Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 98 آیات ) Maryam Maryam
Go
  • مریم (Mary)

    98 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ، سورۂ کہف کی مثنیٰ یا بالفاظ دیگر اس کی توام سورہ ہے۔ ان دونوں کے عمود میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ وہی مضمون جو سورۂ کہف میں بیان ہوا ہے اس میں بھی بیان ہوا ہے۔ لیکن طریق استدلال اور نہج بیان میں فرق ہے۔ اس میں حضرت آدم، نوح اور ابراہیم علیہم السلام کی نسل میں پیدا ہونے والے انبیائے اولوالعزم کے متعلق یہ بات بتائی گئی ہے کہ ان کی دعوت، توحید کی دعوت تھی۔ انھوں نے نماز و زکوٰۃ کا حکم دیا لیکن ان کے پیرو شرک میں مبتلا ہوئے اور نماز و زکوٰۃ ضائع کر کے بدعات و شہوات میں پڑ گئے۔ اور اب جب کہ ان کو ان کے اصل دین کی دعوت دی جا رہی ہے تو اس کی مخالفت کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے مقابل میں صبر و استقامت کی تلقین کی گئی ہے اور انجام کار کی کامیابی کی بشارت دی گئی ہے۔ آخر میں مخالفین کی گمراہی کی اصل علت کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ یہ لوگ اہل ایمان کے مقابل میں اپنی دنیوی کامیابیوں کو اپنے برحق ہونے کی دلیل سمجھتے ہیں حالانکہ یہ ان کے برحق ہونے کی دلیل نہیں بلکہ یہ خدا کی طرف سے ان کے لیے ڈھیل ہے کہ خدا کی حجت ان پر پوری ہو جائے اور جب وہ پکڑے جائیں تو ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔
    اس میں حضرت مسیح علیہ السلام اور حضرت مریم علیہما السلام کا ذکر خاص طور پر نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔ اس کی وجہ وہی ہے جس کی طرف ہم پچھلی سورہ میں اشارہ کر چکے ہیں کہ اس دور میں یہود کی طرح نصاریٰ نے بھی درپردہ قریش کی پشت پناہی شروع کر دی تھی۔ اہل کتاب کی اس پشت پناہی سے قریش کو بڑی طاقت حاصل ہو گئی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل عرب امی ہونے کے سبب سے مذہبی معاملات میں اہل کتاب سے ایک قسم کا حسن ظن رکھتے تھے۔ جب انھوں نے دیکھا کہ اہل کتاب بھی انہی کے ہم خیال ہیں تو اس سے ان کا حوصلہ بہت بڑھ گیا۔ قرآن نے اہل کتاب کے اس اثر کو باطل کرنے کے لیے ان کی حقیقت واضح کی۔ چنانچہ پیچھے سورۂ بنی اسرائیل میں یہود کا بالکل بے بنیاد ہونا واضح کیا ہے۔ اور اس سورہ میں بالکل اسی انداز میں نصاریٰ کی بے ثباتی دکھائی ہے۔ مقصود یہ ہے کہ قریش پر یہ حقیقت واضح ہو جائے کہ جن کی اپنی کوئی بنیاد نہیں ہے وہ بھلا حق و باطل کے اس معرکے میں ان کے لیے کیا سہارا بن سکیں گے۔

  • مریم (Mary)

    98 آیات | مکی

    الکہف - مریم

    ۱۸ - ۱۹

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع انذار و بشارت ہے جو پچھلی سورتوں سے چلا آرہا ہے۔

    پہلی سورہ ۔۔۔ الکہف ۔۔۔ میں اِس کے حقائق اُن واقعات سے مبرہن کیے گئے ہیں جن کے بارے میں قریش مکہ نے اہل کتاب، بالخصوص نصاریٰ کے القا کیے ہوئے سوالات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتحان کی غرض سے آپ کے سامنے پیش کیے ہیں۔

    دوسری سورہ ۔۔۔ مریم ۔۔۔ میں اِن القا کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ نے خود اِن کے دین کی حقیقت پوری طرح واضح کر دی ہے تاکہ قریش کو متنبہ کیا جائے کہ جن کی اپنی کوئی بنیاد نہیں ہے، اگر اُن کی شہ پر خدا کے پیغمبر کی ناقدری کرو گے تو اندازہ کر لو کہ کتنی بڑی نعمت سے اپنے آپ کو محروم کرلو گے۔

    دونوں سورتوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب ہجرت کا مرحلہ قریب آ گیا ہے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی کٓھٰیٰعٓصٓ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ حروف مقطعات میں سے ہے۔ ان حروف پر مفصل بحث سورۂ بقرہ کے شروع میں دیکھیے۔

      جاوید احمد غامدی یہ سورہ ’کٓھٰیٰعٓصٓ‘ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ سورہ کا نام ہے۔ اِس طرح کے جو نام قرآن میں آئے ہیں، اُن کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر ہم سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۱ کے تحت بیان کر چکے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی یہ تیرے رب کے اس فضل کی یاددہانی ہے جو اس نے اپنے بندے زکریا پر کیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حضرت زکریاؑ کا مرتبۂ خاص: ’ذکر‘ یہاں اسی مفہوم میں ہے جس مفہوم میں آگے حضرت مریمؑ سے لے کر حضرت ادریسؑ تک تمام انبیاء کا ذکر بصیغہ ’اذکر‘ ہوا ہے۔ یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت ہے کہ نادانوں نے تو یہ تمام سرگزشتیں فراموش کر دیں، یہ تمہیں سنائی جا رہی ہیں تاکہ تم بھی ان سے بہرہ مند ہو اور دوسروں کو بھی یاددہانی کرو کہ وہ بھی ان سے بہرہ مند ہوں۔ آیت میں ’عَبْدَہٗ‘ کا لفظ حضرت زکریا کے اختصاص پر دلیل ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ خود ’اپنا بندہ‘ کہہ کر یاد فرمائے اس کے لیے اس سے بڑا اعزاز اور کیا ہو سکتا ہے!

      بولائے تو کہ گر بندۂ خویشم خوانی
      زسر خواجگی کون و مکاں بر خیزم

       

      جاوید احمد غامدی یہ تیرے پروردگار کے (فضل و) رحمت کا ذکر ہے جو اُس نے اپنے بندے زکریا پر کیا تھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      لفظ ’ذِکْر‘ یہاں اُسی مفہوم میں ہے جس میں آگے ’اُذْکُرْ‘ کا صیغہ استعمال ہوا ہے۔
      آیت میں لفظ ’عَبْد‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ حضرت زکریا کے اختصاص کو بیان کرتا ہے۔ استاذ امام کے الفاظ میں، جس کو اللہ تعالیٰ خود اپنا بندہ کہہ کر یاد فرمائے، اُس کے لیے اِس سے بڑا اعزاز کیا ہو سکتا ہے۔ یہ زکریا کون تھے؟ ہم سورۂ آل عمران (۳) کی آیت ۳۷ کی تفسیر میں بیان کر چکے ہیں کہ یہ سیدنا ہارون علیہ السلام کے خاندان سے اور سیدہ مریم کے خالو تھے۔ بنی اسرائیل میں کہانت کا جو نظام قائم کیا گیا تھا، اُس کی رو سے لاوی بن یعقوب کا گھرانا مذہبی خدمات کے لیے خاص تھا۔ پھر بنی لاوی میں سے بھی مقدس میں خداوند کے آگے بخور جلانے اور پاک ترین چیزوں کی تقدیس کی خدمت سیدنا ہارون کے خاندان کے سپرد تھی۔ دوسرے بنی لاوی مقدس کے اندر نہیں جا سکتے تھے، بلکہ صحنوں اور کوٹھڑیوں میں کام کرتے تھے۔ سبت کے دن اور عیدوں کے موقع پر سوختنی قربانیاں چڑھاتے تھے اور مقدس کی نگرانی میں بنی ہارون کی مدد کرتے تھے۔ زکریا بنی ہارون کے خاندان میں سے ابیاہ کے سربراہ تھے۔ چنانچہ اپنے خاندان کی طرف سے یہی معبد کی خدمت انجام دیتے تھے۔

    • امین احسن اصلاحی جب اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اولاد کے لیے حضرت زکریاؑ کی دعا اور انداز دعا: یہ حضرت زکریاؑ کی دعا ہے جو انھوں نے فرزند کی ولادت کے لیے کی ہے۔ یہ دعا انھوں نے ہیکل میں، جیسا کہ آگے اشارہ آ رہا ہے، غالباً بحالت اعتکاف کی ہے۔ فرمایا کہ اس نے چپکے چپکے اپنے رب کو پکارا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دعا کا راز و نیاز کے انداز میں ہونا اس کے اولین آداب میں سے بھی ہے اور اس کی قبولیت کے لیے بہترین سفارش بھی۔ درحقیقت یہی دعائیں ہوتی ہیں جو ریا اور نمائش سے بھی پاک ہوتی ہیں اور انہی کے اندر بندہ اپنے دل کے اصلی راز بھی کھولتا ہے۔ اس وجہ سے دعا کے اس ادب کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ صرف اجتماعی دعائیں اس سے مستثنیٰ ہیں۔

      جاوید احمد غامدی جب اُس نے اپنے پروردگار کو چپکے چپکے پکارا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی راز و نیاز کے انداز میں۔ یہ دعا کے آداب میں سے ہے، اِس لیے کہ اِسی میں بندہ اپنے پروردگار کے لیے خاص ہو کر اپنی درخواست اُس کے حضور پیش کرتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اس نے دعا کی اے میرے پروردگار! میرے اندر سے میری ہڈیاں کھوکھلی ہو چکی ہیں اورمیرا سر بڑھاپے سے بھڑک اٹھا اور اے میرے رب میں تجھے پکار کے کبھی محروم نہیں رہا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مؤثر تمہید: ’وَھَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ‘ کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ میرا ظاہری جسم تو درکنار میرے تو اندر کی ہڈیاں تک کھوکھلی ہو چکی ہیں۔ یہ حضرت زکریاؑ نے عرض مدعا سے پہلے اس کے لیے تمہید استوار کی ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ ایسی مؤثر تمہید استوار کی ہے کہ اگر سوء ادب پر محمول نہ کیجیے تو عرض کروں کہ یہ خدا کی رحمت پر کمنڈ ڈال دینے والی تمہید ہے۔ حضرت زکریاؑ نے ایک تو اپنے ضعف و ناتوانی کو سفارش میں پیش کیا، دوسرے اپنے ساتھ زندگی بھر اپنے رب کے معاملے کو۔ فرماتے ہیں کہ اے رب میں کبھی تجھے پکار کے محروم نہیں رہا۔ غور کیجیے کہ جو سائل جس در سے کبھی محروم نہیں لوٹا ہے وہ اس پیری و ناتوانی میں، جب کہ اس کی ہڈیوں تک کی گود خشک ہو چکی ہے اس دروازے سے کس طرح محروم لوٹایا جائے گا۔

      جاوید احمد غامدی اُس نے عرض کیا: میرے پروردگار، میری ہڈیاں بوڑھی ہو گئی ہیں اور سر بڑھاپے سے بھڑک اٹھا ہے اور اے پروردگار، تجھ سے مانگ کر میں کبھی محروم نہیں رہا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      آگے کی آیتوں میں اشارہ ہے کہ اُنھوں نے یہ درخواست ہیکل میں غالباً اعتکاف کی حالت میں پیش کی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی میں اپنے بعد اپنے بھائی بندوں کی طرف سے اندیشہ رکھتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے تو تُو اپنے پاس سے مجھے ایک وارث بخش۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      دینی وراثت کے حامل کے لیے دعا: ’مَوَالِی‘ سے مراد کسی شخص کے بنی اعمام، بھائی بند اور اس کے نسبتی اعزہ و اقرباء ہوتے ہیں۔ حضرت زکریاؑ کے اقرباء، معلوم ہوتا ہے کہ اچھے لوگ نہیں تھے، ان کی طرف سے اندیشہ تھا کہ یہ لوگ، ان کی وفات کے بعد، ان کی اور آل یعقوبؑ کی ان دینی روایات کو قائم نہ رکھ سکیں گے جو اس پاکیزہ خاندان کا اصل سرمایۂ امتیاز ہیں۔ انھیں فکر تھی کہ خاندان میں کوئی ایسا شخص اٹھے جو اس خاندان کے مشن کو زندہ رکھ سکے اور ان روایات کا حامل ہو جو آل یعقوب کا اصلی ورثہ ہیں۔ اگرچہ خود پیری و ناتوانی کے آخری مرحلہ میں داخل ہو چکے تھے اور بیوی بانجھ تھیں، جہاں تک ظاہری اسباب و حالات کا تعلق ہے اس آرزو کے بر آنے کی کوئی توقع نہیں تھی، لیکن وہ اس رمز سے آگاہ تھے کہ اسباب و ذرائع خدا کے ہاتھ میں ہیں، خدا اسباب و ذرائع کا غلام نہیں ہے۔ اس وجہ سے انھوں نے دعا فرمائی کہ اے رب اگرچہ اسباب ناپید ہیں لیکن تیرے اختیار میں سب کچھ ہے۔ تو خاص اپنے پاس سے مجھے ایک وارث عنایت فرما جو میری اور آل یعقوب کی دینی وراثت کو سنبھال سکے اور اے رب اسے پسندیدہ اخلاق بنائیے۔ وہ ان کمزوریوں سے پاک ہو جو اب اس خاندان میں در آئی ہیں۔

      جاوید احمد غامدی مجھے اپنے پیچھے اپنے بھائی بندوں سے اندیشہ ہے اور میری بیوی بانجھ ہے۔ سو اپنے پاس سے تو مجھے ایک وارث عطا فرما دے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی وہ دینی اور اخلاقی لحاظ سے اچھے لوگ نہیں ہیں۔ چنانچہ اندیشہ ہے کہ میرے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد میری اور میرے خاندان کی اُن روایات کو قائم نہ رکھ سکیں گے جو ہمارا اصل سرمایۂ امتیاز ہیں۔
      یہاں تک اُس درخواست کی تمہید ہے جو اُنھوں نے آگے پیش فرمائی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...حضرت زکریا نے عرض مدعا سے پہلے اُس کے لیے تمہید استوار کی ہے اور اِس میں شبہ نہیں کہ ایسی مؤثر تمہید استوار کی ہے کہ اگر سوء ادب پر محمول نہ کیجیے تو عرض کروں کہ یہ خدا کی رحمت پر کمند ڈال دینے والی تمہید ہے۔ حضرت زکریا نے ایک تو اپنے ضعف و ناتوانی کو سفارش میں پیش کیا، دوسرے اپنے ساتھ زندگی بھر اپنے رب کے معاملے کو۔ فرماتے ہیں کہ اے رب، میں کبھی تجھے پکار کے محروم نہیں رہا۔ غور کیجیے کہ جو سائل جس در سے کبھی محروم نہیں لوٹا ہے، وہ اِس پیری و ناتوانی میں، جبکہ اُس کی ہڈیوں تک کی گود خشک ہو چکی ہے، اُس دروازے سے کس طرح محروم لوٹایا جائے گا۔‘‘(تدبرقرآن ۴/ ۶۳۵)

    • امین احسن اصلاحی جو میرا بھی وارث ہو اور آل یعقوب کی روایات کا بھی۔ اور اے رب! اس کو پسندیدہ اخلاق بنائیو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      دینی وراثت کے حامل کے لیے دعا: ’مَوَالِی‘ سے مراد کسی شخص کے بنی اعمام، بھائی بند اور اس کے نسبتی اعزہ و اقرباء ہوتے ہیں۔ حضرت زکریاؑ کے اقرباء، معلوم ہوتا ہے کہ اچھے لوگ نہیں تھے، ان کی طرف سے اندیشہ تھا کہ یہ لوگ، ان کی وفات کے بعد، ان کی اور آل یعقوبؑ کی ان دینی روایات کو قائم نہ رکھ سکیں گے جو اس پاکیزہ خاندان کا اصل سرمایۂ امتیاز ہیں۔ انھیں فکر تھی کہ خاندان میں کوئی ایسا شخص اٹھے جو اس خاندان کے مشن کو زندہ رکھ سکے اور ان روایات کا حامل ہو جو آل یعقوب کا اصلی ورثہ ہیں۔ اگرچہ خود پیری و ناتوانی کے آخری مرحلہ میں داخل ہو چکے تھے اور بیوی بانجھ تھیں، جہاں تک ظاہری اسباب و حالات کا تعلق ہے اس آرزو کے بر آنے کی کوئی توقع نہیں تھی، لیکن وہ اس رمز سے آگاہ تھے کہ اسباب و ذرائع خدا کے ہاتھ میں ہیں، خدا اسباب و ذرائع کا غلام نہیں ہے۔ اس وجہ سے انھوں نے دعا فرمائی کہ اے رب اگرچہ اسباب ناپید ہیں لیکن تیرے اختیار میں سب کچھ ہے۔ تو خاص اپنے پاس سے مجھے ایک وارث عنایت فرما جو میری اور آل یعقوب کی دینی وراثت کو سنبھال سکے اور اے رب اسے پسندیدہ اخلاق بنائیے۔ وہ ان کمزوریوں سے پاک ہو جو اب اس خاندان میں در آئی ہیں۔

      جاوید احمد غامدی جو میرا بھی وارث ہو اور یعقوب کے خاندان کا بھی۔ اور میرے پروردگار، تو اُس کو ایک پسندیدہ انسان بنا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی پسندیدہ اخلاق کا حامل اور اُن کمزوریوں سے پاک جو اِس وقت خاندان میں در آئی ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اے زکریا ہم تمہیں ایک فرزند کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہو گا۔ ہم نے اس سے پہلے اس کا کوئی نظیر نہیں بنایا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      سچی دیا اور اس کی قبولیت: جب دعا صحیح وقت پر، صحیح مقصد کے لیے، سچے جذبے کے ساتھ اور صحیح الفاظ میں کی جائے تو اس میں اور اس کی قبولیت میں کوئی فاصلہ نہیں رہ جاتا۔ اس کے لیے اسباب کے تمام پردے اٹھا دیے جاتے ہیں۔ ہر طرف تاریکی اور مایوسی ہوتی ہے، اسباب و حالات بالکل نامساعد نظر آتے ہیں، کسی طرف سے بھی امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی لیکن بندہ جب اس امید کے ساتھ اپنے آپ کو اپنے رب کے دروازے پر ڈال دیتا ہے کہ بہرحال میرے لیے یہی دروازہ ہے، میں نے جو کچھ پایا ہے یہیں سے پایا ہے اور جو کچھ پاؤں گا یہیں سے پاؤں گا تو بالآخر اس کے لیے خدا کی رحمت اس گوشہ سے نمودار ہوتی ہے جہاں سے اس کو وہم و گمان بھی نہیں ہوتا اور اس شان سے نمودار ہوتی ہے کہ اسباب و ظواہر کے غلام اس کو دیکھ کر انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔ حضرت زکریاؑ کی یہ دعا بھی ٹھیک مقصد کے لیے، ٹھیک وقت پر اور سچے جذبہ کے ساتھ تھی اس وجہ سے الفاظ زبان سے نکلے نہیں کہ اس کی قبولیت کی بشارت نازل ہو گئی۔ فرمایا کہ اے زکریا ہم تمہیں ایک فرزند کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہو گا۔
      ’لَمْ نَجْعَلْ لَّہٗ مِنْ قَبْلُ سَمِیًّا‘ ’سمی‘ کے معنی نظیر و مثال کے ہیں۔ اس سورہ میں آگے آیت ۶۵ میں ہے ’ھَلْ تَعْلَمُ لَہٗ سَمِیًّا‘ کیا تم خدا کی کسی نظیر سے آشنا ہو۔ یہ حضرت زکریاؑ کو اطمینان دلایا گیا ہے کہ ہر چند تم بوڑھے ہو اور تمہاری بیوی بانجھ ہے، بوڑھے مرد اور بانجھ بیوی کے ہاں اولاد کی کوئی نظیر موجود نہیں ہے لیکن ہماری مرضی یہی ہے کہ ہم تمہیں ایسی ہی بے نظیر اولاد دیں۔

      جاوید احمد غامدی (فرمایا): اے زکریا، ہم تمھیں ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہو گا۔ ہم نے اِس سے پہلے اُس کا کوئی نظیر نہیں بنایا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      حضرت زکریا نے بالکل صحیح وقت پر، صحیح مقصد کے لیے اور نہایت سچے جذبے کے ساتھ دعا کی تھی۔ چنانچہ زبان سے نکلی نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اُسے قبول فرما لیا۔ بندے کی دعا اگراِس یقین کا بے تابانہ اظہار ہو کہ میرے لیے ایک ہی دروازہ ہے، اِس سے پہلے بھی یہیں سے پایا ہے اور اب بھی یہیں سے پاؤں گا تو اُس کے لیے خدا کی رحمت اُن گوشوں سے نمودار ہو جاتی ہے، جہاں سے اُس کو وہم و گمان بھی نہ ہو۔
      یعنی اِس سے پہلے کوئی بچہ اِس طرح کے بوڑھے باپ اور بانجھ ماں کو نہیں دیا ہے، اِس لیے عام قانون سے ہٹ کر یہ ہر لحاظ سے بے نظیر فرزند ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اس نے کہا اے میرے خداوند! میرے ہاں لڑکا کیسے ہو گا، میری بیوی تو بانجھ ہے اور میں خود بڑھاپے کی بے بسی کو پہنچ چکا ہوں! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’عِتی‘ کے معنی ہیں کسی شے کا حد سے متجاوز ہو جانا، قابو اور اختیار سے باہر نکل جانا ’وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْکِبَرِ عِتِیًّا‘ یعنی اب میں بڑھاپے کی اس حد کو پہنچ چکا ہوں کہ مجھے اپنے اعضا و جوارح اور اعصاب پر قابو نہیں رہ گیا ہے۔
      سوال مزید اطمینان کے لیے: یہ حضرت زکریاؑ نے اس بشارت کے باب میں مزید اطمینان حاصل کرنے کے لیے اپنے اس تردد کا اظہار فرمایا جو ظاہری حالات کو دیکھتے ہوئے اس بشارت کے ظہور سے متعلق ان کو لاحق ہوا۔ فرمایا کہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں خود اپنے بڑھاپے کی اس حد کو پہنچ چکا ہوں کہ مجھے اپنے اعصاب پر قابو نہیں رہ گیا ہے، ایسی حالت میں میرے ہاں اولاد کس طرح ہو گی۔

      جاوید احمد غامدی اُس نے عرض کیا: پروردگار، میرے ہاں لڑکا کیسے ہو گا، جبکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں خود بڑھاپے کی انتہا کو پہنچ چکا ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی فرمایا، ایسا ہی ہو گا تیرے رب نے فرمایا ہے کہ یہ میرے لیے آسان ہے۔ میں نے اس سے پہلے تم کو پیدا کیا درآنحالیکہ تم کچھ بھی نہ تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قرینہ دلیل ہے کہ یہ جواب ہاتف غیب کی زبان سے ہے۔ ’کَذٰلِکَ‘ کی خبر کا حذف زور اور تاکید پر دلیل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے رب کا فیصلہ یہی ہے، بس یوں ہی ہو گا۔ جس خدا نے عدم محض سے انسان کو وجود بخشا اس کے لیے بوڑھے باپ اور بانجھ ماں سے اولاد پیدا کر دینا کیا مشکل ہے۔

      جاوید احمد غامدی فرمایا: ایسا ہی ہو گا۔ تیرے پروردگار کا ارشاد ہے کہ یہ میرے لیے بہت آسان ہے۔ میں اِس سے پہلے تجھے پیدا کر چکا ہوں، جبکہ تم کچھ بھی نہیں تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      قرینہ دلیل ہے کہ یہ جواب ہاتف غیب کی زبان سے ہے۔ آیت میں ’کَذٰلِکَ‘ کی خبر محذوف ہے۔ یہ زور اور تاکید کے لیے حذف کر دی گئی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اس نے کہا، اے میرے خداوند! میرے لیے کوئی نشانی ٹھہرا دیجیے۔ فرمایا، تمہارے لیے نشانی یہ ہے کہ تم تین شب و روز لوگوں سے بات نہ کر سکو گے درآنحالیکہ تم بالکل تندرست ہو گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اطمینان قلب کے لیے ایک اور درخواست: یہ حضرت زکریاؑ نے اپنے اطمینان قلب کے لیے ایک اور درخواست پیش کر دی۔ یہ بشارت ان کی دلی آرزو کا مظہر اور ان کے لیے بڑی اہمیت رکھنے والی تھی اس وجہ سے انھوں نے چاہا کہ ہر پہلو سے اس پر شرح صدر ہو جائے۔ حضرت زکریاؑ نے یہ بشارت ہاتف غیب سے سنی تھی اس وجہ سے انھیں یہ خیال ہو سکتا تھا کہ ممکن ہے یہ واہمہ کی خلاقی ہو اور اپنے ہی گنبد دل کی صدا اس شکل میں سنائی دی ہو۔ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ ان کو کوئی ایسی نشانی دکھا دی جائے جس سے انھیں اطمینان ہو جائے کہ یہ بشارت رب ہی کی طرف سے ملی ہے۔ اس میں نفس یا شیطان کو کوئی دخل نہیں ہے۔ اس قسم کی درخواستیں بعض دوسرے انبیاؑء کی بھی قرآن میں مذکور ہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہیں کہ حضرات انبیاء علیہم السلام رویا اور ہاتف غیب کی باتیں قبول کرنے کے معاملے میں بڑی احتیاط برتتے تھے۔ اس سے خدانخواستہ ان کے ایمان کے بارے میں کوئی شبہ کرنے کی گنجائش نہیں نکلتی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریاؑ کی یہ دعا بھی قبول فرمائی اور اس بشارت کے خدائی بشارت ہونے کی نشانی یہ مقرر فرما دی کہ تم تین شبانہ روز مسلسل تسبیح و تہلیل تو کر سکو گے لیکن کوئی اور لفظ زبان سے نہ نکال سکو گے۔ ظاہر ہے کہ ایک آدمی پر ایسی حالت کا طاری ہو جانا کہ وہ ذکر الٰہی تو کر سکے لیکن کوئی اور کلمہ زبان سے نہ نکال سکے، کوئی شیطانی حالت نہیں ہو سکتی، یہ ہو سکتی ہے تو رحمانی حالت ہی ہو سکتی ہے۔ چنانچہ یہ حالت حضرت زکریاؑ پر طاری ہو گئی، وہ محراب عبادت سے نکل کر لوگوں میں آئے تو وہ کچھ بول نہیں سکتے تھے۔ صرف اشارے سے انھوں نے لوگوں کو تسبیح و تہلیل میں مشغول رہنے کی ہدایت کی۔
      بعض لوگوں نے ’اَلَّا تُکَلِّمَ‘ کو خبر کے بجائے نہی کے معنی میں لیا ہے۔ آیت کا مطلب ان کے نزدیک یہ ہے کہ حضرت زکریاؑ نے نشانی مانگی تو ان کو حکم ہوا کہ تین رات لگاتار تم کسی سے بات نہ کرو۔ جن حضرات نے آیت کا مطلب یہ لیا ہے انھوں نے نہ تو اس بات پر غور کرنے کی زحمت اٹھائی کہ حضرت زکریاؑ نے کس چیز کی نشانی مانگی تھی اور نہ اس مسئلہ پر غور فرمایا کہ حضرت زکریاؑ کو تین شبانہ روز خاموش رہنے کے حکم میں نشانی ہونے کا کیا پہلو نکلا!
      ’سَوِیّ‘ کا مفہوم: ’سَوِیّ‘ مرض اور عیب سے بری کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگرچہ تم تین شبانہ روز کسی سے بات تو نہ کر سکو گے لیکن یہ حالت کسی مرض یا خرابی کا نتیجہ نہیں ہو گی بلکہ ہرگونہ صحت کے ساتھ محض اللہ کے حکم سے بطور ایک نشانی کے ہو گی جس طرح حضرت موسیٰ ؑ کے ید بیضاء کی نشانی سے متعلق فرمایا ہے کہ ’تَخْرُجُ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْءٍ‘ اسی طرح یہاں لفظ ’سَوِیًّا‘ بطور ایک بدرقہ کے ہے۔ لگاتار یا مسلسل کے معنی میں اس کا استعمال معروف نہیں ہے۔ آگے اسی سورہ میں یہ لفظ آیت ۱۷ میں بھی آیا ہے وہاں یہ صریحاً بھلے چنگے، ہٹے کٹے، تندرست اور مستوی القامت کے معنی میں ہے۔
      لیالی، شب و روز، دونوں پر حاوی ہے: ’لیالی‘ کا لفظ یہاں شب و روز دونوں پر حاوی ہے۔ سورۂ آل عمران میں یہی مضمون لفظ ’ایام‘ سے بیان ہوا ہے۔ ایام کا اطلاق بھی شب و روز دونوں پر ہوتا ہے۔ عربی میں یہ استعمالات معروف ہیں۔

      جاوید احمد غامدی زکریا نے کہا: میرے پروردگار، میرے لیے کوئی نشانی ٹھیرا دیجیے۔ فرمایا: تمھارے لیے نشانی یہ ہے کہ تم تین شب و روز لوگوں سے بات نہیں کر سکو گے، جبکہ تم بالکل تندرست ہو گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ زکریا کا گمان تو اگرچہ یہی تھا کہ یہ بشارت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، لیکن دل کے کسی گوشے میں یہ کھٹک ضرور تھی کہ ممکن ہے کہ یہ اپنے ہی گنبد دل کی صدا اور اپنی ہی آرزوؤں کے ہجوم میں شیطان کا کوئی القا ہو جسے وہ فرشتوں کا الہام سمجھ بیٹھے ہیں۔ چنانچہ یہ درخواست اُنھوں نے اپنے اطمینان کے لیے کی۔
      یعنی یہ حالت کسی مرض یا خرابی کی وجہ سے نہیں ہو گی، بلکہ خدا کی ایک نشانی ہو گی کہ تم خدا کی تسبیح و تہلیل تو کرو گے، لیکن لوگوں سے کوئی بات نہیں کر سکو گے۔ سورۂ آل عمران (۳) کی آیت ۴۱ میں اِس کی تصریح ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... ظاہر ہے کہ ایک آدمی پر ایسی حالت کا طاری ہو جانا کہ وہ ذکر الٰہی تو کر سکے، لیکن کوئی اور کلمہ زبان سے نہ نکال سکے، کوئی شیطانی حالت نہیں ہو سکتی۔ یہ ہو سکتی ہے تو رحمانی حالت ہی ہو سکتی ہے۔ چنانچہ یہ حالت حضرت زکریا پر طاری ہو گئی۔ وہ محراب عبادت سے نکل کر لوگوں میں آئے تو وہ کچھ بول نہیں سکتے تھے۔ صرف اشارے سے اُنھوں نے لوگوں کو تسبیح و تہلیل میں مشغول رہنے کی ہدایت کی۔‘‘(تدبرقرآن ۴/ ۶۳۸)

    • امین احسن اصلاحی پس وہ محراب عبادت سے نکل کر اپنے لوگوں کے پاس آیا اور ان سے اشارہ سے کہا کہ صبح و شام خدا کی تسبیح کرو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      تسبیح کی ہدایت کے اندر رمز: ’محراب‘ سے مراد معبد کا کوئی حجرہ یا برآمدہ ہے۔ آیت سے یہ بات نکلتی ہے کہ حضرت زکریاؑ اس دعا کے وقت ہیکل ہی کے کسی گوشہ میں معتکف تھے۔ سورۂ آل عمران سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ وہ نماز میں کھڑے تھے کہ یہ بشارت ان پر نازل ہوئی۔ اس کے بعد وہ اپنے لوگوں میں آئے اور اشارے سے ان کو برابر تسبیح و استغفار میں مشغول رہنے کی ہدایت کی۔ اس اشارے کے اندر یہ بات مضمر تھی کہ وہ قدرت کے کسی بہت بڑے راز کے امین ہیں جس کے اظہار کا وقت ابھی نہیں آیا ہے! لوگ خدا کی حمد و تسبیح میں مشغول رہ کر اس کا انتظار کریں اور دیکھیں کہ پردۂ غیب سے کیا ظہور میں آتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی چنانچہ محراب عبادت سے نکل کر وہ اپنے لوگوں کے پاس آیا، پھر اشارے سے اُن کو ہدایت کی کہ صبح و شام خدا کی تسبیح کرتے رہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      لفظ ’مِحْرَاب‘ یہاں معبد کے اُن حجروں کے لیے آیا ہے جن میں بیٹھ کر لوگ عبادت کرتے تھے۔ اِس سے معلوم ہوا کہ دعا اور بشارت کے وقت حضرت زکریا ہیکل ہی کے کسی گوشے میں مصروف عبادت تھے۔ سورۂ آل عمران (۳) کی آیت ۳۹ میں وضاحت ہے کہ جب یہ بشارت نازل ہوئی تو وہ نماز میں کھڑے تھے۔ اِسی طرح یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ باہر لوگ کسی وجہ سے اُن کا انتظار کر رہے تھے۔ انجیل میں ہے کہ لوگوں کا خیال تھا کہ اُنھوں نے مقدس میں کوئی رؤیا دیکھا ہے۔* چنانچہ وہ باہر آئے تو اُنھوں نے اشارہ کیا کہ تسبیح و تہلیل کرو۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... اِس اشارے کے اندر یہ بات مضمر تھی کہ وہ قدرت کے کسی بہت بڑے راز کے امین ہیں جس کے اظہار کا وقت ابھی نہیں آیا ہے۔ لوگ خدا کی حمد و تسبیح میں مشغول رہ کر اُس کا انتظار کریں اور دیکھیں کہ پردۂ غیب سے کیا ظہور میں آتا ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۴ / ۶۳۸)

      _____
      * لوقا ۱: ۲۲۔

    • امین احسن اصلاحی اے یحییٰ کتاب کو مضبوطی سے پکڑو اور ہم نے اس کو بچپن ہی میں قوت فیصلہ عطا فرمائی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’کتاب‘ اور ’حکم‘ سے مراد: ’کتاب‘ سے مراد ظاہر ہے کہ تورات ہے۔ حضرت یحییٰ پر کوئی الگ کتاب نازل نہیں ہوئی۔ لفظ ’حکم‘ پر ہم آل عمران ۷۹ کے تحت مفصل بحث کر چکے ہیں۔ اس سے مراد حق و باطل میں امتیاز کی قوت و صلاحیت ہے۔ یہی قوت و صلاحیت تمام علم و حکمت کی بنیاد ہے۔ یہ صلاحیت عام حالات میں تو سنِ رشد کے بعد ابھرتی ہے اور چالیس سال کی عمر میں پختہ ہوتی ہے لیکن حضرت یحییٰؑ پر اللہ تعالیٰ کا یہ خاص فضل ہوا کہ ان کو یہ دولت گراں مایہ بچپن ہی میں مل گئی۔
      کتاب کو مضبوطی سے پکڑنے کا مفہوم: یہاں غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اس آیت سے پہلے یہ مضمون محذوف ہے کہ بالآخر اللہ تعالیٰ کی بشارت کے مطابق حضرت یحییٰ ؑ کی ولادت ہوئی، وہ سن رشد کو پہنچے، اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت سے سرفراز فرمایا اور ان کو اپنی کتاب مضبوطی سے پکڑنے کی ہدایت فرمائی۔ ’کتاب کو مضبوطی سے پکڑو‘ کا مفہوم یہ ہے کہ شیطان اور اس کے اولیاء اس کتاب کے ابدی دشمن ہیں وہ تم کو اس کتاب سے برگشتہ کرنے کے لیے اپنا پورا زور صرف کر دیں گے تو خبردار خوف یا طمع یا کسی چیز سے بھی ڈرا کر یا ورغلا کر تم کو وہ اس سے ہٹانے نہ پائیں۔ چنانچہ حضرت یحییٰ ؑ کے متعلق معلوم ہے کہ اس کتاب کی خاطر انھوں نے سر کٹوا دیا۔

      جاوید احمد غامدی (یہ بشارت پوری ہوئی ۔ چنانچہ وہ بچہ سن رشد کو پہنچا تو فرمایا): اے یحییٰ، ہماری کتاب کو مضبوط تھام لو۔ ہم نے اُس کو بچپن ہی میں (حق و باطل کے درمیان) فیصلہ کر لینے کی صلاحیت سے نوازا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی تورات کو۔ یہ ہدایت اِس لیے ہوئی کہ شیاطین جن و انس کو سب سے بڑھ کر دشمنی کتاب الٰہی ہی سے ہوتی ہے۔ چنانچہ اُس کے حاملین کو وہ اُس سے برگشتہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔

    • امین احسن اصلاحی اور خاص اپنے پاس سے سوز و گداز اور پاکیزگی۔ اور وہ نہایت پرہیزگار تھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’حنان‘ کا مفہوم: ’حنان‘ کے معنی محبت، ذوق و شوق اور سوز و گداز کے ہیں۔ یہ لفظ نہایت معروف و متداول الفاظ میں سے ہے اس وجہ سے تعجب ہوتا ہے کہ حضرت ابن عباسؓ کی طرف، بعض لوگوں نے یہ بات، کس طرح منسوب کر دی کہ انھوں نے فرمایا کہ مجھے اس کے معنی معلوم نہیں۔
      قلب و روح کی اصل زندگی: یہ سوزوگداز اور یہ محبت ہی انسان کے قلب و روح کی زندگی کی اصلی علامت ہے۔ یہ نہ ہو تو انسان انسان نہیں بلکہ پتھر کی ایک مورت ہے۔ اس سوز و گداز میں سے حضرت یحییٰؑ کو، جیسا کہ ’مِّنْ لَّدُنَّا‘ کے الفاظ سے واضح ہے، نہایت وافر حصہ ملا تھا۔ ان کے سوز و گداز اور جوش محبت الٰہی کا کچھ اندازہ کرنا ہو تو انجیلوں میں ان کے ارشادات پڑھیے۔ واقعہ یہ ہے کہ ان کے اقوال کی حرارت آج بھی دلوں کو گرماتی اور روحوں کو تڑپاتی ہے۔
      ’زکوٰۃ‘ کا مفہوم: ’حنان‘ کے بعد ان کی صفت میں ’زَکٰوۃ‘ کا لفظ آیا ہے۔ ’زَکٰوۃ‘ کے معنی پاکیزگی اور طہارت کے ہیں۔ اس طہارت سے مراد ظاہر اور باطن دونوں کی طہارت ہے۔ یہ درحقیقت ’حنان‘ ہی کا پرتو ہے۔ گداز باطنی موجود ہو تو نہ باطن میں کسی اخلاقی و عقائدی آلائش کا اثر باقی رہتا ہے نہ ظاہر میں۔
      ’تقی‘ کا مفہوم: ’زَکٰوۃ‘ کے بعد ’تقی‘ کا لفظ ہے۔ پچھلی دونوں صفتوں کا تعلق زیادہ تر انسان کے باطن سے ہے اس لفظ میں ان کے ظاہری اعمال و اخلاق اور کردار کی تعریف ہے کہ نہایت ہی پرہیزگار اور متقی تھے۔ ان کی ساری زندگی ترک دنیا کی زندگی تھی۔ انھوں نے توبہ کی منادی اس زور و شور سے کی کہ اس سے دشت و جبل گونج اٹھے۔ ہیکل میں تقریر کرتے تو لوگوں کے دل دہل جاتے لیکن اس دنیا سے ان کا تعلق صرف دینے کے لیے تھا اس سے لیا انھوں نے کچھ بھی نہیں۔ جنگل کے شہد اور اس کی ٹڈیوں پر گزارہ کرتے۔ کمبل کی پوشاک سے تن ڈھانکتے اور جس سر کو چھپانے کے لیے اس دنیا میں کوئی چھت نہیں بنائی اس کو خدا کی کتاب کی خاطر کٹوا کر اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

      جاوید احمد غامدی اور خاص اپنی طرف سے سوز و گداز اور (ظاہر و باطن کی) پاکیزگی عطا فرمائی اور وہ نہایت پرہیزگار (تھا)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’حَنَان‘ آیا ہے۔ اِس کے معنی محبت، ذوق و شوق اور سوزوگداز کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی بندے پر خاص کرم فرماتا ہے تو اُسے اِن چیزوں سے بھی حصۂ وافر عطا کر دیتا ہے۔ اِس لیے کہ انسان کے قلب و روح کی زندگی اِنھی چیزوں سے عبارت ہے۔ حضرت یحییٰ پر یہ عنایت کس درجے میں تھی؟ اِس کا کچھ اندازہ انجیل میں اُن کے ارشادات سے کیا جا سکتا ہے۔ اُن کی دعوت کا ایک خاص رنگ تھا۔ وہ لوگوں سے گناہوں کی توبہ کراتے اور توبہ کرنے والوں کو روح و جسم ، دونوں کی پاکیزگی کے لیے غسل کراتے تھے۔ اِسی بنا پر اُنھیں یوحنا بپتسمہ دینے والا (John the Baptist) کہا جاتا ہے۔ اُنھیں مسیح علیہ السلام کا ارہاص بھی کہتے ہیں۔ چنانچہ وہ اُن کی منادی کرتے تھے کہ توبہ کرو، اِس لیے کہ خدا کی بادشاہی قریب آگئی ہے۔* اِسی طرح کہتے تھے کہ میں بیابان میں ایک پکارنے والے کی آواز ہوں کہ تم خداوند کی راہ کو سیدھا کرو۔**
      حضرت مسیح نے فرمایا تھا کہ جو عورتوں سے پیدا ہوئے ہیں، اُن میں یوحنا بپتسمہ دینے والے سے بڑا کوئی نہیں ہوا۔*** اِس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ زہد و تقویٰ میں بھی وہ کس مقام پر تھے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...اُن کی ساری زندگی ترک دنیا کی زندگی تھی۔ اُنھوں نے توبہ کی منادی اِس زور و شور سے کی کہ اُس سے دشت و جبل گونج اٹھے۔ ہیکل میں تقریر کرتے تو لوگوں کے دل دہل جاتے۔ لیکن اِس دنیا سے اُن کا تعلق صرف دینے کے لیے تھا ،اِس سے لیا اُنھوں نے کچھ بھی نہیں۔ جنگل کے شہد اور اُس کی ٹڈیوں پر گزارہ کرتے، کمبل کی پوشاک سے بدن ڈھانکتے اور جس سر کو چھپانے کے لیے اِس دنیا میں کوئی چھت نہیں بنائی، اُس کو خدا کی کتاب کی خاطر کٹوا کر اِس دنیا سے رخصت ہو گئے۔‘‘(تدبرقرآن ۴/ ۶۳۹)

      یہ واقعہ اِس طرح ہوا کہ اُس عہد کے یہودی فرماں روا ہیرود اینٹی پاس کی فاسقانہ حرکات پر حضرت یحییٰ کی تنقیدوں کے جرم میں اُنھیں قید کر دیا گیا۔ وہ جیل ہی میں تھے کہ ہیرود کی سالگرہ کے جشن میں ہیرودیاس کی بیٹی کے رقص سے متاثر ہو کر ہیرود نے اُس سے پوچھا کہ مانگ کیا مانگتی ہے؟ یہ ہیرودیاس ہیرود کے بھائی فلپ کی بیوی تھی جسے اس نے اپنے گھر ڈال رکھا تھا۔ بیٹی نے اپنی فاحشہ ماں سے پوچھا کہ کیا مانگوں؟ ہیرودیاس حضرت یحییٰ کی دعوت کو اپنے جیسی عورتوں کے لیے خطرہ سمجھتی تھی۔ اُس نے بیٹی سے کہا کہ یحییٰ کا سر مانگ لے۔ ہیرود اگرچہ یحییٰ علیہ السلام کو ایک مقدس آدمی سمجھ کر اُن کا احترام کرتا تھا، مگر محبوبہ کی بیٹی کا تقاضا رد نہیں کر سکا۔ اُس نے قیدخانے سے اُن کا سر کٹوا کر منگوایا اور رقاصہ کی فرمایش کے مطابق ایک تھال میں رکھ کر اُس کی نذر کر دیا۔****
      یہاں یہ امر واضح رہے کہ یحییٰ علیہ السلام کی جس فقیرانہ زندگی کا ذکر اوپر ہوا ہے، وہ اُنھوں نے اِس لیے اختیار کی کہ وہ اور مسیح علیہ السلام، دونوں بنی اسرائیل پر اتمام حجت سے پہلے آخری اتمام حجت کے لیے آئے تھے۔ وہ اُس بستی میں گھر کیا بناتے جو سیلاب کی زد میں تھی اور اُس درخت کی بہار کیا دیکھتے جس کی جڑوں پر کلہاڑا رکھا ہوا تھا۔ ایک ایک دروازے پر دستک دے کر لوگوں کو آنے والے طوفان سے خبردار کرنے والے اپنا گھر بسانے اور اپنا کھیت اگانے میں لگ جاتے تو اپنے فرض سے کوتاہی کے مرتکب قرار پاتے۔ چنانچہ دونوں نے تجرد و انقطاع کا طریقہ اختیار کیا، قوت لا یموت پر اکتفا کی، درویشوں کا لباس پہنا اور زمین و آسمان ہی کو چھت اور بچھونا بنا کر زندگی بسر کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئے۔
      _____
      * متی ۳: ۲۔
      ** یوحنا ۱: ۲۳۔
      *** متی ۱۱: ۱۱۔
      ****متی ۱۴: ۳۔۱۲۔ مرقس ۶: ۱۷۔۲۹۔ لوقا ۳: ۱۹۔۲۰۔

    • امین احسن اصلاحی اور وہ اپنے والدین کا فرماں بردار تھا، سرکش و نافرمان نہ تھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ماں باپ کے ساتھ وفاداری: ’بَرَّام بِوَالِدَیۡہِ وَلَمْ یَکُنْ جَبَّارًا عَصِیًّا‘۔ یہ ماں باپ کے ساتھ ان کی وفاداری کا بیان ہے کہ باوجودیکہ وہ یہ سمجھ سکتے تھے کہ ان کی ولادت سے لے کر ان کی تعلیم و تربیت تک ہر چیز براہ راست اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں ہوئی ہے، وہ کسی چیز میں بھی اپنے ماں باپ کے محتاج نہیں ہوئے لیکن وہ اس قسم کی کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوئے بلکہ برابر اپنے والدین کے نہایت وفادار اور اطاعت شعار رہے۔ وہ سرکش اور نافرمان نہیں تھے۔

      جاوید احمد غامدی اور اپنے والدین کا فرماں بردار بھی تھا، سرکش اور نافرمان نہیں تھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اِس کے باوجود نہایت فرماں بردار تھے کہ ولاد ت سے لے کرتعلیم و تربیت تک کسی معاملے میں بھی والدین کے محتاج نہیں رہے، بلکہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں اِن تمام مراحل سے گزرے۔

    • امین احسن اصلاحی اس پر سلامتی ہے جس روز وہ پیدا ہوا، جس دن وہ مرے گا اور جس دن زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ہر مرحلہ میں مبارک سلامت: یہ فرشتوں کی مبارک سلامت کا حوالہ ہے کہ یہ مرد حق دنیا میں جس دن آیا قدوسیوں نے اس دن مبارک و سلامت کے ساتھ اس کا خیر مقدم کیا، جس دن مرا اس دن بھی انھوں نے ’اَھْلًا وَسَھْلًا‘ کے ساتھ اس کا استقبال کیا اور جس دن اٹھایا جائے گا اس دن بھی اسی نعرۂ تحیت کے ساتھ وہ اس کو خوش آمدید کہیں گے۔ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اس دنیا نے اس کے ساتھ جو کچھ کیا کیا، خدا کے ہاں ہر مرحلہ میں اس کے ساتھ جو معاملہ ہوا یا ہو گا وہ مبارک سلامت کا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور اُس پر سلامتی (کی بشارت) تھی، جس دن وہ پیدا ہوا اور جس دن مرے گا اور جس دن زندہ اٹھایا جائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ زندگی کے ہر مرحلے میں اُن کے لیے فرشتوں کی مبارک سلامت کا حوالہ ہے جس سے وہ اُن کا استقبال کریں گے۔

    • امین احسن اصلاحی اور کتاب میں مریم کی سرگزشت کو یاد کرو جب کہ وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر پورب کی جگہ میں جا بیٹھی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’الکتاب‘ سے مراد: ’الکتاب‘ سے مراد اناجیل ہیں جن میں جستہ جستہ حضرت مریمؑ کے حالات بیان ہوئے ہیں۔ ہم نے سورۂ آل عمران کی تفسیر میں تفصیل کے ساتھ ان کا حوالہ دیا ہے۔ اس وجہ سے یہاں ہم صرف آیات کے سیاق و سباق کی وضاحت کی حد تک بحث کو محدود رکھیں گے۔
      ہیکل میں عورتوں کی عبادت کی جگہ مشرقی سمت میں تھی: ’انتباذ‘ کے معنی لوگوں سے بالکل منقطع ہو کر ایک طرف ہو جانے کے ہیں۔ یہاں اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت مریمؑ ہیکل کے مشرقی جانب میں معتکف ہو گئیں۔ مشرقی جانب میں اس وجہ سے کہ ہیکل کا جو حصہ عورتوں کے اعتکاف و عبادت کے لیے خاص تھا وہ مشرقی سمت ہی میں تھا۔ اس عہد کے بیت المقدس کے نقشوں میں عورتوں کی جائے عبادت (WOMEN COURT) کو مشرقی جانب ہی دکھایا گیا ہے۔ نصاریٰ نے اپنا قبلہ جو مشرق کو بنایا اس میں بڑا دخل اسی چیز کو ہے کہ وہ ہیکل کی مشرقی سمت کو اپنی خاص سمت سمجھتے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی (اب) اِس کتاب میں مریم کا ذکر کرو، جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر (بیت المقدس کے) مشرقی جانب گوشہ نشین ہو گئی تھی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      عورتوں کے اعتکاف و عبادت کی جگہ ہیکل میں مشرقی جانب تھی۔ یہاں اِس سمت کا ذکر اِسی رعایت سے ہوا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی پس اس نے اپنے آپ کو ان سے پردے میں کر لیا تو ہم نے اس کے پاس اپنا فرشتہ بھیجا جو اس کے سامنے ایک کامل بشر کی صورت میں نمودار ہوا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حضرت مریمؑ کا امتحان: لوگوں کے اور اپنے درمیان پردہ حائل کر لینا اس بات کا قرینہ ہے کہ وہ اعتکاف میں بیٹھ گئیں۔ اس دوران میں اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس اپنا فرشتہ بھیجا جو ایک تندرست و توانا آدمی کی شکل میں ان کے سامنے نمودار ہوا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو حضرت مریمؑ کا امتحان لینا منظور تھا کہ فرشتہ بشری روپ میں نمودار ہوا ورنہ حضرات انبیاؑء کے لیے بھی فرشتوں کے ظہور کی عام شکل یہ نہیں رہی ہے۔ اس حادثہ کا جو اثر حضرت مریمؑ پر، جو ابھی فرشتہ اور ہاتف وغیرہ سے ناآشنا تھیں، پڑا ہو گا اس کا اندازہ کرنا کچھ آسان نہیں ہے لیکن اس نازک موقع پر حضرت مریمؑ نے جس کردار کا مظاہرہ کیا وہ بے مثال ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور اپنے آپ کو اُن سے پردے میں کر لیا تھا۔ پھر ہم نے اُس کے پاس اپنا فرشتہ بھیجا اور وہ اُس کے سامنے ایک پورے آدمی کی صورت میں نمودار ہو گیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ اعتکاف میں بیٹھ گئی تھیں۔
      اِس سے غالباً حضرت مریم کا امتحان مقصود تھا۔ آگے کی آیات سے واضح ہے کہ وہ اِس میں پوری طرح کامیاب رہیں اور اِس نازک موقع پر اُسی کردار کا مظاہرہ کیا جو اُن جیسی جلیل القدر خاتون سے متوقع تھا۔

    • امین احسن اصلاحی وہ بولی کہ اگر تم کوئی خدا ترس آدمی ہو تو میں تم سے خدائے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حضرت مریمؑ کے بے مثال کردار: انھوں نے بڑے وقار کے ساتھ ظاہر ہونے والی ذات کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اگر تم میں کچھ خدا ترسی ہے تو میں تم سے اپنے آپ کو خدائے رحمان کی پناہ میں دیتی ہوں۔

      جاوید احمد غامدی مریم (نے اُسے دیکھا تو) بول اٹھی کہ میں تم سے خداے رحمن کی پناہ مانگتی ہوں، اگر تم اُس سے ڈرنے والے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اس نے کہا میں تو تمہارے رب ہی کا فرستادہ ہوں تاکہ تمہیں ایک پاکیزہ فرزند عطا کروں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      فرشتہ نے کہا جس خدائے رحمان کے واسطہ سے آپ مجھ سے پناہ مانگ رہی ہیں اسی کا بھیجا ہوا تو میں آپ کے پاس آیا ہوں کہ آپ کو ایک پاکیزہ خصائل فرزند عطا کروں۔

      جاوید احمد غامدی اُس نے کہا: میں تمھارے پروردگار ہی کا فرستادہ ہوں (اور اِس لیے بھیجا گیا ہوں) کہ تمھیں ایک پاکیزہ فرزند عطا کروں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی وہ بولی میرے لڑکا کیسے ہو گا، نہ مجھے کسی مرد نے ہاتھ لگایا اور نہ میں کوئی چھنال ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’بغی‘ بدکار اور چھنال عورت کو کہتے ہیں۔
      حضرت مریمؑ فرشتہ کی اس بات کو سن کر ہک دھک رہ گئیں۔ انھوں نے فرمایا کہ میرے لڑکا کس طرح پیدا ہو گا، مجھے تو کسی انسان نے ہاتھ تک نہیں لگایا اور میں کوئی بدکار اور چھنال بھی نہیں ہوں !!
      لوقا کی بے سروپا روایت نکاح: حضرت مریمؑ کے اس ارشاد سے یہ بات بالکل صاف واضح ہے کہ لوقا میں یہ روایت کہ یوسف نامی کسی شخص سے ان کا نکاح ہوا تھا، بالکل بے سروپا روایت ہے۔ اگر ان کا نکاح ہوا ہوتا تو یہ خبر ان کے لیے ایک نہایت مبارک خوش خبری ہوتی اور وہ مذکورہ الفاظ میں اس پر تشویش اور حیرت کا اظہار کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتیں۔ ہمارے نزدیک لوقا کی یہ روایت یہود کی دراندازی کا مولود فساد ہے اس لیے کہ وہ حضرت عیسیٰ ؑ کی خارق عادت ولادت کے سخت مخالف ہیں۔ ہمارے ہاں جن لوگوں نے اس روایت کو بے سوچے سمجھے نقل کر لیا ہے انھوں نے نادانستہ یہود ہی کی مقصد برآری کی ہے۔ حضرت مریمؑ کے متعلق یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ وہ اپنی منت کے مطابق ہیکل کی خدمت کے لیے وقف تھیں اس وجہ سے ان کے نکاح اور بیاہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہیکل کے خدام گھر گرہستی کے تمام علائق سے یک قلم آزاد ہوتے تھے۔ لیکن تھوڑی دیر کے لیے ایک امر واقعی کو نظرانداز کر دیجیے اور اس سوال پر غور کیجیے کہ اگر حضرت مریمؑ کسی کے عقد نکاح میں تھیں تو ان الفاظ کا کیا موقع و محل تھا جو الفاظ انھوں نے فرمائے؟ یہ الفاظ تو کسی کنواری عفیفہ ہی کی زبان سے موزوں ہو سکتے ہیں، کسی شادی شدہ عورت کی زبان سے تو یہ موزوں نہیں ہو سکتے، علاوہ ازیں حضرت مریمؑ کے خاندان والوں نے جن الفاظ میں ان کو ملامت کی ہے اور جو آگے آ رہے ہیں وہ بھی اس صورت میں بالکل بے محل ہو کے رہ جاتے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی مریم نے کہا: میرے ہاں لڑکا کیسے ہوگا، نہ مجھے کسی مرد نے ہاتھ لگایا ہے اور نہ میں کبھی بدکار رہی ہوں! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ الفاظ ایک کنواری عفیفہ ہی کی زبان سے موزوں ہو سکتے ہیں، اِس لیے صریح دلیل ہیں کہ کسی یوسف نامی شخص سے حضرت مریم کے نکاح کی جو روایت لوقا میں نقل ہوئی ہے، وہ بالکل بے بنیاد ہے۔

    Join our Mailing List