Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 111 آیات ) Al-Isra (Bani Israil) Al-Isra (Bani Israil)
Go
  • الاسراء (Isra, The Night Journey, The Children of Israel)

    111 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ، سابق سورہ ۔۔۔ سورۂ نحل ۔۔۔ کی، جیسا کہ ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں، توام سورہ ہے اس وجہ سے دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے، صرف تفصیل و اجمال کا فرق ہے۔ پچھلی سورہ میں جو باتیں اشارات کی شکل میں ہیں وہ اس سورہ میں نہایت واضح صورت میں آگئی ہیں۔ مثلاً۔
    پچھلی سورہ میں مشرکین مکہ کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کے لیے دعوت اور انذار دونوں ہے لیکن جہاں تک بنی اسرائیل کا تعلق ہے بات صرف اشارات کی شکل میں ہے۔ اس سورہ میں تفصیل کے ساتھ ان کو مخاطب کر کے، ان کی اپنی تاریخ کی روشنی میں، یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ اگر تم اس غرے میں مبتلا ہو کہ تم خدا کے محبوب اور چہیتے ہو تو یہ غرہ محض خود فریبی پر مبنی ہے، تمہاری اپنی تاریخ شاہد ہے کہ جب جب تم نے خدا سے بغاوت کی ہے تم پر مار بھی بڑی ہی سخت پڑی ہے۔ خدا کی رحمت کے مستحق تم اسی صورت میں ہوئے ہو جب تم نے توبہ اور اصلاح کی راہ اختیار کی ہے تو اگر اپنی بہبود چاہتے ہو تو اس پیغمبرؐ کی پیروی کرو جو اسی سیدھی راہ کی دعوت دے رہا ہے جو تورات کے ذریعے سے تم پر کھولی گئی تھی۔ ساتھ ہی معراج کے واقعے کی طرف اشارہ کر کے مشرکین مکہ اور بنی اسرائیل دونوں پر یہ حقیقت بھی واضح فرمائی گئی ہے کہ اب مسجد حرام اور مسجد اقصیٰ دونوں کی امانت خائنوں سے چھین کر اس نبیؐ امی کے حوالہ کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے تو جس کو اپنی روش بدلنی ہے وہ بدلے ورنہ اپنی ضد اور سرکشی کے تنائج بھگتنے کے لیے تیار ہو جائے۔
    قرآن جس فطری اور سیدھے طریقۂ زندگی کی دعوت دے رہا ہے، پچھلی سورہ میں صرف اس کی اساسات کی طرف اجمالی اشارہ تھا۔ اوامر میں عدل، احسان اور قرابت مندوں کے حقوق کی ادائی کا حوالہ تھا اور منہیات میں فحشاء، منکر اور بغی کا۔ اس سورہ میں اس کی پوری تفصیل آ گئی ہے۔ اس تفصیل سے تورات کے احکام عشرہ کے ساتھ اس کی مطابقت واضح ہوتی ہے۔ گویا انسانی فطرت اور قدیم آسمانی تعلیم دونوں ہم آہنگ ہیں اس وجہ سے قریش اگر اس سے بغاوت کرتے ہیں تو ان کی بھی شامت ہے اور اگر بنی اسرائیل اس کے خلاف سازشیں کرتے ہیں تو ان پر بھی خدا کی پھٹکار ہے۔
    پچھلی سورہ میں ہجرت کا ذکر بھی ہے لیکن اشارے کی شکل میں ہے۔ اس سورہ میں اس کا ذکر نہایت واضح طور پر ہوا ہے اور اس کے لیے جن تیاریوں کی ضرورت ہے ان کی ہدایت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہؓ کو ایسے انداز میں دی گئی ہے جس سے یہ نمایاں ہو رہا ہے کہ اس کا وقت بہت قریب ہے۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ سورہ ہجرت کے قریب زمانہ میں نازل ہوئی۔

  • الاسراء (Isra, The Night Journey, The Children of Israel)

    111 آیات | مکی
    النحل —— بنی اسرائیل

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا باہمی تعلق اجمال اور تفصیل کا ہے۔ چنانچہ پہلی سورہ میں جو چیزیں اشارات کی صورت میں ہیں، دوسری میں اُن کو بالکل واضح کر دیا ہے۔ یہود سے مفصل خطاب، اخلاق کے فضائل و رذائل کی وضاحت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کے لیے تیاری کی ہدایت اِس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ دونوں سورتوں کا موضوع انذار و بشارت ہے جو پچھلی سورتوں سے چلا آرہا ہے اور دونوں میں خطاب اصلاً قریش ہی سے ہے۔ دوسری سورہ—- بنی اسرائیل—- میں، البتہ یہود سے بھی مفصل خطاب کیا گیا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ قریش کی حمایت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کے لیے اب وہ بھی پوری طرح میدان میں آ چکے ہیں۔

    اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب ہجرت کا مرحلہ قریب آ گیا ہے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو لے گئی ایک شب مسجد حرام سے اس دور والی مسجد تک جس کے ارد گرد کو ہم نے برکت بخشی تاکہ ہم اس کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ بے شک سمیع و بصیر وہی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’سُبْحٰنَ‘ تنزیہہ کا کلمہ ہے: ’سُبْحٰنَ‘ جیسا کہ متعدد مواقع میں تصریح ہو چکی ہے، تنزیہہ کا کلمہ ہے۔ یعنی اللہ کی ذات ہر نقص عیب سے پاک و منزہ ہے۔ اس کلمہ سے کلام کا آغاز اس موقع پر کیا جاتا ہے جہاں مقصود خدا کے باب میں کسی سوء ظن یا غلط فہمی کو رفع کرنا ہو۔ یہاں واقعۂ معراج کی تمہید اس لفظ سے اس لیے اٹھائی ہے کہ یہ واقعہ بھی خدا کے باب میں یہود اور مشرکین کے ایک بہت بڑے سوء ظن کو رفع کرنے والا تھا۔ یہ دونوں ہی گروہ خدا کے دین کے دو سب سے بڑے مرکزوں پر قابض تھے اور ان کو انھوں نے، ان کے بنیادی مقصد کے بالکل خلاف، نہ صرف شرک و بت پرستی کا اڈا بلکہ، جیسا کہ سیدنا مسیحؑ نے فرمایا ہے کہ ’تم نے میرے باپ کے گھر کو چوروں کا بھٹ بنا ڈالا ہے‘ ان کو انھوں نے چوروں اور خائنوں کا بھٹ ہی بنا ڈالا تھا۔ یہ دونوں ہی مقدس گھر بالکل خائنوں اور بے ایمانوں کے تصرف میں تھے۔؂۱  اور یہ ان میں اس طرح اپنی من مانی کر رہے تھے گویا ان گھروں کا اصل مالک کانوں میں تیل ڈال کر اور آنکھوں پر پٹی باندھے سو رہا ہے اور اب کبھی وہ اس کی خبر لینے کے لیے بیدار ہی نہیں ہوگا۔ معراج کا واقعہ، جیسا کہ ہم نے پیچھے اشارہ کیا ہے، اس بات کی تمہید تھا، کہ اب ان گھروں کی امانت اس کے سپرد ہونے والی ہے جو ان کے اصلی مقصد تعمیر کو پورا کرے گا اس وجہ سے اس کے بیان کاآغاز ’سُبْحٰنَ‘ کے لفظ سے فرمایا اور آیت کے آخر میں اپنی صفات ’اِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ‘ کا حوالہ دے کر یہ واضح فرما دیا کہ جو نادان خدا کو نعوذ باللہ اندھا اور بہرا سمجھے بیٹھے تھے اب وہ اپنے کان اور اپنی آنکھیں کھولیں۔ اب ان کی عدالت کا وقت آ گیا ہے۔ حقیقی سمیع و بصیر خدا ہی ہے اور اب وہ اپنے کامل علم و خبر کی روشنی میں لوگوں کا انصاف کرے گا۔
      ’عبد‘ سے مراد آنحضرت صلعم: ’اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ لَیْلًا‘ کے معنی شب میں سفر کرنے کے ہیں اور جب ’ب‘ کے ذریعے سے یہ متعدی ہو جائے تو اس کے معنی شب میں کسی کو کہیں لے جانے کے ہیں۔ اگرچہ اس کے مفہوم میں شب میں نکلنے یا لے جانے کا مفہوم خود داخل ہے لیکن عام استعمال میں یہ لفظ کبھی کبھی اس مفہوم سے مجرد ہو جایا کرتا ہے اس وجہ سے ’’لَیْلًا‘‘ کی قید سے اس بات کو موکد کرنا مقصود ہے کہ یہ واقعہ شب ہی میں پیش آیا۔
      ’بِعَبْدِہٖ‘ میں ’عبد‘ سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس موقع پر حضورؐ کے لیے اس لفظ کا استعمال اللہ تعالیٰ کے ساتھ حضور کے غایت درجہ اختصاص، آپؐ کے ساتھ اللہ کی غایت درجہ محبت اور آپ کے کمال درجہ عبدیت کی دلیل ہے۔ گویا آپؐ کی ذات کسی اور تعریف و تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ لفظ ’عبد‘ نے خود انگلی اٹھا کر ساری خدائی میں سے اس کو ممیز کر دیا جو اس لفظ کا حقیقی محمل و مصداق ہے۔
      ’مسجد الحرام‘ اور ’مسجد اقصیٰ‘ سے مراد: ’مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اِلَی الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ‘ مسجد حرام سے تو ظاہر ہے کہ خانۂ کعبہ مراد ہے۔ رہی دوسری مسجد تو اس کا تعارف دو صفتوں سے کرایا ہے۔ ایک ’اقصٰی‘ دوسری ’الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ‘۔ ’اَقْصٰی‘ کے معنی ہیں دور والی۔ یہ مسجد، حرم مکہ کے باشندوں سے، جو اس کلام کے مخاطب اول ہیں کم و بیش ۴۰ دن کی مسافت پر یروشلم میں تھی اس وجہ سے اس کو اقصیٰ کی صفت سے موصوف فرمایا تاکہ ذہن آسانی سے اس کی طرف منتقل ہو سکے۔ پھر ’الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ‘ کی صفت اس کے ساتھ لگا کر اس سرزمین کی طرف بھی اشارہ کر دیا جس میں یہ مسجد واقع ہے۔ یہ اس سرزمین کی روحانی اور مادی دونوں قسم کی زرخیزیوں کی طرف اشارہ ہے۔ قدیم صحیفوں میں اس سرزمین کو دودھ اور شہد کی سرزمین کہا گیا ہے۔ جو اس کی انتہائی زرخیزی کی تعبیر ہے۔ روحانی برکات کے اعتبار سے اس کا جو درجہ تھا اس کا اندازہ کرنے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ جتنے انبیاؑء کا مولد و مدفن ہونے کا شرف اس سرزمین کو حاصل ہوا؟ کسی دوسرے علاقے کو حاصل نہیں ہوا۔
      معراج کے سفر کی غایت: ’لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَا‘ یہ اس سفر کی غایت بیان ہوئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا کہ اپنے بندے کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائے اسلوب بیان کی یہ بلاغت ملحوظ رہے کہ اوپر کی بات غائب کے صیغہ سے بیان ہوئی ہے جو تفخیم شان پر دلیل ہے اور یہاں صیغہ متکلم کا آ گیا ہے جو التفات خاص کو ظاہر کر رہا ہے۔ فرمایا کہ ہم نے یہ سفر اس لے کرایا تاکہ اپنے بندے کو کچھ نشانیاں دکھائیں۔ یہ نشانیاں کیا تھیں اس کا کوئی ذکر یہاں نہیں ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ اس سے مراد وہ آثار و مشاہد اور وہ انوار و برکات ہیں جن سے یہ دونوں ہی گھر معمور تھے۔ مقصود ان کے دکھانے سے ظاہر ہے کہ یہی ہو سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ کی یہ مرضی واضح ہو جائے کہ اب یہ ساری امانت ناقدروں اور بدعہدوں سے چھین کر آپ کے حوالے کی جانے والی ہے۔ گویا دعوت کے اس انتہائی مشکل دور میں آپ کو اللہ کی مدد و نصرت کی جو بشارت دی جا رہی تھی معراج کے اس سفر نے اس پر ایک مزید مہر تصدیق ثبت کر دی اور جو کچھ ہونے والا تھا وہ آپ کو دکھا بھی دیا گیا۔
      نبی کی رویائے صادقہ: رہا یہ سوال کہ یہ جو کچھ آپ کو دکھایا گیا رویا میں دکھایا گیا یا بیداری میں تو اس سوال کا جواب اسی سورہ میں آگے قرآن نے خود دے دیا ہے۔ فرمایا ہے:

      وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْ یَا الَّتِیْٓ اَرَیْنٰکَ اِلَّا فِتْنَۃً لِّلنَّاسِ(۶۰)
      ’’اور ہم نے اس رویا کو جو ہم نے تمھیں دکھائی لوگوں کے لیے فتنہ ہی بنا دی۔‘‘

      ظاہر ہے کہ یہاں جس رویا کی طرف اشارہ ہے اس سے اس رویا کے سوا کوئی اور رویا مراد لینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے جس کا ذکر آیت زیر بحث میں ’لِنُرِیَہٗ مِنْ اٰیٰتِنَا‘ کے الفاظ سے ہوا ہے۔ لفظ ’اراء ت‘ قرآن میں متعدد مقامات میں، رویا میں دکھانے کے لیے آیا بھی ہے اور مفسرین نے اس سے یہی رویا مراد بھی لی ہے۔ اس وجہ سے اس کا رویا ہونا تو اپنی جگہ پر واضح بھی ہے اور مسلم بھی لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ’رویا‘ کو خواب کے معنی میں لینا کسی طرح صحیح نہیں ہے۔ خواب تو خواب پریشان بھی ہوتے ہیں لیکن حضرات ابنیاء علیہم السلام کو جو رویا دکھائی جاتی ہے وہ ریائے صادقہ ہوتی ہے۔ اس کے متعدد امتیازی پہلو ہیں جو ذہن مین رکھنے کے ہیں۔
      رویائے صادقہ کے امتیازی پہلو: پہلی چیز تو یہ ہے کہ رویائے صادقہ وحی الٰہی کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں اور رسولوں پر جس طرح فرشتے کے ذریعے سے کلام کی صورت میں اپنی وحی نازل فرماتا ہے اسی طرح کبھی رویا کی صورت میں بھی ان کی رہنمائی فرماتا ہے۔
      دوسری چیز یہ ہے کہ یہ رویا نہایت واضح، غیرمبہم اور روشن صورت میں ’کَفَلْقِ الصُّبْح‘ ہوتی ہے جس پر نبی کو پورا شرح صدر اور اطمینان قلب ہوتا ہے۔ اگر اس میں کوئی چیز تمثیلی رنگ میں بھی ہوتی ہے تو اس کی تعبیر بھی اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر خود واضح فرما دیتا ہے۔
      تیسری چیز یہ ہے کہ جہاں واقعات و حقائق کا مشاہدہ کرانا مقصود ہو وہاں یہی ذریعہ نبی کے لیے زیادہ اطمینان بخش ہوتا ہے اس لیے کہ اس طرح واقعات کی پوری تفصیل مشاہدہ میں آ جاتی ہے اور وہ معانی و حقائق بھی ممثل ہو کر سامنے آ جاتے ہیں جو الفاظ کی گرفت میں مشکل ہی سے آتے ہیں۔
      چوتھی چیز یہ ہے کہ رویا کا مشاہدہ چشم سر کے مشاہدہ سے زیادہ قطعی، زیادہ وسیع اور اس سے ہزارہا درجہ عمیق اور دور رس ہوتا ہے۔ آنکھ کو مغالطہ پیش آ سکتا ہے لیکن رویائے صادقہ مغالطہ سے پاک ہوتی ہے، آنکھ ایک محدود دائرہ ہی میں دیکھ سکتی ہے لیکن رویا بیک وقت نہایت وسیع دائرہ پر محیط ہو جاتی ہے، آنکھ حقائق و معانی کے مشاہدے سے قاصر ہے، اس کی رسائی مرئیات ہی تک محدود ہے۔ لیکن رویا معانی و حقائق اور انوار و تجلیات کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے تجلی الٰہی اپنی آنکھوں سے دیکھنی چاہی لیکن وہ اس کی تاب نہ لا سکے۔ برعکس اس کے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شب معراج میں جو مشاہدے کرائے گئے وہ سب آپؐ نے کیے اور کہیں بھی آپ کی نگاہیں خیرہ نہیں ہوئیں۔
      ’اِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ‘ کا موقع و محل اوپر واضح کیا جا چکا ہے۔ اس کے اندر حصر کا پہلو ہے۔ وہ اس حقیقت کے اظہار کے لیے ہے کہ حقیقی سمیع و بصیر خدا ہی ہے۔ اس کے سمع و بصر سے کوئی چیز بھی مخفی نہیں ہے۔ اگر دوسروں کو اس میں سے کوئی حصہ ملا ہے تو وہ خدا ہی کا عطا کردہ اور نہایت محدود ہے۔ مقصود ان صفات کا حوالہ دینے سے، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، مشرکین قریش اور بنی اسرائیل دونوں کو متنبہ کرنا ہے کہ خدا کو اپنی کرتوتوں سے بے خبر نہ سمجھو، وہ ہر چیز کو دیکھ اور سن رہا ہے۔
      _____
      ؂۱ مسجد اقصیٰ کی حالت کا اندازہ کرنے کے لیے تو حضرت مسیحؑ کے الفاظ ہی کافی ہیں۔ اگر حرمِ ابراہیمی کی حالت کا اندازہ کرنا ہو تو فراہیؒ کی تفسیر سورۂ لہب پر ایک نظر ڈال لیجیے کہ ابو لہب نے اس میں کیا اودھم مچا رکھی تھی۔

       

      جاوید احمد غامدی ہر عیب سے پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو ایک رات مسجد حرام سے اُس دور کی مسجد تک لے گئی جس کے ماحول کو ہم نے برکت دی ہے تاکہ اُس کو ہم اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں۔ بے شک، وہی سمیع و بصیر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’سُبْحٰن‘ ہے۔ یہ تنزیہہ کا کلمہ ہے جو خدا کے باب میں کسی سوء ظن یا غلط فہمی کو رفع کرنے کے لیے آتا ہے۔
      آیت میں لفظ ’عَبْدِہٖ‘ استعمال ہوا ہے۔ اِس سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...اِس موقعے پر حضور کے لیے اِس لفظ کا استعمال اللہ تعالیٰ کے ساتھ حضور کے غایت درجہ اختصاص، آپ کے ساتھ اللہ کی غایت درجہ محبت اور آپ کے کمال درجہ عبدیت کی دلیل ہے۔ گویا آپ کی ذات کسی اور تعریف و تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ لفظ ’عَبْد‘ نے خود انگلی اٹھا کر ساری خدائی میں سے اُس کو ممیز کر دیا جو اِس لفظ کا حقیقی محمل و مصداق ہے۔‘‘(تدبرقرآن۴/ ۴۷۴)

      اِس سے یروشلم کی مسجد مراد ہے جسے بیت المقدس کہا جاتا ہے۔ یہ حرم مکہ سے کم و بیش ۴۰ دن کی مسافت پر تھی۔ اِس کا تعارف اِسی بنا پر ’الْمَسْجِدِ الْاَقْصَا‘، یعنی دور کی مسجد کے الفاظ سے کرایا ہے تاکہ مخاطبین کا ذہن آسانی سے اِس کی طرف منتقل ہو سکے۔
      اصل الفاظ ہیں: ’الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ‘۔ ابراہیم علیہ السلام کی بابل سے ہجرت کے بعد اللہ تعالیٰ نے دو مقامات کا انتخاب کیا، جہاں خود اُس کے حکم سے دو مسجدیں تعمیر کی گئیں اور اُنھیں پورے عالم کے لیے توحید کی دعوت کا مرکز بنا دیا گیا۔ ایک سرزمین عرب اور دوسرے فلسطین۔ اِن میں سے پہلا مقام وادی غیر ذی زرع اور دوسرا انتہائی زرخیز ہے۔ قدیم صحیفوں میں اِسی بنا پر اُسے دودھ اور شہد کی سرزمین کہا گیا ہے۔ ’الَّذِیْ بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ‘ کے الفاظ سے قرآن نے اِسی طرف اشارہ کیا ہے اور اِس طرح بالکل متعین کر دیا ہے کہ دور کی جس مسجد کا ذکر ہو رہا ہے، وہ یروشلم کی مسجد ہے۔ فرمایا کہ خدا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے اُس دور کی مسجد تک لے گیا۔ یہ لے جانا کس طرح ہوا؟ قرآن نے آگے اِسی سورہ کی آیت ۶۰ میں بتا دیا ہے کہ یہ ایک رؤیا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ طریقہ جس مقصد سے اختیار کیا،استاذامام امین احسن اصلاحی نے اُس کی وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’... رؤیا کا مشاہدہ چشم سر کے مشاہدے سے زیادہ قطعی، زیادہ وسیع اور اُس سے ہزارہا درجہ عمیق اور دور رس ہوتا ہے۔ آنکھ کو مغالطہ پیش آسکتا ہے، لیکن رویاے صادقہ مغالطے سے پاک ہوتی ہے؛ آنکھ ایک محدود دائرے ہی میں دیکھ سکتی ہے، لیکن رؤیا بہ یک وقت نہایت وسیع دائرے پر محیط ہوجاتی ہے؛ آنکھ حقائق و معانی کے مشاہدے سے قاصر ہے، اُس کی رسائی مرئیات ہی تک محدود ہے، لیکن رؤیا معانی و حقائق اور انوار و تجلیات کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۴/ ۴۷۶)

      یعنی اِس بات کی نشانیاں کہ حرم مکہ کے ساتھ اب فلسطین کی سرزمین اور اُس کی امانت بھی بنی اسمٰعیل کے سپرد کر دی جائے گی۔ تاہم اِن نشانیوں کی کوئی تفصیل نہیں کی گئی، اِس لیے کہ نہ الفاظ اِس تفصیل کے متحمل ہو سکتے ہیں اور نہ وہ ہمارے علم و عقل اور تصورات کی گرفت میں آسکتی ہیں۔
      آیت میں یہ چیز بھی قابل توجہ ہے کہ اوپر کی بات غائب کے صیغے سے بیان ہوئی ہے اور یہاں متکلم کا صیغہ آگیا ہے۔ اِس میں اسلوب بیان کی یہ بلاغت ہے کہ متکلم کا صیغہ التفات خاص کو ظاہر کر رہا ہے، جبکہ اوپر تفخیم شان مقصود تھی جسے غائب کے صیغے سے ظاہر فرمایا ہے۔
      آیت کے شروع میں لفظ’سُبْحٰن‘جس پہلو سے آیا ہے، یہ صفات اُس کی وضاحت کر رہی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ خدا ہی سمیع و بصیر ہے تو یہ اُسی کا کام تھا کہ اُن بد عہدوں کا محاسبہ کرے جنھوں نے ، سیدنا مسیح علیہ السلام کے الفاظ میں، اُس کے گھر کو چوروں کا بھٹ بنا ڈالا ہے۔ بنی اسرائیل اِس گھر میں جو کچھ کہتے اور کرتے رہے ہیں، اُس کو سننے اور دیکھنے کے بعد یہی ہونا تھا۔ چنانچہ خدا نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اِس گھر کی امانت اب نبی امی کے حوالے کر دی جائے گی۔ آپ کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے یہاں تک اِسی مقصد سے لایا گیا ہے۔ خدا ہر عیب سے پاک ہے، لہٰذا وہ کسی طرح گوارا نہیں کر سکتا تھا کہ ایک قوم کو لوگوں پر اتمام حجت کے لیے منتخب کرے اور اُس کی طرف سے اِس درجے کی سرکشی کے باوجود اُسے یوں ہی چھوڑے رکھے۔ ناگزیر تھا کہ پیش نظر مقصد کے لیے وہ کوئی دوسرا اہتمام کرے۔ اُس نے یہی کیا ہے اور عالمی سطح پر دعوت و شہادت کی ذمہ داری بنی اسمٰعیل کے سپرد کر دی ہے۔

       

    • امین احسن اصلاحی اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی اور اس کو بنی اسرائیل کے لیے ہدایت نامہ بنایا کہ میرے سوا کسی کو معتمد نہ بنائیو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وکیل‘ کے معنی کارساز اور معتمد: ’کِتَاب‘ سے مراد تورات ہے اور ’وکیل‘ کے معنی کارساز، معتمد اور اس ذات کے ہیں جس پر کامل بھروسہ کر کے اپنے معاملات اس کے حوالہ کر دیے جائیں۔
      یہود کے بگاڑ کی تاریخ: یہ آیت تمہید ہے یہود کے اس بگاڑ اور فساد کے بیان کی جو آگے کی آیات میں آ رہا ہے۔ فرمایا کہ ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب عطا کی اور اس کو بنی اسرائیل کے لیے صحیفۂ ہدایت بنایا جس میں صاف یہ ہدایت درج تھی کہ میرے سوا کسی کو کارساز اور معتمد نہ بنائیو۔ مقصود اس کا حوالہ دینے سے یہ واضح کرنا ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے اس اہتمام ہدایت کی کوئی قدر نہیں کی۔ اس کے صحیفۂ ہدایت کو پیٹھ پیچھے پھینک دیا اور شرک سے بچتے رہنے کی صریح ہدایت کے باوجود شرک کی نجاستوں اور آلودگیوں میں مبتلا ہوئے۔
      تورات میں توحید کی تعلیم: کتاب کے ذکر کے بعد توحید کی تعلیم کا حوالہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ یہی چیز تمام تعلیمات دین کے لیے مرکز ثقل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسی پر تمام شریعت کی بنیاد بھی ہے اور اسی کے ساتھ وابستہ رہنے تک کوئی جماعت دین سے وابستہ بھی رہتی ہے۔ جہاں اس مرکز ثقل سے وابستگی کمزور ہوئی پھر بالتدریج سارا دین غارت ہو کے رہ جاتا ہے۔
      یہ امر محتاج بیان نہیں ہے کہ تورات توحید کی تعلیم سے بھری پڑی ہے۔ حوالے نقل کرنے میں طوالت ہو گی اس وجہ سے ہم صرف ایک حوالہ پر اکتفا کرتے ہیں۔ خروج۔ ۲: ۲ میں ہے:

      ’’خداوند تیرا خدا جو تجھے زمین مصر سے غلامی کے گھر سے نکال لایا، میں ہوں۔ میرے حضور تیرے لیے دوسرا خدا نہ ہووے۔ تو اپنے لیے کوئی مورت یا کسی چیز کی صورت جو اوپر آسمان پر یا نیچے زمین پر یا پانی میں زمین کے نیچے سے مت بنا۔ تو ان کے آگے اپنے تئیں مت جھکا اور نہ ان کی عبادت کر کیونکہ میں خداوند تیرا خدا غیور خدا ہوں۔‘‘

      قرآن کے الفاظ ’اَلَّا تَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِیْ وَکِیْلًا‘ اور تورات کے الفاظ ’’میرے حضور تیرے لیے دوسرا خدا نہ ہووے‘‘ میں کتنی مطابقت ہے لیکن ان واضح ہدایات کے باوجود یہود باربار شرک و بت پرستی میں مبتلا ہوئے جس پر ان کے نبیوں نے نہایت درد انگیز الفاظ میں ماتم بھی کیا ہے اور یہود کو ملامت بھی کی ہے۔ سیدنا مسیحؑ نے تو یہود کو مخاطب کر کے یہاں تک فرما دیا کہ ’’تو تو وہ ہے کہ تو نے پہلی شب میں چھنالا کیا۔‘‘

       

      جاوید احمد غامدی (سو اُن کا عہد تمام ہوا جو اِس دور کی مسجد کے نگہبان بنائے گئے)۔ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی اور اُس کو (اِنھی) بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا تھا، اِس تاکید کے ساتھ کہ میرے سوا کسی کو اپنا کارساز نہ بناؤ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی تورات عطا فرمائی تھی۔
      یہ ایک جملے میں اُس دعوت کا خلاصہ ہے جس کے بنی اسرائیل امین بنائے گئے تھے۔ توحید پر ایمان کا اولین تقاضا یہی ہے کہ خدا کے سوا کسی کو کارساز نہ بنایا جائے اور صرف ایک خدا پر بھروسا کرکے اپنے تمام معاملات اُس کے حوالے کر دیے جائیں۔ تورات میں بھی یہ تعلیم جگہ جگہ اور نہایت واضح الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ دین کی تعلیمات میں اِس کی حیثیت ایک مرکز ثقل کی ہے اور تمام شریعت کی بنیاد بھی یہی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اے ان لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ سوار کرایا۔ بے شک وہ ایک شکر گزار بندہ تھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حرف ندا یہاں محذوف ہے۔ یعنی توحید کی اس تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کو یہ یاددہانی بھی کر دی گئی تھی کہ اس بات کو ہمیشہ مستحضر رکھنا کہ تم ان باقیات الصالحات کی نسل سے ہو جن کو اللہ نے نوح کے ساتھ ان کی کشتی میں بچایا۔ نوح اللہ کے ایک شکرگزار بندے تھے تو تم بھی انہی کی طرح خدا کے شکرگزار اور اس کی توحید پر قائم رہنا ورنہ یاد رکھو کہ جس طرح اللہ نے قوم نوحؑ کے وجود سے، اس کے شرک کی پاداش میں، اپنی زمین کو پاک کر دیا اسی طرح تمہارے وجود سے بھی اپنی زمین کو پاک کر دے گا۔

      جاوید احمد غامدی اے اُن لوگوں کی اولاد جنھیں ہم نے نوح کے ساتھ( کشتی پر) سوار کیا تھا۔ اِس میں شک نہیں کہ وہ (ہمارا) ایک شکر گزار بندہ تھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ تم اُنھی باقیات الصالحات کی اولاد ہو جو توحید پر سچے ایمان کی وجہ سے کشتی پر سوار کرائے گئے اور خداکے عذاب سے بچا لیے گئے تھے۔ اپنی یہ تاریخ ہمیشہ یاد رکھو اور اپنے ابوالآبا نوح علیہ السلام کی طرح تم بھی خدا کے شکر گزار بندے بن کر اُس کی توحید پر قائم رہو۔

    • امین احسن اصلاحی اور ہم نے بنی اسرائیل کو اپنے اس فیصلہ سے کتاب میں آگاہ کر دیا تھا کہ تم دو مرتبہ زمین میں فساد مچاؤ گے اور بہت سر اٹھاؤ گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      عربیت کا ایک اسلوب: ’قَضَیْنَا‘ کے بعد ’اِلٰی‘ کا صلہ عربیت کے قاعدے سے اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں ’اَبْلَغْنَا‘ یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ محذوف ہے۔ یعنی ہم نے فیصلہ کر کے بنی اسرائیل کو اپنے اس فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔
      یہود کے دو برے فسادات: ’فِی الْکِتَابِ‘ میں ’الْکِتَاب‘ کا لفظ یہاں تمام اسفار یہود پر مشتمل ہے۔ قرآن میں یہ لفظ تورات کے لیے بھی آتا ہے اور دوسرے انبیاء بنی اسرائیل کے صحیفوں کے لیے بھی۔ آیت میں یہود کے جن دو بڑے فسادات اور ان کے انجام کی خبر دی گئی ہے ان میں سے پہلے فساد اور اس کے عبرت انگیز انجام سے حضرت داؤد، یسعیاہ، یرمیاہ اور حزقی ایل علیہم السلام نے آگاہ فرمایا اور دوسرے فساد اور اس کے عواقب سے سیدنا مسیحؑ نے ڈرایا۔ ’فساد‘ سے مراد، جیسا کہ ہم دوسرے مقامات میں واضح کر چکے ہیں، خدا کی توحید اور اس کی شریعت سے بغاوت ہے۔ اس قسم کے فسادات سے یوں تو یہود کی پوری تاریخ بھری پڑی ہے چنانچہ ایک فساد کی تفصیل سورۂ بقرہ میں تابوت کے چھن جانے کے واقعہ سے متعلق بھی، گزر چکی ہے لیکن یہاں جن فسادات کا حوالہ ہے وہ ایسے فسادات ہیں کہ ان کے نتائج نے یہود کی پوری قوم کو ذلیل و پامال کر کے رکھ دیا۔ حضرت داؤدؑ نے پہلے فساد اور اس کے انجام کی جن لفظوں میں پیشین گوئی فرمائی تھی وہ یہ ہیں:

      ’’انھوں نے (یعنی بنی اسرائیل نے) ان قوموں کو (یعنی مشرک قوموں کو) ہلاک نہ کیا، جیسا کہ خداوند نے ان کو حکم دیا تھا بلکہ ان قوموں کے ساتھ مل گئے اور ان کے سے کام سیکھ گئے اور ان کے بتوں کی پرستش کرنے لگے جو ان کے لیے پھندا بن گئے بلکہ انھوں نے اپنی بیٹیوں کو شیاطین کے لیے قربان کیا اور معصوموں کا یعنی اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کا خون بہایا ................. اس لیے خدا کا قہر اپنے لوگوں پر بھڑکا اور اسے اپنی میراث سے (یعنی بنی اسرائیل سے) نفرت ہو گئی اور اس نے ان کو قوموں کے قبضے میں کر دیا اور ان سے عداوت رکھنے والے ان پر حکمران بن گئے۔‘‘(زبور باب ۱۰۶ آیات ۳۴-۴۱)

      دوسرے فساد کی پیشین گوئی کے سلسلہ میں سیدنا مسیحؑ کے الفاظ یہ ہیں:

      ’’میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ یہاں کسی پتھر پر پتھر باقی نہ رہے گا جو گرایا نہ جائے۔‘‘ (متی باب ۲۴ آیت ۳)

      لوقا میں ہے:

      ’’اے یروشلم کی بیٹیو! میرے لیے نہ روؤ بلکہ اپنے لیے اور اپنے بچوں کے لیے روؤ کیونکہ دیکھو وہ دن آتے ہیں جب کہیں گے کہ مبارک ہیں بانجھیں اور وہ پیٹ جو نہ جنے اور وہ چھاتیاں جنھوں نے دودھ نہ پلایا۔ اس وقت وہ پہاڑوں سے کہنا شروع کریں گے کہ ہم پر گر پڑو اور ٹیلوں سے کہیں گے کہ ہمیں چھپا لو۔‘‘ (باب ۲۳ آیات ۲۸-۳۰)

      آیت کے آخر میں ’فَنُعَذِّبُکُمْ مَرَّتَیْنِ‘ یا اس کے ہم معنی الفاظ حذف ہیں۔ گویا پوری بات یوں ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو اپنے اس فیصلہ سے کتاب میں آگاہ کر دیا تھا کہ تم زمین میں دو مرتبہ فساد مچاؤ گے اور بہت سر اٹھاؤ گے اور ہم دونوں مرتبہ تم کو سخت سزا دیں گے۔ چونکہ یہ بات بالکل واضح بھی تھی نیز اس کی پوری تفصیل آگے والی آیات میں آ رہی تھی اس وجہ سے یہاں اس کو حذف فرما دیا۔

       

      جاوید احمد غامدی بنی اسرائیل کو ہم نے اِسی کتاب میں اپنے اِس فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا کہ تم دو مرتبہ زمین میں فساد برپا کرو گے اور بڑی سرکشی دکھاؤ گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’وَقَضَیْنَآ اِلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ‘۔ اِن میں ’قَضَیْنَا‘ کے بعد ’اِلٰی‘ کا تقاضا ہے کہ اُسے کسی ایسے فعل پر متضمن مانا جائے جو اِس صلہ سے مناسبت رکھنے والا ہو۔ یہ ’أبلغنا‘ یا اِس کے ہم معنی کوئی فعل ہو سکتا ہے۔ ہم نے ترجمہ اِسی کے لحاظ سے کیا ہے۔
      یعنی خدا کے مقابلے میں سرکشی دکھاؤ گے اور اُس کی شریعت سے بغاوت کردو گے۔ قرآن میں لفظ ’فَسَاد‘ اِس مفہوم کے لیے بھی آیا ہے۔ اِس کے بعد ’فنعذبکم مرتین‘ یا اِس کے ہم معنی الفاظ آیت میں حذف ہو گئے ہیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بات بالکل واضح بھی تھی اور آگے جو کچھ بیان ہوا ہے، وہ بھی اِسی پر دلالت کررہا تھا۔ تورات میں یہ تنبیہ اور اِس کے نتیجے میں ملنے والی سزا کی تفصیلات استثنا کے باب ۲۸ میں دیکھ لی جا سکتی ہیں۔ چند اقتباسات ملاحظہ ہوں:

      ’’...اور چونکہ تو باوجود سب چیزوں کی فراوانی کے فرحت اور خوش دلی سے اپنے خدا کی عبادت نہیں کرے گا، اِس لیے بھوکا اور پیاسا اور ننگا اور سب چیزوں کا محتاج ہو کر تو اپنے دشمنوں کی خدمت کرے گا ،جن کو خداوند تیرے برخلاف بھیجے گا اور غنیم تیری گردن پر لوہے کا جو آ رکھے رہے گا، جب تک وہ تیرا ناس نہ کر دے۔ خداوند دور سے، بلکہ زمین کے کنارے سے ایک قوم کو تجھ پر چڑھا لائے گا جیسے عقاب ٹوٹ کر آتا ہے۔ اُس قوم کی زبان کو تو نہیں سمجھے گا۔ اُس قوم کے لوگ ترش رو ہوں گے جو نہ بڈھوں کا لحاظ کریں گے نہ جوانوں پر ترس کھائیں گے۔ اور وہ تیرے چوپایوں کے بچوں اور تیری زمین کی پیداوار کو کھاتے رہیں گے، جب تک تیرا ناس نہ ہو جائے۔ اور وہ تیرے لیے اناج یا مے یا تیل یا گاے بیل کی بڑھتی یا تیری بھیڑ بکریوں کے بچے کچھ نہیں چھوڑیں گے، جب تک وہ تجھ کو فنا نہ کر دیں۔ اور وہ تیرے تمام ملک میں تیرا محاصرہ تیری ہی بستیوں میں کیے رہیں گے، جب تک تیری اونچی اونچی فصیلیں جن پر تیرا بھروسا ہو گا، گر نہ جائیں۔ تیرا محاصرہ وہ تیرے ہی اُس ملک کی سب بستیوں میں کریں گے جسے خداوند تیرا خدا تجھ کو دیتا ہے۔‘‘(۴۷۔۵۲)

      ’’...اور چونکہ تو خداوند اپنے خدا کی بات نہیں سنے گا، اِس لیے کہاں تو تم کثرت میں آسمان کے تاروں کی مانند ہو اور کہاں شمار میں تھوڑے ہی سے رہ جاؤ گے۔ تب یہ ہو گا کہ جیسے تمھارے ساتھ بھلائی کرنے اور تم کو بڑھانے سے خداوندخوشنود ہوا، ایسے ہی تم کو فنا کرانے اور ہلاک کر ڈالنے سے خداوند خوشنود ہو گا اور تم اُس ملک سے اکھاڑ دیے جاؤ گے، جہاں تو اُس پر قبضہ کرنے جا رہا ہے۔ اور خداوند تجھ کو زمین کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک تمام قوموں میں پراگندہ کرے گا۔‘‘ (۶۲۔۶۴)

      اِس کے بعد بنی اسرائیل کے انبیا اُنھیں متنبہ کرتے رہے۔ چنانچہ پہلے فساد پر اُن کی تنبیہات زبور، یسعیاہ، یرمیا اور حزقی ایل میں اور دوسرے فساد پر سیدنا مسیح علیہ السلام کی زبان سے متی اور لوقا کی انجیلوں میں موجود ہیں۔

       

    • امین احسن اصلاحی پس جب ان میں سے پہلی بار کی میعاد آ جاتی ہے تو ہم تم پر اپنے زور آور بندے مسلط کر دیتے ہیں تو وہ گھروں میں گھس پڑے اور شدنی وعدہ پورا ہو کے رہا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’اِذَا‘ صرف مستقبل ہی کے لیے نہیں آتا بلکہ بیان عادت و سنت اور بعض اوقات تصویر حال کے لیے بھی آتا ہے۔ یہاں تصویر حال ہی کے لیے ہے۔ ہم نے ترجمے میں اس کو ملحوظ رکھا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ چنانچہ دیکھ لو جب پہلی بار کی میعاد آ جاتی ہے تو ہم تمہیں اپنے عذاب کا مزا چکھانے کے لیے اپنے زور آور بندوں کو ابھار کر تم پر مسلط کر دیتے ہیں جو تمہارے گھروں میں گھس پڑتے ہیں اور خدا کا شدنی وعدہ پورا ہو کے رہتا ہے۔
      ’بعث‘ کا صلہ جب ’عَلٰی‘ کے ساتھ آئے تو وہ ابھارنے اور اکسانے کے ساتھ ساتھ مسلط کر دینے کے مفہوم پر بھی متضمن ہو جاتا ہے۔
      یہود کی توہین و تذلیل کی تصویر: ’فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ‘ یہ یہود کی انتہائی توہین و تذلیل کی تصویر ہے اس لیے کہ جب دشمن اتنا زور آور ہو کہ وہ گھروں کے اندر گھس پڑے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس نے عزت و ناموس ہر چیز کو تاراج کر کے رکھ دیا۔ یہاں صرف اتنے ہی کے ذکر پر اکتفا فرمایا ہے اس لیے کہ ذلت کی تصویر کے لیے یہی کافی تھا لیکن آگے اس بات کا حوالہ بھی آئے گا کہ اس دشمن نے صرف گھروں میں گھسنے ہی پر بس نہیں کیا بلکہ مسجد اقصیٰ کی حرمت بھی پوری طرح برباد کی۔
      بخت نصر کا حملہ اور یہود کی غلامی: یہ اشارہ بابل و نینوا کے بادشاہ بخت نصر یا نبوکد نضر کے حملہ کی طرف ہے جس نے ۵۸۶ قبل مسیح میں یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔
      یرمیاہ نبی نے اس کی پیشین گوئی یوں فرمائی تھی:

      ’’رب الافواج یوں کہتا ہے۔ اس لیے کہ تم نے میری باتیں نہ سنیں دیکھ میں اتر کے سارے گھرانوں کو اپنے خدمت گزار شاہ بابل نبوکد نضر کو بلا بھیجوں گا۔‘‘ (یرمیاہ ۲۵: ۸-۹)

      ان کے انذار کی مزید تفصیل سنیے:

      ’’میں ایسا کروں گا کہ ان کے درمیان خوشی کی آواز اور خرص کی آواز، دلہے کی آواز دلہن کی آواز، چکی کی آواز اور چراغ کی روشنی باقی نہ رہے اور یہ ساری سرزمین ویرانہ اور حیرانی کا باعث ہو جائے گی اور یہ قومیں ستر برس تک بابل کے بادشاہ کی غلامی کریں گی۔‘‘ (یرمیاہ ۲۵: ۹-۱۰)

      یرمیاہ نبی کا نوحہ سنیے:

      ’’خداوند نے صیہون کی بیٹی کو اپنے قہر کے ابر تلے چھپا دیا۔ اس نے اسرائیل کے جمال کو آسمان سے زمین پر پٹک دیا اور اپنے قہر کے دن اپنے پاؤں رکھنے کی کرسی کو یاد نہ کیا۔ خداوند نے یعقوب کے سارے مکانوں کو غارت کیا اور رحم نہ کیا۔ اس نے اپنے قہر میں یہوداہ کی بیٹی کے قلعوں کو ڈھا دیا۔ اس نے انھیں خاک کے برابر کر دیا۔ اس نے بادشاہت اور امیروں کو ناپاک کیا۔ اس نے اپنے قہر شدید میں اسرائیل کا ہر ایک سینگ بالکل کاٹ ڈالا۔‘‘ (یرمیاہ کا نوحہ ۲: ۲۷۱)

      آیت میں بخت نصر (یا نبوکد نضر) اور اس کی فوجوں کے لیے ’عِبَادًا لَّنَآ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ‘ (اپنے زور آور بندے) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ یہ ان کے دین اور تقویٰ کے اعتبار سے نہیں استعمال ہوئے ہیں بلکہ صرف اس حیثیت سے استعمال ہوئے ہیں کہ انھوں نے خدا کے ارادہ کے اجراء و نفاذ کے لیے آلہ و جارحہ کا کام دیا۔ یہ اگرچہ خود گندے تھے لیکن گندگی کے ایک بہت بڑے ڈھیر کو صاف کرنے میں انھوں نے مشیت الٰہی کی تنفیذ کی اس وجہ سے انھیں بھی فی الجملہ خدا سے نسبت حاصل ہو گئی۔ بنی اسرائیل کو غرہ تھا کہ ’نَحْنُ اَبْنَآءُ اللّٰہِ وَاَحِبَّاءُہٗ‘ ہم خدا کے محبوب اور چہیتے ہیں۔ خدا نے ان پر واضح کر دیا کہ جن جوتوں سے تم پٹے ہو وہ تو خدا کی نظروں میں کچھ وقعت رکھتے ہیں لیکن تم کوئی وقعت نہیں رکھتے۔

       

      جاوید احمد غامدی (لہٰذا دونوں مرتبہ سخت سزا پاؤ گے)۔ پھر (تم نے دیکھا کہ) جب اُن میں سے پہلی بار کے وعدے کا وقت آجاتا ہے تو ہم تم پر اپنے ایسے بندے اٹھا کرمسلط کر دیتے ہیں جو نہایت زور آور تھے۔ سو وہ تمھارے گھروں کے اندر گھس پڑے اور وعدہ پورا ہوکے رہا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      جملے کی ابتدا ’اِذَا‘ سے ہوئی ہے۔ یہ یہاں تصویر حال کے لیے آیا ہے۔ ’اِذَا‘ کے بارے میں یہ بات ملحوظ رہنی چاہیے کہ یہ جس طرح حال اور مستقبل کے لیے آتا ہے، اُسی طرح بیان سنت و عادت اور ماضی میں کسی صورت حال کی تصویر کے لیے بھی آتا ہے۔
      آیت میں ’بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ‘ کے الفاظ ہیں۔ ’بَعْث‘ کے بعد ’عَلٰی‘ دلیل ہے کہ یہ ابھارنے اور اٹھا کھڑا کرنے کے ساتھ ساتھ مسلط کر دینے کے مفہوم پر بھی متضمن ہو گیا ہے۔
      یہ اشارہ بابل و نینوا کے بادشاہ بخت نصر کے حملے کی طرف ہے جس نے ۵۸۶ قبل مسیح میںیہودیہ کے تمام بڑے شہروں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور یروشلم اور ہیکل سلیمانی کو، جو یہود کی عظمت کا آخری نشان تھا، بالکل پیوند خاک کر دیا۔ آیت میں اِس کے لیے ’فَجَاسُوْا خِلٰلَ الدِّیَارِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ استاذ امام کے الفاظ میں، یہ یہودکی انتہائی توہین و تذلیل کی تصویر ہے، اِس لیے کہ جب دشمن اتنا زور آور ہو کہ وہ گھروں کے اندر گھس پڑے تو اِس کے معنی یہ ہوئے کہ اُس نے عزت و ناموس ، ہر چیز کو تاراج کر کے رکھ دیا۔ اِسی طرح بخت نصر کی فوجوں کے لیے ’عِبَادًا لَّنَآ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ‘ (اپنے زور آور بندے) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...یہ اُن کے دین اور تقویٰ کے اعتبار سے نہیں استعمال ہوئے ہیں، بلکہ صرف اِس حیثیت سے استعمال ہوئے ہیں کہ اُنھوں نے خدا کے ارادہ کے اجرا و نفاذ کے لیے آلہ و جارحہ کا کام دیا۔ یہ اگرچہ خود گندے تھے، لیکن گندگی کے ایک بہت بڑے ڈھیر کو صاف کرنے میں اُنھوں نے مشیت الٰہی کی تنفیذ کی، اِس وجہ سے اُنھیں بھی فی الجملہ خدا سے نسبت حاصل ہو گئی۔ بنی اسرائیل کو غرہ تھا کہ ’نَحْنُ اَبْنَآءُ اللّٰہِ وَاَحِبَّآءُ ہٗ‘ ہم خدا کے محبوب اور چہیتے ہیں۔ خدا نے اُن پر واضح کر دیا کہ جن جوتوں سے تم پٹے ہو، وہ تو خدا کی نظروں میں کچھ وقعت رکھتے ہیں، لیکن تم کوئی وقعت نہیں رکھتے۔‘‘(تدبرقرآن ۴/ ۴۸۲)

       

    • امین احسن اصلاحی پھر ہم نے تمہاری باری ان پر لوٹائی اور تمہاری مال اور اولاد سے مدد کی اور تمہیں ایک کثیر التعداد جماعت بنا دیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ایک عرصہ کی غلامی اور بدحالی کے بعد بنی اسرائیل میں کچھ اصلاح حال کا جذبہ ابھرا تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی طرف توجہ فرمائی، ان کے مال و اولاد میں برکت دی اور تائید الٰہی ان کے لیے اس شکل میں ظاہر ہوئی کہ دارائے اول سائرس شاہ ایران نے ۵۳۹ ق، م میں کلدانیوں کو شکست دے کر ان کے ملک پر قبضہ کر لیا اور یہود کو جلاوطنی سے نجات دے کر وطن جانے اور اسے دوبارہ آباد کرنے کی اجازت دے دی، جس کے بعد بنی اسرائیل کو ازسرنو خاصا فروغ حاصل ہوا۔

      جاوید احمد غامدی پھر ہم نے تمھاری باری اُن پر لوٹا دی اور اموال و اولاد سے تمھاری مدد کی اور تمھیں ایک بڑی جماعت بنا دیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      ایک عرصے کی غلامی کے بعد یہود میں رجوع الی اللہ کی کیفیت پیدا ہوئی تو خدا نے دوبارہ اُن کی مدد کی۔ چنانچہ بابل کی سلطنت کو زوال ہوا اور ۵۳۹ قبل مسیح میں شاہ ایران سائرس نے کلدانیوں کو شکست دے کر اُن کے ملک پر قبضہ کر لیا۔ اِس کے بعد اُس نے یہود پر یہ عنایت کی کہ اُنھیں اپنے وطن واپس جانے اور وہاں دوبارہ آباد ہونے کی اجازت دے دی۔ یہود نے واپس آ کر ہیکل مقدس کو نئے سرے سے تعمیر کیا اور عزیر علیہ السلام کی رہنمائی میں اپنے آپ کو بڑی حد تک بحال کر لیا، جس کے بعد بنی اسرائیل کو خاصا فروغ حاصل ہوا۔ قرآن نے یہ اِسی فضل و عنایت کا ذکر کیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اگر تم بھلے کام کرو گے تو اپنے لیے کرو گے اور اگر برے کام کرو گے تو بھی اپنے ہی لیے۔ پھر جب پچھلی بار کی میعاد آ جاتی ہے تو ہم تم پر اپنے زور آور بندے مسلط کر دیتے ہیں کہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور تاکہ وہ مسجد میں گھس پڑیں جس طرح پہلی بار گھس پڑے تھے اور تاکہ جس چیز پر ان کا زور چلے اسے تہس نہس کر ڈالیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ٹائیٹس کے ہاتھوں یہود کی دوسری تباہی: ’اِنْ اَحْسَنْتُمْ ........ الایۃ‘ یعنی ایک طویل غلامی کے بعد یہ جو نجات حاصل ہوئی تھی اس کے اندر خود یہ درس مضمر تھا کہ اب اگر تم بھلائی کی روش اختیار کرو گے تو اس کا نفع خود اپنے ہی کو پہنچاؤ گے اور اگر پھر وہی سرکشی کی روش اختیار کرو گے تو اس کا انجام بھی ویسا ہی بھگتو گے۔ یہ نوشتۂ دیوار بھی موجود تھا اور اس سے تمہارے نبیوں نے بھی تمہیں اچھی طرح آگاہ کر دیا تھا لیکن وہی جس کی پیشین گوئی پہلے ہو چکی تھی یعنی تم اسی طرح کے فساد میں پھر مبتلا ہو گئے جس طرح کے فساد میں پہلے مبتلا ہوئے تھے چنانچہ جب تمہاری سرکوبی کی دوسری میعاد آ جاتی ہے تو ہم تم پر اپنے دوسرے زور آور بندے مسلط کر دیتے ہیں تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور تاکہ یہ بھی مسجد میں اسی طرح گھس جائیں جس طرح پہلے والے گھس گئے تھے اور تاکہ یہ ہر اس چیز کو تہس نہس کر کے رکھ دیں جس پر ان کا زور چلے۔
      ’لِیَسُوْٓءٗا وُجُوْھَکُمْ‘ سے پہلے ’بَعَثْنَا عَلَیْکُمْ عِبَادًا لَّنَآ اُولِیْ بَاْسٍ شَدِیْدٍ‘ کے الفاظ محذوف ہیں۔ چونکہ اس کا قرینہ واضح تھا اس وجہ سے اس کو حذف کر دیا اور ’لِیَسُوْٓءٗا‘ پر جو لام ہے وہ اس کی طرف انگلی اٹھا کر اشارہ کر رہا ہے۔
      بائیبل ہسٹری کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اس تباہی کی طرف اشارہ ہے جو ۷۰ء میں رومی شاہنشاہ طیطاؤس (ٹائیٹس) کے ہاتھوں یہود پر آئی، جس کی طرف حضرت مسیحؑ نے اشارہ فرمایا تھا۔

      جاوید احمد غامدی (یہ تمھارے لیے سبق تھا کہ) اگر تم اچھے کام کرو گے تو اپنے لیے اچھا کرو گے اور اگر برے کام کرو گے تو وہ بھی اپنے لیے کرو گے۔(یہ پہلا وعدہ تھا)۔ اِس کے بعد جب دوسری بار کے وعدے کا وقت آجاتا ہے (تو ہم اپنے کچھ دوسرے زور آور بندے اٹھا کھڑے کرتے ہیں)،اِس لیے کہ وہ تمھارے چہرے بگاڑ دیں اور تمھاری مسجد میں اُسی طرح گھس پڑیں، جس طرح وہ پہلی بار اُس میں گھس پڑے تھے اور جس چیز پر اُن کا زور چلے، اُس کو تہس نہس کر ڈالیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ الفاظ اصل میں محذوف ہیں۔ آیت میں ’لِیَسُوْٓءٗ ا‘ کا لام انگلی اٹھا کر اِن کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
      یہ اُس تباہی کا ذکر ہے جو مسیح علیہ السلام کی طرف سے اتمام حجت کے بعد ۷۰ء میں رومی بادشاہ تیتس (Titus) کے ہاتھوں یہود پر آئی۔ اِس موقع پر ہزاروں مارے گئے، ہزاروں غلام بنائے گئے، ہزاروں کو پکڑ کر مصری کانوں میں کام کرنے کے لیے بھیج دیا گیا اور ہزاروں ایمفی تھیئٹروں اور کلوسیموں میں لوگوں کی تفریح طبع کے لیے جنگلی جانوروں سے پھڑوانے یا شمشیر زنوں کے کھیل کا تختۂ مشق بننے کے لیے مختلف شہروں میں بھیج دیے گئے۔ تمام دراز قامت اور حسین لڑکیاں فاتحین نے اپنے لیے چن لیں اور یروشلم کا شہر اور اُس کی مسجد، سب زمیں بوس کر دیے گئے۔

    • امین احسن اصلاحی کیا عجب کہ تمہارا رب تم پر رحم فرمائے اور اگر تم پھر وہی کرو گے تو ہم بھی وہی کریں گے اور ہم نے جہنم کو تو کافروں کے لیے باڑا بنا ہی رکھا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’حَصِیْر‘ کا ٹھیک ترجمہ باڑا ہے جس میں جانوروں کو بند کرتے ہیں۔
      نبی صلعم کی یہود کے لیے نجات: یہ ان یہود سے خطاب ہے جو ان آیات کے نزول کے وقت موجود اور قرآن کی مخالفت میں کفار قریش کی ہمنوائی و پشت پناہی کر رہے تھے۔ ان سے خطاب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ ماضی میں جو کچھ ہو چکا ہے وہ تمھیں سنایا جا چکا ہے۔ اب اگر خیریت چاہتے ہو تو اس نبی امی (صلی اللہ علیہ وسلم) کی دعوت نے تمھارے لیے نجات کی جو راہ کھولی ہے، اس کو اختیار کرو، اور اپنے مستقبل کو سنوار لو۔ اگر تم نے توبہ اور اصلاح کی راہ اختیار کر لی تو خدا بھی تم پر رحم فرمائے گا اور اگر تم نے پھر اسی طرح کی حرکتیں کیں جیسی کہ پہلے کرتے آئے ہو تو ہم بھی تمھاری اسی طرح خبر لیں گے جس طرح پہلے لے چکے ہیں اور یہ بھی یاد رکھو کہ اس دنیا میں جو ذلت و رسوائی ہوئی ہے وہ تو ہو گی ہی۔ آگے تمھارے جیسے کافروں کے لیے جہنم کا باڑا ہے جس میں سارے بھر دیے جائیں گے۔
      اس آیت کے تیور لحاظ رکھنے کے قابل ہیں۔ پہلے تو بات غائب کے صیغے سے فرمائی۔ پھر ’وَاِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا‘ میں متکلم کا صیغہ آ گیا۔ پہلے ٹکڑے میں بے پروائی کا انداز ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم یہ صحیح راہ اختیار کر لو گے تو اپنے ہی کو نفع پہنچاؤ گے اور اگر نہ اختیار کرو گے تو اپنی ہی شامت کو دعوت دو گے، خدا کا کچھ نہیں بگاڑو گے۔ دوسرے ٹکڑے میں نہایت ہی سخت وعید ہے اس وجہ سے اول تو متکلم کا صیغہ آیا جو تہدید و وعید کے لیے زیادہ موزوں ہے پھر اس میں ابہام و اجمال بھی ہے۔ یہ تو بتایا کہ ہم لوٹیں گے، یہ نہیں بتایا کہ ہم کس شکل میں لوٹیں گے۔ یہ بات سمجھنے والوں کی سمجھ پر چھوڑ دی ہے اور اس جملے کی ساری شدت اس ابہام کے اندر مضمر ہے۔

      جاوید احمد غامدی (اب بھی)عجب نہیں، (اے بنی اسرائیل) کہ تمھارا پروردگار (ایک مرتبہ پھر) تم پر رحم فرمائے۔ لیکن (یاد رکھو)، اگر تم وہی کرو گے تو ہم بھی وہی کریں گے اور جہنم کو تو ہم نے اِسی طرح کے منکروں کے لیے باڑا بنا رکھا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی جو حقائق کو اِس طرح بہ چشم سر دیکھ لینے کے بعد بھی انکار کر دیں۔ یہ اُن یہود کو براہ راست خطاب فرمایا ہے جو قرآن کی مخالفت میں منکرین قریش کے ہم نوا ہو کر اُن کی پشت پناہی کر رہے تھے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’اِس آیت کے تیور لحاظ رکھنے کے قابل ہیں۔ پہلے توبات غائب کے صیغے سے فرمائی۔ پھر ’اِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا‘ میں متکلم کا صیغہ آ گیا۔ پہلے ٹکڑے میں بے پروائی کا انداز ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم یہ صحیح راہ اختیار کر لو گے تو اپنے ہی کو نفع پہنچاؤ گے، اور اگر نہ اختیار کرو گے تو اپنی ہی شامت کو دعوت دو گے، خدا کا کچھ نہیں بگاڑو گے۔ دوسرے ٹکڑے میں نہایت ہی سخت وعید ہے۔ اِس وجہ سے اول تو متکلم کا صیغہ آیا جو تہدید و وعید کے لیے زیادہ موزوں ہے، پھر اُس میں ابہام و اجمال بھی ہے۔ یہ تو بتایا کہ ہم لوٹیں گے، یہ نہیں بتایا کہ ہم کس شکل میں لوٹیں گے۔ یہ بات سمجھنے والوں کی سمجھ پر چھوڑ دی ہے اور اِس جملے کی ساری شدت اِس ابہام کے اندر مضمر ہے۔‘‘(تدبرقرآن۴/ ۴۸۳)

    • امین احسن اصلاحی بے شک یہ قرآن اس راستے کی رہنمائی کرتا ہے جو بالکل سیدھا ہے اور ان ایمان والوں کو جو نیک عمل کرتے ہیں اس بات کی بشارت دیتا ہے کہ ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’اَقْوَمُ‘ کا مفہوم: ’اَقْوَمُ‘ کے معنی سیدھا اور مستقیم یعنی وہ راستہ جو ٹھیک فطرت اور عقل کے مطابق اور خدا تک پہنچنے اور پہنچانے والا ہے۔
      یہود اور مشرکین کو قرآن پر ایمان لانے کی دعوت: یہ بنی اسرائیل اور مشرکین قریش دونوں کو قرآن پر ایمان لانے کی دعوت ہے کہ اگر خدا تک پہنچنا چاہتے ہو تو کج پیچ کی وادیوں میں بھٹکنے کے بجائے اس راستہ کو اختیار کرو جس کی طرف قرآن بلا رہا ہے۔ یہ ان لوگوں کو اجر عظیم کی خوش خبری دیتا ہے جو اس پر ایمان لا کر عمل صالح کی زندگی اختیار کریں۔ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور اس کے سبب سے اس قرآن کو بھی ٹھکرا رہے ہیں ان کے لیے ایک دردناک عذاب ہے۔

      جاوید احمد غامدی (لوگو)، حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے۔ یہ ماننے والوں کو جو اچھے عمل کرتے ہیں، اِس بات کی بشارت دیتا ہے کہ اُن کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ خطاب یہود اور مشرکین قریش، دونوں سے ہے۔ اوپر کی تمہید کے بعد اب اُنھیں قرآن پر ایمان لانے کی دعوت دی جا رہی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، ہم نے ان کے لیے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہود اور مشرکین کو قرآن پر ایمان لانے کی دعوت: یہ بنی اسرائیل اور مشرکین قریش دونوں کو قرآن پر ایمان لانے کی دعوت ہے کہ اگر خدا تک پہنچنا چاہتے ہو تو کج پیچ کی وادیوں میں بھٹکنے کے بجائے اس راستہ کو اختیار کرو جس کی طرف قرآن بلا رہا ہے۔ یہ ان لوگوں کو اجر عظیم کی خوش خبری دیتا ہے جو اس پر ایمان لا کر عمل صالح کی زندگی اختیار کریں۔ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور اس کے سبب سے اس قرآن کو بھی ٹھکرا رہے ہیں ان کے لیے ایک دردناک عذاب ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور یہ بھی کہ جو آخرت کو نہیں مانتے، اُن کے لیے ہم نے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور انسان برائی کا اس طرح طالب بنتا ہے جس طرح اس کو بھلائی کا طالب بننا چاہیے اور انسان بڑا ہی جلد باز ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ حالت انہی مخالفین قرآن کی بیان ہوئی ہے جو اس پر ایمان لانے کے بجائے کسی نشانئ عذاب کا مطالبہ کر رہے تھے۔ یہ مطالبہ چونکہ نہایت احمقانہ اور خود ان کے حق میں نہایت مہلک تھا اس وجہ سے بات ان سے منہ پھیر کر عام الفاظ میں بانداز تاسف فرما دی گئی کہ انسان کا عجیب حال ہے کہ جس سرگرمی کے ساتھ اس کو خیر کا طالب ہونا چاہیے اس سرگرمی کے ساتھ وہ اپنے لیے آفت اور تباہی کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہ مہلت جو ان لوگوں کو ملی ہوئی ہے اس سے فائدہ اٹھانے اور اپنی زندگی کو بنانے سنوارنے کے بجائے یہ چاہتے ہیں کہ جلد سے جلد اس عذاب ہی کو دیکھ لیں جس سے ان کو آگاہ کیا جا رہا ہے۔

      جاوید احمد غامدی (یہ اُس کی نشانی مانگتے ہیں)۔ انسان (پر افسوس، وہ اپنے لیے) جس طرح بھلائی مانگتا ہے، اُسی طرح برائی مانگنے لگتا ہے۔ انسان بڑا ہی جلدباز واقع ہوا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کی وعید سن کر اُس کی نشانی کا مطالبہ چونکہ نہایت احمقانہ اور خود مطالبہ کرنے والوں کے حق میں انتہائی مہلک تھا، اِس لیے ، استاذ امام کے الفاظ میں، یہ بات بانداز تاسف اور اُن سے منہ پھیر کر عام الفاظ میں فرما دی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا، سو ہم نے رات کی نشانی تو دھندلی کر دی اور ہم نے دن کی نشانی کو روشن بنایا تاکہ تم اپنے رب کے فضل کے لیے کوشش کرو اور تاکہ تم سالوں کی تعداد اور حساب معلوم کر سکو اور ہم نے ہر چیز کی پوری پوری تفصیل کر دی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اس آیت کے پہلے ٹکڑے میں ’فَمَحَوْنَآ اٰیَۃَ الَّیْلِ‘ کے بعد ’مُظْلِمَۃً لِتَسْتَرِیْحُوْا‘ یا اس کے ہم معنی الفاظ حذف ہیں جن پر بعد کے الفاظ ’مُبْصِرَۃً لِّتَبْتَغُوْا فَضْلًا مِّنْ رَّبِّکُمْ‘ روشنی ڈال رہے ہیں۔ یعنی ہم نے شب کو تاریک بنایا تاکہ تم اس میں راحت حاصل کرو اور دن کو روشن بنایا تاکہ تم اس میں خدا کے رزق و فضل کے طالب بنو۔
      عذاب کی نشانی کے طالبوں کے لیے آفاقی نشانیاں: یہ عذاب کی نشانی مانگنے والوں کو آفاق کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ اگر نشانی ہی مطلوب ہے تو یہ کیا ضرور ہے کہ کوئی عذاب ہی کی نشانی آئے۔ آخر یہ رات اور رات کے بعد دن کے طلوع کو کیوں نہیں دیکھتے، کیا یہ کچھ کم نشانی ہے؟ رات آتی ہے تو تمہارے لیے راحت اور سکون کا بستر بچھا دیتی ہے جس میں تم دن کے تھکے ماندے آرام کر کے ازسرنو چاق و چوبند ہو جاتے ہو، اسی لیے خدا نے اس کو تاریک اور پرسکون بنایا ہے۔ پھر دن آتا ہے جس میں تم تازہ دم ہو کر اپنی معاشی سرگرمیوں اور خدا کے رزق و فضل کی طلب میں سرگرم ہوتے ہو چنانچہ اسی لیے تمہارے پروردگار نے اس کو روشن بنایا ہے۔
      ’وَلِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَالْحِسَابَ‘۔ روز و شب کی یکے بعد دیگرے، پابندئ اوقات کے ساتھ، آمد و شد کا یہ ایک مزید فائدہ بتا دیا کہ اس طرح تم مہینوں اور سالوں کا حساب بھی معلوم کر لیتے ہو اور دوسرے حساب بھی جان لیتے ہو۔ اگر یہ روز و شب کا فرق نہ ہوتا تو آخر کسی چیز کے تعین کے لیے تم نشان اور علامت کس چیز کو ٹھہراتے؟
      ’وَکُلَّ شَیْءٍ فَصَّلْنٰہُ تَفْصِیْلًا‘۔ یعنی آفاق کی ان نشانیوں کے علاوہ ہم نے تم پر یہ احسان بھی کیا ہے کہ اپنی اس کتاب میں بھی ہر ضروری چیز کی تفصیل کر دی ہے تاکہ غور کرنے والے کے اطمینان کے لیے یہ کتاب ہی کافی ہو جائے۔
      یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ رات اور دن کی آمد و شد سے جس حقیقت کی طرف یہاں توجہ دلائی گئی ہے قرآن نے صرف اسی پر بس نہیں کیا ہے بلکہ دوسرے مقامات پر اس کے مزید پہلو واضح فرمائے ہیں، مثلاً تضاد کے باوجود ان کے درمیان جو توافق ہے اس سے توحید پر استدلال کیا ہے۔ رات کے بعد صبح کی آمد سے حشر و نشر کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ان چیزوں کی تفصیل پیچھے بھی اس کتاب میں گزر چکی ہے اور آگے بھی ان کی تفصیلات آئیں گی۔

      جاوید احمد غامدی (یہ اگر دیکھیں تو)ہم نے رات اور دن کو (اِنھی کے لیے) دو نشانیاں بنایا ہے۔ پھر ہم نے رات کی نشانی دھندلا دی (کہ اُس میں راحت پاؤ )اور ہم نے دن کی نشانی کو روشن کر دیا، اِس لیے کہ تم اپنے پروردگار کا فضل تلاش کرو، اور اِس لیے کہ تم برسوں کی گنتی اور اُن کا حساب جان لو۔ (اِس پر مزید یہ کہ) ہم نے (اِس کتاب میں) ہر چیز کی پوری تفصیل بھی کر دی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی عذاب کی نشانی مانگنے کے بجاے آفاق کی اُن نشانیوں کو دیکھیں جو ہر وقت اِن کا احاطہ کیے ہوئے ہیں۔
      یعنی اُن چیزوں کی پوری تفصیل کر دی ہے جن پر یہ نشانیاں دلالت کرتی ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور ہم نے ہر انسان کا نصیبہ اس کے گلے کے ساتھ باندھ دیا ہے اور ہم قیامت کے روز اس کے لیے ایک رجسٹر نکالیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’طَائِر‘ کا مفہوم: ’طَائِر‘ کے اصل معنی تو پرندے کے ہیں لیکن اہل عرب پرندوں سے چونکہ فال بھی لیتے تھے اور اپنے زعم کے مطابق ان سے قسمت بھی معلوم کرتے تھے اس وجہ سے یہ لفظ قسمت، حظ اور نصیبہ کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔
      یہ عذاب کے لیے جلدی مچانے والوں کو تنبیہ ہے کہ اگر یہ جلدی یہ اپنے مزعومہ شرکاء و شفعاء کے بل پر مچائے ہوئے ہیں تو انھیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہم نے ہر انسان کا نصیبہ اس کی گردن کے ساتھ لٹکا رکھا ہے جس نے جو کچھ کیا ہو گا اس کی پوری تفصیل ایک کھلے ہوئے رجسٹر کی صورت میں اس کے سامنے موجود ہو گی اور ہم اس سے کہیں گے کہ تم اپنا اعمال نامہ خود ہی پڑھ لو، تم اپنے حساب کے لیے خود ہی کافی ہو، اس میں کسی اور کی دخل اندازی کی ضرورت نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حساب کے دن کوئی بھی کسی دوسرے کا بوجھ اٹھانے والا نہیں بنے گا۔ ہر ایک کے اعمال اس کے سامنے ہوں گے اور ہر ایک کو اپنا بوجھ خود ہی اٹھانا ہو گا۔

      جاوید احمد غامدی (یہ عذاب کے لیے جلدی نہ مچائیں)۔ ہر انسان کی قسمت ہم نے اُس کے گلے کے ساتھ باندھ دی ہے، اور قیامت کے دن ہم اُس کے لیے ایک نوشتہ نکالیں گے جس کو وہ اپنے روبرو بالکل کھلا ہوا پائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اِس بات کی تعبیر ہے کہ انسان کو جو کچھ آگے پیش آنے والا ہے، وہ اُس کے اعمال کا صلہ ہے، اِس لیے یہیں سے اُس کے ساتھ لگا ہوا ہوتا ہے۔ اپنی جنت اور جہنم وہ اِسی دنیا سے لے کر خدا کے حضور پہنچتا ہے۔ قیامت میں اُس کو کوئی ایسی چیز پیش آنے والی نہیں ہے جو یہاں اُس کا مقدر نہیں بن سکی۔ لہٰذا عذاب کے لیے جلدی مچانے کے بجاے یہ اِس پر غور کریں کہ اُس سے بچنے کے لیے اِنھوں نے کیا اہتمام کر رکھا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی جس کو وہ بالکل کھلا ہوا پائے گا۔ لو، پڑھ لو اپنا اعمال نامہ! آج تم خود ہی اپنا حساب کر لینے کے لیے کافی ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ عذاب کے لیے جلدی مچانے والوں کو تنبیہ ہے کہ اگر یہ جلدی یہ اپنے مزعومہ شرکاء و شفعاء کے بل پر مچائے ہوئے ہیں تو انھیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہم نے ہر انسان کا نصیبہ اس کی گردن کے ساتھ لٹکا رکھا ہے جس نے جو کچھ کیا ہو گا اس کی پوری تفصیل ایک کھلے ہوئے رجسٹر کی صورت میں اس کے سامنے موجود ہو گی اور ہم اس سے کہیں گے کہ تم اپنا اعمال نامہ خود ہی پڑھ لو، تم اپنے حساب کے لیے خود ہی کافی ہو، اس میں کسی اور کی دخل اندازی کی ضرورت نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حساب کے دن کوئی بھی کسی دوسرے کا بوجھ اٹھانے والا نہیں بنے گا۔ ہر ایک کے اعمال اس کے سامنے ہوں گے اور ہر ایک کو اپنا بوجھ خود ہی اٹھانا ہو گا۔

      جاوید احمد غامدی (لو)، پڑھو اپنا اعمال نامہ، آج اپنا حساب کر لینے کے لیے تم خود ہی کافی ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی جو ہدایت کی راہ چلتا ہے تو وہ اپنے ہی لیے ہدایت کی راہ چلتا ہے اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے ہی اوپر وبال لاتا ہے اور کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ اٹھانے والی نہیں بنے گی اور ہم عذاب دینے والے نہیں تھے جب تک کسی رسول کو بھیج نہ لیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اتمام حجت کے لیے رسول کی بعثت: یہ اوپر کے مضمون ہی کی مزید وضاحت ہے کہ جو ہدایت کی راہ اختیار کرے گا اپنے ہی نفع کے لیے کرے گا اور جو گمراہی کی راہ چلے گا اس کا انجام خود ہی بھگتے گا۔ کوئی دوسری جان کسی دوسرے کا بوجھ اٹھانے والی نہیں بنے گی۔ ’وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ ......الایۃ‘۔ یہ اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جو قوموں پر عذاب کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ اختیار فرمائی ہے۔ وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عذاب بھیجنے سے پہلے اتمام حجت کے لیے اپنے رسول بھیجے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ عذاب کے لیے تم کیا جلدی مچائے ہو، اس کا ایک مرحلہ تو طے ہو چکا کہ اتمام حجت کے لیے خدا کا رسول تمہارے پاس آ گیا۔ اب تو عذاب کے آنے میں صرف اتنی کسر باقی ہے کہ تم پر حجت تمام ہو جائے۔ تمہاری شامت ہی ہو گی اگر تم نے اس فرصت سے فائدہ نہ اٹھایا۔

      جاوید احمد غامدی (حقیقت یہ ہے کہ) جو ہدایت کی راہ چلتا ہے، وہ اپنے ہی لیے چلتا ہے اور جو گمراہی اختیار کرتا ہے، وہ بھی اپنی اِس گمراہی کا وبال اپنے ہی اوپر لاتا ہے۔ (خدا کا قانون یہ ہے کہ) کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا۔ (سو کیا جلدی مچاتے ہو)، ہم (کسی قوم کو) کبھی سزا نہیں دیتے، جب تک ایک رسول نہ بھیج دیں (کہ سزا سے پہلے وہ اُس پر حجت پوری کر دے)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ رسول تو آچکا۔ اب اِسی کا انتظار ہے کہ کب حجت پوری ہو جاتی ہے۔ اِس کے بعد عذاب ہی کا مرحلہ ہے۔ سو یہ مرحلہ بھی آیا ہی چاہتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو ہم اس کے خوش حالوں کو امر کر دیتے ہیں تو وہ اس میں خوب اودھم مچاتے ہیں۔ پس ان پر بات پوری ہو جاتی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’اَمْر‘ کا مفہوم: ’اَمْر‘ صرف حکم دینے ہی کے معنی میں نہیں آتا بلکہ بسا اوقات کسی کو ڈھیلا چھوڑ دینے اور مہلت دے دینے کے مفہوم میں بھی آتا ہے۔ آپ کسی شخص یا گروہ سے افہام و تفہیم کی کوشش کرنے کے بعد جب تنگ آ جاتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ ’اِفْعَلُوْا مَا بَدَاَ لَکُمْ‘ جاؤ، جو تمہارے جی میں آئے کرو۔ بظاہر یہ امر ہی کا صیغہ استعمال ہوتا ہے لیکن اس کا مفہوم امہال ہوتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی سرکش لوگوں پر اپنی حجت تمام کر چکنے کے بعد ان کو ڈھیلا چھوڑ دیتا ہے کہ وہ اپنا پیمانہ اچھی طرح سے بھر لیں۔
      ’مُتْرَفِیْن‘ کسی قوم کے کھاتے پیتے خوش حال طبقہ کو کہتے ہیں۔ چونکہ قوم کی باگ انہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے اس وجہ سے سنت الٰہی یہ رہی ہے کہ حضرات انبیاء علیہم السلام نے اپنی دعوت اصلاح میں سب سے پہلے اسی طبقہ کو خطاب کیا ہے۔ پھر جب اس طبقہ نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے نہ صرف ان کو مایوس کر دیا ہے بلکہ ان کے قتل کے درپے ہو گیا ہے تو نبی نے ہجرت فرمائی اور قوم عذاب الٰہی کی گرفت میں آ گئی ہے۔
      یہ عذاب کے معاملے میں سنت الٰہی کی مزید وضاحت ہے۔ فرمایا کہ جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو اس کے خوش حالوں کو ڈھیلا چھوڑ دیتے ہیں تو وہ اس میں خوب کھل کر خدا کی نافرمانیاں اور بدمستیاں کرتے تاآنکہ ان پر حجت تمام ہو جاتی ہے اور ان کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے۔ پھر خدا ان کو پکڑتا ہے اور اس بستی کو تہ و بالا کر کے رکھ دیتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی جب ہم کسی بستی کو (اُس کے کرتوتوں کی پاداش میں) ہلاک کر دینا چاہتے ہیں تو اُس کے خوش حالوں کو حکم دیتے ہیں (کہ جاؤ، جو جی چاہے کرو)۔ پھر وہ اُس میں نافرمانیاں کرتے ہیں، تب اُس بستی پر بات پوری ہو جاتی ہے۔ پھر ہم اُس کو بالکل برباد کرکے رکھ دیتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’اَمَرْنَا‘ آیا ہے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اِس کی وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’ ’اَمْر‘ صرف حکم دینے ہی کے معنی میں نہیں آتا ،بلکہ بسا اوقات کسی کو ڈھیلا چھوڑ دینے اور مہلت دے دینے کے مفہوم میں بھی آتاہے۔ آپ کسی شخص یا گروہ سے افہام و تفہیم کی کوشش کرنے کے بعد جب تنگ آ جاتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ ’إفعلوا ما بدا لکم‘ جاؤ، جو تمھارے جی میں آئے، کرو۔ بظاہر یہ امر ہی کا صیغہ استعمال ہوتا ہے، لیکن اِس کا مفہوم امہال ہوتا ہے۔ اِسی طرح اللہ تعالیٰ بھی سرکش لوگوں پر اپنی حجت تمام کر چکنے کے بعد اُن کو ڈھیلا چھوڑ دیتا ہے کہ وہ اپنا پیمانہ اچھی طرح سے بھر لیں۔‘‘(تدبرقرآن ۴/ ۴۸۹)

      یہ ڈھیل خوش حال لوگوں کو اِس لیے دی جاتی ہے کہ قوم کی زمام کار اُنھی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ چنانچہ اللہ کے رسول بھی سب سے پہلے اُنھی کو مخاطب کرتے ہیں۔ پھر اتمام حجت کے بعد یہ اُنھی کا رویہ ہے جس سے بالآخر قوم عذاب الٰہی کی گرفت میں آجاتی ہے۔

       

    • امین احسن اصلاحی پھر ہم اس کو یک قلم نیست و نابود کر کے رکھ دیتے ہیں۔ اور نوح کے بعد ہم نے کتنی ہی قومیں ہلاک کر دیں اور تمہارا رب اپنے بندوں کے گناہوں سے باخبر رہنے اور ان کو دیکھنے کے لیے کافی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اسی مذکورہ سنت الٰہی کی تائید میں پہلے تاریخ کا حوالہ ہے کہ نوحؑ کے بعد ہم نے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کیا ہے۔ اگر یہ لوگ دیدۂ عبرت رکھتے ہیں تو ان کے حالات سے سبق لیں۔ پھر پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ وہ تمہاری قوم کے سرکشوں کے جرائم سے بھی اچھی طرح باخبر ہے اور سارے حالات کو دیکھ رہا ہے۔ جب وقت آ جائے گا تو وہ ان کا فیصلہ کرنے میں بھی دیر نہیں لگائے گا۔

      جاوید احمد غامدی (دیکھ لو)، نوح کے بعد ہم نے کتنی ہی قومیں (اِسی طرح) ہلاک کر دیں۔ (اے پیغمبر)، اپنے بندوں کے گناہوں کو جاننے اور اُن کو دیکھنے کے لیے تیرا پروردگار کافی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ تمھارے منکرین جو کچھ کر رہے ہیں، اُس کو جاننے کے لیے تمھارے پروردگار کو کسی دوسرے کی مدد یا اطلاع کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور ہر چیز سے واقف ہے۔ لہٰذا مطمئن رہو، جب وقت آجائے گا تو اِن کا فیصلہ کرنے میں ذرا بھی دیر نہ کرے گا۔

    • امین احسن اصلاحی جو دنیا ہی کا طالب بنتا ہے ہم اس کے لیے اسی میں جس قدر چاہتے ہیں، جس کے لیے چاہتے ہیں، آگے بڑھا دیتے ہیں۔ پھر ہم نے اس کے لیے جہنم رکھ چھوڑی ہے جس میں وہ خوار اور راندہ ہو کر داخل ہو گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’عَاجِلَۃ‘ کا مفہوم: ’عَاجِلَۃ‘ آخرت کا مقابل لفظ ہے یعنی یہ دنیا اور اس کا نفع عاجل۔
      امہال کے باب میں سنت الٰہی: یہ امہال کے باب میں سنت الٰہی بیان ہو رہی ہے کہ جو لوگ آخرت کو یک قلم نظر انداز کر کے صرف اسی دنیا اور اس کے نفع عاجل کے طلب گار بنتے ہیں خدا ان کو بھی محروم نہیں کرتا بلکہ ان میں سے بھی جس کے لیے چاہتا ہے اور جتنا چاہتا ہے دے دیتا ہے۔ البتہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ ایسے لوگوں کا حصہ آخرت میں صرف جہنم ہے جس میں وہ مذموم و مطرود ہو کر داخل ہوں گے۔
      اس آیت میں ’مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ‘ کے الفاظ خاص طور پر نگاہ میں رکھنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ بات بھی دنیا طلبوں کے اپنے اختیار میں نہیں ہے کہ جو شخص اس دنیا میں جتنا چاہے حاصل کر لے بلکہ یہ معاملہ کلیۃً خدا ہی کے اختیار میں ہے۔ وہی جس کو چاہتا ہے جتنا چاہتا ہے دیتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی (ہمارا طریقہ یہ ہے کہ) جو اِس دنیا ہی کو چاہتا ہے، اُس کو ہم جس کے لیے چاہتے اور جتنا چاہتے ہیں، سردست یہیں دے دیتے ہیں۔پھر ہم نے اُس کے لیے جہنم رکھ چھوڑی ہے، جس میں وہ خوار اور راندہ ہو کر داخل ہو جائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اوپر خوش عیش لوگوں کے لیے جس ڈھیل کا ذکر ہوا ہے، یہ اُس کے بارے میں سنت الٰہی کا بیان ہے۔ تاہم اتنی بات اُس میں بھی واضح کر دی ہے کہ اِس کے نتیجے میں جو کچھ ملتا ہے، وہ بھی اُن لوگوں کے اپنے اختیار میں نہیں ہے جو دنیا اور اُس کے نفع عاجل کے طلب گار ہیں، بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے اور جتنا چاہتا ہے، عطا فرماتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور جو آخرت کا طالب بنتا ہے اور اس کے شایان شان کوشش بھی کرتا ہے اور وہ مومن بھی ہے تو درحقیقت یہی لوگ ہیں جن کی سعی مقبول ہو گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اصل فائز المرام گروہ: یہ آخرت کے طلب گاروں اور اصل فائز المرام گروہ کا بیان ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ آخرت کے طالب بنتے ہیں اور اس کے شایان شان کوشش بھی کرتے ہیں اور ان کے سینے ایمان سے بھی منور ہیں، درحقیقت یہی لوگ ہیں جن کی سعی عند اللہ مقبول ہو گی۔ مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگ اس دنیا میں سے بھی جو کچھ ان کے لیے مقدر ہے پاتے ہیں اور آخرت تو ان کی کامیابی کا گھر ہے ہی۔
      اس آیت میں بھی ’وَسَعٰی لَھَا سَعْیَھَا وَھُوَ مُؤْمِنٌ‘ کے الفاظ خاص طور پر نگاہ میں رکھنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آخرت صرف تمنا کرنے سے نہیں مل جائے گی، بلکہ اس کے لیے اس کے شایان شان کوشش بھی مطلوب ہے اور ساتھ ہی شرک کی ہر آمیزش سے پاک ایمان بھی۔ جب تک یہ دونوں چیزیں طلب آخرت کے ساتھ نہیں ہوں گی اس وقت تک یہ تمنا لاحاصل ہی رہے گی۔

      جاوید احمد غامدی اور جو آخرت کو چاہتا ہے اور اُس کے لیے کوشش بھی کرتا ہے، جیسی کوشش اُس کے لیے کرنی چاہیے، اور مومن بھی ہے تو یہی لوگ ہیں جن کی سعی مقبول ہو گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ الفاظ خاص طور پر قابل توجہ ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...مطلب یہ ہے کہ آخرت صرف تمنا کرنے سے نہیں مل جائے گی، بلکہ اِس کے لیے اُس کے شایان شان کوشش بھی مطلوب ہے اور ساتھ ہی شرک کی ہر آمیزش سے پاک ایمان بھی۔ جب تک یہ دونوں چیزیں طلب آخرت کے ساتھ نہیں ہوں گی، اُس وقت تک یہ تمنا لاحاصل ہی رہے گی۔‘‘(تدبرقرآن۴/ ۴۹۰)

       

    • امین احسن اصلاحی ہم تیرے پروردگار کی بخشش سے ہر ایک کی مدد کرتے ہیں، ان کی بھی اور ان کی بھی۔ اور تیرے رب کی بخشش کسی پر بند نہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      رب کی عطا و بخشش عام ہے: لفظ ’کل‘ جب مختلف جماعتوں کے ذکر کے بعد اس طرح آئے جس طرح یہاں آیا ہے تو وہ معرفہ کے حکم میں ہو جاتا ہے۔ یعنی اس سے وہ جماعتیں مراد ہوتی ہیں جن کا ذکر پہلے ہو چکا ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے رب کی عطا و بخشش کا دروازہ مذکورہ دونوں گروہوں میں سے کسی پر بھی بند نہیں۔ جو لوگ آخرت سے بالکل بے پروا رات دن دنیا ہی کی طلب میں سرگرم ہیں، ان کو بھی خدا اس دنیا میں سے جو کچھ ان کے لیے مقدر کر رکھا ہے، دیتا ہے۔ یہ نہیں کرتا کہ ان کی خدا فراموشی اور آخرت فراموشی کے جرم میں ان کو دنیا سے محروم کر دے۔ اسی طرح جو لوگ آخرت کے طالب بنتے ہیں خدا اس دنیا میں سے ان کا مقدر حصہ دیتا ہے۔ یہ نہیں کرتا کہ دنیا سے بے پروائی کے سبب سے ان کو دنیا سے محروم کر دے بلکہ ان کو اس دنیا میں سے بھی ان کا حصہ دیتا ہے اور آخرت میں بھی وہ اپنی کوششوں کا بھرپور صلہ پائیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ جب اصل حقیقت یہ ہے تو آدمی اس فانی اور حقیر دنیا کے پیچھے اپنے آپ کو آخرت کی ابدی اور لازوال نعمتوں سے کیوں محروم کرے۔ وہ راستہ کیوں نہ اختیار کرے جس پر چل کر آخرت کی ابدی نعمتوں کا بھی حق دار بنے اور اس دنیا میں سے بھی جو کچھ اس کے لیے مقدر ہے اس سے بہرہ مند ہو۔

      جاوید احمد غامدی تیرے پروردگار کی بخشش سے ہم ہر ایک کو مدد پہنچاتے ہیں، اِن کو بھی اور اُن کو بھی۔ اورتیرے پروردگار کی بخشش کسی پر بند نہیں ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اِن کو بھی جو آخرت کے طلب گار ہیں اور اُن کو بھی جو اُس سے بالکل بے پروا ہو کر رات دن دنیا ہی کے لیے سرگرم عمل رہتے ہیں۔ آیت میں لفظ ’کُلّ‘ اِنھی دو گروہوں کے لیے آیا ہے۔ زبان کے ادا شناس جانتے ہیں کہ اِس طرح کے موقعوں پر یہ معرفہ کے حکم میں ہو جاتا ہے۔
      اِس لیے کہ دنیا والوں کو اُس سے دنیا مل جاتی ہے اور جو آخرت کے طالب ہیں، وہ بھی محروم نہیں رہتے۔ اُن کے لیے جتنی دنیا مقدر ہے، وہ بھی اُنھیں ملتی ہے اور آخرت تو بہرحال اُنھی کے لیے ہے۔ وہ اپنی کوششوں کا بھرپور صلہ اُس میں بھی پالیں گے۔

    Join our Mailing List