورت، جسامت، قوت واستعداد، اوصاف وخصائص، عروج و ارتقا اور بقا وزوال کے حدود و قیود متعین کیے ہیں تو کوئی دوسرا اُس کی خدائی میں کہاں سے شریک ہو گا؟ کیا کسی شخص کے لیے ممکن ہے کہ اُس کی بنائی ہوئی کسی چیز کو اُس کے ٹھیرائے ہوئے اندازے سے سرمو کم وبیش یا آگے پیچھے کر سکے؟
    مگر (لوگوں کا حال یہ ہے کہ) اُنھوں نے اُس کے سوا دوسرے معبود بنا لیے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے، وہ خود مخلوق ہیں اور اپنے لیے بھی کسی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔ وہ نہ موت پر کوئی اختیار رکھتے ہیں نہ زندگی پر اور نہ مرے ہوؤں کو اٹھانا اُن کے اختیار میں ہے۔
    مطلب یہ ہے کہ اِس سے بڑھ کر خرد باختگی کیا ہوگی کہ ایسے بے بس معبودوں کے سہارے پر قرآن کے پیش کردہ حقائق کو جھٹلا دیا جائے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List