Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 99 آیات ) Al-Hijr Al-Hijr
Go
  • الحجر (The Rocky Tract, Al-Hijr, The Stoneland, The Rock City)

    99 آیات | مکی

    سورہ کا عمود

    پچھلی سورہ کے آخر میں کفار کے لیے جو تہدید و وعید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جو تسکین و تسلی مجمل الفاظ میں وارد ہوئی ہے وہ اس سورہ میں بالکل سامنے آ گئی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے یہ اطمینان دلایا گیا ہے کہ یہ قرآن بجائے خود ایک واضح حجت ہے۔ اگر یہ لوگ اس کو نہیں مان رہے ہیں، تمہیں خبطی اور دیوانہ کہتے ہیں، مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان پر فرشتے اتارے جائیں تب یہ مانیں گے تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے، ہمیشہ سے رسولوں کے جھٹلانے والوں کی یہی روش رہی ہے، اگر ان کے مطالبہ کے مطابق ان کو معجزے دکھا بھی دیے گئے جب بھی یہ ہٹ سے باز آنے والے نہیں ہیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑو، وہ وقت آئے گا جب یہ آرزوئیں کریں گے کہ کاش پیغمبرؐ اور قرآن کی دعوت قبول کر کے مومن و مسلم بنے ہوتے۔

  • الحجر (The Rocky Tract, Al-Hijr, The Stoneland, The Rock City)

    99 آیات | مکی

    ابرٰھیم —— الحجر

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں جس چیز کے لیے قریش کو تنبیہ و تہدید ہے، دوسری میں اُسی کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ مطمئن رہو، یہ قرآن بجاے خود ایک واضح حجت ہے، یہ نہیں مانتے تو اِنھیں اِن کے حال پر چھوڑ و، وہ وقت اب جلد آنے والا ہے، جب یہ آرزوئیں کریں گے کہ اے کاش، ہم نے یہ رویہ اختیار نہ کیا ہوتا۔

    دونوں کا موضوع وہی انذار و بشارت ہے جو پچھلی سورتوں سے چلا آ رہا ہے۔ اتنا فرق، البتہ ہوا ہے کہ نتائج کا بیان زیادہ صریح ہو گیا ہے اور فہمایش تنبیہ، ملامت اور زجر و توبیخ میں تبدیل ہو گئی ہے۔

    دونوں سورتوں میں خطاب اصلاً قریش ہی سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی یہ الف، لام، را ہے۔ یہ کتاب الٰہی اور ایک واضح قرآن کی آیات ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قرآن اپنی صداقت کی خود دلیل ہے: حروف مقطعات پر ایک جامع بحث ہم سورۂ بقرہ کی تفسیر کے آغاز میں کر چکے ہیں۔ ہمارے نزدیک ’الٓرٰ‘ اس سورہ کا قرآنی نام ہے اور ’تلک‘ کا اشارہ اسی کی طرف ہے۔ لفظ ’اَلْکِتٰبِ‘ پر بھی ہم بقرہ کی تفسیر کے شروع میں بحث کر چکے ہیں۔ اس سے مراد وہ خدائی کتاب ہے جس کے اتارنے کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا اور جس کی پچھلے نبیوں نے خبر دی تھی۔ قرآن کی تنکیر تفخیم شان کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کلام جو ان کو سنایا جا رہا ہے یہ کتاب الٰہی اور ایک واضح قرآن کی آیات پر مشتمل ہے۔ یہ اپنی صداقت کی دلیل خود اپنے اندر رکھتا ہے، کسی خارجی دلیل کا محتاج نہیں ہے۔ اس کے باوجود جو لوگ اس کو نہیں مان رہے ہیں، اس کی صداقت کو جانچنے کے لیے معجزوں کی فرمائش کر رہے ہیں، وہ درحقیقت اپنی شامت کو دعوت دے رہے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی یہ سورۂ ’الٓرٰ‘ ہے۔ یہ کتاب الٰہی اور قرآن مبین کی آیتیں ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس نام کے معنی کیا ہیں؟ اِس کے متعلق ہم اپنا نقطۂ نظر سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۱ کے تحت بیان کر چکے ہیں۔
      اصل الفاظ ہیں: ’تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ وَقُرْاٰنٍ مُّبِیْنٍ‘۔ اِن میں ’و‘ تفسیر کی ہے اور قرآن کی تنکیر تفخیم شان کے لیے ہے۔ لفظ ’مُبِیْن‘ استدلال کے محل میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ کلام جو اِن کو سنایا جا رہا ہے، یہ حقائق کو اِس طرح مبرہن کر دینے والا ہے کہ اِس کے بعد مزید کسی دلیل کی ضرورت نہیں رہتی۔ اِس کا بیان ہی اِس کی صداقت کی دلیل بن جاتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی وہ وقت آئیں گے جب یہ لوگ، جنھوں نے کفر کیا ہے، تمنا کریں گے کہ کاش ہم مسلم بنے ہوتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی آج تو یہ لوگ غرور و رعونت کے ساتھ اس کتاب کا انکار کر رہے ہیں لیکن آگے ایسے وقت آئیں گے اور بار بار آئیں گے جب یہ تمنائیں کریں گے کہ کاش اس کتاب کو قبول کر کے مسلمان بنے ہوتے کہ ان ہولناک نتائج سے محفوظ رہتے۔ یہ مضمون سورۂ ابراہیم آیت ۴۴ میں بھی گزر چکا ہے۔

      جاوید احمد غامدی وہ دن بھی آئیں گے، جب یہ منکرین تمنا کریں گے کہ کاش، ہم مسلمان ہوتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی ان کو چھوڑو، کھا پی لیں، عیش کر لیں اور آرزؤوں میں مگن رہ لیں۔ عنقریب یہ جان لیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی اگر یہ اپنی سرمستیوں میں گم ہیں، تم کو اور تمہاری دعوت کو (خطاب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے) خاطر میں نہیں لا رہے ہیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑو، چند دن یہ کھا پی لیں، مزے کر لیں اور لذیذ آرزوؤں کے خواب دیکھ لیں، عنقریب وہ وقت آیا چاہتا ہے جب یہ اپنی سرمستی کا انجام خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔

      جاوید احمد غامدی اِنھیں چھوڑو، یہ کھائیں پئیں، مزے کریں اور اِن کی آرزوئیں اِنھیں بھلاوے میں ڈالے رکھیں۔ پھر یہ عنقریب جان لیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی ہم نے جس قوم کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لیے ایک معین نوشتہ رہا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      عذاب الٰہی کے مؤخر ہونے کی وجہ: یہ وجہ بیان ہوئی ہے عذاب کے مؤخر ہونے کی۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے مطالبہ کے باوجود ان پر عذاب جو نہیں آ رہا ہے تو یہ تاخیر اللہ تعالیٰ کی ایک سنت پر مبنی ہے۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ وہ کسی قوم پر عذاب بھیجنے سے پہلے اس پر اپنی حجت تمام کرتا ہے۔ اس اتمام حجت کے بعد بھی اگر وہ قوم اپنی سرکشی سے باز نہیں آتی تو لازماً وہ اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے۔ اتمام حجت اور اخلاقی زوال کی وہ حد جس پر پہنچ کر کوئی قوم مستحق عذاب ہو جاتی ہے ایک خدائی نوشتہ میں مرقوم ہے۔ جب اس نوشتہ کی مدت پوری ہو جاتی ہے، قوم ہلاک کر دی جاتی ہے۔ سرمو اس میں فرق واقع نہیں ہوتا۔ نہ اس میں تقدیم ہوتی نہ تاخیر۔

      جاوید احمد غامدی (یہ عذاب کے لیے جلدی نہ مچائیں)۔ ہم نے جس بستی کے لوگوں کو بھی ہلاک کیا ہے، اُس کے لیے ایک مقرر نوشتہ رہا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی کوئی قوم نہ اپنی مدت مقررہ سے آگے بڑھتی نہ پیچھے ہٹتی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      عذاب الٰہی کے مؤخر ہونے کی وجہ: یہ وجہ بیان ہوئی ہے عذاب کے مؤخر ہونے کی۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے مطالبہ کے باوجود ان پر عذاب جو نہیں آ رہا ہے تو یہ تاخیر اللہ تعالیٰ کی ایک سنت پر مبنی ہے۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ وہ کسی قوم پر عذاب بھیجنے سے پہلے اس پر اپنی حجت تمام کرتا ہے۔ اس اتمام حجت کے بعد بھی اگر وہ قوم اپنی سرکشی سے باز نہیں آتی تو لازماً وہ اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے۔ اتمام حجت اور اخلاقی زوال کی وہ حد جس پر پہنچ کر کوئی قوم مستحق عذاب ہو جاتی ہے ایک خدائی نوشتہ میں مرقوم ہے۔ جب اس نوشتہ کی مدت پوری ہو جاتی ہے، قوم ہلاک کر دی جاتی ہے۔ سرمو اس میں فرق واقع نہیں ہوتا۔ نہ اس میں تقدیم ہوتی نہ تاخیر۔

      جاوید احمد غامدی کوئی قوم نہ اپنے مقرر وقت سے آگے بڑھتی ہے نہ پیچھے ہٹتی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور یہ کہتے ہیں کہ اے وہ شخص جس پر یاددہانی اتاری گئی ہے تم تو ایک خبطی ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آنحضرتؐ پر کفار کا طعن اور اس کا جواب: کفار آنحضرت صلعم کو طنزیہ انداز میں خطاب کر کے کہتے کہ اے وہ شخص جو مدعی ہے کہ اس پر خدا کی طرف سے ہمارے لیے یاددہانی اتری ہے تم تو ہمیں ایک خبطی معلوم ہوتے ہو کہ ہمیں تو عذاب کی دھمکی سنا رہے ہو اور اپنے لیے فوز و فلاح کے مدعی ہو درآنحالیکہ ہمارے حالات تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے حالات سے ہزار درجہ بہتر ہیں۔ اگر ہم خدا کے مبغوض و مقہور ہیں اور تم خدا کے محبوب و منظور نظر ہو تو ہم کو یہ نعمتیں کیوں ملی ہوئی ہیں اور تم ان سے کیوں محروم ہو؟ یہ صورت حال تو صاف ظاہر کرتی ہے کہ تم ایک خبطی آدمی ہو اور خبطیوں کی سی باتیں کر رہے ہو اور یہ بھی تمہارا ایک خبط ہی ہے کہ تم مدعی ہو کہ تمہارے پاس فرشتہ آتا ہے۔ اگر فرشتے آتے ہیں اور تم اس دعوے میں سچے ہو تو ان فرشتوں کو تم ہمارے پاس کیوں نہیں لاتے کہ ہم بھی ذرا دیکھیں اور سنیں کہ وہ کیسے ہیں اور کیا کہتے ہیں۔ آخر تمہیں ایسے کیا سرخاب کے پر لگے ہیں کہ وہ تمہارے پاس تو آتے ہیں اور ہمارے پاس نہیں آتے۔

      جاوید احمد غامدی (اِنھیں بھی یہ مہلت اِسی بنا پر دی گئی تو) اِنھوں نے کہہ دیا کہ اے وہ شخص جس پر یہ یاددہانی اتاری گئی ہے، تم یقیناً دیوانے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ بات وہ طنزیہ انداز میں اور اِس معنی میں کہتے تھے کہ تم ہمیں عذاب کی وعیدیں سناتے اور اپنے اور اپنے ساتھیوں کے لیے فوز و فلاح کے دعوے کرتے ہو، یہ سب تمھارا خبط ہے اور اِسی خبط میں تم اِس طرح کی باتیں بھی کرنے لگے ہو کہ تم پر وحی آتی ہے اور فرشتے اترتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اگر تم سچے ہو تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لاتے؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اگر فرشتے آتے ہیں اور تم اس دعوے میں سچے ہو تو ان فرشتوں کو تم ہمارے پاس کیوں نہیں لاتے کہ ہم بھی ذرا دیکھیں اور سنیں کہ وہ کیسے ہیں اور کیا کہتے ہیں۔ آخر تمہیں ایسے کیا سرخاب کے پر لگے ہیں کہ وہ تمہارے پاس تو آتے ہیں اور ہمارے پاس نہیں آتے۔
      ’لَوْمَا تَاْتِیْنَا‘ میں ’لَوْمَا‘ ابھارنے، اکسانے یا مطالبہ کرنے کے مفہوم میں ہے یعنی ’کیوں نہیں ایسا کرتے‘۔ کلام عرب اور قرآن مجید میں اس کی نظیریں موجود ہیں۔

      جاوید احمد غامدی اگر تم سچے ہو تو ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں لے آتے؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی ہم فرشتوں کو نہیں اتارتے مگر فیصلہ کے ساتھ اور اس وقت ان کو مہلت نہیں ملے گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ مذکورہ بالا مطالبہ کا جواب ہے۔ ’حق‘ کے معنی یہاں فیصلہ کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ لوگ اپنی عقل اور سمجھ سے کام لیں اور آفاق و انفس میں جو نشانیاں موجود ہیں اور جن کی طرف قرآن توجہ دلا رہا ہے ان پر غور کریں اور ان کی روشنی میں ایمان لائیں۔ ایمان لانے کے لیے فرشتوں کے اتارے جانے کا مطالبہ نہ کریں۔ فرشتے تو ہم لوگوں پر صرف اس وقت بھیجتے ہیں جب لوگ اندھے بہرے بن جاتے اور عذاب کے سوا ان کے لیے کوئی اور چیز باقی رہ ہی نہیں جاتی۔ اس وقت فرشتے خدا کا فیصلہ لے کر آتے ہیں اور وہ قوم نیست و نابود کر دی جاتی ہے۔ اس کے بعد کسی کو مہلت نہیں ملتی۔

      جاوید احمد غامدی ہم فرشتوں کو صرف فیصلے کے ساتھ اتارتے ہیں اور (جب وہ اتارے جائیں گے تو) اُس وقت اِنھیں مہلت نہیں دی جائے گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اُس وقت اتارتے ہیں، جب کسی قوم کا فیصلہ چکا دینے کا ارادہ کر لیا جاتا ہے۔ اُس وقت صرف فیصلہ چکایا جاتا ہے، یہ مہلت نہیں دی جاتی کہ فرشتوں کو دیکھ رہے ہو تو اب ایمان لے آؤ۔

    • امین احسن اصلاحی یہ یاددہانی ہم ہی نے اتاری ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قرآن کی حفاظت کا ذمہ دار خود خدا ہے: یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو نہایت پرزور الفاظ میں تسکین و تسلی دی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ (قریش) اس قرآن عظیم کی قدر نہیں کر رہے ہیں تو تم اس کا غم نہ کرو۔ یہ کتاب، تمہاری طرف سے کسی طلب و تمنا کے بغیر، ہم ہی نے تم پر اتاری ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ اگر یہ لوگ اس کو رد کر رہے ہیں تو رد کر دیں، خدا اس کے لیے دوسروں کو کھڑا کر دے گا جو اس کو قبول کریں گے اور اس کی دعوت و حفاظت کی راہ میں کسی قربانی سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ یہی مضمون سورۂ انعام میں یوں بیان ہوا ہے:

      ’فَاِنْ یَّکْفُرْ بِھَا ھآؤُلَآءِ فَقَدْ وَکَّلْنَا بِھَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِھَا بِکٰفِرِیْنَ‘(۸۹۔ انعام)
      (اگر یہ لوگ اس کا انکار کر دیں تو تم اس کا غم نہ کرو ہم نے اس پر ایسے لوگوں کو مامور کر رکھا ہے جو اس کا انکار کرنے والے نہیں ہیں)

      مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اس کو قبول کرتے ہیں تو اس میں ان کی اپنی ہی دنیا و آخرت کی سعادت ہے، اور اگر یہ اپنی بدقسمتی اور شامت اعمال سے اس کو رد کر دیتے ہیں تو دوسرے اس کے قبول کرنے کے لیے آگے بڑھیں گے۔ چنانچہ جب قریش نے اس کو قبول کرنے سے انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے انصار کے سینے اس کے لیے کھول دیے، انھوں نے اس کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور اس کی حفاظت کی راہ میں کسی قربانی سے بھی دریغ نہیں کیا۔
      ’اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا‘ میں حصر در حصر کا جو مضمون پایا جاتا ہے اس سے اس حقیقت کا اظہار مقصود ہے کہ یہ کتاب تم نے ہم سے مانگ کے تو لی نہیں ہے کہ تم پر لوگوں سے اس کو قبول کروانے کی ذمہ داری ہو۔ تم پر ذمہ داری صرف تبلیغ و دعوت کی ہے، تم اس کو ادا کر دو۔ رہا اس کتاب کی حفاظت اور اس کے قیام و بقا کا مسئلہ تو یہ ہم سے متعلق ہے، اس کی حفاظت اور اس کے قیام و بقا کا انتظام ہم کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ کن کن شکلوں میں پورا فرمایا، تاریخ میں اس سوال کا پورا جواب موجود ہے۔ اس تفصیل میں جانے کا یہاں موقع نہیں ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی (یہ قرآن کا مذاق اڑاتے ہیں۔ تم مطمئن رہو، اے پیغمبر)، اِس میں شبہ نہیں کہ یہ یاددہانی خود ہم نے اتاری ہے اور ہم ہی اِس کے نگہبان ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ اِن کی یاددہانی کے لیے یہ قرآن تم اپنی طرف سے تصنیف کرکے نہیں لائے ہو۔ یہ ہم نے اتارا ہے اور تمھاری طرف سے بغیر کسی تمنا اور طلب کے اتارا ہے، اِس لیے اِس کی حفاظت بھی ہم ہی کریں گے۔ یہ اِس کو یا اِس کی دعوت کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔ قرآن کے بارے میں یہ اُسی طرح کا وعدہ ہے، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں فرمایا ہے کہ ’وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ*‘۔ یہ وعدہ حرف بہ حرف پورا ہوا اورقرآن کے خلاف اُس کے دشمنوں کی تمام تدبیریں ناکام ہو گئیں۔ وہ نہ کسی کے مٹائے مٹ سکا، نہ دبائے دب سکا، نہ اُس کی قدر و منزلت میں کوئی کمی آئی، نہ اُس کی دعوت میں کوئی رکاوٹ ڈالی جا سکی اور نہ اُس میں تحریف اور ردوبدل کرنے کی کوئی کوشش کبھی کامیاب ہو سکی۔وہ جس طرح دیا گیا، ٹھیک اُسی طرح دنیا کو منتقل ہو گیا۔ یہاں تک کہ اب اُس کے خلاف کچھ کرنا کسی کے لیے ممکن ہی نہیں رہا۔
      _____
      * المائدہ ۵: ۶۷۔ ’’اللہ اِن لوگوں سے تمھاری حفاظت کرے گا۔‘‘

    • امین احسن اصلاحی اور ہم نے تم سے پہلے بھی اگلے گروہوں میں اپنے رسول بھیجے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      انبیاؑء کی سرگزشتوں کا حوالہ: تسکین و تسلی کے مضمون کو مزید مؤکد و مبرہن کرنے کے لیے یہ حضرات انبیاء علیہم السلام کی سرگزشتوں کا حوالہ ہے کہ آج اپنی قوم کی طرف سے جو تجربہ تمہیں ہو رہا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہم نے تم سے پہلے بھی جو رسول پچھلی قوموں میں بھیجے انھیں بھی اپنی اپنی قوموں کی طرف سے انہی حالات سے دوچار ہونا پڑا۔

      جاوید احمد غامدی ہم نے تم سے پہلے بھی بہت سی گزری ہوئی قوموں میں اپنے رسول بھیجے تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی تو جو رسول بھی ان کے پاس آتا وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      انبیاؑء کی سرگزشتوں کا حوالہ: جس طرح آج تمہارا مذاق اڑایا جا رہا ہے اسی طرح تم سے پہلے آنے والے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا۔

      جاوید احمد غامدی (اُن کا طریقہ بھی یہی تھا کہ) اُن کے پاس جو رسول بھی آیا، وہ اُس کا مذاق اڑاتے رہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی ہم مجرموں کے دلوں میں اس کو اسی طرح اتارتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      انبیاؑء کی سرگزشتوں کا حوالہ: اللہ کے رسولوں کی دعوت چیز ہی ایسی ہے کہ نافرمانیوں میں ڈوبے ہوئے مجرمین اس کو ٹھنڈے پیٹوں نہیں برداشت کرتے۔ یہ چیز ان کو تیر و نشتر کی طرح چبھتی ہے اور وہ اس کو اگلنے کے لیے زور لگاتے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی ہم اِس طرح کے مجرموں کے دل میں اِس (دعوت) کو اِسی طرح (تیر و نشتر بنا کر) اتارتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی یہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے اور اگلوں کی سنت گزر چکی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      انبیاؑء کی سرگزشتوں کا حوالہ: چنانچہ یہ تمہاری قوم کے لوگ بھی اس پر ایمان نہیں لائیں گے بلکہ وہی روش انھوں نے اختیار کی ہے جو ان کے پیشرؤوں نے اختیار کی اور لازماً اسی انجام سے بھی دوچار ہوں گے جس سے ان کے پیش رو دوچار ہوئے۔

      جاوید احمد غامدی یہ اِس پر ایمان نہ لائیں گے۔ اِن کے اگلوں سے یہی طریقہ چلا آ رہا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور اگر ہم ان پر آسمان کا کوئی دروازہ بھی کھول دیتے جس میں وہ چڑھنے لگتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      منکرین کے انکار کا اصل سبب: یعنی فرشتوں کا اتارا جانا تو الگ رہا اگر ہم ان کے لیے آسمان میں کوئی دروازہ بھی کھول دیں اور وہ اس میں چڑھنے لگ جائیں جبب بھی وہ ایمان نہ لانے کے لیے کوئی نہ کوئی بہانہ پیدا کر ہی لیں گے۔ کہیں گے ہماری نگاہیں خیرہ کر دی گئی ہیں اور ہماری پوری قوم، مردوں اور عورتوں سب پر، جادو کر دیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے ایمان نہ لانے کا اصل سبب یہ نہیں ہے کہ ان کی طلب کے مطابق ان کو کوئی معجزہ نہیں دکھایا جا رہا ہے بلکہ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ وہ اپنی خواہشات اور اپنے مزعومات میں کوئی تبدیلی قبول کرنے اور استکبار کے سبب سے پیغمبر کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

      جاوید احمد غامدی ہم اِن پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیتے جس میں یہ چڑھنے لگتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی تب بھی یہی کہتے کہ ہماری آنکھیں مدہوش کر دی گئی ہیں بلکہ ہم سب پر جادو کر دیا گیا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      منکرین کے انکار کا اصل سبب: یعنی فرشتوں کا اتارا جانا تو الگ رہا اگر ہم ان کے لیے آسمان میں کوئی دروازہ بھی کھول دیں اور وہ اس میں چڑھنے لگ جائیں جبب بھی وہ ایمان نہ لانے کے لیے کوئی نہ کوئی بہانہ پیدا کر ہی لیں گے۔ کہیں گے ہماری نگاہیں خیرہ کر دی گئی ہیں اور ہماری پوری قوم، مردوں اور عورتوں سب پر، جادو کر دیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے ایمان نہ لانے کا اصل سبب یہ نہیں ہے کہ ان کی طلب کے مطابق ان کو کوئی معجزہ نہیں دکھایا جا رہا ہے بلکہ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ وہ اپنی خواہشات اور اپنے مزعومات میں کوئی تبدیلی قبول کرنے اور استکبار کے سبب سے پیغمبر کی بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

      جاوید احمد غامدی تب بھی یہی کہتے کہ ہماری آنکھیں دھندلا گئی ہیں، بلکہ ہم سب لوگوں پر جادو کر دیا گیا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور ہم نے آسمان میں برج بنائے اور دیدۂ بینا رکھنے والوں کے لیے اس کو مزین کیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آسمانی نشانیوں کی طرف اشارہ ۔۔۔ شہاب ثاقب کا کام: ’برج‘ کے معنی قلعہ اور محل کے ہیں۔ یہاں اس سے مراد وہ آسمانی قلعے ہیں جو خدا نے آسمانوں میں بنائے ہیں، جن میں اس کے ملائکہ اور کروبیوں کی فوجیں برابر مامور رہتی اور ان حدود اور دائروں کی نگرانی کرتی ہیں جن سے آگے بڑھنے کی اجازت نہ شیاطین انس کو ہے اور نہ شیاطین جن کو اور اگر کوئی شیطان ملاء اعلیٰ کی باتوں کی کچھ سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے تو ایک دمکتا شہاب اس کا تعاقب کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح ایک قلعہ کی برجیوں پر مامور سپاہی دشمن کے آدمیوں پر کڑی نگاہ رکھتے ہیں، کسی اجنبی کو اپنے حدود کے اندر لانگنے کا موقع نہیں دیتے، اسی طرح خدا کے مامور ملائکہ ان شیاطین جن کو شہاب ثاقب کا نشانہ بناتے ہیں جو ان کے حدود میں ٹوہ لگانے کے لیے دراندازی کی کوشش کرتے ہیں۔ اس سے ضمناً اس کہانت کی بالکل بنیاد ہی ڈھے جاتی ہے جس کا عہد جاہلیت میں بڑا رواج تھا اور جس کی آڑ میں کاہن لوگ غیب دانی کے دعوے کر کے سادہ لوح عوام کو بے وقوف بناتے تھے۔ قرآن نے یہ واضح کر دیا کہ ملاء اعلیٰ کے دائروں تک شیاطین کو رسائی حاصل نہیں ہے اور اگر وہ چوری چھپے کان لگانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ شہاب کی سنگ باری کا ہدف بنتے ہیں۔ اسی پہلو سے یہاں شیطان کی صفت ’رَجِیْم‘ آئی ہے اس لیے کہ ’رَجِیْم‘ کے معنی سنگ سار کردہ کے ہیں اور لفظ ’کلّ‘ اس حقیقت کو ظاہر کر رہا ہے کہ بڑے سے بڑا شیطان بھی بہرحال خدا کے محفوظ کیے ہوئے حدود میں داخل نہیں ہو سکتا۔
      جس چیز کو عرف عام میں ستاروں کا ٹوٹنا کہتے ہیں موجودہ سائنس اس کی جو توجیہ بھی کرے اس سے قرآن کی بیان کردہ اس حقیقت کی تردید نہیں ہوتی اس لیے کہ سائنس کی رسائی کسی چیز کے صرف ظاہری اسباب و علل ہی تک ہے۔ قدرت الٰہی ان شہابوں سے کیا کیا کام لیتی ہے یہ بتانا سائنس کے بس سے باہر ہے۔ اس کو صرف اللہ تعالیٰ ہی بتا سکتا ہے اور اس کی باتوں کو جاننے کا واحد ذریعہ وحی الٰہی اور قرآن ہے۔
      یہ مضمون یہاں ضمناً آ گیا ہے۔ آیت کا اصل مقصود، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، آسمان و زمین کی ان نشانیوں کی طرف توجہ دلانا ہے جو اس کائنات کے گوشے گوشے میں پھیلی ہوئی ہیں اور ان میں سے ہر نشانی ان باتوں کی تصدیق کر رہی ہے جن کی قرآن اور پیغمبرؑ خبر دے رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جن کے اندر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت موجود ہے ان کے لیے تو آسمان بھی نشانیوں سے معمور ہے اور زمین بھی لیکن جن کی آنکھیں بند ہیں وہ ان نشانیوں سے رہنمائی حاصل کرنے کے بجائے معجزوں کے مطالبے کرتے ہیں اور اگر کوئی بڑے سے بڑا معجزہ بھی ان کو دکھا دیا جائے جب بھی، جیسا کہ اوپر اشارہ فرمایا، یہ اندھے ہی بنے رہیں گے۔
      نظم کلام کے پہلو سے یہاں خاص توجہ ’وَزَیَّنّٰھَا لِلنّٰظِرِیْنَ‘ کے ٹکڑے پر ہونی چاہیے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کی آنکھیں کھلی ہوئی ہوں تو اس کے لیے اس دنیا میں معجزات کی کمی نہیں ہے۔ وہ آسمان کو دیکھے۔ قدرت نے اس کو ستاروں اور سیاروں، چاند اور سورج، شفق اور قوس قزح اور دوسرے بے شمار گوناگوں و بوقلموں عجائب سے کس طرح سنوارا ہے کہ جس طرف بھی نگاہ اٹھتی ہے انسان حیران و ششدر ہو کے رہ جاتا ہے اور پکار اٹھتا ہے کہ ’رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا‘ کہ یہ کسی کھلنڈرے کا کھیل اور کسی اتفاقی حادثہ کے طور پر ظہور میں آ جانے والی چیز نہیں ہے بلکہ یہ ایک حکیم و علیم اور ایک بے پناہ قدرت و حکمت کے مالک کی بنائی ہوئی دنیا ہے۔ اس کی قدرت و حکمت کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ وہ اس کو پیدا کر کے یوں ہی چھوڑ نہ دے بلکہ یہ لازم ہے کہ وہ ایک ایسا دن بھی لائے جس میں وہ سب کو اکٹھا کر کے ان کے اعمال نیک و بد کا حساب کرے اور ان کے اعمال کے مطابق ان کو جزا یا سزا دے۔

      جاوید احمد غامدی (یہ دیکھیں تو سہی)، ہم نے آسمان میں مضبوط قلعے بنائے ہیں اور اُس کو دیکھنے والوں کے لیے رونق دی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے مراد وہ آسمانی قلعے ہیں جن میں خدا کے ملائکہ اور کروبیوں کی فوجیں اُن سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت مامور رہتی ہیں جن سے آگے کسی جن یا انسان کو بڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور ہر شیطان مردود کی دراندازی سے اس کو محفوظ کیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آسمانی نشانیوں کی طرف اشارہ ۔۔۔ شہاب ثاقب کا کام: ’برج‘ کے معنی قلعہ اور محل کے ہیں۔ یہاں اس سے مراد وہ آسمانی قلعے ہیں جو خدا نے آسمانوں میں بنائے ہیں، جن میں اس کے ملائکہ اور کروبیوں کی فوجیں برابر مامور رہتی اور ان حدود اور دائروں کی نگرانی کرتی ہیں جن سے آگے بڑھنے کی اجازت نہ شیاطین انس کو ہے اور نہ شیاطین جن کو اور اگر کوئی شیطان ملاء اعلیٰ کی باتوں کی کچھ سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے تو ایک دمکتا شہاب اس کا تعاقب کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح ایک قلعہ کی برجیوں پر مامور سپاہی دشمن کے آدمیوں پر کڑی نگاہ رکھتے ہیں، کسی اجنبی کو اپنے حدود کے اندر لانگنے کا موقع نہیں دیتے، اسی طرح خدا کے مامور ملائکہ ان شیاطین جن کو شہاب ثاقب کا نشانہ بناتے ہیں جو ان کے حدود میں ٹوہ لگانے کے لیے دراندازی کی کوشش کرتے ہیں۔ اس سے ضمناً اس کہانت کی بالکل بنیاد ہی ڈھے جاتی ہے جس کا عہد جاہلیت میں بڑا رواج تھا اور جس کی آڑ میں کاہن لوگ غیب دانی کے دعوے کر کے سادہ لوح عوام کو بے وقوف بناتے تھے۔ قرآن نے یہ واضح کر دیا کہ ملاء اعلیٰ کے دائروں تک شیاطین کو رسائی حاصل نہیں ہے اور اگر وہ چوری چھپے کان لگانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ شہاب کی سنگ باری کا ہدف بنتے ہیں۔ اسی پہلو سے یہاں شیطان کی صفت ’رَجِیْم‘ آئی ہے اس لیے کہ ’رَجِیْم‘ کے معنی سنگ سار کردہ کے ہیں اور لفظ ’کلّ‘ اس حقیقت کو ظاہر کر رہا ہے کہ بڑے سے بڑا شیطان بھی بہرحال خدا کے محفوظ کیے ہوئے حدود میں داخل نہیں ہو سکتا۔
      جس چیز کو عرف عام میں ستاروں کا ٹوٹنا کہتے ہیں موجودہ سائنس اس کی جو توجیہ بھی کرے اس سے قرآن کی بیان کردہ اس حقیقت کی تردید نہیں ہوتی اس لیے کہ سائنس کی رسائی کسی چیز کے صرف ظاہری اسباب و علل ہی تک ہے۔ قدرت الٰہی ان شہابوں سے کیا کیا کام لیتی ہے یہ بتانا سائنس کے بس سے باہر ہے۔ اس کو صرف اللہ تعالیٰ ہی بتا سکتا ہے اور اس کی باتوں کو جاننے کا واحد ذریعہ وحی الٰہی اور قرآن ہے۔
      یہ مضمون یہاں ضمناً آ گیا ہے۔ آیت کا اصل مقصود، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، آسمان و زمین کی ان نشانیوں کی طرف توجہ دلانا ہے جو اس کائنات کے گوشے گوشے میں پھیلی ہوئی ہیں اور ان میں سے ہر نشانی ان باتوں کی تصدیق کر رہی ہے جن کی قرآن اور پیغمبرؑ خبر دے رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جن کے اندر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت موجود ہے ان کے لیے تو آسمان بھی نشانیوں سے معمور ہے اور زمین بھی لیکن جن کی آنکھیں بند ہیں وہ ان نشانیوں سے رہنمائی حاصل کرنے کے بجائے معجزوں کے مطالبے کرتے ہیں اور اگر کوئی بڑے سے بڑا معجزہ بھی ان کو دکھا دیا جائے جب بھی، جیسا کہ اوپر اشارہ فرمایا، یہ اندھے ہی بنے رہیں گے۔
      نظم کلام کے پہلو سے یہاں خاص توجہ ’وَزَیَّنّٰھَا لِلنّٰظِرِیْنَ‘ کے ٹکڑے پر ہونی چاہیے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کی آنکھیں کھلی ہوئی ہوں تو اس کے لیے اس دنیا میں معجزات کی کمی نہیں ہے۔ وہ آسمان کو دیکھے۔ قدرت نے اس کو ستاروں اور سیاروں، چاند اور سورج، شفق اور قوس قزح اور دوسرے بے شمار گوناگوں و بوقلموں عجائب سے کس طرح سنوارا ہے کہ جس طرف بھی نگاہ اٹھتی ہے انسان حیران و ششدر ہو کے رہ جاتا ہے اور پکار اٹھتا ہے کہ ’رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا‘ کہ یہ کسی کھلنڈرے کا کھیل اور کسی اتفاقی حادثہ کے طور پر ظہور میں آ جانے والی چیز نہیں ہے بلکہ یہ ایک حکیم و علیم اور ایک بے پناہ قدرت و حکمت کے مالک کی بنائی ہوئی دنیا ہے۔ اس کی قدرت و حکمت کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ وہ اس کو پیدا کر کے یوں ہی چھوڑ نہ دے بلکہ یہ لازم ہے کہ وہ ایک ایسا دن بھی لائے جس میں وہ سب کو اکٹھا کر کے ان کے اعمال نیک و بد کا حساب کرے اور ان کے اعمال کے مطابق ان کو جزا یا سزا دے۔

      جاوید احمد غامدی اور ہر شیطان مردود (کی در اندازی) سے اُس کو محفوظ کر دیا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’رَجِیْم‘ آیا ہے۔ شیطان کے لیے یہ صفت اُس سنگ باری کا ہدف بن جانے کی رعایت سے آئی ہے جس کا ذکر آگے ہوا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اگر کوئی سن گن لینے کے لیے چوری چھپے کان لگاتا ہے تو ایک دمکتا شہاب اس کا تعاقب کرتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آسمانی نشانیوں کی طرف اشارہ ۔۔۔ شہاب ثاقب کا کام: ’برج‘ کے معنی قلعہ اور محل کے ہیں۔ یہاں اس سے مراد وہ آسمانی قلعے ہیں جو خدا نے آسمانوں میں بنائے ہیں، جن میں اس کے ملائکہ اور کروبیوں کی فوجیں برابر مامور رہتی اور ان حدود اور دائروں کی نگرانی کرتی ہیں جن سے آگے بڑھنے کی اجازت نہ شیاطین انس کو ہے اور نہ شیاطین جن کو اور اگر کوئی شیطان ملاء اعلیٰ کی باتوں کی کچھ سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے تو ایک دمکتا شہاب اس کا تعاقب کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح ایک قلعہ کی برجیوں پر مامور سپاہی دشمن کے آدمیوں پر کڑی نگاہ رکھتے ہیں، کسی اجنبی کو اپنے حدود کے اندر لانگنے کا موقع نہیں دیتے، اسی طرح خدا کے مامور ملائکہ ان شیاطین جن کو شہاب ثاقب کا نشانہ بناتے ہیں جو ان کے حدود میں ٹوہ لگانے کے لیے دراندازی کی کوشش کرتے ہیں۔ اس سے ضمناً اس کہانت کی بالکل بنیاد ہی ڈھے جاتی ہے جس کا عہد جاہلیت میں بڑا رواج تھا اور جس کی آڑ میں کاہن لوگ غیب دانی کے دعوے کر کے سادہ لوح عوام کو بے وقوف بناتے تھے۔ قرآن نے یہ واضح کر دیا کہ ملاء اعلیٰ کے دائروں تک شیاطین کو رسائی حاصل نہیں ہے اور اگر وہ چوری چھپے کان لگانے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ شہاب کی سنگ باری کا ہدف بنتے ہیں۔ اسی پہلو سے یہاں شیطان کی صفت ’رَجِیْم‘ آئی ہے اس لیے کہ ’رَجِیْم‘ کے معنی سنگ سار کردہ کے ہیں اور لفظ ’کلّ‘ اس حقیقت کو ظاہر کر رہا ہے کہ بڑے سے بڑا شیطان بھی بہرحال خدا کے محفوظ کیے ہوئے حدود میں داخل نہیں ہو سکتا۔
      جس چیز کو عرف عام میں ستاروں کا ٹوٹنا کہتے ہیں موجودہ سائنس اس کی جو توجیہ بھی کرے اس سے قرآن کی بیان کردہ اس حقیقت کی تردید نہیں ہوتی اس لیے کہ سائنس کی رسائی کسی چیز کے صرف ظاہری اسباب و علل ہی تک ہے۔ قدرت الٰہی ان شہابوں سے کیا کیا کام لیتی ہے یہ بتانا سائنس کے بس سے باہر ہے۔ اس کو صرف اللہ تعالیٰ ہی بتا سکتا ہے اور اس کی باتوں کو جاننے کا واحد ذریعہ وحی الٰہی اور قرآن ہے۔
      یہ مضمون یہاں ضمناً آ گیا ہے۔ آیت کا اصل مقصود، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، آسمان و زمین کی ان نشانیوں کی طرف توجہ دلانا ہے جو اس کائنات کے گوشے گوشے میں پھیلی ہوئی ہیں اور ان میں سے ہر نشانی ان باتوں کی تصدیق کر رہی ہے جن کی قرآن اور پیغمبرؑ خبر دے رہے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جن کے اندر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت موجود ہے ان کے لیے تو آسمان بھی نشانیوں سے معمور ہے اور زمین بھی لیکن جن کی آنکھیں بند ہیں وہ ان نشانیوں سے رہنمائی حاصل کرنے کے بجائے معجزوں کے مطالبے کرتے ہیں اور اگر کوئی بڑے سے بڑا معجزہ بھی ان کو دکھا دیا جائے جب بھی، جیسا کہ اوپر اشارہ فرمایا، یہ اندھے ہی بنے رہیں گے۔
      نظم کلام کے پہلو سے یہاں خاص توجہ ’وَزَیَّنّٰھَا لِلنّٰظِرِیْنَ‘ کے ٹکڑے پر ہونی چاہیے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کی آنکھیں کھلی ہوئی ہوں تو اس کے لیے اس دنیا میں معجزات کی کمی نہیں ہے۔ وہ آسمان کو دیکھے۔ قدرت نے اس کو ستاروں اور سیاروں، چاند اور سورج، شفق اور قوس قزح اور دوسرے بے شمار گوناگوں و بوقلموں عجائب سے کس طرح سنوارا ہے کہ جس طرف بھی نگاہ اٹھتی ہے انسان حیران و ششدر ہو کے رہ جاتا ہے اور پکار اٹھتا ہے کہ ’رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا‘ کہ یہ کسی کھلنڈرے کا کھیل اور کسی اتفاقی حادثہ کے طور پر ظہور میں آ جانے والی چیز نہیں ہے بلکہ یہ ایک حکیم و علیم اور ایک بے پناہ قدرت و حکمت کے مالک کی بنائی ہوئی دنیا ہے۔ اس کی قدرت و حکمت کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ وہ اس کو پیدا کر کے یوں ہی چھوڑ نہ دے بلکہ یہ لازم ہے کہ وہ ایک ایسا دن بھی لائے جس میں وہ سب کو اکٹھا کر کے ان کے اعمال نیک و بد کا حساب کرے اور ان کے اعمال کے مطابق ان کو جزا یا سزا دے۔

      جاوید احمد غامدی الاّ یہ کہ سن گن لینے کے لیے چوری چھپے کوئی کان لگائے ۔ پھر ایک روشن شعلہ اُس کا تعاقب کرتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے غالباً وہی شعلے مراد ہیں جنھیں ہم اپنی اصطلاح میں شہاب ثاقب کہتے ہیں۔ مدعا یہ ہے کہ تم پیغمبر سے معجزے مانگتے ہو۔ رات کو کبھی کھلے میدان میں کھڑے ہو کر آسمان پر نظر ڈالو، اُس کی وسعتوں میں چمکتے ہوئے تارے اور اُن سے ٹوٹتے ہوئے شہاب تمھارے سامنے خدا کی عظمت اور اُس کے جلال و جمال کا ایسا منظر پیش کریں گے کہ حیران و ششدر ہو کر رہ جاؤ گے اور بے اختیار پکار اٹھو گے کہ ’رَبَّنَا، مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلاً*‘۔ اِس سے ضمناً یہ بات بھی واضح ہوئی کہ خدا کی بات صرف اُس کے ملائکہ لا سکتے ہیں، اُسے کوئی جن یا انسان زمین سے صعود کرکے اور ملاء اعلیٰ کے حدود میں داخل ہو کر اپنے طور پر حاصل نہیں کر سکتا۔ جو کاہن، جوگی، عامل اور صوفی اِس کے دعوے کرتے ہیں، وہ سب فریب نفس میں مبتلا ہیں۔ اُن کے علوم اور ذرائع ، سب زمینی ہیں اور اُن کی مدد سے وہ اتنا ہی جان سکتے ہیں، جتنا زمین کے حدود میں پہنچا دیا گیا ہے۔
      _____
      * آل عمران ۳: ۱۹۱۔ ’’پروردگار، تو نے یہ سب بے مقصد نہیں بنایا ہے۔‘‘

    • امین احسن اصلاحی اور زمین کو ہم نے بچھایا اور ہم نے اس میں پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے اور اس میں ہر قسم کی چیزیں تناسب کے ساتھ اگائیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      زمین کی نشانیوں کی طرف اشارہ: آسمان کی نشانیوں کی طرف توجہ دلانے کے بعد یہ زمین کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی کہ جس طرح آسمان خدا کی نشانیوں سے معمور ہے اسی طرح زمین بھی اس کی نشانیوں سے معمور ہے۔ آسمان اوپر شامیانے کی طرح، چمکتے ہوئے قمقموں کے ساتھ، تنا ہوا ہے اور زمین نیچے، اپنی گوناگوں و بوقلموں نباتات کے ساتھ، فرش کی طرح بچھی ہوئی ہے اور یہ خدائے قادر و قیوم ہی کی قدرت و حکمت ہے کہ اس کے اندر اس نے پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے ہیں جو اس کے توازن کو برقرار رکھے ہوئے ہیں ورنہ، جیسا کہ دوسرے مقام میں فرمایا ہے، یہ ساری مخلوق سمیت کسی ایک جانب کو لڑھک پڑتی۔
      ’وَاَنْبَتْنَا فِیْھَا مِنْ کُلِّ شَیْءٍٍ مَّوْزُوْنٍ‘ سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ خدا نے اس میں جو چیز بھی پیدا کی ہے ایک خاص توازن و تناسب کے ساتھ پیدا کی ہے اور اسی توازن و تناسب کی برکت سے یہ انسان کی رہائش اور تمدن و معیشت کے لیے سازگار ہوئی ہے۔ ورنہ جیسا کہ آگے ارشاد ہوا ہے، خدا کے خزانوں میں کسی چیز کی بھی کمی نہیں تھی، وہ اگر کسی چیز کو بھی اس کی حد مطلوب و معین سے متجاوز ہو جانے کے لیے چھوڑ دیتا تو اس زمین کا سارا نظام درہم برہم ہو کے رہ جاتا اور انسانوں کے بجائے اس میں کوئی اور ہی مخلوق آباد ہوتی یا یہ بالکل غیر آباد ہو کے رہ جاتی۔

      جاوید احمد غامدی ہم نے زمین کو بچھایا، (اُس کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے) اُس میں پہاڑوں کے لنگر ڈال دیے، ہر قسم کی چیزیں ایک تناسب کے ساتھ اُس میں اگا دیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور ہم نے اس میں تمہاری معیشت کے سامان بھی رکھے اور ان کی معیشت کے بھی جن کو تم روزی نہیں دیتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      نظام ربوبیت کی طرف اشارہ: اس میں زبان کے معروف قاعدے کے مطابق ایک جگہ حرف جر کو محذوف کر دیا گیا ہے ’وَمَنْ لَّسْتُمْ‘ دراصل ’وَلِمَنْ لَّسْتُمْ‘ ہے۔ آسمان و زمین کی نشانیوں کی طرف توجہ دلانے کے بعد یہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نظام ربوبیت کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اس زمین میں اس نے انسان کے لیے بھی ضرورت کی وہ ساری چیزیں پیدا کی ہیں جن کا وہ اپنی زندگی کے بقا اور اس کی رفاہیت کے لیے محتاج ہے اور ان چیزوں کے لیے بھی زندگی کا سامان کیا ہے جن کے رزق کی کوئی ذمہ داری انسان پر نہیں ہے اگرچہ وہ انسان کے کام آنے والی ہیں اور انسان مختلف پہلوؤں سے ان سے فائدہ اٹھاتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور اُس میں تمھاری معیشت کے اسباب بھی فراہم کر دیے اور اُن کی معیشت کے بھی جنھیں تم روزی نہیں دیتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’وَمَنْ لَّسْتُمْ لَہٗ بِرٰزِقِیْنَ‘۔ اِن میں حرف جر کو عربیت کے قاعدے سے ایک جگہ حذف کر دیا ہے۔ چنانچہ ’مَنْ لَّسْتُمْ‘ درحقیقت ’ولمن لستم‘ ہے۔ ہم نے ترجمہ اِسی کے لحاظ سے کیا ہے۔

    Join our Mailing List