Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 128 آیات ) Al-Nahl Al-Nahl
Go
  • النحل (The Honey Bees)

    128 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    اس گروپ کی تمام سورتوں کے عمود پر ایک جامع بحث ہم سورۂ یونس کی تفسیر کے شروع میں کر آئے ہیں۔ رسول کی بعثت سے حق و باطل کے درمیان جو کشمکش شروع ہوتی ہے وہ لازماً رسول اور اس پر ایمان لانے والوں کی فتح اور اس کے جھٹلانے والوں کی ہزیمت پر ختم ہوتی ہے۔ یہی حقیقت ایک نئے اسلوب سے اس سورہ میں بھی واضح کی گئی ہے۔ اس پہلو سے دیکھیے تو اس کی آیت ۳۰ ’لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَۃٌ وَلَدَارُ الْاٰخِرَۃِ خَیْرٌ وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَ‘ کو عمود کی حیثیت حاصل ہے۔ یعنی جو لوگ نیکی اور تقویٰ کی راہ اختیار کرتے ہیں ان کے لیے اس دنیا میں بھی فیروز مندی ہے اور آخرت کا گھر تو اس سے کہیں بڑھ کر ہے ہی اور کیا ہی خوب ہے تقویٰ اختیار کرنے والوں کا گھر۔ یہی بات اس سورہ کی آیات ۴۱-۴۲ میں بھی فرمائی گئی ہے کہ جو لوگ حق کی راہ میں مخالفین حق کے مظالم سہہ کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت اختیار کرتے ہیں ہم ان کو دنیا میں بھی اقتدار و تمکن عطا کرتے ہیں اور آخرت کا صلہ تو اس سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے ہی۔

    سابق سورہ (سورۂ حجر) پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس تسلی کے مضمون پر ختم ہوئی تھی کہ آج جو لوگ تمہارے انذار اور تمہاری تنبیہ و تذکیر کا مذاق اڑا رہے ہیں اور تمہاری باتوں کو محض ہوائی باتیں خیال کر رہے ہیں تم ان کے اس استہزاء سے دل شکستہ نہ ہو، تمہاری طرف سے ان متکبروں اور مغروروں سے نپٹنے کے لیے ہم کافی ہیں۔ اس مضمون کے بعد یہ سورہ بغیر کسی تمہید کے ان متکبرین ہی کو خطاب کر کے یوں شروع ہو گئی ہے کہ ’اَتٰٓی اَمْرُ اللّٰہِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْہُ سُبْحٰٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ‘۔ یعنی عذاب کے لیے امر الٰہی صادر ہو چکا ہے تو اس کے لیے جلدی نہ مچاؤ، اور یہ لوگ اس گھمنڈ میں نہ رہیں کہ جن کو خدا کا شریک بنائے بیٹھے ہیں وہ ان کو خدا کی پکڑ سے بچا لیں گے۔ اللہ اس سے پاک اور برتر ہے کہ اس کا کوئی شریک و سہیم ہو۔

  • النحل (The Honey Bees)

    128 آیات | مکی
    النحل —— بنی اسرائیل

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا باہمی تعلق اجمال اور تفصیل کا ہے۔ چنانچہ پہلی سورہ میں جو چیزیں اشارات کی صورت میں ہیں، دوسری میں اُن کو بالکل واضح کر دیا ہے۔ یہود سے مفصل خطاب، اخلاق کے فضائل و رذائل کی وضاحت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت کے لیے تیاری کی ہدایت اِس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ دونوں سورتوں کا موضوع انذار و بشارت ہے جو پچھلی سورتوں سے چلا آرہا ہے اور دونوں میں خطاب اصلاً قریش ہی سے ہے۔ دوسری سورہ—- بنی اسرائیل—- میں، البتہ یہود سے بھی مفصل خطاب کیا گیا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ قریش کی حمایت اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کے لیے اب وہ بھی پوری طرح میدان میں آ چکے ہیں۔

    اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب ہجرت کا مرحلہ قریب آ گیا ہے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی امر الٰہی صادر ہو چکا ہے تو اس کے لیے جلدی نہ مچاؤ، وہ پاک اور برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      جلد بازوں سے خطاب اور ان کی وعید: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنی قوم کے لوگوں کو اس حقیقت سے آگاہ فرماتے کہ میں جس امر حق کی دعوت دے رہا ہوں اگر تم نے اس کو اختیار نہ کیا تو مہلت کی مدت گزر جانے کے بعد تم پر اللہ کا عذاب آ جائے گا تو سرکش لوگوں کی طرف سے آپ کو یہ جواب ملتا کہ جس عذاب کی دھمکی سنا رہے ہو وہ لاتے کیوں نہیں، ہم تو تمہاری بات جب مانیں گے جب اس عذاب کو دیکھ لیں گے جس کے روز روز ڈراوے سنا رہے ہو۔ آگے آیت ۳۳ میں اس کی تفصیل آئے گی۔ انہی جلد بازوں کو خطاب کر کے ارشاد ہوا کہ عذاب کے لیے امر الٰہی صادر ہو چکا ہے تو اس کے لیے جلدی نہ مچاؤ۔
      ’اَتٰٓی اَمْرُ اللّٰہِ‘ (عذاب کے لیے امر الٰہی صادر ہو چکا ہے) محض دھمکی نہیں ہے بلکہ ایک امر واقعی کا بیان ہے۔ ہم اس کتاب میں متعدد آیات کے تحت اس سنت الٰہی کی وضاحت کر چکے ہیں کہ کسی قوم کے اندر رسول کی بعثت ہی کے اندر یہ بات مضمر ہوتی ہے کہ جو لوگ اس رسول پر ایمان لائیں گے وہ نجات پائیں گے اور جو لوگ اس کی تکذیب کر دیں گے وہ ہلاک کر دیے جائیں گے۔ رسول، حق و باطل کے امتیاز کے لیے کسوٹی اور اتمام حجت کا آخری ذریعہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے رسول کی بعثت کے بعد اس کی قوم کے لیے دو ہی راہیں باقی رہ جاتی ہیں یا تو لوگ اس پر ایمان لائیں اور نجات حاصل کریں ورنہ خدا کی پکڑ میں آئیں اور اپنی سرکشی کا انجام بد دیکھیں۔
      ’سُبْحٰٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ‘ یعنی یہ لوگ اس خبط میں مبتلا نہ رہیں کہ جن کو یہ خدا کا شریک و شفیع بنائے بیٹھے ہیں وہ ان کو خدا کے عذاب سے بچا لیں گے۔ خدا ان کے مزعومہ شریکوں سے پاک اور برتر ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ وہ جن اعلیٰ صفات سے متصف ہے ان صفات کے ساتھ ان مشرکانہ توہمات کا کوئی جوڑ نہیں ہے۔ وہ اپنی تمام صفات میں یکتا اور وحدہٗ لاشریک ہے۔
      بلاغت کا ایک اسلوب: اس آیت میں اسلوب بیان کا یہ فرق بھی ملحوظ رہے کہ ’فَلَا تَسْتَعْجِلُوْہُ‘ میں براہ راست ان کو خطاب کیا ہے لیکن ’عَمَّا یُشْرِکُوْنَ‘ میں خطاب کے بجائے غایب کا صیغہ آ گیا ہے۔ اس میں بلاغت یہ ہے کہ پہلے ٹکڑے میں تہدید و وعید ہے جس کے لیے خطاب ہی کا اسلوب زیادہ موزوں ہے اور اس دوسرے ٹکڑے میں کراہت و نفرت کا اظہار ہے جس کے لیے غایب کا صیغہ زیادہ مناسب تھا گویا بات ان سے منہ پھیر کر فرمائی گئی۔

      جاوید احمد غامدی اللہ کا فیصلہ صادر ہو چکا ہے، سو اُس کے لیے جلدی نہ مچاؤ۔ وہ پاک اور برتر ہے اُن چیزوں سے جنھیں یہ شریک ٹھیراتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُس فیصلے کا اعلان ہے جو رسولوں کی طرف سے اتمام حجت کے بعد لازماً صادر ہو جاتا ہے۔ قرآن کے مخاطبین اُسی کے لیے جلدی مچائے ہوئے تھے۔ یہ اُنھی کو خطاب فرمایا ہے۔
      اِس آیت میں پہلے براہ راست خطاب ہے، پھر غائب کا صیغہ آگیا ہے۔ یہ التفات کیوں ہوا ہے؟ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...اِس میں بلاغت یہ ہے کہ پہلے ٹکڑے میں تہدید و وعید ہے جس کے لیے خطاب ہی کا اسلوب زیادہ موزوں ہے اور اِس دوسرے ٹکڑے میں کراہت و نفرت کا اظہار ہے جس کے لیے غائب کا صیغہ زیادہ مناسب تھا۔ گویا بات اُن سے منہ پھیر کر فرمائی گئی ۔‘‘ (تدبرقرآن ۴/ ۳۸۹)

       

    • امین احسن اصلاحی وہ فرشتوں کو اپنے امر کی روح کے ساتھ اتارتا ہے اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے کہ لوگوں کو آگاہ کر دو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو مجھی سے ڈرو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      کفار کے بعض مطالبات کا جواب: کفار کا مطالبہ دو چیزوں کے لیے تھا۔ ایک تو اس چیز کے لیے کہ ان پر بھی اسی طرح فرشتے اتریں جس طرح پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) کو دعویٰ ہے کہ ان پر فرشتے اترتے ہیں، دوسرا اس عذاب کے لیے جس سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ان کو ڈراتے تھے۔ چنانچہ اسی سورہ میں ان کے ان دونوں مطالبات کا حوالہ ہے:

      ’ھَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ تَاْتِیَھُمُ الْمَآٰءِکَۃُ اَوْ یَاْتِیَ اَمْرُ رَبِّکَ‘ (۳۳)
      (وہ منتظر ہیں مگر اس بات کے کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا تمہارے رب کا حکم ہی آ جائے)

      ان میں سے دوسرے مطالبہ کا جواب تو اوپر والی آیت میں دے دیا گیا کہ عذاب کے لیے امرالٰہی صادر ہو چکا ہے تو اس کے لیے جلدی نہ مچاؤ۔ اب یہ ان کے پہلے مطالبہ کا جواب دیا جا رہا ہے کہ ہر شخص اس بات کا اہل نہیں ہوتا کہ اس پر فرشتے اتریں۔ اللہ اپنے فرشتے اپنے بندوں میں سے ان پر اتارتا ہے جن پر چاہتا ہے۔ یعنی جن کو وہ اس کا اہل پاتا ہے اور جن کا وہ اس مقصد کے لیے انتخاب فرماتا ہے۔
      ’روح‘ سے مراد وحی الٰہی ہے: ’بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِہٖ‘۔ یعنی یہ فرشتے امر الٰہی کی ’روح‘ کے ساتھ اترتے ہیں۔ ’روح‘ سے مراد وحی الٰہی ہے۔ وحی الٰہی کو روح سے اس لیے تعبیر فرمایا گیا ہے کہ جس طرح جسم کی زندگی روح سے ہے اسی طرح روح و دل کی زندگی وحی الٰہی سے ہے۔ سیدنا مسیح علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ انسان روٹی سے نہیں جیتا بلکہ اس کلمہ سے جیتا ہے جو خداوند کی طرف سے آتا ہے۔
      رسولوں کو اللہ کی مشترک ہدایت: ’اَنْ اَنْذِرُوْٓا اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنَا فَاتَّقُوْنِ‘۔ یعنی ہر رسول کو اللہ کی طرف سے یہ ہدایت ہوئی کہ لوگوں کو آگاہ کر دو کہ میرے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے تو صرف مجھی سے ڈرو اور میری ہی عبادت کرو۔ کسی اور کو میرا ساجھی اور شریک نہ ٹھہراؤ۔

       

      جاوید احمد غامدی (اِنھیں بتاؤ، اے پیغمبر کہ ہر شخص اِس کا اہل نہیں ہوتا کہ اللہ اُس پر فرشتے اتار دے)۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے، اپنے حکم کی وحی کے ساتھ فرشتے اتارتا ہے، (اِس ہدایت کے ساتھ) کہ لوگوں کو خبردار کر دو کہ میرے سوا (تمھارا) کوئی معبود نہیں ہے، لہٰذا مجھی سے ڈرو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں ’بِالرُّوْحِ مِنْ اَمْرِہٖ‘ کے الفاظ آئے ہیں، یعنی اپنے حکم کی روح کے ساتھ۔ ’رُوْح‘سے مراد یہاں وحی الٰہی ہے۔ قرآن میں یہ لفظ اِس معنی میں بھی استعمال ہوا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ جو پھونک یا کلمہ خدا سے صادر ہو کر فرشتہ بن جاتا ہے یا انسان کا قالب اختیار کرتا ہے یا لفظ کا جامہ پہنتا ہے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک ہی چیز ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اس نے آسمانوں اور زمین کو غایت کے ساتھ پیدا کیا، وہ برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ اس کا شریک گردانتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      کارخانۂ کائنات کے ’بالحق‘ ہونے کا لازمی تقاضا: لفظ ’حَق‘ کی تشریح سورۂ حجر کی آیت ۸۵ کے تحت گزر چکی ہے۔ اس کے معنی غایت اور مقصد کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ خدا نے یہ دنیا بے غایت و بے مقصد نہیں بنائی ہے۔ یہ کسی کھلنڈرے کا کھیل اور بازیچۂ اطفال نہیں ہے بلکہ اس کی ایک ایک چیز کے اندر جو قدرت و حکمت نمایاں ہے وہ شاہد ہے کہ اس کا خالق حکیم و قدیر ہے۔ ایک حکیم و قدیر خالق کی شان سے یہ بات بعید ہے کہ وہ کوئی عبث، باطل اور بے مقصد کام کرے۔ اس کے بامقصد اور باغایت ہونے کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ وہ ایک ایسا دن ضرور لائے جس دن سب اس کی طرف لوٹیں اور اپنے اعمال کی جزا یا سزا پائیں۔ اگر ایسا نہ ہو تو یہ تمام کارخانہ بالکل عبث اور بے غایت ایک کھیل بن کے رہ جاتا ہے۔ اسی حقیقت کو سورۂ مومنون کی آیت ۱۱۵ میں یوں واضح فرمایا ہے:

      ’اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰکُمْ عَبَثًا وَّاَنَّکُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ‘
      (کیا تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم نے تم کو عبث پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے)۔

      ’تَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ‘ یہ اسی اوپر والے مضمون کی ایک دوسرے پہلو سے تاکید ہے۔ کفار و مشرکین اول تو قیامت کے قائل نہ تھے، پھر ان کا اصل تعلق ان کے ان فرضی معبودوں اور شرکاء و شفعاء سے رہ گیا تھا جن کی وہ پوجا کرتے تھے۔ ان کا گمان یہ تھا کہ وہ ان کی طرف سے خدا سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں۔ ظاہر ہے یہ عقیدہ اس کارخانۂ کائنات کے ’بِالْحَق‘ ہونے کی صریح نفی ہے۔ اس وجہ سے یہ حقیقت بھی واضح کر دی گئی کہ یہ لوگ اپنے جن معبودوں سے لو لگائے بیٹھے ہیں ان میں سے کوئی ان کے کام آنے والا نہیں ہے۔ خدا کا کوئی شریک اور ساجھی نہیں ہے۔ وہ ان تمام شریکوں سے پاک اور منزہ ہے۔ وہ جن اعلیٰ صفات سے متصف ہے ان کے ساتھ ان شریکوں کا کوئی جوڑ نہیں ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی اُس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے۔ (اُس کے فیصلوں پر کوئی اثر انداز نہیں ہو سکتا)، وہ برتر ہے اُن چیزوں سے جنھیں یہ شریک ٹھیراتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی غایت و حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ چنانچہ ضروری ہے کہ یہ کائنات بامعنیٰ انجام کو پہنچے اور اِس میں جو کچھ ہوا ہے، خدا کی عدالت انصاف کے ساتھ اُس کا فیصلہ سنا دے۔ یہ کوئی بازیچۂ اطفال نہیں ہے کہ لوگ اِس میں جو چاہیں، کرتے پھریں اور اُن سے کوئی بازپرس نہ ہو۔

    • امین احسن اصلاحی اس نے انسان کو پانی کی ایک بوند سے پیدا کیا تو وہ ایک کھلا ہوا حریف بن کر اٹھ کھڑا ہوا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      انسان سے یہاں مراد وہی کفار و مشرکین ہیں جو اوپر کی آیات میں مخاطب ہیں۔ ان سے بیزاری کے لیے بات عام صیغہ سے کہہ دی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ پیدا تو ہم نے انسان کو نجس پانی کی ایک بوند سے کیا لیکن اب وہ کھلم کھلا ہمارا ایک حریف بن کر اٹھ کھڑا ہوا ہے اب وہ اپنے دوبارہ اٹھائے جانے کو بھی بعید ازامکان سمجھتا ہے اور کہتا ہے:

      ’ءَ اِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا ذٰلِکَ رَجْعٌ بَعِیْدٌ‘ (۳ ق)
      (کیا جب ہم مر جائیں گے اور گل سڑ کر مٹی ہو جائیں گے تو ہم ازسرنو اٹھائے جائیں گے، یہ واپسی تو بہت ہی مستبعد ہے)

      اور جن کو اپنے زعم کے مطابق اس نے ہمارا شریک بنا رکھا ہے ان کی حمایت میں بھی ہم سے لڑتا ہے۔ آگے آیت ۲۷ میں ان کے اسی لڑنے کا حوالہ ہے:

      ’وَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَکَآءِیَ الَّذِیْنَ کُنْتُمْ تُشَآقُّوْنَ فِیْھِمْ‘
      (اور وہ فرمائے گا کہ اب میرے وہ شریک کہاں ہیں جن کی حمایت میں تم لڑتے تھے؟)

       

      جاوید احمد غامدی اُس نے انسان کو ایک ذرا سی بوند سے پیدا کیا تو دیکھتے ہو کہ یکایک وہ ایک کھلا ہوا حریف بن کر اُٹھ کھڑا ہوا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اشارہ ہے اُنھی سرکشوں کی طرف جو اُس وقت قرآن کے مخاطب تھے۔

    • امین احسن اصلاحی اور چوپائے بھی اس نے تمہارے لیے پیدا کیے جن کے اندر تمہارے لیے جڑ اول بھی ہے اور دوسری منفعتیں بھی اور ان سے تم غذا بھی حاصل کرتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’دِفْءٌ‘ چوپایوں کے بال اور اون وغیرہ کو کہتے ہیں جن سے بنے ہوئے لباس سردیوں میں گرمی حاصل کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔
      آیات الٰہی کی طرف اشارہ: اب اس آیت اور آگے کی آیات میں مخاطب کے گرد و پیش کی چیزوں اور ان کے گوناگوں فوائد و منافع کا حوالہ دے کر اس کو توجہ دلائی ہے کہ ان میں سے ایک ایک چیز شہادت دے رہی ہے کہ اس کائنات کا خالق نہایت ہی کریم و حکیم اور نہایت ہی مہربان و رحیم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نعمتیں تو تمہیں ساری خدا سے ملی ہیں لیکن تم عبادت دوسروں کی کرتے ہو اور جس کی پروردگاری کی یہ شانیں دیکھتے ہو اس کے متعلق یہ گمان کیے بیٹھے ہو کہ اس نے بس تمہیں ان نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے چھوڑ رکھا ہے، نہ ان نعمتوں کے جواب میں اس کا تم پر کوئی حق قائم ہوتا ہے اور نہ تمہیں اس کے آگے کبھی کوئی جواب دہی کرنی ہے۔ نعمتوں کے ذکر میں سب سے پہلے چوپایوں کا حوالہ دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل عرب کی اصل دولت یہ چوپائے ہی تھے۔ وہ بیشتر انہی سے لباس غذا اور دوسرے گوناگوں فوائد حاصل کرتے تھے۔

      جاوید احمد غامدی یہ چوپایے بھی اُس نے پیدا کیے ہیں جن میں تمھارے لیے جاڑے کی پوشاک ہے اور دوسرے فائدے بھی اور اِن سے تم غذا بھی حاصل کرتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور ان کے اندر تمہارے لیے ایک شان بھی ہے جب کہ تم ان کو شام کو گھر واپس لاتے ہو اور جس وقت کہ ان کو چرنے کو چھوڑتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      چوپایوں کی نعمت: ’جمال‘ سے مراد یہاں شان و شوکت اور دولت و عظمت ہے اہل عرب کی اصل چونکہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، چوپائے ہی تھے اس وجہ سے وہاں کسی شخص کی ثروت و عظمت کا اندازہ اس کے گلے ہی سے کیا جاتا۔ اگر اس کا گلہ بڑا ہوتا تووہ بڑا آدمی سمجھا جاتا اور اگر چھوٹا ہوتا تو چھوٹا آدمی خیال کیا جاتا۔
      ’اِرَاحَۃٌ‘ کے معنی شام کو گلے کو چراگاہ سے گھر واپس لانے کے ہیں اور ’سَرْحٌ‘ کے معنی اس کو چرنے چگنے کے لیے صبح کو چھوڑنے کے ہیں۔ یہاں ’اِرَاحَۃٌ‘ کو ’سَرْحٌ‘ پر مقدم کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ موقع کلام اظہار شان کا ہے اور شان کا اظہار گلے کی شام کو واپسی میں زیادہ ہے جبکہ وہ چراگاہ سے چر چگ کے تازگی اور فربہی کی حالت میں گھر کو واپس آتا ہے۔ یہ بات اس درجہ میں اس وقت نہیں ہوتی جب وہ صبح کو چرنے کے لیے چھوڑا جاتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اِن کے اندر تمھارے لیے جمال بھی ہے، جبکہ شام کے وقت اِن کو واپس لاتے ہو اور جب صبح کو چرنے کے لیے چھوڑتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’حِیْنَ تُرِیْحُوْنَ وَحِیْنَ تَسْرَحُوْنَ‘۔ اِن میں ’سَرْح‘ کو بظاہر ’اِرَاحَۃ‘ پر مقدم ہونا چاہیے تھا، لیکن قرآن نے اُسے موخر کر دیا ہے۔ اِس کی وجہ کیا ہے؟ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’... اِس کی وجہ یہ ہے کہ موقع کلام اظہار شان کا ہے اور شان کا اظہار گلے کی شام کو واپسی میں زیادہ ہے، جبکہ وہ چراگاہ سے چر چگ کے تازگی اور فربہی کی حالت میں گھر کو واپس آتا ہے۔ یہ بات اِس درجہ میں اُس وقت نہیں ہوتی، جب وہ صبح کو چرنے کے لیے چھوڑا جاتا ہے۔‘‘ (تدبر قرآن ۴/ ۳۹۱)

       

    • امین احسن اصلاحی اور وہ تمہارے بوجھ ایسی جگہوں تک پہنچاتے ہیں جہاں تم شدید مشقت کے بغیر پہنچنے والے نہیں بن سکتے تھے، بے شک تمہارا رب بڑا ہی شفیق و مہربان ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اشارہ اونٹوں کی طرف ہے جن پر عرب میں باربرداری اور سفر کا تمام تر انحصار تھا۔ یہ جانور طویل سے طویل اور پر مشقت سے پر مشقت سفر کے لیے، خاص طور پر صحرائی اور گرم ملکوں میں، خدائی سفینہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس وصف میں کوئی دوسرا اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
      نعمت سے متمتع ہونے والوں کے لیے سبق: ’اِنَّ رَبَّکُمْ لَرَءُ وْفٌ رَّحِیْمٌ‘۔ یہ وہ اصل سبق ہے جو ان نعمتوں سے متمتع ہونے والے انسان کو حاصل ہونا چاہیے کہ وہ یہ مانے کہ ان کا بخشنے والا نہایت ہی مہربان اور نہایت ہی رحیم و کریم ہے اور پھر اس سے جو بات لازم آتی ہے اس کو اختیار کرے یعنی اس منعم کا حق پہچانے، اس کا شکرگزار بندہ بنے، اس کی بندگی و اطاعت میں سرگرم رہے، اس کے حقوق میں دوسروں کو شریک نہ بنائے اور اس کے مقابل میں حریف بن کر نہ اٹھ کھڑا ہو۔ لیکن انسان کی یہ عجیب شامت ہے کہ وہ خدا کی نعمتیں پا کر اس کا شکرگزار بندہ بننے کی بجائے خود اپنی شان میں مبتلا ہو جاتا ہے اور خدا کا حریف بن کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ مزید ستم یہ کہ اگر شکر گزار بھی ہوتا ہے تو خدا کا نہیں بلکہ خدا کے سوا دوسروں کا ہوتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی یہ تمھارے بوجھ ایسی جگہوں تک لے جاتے ہیں، جہاں تم جان توڑ کر ہی پہنچ سکتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمھارا پروردگار بڑا ہی شفیق، بڑا مہربان ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اِس بات کی نشانی کہ یہ کائنات مخلوق ہے اور اِس کا ایک ہی خالق ہے، زمین و آسمان میں ہر جگہ اُسی کی حکومت ہے، سب اُسی کی قدرت و حکمت اور رحمت و ربوبیت سے متمتع ہو رہے ہیں، اُس نے کوئی چیز بے مقصد پیدا نہیں کی ہے، وہ یقیناً ایک دن ایسا لائے گا جس میں اُن لوگوں پر انعام فرمائے گا جنھوں نے اپنی ذمہ داری پہچانی اور اُن سے بازپرس کرے گا جو اندھے اور بہرے بن کر ایک شتر بے مہار کی زندگی گزارتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور اسی نے پیدا کیے گھوڑے اور خچر اور گدھے کہ تم ان پر سوار ہو اور وہ زینت بھی ہیں اور وہ ایسی چیزیں بھی پیدا کرتا ہے جن کو تم نہیں جانتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اونٹ کے بعد یہ دوسرے جانوروں کی طرف اشارہ فرمایا جو سواری کے کام بھی آتے اور سرداری کے لوازم میں سے ہونے کے باعث شان و شوکت کا بھی ذریعہ تھے نیز فرمایا کہ انہی تک محدود نہیں خدا بے شمار ایسی مخلوقات بھی پیدا کرتا رہتا ہے، جن کو تم جانتے بھی نہیں بلکہ بالواسطہ یا بلا واسطہ تم یا تمہارے سوا دوسرے لوگ ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ مقصود ان چیزوں کے ذکر سے بھی وہی ہے جس کی طرف اوپر اشارہ گزرا کہ نعمتیں بخشی ہوئی تو سب خدا کی ہیں لیکن تم ان کو پا کر خدا کو تو بھول جاتے ہو اور اپنی شان اور دوسروں کی بندگی میں لگ جاتے ہو۔

      جاوید احمد غامدی یہ گھوڑے اور خچر اور گدھے بھی اُس نے پیدا کیے ہیں تاکہ تم اِن پر سوار ہو اور یہ زینت بھی ہیں۔ وہ ایسی چیزیں بھی پیدا کرتا ہے جنھیں تم نہیں جانتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اِس بات کی نشانی کہ یہ کائنات مخلوق ہے اور اِس کا ایک ہی خالق ہے، زمین و آسمان میں ہر جگہ اُسی کی حکومت ہے، سب اُسی کی قدرت و حکمت اور رحمت و ربوبیت سے متمتع ہو رہے ہیں، اُس نے کوئی چیز بے مقصد پیدا نہیں کی ہے، وہ یقیناً ایک دن ایسا لائے گا جس میں اُن لوگوں پر انعام فرمائے گا جنھوں نے اپنی ذمہ داری پہچانی اور اُن سے بازپرس کرے گا جو اندھے اور بہرے بن کر ایک شتر بے مہار کی زندگی گزارتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور اللہ تک سیدھی راہ پہنچاتی ہے اور بعض راہیں کج ہیں اور اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت پر کر دیتا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’قَصْد‘ کے معنی سیدھے اور مستقیم کے ہیں۔ ’طَرِیْق قَصْد‘ سیدھا راستہ۔ ’قَصْد السَّبِیل‘ میں صفت اپنے موصوف کی طرف مضاف ہو گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بندے کو خدا تک توحید کی سیدھی راہ پہنچاتی ہے، اس میں کج پیچ اور پگ ڈنڈیاں نہیں ہیں۔ خدا نے اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان وسائط کو حائل نہیں کیا ہے۔ اس نے اپنے تک پہنچنے کے لیے سیدھی راہ کھولی ہے، بندہ اس کو اختیار کر لے تو یہ سیدھے خدا تک پہنچا دیتی ہے۔ اسی حقیقت کو سورۂ حجر کی آیت ۴۱ میں یوں واضح فرمایا گیا ہے:

      ’ھٰذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیْمٌ‘
      (یہ سیدھی راہ (توحید) سیدھے مجھ تک پہنچاتی ہے)

      یہی مضمون سورۂ ہود آیت ۵۶ میں یوں بیان ہوا ہے:

      ’اِنَّ رَبِّیْ عَلٰی صِرَاطٍ مُسْتَقِیْمٌٍ‘
      (بے شک میرا رب ایک سیدھے راستہ پر ہے)۔

      ’وَمِنْھَا جَآءِرٌ‘۔ یعنی خدا تک تو توحید کی سیدھی راہ پہنچاتی ہے لیکن لوگوں نے اپنی شامت سے اس سیدھی راہ سے شرک کے کج پیچ کے راستے نکال لیے ہیں جن پر پڑ کے وہ اس طرح کھو جاتے ہیں کہ پھر خدا سے وہ دور سے دور تر ہی ہوتے جاتے ہیں۔ ان کے لیے اصل شاہراہ کی طرف لوٹنا نہایت دشوار ہو جاتا ہے۔
      ’وَلَوْ شَآءَ لَھَدٰکُمْ اَجْمَعِیْنَ‘ یعنی اگر خدا چاہتا تو سب کو ہدایت کے راستہ ہی پر ڈال دیتا لیکن اس معاملے میں اس نے جبر کو پسند نہیں فرمایا ہے بلکہ لوگوں کو اختیار دیا ہے کہ وہ اپنی عقل و تمیز سے کام لیں اور جس راہ کو بھی اختیار کریں اپنی ذمہ داری پر اختیار کریں۔ اگر وہ توحید کی راہ اختیار کریں گے تو منزل تک پہنچیں گے اور اگر اس سے انحراف کریں گے تو اس کا انجام خود دیکھیں گے۔ اسی سورہ میں آگے ارشاد ہوا ہے۔ ’اِنْ تَحْرِصْ عَلٰی ھُدٰھُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَھْدِیْ مَنْ یُّضِلُّ وَمَا لَھُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ‘۔ یعنی جن پر خدا کا قانون ضلالت نافذ ہو جاتا ہے، پھر ان کو ہدایت نصیب نہیں ہوا کرتی تو ایسوں کی ہدایت کے درپے ہونے کی ضرورت نہیں۔

       

      جاوید احمد غامدی (اُس کو پانا چاہتے ہو تو جان لو کہ) اللہ تک سیدھی راہ پہنچاتی ہے، جبکہ راہیں ٹیڑھی بھی ہیں۔ (اُس نے تمھیں اختیار دیا ہے کہ جو راہ چاہے، اختیار کرو)، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ چاہتا تو تم سب کو (اُسی ایک راہ کی) ہدایت دے دیتا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اِس بات کی نشانی کہ یہ کائنات مخلوق ہے اور اِس کا ایک ہی خالق ہے، زمین و آسمان میں ہر جگہ اُسی کی حکومت ہے، سب اُسی کی قدرت و حکمت اور رحمت و ربوبیت سے متمتع ہو رہے ہیں، اُس نے کوئی چیز بے مقصد پیدا نہیں کی ہے، وہ یقیناً ایک دن ایسا لائے گا جس میں اُن لوگوں پر انعام فرمائے گا جنھوں نے اپنی ذمہ داری پہچانی اور اُن سے بازپرس کرے گا جو اندھے اور بہرے بن کر ایک شتر بے مہار کی زندگی گزارتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی وہی ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا جس میں سے تم پیتے بھی ہو اور اسی سے وہ نباتات بھی اگتی ہیں جن میں تم مویشیوں کو چراتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’اسامۃ‘ کے معنی مویشیوں کو چراگاہ کی طرف لے جانے کے ہیں۔
      توحید کی دلیل توافق کے پہلو سے: آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہی ایک خدا ہے جو آسمان سے پانی اتارتا ہے جس کو تم زمین پر بسنے والے پیتے بھی ہو اور اسی سے وہ جنگل جھاڑیاں اور نباتات بھی اگتی ہیں جن میں تم اپنے مال مویشی چراتے ہو۔ یہ صورت واقعہ اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ آسمانوں کے خدا اور ہیں، زمین کے خدا اور یا اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ ایک ہی خدائے قادر و قیوم آسمانوں اور زمین سب پر حکمران ہے؟ ظاہر ہے کہ آسمانوں اور زمین کا یہ توافق اس حقیقت کی کھلی شہادت ہے کہ ایک ہی حکیم و قدیر کا ارادہ آسمانوں اور زمین سب میں کارفرما ہے اور اس کی ربوبیت و پروردگاری کا خوان کرم اتنا وسیع ہے کہ انسان تو انسان، انسان کے کام آنے والے جانور بھی اس سے متمتع ہو رہے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی وہی ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا جس سے تم پیتے بھی ہو اور اُسی سے وہ نباتات بھی اگتی ہیں جن میں تم (مویشیوں کو) چراتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اِس بات کی نشانی کہ یہ کائنات مخلوق ہے اور اِس کا ایک ہی خالق ہے، زمین و آسمان میں ہر جگہ اُسی کی حکومت ہے، سب اُسی کی قدرت و حکمت اور رحمت و ربوبیت سے متمتع ہو رہے ہیں، اُس نے کوئی چیز بے مقصد پیدا نہیں کی ہے، وہ یقیناً ایک دن ایسا لائے گا جس میں اُن لوگوں پر انعام فرمائے گا جنھوں نے اپنی ذمہ داری پہچانی اور اُن سے بازپرس کرے گا جو اندھے اور بہرے بن کر ایک شتر بے مہار کی زندگی گزارتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی وہ اسی سے تمہارے لیے کھیتی، زیتون، کھجور، انگور اور ہر قسم کے پھل پیدا کر تا ہے۔ بے شک اس کے اندر بہت بڑی نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو سوچیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آخرت کی دلیل ربوبیت کے پہلو سے: اسی پانی سے وہ کھیتی، زیتون، کھجور، انگور اور گوناگوں قسم کے پھلوں کے باغ پیدا کرتا ہے۔ فرمایا کہ اس میں بہت بڑی نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو تفکر و تدبر کریں۔ توحید کی دلیل، توافق کے پہلو سے، تو اس میں ہے ہی لیکن تفکر کرنے والوں کے لیے اس میں بہت بڑی نشانی آخرت کی بھی ہے اس لیے کہ گوناگوں نعمتوں اور حکمتوں سے بھری ہوئی اس دنیا پر جب ایک حساس انسان غور کرتا ہے تو وہ بے تحاشا پکار اٹھتا ہے کہ ’رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا‘ اے رب تو نے حکمتوں اور رحمتوں سے یہ معمور عالم عبث اور بے غایت نہیں پیدا کیا ہے۔ اس کے باغایت و بامقصد ہونے کا لازمی تقاضا ہے کہ اس کے بعد ایک ایسا دن لائے جس میں ان لوگوں پر انعام فرمائے جنھوں نے اس میں اپنی ذمہ داریاں پہچانی اور اپنے فرائض ادا کیے ہوں اور ان لوگوں سے بازپرس کرے جنھوں نے ہوش و گوش سے عاری ایک شتر بے مہار کی زندگی گزاری ہو۔

      جاوید احمد غامدی وہ تمھارے لیے اُسی سے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل اگاتا ہے۔ یقیناً اِس میں اُن لوگوں کے لیے بہت بڑی نشانی ہے جو غور کریں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اِس بات کی نشانی کہ یہ کائنات مخلوق ہے اور اِس کا ایک ہی خالق ہے، زمین و آسمان میں ہر جگہ اُسی کی حکومت ہے، سب اُسی کی قدرت و حکمت اور رحمت و ربوبیت سے متمتع ہو رہے ہیں، اُس نے کوئی چیز بے مقصد پیدا نہیں کی ہے، وہ یقیناً ایک دن ایسا لائے گا جس میں اُن لوگوں پر انعام فرمائے گا جنھوں نے اپنی ذمہ داری پہچانی اور اُن سے بازپرس کرے گا جو اندھے اور بہرے بن کر ایک شتر بے مہار کی زندگی گزارتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور اس نے رات اور دن، سورج اور چاند کو تمہاری نفع رسانی میں لگا رکھا ہے اور ستارے بھی اسی کے حکم سے نفع رسانی میں لگے ہوئے ہیں، بے شک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو سمجھیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’سَخَّرَلَکُم‘ کے معنی، جیسا کہ ہم دوسرے مقامات میں واضح کر چکے ہیں، یہ ہیں کہ ان چیزوں کو خدا نے تمہاری خدمت اور نفع رسانی میں لگا رکھا ہے۔ لیکن یہ عجیب ماجرا ہے کہ خدا نے تو ان چیزوں کو تمہاری خدمت میں سرگرم کیا کہ تم اس کے شکرگزار ہو اور اس بات کو یاد رکھو کہ جس نے انسان کی نفع رسانی کے لیے اپنی یہ شانیں اور قدرتیں دکھائی ہیں وہ اس کو غیر مسؤل اور مطلق العنان نہیں چھوڑے گا لیکن نادانوں نے یہ صحیح راہ اختیار کرنے کے بجائے، انہی سورج، چاند اور ستاروں کی پرستش شروع کر دی اور ان کے پیچھے اس خدا کو بھلا بیٹھے جو ان سب چیزوں کا خالق و مالک ہے۔

      جاوید احمد غامدی رات اور دن اور سورج اور چاند کو اُسی نے تمھارے کام میں لگا رکھا ہے اور اُسی کے حکم سے ستارے بھی تمھارے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ یقیناً اِس میں اُن لوگوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      انسان کی جو صلاحیتیں اُس کی صحیح رہنمائی کرتی ہیں، اُنھیں بالترتیب یہاں ’یَتَفَکَّرُوْنَ‘، ’یَعْقِلُوْنَ‘ اور ’یَذَّکَّرُوْنَ‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...یہ اعلیٰ سے ادنیٰ کی طرف نزول ہے۔ انسان کی سب سے اعلیٰ صفت تو یہ ہے کہ وہ اِس کائنات میں تفکر کرے، اِسی تفکر سے اُس کو اِس کثرت کے اندر وحدت کی طرف رہنمائی اور اِس کائنات کی اصل غایت کی معرفت حاصل ہو تی ہے۔ یہ نہ ہو تو کم از کم یہ تو ہو کہ وہ اپنی عقل سے کام لے اور اِس کائنات کی ایک ایک چیز جس نشان منزل کی طرف انگلی اٹھا اٹھا کر اشارہ کر رہی ہے، اُس کی اِس یاددہانی سے فائدہ اٹھائے اور اندھے بھینسے کی طرح نہ چلے۔ اِنھی صفات کا حوالہ آگے اِسی سورہ کی آیات۶۵،۶۷،۶۹ میں بالترتیب ’یَسْمَعُوْنَ‘، ’یَعْقِلُوْنَ‘ اور ’یَتَفَکَّرُوْنَ‘ کے الفاظ سے آیا ہے۔ یہ ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف صعود ہے۔ یعنی ایک معقول آدمی کے اندر کم از کم جو بات ہونی چاہیے، وہ یہ ہے کہ وہ معقول بات کو سنے اور اُس کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ اگر یہ نہ ہو تو وہ سرے سے آدمی ہی نہیں ہے، بلکہ نرا دو ٹانگوں پر چلنے والا ایک جانور ہے۔ اور اُس کا اعلیٰ وصف یہ ہے کہ وہ اِس کائنات میں تفکر کرے، اِس لیے کہ اِسی تفکر سے علم صحیح اور معرفت حقیقی کے دروازے کھلتے ہیں اور قرآن درحقیقت انسان کی اِسی صلاحیت کوبیدار کرنا چاہتا ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۴/ ۳۹۶)

       

    • امین احسن اصلاحی اور زمین میں جو چیزیں تمہارے لیے گوناگوں قسموں کی پھیلائیں، بے شک اس میں بھی بڑی نشانی ہے ان لوگوں کے لیے جو یاددہانی حاصل کریں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ہر پتہ معرفت کردگار کا دفتر ہے: یعنی زمین میں جو بے شمار گوناگوں و بوقلموں انواع و اقسام کی چیزیں تمہارے فائدے کے لیے پھیلا رکھی ہیں ان کو بھی دیکھو اور ان پر غور کرو۔ ان کے اندر بھی یاددہانی حاصل کرنے والوں کے لیے بہت بڑی نشانی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا بالکل سپاٹ، چٹیل، یک رنگ بلکہ بالکل بے رنگ بھی ہو سکتی تھی لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ اس کا گوشہ گوشہ عجائب قدرت سے معمور ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ اس لیے کہ اس کے خالق نے یہ چاہا کہ انسان اس کے جس گوشہ پر بھی نظر ڈالے وہیں اس کو اس کے خالق کی قدرت و حکمت اور رحمت و ربوبیت کی کوئی نہ کوئی نشانی مل جائے اور وہ مصنوع سے صانع اور اس کی صفات کا درس حاصل کر سکے۔ گویا کہ پتہ پتہ معرفت کردگار کا دفتر ہے۔ ہر قدم پر صحیح نشان منزل کی طرف رہنمائی کرنے والی کوئی نہ کوئی نشانی موجود ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ یاددہانی کرنے والی چیزوں سے انسان یاددہانی حاصل کرے، آنکھیں بند کر کے نہ چلے بلکہ ایک ایک چیز کو دیکھے اور اس سے جو سبق حاصل ہوتے ہیں ان کو محفوظ رکھے۔
      انسان کو دعوت تفکر و تذکر: یہاں یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ انسان کی جو صلاحیتیں اس دنیا میں اس کی صحیح رہنمائی کرتی ہیں ان کو بالترتیب ’یَتَفَکَّرُوْنَ‘، ’یَعْقِلُوْنَ‘ اور ’یَذَّکَّرُوْنَ‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ یہ اعلیٰ سے ادنیٰ کی طرف نزول ہے۔ انسان کی سب سے اعلیٰ صفت تو یہ ہے کہ وہ اس کائنات میں تفکر کرے، اسی تفکر سے اس کو اس کثرت کے اندر وحدت کی طرف رہنمائی اور اس کائنات کی اصل غایت کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ یہ نہ ہو تو کم از کم یہ تو ہو کہ وہ اپنی عقل سے کام لے اور اس کائنات کی ایک ایک چیز جس نشان منزل کی طرف انگلی اٹھا اٹھا کر اشارہ کر رہی ہے اس کی یاددہانی سے فائدہ اٹھائے اور اندھے بھینسے کی طرح نہ چلے۔ انہی صفات کا حوالہ آگے اسی سورہ کی آیات ۶۵، ۶۷، ۶۹ میں بالترتیب ’یَسْمَعُوْنَ‘، ’یَعْقِلُوْنَ‘ اور ’یَتَفَکَّرُوْنَ‘ کے الفاظ سے آیا ہے۔ یہ ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف صعود ہے یعنی ایک معقول آدمی کے اندر کم از کم جو بات ہونی چاہیے وہ یہ ہے کہ وہ معقول بات کو سنے اور اس کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ اگر یہ نہ ہو تو وہ سرے سے آدمی ہی نہیں ہے بلکہ نرا دو ٹانگوں پر چلنے والا ایک جانور ہے۔ اور اس کا اعلیٰ وصف یہ ہے کہ وہ اس کائنات میں تفکر کرے اس لیے کہ اسی تفکر سے علم صحیح اور معرفت حقیقی کے دروازے کھلتے ہیں اور قرآن درحقیقت انسان کی اسی صلاحیت کو بیدار کرنا چاہتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور یہ جو رنگ رنگ کی چیزیں اُس نے تمھارے لیے زمین میں بکھیر دی ہیں، اُن میں بھی یقیناً بہت بڑی نشانی ہے اُن لوگوں کے لیے جو یاددہانی حاصل کریں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      انسان کی جو صلاحیتیں اُس کی صحیح رہنمائی کرتی ہیں، اُنھیں بالترتیب یہاں ’یَتَفَکَّرُوْنَ‘، ’یَعْقِلُوْنَ‘ اور ’یَذَّکَّرُوْنَ‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...یہ اعلیٰ سے ادنیٰ کی طرف نزول ہے۔ انسان کی سب سے اعلیٰ صفت تو یہ ہے کہ وہ اِس کائنات میں تفکر کرے، اِسی تفکر سے اُس کو اِس کثرت کے اندر وحدت کی طرف رہنمائی اور اِس کائنات کی اصل غایت کی معرفت حاصل ہو تی ہے۔ یہ نہ ہو تو کم از کم یہ تو ہو کہ وہ اپنی عقل سے کام لے اور اِس کائنات کی ایک ایک چیز جس نشان منزل کی طرف انگلی اٹھا اٹھا کر اشارہ کر رہی ہے، اُس کی اِس یاددہانی سے فائدہ اٹھائے اور اندھے بھینسے کی طرح نہ چلے۔ اِنھی صفات کا حوالہ آگے اِسی سورہ کی آیات ۶۵،۶۷،۶۹ میں بالترتیب ’یَسْمَعُوْنَ‘، ’یَعْقِلُوْنَ‘ اور ’یَتَفَکَّرُوْنَ‘ کے الفاظ سے آیا ہے۔ یہ ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف صعود ہے۔ یعنی ایک معقول آدمی کے اندر کم از کم جو بات ہونی چاہیے، وہ یہ ہے کہ وہ معقول بات کو سنے اور اُس کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ اگر یہ نہ ہو تو وہ سرے سے آدمی ہی نہیں ہے، بلکہ نرا دو ٹانگوں پر چلنے والا ایک جانور ہے۔ اور اُس کا اعلیٰ وصف یہ ہے کہ وہ اِس کائنات میں تفکر کرے، اِس لیے کہ اِسی تفکر سے علم صحیح اور معرفت حقیقی کے دروازے کھلتے ہیں اور قرآن درحقیقت انسان کی اِسی صلاحیت کو بیدار کرنا چاہتا ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۴/ ۳۹۶)

       

    • امین احسن اصلاحی اور وہی ہے جس نے سمندر کو تمہاری نفع رسانی میں لگا رکھا ہے تاکہ تم اس سے تازہ گوشت کھاؤ اور اس سے وہ زیور نکالو جو تم پہنتے ہو اور تم کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ اس میں چیرتی ہوئی چلتی ہیں (تاکہ تم اس میں سفر کرو) اور اس کے فضل کے طالب بنو اور تاکہ تم اس کے شکرگزار بنو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      سمندر کی نشانیوں کی طرف اشارہ: ’تسخیر بحر‘ سے مراد وہی ہے جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ یعنی خدا نے سمندر کو تمہاری خدمت اور نفع رسانی میں لگا رکھا ہے کہ تمہیں اس سے تازہ گوشت بھی حاصل ہوتا ہے اور تم اپنی زینت کے لیے اسی سے قیمتی موتی بھی نکالتے ہو۔
      ’وَتَرَی الْفُلْکَ مَوَاخِرَ فِیْہِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ‘ یہاں قرینہ دلیل ہے کہ ’وَلِتَبْتَغُوْا‘ سے پہلے ’لِتَرْکَبُوْھَا‘ یا اس کے ہم معنی کوئی فعل محذوف ہے اور حرف عطف ’و‘ اس کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
      یعنی تم کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ ایک گہرے اور موجزن سمندر کے اندر اس کے پانی کو چیرتی ہوئی چلتی ہیں تاکہ تم ان پر سوار ہو اور تجارتی سفر کر کے خدا کے فضل کے طالب اور اس کے شکرگزار بنو کہ اس نے اپنی قدرت و رحمت سے تمہارے لیے سمندر کے سینے پر سے نہایت مصفا سڑکیں نکال دی ہیں جن پر سے تمہارے بڑے بڑے جہاز گزرتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ خدا کے اس فضل و نعمت پر لوگ اس کے شکرگزار ہوں لیکن نادانوں نے ان دریاؤں اور سمندروں ہی کو دیوی دیوتا بنا کر ان کی پوجا اور عبادت شروع کر دی۔

      جاوید احمد غامدی وہی ہے جس نے سمندر کو تمھارے کام میں لگا رکھا ہے، اِس لیے کہ تم اُس سے (مچھلیوں کا) تازہ گوشت کھاؤ اور اُس سے زیور (کی وہ چیزیں) نکالو جنھیں تم پہنا کرتے ہو۔ اور تم کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ اِسی (سمندر) میں (اُس کا سینہ) چیرتی ہوئی چلی جا رہی ہیں، (اِس لیے کہ تم اُن میں سفر کرو) اور اِس لیے کہ اپنے پروردگار کا فضل تلاش کرو اور اِس لیے کہ (اُس کا) شکر کرو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور اس نے زمین میں پہاڑ ڈال دیے ہیں کہ وہ تمہیں لے کر جھک نہ پڑے اور نہریں جاری کر دی ہیں اور راستے نکال دیے ہیں تاکہ تم راہ پاؤ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اس میں اعلیٰ عربیت کے اسلوب کے مطابق کلام کے بعض اجزاء جو بغیر اظہار کے ظاہر تھے، وہ حذف ہیں۔ ہم نے ترجمہ میں ان کو کھول دیا ہے۔ ’اَنْھَارًا وَّسُبُلًا‘ یعنی ’فَجَّرَ فِیْھَا اَنْھٰرًا وَمَھَّدَ فِیْھَا سُبُلًا۔ عَلٰمٰتٍ‘ یعنی ’جَعَلَ لِلسَّبِیْلِ عَلٰمٰتٍ‘۔
      زمین اور آسمان کی نشانیوں کی طرف اشارہ: خدا نے زمین میں پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے ہیں جو اس کے توازن کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ اس میں نہریں جاری کر دی ہیں جن سے طرح طرح کے فوائد حاصل ہوتے ہیں، راستے نکال دیے ہیں کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکو اور ان راستوں کو پہچاننے کے لیے مختلف قسم کی علامتیں (LAND MARKS) نصب کر دی ہیں کہ ان کا تعین کر سکو، پھر اسی پر بس نہیں، آسمان پر ستارے بھی چمک رہے ہیں جن سے صحراؤں کے سفر میں لوگ راستوں، سمتوں اور اوقات کے تعین میں رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ ساری چیزیں تو خدا کی بنائی اور بخشی ہوئی ہیں تو عبادت و اطاعت خدا کی ہونی چاہیے یا خدا کے سوا ان چیزوں کی جنھوں نے کوئی چیز بھی نہیں بنائی۔

      جاوید احمد غامدی اُسی نے زمین میں پہاڑ ڈال دیے ہیں، اِس لیے کہ وہ تم کو لے کر جھک نہ پڑے اور (اُس میں) نہریں جاری کر دی ہیں اور راستے نکال دیے ہیں، اِس لیے کہ راہ پاؤ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں ’اَنْھٰرًا وَّسُبُلاً‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن کے لیے موزوں افعال عربیت کے اسلوب پر حذف کر دیے گئے ہیں، یعنی ’فَجَّرَ فِیْھَا أَنْھَارًا وَّمَھَّدَ فِیْھَا سُبُلاً‘۔

    • امین احسن اصلاحی اور دوسری علامتیں بھی ہیں اور ستاروں سے بھی وہ راہ معلوم کرتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اس میں اعلیٰ عربیت کے اسلوب کے مطابق کلام کے بعض اجزاء جو بغیر اظہار کے ظاہر تھے، وہ حذف ہیں۔ ہم نے ترجمہ میں ان کو کھول دیا ہے۔ ’اَنْھَارًا وَّسُبُلًا‘ یعنی ’فَجَّرَ فِیْھَا اَنْھٰرًا وَمَھَّدَ فِیْھَا سُبُلًا۔ عَلٰمٰتٍ‘ یعنی ’جَعَلَ لِلسَّبِیْلِ عَلٰمٰتٍ‘۔
      زمین اور آسمان کی نشانیوں کی طرف اشارہ: خدا نے زمین میں پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے ہیں جو اس کے توازن کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔ اس میں نہریں جاری کر دی ہیں جن سے طرح طرح کے فوائد حاصل ہوتے ہیں، راستے نکال دیے ہیں کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکو اور ان راستوں کو پہچاننے کے لیے مختلف قسم کی علامتیں (LAND MARKS) نصب کر دی ہیں کہ ان کا تعین کر سکو، پھر اسی پر بس نہیں، آسمان پر ستارے بھی چمک رہے ہیں جن سے صحراؤں کے سفر میں لوگ راستوں، سمتوں اور اوقات کے تعین میں رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ ساری چیزیں تو خدا کی بنائی اور بخشی ہوئی ہیں تو عبادت و اطاعت خدا کی ہونی چاہیے یا خدا کے سوا ان چیزوں کی جنھوں نے کوئی چیز بھی نہیں بنائی۔

      جاوید احمد غامدی (اور اِن کے علاوہ) دوسری علامتیں بھی ٹھیرائی ہیں اور لوگ (آسمان کے) تاروں سے بھی راستہ پاتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہاں بھی وہی اسلوب ہے جس کا ذکر اوپر ہوا، یعنی ’جَعَلَ لِلسَّبِیْلِ عَلٰمٰتٍ‘۔

    • امین احسن اصلاحی تو کیا وہ جو پیدا کرتا ہے ان کے مانند ہے جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے؟ تو کیا تم سوچتے نہیں؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مذکورہ حقائق کے لازمی نتائج: اب یہ توحید اور جزا و سزا کے ان نتائج کی طرف دلائی جا رہی ہے جو اوپر کی بیان کردہ تمام نعمتوں سے نکلتے ہیں۔ فرمایا کہ کیا وہ جو تمام چیزیں پیدا کرتا ہے ان کی مانند ہو جائے گا جو نہ صرف یہ کہ کچھ پیدا نہیں کرتے بلکہ، جیسا کہ آگے آ رہا ہے، وہ مخلوق ہیں۔ ’اَفَلَا تَذَکَّرُوْنَ‘ یعنی یہ عقل کی کیسی موت ہے کہ اتنی موٹی سی بات بھی تمہاری سمجھ میں نہیں آ رہی ہے! یہاں اس حقیقت پر نظر رہے کہ مشرکین عرب ان چیزوں کا، جن کی طرف اوپر توجہ دلائی گئی ہے، خالق خدا ہی کو مانتے تھے لیکن اس کے باوجود انہی مخلوقات میں سے بہت سی چیزوں کو وہ خدا کا شریک ٹھہراتے اور جو حقوق خاص خالق کے ہیں ان میں وہ ان کو حصہ دار بناتے اور اس طرح خالق کو اس کی مخلوقات کے برابر کر دیتے۔

      جاوید احمد غامدی پھر کیا جو پیدا کرتا ہے ، وہ اُن کے برابر ہو جائے گا جو کچھ پیدا نہیں کرتے؟ تو کیا تم سمجھتے نہیں ہو؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      آیت کے الفاظ سے واضح ہے کہ یہ خاص اُن کے بزرگوں اور آبا و اجداد کا ذکر ہے جنھیں معلوم نہیں کیا کیا قرار دے کر وہ اپنی حاجتوں کے لیے پکارتے اور اُن کی پرستش کرتے تھے۔

    • امین احسن اصلاحی اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو تم ان کا احاطہ نہ کر سکو گے۔ بے شک اللہ بڑا ہی بخشنے والا، مہربان ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      توبہ اور اصلاح کی دعوت: یعنی یہ نعمتیں جو گنائی گئی ہیں یہ تو خدا کی بے شمار نعمتوں میں سے چند ہیں۔ اگر تم خدا کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو ان کا احاطہ نہیں کر سکتے لیکن اس کے باوجود تم خدا کی ناشکری اور اس کے حقوق میں دوسروں کو شریک کرتے ہو۔ اپنی اس حرکت کے سبب سے تم سزاوار تو اس بات کے تھے کہ خدا تم کو فوراً ہر نعمت سے محروم کر دیتا لیکن اس نے تم کو مہلت دے رکھی ہے اس لیے کہ وہ بڑا ہی بخشنے والا اور مہربان ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ تم اس مہلت سے فائدہ اٹھا کر توبہ اور اصلاح کرو اور اس کے غضب کے بجائے اس کی رحمت کے سزاوار بنو۔

      جاوید احمد غامدی اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو اُنھیں گن نہیں سکو گے۔ (اِس پر بھی ناشکری کرتے ہو)؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑا ہی بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور اللہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو تم ظاہر کرتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      تہدید و وعید: یہ تہدید و وعید ہے۔ یعنی خدا نے اپنی رأفت و رحمت کے سبب تمہیں ڈھیل دے رکھی ہے لیکن یہ یاد رکھو کہ وہ تمہارے ظاہر و باطن اور پوشیدہ و علانیہ سے اچھی طرح باخبر ہے۔ ایک دن آئے گا جب کوئی چیز ڈھکی چھپی نہیں رہ جائے گی۔ وہ رتی رتی کا حساب اور عدل کے ساتھ تمام معاملات کا فیصلہ کرے گا۔ اس میں ایک لطیف اشارہ اس حقیقت کی طرف بھی ہے کہ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ نعمتیں سب اللہ ہی کی بخشی ہوئی ہیں لیکن جان کر انجان بنتے ہو، تمہارے دل مانتے لیکن زبانیں انکار کرتی ہیں۔ آگے اسی سورہ کی آیت ۸۳ میں یہ حقیقت یوں بیان ہوئی ہے:

      ’یَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰہِ ثُمَّ یُنْکِرُوْنَھَا وَاَکْثَرُھُمُ الْکٰفِرُوْنَ‘
      (وہ خدا کی نعمت کو پہچانتے ہیں، پھر اس سے نا آشنا بنتے ہیں اور ان میں سے اکثر ناشکرے ہیں)۔

       

      جاوید احمد غامدی (اُس نے تمھیں مہلت دے رکھی ہے تو اُس کی وجہ یہی ہے، مگر یاد رکھو کہ) اللہ جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ کچھ پیدا نہیں کرتے، وہ تو خود مخلوق ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      معبودان باطل کی بے حقیقتی: ان دونوں آیتوں میں پہلی آیت تو تمام معبودان باطل سے متعلق عام ہے اور دوسری آیت خاص ان کے ان آباء و اجداد سے متعلق ہے جن کی وہ پرستش کرتے تھے۔ فرمایا کہ اللہ کے سوا جن کو یہ پکارتے ہیں وہ کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ وہ خود مخلوق ہیں۔ یہ ہے کہ ایسوں کو حاجت روائی کے لیے پکارنا محض نادانی ہے۔ پھر ان کے ان آباء و اجداد کی طرف جن کو انھوں نے معبود بنا رکھا تھا، اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ تو مردہ ہیں، ان کو پتہ بھی نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔ مطلب یہ کہ مردوں کو پکارنے سے حاصل! ’اموات‘ کے ساتھ ’غَیْرُ اَحْیَاء‘ کی صفت تاکید مزید کے طور پر ہے یعنی مردہ بے حس۔

      جاوید احمد غامدی جنھیں یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، وہ کچھ پیدا نہیں کرتے، بلکہ خود پیدا کیے ہوئے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      آیت کے الفاظ سے واضح ہے کہ یہ خاص اُن کے بزرگوں اور آبا و اجداد کا ذکر ہے جنھیں معلوم نہیں کیا کیا قرار دے کر وہ اپنی حاجتوں کے لیے پکارتے اور اُن کی پرستش کرتے تھے۔

    Join our Mailing List