Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • المومنون (The Believers)

    118 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ، سابق سورہ ۔۔۔ سورۂ حج ۔۔۔ کی توام اور مثنیٰ ہے۔ سورۂ حج جس مضمون پر تمام ہوئی ہے اسی مضمون سے اس کا آغاز ہوا ہے۔ سورۂ حج کے آخر میں مسلمانوں کا فریضۂ منصبی یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ کے رسول نے دین حق کی گواہی جس طرح تم پر دی ہے اسی طرح اب تمہارا فرض ہے کہ یہ گواہی تم خلق پر دو۔ ساتھ ہی اس منصب کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے جن باتوں پر عمل کرنا ضروری ہے مثلاً اہتمام نماز، ادائیگی زکوٰۃ اور توکل علی اللہ، ان کی ہدایت فرمائی ہے۔ اب اس سورہ کو پڑھیے تو بعینہٖ اسی مضمون سے اس طرح شروع ہو گئی ہے گویا اسی کا تکملہ و تتمہ ہے۔ سورۂ حج کی آخری اور سورۂ مومنون کی ابتدائی آیات نے ایک حلقۂ اتصال کی صورت اختیار کرلی ہے۔ مضمون کے اعتبار سے بھی دونوں سورتوں میں کوئی اصولی فرق نہیں ہے۔ صرف اسلوب بیان اور نہج استدلال کا فرق ہے۔ سورۂ حج میں اہل ایمان کو فوز و فلاح کی اور کفار کو ذلت و نامرادی کی جو خبر دی گئی ہے وہ اس سورہ میں پوری طرح آشکارا ہو گئی ہے۔ خاص طور پر اہل ایمان کے لیے بشارت کا مضمون اس میں بالکل کھل کر سامنے آ گیا ہے اور وہ اوصاف بھی وضاحت سے بیان ہو گئے ہیں جن کے ساتھ یہ بشارت مشروط ہے۔ اسی طرح کفار پر بھی یہ حقیقت اچھی طرح واضح کر دی گئی ہے کہ تمہیں جس ذلت کی خبر دی جا رہی ہے وہ لازماً پیش آ کے رہے گی، آفاق و انفس اور تاریخ کی شہادت یہی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو امتحان کا گھر بنایا ہے اس وجہ سے اس میں اہل ایمان کی آزمائش بھی ہوتی ہے اور اہل کفر کو ڈھیل بھی دی جاتی ہے۔ لیکن یہ عارضی وقفے ہیں۔ بالآخر حق ہی کا بول بالا ہو گا اور اہل باطل نامراد ہوں گے۔

  • المومنون (The Believers)

    118 آیات | مکی

    الحج - المؤمنون

    ۲۲ - ۲۳

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع انذار و بشارت ہے جو پچھلی سورتوں سے چلا آرہا ہے۔ پہلی سورہ میں قریش مکہ کو، بالخصوص حرم کی تولیت کے حوالے سے آخری انذار و تنبیہ اور دوسری میں اُن کے لیے اُسی انذار و تنبیہ کے نتائج کی وضاحت ہے جس میں ایمان والوں کی کامیابی کا مضمون بہت نمایاں ہو گیا ہے۔

    دونوں سورتوں میں خطاب اصلاً قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ ہجرت و براء ت میں نازل ہوئی ہیں۔

    سورۂ حج کی چند آیات، البتہ مدنی ہیں جو اُس اقدام کی وضاحت کے لیے سورہ کا حصہ بنا دی گئی ہیں جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد خدا کا فیصلہ قریش مکہ کے لیے ظاہر ہو جائے گا۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 023 Verse 001 Chapter 023 Verse 002 Chapter 023 Verse 003 Chapter 023 Verse 004 Chapter 023 Verse 005 Chapter 023 Verse 006 Chapter 023 Verse 007 Chapter 023 Verse 008 Chapter 023 Verse 009 Chapter 023 Verse 010 Chapter 023 Verse 011
    Click translation to show/hide Commentary
    اپنی مراد کو پہنچ گئے ایمان والے۔
    یعنی اُن کے لیے فیصلہ ہو گیا کہ لازماً فائز المرام ہوں گے۔ یہ مستقبل میں کسی بات کے واقع ہونے کی قطعیت کے اظہار کا اسلوب ہے جو ہماری زبان میں بھی موجود ہے۔ اِس بشارت کا ظہور کب ہو گا؟ اِس کی وضاحت پیرے کے آخر میں کر دی ہے کہ ہمیشہ کے لیے فردوس کی میراث پا لیں گے۔
    جو اپنی نماز میں عاجزی کرنے والے ہیں۔
    یعنی اپنے پروردگار کے آگے نیاز مندی، تذلل اور عاجزی و فروتنی کا اظہار کرنے والے ہیں۔ یہی نماز کی اصل روح ہے جو اگر نماز میں موجود ہو تو آدمی محسوس کرتا ہے کہ اُس کی کمر اور اُس کا سر ہی نہیں، اُس کا دل بھی اپنے پروردگار کے آگے سرفگندہ ہو گیا ہے۔
    جو لغویات سے دور رہنے والے ہیں۔
    اصل میں لفظ ’اللَّغْو‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ ہر اُس بات اور کام کے لیے آتا ہے جو فضول، لا یعنی اور لا حاصل ہو۔ مطلب یہ ہے کہ بڑی برائیاں تو ایک طرف، وہ اُن چیزوں سے بھی احتراز کرتے ہیں جو اپنا کوئی مقصد نہ رکھتی ہوں اورجن سے انسان کی زندگی کے لیے کوئی نتیجہ نہ نکلتا ہو۔ اِس میں ضمناً اُن لغویات کی طرف بھی اشارہ ہو گیا ہے جو اُس زمانے میں قرآن کے منکرین سے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں صادر ہوتی تھیں۔ چنانچہ دوسری جگہ فرمایا ہے کہ ایمان والے جب کوئی فضول بات سنتے ہیں تو اعراض کرتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے لیے ہمارے اعمال ہیں اورتمھارے لیے تمھارے اعمال۔ اِسی طرح فرمایا ہے کہ جب اُن کا گزر کسی بے ہودہ چیز پر ہوتا ہے تو وقار سے گزر جاتے ہیں۔ گویا نہ لغویات میں مبتلا ہوتے ہیں اور نہ اُن لوگوں سے الجھتے ہیں جو اُن میں مبتلا ہوں۔
    اور جو زکوٰۃ ادا کرنے والے۔
    زکوٰۃ سے مراد وہ مال ہے جو نظم اجتماعی کی ضرورتوں کے لیے خدا کے حکم پر اور اُس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دیا جاتا ہے۔ نماز کی طرح اِس کا حکم بھی انبیا علیہم السلام کے دین میں ہمیشہ موجود رہاہے۔ چنانچہ قرآن کے مخاطبین جانتے تھے کہ اِس کا مصداق کیا ہے۔ یہ اُن کے لیے کوئی اجنبی چیز نہیں تھی کہ اِس کی شرح و نصاب بتا کر اِس کا ذکر کیا جاتا۔ اِن سب چیزوں سے وہ اُسی طرح واقف تھے ، جس طرح نماز کے اعمال و اذکار سے واقف تھے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ دین میں اِس کی حیثیت نماز کے مثنیٰ کی ہے۔ نماز بندے کو خدا سے متعلق کرتی ہے اور یہ اُس کو بندوں سے جوڑتی ہے۔ مراد کو پہنچنے کے لیے یہ دونوں چیزیں ضروری ہیں۔
    اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
    n/a
    اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے سوا کہ (اُن کے بارے میں) اُن پر کوئی ملامت نہیں ہے۔
    بیویوں کے ساتھ یہاں لونڈیوں کا ذکر اِس لیے ہوا ہے کہ اُس وقت تک غلامی ختم نہیں ہوئی تھی۔ چنانچہ سورۂ محمد میں جنگی قیدیوں کو لونڈی غلام بنانے کی ممانعت کے باوجود جوغلام پہلے سے معاشرے میں موجود تھے ، اُن کے لیے یہ استثنا باقی رکھنا ضروری تھا۔ بعد میں قرآن نے اُن کے ساتھ لوگوں کو مکاتبت کا حکم دے دیا۔ یہ اِس بات کا اعلان تھا کہ لوح تقدیر اب غلاموں کے ہاتھ میں ہے اوروہ اپنی آزادی کی تحریر اُس پر، جب چاہے، رقم کر سکتے ہیں۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ قرآن کے زمانۂ نزول میں غلامی کو معیشت اور معاشرت کے لیے اُسی طرح ناگزیر سمجھا جاتا تھا، جس طرح اب سود کو سمجھاجاتا ہے۔ نخاسوں پر ہر جگہ غلاموں اور لونڈیوں کی خرید وفروخت ہوتی تھی اور کھاتے پیتے گھروں میں ہر سن و سال کی لونڈیاں اور غلام موجود تھے۔اِس طرح کے حالات میں اگر یہ حکم دیا جاتا کہ تمام غلام اور لونڈیاں آزاد ہیں تو اُن کی ایک بڑی تعداد کے لیے جینے کی کوئی صورت اِس کے سوا باقی نہ رہتی کہ مرد بھیک مانگیں اورعورتیں جسم فروشی کے ذریعے سے اپنے پیٹ کا ایندھن فراہم کریں۔یہ مصلحت تھی جس کی وجہ سے قرآن نے تدریج کا طریقہ اختیار کیا اور اِس سلسلہ کے کئی اقدامات کے بعد بالآخر سورۂ نور (۲۴) کی آیت ۳۳ میں مکاتبت کا وہ قانون نازل فرما یا جس کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ اِس کے بعد نیکی اور خیر کے ساتھ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی صلاحیت رکھنے والے کسی شخص کو بھی غلام بنائے رکھنے کی گنجایش باقی نہیں رہی۔
    ہاں، جو اُن کے علاوہ چاہیں تو وہی ہیں جو حد سے بڑھنے والے ہیں۔
    مطلب یہ ہے کہ رہبانیت مقصود نہیں ہے۔ بیویوں کے ساتھ شہوانی تعلق بالکل جائز ہے۔ لیکن اُن کے سوا کسی دوسرے کے ساتھ، خواہ وہ زنا اور متعہ کی صورت میں ہو یا اغلام اوروطی بہائم کی صورت میں ، یہ تعلق بالکل ممنوع ہے۔ کسی مسلمان سے اِس کی توقع نہیں کی جاتی۔ تاہم اتنی بات واضح رہے کہ آیت کے الفاظ میں اِس کی کوئی گنجایش نہیں ہے کہ اِس ممانعت کو دوسروں کے ساتھ جنسی تعلق سے آگے استمنا بالید اور اِس نوعیت کے دوسرے افعال تک بھی وسیع کر دیا جائے۔ اِس کی دلیل یہ ہے کہ آیت میں ’عَلٰی‘ ’یُحَافِظُوْنَ‘ کے ساتھ مناسبت نہیں رکھتا، اِس لیے یہاں لازماً تضمین ہے اور ’حٰفِظُوْنَ‘ کے بعد ’عن الوقوع علٰی أحد‘ یا اِس کے ہم معنی الفاظ حذف کر دیے گئے ہیں۔ چنانچہ مستثنیٰ منہ استمنا کے طریقے نہیں، بلکہ افراد ہیں جن سے کوئی شخص جنسی تعلق قائم کر سکتا ہے۔ آیت کے معنی یہ نہیں ہیں کہ بیویوں اور مملوکہ عورتوں سے مباشرت کے سوا قضاے شہوت کا کوئی طریقہ جائز نہیں ہے، بلکہ یہ ہیں کہ بیویوں اور مملوکہ عورتوں کے سوا کسی سے قضاے شہوت کرنا جائز نہیں ہے۔
    اور جو اپنی امانتوں اور اپنے عہد کا پاس رکھنے والے ہیں۔
    دین کی تمام اخلاقیات کے لیے یہ نہایت جامع تعبیر ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’ ’اَمٰنٰت‘ سے مراد وہ تمام امانتیں بھی ہیں جو ہمارے رب نے قوتوں اور صلاحیتوں، فرائض اور ذمہ داریوں کی شکل میں یا انعامات و افضال اور اموال و اولاد کی صورت میں ہمارے حوالے کی ہیں ۔۔۔اور وہ امانتیں بھی اِس میں داخل ہیں جو کسی نے ہمارے پاس محفوظ کی ہوں یا ازروے حقوق اُن کی ادائیگی کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہو۔ اِسی طرح عہد میں وہ تمام عہد و میثاق بھی داخل ہیں جو ہمارے رب نے ہماری فطرت سے عالم غیب میں لیے ہیں یا اپنے نبیوں کے واسطے سے، اپنی شریعت کی شکل میں، اِس دنیا میں لیے ہیں۔ علیٰ ہٰذا القیاس وہ تمام عہد و میثاق بھی اِس میں داخل ہیں جو ہم نے اپنی فطرت یا انبیا علیہم السلام کے واسطے سے اپنے رب سے کیے ہیں یا کسی جماعت یافرد سے اِس دنیا میں کیے ہیں، خواہ وہ قولاً و تحریراً عمل میں آئے ہوں یا ہر شایستہ سوسائٹی میں بغیر کسی تحریر و اقرار کے سمجھے اور مانے جاتے ہوں۔ فرمایا کہ ہمارے یہ بندے اِن تمام امانات اور اِن تمام عہود و مواثیق کا پاس و لحاظ رکھنے والے ہیں۔ نہ اپنے رب کے معاملے میں خائن اور غدار ہیں، نہ اُس کے بندوں کے ساتھ بے وفائی اور عہد شکنی کرنے والے ہیں۔‘‘(تدبرقرآن ۵/ ۲۹۹)
    اور جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔
    اوپر نماز ہی سے اہل ایمان کی صفات کا ذکر شروع ہوا تھا اور یہ اُسی پر ختم ہوا ہے۔ اِس سے دین میں نماز کی اہمیت واضح ہوتی ہے کہ وہی درحقیقت اُن تمام مکارم اخلاق کی محافظ ہے جو دین میں مطلوب ہیں اور اِس لحاظ سے دین پر قائم رہنے کی ضمانت ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ شیطان کے حملے اُس کے بعد بھی جاری رہتے ہیں، لیکن نماز پر مداومت کے نتیجے میں اُس کے لیے مستقل طور پر انسان کے دل میں ڈیرے ڈال دینا ممکن نہیں ہوتا۔ نماز اُسے مسلسل دور بھگاتی اور ایک حصار کی طرح اُس کے حملوں سے انسان کے دل و دماغ کی حفاظت کرتی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خطرے کی حالت میں بھی تاکید کی گئی ہے کہ پیدل یا سواری پر، جس طرح ممکن ہو، اُسے لازماً ادا کیا جائے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے بعض دوسرے پہلوؤں کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’’... شروع میں نماز کا ذکر اُس کی روح، یعنی ’خشوع‘ کے پہلو سے ہوا اور آخر میں اُس کی محافظت ،اُس کے رکھ رکھاؤ اور اُس کی دیکھ بھال کے پہلو سے ہوا، اِس لیے کہ وہ برکات جو نماز کی بیان ہوئی ہیں، اُسی صورت حال میں حاصل ہوتی ہیں، جب اُس کے اندر خشوع کی روح ہو اور اُس کی برابر رکھوالی بھی ہوتی رہے۔ یہ باغ جنت کا پودا ہے جو پوری نگہداشت کے بغیر پروان نہیں چڑھتا۔ ذرا غفلت اور ناقدری ہو جائے تو یہ بے ثمر ہو کے رہ جاتا ہے، بلکہ اِس کے بالکل ہی سوکھ جانے کا ڈر پیدا ہو جاتا ہے۔ اگر اِس کی حقیقی برکات سے بہرہ مند ہونے کی آرزو ہے تو شیاطین کی تاخت سے اِس کو بچائیے اور وقت کی پوری پابندی کے ساتھ آنسوؤں سے اِس کو سینچتے رہیے۔ تب کچھ اندازہ ہو گا کہ رب نے اِس کے اندر آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپا رکھی ہے!‘‘(تدبرقرآن ۵/ ۲۹۹)
    وہی مالک ہونے والے ہیں۔
    اصل میں لفظ ’الوٰرِثُوْنَ‘ استعمال ہوا ہے۔ قرآن میں اِس کے استعمالات سے معلوم ہوتا ہے کہ بارہا اِس میں تجرید ہو جاتی ہے اور یہ محض مالک ہو جانے کے مفہوم میں بھی آ جاتا ہے۔ ہمارے نزدیک یہاں بھی یہی ہوا ہے۔
    جو فردوس کے مالک ہوں گے۔ وہ اُس میں ہمیشہ رہیں گے۔
    یہ جنت کے لیے معروف ترین لفظ ہے اور قریب قریب تمام انسانی زبانوں میں مشترک طور پر پایا جاتا ہے۔ قرآن میں یہ دو جگہ استعمال ہوا ہے،ایک یہاں اور ایک سورۂ کہف (۱۸) کی آیت ۱۰۷ میں۔ وہاں یہ جس طریقے سے استعمال ہوا ہے، اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جنت کے لیے علم ہو چکا ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List