Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الحج (The Pilgrimage, The Hajj)

    78 آیات | مدنی

    سورہ کا عمود اور زمانۂ نزول

    یہ سورہ مکی دور کی ان آخری سورتوں میں سے ہے جب مسلمانوں نے قریش کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر، دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت شروع کر دی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی ہجرت کا وقت بالکل قریب آ چکا تھا۔ اس دور میں قریش کے لیے آخری انذار و تنبیہ کے ساتھ یہ سورہ نازل ہوئی۔ اس میں ان کو خدا کے غضب سے ڈرایا گیا، توحید اور قیامت کی قطعیت نہایت مؤثر دلائل کے ساتھ واضح کی گئی اور حضرت ابراہیمؑ کی دعوت اور بیت اللہ کے مقصد تعمیر کی روشنی میں ان پر یہ حقیقت واضح کی گئی کہ اس گھر کی تولیت کے اصل حق دار مشرکین نہیں بلکہ وہ مسلمان ہیں جن کو انھوں نے اس سے محروم کر رکھا ہے اور ان کو یہاں سے نکالنے کے لیے ان پر ہر قسم کے ظلم و ستم ڈھا رہے ہیں۔ فتح مکہ کی طرف اشارہ تو پچھلی سورہ کی آیت ۴۴ میں بھی گزر چکا ہے، اس سورہ میں اس اشارے نے بالکل قطعی فیصلہ کی صورت اختیار کر لی ہے۔ اس میں قریش کو غدار اور غاصب قرار دے کر ان کو اس گھر سے بے دخل کیے جانے کی دھمکی اور مسلمانوں کو بشارت دی گئی کہ اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت فرمائے گا اور قریش کو اس سے بے دخل کر کے ان کو اس کا امین و متولی بنائے گا۔
    یہ سورہ مکی ہے: یہ سورہ اپنے مزاج و مطالب کے اعتبار سے مکی ہے۔ اس کی صرف چار آیات (۳۸-۴۱) ہجرت کے بعد کی ہیں جس میں مسلمانوں کو یہ اجازت دی گئی ہے کہ اگر وہ حج کے لیے جائیں اور کفار قریش ان کو بزور روکنے کی کوشش کریں تو ان کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مدافعت میں تلوار اٹھائیں۔ اللہ ان کی مدد فرمائے گا۔ یہ بات چونکہ اوپر والی بات ہی کی وضاحت کی حیثیت رکھتی ہے اس وجہ سے مصحف کی ترتیب میں ان آیات کو یہاں جگہ ملی تاکہ اس اجازت کی حکمت واضح ہو جائے کہ مسلمانوں کو تلوار اٹھانے کا یہ حق اس لیے حاصل ہے کہ قریش کا خانہ کعبہ پر تسلط بالکل غاصبانہ ہے۔ اس کی تولیت کے اصلی حق دار مسلمان ہیں نہ کہ قریش۔
    انہی چند آیات کی بنا پر ہمارے مفسرین نے، اس سورہ کے مکی یا مدنی ہونے کے باب میں، اختلاف کیا ہے۔ لیکن کسی مکی سورہ میں چند مدنی آیتیں داخل ہو جانے سے، جب کہ ان آیات کی نوعیت بھی محض توضیحی آیات کی ہو، پوری سورہ کو مدنی نہیں قرار دیا جا سکتا۔ بعض مدنی آیات سورۂ مزمل میں بھی ہیں حالانکہ وہ بالاتفاق مکی ہے۔ ہم آگے ان آیات کی تفسیر میں واضح کریں گے کہ ان کی حیثیت اجمال کے بعد تصریح کی ہے۔ ایک بات جو مکی زندگی کے آخری دور میں فرمائی گئی تھی جب مدنی زندگی کے ابتدائی دور میں اس کی تفصیل نازل ہوئی تو اجمال اور تفصیل دونوں کو ایک ساتھ رکھ دیا گیا۔ صاحب کشاف نے بھی اس سورہ کو، باستثنائے چند آیات، مکی ہی قرار دیا ہے۔

  • الحج (The Pilgrimage, The Hajj)

    78 آیات | مدنی

    الحج - المؤمنون

    ۲۲ - ۲۳

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع انذار و بشارت ہے جو پچھلی سورتوں سے چلا آرہا ہے۔ پہلی سورہ میں قریش مکہ کو، بالخصوص حرم کی تولیت کے حوالے سے آخری انذار و تنبیہ اور دوسری میں اُن کے لیے اُسی انذار و تنبیہ کے نتائج کی وضاحت ہے جس میں ایمان والوں کی کامیابی کا مضمون بہت نمایاں ہو گیا ہے۔

    دونوں سورتوں میں خطاب اصلاً قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ ہجرت و براء ت میں نازل ہوئی ہیں۔

    سورۂ حج کی چند آیات، البتہ مدنی ہیں جو اُس اقدام کی وضاحت کے لیے سورہ کا حصہ بنا دی گئی ہیں جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد خدا کا فیصلہ قریش مکہ کے لیے ظاہر ہو جائے گا۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 022 Verse 001 Chapter 022 Verse 002
    Click translation to show/hide Commentary
    لوگو، اپنے پروردگار سے ڈرو۔ حقیقت یہ ہے کہ قیامت کا بھونچال بڑی ہی ہول ناک چیز ہے۔
    یہ لفظ اگرچہ عام ہے، لیکن اِس سے مراد وہی متمردین قریش ہیں جو قیامت کو جھٹلاتے اور عذاب کے لیے جلدی مچائے ہوئے تھے۔ یعنی اُس کے مقابلے میں سرکشی اختیار نہ کرو، اِس لیے کہ اُس کا عذاب پناہ مانگنے کی چیز ہے، وہ مطالبہ کرنے کی چیز نہیں ہے۔
    تم جس دن اُس کو دیکھو گے، ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال دے گی، اور تم لوگوں کو مدہوش دیکھو گے، حالاں کہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے، بلکہ اللہ کا عذاب ہی کچھ ایسا سخت ہو گا۔
    آیت میں مخاطبین کے لیے ایک جگہ جمع اور دوسری جگہ واحد کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔ ہم دوسری جگہ وضاحت کر چکے ہیں کہ جمع کے لیے واحد کا صیغہ استعمال کیا جائے تو اُس میں مخاطبین کا ایک ایک شخص فرداً فرداً مراد ہوتا ہے اور کلام میں جمع کے بالمقابل زیادہ زور پیدا ہو جاتا ہے۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List