Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 110 آیات ) Al-Kahf Al-Kahf
Go
  • الکھف (The Cave)

    110 آیات | مکی

    سورہ کا زمانۂ نزول، عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    سابق سورہ کی طرح یہ سورہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی کے اس دور میں نازل ہوئی ہے جب حق و باطل کی کش مکش اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ قریش اپنے تمام حربوں کے ساتھ قرآن کی دعوت کو مٹا دینے پر تل گئے تھے اور یہود و نصاریٰ نے بھی، جیسا کہ ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں، درپردہ قریش کی پیٹھ ٹھونکنی شروع کر دی تھی کہ انہی کے ہاتھوں یہ دعوت اپنے مرکز ہی میں ختم ہو جائے، اس سے نبرد آزما ہونے کے لیے خود انھیں میدان میں نہ اترنا پڑے۔
    ان حالات کے تقاضے سے اس سورہ میں چند باتیں خاص طور پر نمایاں ہوئی ہیں۔
    ۱۔ قریش کو انذار و تنبیہ کہ وہ اپنی دنیوی کامیابیوں کے غرے میں ایک بدیہی حقیقت کو جھٹلانے کی کوشش نہ کریں۔ اب عذاب الٰہی ان کے سروں پر منڈلا رہا ہے، اگر وہ اپنی رعونت سے باز نہ آئے تو وہ وقت دور نہیں ہے جب وہ اس عذاب کی زد میں آ جائیں گے۔
    ۲۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے مظلوم صحابہؓ کو صبر و عزیمت کی تلقین۔ آنے والے مراحل یعنی ہجرت وغیرہ کی طرف بعض لطیف اشارات، ان مراحل میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے ساتھیوں کو جو غیبی فتوحات حاصل ہونے والی ہیں ان کی بشارت۔
    ۳۔ جس طرح سابق سورہ ۔۔۔ بنی اسرائیل ۔۔۔ میں یہود کے چہرے سے نقاب الٹ دی گئی ہے اسی طرح اس سورہ اور اس کے بعد کی سورہ ۔۔۔ سورۂ مریم ۔۔۔ میں نصاریٰ کے چہرے سے نقاب الٹ دی گئی ہے اور مقصود اس سے قریش کو متنبہ کرنا ہے کہ جن کی اپنی کوئی بنیاد نہیں ہے اگر ان کی شہ پر خدا کی اس نعمت کی ناقدری کرو گے جس سے اس نے تم کو سرفراز کرنا چاہا ہے تو یاد رکھو کہ پرائے شگون پر اپنی ناک کٹوا بیٹھو گے۔

  • الکھف (The Cave)

    110 آیات | مکی

    الکہف - مریم

    ۱۸ - ۱۹

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع انذار و بشارت ہے جو پچھلی سورتوں سے چلا آرہا ہے۔

    پہلی سورہ ۔۔۔ الکہف ۔۔۔ میں اِس کے حقائق اُن واقعات سے مبرہن کیے گئے ہیں جن کے بارے میں قریش مکہ نے اہل کتاب، بالخصوص نصاریٰ کے القا کیے ہوئے سوالات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتحان کی غرض سے آپ کے سامنے پیش کیے ہیں۔

    دوسری سورہ ۔۔۔ مریم ۔۔۔ میں اِن القا کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ نے خود اِن کے دین کی حقیقت پوری طرح واضح کر دی ہے تاکہ قریش کو متنبہ کیا جائے کہ جن کی اپنی کوئی بنیاد نہیں ہے، اگر اُن کی شہ پر خدا کے پیغمبر کی ناقدری کرو گے تو اندازہ کر لو کہ کتنی بڑی نعمت سے اپنے آپ کو محروم کرلو گے۔

    دونوں سورتوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب ہجرت کا مرحلہ قریب آ گیا ہے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی شکر کا سزاوار ہے وہ اللہ جس نے اپنے بندے پر کتاب اتاری اور اس میں اس نے کوئی کج پیچ نہیں رکھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلٰی عَبْدِہِ الْکِتٰبَ‘۔ سابق سورہ ۔ بنی اسرائیل ۔ جس مضمون پر ختم ہوئی تھی (ملاحظہ ہوں آیات ۱۰۵-۱۱۱) اسی مضمون سے اس سورہ کا آغاز فرمایا۔ قرآن کی صورت میں جو نعمت عظمیٰ اہل عرب پر نازل ہوئی تھی یہ اس کے حق کا اظہار ہے کہ یہ نعمت شکر کی موجب ہونی چاہیے نہ کہ کفر کی۔ بدقسمت ہیں وہ لوگ جو اس کی ناقدری کریں اور اس کی تکذیب کے لیے نت نئے بہانے تلاش کریں۔
      قرآن کی سنت: ’وَلَمْ یَجْعَلْ لَّہٗ عِوَجًا‘ ’قَیِّمًا‘: یہ اس کتاب کی صفت ہے کہ اس کتاب میں خدا نے کوئی کج پیچ نہیں رکھا ہے۔ نہ بیان کے اعتبار سے نہ معنی کے اعتبار سے۔ زبان اس کی عربی مبین ہے اور رہنمائی اس کی اس صراط مستقیم کی طرف ہے جس کے مستقیم ہونے کے دلائل عقل و فطرت اور آفاق و انفس کے ہر گوشے میں موجود ہیں اور قرآن نے ان کو اتنے گوناگوں طریقوں سے بیان کر دیا ہے کہ کوئی عقل سے کام لینے والا ان کے سمجھنے سے قاصر نہیں رہ سکتا۔ صرف وہی ان سے محروم رہیں گے جوعقل سے کام نہیں لے رہے ہیں۔ قرآن کی یہی صفت سورۂ بنی اسرائیل میں بھی بیان ہوئی ہے:

      ’اِنَّ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ یَھْدِیْ لِلَّتِیْ ھِیَ اَقْوَمُ‘
      “بے شک یہ قرآن اس راستہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو سیدھا ہے”۔

       

      جاوید احمد غامدی شکر اللہ ہی کے لیے ہے جس نے اپنے بندے پر یہ کتاب اتاری اور اِس میں کوئی کج پیچ نہیں رکھا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اُسی کے لیے ہونا چاہیے۔ یہ کسی کے حق واجب کو اقرار و اعتراف کی زبان میں بیان کرنے کا اسلوب ہے اور قرآن میں جگہ جگہ اختیار کیا گیا ہے۔
      مطلب یہ ہے کہ لفظ و معنی کے اعتبار سے اِس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جو سمجھ میں نہ آسکے اور نہ اِس کی رہنمائی میں صراط مستقیم سے کوئی ادنیٰ انحراف ہے کہ کوئی سلیم الفطرت انسان اُس کو قبول کرنے سے انکار کر دے۔

    • امین احسن اصلاحی بالکل ہموار اور استوار تاکہ وہ اپنی جانب سے جھٹلانے والوں کو ایک سخت عذاب سے آگاہ کر دے اور ایمان لانے والوں کو، جو نیک اعمال کر رہے ہیں، اس بات کی خوش خبری سنا دے کہ ان کے لیے بہت اچھا اجر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قرآن کا مقصد: ’لِیُنْذِرَ بَاْسًا شَدِیْدًا مِّنْ لَّدُنْہُ وَیُبَشِّرَ الْمُؤْمِنِیْنَ‘۔ یہ اس کتاب کے نازل کرنے کا مقصد بیان ہوا ہے کہ یہ انکار کرنے والوں کے لیے انذار اور ایمان لانے والوں کے لیے بشارت ہے۔ پہلے ٹکڑے میں ’لِلْکَافِرِیْنَ‘ یا ’لِلْمُکَذِّبِیْنَ‘ محذوف ہے۔ اس لیے کہ آگے والے ٹکڑے میں ’مُؤْمِنِیْنَ‘ موجود ہے جو تقابل کے اصول پر اس محذوف کو خود واضح کر رہا ہے۔
      فعل ’یُنْذِرَ‘ کا فاعل اللہ بھی ہو سکتا ہے اور ’عبد‘ یعنی رسول بھی۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہو گا کہ اللہ نے یہ کتاب خاص اپنے پاس سے اس لیے اتاری ہے کہ کافروں کو ایک عذاب شدید سے آگاہ و ہوشیار کر دے۔
      دوسری صورت میں مطلب یہ ہو گا کہ اللہ کا رسول لوگوں کو خدا کی طرف سے نازل ہونے والے عذاب شدید سے متنبہ کر دے۔
      پہلی صورت میں ’مِنْ لَّدُنْہُ‘ کا لفظ اہتمام و عنایت پر دلیل ہو گا کہ اس مقصد کے لیے خدا نے خاص اپنے پاس سے اور اپنی نگرانی میں انتظام فرمایا۔ دوسری صورت میں اس سے عذاب کی شدت کا اظہار ہو گا کہ یہ عذاب کوئی ایسا ویسا عذاب نہیں ہو گا بلکہ قہر الٰہی ہو گا جس سے بچانے والا کوئی نہیں بن سکے گا۔

      جاوید احمد غامدی ہر لحاظ سے ٹھیک اور سیدھی تاکہ (جھٹلانے والوں کو) وہ اُس کی طرف سے ایک سخت عذاب سے آگاہ کردے اور ایمان لانے والوں کو، جو نیک عمل کر رہے ہیں، خوش خبری سنا دے کہ اُن کے لیے بہت اچھا اجر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ الفاظ اصل میں محذوف ہیں، اِس لیے کہ آگے ’مُؤْمِنِیْن‘ کا لفظ موجود ہے جو اِن پر دلالت کر رہا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’مَا کِثِیْنَ فِیْہِ اَبَدًا‘: اس ’اجر حسن‘ میں ہمیشہ رہیں گے یعنی اس بہشت میں ہمیشہ رہیں گے جو اس ’اجر حسن‘ کے ثمرہ اور نتیجہ کے طور پر حاصل ہو گی۔ شے کو بول کر اس سے اس کے نتیجہ کومراد لینا عربیت کا ایک معروف اسلوب ہے جس کی مثالیں اس کتاب میں پیچھے گزر چکی ہیں اور آگے بھی آئیں گی۔

      جاوید احمد غامدی وہ اُس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      آیت میں ’فِیْہِ‘ کی ضمیر نتیجۂ اجر کے لیے ہے، یعنی بہشت بریں جو اچھے اجر کا ثمرہ اور نتیجہ ہو گا۔

    • امین احسن اصلاحی اور ان لوگوں کو جو کہتے ہیں کہ خدا نے اولاد بنائی ہوئی ہے آگاہ کر دے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے، یعنی خاص طور پر ان لوگوں کو آگاہ کر دے جو خدا کے لیے اولاد فرض کر کے ان کی عبادت میں لگے ہوئے اور ان کی شفاعت کے اعتماد پر خدا سے بالکل مستغنی ہو بیٹھے ہیں۔ اس سے مراد مشرکین عرب بھی ہیں اور نصاریٰ بھی۔ مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے اور نصاریٰ حضرت مسیحؑ کو خدا کا بیٹا بنائے ہوئے تھے۔

      جاوید احمد غامدی اُن لوگوں کو آگاہ کر دے جو کہتے ہیں کہ خدا نے اولاد بنا رکھی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے اوراِس میں مشرکین عرب اور نصاریٰ، دونوں شامل ہیں، اِس لیے کہ مشرکین عرب فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں کہتے تھے اور نصاریٰ حضرت مسیح علیہ السلام کو خدا کا بیٹا بنائے ہوئے تھے۔

    • امین احسن اصلاحی ان کو اس باب میں کوئی علم نہیں، نہ ان کو نہ ان کے آباء و اجداد کو۔ نہایت ہی سنگین بات ہے جو ان کے مونہوں سے نکل رہی ہے۔ یہ محض جھوٹ ہے جو وہ بک رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مشرکین کی اندھی تقلید: علم سے مراد یہاں دلیل و برہان ہے۔ یعنی جن لوگوں نے خدا کے بیٹے اور بیٹیاں فرض کر کے ان کو خدا کا شریک بنا رکھا ہے انھوں نے یہ افسانہ محض اپنے جی سے گھڑا ہے۔ نہ خدا نے کہیں یہ بات کہی ہے اور نہ ان بوالفضولوں کے پاس اس کی کوئی دلیل ہے۔ یہ اپنے جن آباء و اجداد کی تقلید میں یہ حماقت کر رہے ہیں ان کے پاس بھی اس کی کوئی دلیل نہیں تھی۔ محض جہالت سے انھوں نے یہ ضلالت اختیار کی اور یہ بھی جہالت ہی سے ان کی لکیر کو پیٹ رہے ہیں۔ فرمایا کہ یہ بڑی ہی سنگین بات ہے جو ان کے مونہوں سے نکل رہی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ پر تہمت و بہتان اور اس کی غیرت کو چیلنج ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ اپنی گستاخی سے باز نہ آئے تو عنقریب اپنا حشر دیکھیں گے۔

      جاوید احمد غامدی اُنھیں اِس بات کا کوئی علم نہیں ہے، اُن کے باپ دادا کو بھی نہیں تھا۔ بڑی ہی سنگین بات ہے جو اُن کے مونہوں سے نکل رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ محض جھوٹ کہہ رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی تو شاید تم ان کے پیچھے اپنے تئیں غم سے ہلاک کر کے رہو گے اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آنحضرت صلعم کو پرمحبت تسلی: یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے اور تسلی دینے کا انداز بہت پیارا ہے فرمایا کہ تم تو ان کے ایمان کے غم سے اس طرح گھلے جا رہے ہو کہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر یہ اس کتاب پر ایمان نہ لائے تو ان کے پیچھے تم اپنے آپ کو ہلاک کر کے رہو گے! اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے فرض رسالت کی ادائیگی کا احساس کتنا شدید تھا۔ آپ دعوت کے کام کے لیے اپنے رات دن ایک کیے ہوئے تھے۔ لیکن پھر بھی آپ کو یہ غم کھائے جا رہا تھا کہ لوگ جو ایمان نہیں لا رہے ہیں تو مبادا اس میں آپؐ کی کسی کوتاہی کو دخل ہو۔ اس احساس کے باعث آپ کی مشقت اور آپ کے غم دونوں میں برابر اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو نہایت پرمحبت انداز میں ٹوکا کہ اپنی ذمہ داری کے احساس میں اس درجہ غلو صحیح نہیں ہے۔ یہ ناشکرے اور ناقدرے لوگ جو اس کتاب پر ایمان نہیں لا رہے ہیں تو یہ نہ سمجھو کہ اس کے سمجھنے میں ان کو کوئی دشواری پیش آ رہی ہے یا تمہاری طرف سے فرض دعوت کی ادائیگی میں کوئی کوتاہی ہو رہی ہے بلکہ اس کا اصل سبب کچھ اور ہے۔

      جاوید احمد غامدی پھر اگر وہ اِس بات پر ایمان نہ لائے تو شاید تم اُن کے پیچھے اپنے آپ کو غم سے ہلاک کر ڈالو گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ نہایت دل نواز انداز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ یہ اگر ایمان نہیں لا رہے ہیں تو اِس کا سبب ہرگز یہ نہیں ہے کہ آپ سے فرض دعوت کے ادا کرنے میں کوئی کوتاہی ہوئی ہے۔ آپ تو اِس کے لیے اپنے آپ کو رنج و غم میں گھلائے دے رہے ہیں، جبکہ آپ کا کام صرف انذار و بشارت ہے اور اُس کا حق آپ نے ادا کر دیا ہے۔ اُس سے آگے آپ کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ اِس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے فرض دعوت کے ادا کرنے کا احساس کس قدر شدید تھا۔

    • امین احسن اصلاحی روئے زمین پر جو کچھ ہے ہم نے اس کو زمین کے لیے سنگار بنایا ہے تاکہ ہم لوگوں کا امتحان کریں کہ ان میں اچھے عمل کرنے والا کون بنتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      منکرین کے انکار کا اصل سبب: یہ ان کے اعراض و انکار کے اصل سبب سے پردہ اٹھایا ہے۔ فرمایا کہ یہ دنیا دارالامتحان ہے۔ اس میں ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ کون اپنی عقل و تمیز سے کام لے کر آخرت کا طالب بنتا ہے اور کون اپنی خواہشوں کے پیچھے لگ کر اسی دنیا کا پرستار بن کر رہ جاتا ہے۔ اس امتحان کے تقاضے سے ہم نے اس دنیا کے چہرے پر حسن و زیبائی کا ایک پرفریب غازہ مل دیا ہے۔ اس کے مال و اولاد، اس کے کھیتوں کھلیانوں، اس کے باغوں اور چمنوں، اس کی کاروں اور کوٹھیوں، اس کے محلوں اور ایوانوں، اس کی صدارتوں اور وزارتوں میں بڑی کشش اور دل فریبی ہے۔ اس کی لذتیں نقد اور عاجل اور اس کی تلخیاں پس پردہ ہیں۔ اس کے مقابل میں آخرت کی تمام کامرانیاں نسیہ ہیں اور اس کے طالبوں کو اس کی خاطر بے شمار جانکاہ مصیبتیں نقد نقد اسی دنیا میں جھیلنی پڑتی ہیں۔ یہ امتحان ایک سخت امتحان ہے۔ اس میں پورا اترنا ہر بوالہوس کا کام نہیں ہے۔ اس میں پورے وہی اتریں گے جن کی بصیرت اتنی گہری ہو کہ خواہ یہ دنیا ان کے سامنے کتنی ہی عشوہ گری کرے لیکن وہ اس عجوزۂ ہزار داماد کو اس کے ہر بھیس میں تاڑ جائیں اور کبھی اس کے عشق میں پھنس کر آخرت کے ابدی انعام کو قربان کرنے پر تیار نہ ہوں۔ رہے وہ لوگ جنھوں نے اپنی عقل و دل کی آنکھیں اندھی کر لی ہیں اور اپنی خواہشوں کے پرستار بن کے رہ گئے ہیں وہ اس نقد کو آخرت کے نسیہ کے لیے قربان کرنے پر تیار نہیں ہو سکتے اگرچہ اس کے حق ہونے پر اس کائنات کا ذرہ ذرہ گواہ ہے۔

      جاوید احمد غامدی زمین پر جو کچھ ہے، اُس کو ہم نے زمین کی زینت بنا یا ہے، اِس لیے کہ ہم لوگوں کا امتحان کریں کہ اُن میں کون اچھا عمل کرنے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور ہم بالآخر اس پر جو کچھ ہے سب کو چٹیل میدان کر کے رہیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اس دنیا کا انجام: ’جُرُز‘ بے آب و گیاہ زمین کو کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بے وقوف لوگ اس زمین کی جن چیزوں پر ریجھے ہوئے ہیں ایک وقت آئے گا کہ ہم ان ساری چیزوں کو مٹا کر اس کو چٹیل اور بے آب و گیاہ میدان کی طرح کر دیں گے۔ یہی مضمون آگے آیات ۴۶-۴۸ میں آ رہا ہے وہاں انشا ء اللہ اس کی مزید تفصیل ہو گی۔

      جاوید احمد غامدی (وہ اِسی زینت پر ریجھے ہوئے ہیں، دراں حالیکہ)ہم اُن سب چیزوں کو جو زمین پر ہیں، (ایک دن بالکل نابود کرکے اُس کو) ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      ایمان نہ لانے کا اصل سبب کیا ہے؟ یہ اُس سے پردہ اٹھایا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...فرمایا کہ یہ دنیا دارالامتحان ہے۔ اِس میں ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ کون اپنی عقل و تمیز سے کام لے کر آخرت کا طالب بنتا ہے اور کون اپنی خواہشوں کے پیچھے لگ کر اِسی دنیا کا پرستار بن کر رہ جاتا ہے۔ اِس امتحان کے تقاضے سے ہم نے اِس دنیا کے چہرے پر حسن و زیبائی کا ایک پرفریب غازہ مل دیا ہے۔ اِس کے مال و اولاد، اِس کے کھیتوں کھلیانوں، اِس کے باغوں اور چمنوں، اِس کی کاروں اور کوٹھیوں، اِس کے محلوں اور ایوانوں، اِس کی صدارتوں اور وزارتوں میں بڑی کشش اور دل فریبی ہے۔ اِس کی لذتیں نقد اور عاجل اور اِس کی تلخیاں پس پردہ ہیں۔ اِس کے مقابل میں آخرت کی تمام کامرانیاں نسیہ ہیں اور اِس کے طالبوں کو اِس کی خاطر بے شمار جان کاہ مصیبتیں نقد نقد اِسی دنیا میں جھیلنی پڑتی ہیں۔ یہ امتحان ایک سخت امتحان ہے۔ اِس میں پورا اترنا ہر بوالہوس کا کام نہیں ہے۔ اِس میں پورے وہی اتریں گے جن کی بصیرت اتنی گہری ہو کہ خواہ یہ دنیا اُن کے سامنے کتنی ہی عشوہ گری کرے، لیکن وہ اِس عجوزۂ ہزار داماد کو اِس کے ہر بھیس میں تاڑ جائیں اور کبھی اِس کے عشق میں پھنس کر آخرت کے ابدی انعام کو قربان کرنے پر تیار نہ ہوں۔ رہے وہ لوگ جنھوں نے اپنی عقل و دل کی آنکھیں اندھی کر لی ہیں اور اپنی خواہشوں کے پرستار بن کے رہ گئے ہیں ،وہ اِس نقد کو آخرت کے نسیہ کے لیے قربان کرنے پر تیار نہیں ہو سکتے، اگرچہ اِس کے حق ہونے پر اِس کائنات کا ذرہ ذرہ گواہ ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۴/ ۵۵۸)

    • امین احسن اصلاحی کیا تم نے کہف و رقیم والوں کو ہماری نشانیوں میں سے کچھ بہت عجیب خیال کیا! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      صیغہ واحد کا خطاب جماعت سے: ’حَسِبْتَ‘ کا خطاب ضروری نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے ہو بلکہ ’اَلَمْ تَرَ‘ کے خطاب کی طرح یہ عام بھی ہو سکتا ہے۔ اس طرح کے خطاب میں، جیسا کہ ہم پیچھے اپنی کتاب میں ایک سے زیادہ مقامات میں ذکر کر چکے ہیں، مخاطب گروہ کا ایک ایک شخص فرداً فرداً مراد ہوتا ہے اور جمع کے خطاب کے بالمقابل اس میں زیادہ زور ہوتا ہے۔ خود اسی سلسلۂ کلام میں آگے متعدد خطابات بصیغۂ واحد ہیں۔ لیکن ان سب میں خطاب آنحضرتؐ سے نہیں بلکہ مخاطب کردہ سے ہے۔ مثلاً ’وَتَرَی الشَّمْسَ‘ آیت ۱۷، ’وَتَحْسَبُھُمْ‘ ’لَوِ اطَّلَعْتَ‘ ’لَوَلَّیْتَ‘ ’وَلَمُلِئۡتَ‘ آیت ۱۸۔
      یہ خطاب سوال کرنے والوں سے ہے: یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے یہ فرمانے کا کیا محل ہے کہ کیا تم اصحاب کہف و رقیم کو ہماری نشانیوں میں سے کچھ عجیب چیز خیال کرتے ہو؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اول تو اس سرگزشت سے واقف ہی نہیں تھے، اول اول آپ اس وحی کے ذریعہ ہی سے اس سے واقف ہوئے اور بالفرض آپ کچھ واقف رہے بھی ہوں تو اس میں آپؐ کے لیے تعجب اور حیرت کا سوال کہاں پیدا ہوتا ہے! اس سے کہیں زیادہ عجیب سرگزشتیں آپ کو سابق انبیائے کرام کی سنائی جا چکی تھیں۔ پھر آپؐ کے اصحاب کہف کے معاملہ کو عجیب اور نادر سمجھنے کی کیا وجہ ہو سکتی تھی! ہمارے نزدیک یہ سوال خطاب کرنے والوں سے ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے یہ سوال اٹھایا ان کے پیش نظر اصل مقصد یہ تھا کہ لوگوں کی نظر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہؓ کی وقعت گھٹائیں کہ ہمارے ہاں تو اصحاب کہف جیسے اولیائے کبار گزرے ہیں جن کے لیے خدا کی قدرت کی نہایت عظیم شانیں ظاہر ہوئیں تو ہم کسی اور کی ہدایت و رہنمائی کے محتاج کب ہو سکتے ہیں اور وہ بھی ایک ایسے نبی کی ہدایت کے جس کے اندر ہم اس طرح کی کوئی بات بھی نہیں پا رہے ہیں۔ یہ بات یہاں پیش نظر رہے کہ اس دور میں یہود و نصاریٰ دونوں کھلم کھلا یہ بات کہنے لگے تھے کہ جس کو ہدایت کی طلب ہو وہ یہودی بنے یا نصرانی، یہ نیا دین بھلا کیا ہے، اس سے بہتر تو مشرکین ہی کا دین ہے! سوال اٹھانے والوں کی اس پس پردہ ذہنیت کو سامنے رکھ کر قرآن نے جواب کا آغاز ہی اس بات سے کیا کہ اگر تم اصحاب کہف کے ماجرے کو بہت عجیب چیز سمجھتے ہو تو یہ بہت عجیب چیز نہیں ہے۔ یہ خدا کی بے شمار نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اس طرح کی نشانیاں پہلے بھی ظاہر ہوئی ہیں اور آئندہ بھی ان لوگوں کے لیے ظاہر ہوں گی جن کے لیے خدا چاہے گا۔ یہ نشانیاں خدا کے اختیار میں ہیں۔ ان پر کسی خاص گروہ کا اجارہ نہیں ہے۔
      آیت کے خطاب کے معاملے میں ہماری رائے یہی ہے لیکن کوئی شخص اس کا مخاطب آنحضرتؐ ہی کو قرار دینا چاہے تو اس صورت میں آیت کی تاویل یہ ہو گی کہ اگر تم معروف روایات کی بنا پر اصحاب کہف کے ماجرے کو عجیب سمجھتے ہو تو یہ کوئی عجیب چیز نہیں۔ خدا کی اس طرح کی نشانیاں پہلے بھی ظاہر ہوئی ہیں اور آئندہ بھی ظاہر ہوں گی۔ اس میں گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہؓ کے لیے بشارت ہے کہ جس طرح خدا نے پہلے اپنے دین کے علم برداروں کی حفاظت کے لیے اپنی قدرت کی شانیں ظاہر کی ہیں اسی طرح تمہارے لیے بھی ہر مرحلہ میں اس کی شانیں ظاہر ہوں گی۔
      اصحاب کہف و رقیم کی وجہ تسمیہ: رہا یہ سوال کہ ان لوگوں کو اصحاب کہف و رقیم کیوں کہا گیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ عرب کے اہل کتاب میں یہ لوگ اسی لقب سے معروف تھے۔ ’کہف‘ کی طرف تو ان کی نسبت ظاہر ہے کہ غار میں پناہ لینے کی وجہ سے ہوئی۔ رہا ’رقیم‘ تو اس کے بارے میں ہمارے نزدیک راجح قول وہ ہے جس کی روایت عکرمہ نے حضرت ابن عباسؓ سے کی ہے کہ حضرت کعبؓ کا خیال تھا کہ رقیم اس بستی کا نام تھا، جس سے نکل کر اصحاب کہف نے غار میں پناہ لی۔ رقیم وادی کو بھی کہتے ہیں۔ ناموں کے بارے میں یہ تحقیق کہ ان کی اصل کیا ہے غیرضروری بھی ہے اور نہایت مشکل بھی۔ عجمی نام عربی کے قالب میں آ کر اس قدر بدل جاتے ہیں کہ ان کی اصل کی تحقیق کوہ کنی کے مترادف بن جاتی ہے اور مقصد تعلیم کے پہلو سے اس کی کوئی خاص اہمیت بھی نہیں۔ اگر یہ نام قرآن نے رکھا ہوتا تب تو اس کے معنی اور اس کی اصل کی جستجو کی ایک خاص اہمیت تھی۔ لیکن یہ نام، جیسا کہ ہم نے عرض کیا عرب کے اہل کتاب بالخصوص نصاریٰ کا اختیار کردہ ہے۔ قرآن نے اسی کو اختیار کر لیا ہے۔ دورحاضر کے بعض محققین کی رائے میں رقیم وہی شہر ہے جسے پیٹرا کے نام سے شہرت ملی اور عرب اسے بطرا کے نام سے جانتے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی کیا تم سمجھتے ہو کہ غار اور رقیم والے ہماری نشانیوں میں سے بہت عجیب نشانی تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ لوگ اگر وہی ہیں جو مسیحی تاریخ میں سات سونے والے (seven sleepers) کہے جاتے ہیں تو یہ شہر افیسس (Ephesus) کا قصہ ہے جو ترکی کے مغربی ساحل پر واقع زمانۂ قدیم کا ایک مشہور شہر تھا۔ اِس کے عظیم کھنڈر آج بھی وہاں دیکھ لیے جا سکتے ہیں۔ یہ شہر بت پرستی کا ایک بڑا مرکز تھا اور یہاں چاند دیوی کی پرستش ہوتی تھی جسے ڈائنا (Diana) کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا۔ یہ اُسی کا عظیم الشان مندرتھا جو زمانۂ قدیم کے عجائبات عالم میں شمار کیا جاتا ہے۔ اِس علاقے میں اُس وقت قیصر ڈیسیس (Desius) کی حکومت تھی جو ۲۴۹ء سے ۲۵۱ء تک سلطنت روما کا فرماں روا رہا ہے۔ مسیح علیہ السلام کے پیرو اِسی کے لگ بھگ زمانے میں اپنی دعوت لے کر یہاں پہنچے۔ رومی حکمران خود بھی بت پرست تھا۔ وہ مذہب توحید کی اشاعت کو برداشت نہیں کر سکا۔ چنانچہ جو لوگ ایمان لائے، وہ بالعموم ظلم و ستم کا نشانہ بن گئے۔ جن نوجوانوں کایہ قصہ ہے،وہ شہر کے اعلیٰ گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے اور غالباً ۲۵۰ء میں کسی وقت ایمان لا کر اِس دعوت کے مبلغ بنے۔ اُنھوں نے یہ دعوت اِس زور کے ساتھ اور علانیہ پیش کی کہ پورا ماحول اُن کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا اور خطرہ پیدا ہو گیا کہ اُنھیں سنگ سار کر دیا جائے گا۔ اِس پر وہ لوگ شہر سے باہر نکل کر ایک غار میں پناہ گیر ہو گئے۔ عربی زبان میں کہف وسیع غار کو کہتے ہیں، اُنھیں اِسی بنا پر اصحاب الکہف کہاگیا ہے۔
      عرب کے اہل کتاب اُنھیں اصحاب الرقیم بھی کہتے تھے۔ رقیم کو مرقوم، یعنی لکھی ہوئی چیز کے معنی میں لے کر بعض اہل علم نے اِس سے اصحاب کہف کے غارکا کتبہ اور بعض نے سیسے کی وہ لوح مراد لی ہے جس پر اُن کے نام اور حالات بادشاہ کے حکم سے لکھ کر شاہی خزانے میں رکھے گئے تھے۔ لیکن لوح یا کتبے کے لیے اِس لفظ کا استعمال عربی زبان میں معروف نہیں ہے، اِس وجہ سے ہمارے نزدیک راجح قول اُنھی لوگوں کا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ رقیم اُس عمارت کا نام تھا جو اصحاب کہف کی یادگار میں اُن کے غار پر بنائی گئی تھی اور جس کا ذکر قرآن میں آگے ہوا ہے۔
      یہ خطاب عام ہے ۔ واحد کے صیغے سے خطاب کا یہ اسلوب اُس وقت اختیار کیا جاتا ہے، جب مخاطبین کے ایک ایک شخص کو فرداً فرداً خطاب کرنا پیش نظر ہوتا ہے۔ آیت سے واضح ہے کہ قریش کو یہ قصہ اہل کتاب سے سن کر سخت تعجب ہوا اور غالباً اُنھی کے ایما سے اُنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتحان کی غرض سے اِسے آپ کے سامنے پیش کر دیا کہ دیکھیں آپ اِس کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ آگے آیات ۲۲۔۲۴ میں اشارہ ہے کہ یہ قصہ اُن کے سوال کے جواب میں سنایا گیا ہے۔ تاہم قرآن نے اِسے افسانوں کے حجاب سے نکال کر اِس کی اصل صورت میں اِس طرح سنایا ہے کہ سورہ کے مضمون سے پوری طرح ہم آہنگ ہو کر یہ اُس کے انذار و بشارت کا نہایت موثر ذریعہ بن گیا ہے۔ مدعا یہ ہے کہ تم اِن غاروالوں کی سرگذشت کو بہت عجیب سمجھتے ہو۔ خدا نے جو نشانیاں اپنے دین کے علم برداروں کی حفاظت کے لیے ظاہر کی ہیں، یہ بھی اُنھی میں سے ایک نشانی ہے۔ اِس طرح کی نشانیاں پہلے بھی ظاہر ہوتی رہی ہیں اور اِس وقت بھی، اگر خدا نے چاہا تو اُن اہل حق کے لیے ظاہر ہو جائیں گی جنھیں تم تعذیب کا نشانہ بنا رہے ہو۔ یہ خدا کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔

    • امین احسن اصلاحی جب کہ کچھ نوجوانوں نے غار میں پناہ لی اور دعا کی کہ اے ہمارے رب ہمیں اپنے پاس سے رحمت بخش اور ہمارے اس معاملے میں ہمارے لیے رہنمائی کا سامان فرما۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’رَشِدَ‘ کے معنی ہیں اس نے ہدایت اور استقامت پائی۔ ’رَشِدَ اَمْرَہٗ‘ کے معنی ہوں گے اس نے اپنے معاملے میں ہدایت پائی ’وَھَیِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا‘ کا مفہوم ہو گا کہ اے ہمارے رب ہمارے لیے اس راہ میں جو ہم نے اختیار کی ہے تو رہنمائی اور استقامت کا بدرقہ مہیا فرما۔
      یہ وہ دعا ہے جو ان نوجوانوں نے اس وقت کی ہے جب انھوں نے غار میں پناہ لینے کا ارادہ کیا ہے۔ آیت کے الفاظ سے یہ بات واضح ہے کہ یہ نوجوان لوگ تھے۔ نوجوانوں میں جب ایک مرتبہ حق کی حمیت جاگ پڑتی ہے تو پھر نہ وہ مصالح کی پروا کرتی ہے اور نہ خطرات کی۔ لیکن ان لوگوں کے اندر صرف جوانی کا جوش ہی نہیں تھا بلکہ اللہ کی بخشی ہوئی حکمت کا نور بھی تھا۔ اس وجہ سے اس نازک مرحلہ میں انھوں نے اللہ سے رہنمائی اور استقامت کی دعا کی اور یہی بات اہل ایمان کے شایان شان ہے۔
      سرگزشت کا خلاصہ بطور تمہید: یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ یہ آیت اور اس کے بعد کی دو آیتیں اصل سرگزشت کے خلاصہ (SUMMARY) کے طور پر ہیں جن میں پہلے اجمال کے ساتھ سرگزشت قاری کے سامنے رکھ دی گئی ہے۔ اس کے بعد پوری سرگزشت تفصیل کے ساتھ سامنے آئے گی۔ تفصیل سے پہلے اجمال کا یہ طریقہ اختیار کرنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اصل مدعا نگاہ کے سامنے رہتا ہے۔ دوسری ضمنی باتیں اس کو نگاہوں سے اوجھل نہیں ہونے دیتیں۔ سرگزشتوں کے بیان میں یہ طریقہ قرآن نے جگہ جگہ اختیار کیا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اُس وقت جب اُن نوجوانوں نے غار میں پناہ لی، پھر (اپنے پروردگار سے) دعا کی کہ اے ہمارے رب، ہم کو تو خاص اپنے پاس سے رحمت عطا فرما اور ہمارے اِس معاملے میں تو ہمارے لیے رہنمائی کا سامان کر دے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی غار میں آتے ہی اللہ تعالیٰ سے رہنمائی اور استقامت کے لیے دست بدعا ہو گئے، اِس لیے کہ جوش حمیت کے ساتھ وہ نور حکمت سے بھی بہرہ یاب تھے اور خوب جانتے تھے کہ اِس طرح کے مراحل میں اہل ایمان کو کیا کرنا چاہیے۔

    • امین احسن اصلاحی تو ہم نے غار میں ان کے کانوں پر کئی برس کے لیے تھپک دیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’ضَرَبَ عَلَی الْاٰذَانِ‘ کا مفہوم: ’ضَرَبَ عَلَی الْاٰذَانِ‘ کے لفظی معنی کانوں پر ٹھپہ لگانے یا تھپکنے کے ہیں۔ یہیں سے یہ محاورہ کسی کو سننے سے روک دینے یا پیار و شفقت سے سلا دینے کے مفہوم میں استعمال ہونے لگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچے کو جب سلاتے ہیں تو اس کے کانوں پر تھپکتے ہیں۔ غار میں پناہ لینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ ان پر کئی سالوں کے لیے نہایت آرام و سکون کی نیند طاری کر دی۔ نیند کے لیے یہ الفاظ بطور استعارہ استعمال ہوئے ہیں اور پیار کے ساتھ سلانے کے لیے یہ نہایت بلیغ استعارہ ہے۔

      جاوید احمد غامدی اِس پر کئی برس کے لیے ہم نے اُس غار میں اُن کے کانوں پر تھپک دیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں ’فَضَرَبْنَا عَلآی اٰذَانِھِمْ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ عربی زبان کا محاورہ ہے جو پیار اور شفقت کے ساتھ کسی کو سلانے کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ اِس کے وجود میں آنے کی وجہ غالباً یہ ہوئی کہ بچوں کو سلانے کے لیے بالعموم اُن کے کانوں پر تھپکتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی پھر ہم نے ان کو بیدار کیا کہ دیکھیں دونوں گروہوں میں سے کون مدت قیام کو زیادہ صحیح شمار میں رکھنے والا نکلتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      برزخی زندگی کا ایک عکس: ’لِنَعْلَمَ‘ پر ’ل‘ غایت و نہایت کے مفہوم میں ہے اور ’نَعْلَمَ‘ کے معنی یہاں دیکھنے اور جانچنے کے ہیں۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اس طویل نیند کے بعد پھر ہم نے ان کو جگایا تاکہ یہ بات اس نتیجہ تک منتہی ہو کہ وہ دو گروہ ہو کر آپس میں اس سوال پر بحث کریں کہ اس حالت خواب میں وہ کتنی مدت رہے؟ کوئی کچھ کہے گا کوئی کچھ۔ اس طرح ہم ان کو جانچ لیں گے کہ اس مدت کا ان میں سے کون گروہ اندازہ کر سکا اور بالآخر یہ بات واضح ہو جائے کہ ان میں سے کوئی بھی اس کا اندازہ نہ کر سکا۔ نیز ان پر یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہو جائے کہ یہی حال برزخی زندگی کا ہو گا۔ اس کی مدت کا بھی کسی کو احساس نہیں ہو گا۔ ہر شخص اٹھنے پر یہی گمان کرے گا کہ بس ابھی سوئے تھے ابھی جاگ پڑے ہیں۔ آگے آیت ۱۹ میں یہ مضمون مزید وضاحت سے آ رہا ہے وہاں اس کے تمام مخفی گوشے سامنے آ جائیں گے۔

      جاوید احمد غامدی پھر ہم نے اُن کو اٹھایا تاکہ دیکھیں کہ دونوں گروہوں میں سے کس نے اُن کے قیام کی مدت ٹھیک شمار کی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں ’لِنَعْلَمَ‘ استعمال ہوا ہے۔ اِس میں ’ل‘ غایت و نہایت کے مفہوم میں ہے، یعنی تاکہ یہ بات اُس نتیجے تک منتہی ہو جو آگے بیان ہوا ہے اور لوگوں کے لیے یہ واقعہ بعث بعد الموت کی نشانی بن جائے۔
      یعنی وہ خود یا اُس شہر کے لوگ جس سے نکل کر وہ غار میں پناہ گیر ہوئے تھے۔

    • امین احسن اصلاحی ہم تمہیں ان کی سرگزشت ٹھیک ٹھیک سناتے ہیں۔ یہ کچھ نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے اور ہم نے ان کی ہدایت میں مزید افزونی عطا فرمائی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اجمال کے بعد تفصیل: ’بِالْحَقِّ‘ کا مفہوم: نوجوانوں کی حوصلہ افزائی: اب یہ اجمال کے بعد ان کی سرگزشت کی تفصیل سنائی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ’بِالْحَقِّ‘ کی قید ایک تو اس حقیقت کو ظاہر کر رہی ہے کہ ان لوگوں کی نسبت جو روایات ان کے نام لیواؤں میں معروف تھیں قرآن نے ان سے غض بصر کر کے واقعہ کی اصل صورت پیش کی ہے۔ دوسری یہ کہ قرآن کے سامنے دوسروں کی طرح محض داستان سرائی نہیں ہے بلکہ اصل مقصود اس حکمت و موعظت سے لوگوں کو آگاہ کرنا ہے جو اس سرگزشت کے اندر مضمر ہے۔ فرمایا کہ یہ کچھ نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لائے اور انھوں نے اپنے ایمان کی نگہداشت کی جس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت میں افزونی عطا فرمائی۔ اس افزونی کا ظہور کس شکل میں ہوا؟ اس کا بیان آگے والی آیت میں آرہا ہے۔ یہاں ’فِتْیَۃٌ‘ کے لفظ پر نظر رہے۔ قرآن نے ان لوگوں کا جوانوں کے طبقہ سے ہونا ظاہر کر کے وقت کے نوجوانوں بالخصوص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے نوجوانوں کو توجہ دلا دی کہ وہ اس سرگزشت سے سبق حاصل کریں اور انہی کی طرح دعوت حق کی راہ میں اپنی قوم کی عداوت سے بے پروا ہو کر چل کھڑے ہوں۔ خدا ہر مرحلہ میں ان کا ناصر و مدد گار ہو گا۔

      جاوید احمد غامدی ہم اُن کی سرگذشت تمھیں ٹھیک ٹھیک سناتے ہیں۔ وہ چند نوجوان تھے جو اپنے پروردگار پر ایمان لائے اور اُن کی ہدایت میں ہم نے افزونی عطا فرمائی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے پہلے قرآن نے اِس سرگذشت کا خلاصہ بیان کر دیا ہے تاکہ اصل مدعا ابتدا ہی میں نگاہوں کے سامنے آجائے۔ اِس کے بعد اب یہ اُسی اجمال کی تفصیل کی جا رہی ہے۔ فرمایا کہ یہ ’بِالْحَقِّ‘ یعنی پوری صحت کے ساتھ اور اِس کے مقصد کی پوری رعایت کے ساتھ سنائی جائے گی۔
      یعنی خدا کی توحید پر ایمان لائے، اِس لیے کہ شرک کے ساتھ خدا پر ایمان درحقیقت کفر ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...یہاں ’فتیۃ‘ کے لفظ پر نظر رہے۔ قرآن نے اِن لوگوں کا جوانوں کے طبقے سے ہونا ظاہر کر کے وقت کے نوجوانوں، بالخصوص آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے نوجوانوں کو توجہ دلا دی کہ وہ اِس سرگذشت سے سبق حاصل کریں اور اُنھی کی طرح دعوت حق کی راہ میں اپنی قوم کی عداوت سے بے پروا ہو کر چل کھڑے ہوں۔ خدا ہر مرحلے میں اُن کا ناصر و مدد گار ہو گا۔‘‘(تدبرقرآن ۴/ ۵۶۹)

      یہ افزونی کس صورت میں ہوئی؟ آگے ’رَبَطْنَا عَلٰی قُلُوْبِھِمْ‘ کے الفاظ اِسی کو واضح کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اُنھوں نے اپنے ایمان کی نگہداشت کی جس کے صلے میں اللہ تعالیٰ نے اُن کے دلوں کو قوت و عزیمت بخشی اور اِس طرح جو ہدایت اُن کو حاصل تھی، اُس میں اضافہ کر دیا۔

    • امین احسن اصلاحی اور ہم نے ان کے دلوں کو مضبوط کیا جب کہ وہ اٹھے اور کہا کہ ہمارا رب وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ ہم اس کے سوا کسی اور معبود کو ہرگز نہیں پکاریں گے۔ اگر ہم نے ایسا کیا تو ہم یہ حق سے نہایت ہی ہٹی ہوئی بات کہیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’ربط اللّٰہ عَلٰی قلبہٖ‘ کے معنی ہوں گے خدا نے اس کے دل کو قوت و عزیمت دے دی۔
      ’شط‘ کے معنی دور ہونے اور ’شطط‘ کے معنی ’تباعد عن الحق‘ یعنی حق سے انحراف اور دوری کے ہیں۔
      حق کی منادی: مطلب یہ ہے کہ ہر چند حالات بہت ہی سخت تھے۔ کلمۂ حق کی دعوت دینا بڑا جان جوکھم کا کام تھا لیکن ان نوجوانوں کے ایمان میں خدا نے برکت دی جس کا اثر یہ ہوا کہ وہ صرف اپنے ہی ایمان پر قانع ہو کر گھروں میں بیٹھ رہنے پر راضی نہیں ہوئے بلکہ ہر قسم کے خطرات سے بے پروا ہو کر دعوت توحید کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے، جب اٹھ کھڑے ہوئے تو اللہ نے اپنی سنت کے مطابق ان کے دلوں کو قوت و عزیمت بخشی اور انھوں نے اپنی قوم میں عام منادی کر دی کہ ہمارا رب صرف وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ اس کے سوا ہم کسی اور کو رب ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اگر ہم اس کے سوا کسی اور کو رب مانیں گے تو ہماری یہ حرکت نہایت ہی بے جا اور حق سے بہت دور ہٹی ہوئی ہو گی۔

      جاوید احمد غامدی اور اُن کے دل اُس وقت مضبوط کر دیے، جب وہ (توحید کی دعوت لے کر) اٹھے اور اعلان کیا کہ ہمارا رب وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ ہم اُس کے سوا کسی دوسرے معبود کو ہرگز نہ پکاریں گے اور اگر ایسا کریں گے تو حق سے نہایت ہٹی ہوئی بات کریں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی یہ ہماری قوم کے لوگوں نے اس کے سوا کچھ دوسرے معبود بنا رکھے ہیں۔ یہ ان کے حق میں واضح دلیل کیوں نہیں پیش کرتے! تو ان سے بڑا ظالم کون ہو گا جو خدا پر جھوٹ باندھیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قوم کو چیلنج: ’قوم‘ سے مراد یہاں ’’رقیم‘‘ کے لوگ ہیں۔ یہ ان حق پرست نوجوانوں کا اپنی پوری قوم کے لیے ایک چیلنج ہے اور عربیت کا ذوق رکھنے والے جانتے ہیں کہ یہاں ’ھٰٓؤُلَآءِ‘ کا لفظ جس انداز سے استعمال ہوا ہے اس سے ایک قسم کی حقارت کا بھی اظہار ہو رہا ہے۔ پھر غائب کے صیغوں میں بھی حقارت مضمر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے ڈنکے کی چوٹ اعلان کر دیا کہ یہ ہماری قوم کے بدھوؤں نے اللہ کے سوا جو اور معبود بنا رکھے ہیں تو یہ اپنے ان معبودوں کے حق میں کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے۔ آخر اس سے بڑا ظالم کون ہو سکتا ہے جو خدا کے اوپر بہتان تراشے!!

      جاوید احمد غامدی یہ ہماری قوم کے لوگ ہیں کہ اِنھوں نے اُس کے سوا کچھ دوسرے معبود بنا رکھے ہیں۔ یہ اُن کے حق میں کوئی واضح دلیل کیوں نہیں پیش کرتے؟ پھر اُن سے بڑا ظالم کون ہو گا جو خدا پر جھوٹ باندھیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      آیت میں ’ھٰٓؤُلَآءِ‘ کا لفظ جس انداز سے استعمال ہوا ہے، پھر حاضر کے بجاے غائب کے صیغے اختیار کیے گئے ہیں، یہ اُن نوجوانوں کی طرف سے اپنی قوم کے عقائد کے لیے ایک قسم کی حقارت کا اظہار ہے۔ یہ حقارت مذہب توحید پر اُن کے غیر معمولی شرح صدر اور اُس سے اُن کی غیر معمولی وابستگی کو ظاہر کرتی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور اب کہ تم ان کو اور ان کے معبودوں کو، جن کو وہ خدا کے سوا پوجتے ہیں، چھوڑ کر الگ ہو گئے ہو تو غار میں پناہ لو، تمہارا رب تمہارے لیے اپنا دامن رحمت پھیلائے گا اور تمہارے اس مرحلہ میں تمہاری مایحتاج مہیا فرمائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’مرفق‘ کا مفہوم: ’مرفق‘ اس چیز کو کہتے ہیں جو آدمی کی ضرورت اور منفعت کی ہو ’یُھَیِّئْ لَکُمْ مِّنْ اَمْرِکُمْ مِّرْفَقًا‘ یعنی اس مرحلہ میں جس چیز کے تم محتاج ہو گے اللہ تعالیٰ وہ تمہارے لیے مہیا فرمائے گا۔
      اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصرت کی بشارت: یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے بشارت ہے اور قرینہ دلیل ہے کہ یہاں کلام کا اتنا حصہ حذف ہے جو سیاق کلام سے خود واضح ہے یعنی بالآخر ان کے اور ان کی قوم کے درمیان کش مکش اتنی بڑھ گئی کہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ لوگ ان کو، جیسا کہ آیت ۲۰ سے واضح ہو تا ہے، سنگ سار کر دیں گے۔ اس وقت ان لوگوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ایک خاص غار میں جو پہلے سے انھوں نے منتخب کر لیا تھا، پناہ گزیں ہو جائیں گے۔ اس مرحلہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی وحی کے ذریعہ سے بشارت دی کہ اب جب کہ تم نے اللہ کی خاطر اپنی قوم اور اس کے معبودوں کو چھوڑ دیا تو اپنے منتخب کردہ غار میں پناہ گیر ہو جاؤ۔ تمہارا رب تمہارے لیے اپنے فضل و رحمت کا دامن پھیلائے گا اور تمہاری تمام ضروریات کا سامان کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بس یہ چاہتا ہے کہ وہ ہمت کر کے اس کی راہ پر چلنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ جب وہ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو آگے کی منزل کے لیے زاد و راحلہ وہ خود فراہم کرتا ہے۔ ’مَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ‘ (الطلاق ۲ ،۳)
      ایک شبہ کا ازالہ: ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ کیا یہ لوگ صاحب وحی تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو وحی کے ذریعہ سے بشارت دی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ وحی اسی قسم کی وحی تھی جس کے ذریعہ سے حضرت موسیٰ ؑ کی والدہ کو یہ ہدایت ہوئی کہ وہ بچہ کو ایک صندوق میں رکھ کے دریا میں ڈال دیں۔
      ترک دنیا کے حق میں ارباب تصوف کا غلط استدلال: اس واقعہ سے بعض صوفی حضرات نے گوشہ نشینی اور ترک دنیا کی زندگی کی فضیلت ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن یہ بات ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے۔ ان لوگوں نے اس غار میں پناہ اس وقت لی ہے جب وہ اپنے ماحول کی اصلاح کے لیے جان کی بازی کھیل کر اپنی قوم کے ہاتھوں سنگ سار کر دیے جانے کے مرحلہ تک پہنچ گئے ہیں۔ یہ مرحلہ بعینہٖ وہی مرحلہ ہے جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش آیا اور آپ کو غار ثور میں پناہ لینی پڑی۔ ان لوگوں نے یہ غار نشینی رہبانیت کے لیے نہیں اختیار کی تھی بلکہ اعدائے حق کے شر سے اپنی جانیں بچانے کے لیے اختیار کی تھی۔
      مفسرین کی ایک غلط فہمی: عام طور پر ہمارے مفسرین نے اس آیت کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت کے مفہوم میں نہیں لیا ہے بلکہ اس کو خود اصحاب الکہف کا قول سمجھا ہے کہ انھوں نے آپس میں اپنے ساتھیوں سے یہ بات کہی، لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے۔ آیت میں جس قطعیت کے ساتھ اللہ کی مدد و نصرت کا وعدہ ہے، کوئی متواضع بندہ اس قطعیت کے ساتھ یہ بات نہیں کہہ سکتا۔ کوئی متواضع بندہ اس طرح کی بات کہے گا تو امید و رجا اور دعا ہی کے الفاظ میں کہے گا۔ چنانچہ آیت ۱۰ میں ان لوگوں کی دعا کا حوالہ بھی ہے۔

      جاوید احمد غامدی (وہ یہی دعوت دیتے رہے، یہاں تک کہ لوگ اُن کی جان کے درپے ہو گئے تو بشارت ہوئی کہ) جب تم اُن سے اور اُن کے معبودوں سے، جنھیں وہ خدا کے سوا پوجتے ہیں، الگ ہو گئے ہو تو(جاؤ اور) فلاں غار میں جا کر پناہ لو۔ تمھارا پروردگار اپنی رحمت کا دامن تمھارے لیے پھیلا دے گا اور تمھارے اِس مرحلے میں جو کچھ تمھاری ضرورت ہے، تم کو مہیا فرمائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُس رہنمائی کا بیان ہے جو اُنھیں اِس مرحلے میں اُن کے پروردگار کی طرف سے حاصل ہوئی اور اُن کے باطن سے ایما ہوا کہ اب قوم کو چھوڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔ اِس طرح کے نازک مرحلوں میں یہ رہنمائی اہل حق کو بالعموم حاصل ہوتی رہی ہے۔سیدہ مریم اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کا واقعہ اِس کی مثالیں ہیں۔ یہ ختم نبوت سے پہلے کسی حد تک محسوس صورت میں بھی حاصل ہو جاتی تھی۔ اِس سے ضمناً یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ دعوت کے مخالفین جب داعی کی جان لینے کے درپے ہو جائیں تو اہل حق کے لیے یہی ہجرت کا وقت ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ اِس کا فیصلہ کر لیتے ہیں تو آگے کے لیے زاد و راحلہ اُن کا پروردگار خود فراہم کر دیتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور تم دیکھتے سورج کو کہ جب طلوع ہوتا ہے تو ان کے غار سے دائیں جانب کو بچا رہتا ہے اور جب ڈوبتا ہے تو ان سے بائیں طرف کو کترا جاتا ہے اور وہ اس کے صحن میں ہیں۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے۔ جس کو اللہ ہدایت دے وہی راہ یاب ہوتا ہے اور جس کو وہ گمراہ کر دے تو تم اس کے لیے کوئی دستگیری کرنے والا اور رہنمائی کرنے والا نہیں پا سکتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’تَزٰوَرُ‘ کا مفہوم: ’تَزٰوَرُ‘ اصل میں ’تَتَزَاوَرُ‘ ہے۔ اس کے معنی ہٹ جانے، کترا جانے اور منحرف ہو جانے کے ہیں۔
      ’قرض‘ کا مفہوم: ’تَقْرِضُھُمْ‘ قرض کے معنی کاٹنے ور کترانے کے ہیں۔ اسی سے ’قرض المکان‘ کا محاورہ پیدا ہوا جس کے معنی ہیں اس جگہ سے ہٹ گیا، کترا گیا، گریز کر گیا۔
      ’فَجْوَۃٍ‘ کا مفہوم: ’فَجْوَۃٍ‘ دو چیزوں کے درمیان خلا، شگاف اور گوشہ کو کہتے ہیں۔ یہیں سے اس کا اطلاق مکان کے صحن پر بھی ہوتا ہے۔
      غار میں ضروریات زندگی کا غیبی اہتمام: اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لیے غار میں جن ضروریات کے مہیا فرمانے کا وعدہ فرمایا ہے اب یہ ان کا بیان ہو رہا ہے کہ اگر تم دیکھ پاتے تو دیکھتے کہ سورج جب طلوع ہوتا ہے تو ان کے غار سے دائیں کو بچتا ہوا طلوع ہوتا ہے اور جب ڈوبتا ہے تو ان سے بائیں کو کتراتا ہوا ڈوبتا ہے اور وہ اس غار کے صحن میں آرام کر رہے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غار کا دہانہ اس طرح واقع ہوا تھا کہ اس کے اندر ہوا، روشنی اور حرارت، جو زندگی کی ضروریات میں سے ہیں، بآسانی پہنچتی تھیں۔ لیکن آفتاب کی تمازت اس کے اندر راہ نہیں پاتی تھی۔ ہمارے مفسرین نے غار اور اس کے دہانے کی سمت و جہت متعین کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ہمارے نزدیک یہ کاوش غیرضروری ہے۔ اس کی مختلف شکلیں فرض کی جا سکتی ہیں لیکن ان میں سے کسی کے متعلق جزم کے ساتھ کوئی بات نہیں کہی جا سکتی۔ صحیح بات وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے بتا دی کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کہ اس نے اپنی تدبیر و کارسازی سے اپنے بندوں کے لیے ایک ایسا غار مہیا فرما دیا جہاں بغیر کسی کاوش کے ان کے لیے ساری ضروریات زندگی فراہم تھیں اور معلوم ہوتا کہ سورج بھی ان کے پاس سے گزرتا ہے تو ادب و احترام سے گزرتا ہے کہ ان کی خدمت کی انجام دہی کا شرف توحاصل ہو لیکن ان کے آرام و سکون میں کوئی خلل واقع نہ ہو۔
      ایک تنبیہ: ’ذٰلِکَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ مَنْ یَّھْدِ اللّٰہُ الایۃ‘ اسی آیت الٰہی کے تعلق سے یہ تذکیر فرما دی کہ جہاں تک اللہ کی نشانیوں کا تعلق ہے، ایک سے ایک بڑی نشانی موجود ہے۔ لیکن نشانیوں سے رہنمائی وہی حاصل کرتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ توفیق بخشتا ہے۔ جو اس توفیق سے محروم ہو جاتے ہیں، کوئی دوسرا ان کا کارساز و رہنما نہیں بن سکتا۔

      جاوید احمد غامدی تم سورج کو دیکھتے کہ جب نکلتا ہے تو اُن کے غار سے دائیں جانب کو بچا رہتا ہے اور جب ڈوبتا ہے تو اُن سے بائیں جانب کو کترا جاتا ہے اور وہ اُس کے صحن میں پڑے ہیں۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے۔ جس کو اللہ ہدایت دے، وہی ہدایت پانے والا ہے اور جس کو اللہ(اپنے قانون کے مطابق) گمراہی میں ڈال دے تو اُس کے لیے تم کوئی مددگار راہ بتانے والا نہ پاؤ گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی خدا نے ایسا غار اُنھیں فراہم کر دیا جس کے اندر ہوا اور روشنی اور حرارت تو برابر پہنچتی تھی، لیکن آفتاب کی تمازت کسی طرح راہ نہیں پاتی تھی۔ آگے فرمایا کہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھی۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... اُس نے اپنی تدبیر و کارسازی سے اپنے بندوں کے لیے ایک ایسا غار مہیا فرما دیا جہاں بغیر کسی کاوش کے اُن کے لیے ساری ضروریات زندگی فراہم تھیں اور معلوم ہوتا کہ سورج بھی اُن کے پاس سے گزرتا ہے تو ادب و احترام سے گزرتا ہے کہ اُن کی خدمت کی انجام دہی کا شرف توحاصل ہو، لیکن اُن کے آرام و سکون میں کوئی خلل واقع نہ ہو۔‘‘(تدبرقرآن ۴/ ۵۷۱)

      یعنی اپنے اِس قانون کے مطابق کہ گمراہ وہی کیے جاتے ہیں جو اپنے کرتوتوں کے نتیجے میں گمراہی کے سزاوار ہو جاتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور تم ان کو جاگتا گمان کرتے حالانکہ وہ سو رہے ہوتے اور ہم ان کو داہنے بائیں کروٹیں بھی بدلواتے اور ان کا کتا دونوں ہاتھ پھیلائے دہلیز پر ہوتا، اگر تمہاری نظر ان پر پڑ جاتی تو تم وہاں سے الٹے پاؤں بھاگ کھڑے ہوتے اور تمہارے اندر ان کی دہشت سما جاتی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حفاظت کے لیے انتظام: یہ وہ انتظام بیان ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت کے لیے فرمایا کہ باوجودیکہ وہ غار میں محو خواب تھے لیکن صورت حال ایسی تھی کہ اگر اتفاق سے کوئی ان کو دیکھ پاتا تو یہ گمان نہ کرتا کہ وہ سو رہے ہیں بلکہ وہ یہی سمجھتا کہ جاگ رہے ہیں۔ یعنی ان کو سوتا اور بے خبر سمجھ کر کوئی ان کو نقصان پہنچانے کی جرأت نہ کرسکتا بلکہ ان کو اپنی حفاظت کے لیے بیدار و ہوشیار خیال کرتا۔ ان کے سونے کی ہیئت ایسی تھی کہ معلوم ہوتا کہ کچھ لوگ ذرا دم لینے کے لیے بس لیٹ گئے ہیں۔ ایسی نہیں کہ دیکھنے والا سمجھے کہ انٹا غفیل پڑ کر سو رہے ہیں۔
      ’وَنُقَلِّبُھُمْ ذَاتَ الْیَمِیْنِ وَذَاتَ الشِّمَالِ‘ فرمایا کہ ہم ان کو دہنے بائیں کروٹ بھی بدلواتے رہتے تھے۔ یہ کروٹ صحت جسمانی کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے اور اس لیے بھی ضروری ہے کہ ایک ہی ہیئت پر پڑے پڑے جسم اکڑ نہ جائے۔ نیز یہ لوگ زمیں پر ایک طویل وقفہ کے لیے سوئے تھے۔ اگر ایک ہی کروٹ پر عرصہ تک پڑے رہتے تو یہ اندیشہ تھا کہ زمین ان کے جسم کو نقصان پہنچا دے۔ اس لیے جس طرح ایک شفیق ماں گہوارے میں لیٹے ہوئے بچے کے پہلو بدلتی رہتی ہے اسی طرح قدرت ان کے پہلو بھی بدلواتی رہتی تھی۔
      ’وَکَلْبُہُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَیْہِ بِالْوَصِیْدِ‘ یہ بھی اسی حفاظتی انتظام کے سلسلہ کی بات ہے کہ ان کا وفادار کتا غار کے دہانے پرا پنے دونوں ہاتھ پھیلائے اس طرح بیٹھا رہا کہ گویا پہرہ دے رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ کتا بھی اس دوران میں برابر سوتا ہی رہا لیکن اس کے سونے کی ہیئت وہ نہیں تھی جو عام طور پر کتوں کے سونے کی ہوتی ہے بلکہ وہ تھی جو ڈیوڑھی پر پہرہ دینے والے کتے کی ہوتی ہے۔ یہ انتظام اللہ تعالیٰ نے اس لیے فرمایا کہ کوئی شخص یا عام قسم کا جنگلی جانور غار میں گھسنے کی جرأت نہ کرے۔
      ’لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَیْہِمْ لَوَلَّیْتَ مِنْہُمْ فِرَارًا وَّلَمُلِءْتَ مِنْہُمْ رُعْبًا‘۔ ظاہر ہے کہ اگر اس طرح کے کسی منظر پر اتفاق سے کسی کی نظر پڑ جائے تو وہ دہشت زدہ ہو کر وہاں سے بھاگ کھڑا ہو گا۔ وہ ششدر رہ جائے گا کہ آخر پہاڑوں کے بیچ میں، ایک غار کے اندر یہ کون لوگ ہیں جو اس طرح لیٹے ہوئے ہیں۔ وہ انھیں بھلے آدمی سمجھے یا برے، چور اور ڈاکو خیال کرے یا راہب اور سنیاسی، آسمانی مخلوق خیال کرے یا ارضی، انسان خیال کرے یا جنات و ملائکہ، بہرحال اس پر اس حالت سے ایک انجانے قسم کا خوف ضرور طاری ہو گا۔ یہ خوف کی فضا وہاں قدرت نے اپنے بندوں کی حفاظت کے لیے پیدا کر دی تھی۔ دنیا کے حکمران خاردار تاروں سے محفوف محلوں میں سوتے ہیں اور مسلح سپاہی ان کا پہرہ دیتے ہیں لیکن ان کی جان کو امان نہیں۔ اللہ کے بندے غاروں اور جنگلوں میں سوتے ہیں اور مجال نہیں کہ کوئی پرندہ وہاں پر مار سکے۔

      جاوید احمد غامدی تم اُن کو (دیکھتے تو) سمجھتے کہ جاگ رہے ہیں، حالاں کہ وہ سو رہے تھے۔ ہم اُن کو دائیں اور بائیں کروٹ دلواتے رہتے تھے اور اُن کا کتا دہلیز پر اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے بیٹھا تھا۔ اگر تمھاری نظر کہیں اُن پر پڑ جاتی تو اُن سے تم الٹے پاؤں بھاگ کھڑے ہوتے اور تمھارے اندر اُن کی دہشت بیٹھ جاتی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُس انتظام کا بیان ہے جو اللہ تعالیٰ نے اُن کی حفاظت کے لیے فرمایا۔ وہ سلا دیے گئے، اُن کے جسم کی حفاظت کے لیے فرشتے اُنھیں پہلو بدلواتے رہے اور اُن کے گردوپیش ایسا ماحول پیدا کر دیا گیا کہ دیکھنے والا یہی سمجھتا کہ پراسرار سے لوگ ہیں؛ شاید چور، ڈاکو، راہب، سنیاسی یا جنات۔ سوئے ہوئے نہیں ہیں، ایسا لگتا ہے کہ ذرا دم لینے کو لیٹ گئے ہیں اور اُن کا کتا غار کے دہانے پر اِس طرح بیٹھا ہے، گویا پہرا دے رہا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور اسی طرح ہم نے ان کو جگایا کہ وہ آپس میں پوچھ گچھ کریں۔ ان میں سے ایک پوچھنے والے نے پوچھا، تم یہاں کتنا ٹھہرے ہو گے؟ وہ بولے ہم ایک دن یا ایک دن سے بھی کم ٹھہرے ہوں گے۔ بولے تمہاری مدت قیام کو تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے۔ پس اپنے میں سے کسی کو اپنی یہ رقم دے کر شہر بھیجو تو وہ اچھی طرح دیکھ لے کہ شہر کے کس حصہ میں پاکیزہ کھانا ملتا ہے اور وہاں سے تمہارے لیے کچھ کھانا لائے اور چاہیے کہ وہ دبے پاؤں جائے اور کسی کو تمہاری خبر نہ ہونے دے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      کارسازی کی ایک نشانی: ’وَکَذٰلِکَ‘ یعنی ان کے معاملہ میں جس طرح اپنی کارسازی کی وہ شان ہم نے دکھائی جو اوپر مذکور ہوئی اسی طرح اپنی یہ شان بھی دکھائی کہ ان کو اس نیند سے بیدار کیا کہ ان کے اندر باہم اس امر میں سوال و جواب ہو کہ یہ خواب کی حالت ان پر کتنی مدت طاری رہی اور بالآخر ان پر یہ حقیقت واضح ہو جائے کہ اس مدت کا اندازہ کرنے سے وہ بالکل قاصر ہیں، صرف اللہ ہی اس مدت سے واقف ہے۔ چنانچہ ان میں سے ایک صاحب نے ساتھیوں سے سوال کیا کہ بھلا اس حالت میں تم نے کتنے دن گزارے ہوں گے؟ ساتھیوں نے جواب دیا کہ زیادہ سے زیادہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ بالآخر اتفاق اس بات پر ہوا کہ اس مدت کا علم صرف اللہ ہی کو ہے اس وجہ سے اس سوال پر غور کرنا بے سود ہے۔ البتہ یہ کرو کہ اپنے میں سے کسی کو یہ رقم دے کر شہر بھیجو، وہ پہلے تحقیق کر لے کہ شہر کے کس حصہ میں پاکیزہ کھانا ملتا ہے اور وہاں سے وہ کچھ کھانے کو لائے اور خبردار وہ دبے پاؤں جائے، کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دے۔
      اصحاب کہف کی مدت قیام کے بارے میں باہمی سوال و جواب: یہی وہ سوال و جواب ہے جس کا اوپر آیت ۱۲ میں اجمالاً حوالہ ہے۔ یہاں اس کی تفصیل ہو گئی جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ سوال و جواب انہی لوگوں کے درمیان ہوا۔ یہاں بھی ’لِیَتَسَآءَ لُوْا‘ پر ’ل‘ غایت و نہایت کے مفہوم میں ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ ان کا یہ اٹھایا جانا اس نتیجہ تک منتہی ہو کہ وہ آپس میں سونے کی مدت سے متعلق سوال و جواب کریں اور یہ حقیقت ان پر واضح ہو جائے کہ اس مدت کا اندازہ کرنے سے وہ بالکل قاصر ہیں اور یہیں سے ان پر یہ حقیقت بھی واضح ہو جائے کہ مرنے کے بعد برزخ کی زندگی کا بھی یہی حال ہو گا۔ قیامت کو جب لوگ اٹھیں گے تو ایسا معلوم ہوگا کہ اس حالت میں وہ ایک دن یا اس سے بھی کم رہے۔
      ’فَلْیَنْظُرْ اَیُّھَآ اَزْکٰی طَعَامًا‘۔ ’اَیُّھَا‘ یعنی ’ای اطراف المدینۃ‘ یا ’ای نواحی المدینۃ‘ اور ’اَزْکٰی‘ سے پاکیزہ کھانا مراد ہے۔
      احتیاط کے ساتھ تحقیق کی تاکید: ان لوگوں نے جس وقت غار میں پناہ لی اس وقت شرک و کفر کے غلبہ کے سبب سے ان کی قوم میں حرام و حلال کی تمیز نہیں تھی اس وجہ سے ان لوگوں نے اس بات کی خاص طور پر تاکید کی کہ کھانا لانے والا اس امر کی اچھی طرح تحقیق کر لے کہ شہر کے کس حصہ میں نسبتاً زیادہ پاکیزہ کھانا ملنے کی توقع ہے۔ رقیم میں آخر کچھ اہل کتاب بھی تو رہے ہوں گے۔ اس وجہ سے توقع تھی کہ ان کے ہاں حرام و حلال کی تمیز ہو گی لیکن اس تحقیق میں یہ اندیشہ بھی تھا کہ کہیں بات کھل نہ جائے۔ ا س وجہ سے انھوں نے یہ تاکید بھی کر دی کہ پوری احتیاط ملحوظ رہے، کسی کو خبر نہ ہونے پائے۔ ’تلطّف‘ کے معنی کسی کام کو زیرکی، ہوشیاری اور احتیاط سے ڈرتے ڈرتے کرنے کے ہیں۔
      آیت میں لفظ ’ورق‘ کا ترجمہ عام طور پر لوگوں نے سکہ یا روپیہ کیا ہے لیکن ہم نے رقم کیا ہے اس لیے کہ ورق کے معنی چاندی کے ہیں اور یہ بجائے خود بھی سکہ کے قائم مقام ہو سکتی ہے۔ اس وجہ سے ہم نے ایسا لفظ اختیار کیا ہے جس کا اطلاق مسکوک اور غیر مسکوک دونوں پر ہو سکتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی (ہم نے جس طرح اپنی قدرت سے اُنھیں سلایا تھا)، اُسی طرح ہم نے اُن کو جگایا کہ (اِس کے نتیجے میں) وہ آپس میں پوچھ گچھ کریں۔ اُن میں سے ایک پوچھنے والے نے پوچھا: تم یہاں کتنی دیر ٹھیرے ہو گے؟ وہ بولے: ہم ایک دن یا ایک دن سے بھی کم ٹھیرے ہوں گے۔ بولے: تمھارا پروردگار ہی بہتر جانتا ہے کہ تم کتنی دیر ٹھیرے ہو۔ خیر، اپنے میں سے کسی کو اپنی یہ رقم دے کر شہر بھیجو، پھر وہ اچھی طرح دیکھے کہ پاکیزہ کھانا شہر کے کس حصے میں ملتا ہے اور اُس سے تمھارے لیے کچھ کھانا لے آئے۔ اُسے چاہیے کہ وہ چپکے سے جائے اور کسی کو تمھاری خبر نہ ہونے دے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      سیدنا مسیح کے جن پیرووں کا ذکر پیچھے ہوا ہے، وہ ۲۵۰ ء میں کسی وقت اپنے شہر افیسس سے نکل کر غار میں گئے تھے۔ ہم بیان کر چکے ہیں کہ اُس وقت اِس علاقے میں بت پرست بادشاہ ڈیسیس کی حکومت تھی۔ یہ لوگ کم و بیش ۱۹۶ سال سوتے رہے اور قیصر تھیوڈوسیس ثانی (Theodosius ii) کی سلطنت کے اڑتیسویں سال ۴۴۶ء یا ۴۴۷ء میں بیدار ہوئے۔ اِس عرصے میں مسیحی مبلغین کی کوششوں سے رومی شہنشاہ قسطنطین(۳۳۷ء۔۲۷۲ء) مسیحی ہو چکا تھا جس کے نتیجے میں ساری رومی سلطنت میں مسیح علیہ السلام کا مذہب پھیل گیا تھا۔ چنانچہ یہ لوگ بیدار ہوئے تو ہر طرف مسیحیت کا غلبہ تھا۔
      یعنی بالکل وہی صورت پیدا ہو گئی جو برزخ کی زندگی سے اٹھنے کے بعد ہو گی۔
      اصل میں لفظ ’وَرِق‘ آیا ہے۔ اِس کے معنی چاندی کے ہیں۔ یہ چونکہ اُس زمانے میں مسکوک اور غیرمسکوک، دونوں صورتوں میں خرید و فروخت کے لیے استعمال ہوتی تھی، اِس لیے ہم نے اِس کے لیے ’رقم‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔
      اصل میں لفظ ’اَیُّھَا‘ آیا ہے، یعنی ’أی أطراف المدینۃ‘ یا ’أی نواحی المدینۃ‘ اور پاکیزہ کھانے سے حلال و طیب کھانا مراد ہے۔ اُنھوں نے یہ بات اِس لیے کہی کہ جس ماحول سے نکل کر وہ گئے تھے، اُس میں حلال و حرام کی کوئی تمیز نہ تھی، لہٰذا اِس طرح کا کھانا کسی ایسے علاقے ہی سے مل سکتا تھا جہاں اِس طرح کی تمیز کرنے والے بستے ہوں۔

    • امین احسن اصلاحی اگر وہ تمہاری خبر پا جائیں گے تو تمہیں سنگ سار کر دیں گے یا تمہیں اپنی ملت میں لوٹا لیں گے اور پھر تم کبھی فلاح نہ پا سکو گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اس سے اس اندیشہ کا اظہار ہوتا ہے جس کی بنا پر احتیاط اور رازداری کی تاکید کی گئی۔ جس زمانے میں ان لوگوں نے غار میں پناہ لی ہے اہل حق پر ظلم و تشدد اپنی انتہا کو پہنچ چکا تھا اور ان لوگوں نے سنگ سار کر دیے جانے کے اندیشے سے یہ پناہ ڈھونڈی تھی۔ اسی اندیشہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ فرمایا کہ اگر کہیں لوگوں کو پتہ چل گیا تو پھر ہماری خیر نہیں ہے۔ پہلے تو کسی نہ کسی طرح بچ نکلے لیکن اب اگر پا گئے تو یا تو سنگ سار کر دیں گے یا مرتد کر کے چھوڑیں گے۔ پھر کسی طرح بھی ان سے نجات حاصل کرنا ممکن نہ ہو گا۔

      جاوید احمد غامدی اِس لیے کہ اگر وہ تمھاری خبر پا جائیں گے تو تمھیں سنگ سار کر دیں گے یا اپنے دین میں لوٹا لیں گے اور ایسا ہوا تو تم کبھی فلاح نہ پاؤ گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ نوجوان اپنا شہر چھوڑ کر غار میں پناہ لینے کے لیے کیوں مجبور ہوئے اور جس ظلم و تشدد کے اندیشے سے یہ گھر سے نکلے، وہ کس انتہا کو پہنچ چکا تھا۔ آیت ۱۶ کے ترجمے میں اِسی بنا پر ہم نے واضح کر دیا ہے کہ ہجرت کا اشارہ اُس وقت ہوا ، جب لوگ اِن کی جان کے درپے ہو گئے۔

    Join our Mailing List