Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 52 آیات ) Ibrahim Ibrahim
Go
  • ابراہیم (Abraham)

    52 آیات | مکی

    سورہ کا عمود

    سورۂ رعد کی آیات ’اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُھَا مِنْ اَطْرَافِھَا‘ الایہ میں قریش کو جو دھمکی اور مسلمانوں کو جو بشارت، اشارہ اور کنایہ کے انداز میں، دی گئی تھی اس سورہ میں وہ کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ قریش پر یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ آج مکہ کی سرزمین پر حق و باطل میں جو کشمکش برپا ہے اس میں تم جس کلمۂ باطل کے علم بردار ہو اس کی کوئی بنیاد نہ زمین میں ہے نہ آسمان میں۔ اس کی مثال گھورے پر اگے ہوئے ایک شجرۂ خبیثہ کی ہے جو بیک جنبش اکھاڑ کر پھینکا جا سکتا ہے۔ اگر یہ اب تک برقرار رہا تو اس وجہ سے نہیں کہ وہ کوئی مضبوط جڑ رکھتا تھا بلکہ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ اس کو اکھاڑنے والے ہاتھ موجود نہیں تھے۔ اب اللہ نے وہ ہاتھ نمودار کر دیے ہیں تو تم دیکھو گے کہ کتنی جلدی اس کا قصہ پاک ہوا جاتا ہے۔ اس کے بالمقابل اسلام کی دعوت کی تمثیل اس سدا بہار شجرۂ طیبہ سے دی گئی ہے جس کی جڑیں پاتال میں اتری ہوئی اور جس کی شاخیں فضائے آسمانی میں پھیلی ہوئی ہوں۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو دنیا میں بھی مضبوط و مستحکم کرے گا اور آخرت میں بھی ان کو سرخروئی بخشے گا بشرطیکہ وہ صبر و استقامت کے ساتھ اپنی دعوت حق پر جمے رہے اور اس راہ میں پیش آنے والی آزمائشوں کا انھوں نے اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے مقابلہ کیا۔
    اس حقیقت کو تاریخ کی روشنی میں واضح کرنے کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور دوسرے انبیاؑء کی سرگزشتوں کے ان پہلوؤں کی طرف اس میں اشارات ہیں جن سے اصل مدعا کی تائید ہوتی ہے۔ آخر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سرگزشت کا حوالہ دے کر یہ واضح فرمایا ہے کہ وہ کس مقصد کے لیے اپنے وطن سے ہجرت کر کے اس وادئ غیر ذی زرع میں آئے تھے، اس سرزمین کے لیے انھوں نے کیا دعا کی، اس میں اپنی اولاد کو بساتے ہوئے ان کے دل میں کیا ارمان تھے اور انھوں نے اپنے رب سے ان کے لیے کیا چاہا اور کیا مانگا تھا۔ یہ باتیں سنانے سے مقصود قریش کے سامنے ان کی اپنی تاریخ کا آئینہ رکھ دینا ہے تاکہ وہ اندازہ کر سکیں کہ ان کو کیا بننا تھا اور وہ کیا بن کے رہ گئے ہیں۔

  • ابراہیم (Abraham)

    52 آیات | مکی

    ابرٰھیم —— الحجر

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں جس چیز کے لیے قریش کو تنبیہ و تہدید ہے، دوسری میں اُسی کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ مطمئن رہو، یہ قرآن بجاے خود ایک واضح حجت ہے، یہ نہیں مانتے تو اِنھیں اِن کے حال پر چھوڑ و، وہ وقت اب جلد آنے والا ہے، جب یہ آرزوئیں کریں گے کہ اے کاش، ہم نے یہ رویہ اختیار نہ کیا ہوتا۔

    دونوں کا موضوع وہی انذار و بشارت ہے جو پچھلی سورتوں سے چلا آ رہا ہے۔ اتنا فرق، البتہ ہوا ہے کہ نتائج کا بیان زیادہ صریح ہو گیا ہے اور فہمایش تنبیہ، ملامت اور زجر و توبیخ میں تبدیل ہو گئی ہے۔

    دونوں سورتوں میں خطاب اصلاً قریش ہی سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی یہ الٓرٰ ہے۔ یہ کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف اس لیے اتاری ہے کہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لاؤ۔ ان کے رب کے اذن سے۔ خدائے عزیز و حمید کے راستہ کی طرف۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’الٓرٰ‘۔ حرف مقطعات پر جامع بحث سورۂ بقرہ کے شروع میں ملاحظہ فرمائیے۔
      ’کِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَیْکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ‘۔
      ’ظلمٰت‘ اور ’نور‘ سے مراد: ’ظُلُمٰت‘ سے مراد عقائد و اعمال کی تاریکیاں اور ’نُوْر‘ سے مراد ایمان و عمل صالح کی روشنی ہے۔ گمراہی کے ہزاروں راستے ہیں لیکن ہدایت کی راہ ایک ہی ہے اس وجہ سے ظلمات جمع ہے اور نور واحد۔
      ہدایت خدا کی توفیق بخشی پر منحصر ہے: ’بِاِذْنِ رَبِّھِمْ‘ یعنی یہ تاریکیوں سے نکل کر روشنی کی طرف آنا جن کو بھی میسر ہو گا خدا کی توفیق بخشی ہی سے میسر ہو گا۔ وہی اپنی سنت کے مطابق جن کو ہدایت کا اہل پائے گا ان کو ہدایت بخشے گا اور جن کو اس کا اہل نہیں پائے گا ان کو ان کی گمراہی میں بھٹکتا چھوڑ دے گا۔ مطلب یہ ہے کہ پیغمبر کی ذمہ داری اس معاملے میں صرف تبلیغ و دعوت کی ہے۔ لوگوں کو ہدایت کی راہ پر لا کھڑے کرنا اس کی ذمہ داری ہی نہیں ہے۔
      ’عَزِیْز‘ اور ’حَمِیْد‘ کا مفہوم: ’اِلٰی صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ‘ یہ ’نور‘ کی وضاحت فرما دی گئی ہے کہ اس سے مراد وہ راستہ ہے جو خدائے عزیز و حمید کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ ’عَزِیْز‘ یعنی سب پر غالب و مقتدر، اس وجہ سے وہی سزاوار ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔ ’حَمِیْد‘ یعنی تمام جود و کرم کا منبع، اس وجہ سے وہی حق دار ہے کہ اس کی حمد کی جائے اور اس سے امیدیں باندھی جائیں۔

      جاوید احمد غامدی یہ سورۂ ’الٓرٰ‘ ہے۔ یہ کتاب ہے جو ہم نے تمھاری طرف اتاری ہے، اِس لیے کہ تم لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لے آؤ،اُن کے پروردگار کے اذن سے، اُس خدا کے راستے کی طرف جو زبردست ہے، اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس نام کے معنی کیا ہیں؟ اِس کے متعلق ہم نے اپنا نقطۂ نظر سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۱ کے تحت تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔
      اصل میں ’ظُلُمٰت‘ اور ’نُوْر‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن میں ’نُوْر‘ واحد اور ’ظُلُمٰت‘ جمع ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ گمراہی ہزارراستوں سے آتی ہے، مگر ہدایت کا راستہ ایک ہی ہے جسے قرآن صراط مستقیم سے تعبیر کرتا ہے۔
      یہ اِس لیے فرمایا ہے کہ ہدایت کی توفیق خدا کے اذن سے ملتی ہے اور یہ اذن اُنھی لوگوں کو حاصل ہوتا ہے جو اپنے آپ کو اِس کا اہل ثابت کر دیتے ہیں۔
      چنانچہ وہی سزاوار ہے کہ اُس سے ڈرا جائے اور وہی حق دار ہے کہ اُس کی حمد کی جائے اور اُس سے امیدیں باندھی جائیں۔

    • امین احسن اصلاحی اس اللہ کے راستہ کی طرف جو آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب کا مالک ہے اور کافروں کے لیے ایک عذاب شدید کی تباہی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      دنیوی مفادات ہدایت کے لیے حجاب: یعنی اس خدا کے راستہ کی طرف جو تنہا آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا مالک ہے۔ اس وجہ سے جو لوگ آج اپنے مزعومہ شریکوں کے اعتماد پر اس صحیفہ ہدایت کا انکار کر رہے ہیں وہ اپنے لیے ایک عذاب شدید کی تباہی کو دعوت دے رہے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی وہی اللہ کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے، سب اُسی کا ہے۔ (سو) اُن کے لیے جو (اِس کتاب کے) منکر ہیں، ایک عذاب شدید کی تباہی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی ان کے لیے جو دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور اس میں کجی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ بہت دور کی گمراہی میں ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’الَّذِیْنَ یَسْتَحِبُّوْنَ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا عَلَی الْاٰخِرَۃِ‘ یہ ان کے اصل سبب انکار سے پردہ اٹھایا گیا ہے کہ باتیں تو وہ جو چاہیں بنا لیں لیکن اصل چیز جو ان کے اور اس صحیفۂ ہدایت کے درمیان حجاب بنی ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ وہ آخرت کی خاطر اپنے دنیوی مفادات قربان کرنے کو تیار نہیں ہیں، ’وَیَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ‘ چنانچہ وہ خود بھی اللہ کی راہ سے روگردان ہیں اور دوسروں کو بھی، جہاں تک ان کا زور چلتا ہے، اس سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ’وَیَبْغُوْنَھَا عِوَجًا‘ یعنی خدائے عزیز و حمید کی طرف لے جانے والی سیدھی راہ کو کج کر کے اپنے مزعومہ معبودوں کی طرف موڑ رہے ہیں اور لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ خدا تک اگر پہنچا جا سکتا ہے تو انہی پرپیچ پگ ڈنڈیوں سے ہو کر پہنچا جا سکتا ہے۔ ’اُولٰٓءِکَ فِیْ ضَلٰلٍم بَعِیْدٍ‘ یعنی اپنی ان حرکتوں کے سبب سے وہ اصل شاہراہ سے بھٹک کر بہت دور نکل گئے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی (اُن کے لیے) جو دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں اور خدا کے راستے سے روکتے ہیں اور اُس میں ٹیڑھ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ بہت دور کی گمراہی میں ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اُس کو خدا کے بجاے اپنے ٹھیراے ہوئے معبودوں کی طرف موڑ دینا چاہتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور ہم نے جو رسول بھی بھیجا اس کی قوم کی زبان میں بھیجا تاکہ وہ ان پر اچھی طرح واضح کر دے۔ پس اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ عزیز و حکیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ہدایت و ضلالت کے باب میں سنت الٰہی: یہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس احسان کا اظہار فرمایا ہے جو اس صحیفۂ ہدایت کو عربی میں اور رسولؐ کو خود ان کی قوم کے اندر سے مبعوث فرما کر اس نے ان کے اوپر کیا ہے اور مقصود اس سے ان کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کرنا ہے کہ انھیں اللہ کی اس نعمت کی قدر کرنی چاہیے کہ اس نے انہی کے اندر سے ایک فرد کے ذریعہ سے انہی کی زبان میں اپنا صحیفہ اتارا تاکہ وہ اللہ کی ہدایت کو لوگوں پر اچھی طرح واضح کر دے۔ ’فَیُضِلُّ اللّٰہُ مَنْ یَّشَآءُ وَیَھْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ‘۔ یہ ہدایت و ضلالت کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت واضح فرما دی ہے کہ وہی جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے۔ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی ہے کہ تمہارا کام اللہ کی باتوں کو اچھی طرح واضح کر دینا ہے وہ تم نے کر دیا ہے اور کر رہے ہو، رہا لوگوں کا ایمان لانا یا نہ لانا تو یہ خدا کی مشیت پر منحصر ہے اور خدا عزیز و حکیم ہے۔ یعنی اس کی ہر مشیت اس کی حکمت کے ساتھ ہے۔ جو لوگ اس کی حکمت کے تحت ہدایت پانے کے مستحق ٹھہریں گے وہ ہدایت پائیں گے اور جو لوگ اس کے مستحق نہیں ٹھہریں گے وہ اس سے محروم رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کے اندر جو صلاحیتیں ودیعت فرمائی ہیں اگر ایک شخص ان سے فائدہ اٹھاتا ہے تو وہ مزید توفیق کا سزاوار قرار پاتا ہے اور اگر کوئی شخص ان کی قدر نہیں کرتا تو مزید پانا تو الگ رہا جو اس کو دی گئی ہوتی ہیں وہ بھی اس سے سلب ہو جاتی ہیں۔ اس سنت الٰہی کی وضاحت ہم ایک سے زیادہ مقامات میں کر چکے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی (اِن کے لیے یہ کتاب اِن کی زبان میں اتاری گئی ہے) اور (ہمارا طریقہ یہی ہے کہ) ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے، اُس کی قوم کی زبان میں بھیجا ہے، اِس لیے کہ وہ اُنھیں اچھی طرح کھول کر سمجھا دے۔ پھر اللہ جس کو چاہتا ہے، (اپنے قانون کے مطابق) گمراہ کر دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے، ہدایت دیتا ہے۔ وہ زبردست ہے، بڑی حکمت والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اپنے اِس قانون کے مطابق کہ جو ہدایت کے مستحق ہیں، اُنھیں ہدایت دی جائے اور جو گمراہی چاہتے ہیں، اُنھیں اُسی کے اندھیروں میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا جائے۔

    • امین احسن اصلاحی اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے روشنی کی طرف نکالو اور ان کو خدا کے یادگار ایام یاد دلاؤ، بے شک ان کے اندر ثابت قدم رہنے والوں اور شکر کرنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’بِاٰیٰتِنَا‘ یعنی عصا اور ید بیضا وغیرہ کی نشانیوں کے ساتھ جن کا دوسرے مختلف مقامات میں نہایت تفصیل سے ذکر ہوا ہے۔
      ’اَیّٰمِ اللّٰہِ‘ سے مراد: ’وَذَکِّرْھُمْ بِاَیّٰمِ اللّٰہِ‘ ’ایام‘ کا لفظ جب اس طرح آتا ہے جس طرح یہاں آیا ہے تو اس سے خاص بڑے بڑے اہم تاریخی اور یادگار دن مراد ہوتے ہیں۔ مثلاً ایام العرب، کہیں تو اس سے عرب کی جنگیں مراد ہوں گی۔ اسی طرح ’اَیّٰمِ اللّٰہِ‘ سے مراد یادگار تاریخی دن ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے نافرمان قوموں پر عذاب نازل فرمائے اور اپنے باایمان بندوں کو ان کے ظلم و ستم سے نجات بخشی۔
      ’اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ‘ یعنی موسیٰ ؑ کی اس سرگزشت میں ثابت قدم رہنے والوں اور شکر کرنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔ حضرت موسیٰ ؑ نے جب دعوت حق بلند کی تو ان کو اور ان کی قوم کو فرعون کے ہاتھوں بڑے بڑے مظالم سہنے پڑے لیکن بالآخر اللہ تعالیٰ نے فرعونیوں کو غرق کر دیا اور بنی اسرائیل کو نجات بخشی۔ مطلب یہ ہے کہ اسی طرح مسلمانوں کے سامنے بھی اس وقت آزمائش کا مرحلہ ہے۔ اس مرحلہ سے اگر وہ ثابت قدمی سے گزر گئے تو کامیابی ان کے قدم چومے گی اور وہ اپنے رب کے افضال و عنایات پر شکرگزار ہوں گے۔

      جاوید احمد غامدی ہم نے (اِسی طرح) موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا تھا کہ اپنی قوم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لاؤ اور اُنھیں خدا کے (اُن) دنوں کی یاد دلاؤ (جن میں اُس کی دینونت کا ظہور ہوا ہے)۔ اِس میں شبہ نہیں کہ اِس میں ہر اُس شخص کے لیے بڑی نشانیاں ہیں جو (خدا کی آزمایشوں میں) صبر اور (اُس کے افضال و عنایات پر) شکر کرنے والا ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُن نشانیوں کا ذکر ہے جو موسیٰ علیہ السلام کو فرعون پر اتمام حجت کے لیے دی گئی تھیں، جیسے عصا اور یدبیضا وغیرہ۔
      یعنی جزا و سزا کے فیصلے ہوئے ہیں اور خدا نے رسولوں کے منکرین پر اِسی دنیا میں اپنا عذاب نازل کر دیا ہے، جیسے قوم نوح، قوم لوط اور قوم شعیب وغیرہ۔ قرآن میں یہ تعبیر اِنھی ایام کے لیے اختیار کی گئی ہے۔
      یہی دو صفات ہیں جو آدمی کے اندر موجود ہوں تو وہ آیات الٰہی کی طرف متوجہ ہوتا اور اُن سے عبرت حاصل کرتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور یاد کرو جب موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے کہا کہ اپنے اوپر اللہ کے اس فضل کو یاد رکھو کہ اس نے تمہیں آل فرعون کے پنجہ سے نجات دی جو تمہیں نہایت برے عذاب چکھاتے تھے اور تمہارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے اور بے شک اس میں تمہارے رب کی جانب سے بہت بڑی آزمائش تھی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’اٰلِ‘ سے مراد: ’اٰلِ فِرْعَوْنَ‘ ہم دوسرے مقام میں واضح کر چکے ہیں کہ لفظ ’اٰلِ‘ سے مراد اتباع اور پیرو بھی ہوتے ہیں۔
      اتباع اور پیرو: یہ حضرت موسیٰ ؑ کی اس تقریر کا حوالہ ہے جو انھوں نے اپنی قوم کے سامنے اس وقت فرمائی ہے جب ان کو اور ان کی قوم کو فرعونیوں کے چنگل سے نجات مل چکی ہے۔ اس تقریر سے حضرت موسیٰ ؑ کا مقصود اپنی قوم کو یہ یاد دلانا تھا کہ یہ بہت بڑی آزمائش تھی جس سے خدا نے محض اپنے فضل سے تمہیں نجات بخشی ہے تو اس فضل کو یاد رکھنا، خدا کے برابر شکرگزار رہنا، اس کو بھول کر پھر کہیں انہی سرمستیوں میں نہ کھو جانا جس کی سزا تمہیں فرعونیوں کے عذاب کی شکل میں ملی۔ حضرت موسیٰ کی اس تقریر کی یاددہانی وقت کے بنی اسرائیل کو اس لیے کرائی گئی ہے کہ وہ متنبہ ہوں کہ وہ حضرت موسیٰ ؑ کی اس تلقین کو فراموش کر کے پھر شیطان کے راستہ پر چل پڑے ہیں اور اسلام کی مخالفت کر کے ازسرنو اپنی شامت کو دعوت دینا چاہتے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی یاد کرو، جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اپنے اوپر اللہ کی اُس نعمت کو یاد رکھو، جب اُس نے تمھیں فرعون کے لوگوں سے چھڑایا جو تمھیں نہایت برے عذاب دیتے تھے، وہ تمھارے بیٹوں کو ذبح کر دیتے تھے اور تمھاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے۔ تمھارے پروردگار کی طرف سے اِس میں (تمھارے لیے) بڑی عنایت تھی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اِس مصیبت سے چھڑانے میں۔

    • امین احسن اصلاحی اور یاد کرو جب تمہارے رب نے آگاہ کر دیا کہ اگر تم شکرگزار رہے تو میں تمہیں بڑھاؤں گا اور اگر تم نے ناشکری کی تو میرا عذاب بھی بڑا سخت ہو گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      وقت کے بنی اسرائیل کو یاددہانی: ’تَاَذَّنَ‘ کے معنی باخبر اور آگاہ کرنے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ موسیٰ ؑ نے تو وہ بات کہی تھی جو اوپر گزری اور ساتھ ہی تمہارے رب نے بھی تمہیں آگاہ کر دیا تھا کہ اگر تم میرے احکام و ارشادات کی پیروی کر کے میرے شکر گزار رہے تو میں تمہاری تعداد اور اپنے افضال و عنایات میں برابر اضافہ کروں گا اور اگر تم ناشکری اور نافرمانی کی راہ پر چل پڑے تو یاد رکھو کہ میرا عذاب بھی بڑا ہی سخت ہو گا ۔۔۔ یہ بات بھی وقت کے بنی اسرائیل کو یاددہانی کے لیے یہاں لائی گئی ہے اور ’رَبُّکُمْ‘ کے خطاب سے واضح ہے کہ یہ ان کو براہ راست مخاطب کر کے فرمائی گئی ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور یاد کرو، جب تمھارے پروردگار نے خبردار کر دیا تھا کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو اور زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو میری سزا بھی بڑی سخت ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس وقت چونکہ یہود بھی درپردہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کے لیے سرگرم ہو چکے تھے، اِس لیے یہ بات اللہ تعالیٰ نے اُنھیں براہ راست خطاب کر کے کہہ دی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور موسیٰ نے کہا کہ اگر تم اور وہ سارے لوگ جو روئے زمین پر ہیں ناشکری کرو گے تو خدا کا کچھ نہیں بگاڑو گے اور وہ بے نیاز اور ستودہ صفات ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      شکرگزاروں پر عنایات میں اضافہ: یعنی ساتھ ہی موسیٰ ؑ نے یہ تنبیہ بھی کر دی تھی کہ خدا کی شکرگزاری کا یہ مطالبہ اس بنا پر نہیں ہے کہ وہ اس کا محتاج ہے یا اس سے اس کی شان اور عظمت میں کوئی اضافہ ہوتا ہے۔ وہ ہر چیز سے بے نیاز اور ہر حال میں ستودہ صفات ہے۔ یہ شکرگزاری خود بندوں ہی کے لیے موجب خیر و برکت ہے اس لیے کہ اس سے، جیسا کہ اوپر والی آیت میں مذکور ہے، اللہ تعالیٰ بندوں پر اپنی نعمتوں اور برکتوں میں اضافہ فرماتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی موسیٰ نے کہا کہ اگر تم ناشکری کرو اور زمین کے سارے لوگ بھی (اِسی طرح) نا شکرے ہو جائیں (تو خدا کا کچھ نہیں بگاڑو گے)، اِس لیے کہ اللہ بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ غالباً اُسی تقریر کا خلاصہ ہے جو بائیبل کی کتاب استثنامیں بڑے شرح و بسط کے ساتھ نقل کی گئی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے یہ تقریر اپنی وفات سے کچھ پہلے صحراے سینا میں بنی اسرائیل کے سامنے فرمائی تھی۔ اِسے کتاب استثنا کے ابواب ۴، ۶ ،۸ ،۱۰ ،۱۱ اور ۲۸ تا ۳۰ میں دیکھا جا سکتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی کیا تمہیں ان لوگوں کا حال نہیں پہنچا جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں، قوم نوح، عاد اور ثمود کا حال اور ان کا جو ان کے بعد ہوئے ہیں۔ خدا کے سوا جن کو کوئی نہیں جانتا۔ ان کے رسول ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے تو انھوں نے ان کے منہ پر اپنے ہاتھ رکھ دیے اور بولے کہ جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اس کا انکار کرتے ہیں اور جس چیز کی تم ہمیں دعوت دے رہے ہو ہم اس کے باب میں سخت الجھن میں ڈال دینے والے شک میں ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قوم نوح اور عاد کے بعد کی بعض قوموں کا حوالہ: ’وَالَّذِیْنَ مِنْ م بَعْدِھِمْ لَا یَعْلَمُھُمْ اِلَّا اللّٰہُ‘۔ یہ حوالہ ہے ان قوموں کا جو قوم نوح اور عاد اور ثمود کے بعد آئیں اور ان کے اندر اللہ نے اپنے رسول بھی بھیجے لیکن قرآن نے ان کا ذکر نہیں کیا ہے۔ تاریخوں میں بھی ان کا کوئی قابل اعتماد تذکرہ موجود نہیں ہے۔ صحیح علم ان کا صرف اللہ ہی کو ہے۔ دوسرے مقام میں یہی بات یوں ارشاد ہوئی ہے:

      ’وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِکَ مِنْھُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْکَ وَمِنْھُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْکَ‘۔(۷۸ المومن)
      (اور ہم نے تم سے پہلے بھی رسول بھیجے، ان میں سے کچھ کی سرگزشتیں ہم نے تم کو سنا دیں اور ان میں سے کچھ کی نہیں سنائیں)۔

      رسولوں کے منہ بند کرنے کی کوشش: ’فَرَدُّوْٓا اَیْدِیَھُمْ فِیْٓ اَفْوَاھِھِمْ‘ یعنی انھوں نے اپنے رسولوں کے منہ بند کر دینے کی کوشش کی۔ جب کوئی شخص کسی شخص کو بات کرنے سے، غصہ اور نفرت کے ساتھ، روکنا چاہتا ہے تو اس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیتا ہے کہ زبان بند کرو، مزید ایک حرف بھی زبان سے نہ نکالو۔ ’فَرَدُّوْٓا‘ یہاں ’جَعَلُوْا‘ کے معنی میں ہے اور اس معنی میں یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔
      ’اِنَّا کَفَرْنَا بِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِہٖ وَاِنَّا لَفِیْ شَکٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَآ اِلَیْہِ مُرِیْبٍ‘۔ یعنی جس پیغام انذار کے ساتھ تم خدا کی طرف سے بھیجے جانے کے مدعی ہو ہمیں اس سے صاف انکار ہے۔ نہ ہم تمہیں خدا کا رسول مانتے ہیں اور نہ تمہاری یہ دھمکی ماننے کے لیے تیار ہیں کہ اگر ہم نے تمہاری بات نہ مانی تو ہم تباہ کر دیے جائیں گے۔ ’وَاِنَّا لَفِیْ شَکٍّ الایۃ‘ اور یہ توحید اور قیامت پر ایمان لانے کی جو دعوت تم ہمیں دے رہے ہو تو اس باب میں بھی ہم سخت شک میں ہیں۔

       

      جاوید احمد غامدی تمھیں اُن لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں؟ قوم نوح، عاد و ثمود اور جو اُن کے بعد ہوئے ہیں، جنھیں خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا۔اُن کے رسول اُن کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے تو اُنھوں نے اپنے ہاتھ اُن کے منہ میں دے دیے (کہ خاموش ہو جاؤ) اور کہہ دیا کہ جو تمھیں دے کر بھیجا گیا ہے، ہم اُس کو نہیں مانتے اور جس چیز کی طرف تم ہم کو بلا رہے ہو، اُس کے بارے میں ہم ایسے شک میں پڑ گئے ہیں جو سخت الجھن میں ڈال دینے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’فَرَدُّوْٓا اَیْدِیَھُمْ فِیْٓ اَفْوَاھِھِمْ‘۔ جب کوئی شخص غصے اور نفرت سے کسی کو بات کرنے سے روکنا چاہتا ہے تو اُس کے منہ پر ہاتھ رکھ دیتا ہے کہ زبان بند کرو، اِس کے بعد ایک حرف بھی زبان سے نہ نکالو۔ یہ اِسی صورت حال کی تعبیر ہے۔ لفظ ’رَدُّوْا‘ یہاں ’جعلوا‘ کے معنی میں ہے اور یہ لفظ اِس معنی میں استعمال ہوتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی ان کے رسولوں نے کہا کیا تمہیں آسمانوں اور زمین کے وجود میں لانے والے اللہ کے بارے میں شک ہے؟ وہ تمہیں بلاتا ہے تاکہ تمہارے گناہوں کو بخشے اور تمہیں ایک وقت معین تک مہلت دے۔ وہ بولے کہ تم تو ہمارے ہی جیسے آدمی ہو۔ تم چاہتے ہو کہ ہم کو ان چیزوں کی عبادت سے روک دو جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے تو ہمارے پاس کوئی کھلا ہوا معجزہ لاؤ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      سوال استعجاب کی نوعیت کا: رسولوں کی طرف سے یہ سوال استعجاب کی نوعیت کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا تمہیں آسمانوں اور زمین کے وجود میں لانے والے خدا کے باب میں شک ہے؟ خدا کو تو تم مانتے ہی ہو اور اسی کو آسمانوں اور زمین کا خالق بھی مانتے ہو، اسی کی دعوت ہم تمہیں دے رہے ہیں تو اس کے بارے میں تو کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اب رہے وہ جن کو تم نے خدا کا شریک بنا رکھا ہے تو ان سے ہم تم کو روکتے ہیں اس لیے کہ ان کے حق میں کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔
      دعوت رحمت کے لیے: ’یَدْعُوْکُمْ لِیَغْفِرَلَکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ وَیُؤَخِّرَکُمْ اِلٰی اَجَلٍ مُّسَمًّی‘ یعنی یہ دعوت، جو وہ ہمارے ذریعہ سے تمہیں دے رہا ہے، کوئی چڑنے اور برہم ہونے کی بات نہیں ہے بلکہ یہ تمہارے حق میں ایک عظیم رحمت ہے۔ وہ یہ چاہتا ہے کہ اگر تم یہ دعوت قبول کر لو تو وہ تمہارے گناہوں کو بخشے، تمہیں زندگی کی مہلت عطا فرمائے اور اس عذاب کو تم سے ہٹا لے جس کو تم نے اپنی شامت اعمال سے دعوت دے رکھی ہے اور جو ہماری تکذیب کی صورت میں لازماً تم پر آ دھمکے گا۔
      بشریت پر اعتراض معجزہ کا مطالبہ: ’قَالُوْٓا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا الایۃ‘۔ یعنی اپنے رسولوں کے ان ارشادات کو سن کر اگر وہ بولے تو یہ بولے کہ تم تو ہمارے ہی جیسے آدمی ہو اور اپنی تقریروں سے تم ہمیں ہمارے ان معبودوں کی عبادت سے روک دینا چاہتے ہو جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے تو ایسی سنگین بات ہم اپنے ہی جیسے آدمیوں کی کس طرح مان سکتے ہیں۔ اگر تم اپنی بات منوانی چاہتے ہو تو کوئی ایسا معجزہ دکھاؤ جس کو دیکھ کر ہر شخص پکار اٹھے کہ بے شک تم خدا کے فرستادے ہو اور جو کچھ کہہ رہے ہو اسی کی طرف سے کہہ رہے ہو۔

      جاوید احمد غامدی اُن کے رسولوں نے کہا: کیا خدا کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا وجود میں لانے والا ہے؟ وہ تمھیں بلا رہا ہے کہ تمھارے گناہوں میں سے معاف فرمائے (جو اِس سے پہلے تم سے ہوئے ہیں) اور تم کو ایک مقرر مدت تک مہلت دے۔اُنھوں نے جواب دیا: تم ہماری طرح کے ایک آدمی ہی ہو۔ تم چاہتے ہو کہ ہمیں اُن چیزوں کی بندگی سے روک دو جنھیں ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں۔ (یہی بات ہے) تو ہمارے سامنے کوئی کھلا ہوا معجزہ لاؤ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ سوال استعجاب کی نوعیت کا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا کو توتم مانتے ہو۔ ہم جس چیز کی طرف تمھیں بلا رہے ہیں، وہ اِس کے سوا کیا ہے کہ بندگی کا مستحق بھی صرف وہی ہے۔ یہ تو خدا کو ماننے کا لازمی نتیجہ ہے۔ تم اِسے نہیں مان رہے تو پھر کیا خدا کے بارے میں کسی شک میں پڑ گئے ہو؟
      مطلب یہ ہے کہ اپنے معبودوں کے بارے میں ایسی سنگین بات ہم اپنے ہی جیسے ایک آدمی کی کس طرح مان سکتے ہیں۔ ہمیں کوئی معجزہ دکھاؤ جس کو دیکھ کر یقین آجائے کہ تم فی الواقع خدا کے بھیجے ہوئے ہو۔

    • امین احسن اصلاحی ان کے رسولوں نے جواب دیا کہ ہم ہیں تو تمہارے ہی جیسے آدمی لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے اپنا فضل فرماتا ہے۔ اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں کہ ہم تمہارے پاس کوئی معجزہ لا دیں مگر اللہ کے حکم سے اور ایمان لانے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      رسولوں کا جواب: یہ رسولوں کا جواب نقل ہوا ہے کہ اگر تم کو ہماری بشریت پر اعتراض ہے تو ہم کو یہ اعتراف ہے کہ بلاشبہ ہم تمہاری ہی طرح بشر ہیں۔ ہم کو مافوق بشر ہونے کا دعویٰ نہیں ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنے انہی بندوں میں سے جو بشر ہوتے ہیں جن پر چاہتا ہے اپنا فضل فرماتا ہے اور ان کو نبوت و رسالت کے منصب پر سرفراز کر دیتا ہے۔ ہم پر یہی فضل ہوا ہے۔ اس کے سوا ہم اور کسی چیز کا دعویٰ نہیں رکھتے۔
      ہم دوسرے مقام پر یہ حقیقت واضح کر چکے ہیں کہ خدا کی ہر مشیت اس کی حکمت کے ساتھ ہے اس وجہ سے ’عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ‘ کا یہ مفہوم نہیں ہے کہ وہ جس کو چاہے پکڑ کے نبی اور رسول بنا دے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں میں سے جن کو اس منصب کے لیے اہل پاتا ہے ان میں سے جس کے لیے اس کی حکمت مقتضی ہوتی ہے اس کو اس کارعظیم کے لیے انتخاب فرماتا ہے۔
      ’وَمَا کَانَ لَنَآ اَنْ نَّاْتِیَکُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ‘۔ یعنی اگر ہماری بشریت کی بنا پر ہمارے ہاتھوں کوئی واضح معجزہ دیکھے بغیر ہمیں رسول ماننے کے لیے تیار نہیں ہو تو یہ چیز ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ کوئی معجزہ تو ہم خدا ہی کے حکم سے دکھا سکتے ہیں۔ ’وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ‘ سو تمہارے اس مطالبہ کو ہم اللہ کے حوالے کرتے ہیں، اگر وہ چاہے گا تو کوئی معجزہ دکھا دے گا اور اگر نہ چاہے گا تو نہ دکھائے گا۔ اہ ایمان کے شایان شان بات یہی ہے کہ وہ اس طرح کے معاملات میں اللہ پر بھروسہ رکھیں۔

      جاوید احمد غامدی اُن کے رسولوں نے اُن سے کہا: بے شک ،ہم تمھاری ہی طرح کے آدمی ہیں، مگر اللہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے، فضل فرماتا ہے۔ یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ اذن الٰہی کے بغیر ہم تمھیں کوئی معجزہ لا دکھائیں۔ (سو تمھارا یہ مطالبہ اللہ کے حوالے ہے) اور ایمان والوں کو چاہیے کہ (اِس طرح کے معاملات میں) اللہ ہی پر بھروسا رکھیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ رکھیں جب کہ اس نے ہمیں ہمارے راستوں کی ہدایت بخشی اور تم ہمیں جو ایذا بھی پہنچاؤ گے ہم اس پر صبر کریں گے اور بھروسہ کرنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      توکل کی بنیاد: ’وَمَا لَنَآ اَلَّا نَتَوَکَّلَ عَلَی اللّٰہِ وَقَدْ ھَدٰنَا سُبُلَنَا الایۃ‘ یہ خدا پر بھروسہ کرنے کی دلیل ارشاد ہوئی ہے کہ جن راستوں پر چلنے کی اس نے ہمیں خود ہدایت فرمائی ہے، ہمارا اعتماد ہے اور ہمیں اعتماد کرنا چاہے کہ ان میں جو مزاحمتیں اور رکاوٹیں پیش آئیں گی ان کے دور کرنے میں وہ ہماری مدد اور رہنمائی فرمائے گا۔ انہی مزاحمتوں اور رکاوٹوں میں سے تمہارا یہ مطالبہ بھی ہے۔ ہم بھروسہ رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس معاملے میں بھی ہماری مدد فرمائے گا۔ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اس راستہ میں استقامت دکھائیں سو یہ عزم ہم رکھتے ہیں کہ تم جو ایذا بھی ہمیں پہنچاؤ گے ہم اس پر صبر کریں گے اور اللہ پر بھروسہ کریں گے، اس لیے کہ اللہ ہی کی ذات ایسی ہے جس پر بھروسہ کرنے والوں کو بھروسہ کرنا چاہیے۔

      جاوید احمد غامدی اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسا رکھیں، جبکہ ہمارے (یہ) راستے اُسی نے ہمیں بتائے ہیں۔ تم جو اذیت بھی ہمیں دے رہے ہو، ہم اُس پر ہر حال میں صبر کریں گے اور (اللہ پر بھروسا کریں گے، اِس لیے کہ) بھروسا کرنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسا کرنا چاہیے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا کہ یا تو ہم تمہیں اپنی سرزمین سے نکال کر رہیں گے یا تمہیں ہماری ملت میں پھر واپس آنا پڑے گا تو ان کے رب نے ان پر وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں ہی کو ہلاک کر دیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      رسولوں کو ان کی قوموں کی دھمکی: ہر رسول کی زندگی میں بالآخر یہ مرحلہ بھی پیش آیا ہے کہ اس کی دعوت سے تنگ آ کراس کی قوم نے اس کو یہ نوٹس دے دیا کہ یا تو تم ہماری ملت میں واپس آ جاؤ ورنہ ہم تمھیں اپنی سرزمین سے جلاوطن کر دیں گے۔ جب نوبت یہاں تک پہنچی ہے تو اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اپنے رسولوں کو یہ بشارت دے دی ہے کہ ہم ان ظالموں ہی کو ہلاک کر دیں گے اور ان کے بعد تمھیں زمین میں بسائیں گے۔ ’ذٰلِکَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَخَافَ وَعِیْدِ‘ یعنی یہ عظیم بشارت ان کے لیے ہے جو میرے حضور پیشی اور میری وعید سے ایسے خائف رہے کہ ان کے مقابل میں انھوں نے کسی مصیبت اور کسی دھمکی کی بھی پروا نہیں کی۔
      ’اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا‘ سے یہ بات لازم نہیں آتی کہ کوئی رسول اپنی زندگی کے کسی دور میں ملت جاہلیت کا پیرو بھی رہا ہے۔ انبیاء بعثت سے پہلے بھی فطرۃ اللہ پر قائم رہے لیکن چونکہ دعوت سے پہلے کی زندگی میں قوم کے لیے ان کے ساتھ عناد کی کوئی وجہ نہیں تھی اس وجہ سے قوم کے لوگ ان کو اپنی ہی ملت پر گمان کرتے رہے۔ بعد میں جب انہوں نے دعوت شروع کی تب قوم کے اشرار نے ان پر ملت سے انحراف کی بنا پر لعن طعن شروع کر دیا۔

      جاوید احمد غامدی (اِس پر) منکروں نے اپنے رسولوں سے کہہ دیا کہ ہم تم کو اپنی اِس سرزمین سے لازماً نکال دیں گے یا تمھیں (بالآخر) ہماری ملت میں واپس آنا ہو گا۔ تب اُن کے پروردگار نے اُن کی طرف وحی بھیجی کہ ہم اِن ظالموں کو ہلاک کر دیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُنھوں نے اپنے گمان کے مطابق کہا ہے، اِس لیے کہ دعوت سے پہلے وہ یہی سمجھتے تھے کہ رسول بھی اُسی مذہب پر ہیں جو اُنھوں نے اپنے لیے اختیار کر رکھا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور ان کے بعد تم کو زمین میں بسائیں گے، یہ ان کے لیے ہے جو میرے حضور پیشی سے ڈرے اور میری وعید سے ڈرے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      رسولوں کے پیروؤں کے لیے تنبیہ: ’ذٰلِکَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَخَافَ وَعِیْدِ‘ میں رسولوں کے پیروؤں کے لیے تنبیہ اور استقامت کی تلقین ہے۔ آیت زیربحث میں رسولوں کو جو بشارت دی گئی ہے اس میں چونکہ ان کے پیرو بھی شامل ہیں اس وجہ سے انھیں آگاہ کر دیا گیا کہ یہ بشارت ان کے لیے ہے جو ہر قسم کے مصائب کا مقابلہ کریں گے اور مخالفوں سے ڈر کر خدا کے خوف کو نظر انداز نہ کریں گے۔
      ان آیات سے اس سورہ کے زمانۂ نزول پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ باتیں دعوت کے اس دور میں فرما دی گئی ہیں جب قریش نے اپنے ظلم و ستم سے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے ساتھیوں کے لیے ہجرت کے سوا کوئی اور راہ باقی نہیں رہ گئی ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور اِن کے بعد تمھیں اِس ملک میں آباد کریں گے۔ یہ (بشارت ہے) اُن کے لیے جو میرے حضور (جواب دہی کے لیے) کھڑے ہونے سے ڈرے اور جو میری وعید سے ڈرے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      رسولوں کے باب میں یہی خدا کی سنت ہے۔ ہم اِس کتاب میں جگہ جگہ اِس کی وضاحت کر چکے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور انھوں نے فیصلہ چاہا اور ہر سرکش ضدی نامراد ہوا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      فیصلۂ حق و باطل کی دعا: کفار تکذیب کے جوش میں بار بار اپنے رسولوں سے یہ مطالبہ کرتے رہتے تھے کہ جس عذاب کی تم ہمیں بار بار دھمکی سنا رہے ہو وہ لا دو تاکہ اس قضیہ کا فیصلہ ہو جائے لیکن اللہ کے رسول اپنی رأفت کے سبب سے ا ن کے لیے یہی دعا کرتے تھے کہ ان کو ایمان لانے کی سعادت نصیب ہو۔ تاہم ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے۔ بالآخر ایک مرحلہ وہ بھی آیا جب رسولوں نے بھی یہ دعا کی ہے کہ

      رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَبَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَاَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ. (۸۹)
      (اے ہمارے رب ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے اور تو بہترین فیصلہ فرمانے والا ہے۔)

      اس مرحلے میں جب رسول نے فیصلہ کے لیے دعا کی ہے تو اللہ کا فیصلہ فوراً ہی صادر ہو گیا ہے اور عذاب الٰہی نے سرکشوں اور شریروں کی کمر توڑ دی ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی اُنھوں نے فیصلہ چاہا تھا، (سو فیصلہ ہو گیا) اور (اُس کے نتیجے میں) ہر سرکش ضدی نامراد ہوا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اس کے آگے جہنم ہے اور اس کو پیپ لہو پینے کو ملے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      سرکشوں کے لیے آگے کا عذاب: یعنی ایسے سرکشوں اور جباروں کے لیے اسی عذاب دنیا پر بس نہیں ہے بلکہ ان کے لیے آگے جہنم بھی تیار کھڑی ہے جہاں ان کو پیب لہو پینے کو ملے گا لیکن پیاس کا یہ عالم ہو گا کہ وہ اس کے گھونٹ بھریں گے اور اس کو حلق سے اتارنے کی کوشش کریں گے لیکن اس کو اتار نہ پائیں گے۔ ان پر موت ہر جانب سے پلی پڑ رہی ہو گی لیکن ان کو موت نصیب نہیں ہو گی کہ اس عذاب سے چھٹکارا ملے اور اسی پر بس نہیں، آگے ان کے لیے مزید سخت تر عذاب موجود ہو گا۔

      جاوید احمد غامدی (اب) اُس کے آگے دوزخ ہے۔ وہاں اُس کو پیپ کا پانی پلایا جائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی وہ اس کو گھونٹ گھونٹ پینے کی کوشش کرے گا اور اس کو حلق سے نہ اتار سکے گا اور موت اس پر ہر جانب سے پلی پڑ رہی ہو گی اور وہ مرنے والا نہ بنے گا اور آگے ایک اور سخت عذاب اس کے لیے موجود ہو گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      سرکشوں کے لیے آگے کا عذاب: یعنی ایسے سرکشوں اور جباروں کے لیے اسی عذاب دنیا پر بس نہیں ہے بلکہ ان کے لیے آگے جہنم بھی تیار کھڑی ہے جہاں ان کو پیب لہو پینے کو ملے گا لیکن پیاس کا یہ عالم ہو گا کہ وہ اس کے گھونٹ بھریں گے اور اس کو حلق سے اتارنے کی کوشش کریں گے لیکن اس کو اتار نہ پائیں گے۔ ان پر موت ہر جانب سے پلی پڑ رہی ہو گی لیکن ان کو موت نصیب نہیں ہو گی کہ اس عذاب سے چھٹکارا ملے اور اسی پر بس نہیں، آگے ان کے لیے مزید سخت تر عذاب موجود ہو گا۔

      جاوید احمد غامدی وہ اُس کو گھونٹ گھونٹ پیے گا اور گلے سے اتار نہ سکے گا۔ موت ہر طرف سے اُس پر پلی پڑ رہی ہو گی، لیکن مرنے نہ پائے گا اور آگے ایک اور سخت عذاب اُس کا منتظر ہو گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی ان لوگوں کے اعمال کی تمثیل جنھوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا یہ ہے کہ جیسے راکھ ہو جس پر آندھی کے دن باد تند چل جائے۔ جو کچھ انھوں نے کمائی کی ہو گی اس میں سے کچھ بھی ان کے پلے نہیں پڑے گی۔ یہی دور کی گمراہی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      شرک باعتبار حقیقت کفر ہے: ’الذین کفروا‘ سے مراد وہ مشرکین ہی ہیں جو یہاں مخاطب ہیں۔ ہم دوسرے مقام میں یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ شرک اپنی حقیقت کے اعتبار سے کفر ہی ہے۔ دین میں خدا کا صرف وہی ماننا معتبر ہے جو کامل توحید کے ساتھ ہو۔ اگر اس کی ذات یا صفات یا اس کے حقوق میں کسی اور کو شریک بنا کر اس کو مانا جائے تو یہ ماننا معتبر نہیں ہے۔ یہ اس کے انکار ہی کے ہم معنی ہے۔
      مشرکین کے اعمال کی تمثیل: یہ ان مشرکین کے اعمال کی تمثیل ہے کہ قیامت کے دن اعمال کا یہ حال ہو گا۔ ظاہر ہے کہ اعمال سے مراد یہاں ان کے وہ اعمال ہیں جو اپنی دانست میں انھوں نے نیکی کے اعمال سمجھ کر انجام دیے۔ فرمایا کہ قیامت کے روز ان کے اعمال راکھ کے ایک ڈھیر کی مانند ہوں گے جس پر کسی آندھی والے دن میں تند ہوا چل جائے اور وہ سب کو اڑا لے جائے۔ ’لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا کَسَبُوْا عَلٰی شَیْءٍ‘ یعنی اس ساری کمائی میں سے، جو شرک کے ساتھ انھوں نے کی ہو گی کچھ بھی ان کے پلے پڑنے والی نہیں، وہ ساری کی ساری خاک اور راکھ ہو کر اڑ جائے گی، صرف اس کا وبال ان کے حصہ میں آئے گا۔ ’ذٰلِکَ ھُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ‘ یعنی ایک گم شدگی، گمراہی اور محرومی تو وہ ہوتی ہے جس کے بعد لوٹنے اور راستہ پانے کا بھی امکان باقی رہ جاتا ہے لیکن یہ وہ دور کی گم شدگی اور محرومی ہے جس کے بعد لوٹنے اور پانے کا سرے سے کوئی امکان ہی باقی نہیں رہے گا۔ یہاں اسی سورہ کی آیت ۳ پر ایک نظر پھر ڈال لیجیے۔ اور اسی طرح کے لوگوں کے اعمال کی ایک نہایت اعلیٰ تمثیل سورۂ نور کی آیت ۳۹ میں بھی ہے۔

      جاوید احمد غامدی جن لوگوں نے اپنے پروردگار سے کفر کیا ہے، اُن کے اعمال کی مثال اُس راکھ کی سی ہے جس پر آندھی کے دن تند و تیز ہوا چل جائے۔ اُنھوں نے جو کچھ کیا ہو گا، اُس میں سے کچھ بھی نہ پا سکیں گے۔ یہی دور کی گمراہی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی جانتے بوجھتے اُس کے شریک ٹھیرائے ہیں۔ شرک اپنی حقیقت کے لحاظ سے کفر ہی ہے، اِس لیے کہ دین میں خدا کا صرف وہی ماننا تسلیم کیا جاتا ہے جو توحید پر پورے ایمان کے ساتھ ہو۔ چنانچہ آیت میں ’الَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘ سے مراد مشرکین قریش ہی ہیں جو سورہ کے مخاطب ہیں۔
      اِس سے، ظاہر ہے کہ اُن کے وہ اعمال مراد ہیں جو اُنھوں نے اپنی طرف سے نیکی کے اعمال سمجھ کر کیے ہوں گے۔ قرآن نے یہ بات جگہ جگہ واضح کر دی ہے کہ شرک کے ساتھ کوئی عمل بھی خدا کے ہاں مقبول نہیں ہے۔
      یعنی ایسی گمراہی ہے جس سے لوٹ کر آنے کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہا۔

    • امین احسن اصلاحی کیا تم نے غور نہیں کیا کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو مقصد حق کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اگر وہ چاہے تو تم کو فنا کر دے اور ایک نئی مخلوق کو لا بسائے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قریش کو دھمکی: یہ واضح الفاظ میں قریش کو دھمکی ہے کہ تم نے اس امر پر غور نہیں کیا کہ یہ دنیا کسی کھلنڈرے کا کھیل تماشا نہیں ہے بلکہ اللہ نے اس کو غایت و مقصد کے ساتھ پیدا کیا ہے اور تمہارا وجود اس غایت و مقصد کے بالکل خلاف ہو کر رہ گیا ہے تو آخر وہ تم کو کس کام کے لیے اس زمین کی پشت پر لادے رکھے گا جب کہ اس کی قدرت کا یہ عالم ہے کہ اگر وہ چاہے تو ابھی چشم زدن میں تم سب کو فنا کر دے اور ایک نئی مخلوق لا کھڑی کرے۔

      جاوید احمد غامدی کیا تم نے دیکھا نہیں کہ اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ (یہ اُس کی دی ہوئی مہلت ہے کہ وہ تمھارے اِس کفر و شرک کو گوارا کر رہا ہے)۔ وہ چاہے تو تمھیں لے جائے اور ایک نئی مخلوق (تمھاری جگہ) لے آئے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور یہ اللہ کو ذرا مشکل نہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَّمَا ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیْزٍ‘ یعنی یہ نہ سمجھو کہ خدا کے لیے یہ کام کچھ مشکل ہے یا یہ اس پر کچھ گراں گزرے گا۔ اس کی قدرت کی بھی کوئی حد نہیں ہے اور رأفت و رحمت کے ساتھ ساتھ وہ عدل و قسط کا قائم کرنے والا بھی ہے تو ان لوگوں کو فنا کر دینا اس پر کیوں گراں گزرے گا جنھوں نے ہر شعبۂ زندگی میں عدل و قسط کو بالکل مٹا کر رکھ دیا ہے۔

      جاوید احمد غامدی یہ اللہ پر کچھ بھی دشوار نہیں ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    Join our Mailing List