Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
Al-Tawbah Al-Tawbah
  • الانبیاء (The Prophets)

    112 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ سابق سورہ ۔۔۔ سورۂ طٰہٰ ۔۔۔ کی مثنیٰ ہے۔ جس مضمون پر سورۂ طٰہٰ ختم ہوئی ہے اسی مضمون سے اس کا آغاز ہوا ہے۔ سابق سورہ کی آخری آیت میں کفار قریش کو یہ تنبیہ ہے کہ اگر تم کوئی نشانئ عذاب ہی دیکھنے پر اڑے ہوئے ہو تو انتظار کرو، اب اس عذاب کے آنے میں زیادہ دیر نہیں ہے۔ اس سورہ کا آغاز، بغیر کسی نئی تمہید کے، بعینہٖ اسی مضمون سے فرمایا کہ ان لوگوں (کفار قریش) کے حساب کی گھڑی بالکل سر پر آ چکی ہے لیکن یہ اپنی سرمستیوں میں کھوئے ہیں۔ یہ پیغمبرؐ کی تنبیہات کا مذاق اڑاتے اور اللہ کی آیات کا استہزا کرتے ہیں۔ انھوں نے اس دنیا کو ایک بازیچۂ اطفال سمجھ رکھا ہے جس کو اس کے پیدا کرنے والے نے محض اپنا جی بہلانے کے لیے ایک کھیل تماشا بنایا ہے۔ ان کا سارا اعتماد ان کے خود تراشیدہ معبودوں پر ہے۔ حالانکہ یہ ساری چیزیں محض ان کے وہم کی ایجاد ہیں، انبیاء علیہم السلام کی تعلیم سے اس کو کوئی تعلق نہیں۔ سابق سورہ میں صرف حضرت موسیٰ ؑ کی سرگزشت کا حوالہ تھا اس میں دوسرے انبیاء عظام علیہم السلام کا بھی حوالہ ہے اور نہایت واضح الفاظ میں غلبۂ حق اور فتح مکہ کے قرب کی پیشین گوئی کی گئی ہے جو کفار قریش کے لیے ایک آخری تنبیہ اور مسلمانوں کے لیے کشمکش حق و باطل کے اس شدید ترین دور میں ایک عظیم بشارت ہے۔
    سورہ کے مطالب پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ سابق سورہ کی طرح یہ سورہ بھی تین بڑے حصوں میں تقسیم ہے۔ پہلے قریش کو ان کی ان بوالفضولیوں پر نہایت واضح الفاظ میں تنبیہ و وعید ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نہایت لاابالیانہ انداز میں وہ کر رہے تھے، پھر حضرات انبیاء علیہم السلام کی سرگزشتوں سے ان تمام حقائق کو مبرہن کیا گیا ہے جن کی قرآن کے ذریعہ سے ان کو دعوت دی جا رہی تھی، آخر میں اسی مضمون کو، جو شروع میں بیان ہوا ہے بعینہٖ اسی تمہید کے ساتھ ازسرنو لے لیا ہے اور نہایت فیصلہ کن انداز میں مخالفین کو اس انجام سے آگاہ کیا ہے جس سے وہ دوچار ہونے والے ہیں۔

  • الانبیاء (The Prophets)

    112 آیات | مکی

    طٰہٰ —— الانبیاء

    ۲۰ ——- ۲۱

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع انذار و بشارت ہے۔پہلی سورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اِس انذار و بشارت کے ردعمل پر صبر و انتظار کی تلقین ہے اور دوسری میں آپ کے مخاطبین کو شدید تنبیہ کہ اُن کے احتساب کی گھڑی قریب آگئی ہے۔ اب پیغمبر کو زیادہ دیر تک انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ اُن کی قیادت و سیادت کا دائرہ سمٹ رہا
    ہے۔ وہ متنبہ ہو جائیں، اُن کے لیے خدا کا فیصلہ عنقریب صادر ہونے والا ہے۔

    پہلی سورہ میں خطاب تمام تر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اور دوسری میں قریش مکہ سے ہے۔

    اِن سورتوں کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب ہجرت کا مرحلہ قریب آ گیا ہے۔

  • In the Name of Allah
  • Click verse to highight translation
    Chapter 021 Verse 001 Chapter 021 Verse 002 Chapter 021 Verse 003
    Click translation to show/hide Commentary
    لوگوں کے لیے اُن کے حساب کا وقت قریب آ لگا ہے اور وہ غفلت میں پڑے ہوئے اعراض کیے جا رہے ہیں۔
    یعنی مشرکین مکہ کے لیے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اتمام حجت کے بعد اب سنت الٰہی کے مطابق کسی وقت بھی عذاب سے دوچار ہو سکتے تھے۔ پیچھے سورۂ طہٰ کے آخر میں جس چیز کے بارے میں فرمایا تھا کہ اُس کا انتظار کرو، یہ اُسی کے قریب آ لگنے کا ذکر ہے جس سے بغیر کسی تمہید کے یہ سورہ شروع ہو گئی ہے۔ یہ لوگ چونکہ خدا کی یاددہانی سے منہ موڑے ہوئے تھے، اِس لیے اللہ تعالیٰ نے بھی اِن سے منہ موڑ کر ایک عام لفظ ’النَّاس‘ سے اِن کا ذکر فرمایا ہے۔ آیت میں دو لفظ استعمال ہوئے ہیں: ایک غفلت، دوسرا اعراض۔ استاذ امام لکھتے ہیں: ’’... غفلت، یعنی زندگی کے اصل حقائق سے بے پروائی، بجاے خود بھی انسان کی شامت کی دلیل ہے اور ایک بہت بڑا جرم ہے، لیکن یہ جرم اُس صورت میں بہت زیادہ سنگین ہو جاتا ہے ،جب کوئی اللہ کا بندہ جھنجھوڑنے اور جگانے کے لیے اپنا پورا زور صرف کر رہا ہو، لیکن لوگ ایسے غفلت کے ماتے ہوں کہ اُس کی کوئی نصیحت بھی سننے کے لیے تیار نہ ہوں۔‘‘(تدبرقرآن ۵/ ۱۲۲)
    اُن کے پروردگار کی طرف سے جو تازہ یاددہانی بھی اُن کے پاس آتی ہے، وہ اُس کو سنتے ہیں تو کھیل میں لگے ہوتے ہیں۔
    n/a
    اُن کے دل غافل ہیں اور ظالم چپکے چپکے (آپس میں) سرگوشیاں کرتے ہیں کہ یہ شخص ہے ہی کیا، یہ تو تمھارے ہی جیسا آدمی ہے، پھر کیا آنکھوں دیکھتے (اِس کے) جادو میں پڑتے ہو؟
    یہاں جادو کا لفظ ٹھیک اُس مفہوم میں ہے، جس میں یہ ’إن من البیان لسحرًا‘ کے جملے میں آیا ہے، یعنی اُس کلام کا جادو جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو سنا رہے تھے۔ کسی کلام کی غیر معمولی تاثیر و تسخیر کے لیے یہ تعبیر اہل عرب کے ہاں بھی رائج تھی اور ہمارے ہاں بھی موجود ہے۔ اِس سے وہ اپنے لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ تم جس چیز سے متاثر ہو رہے ہو، وہ سراسر الفاظ کی ساحری ہے، اِسے کوئی الہامی کلام اور اِس کے پیش کرنے والے کو خدا کا رسول قرار دے کر اپنے آپ کو حماقت میں مبتلا نہ کرو۔ اِس میں شبہ نہیں کہ اِس کلام کا زور اور اِس کی سطوت و جلالت فی الواقع دلوں کو تسخیر کرتی ہے، لیکن اِس سے زیادہ اِس کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ لفظ و معنی کے ربط و نظام کا غیر معمولی کمال ہے جس کا مظاہرہ یہ نبوت و رسالت کے مدعی بن کر تمھارے سامنے کر رہے ہیں۔ تم سوچنے سمجھنے والے لوگ ہو، تمھیں تو اِس شخص کے فریب میں نہیں آنا چاہیے۔ یہ آخری بات، ظاہر ہے کہ مخاطبین کے اندر احساس برتری کو ابھارنے کے لیے کہی جاتی تھی۔


  •  Collections Add/Remove Entry

    You must be registered member and logged-in to use Collections. What are "Collections"?



     Tags Add tags

    You are not authorized tag these entries.



     Comment or Share

    Join our Mailing List