Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 43 آیات ) Ar-Rad Ar-Rad
Go
  • الرعد (The Thunder)

    43 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود

    یہ سورہ سورۂ یوسفؑ کے توام اور اس کے جوڑے کی حیثیت رکھتی ہے۔ دونوں کے عمود میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے۔ قرآن کے نزول نے حق و باطل کے درمیان جو کشمکش برپا کر دی تھی، انجام کار کی کامیابی اس میں جس گروہ کو حاصل ہونے والی تھی اس کو اس میں نمایاں فرمایا ہے۔ یہی حقیقت سورۂ یوسف میں بھی واضح کی گئی ہے، البتہ دونوں سورتوں میں طریق استدلال الگ الگ ہے۔ سورۂ یوسف میں حضرت یوسف کی زندگی کے حالات و واقعات سے اس حقیقت کو اجاگر کیا گیا ہے اور اس سورہ میں عقل و فطرت کے دلائل سے۔ آیات ۱۷-۲۲ سے اس سورہ کے عمود پر روشنی پڑتی ہے۔

  • الرعد (The Thunder)

    43 آیات | مدنی

    یوسف —— الرعد

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع اُن نتائج کے حوالے سے انذار و بشارت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اتمام حجت کے بعد آپ کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کے لیے اِسی دنیا میں نکلنے والے تھے۔ استدلال کا طریقہ، البتہ الگ الگ ہے۔ پہلی سورہ جن حقائق کو یوسف علیہ السلام کی سرگذشت کے حوالے سے مبرہن کرتی ہے، دوسری میں وہی حقائق عقل و فطرت کے دلائل سے مبرہن کیے گئے ہیں۔ دونوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی یہ الف، لام، میم، را ہے۔ یہ کتاب الٰہی کی آیات ہیں اور جو چیز تمہاری طرف تمہارے خداوند کی طرف سے اتاری گئی ہے حق ہے لیکن اکثر لوگ نہیں مان رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اظہار احسان اور انذار بیک وقت دونوں: ’تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ‘ لفظ ’اَلْکِتٰب‘ پر تفصیلی بحث بقرہ کی پہلی آیات کے تحت گزر چکی ہے۔ اس سے مراد وہ موعود و منتظر کتاب الٰہی ہے جس کو آخری صحیفۂ ہدایت کی حیثیت سے اتارنے کا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے وعدہ فرمایا تھا۔ ’تِلْکَ‘ کا اشارہ ’الٓمٓرٰ‘ کی طرف ہے۔ یعنی یہ سورہ موعود و منتظر کتاب الٰہی کی آیات پر مشتمل ہے۔ اس فقرے میں بیک وقت اظہار احسان بھی ہے اور دھمکی بھی۔ احسان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وہ عظیم نعمت، جس کا اس نے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے وعدہ فرمایا تھا، اتار دی ہے۔ اب یہ لوگوں کا فرض ہے کہ اس کی صدق دل سے قدر کریں اور اس کی برکتوں سے متمتع ہوں۔ دھمکی کا پہلو یہ ہے کہ یہ کتاب الٰہی کی آیات ہیں تو جو لوگ ان کی قدر کرنے کے بجائے ان کا مذاق اڑائیں گے اور ان کی مخالفت میں اپنا زور صرف کریں گے وہ خود سوچ لیں کہ وہ اپنے لیے کس شامت کو دعوت دے رہے ہیں۔
      ’وَالَّذِیْٓ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ الْحَقُّ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ‘۔
      پیغمبر صلعم کو تسلی: یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ یہ کتاب جو تم پر تمہارے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے اس کی ایک ایک بات حق ہے۔ اس کا ہر دعویٰ ثابت، مدلل اور مبرہن ہے اور اس کی ہر چیز شدنی ہے۔ اس میں کوئی بات ایسی نہیں ہے جس سے اختلاف کیا جا سکے، یہ لوگوں کی اپنی محرومی و بدقسمتی ہے کہ ان کی اکثریت اس کو قبول نہیں کر رہی ہے۔

      جاوید احمد غامدی یہ سورہ ’الٓمّٓرٰ‘ ہے۔ یہ کتاب الٰہی کی آیتیں ہیں اور تمھارے پروردگار کی طرف سے جو کچھ تم پر نازل کیا گیا ہے، وہ (سراسر) حق ہے، مگر (تمھاری قوم کے) اکثر لوگ مان نہیں رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس نام کے معنی کیا ہیں؟ اِس کے متعلق ہم اپنا نقطۂ نظر سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۱ کے تحت بیان کر چکے ہیں۔
      اصل الفاظ ہیں: ’تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ‘۔ اِن میں ’تِلْکَ‘ کا اشارہ ’الٓمّٓرٰ‘ کی طرف ہے اور ’الْکِتٰب‘ کے معنی کتاب الٰہی کے ہیں۔ قرآن میں یہ لفظ جگہ جگہ اِس معنی کے لیے استعمال ہوا ہے اور اُسی طریقے پر استعمال ہوا ہے، جس پر کوئی لفظ اپنے مختلف مفاہیم میں سے کسی اعلیٰ اور برتر مفہوم کے لیے خاص ہو جایا کرتا ہے۔ یہ فقرہ کس لیے ارشاد ہوا ہے؟ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...اِس فقرے میں بہ یک وقت اظہار احسان بھی ہے اور دھمکی بھی۔ احسان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وہ عظیم نعمت، جس کا اُس نے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعے سے وعدہ فرمایا تھا، اتار دی ہے۔ اب یہ لوگوں کا فرض ہے کہ اِس کی صدق دل سے قدر کریں اور اِس کی برکتوں سے متمتع ہوں۔ دھمکی کا پہلو یہ ہے کہ یہ کتاب الٰہی کی آیات ہیں تو جو لوگ اِن کی قدر کرنے کے بجاے اِن کا مذاق اڑائیں گے اور اِن کی مخالفت میں اپنا زور صرف کریں گے ،وہ خود سوچ لیں کہ وہ اپنے لیے کس شامت کو دعوت دے رہے ہیں۔‘‘(تدبرقرآن۴/ ۲۷۰)

      یعنی قطعی حقیقت ہے، اُس میں کسی ریب و گمان کی گنجایش نہیں ہے۔ چنانچہ ہر چیز جس طرح بیان ہوئی ہے، اُسی طرح واقع ہو کر رہے گی۔

       

    • امین احسن اصلاحی اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو بلند کیا بغیر ایسے ستونوں کے جو تمہیں نظر آئیں۔ پھر وہ اپنے عرش پر متمکن ہوا اور اس نے سورج اور چاند کو مسخر کیا۔ ان میں سے ہر ایک ایک وقت معین کے لیے گردش کرتا ہے۔ وہی کائنات کا انتظام فرماتا ہے اور اپنی نشانیوں کی وضاحت کرتا ہے تاکہ تم اپنے رب کی ملاقات کا یقین کرو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      خدا کی عظیم قدرت و حکمت کی طرف ایک اشارہ: ’رَفَعَ السَّمٰوٰتِ بِغَیْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَھَا‘۔ ’عَمَدٍ‘ عمود کی بھی جمع ہے اور عماد کی بھی اور ’تَرَوْنَھَا‘ اس کی صفت ہے۔ یعنی خدا نے آسمانوں کو ایسے ستونوں کے بغیر کھڑا کیا ہے جو تمہیں نظر آئیں۔ یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم قدرت و حکمت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اس نے یہ عظیم شامیانہ جذب و کشش کے ایسے ستونوں پر کھڑا کیا ہے جن کو دیکھنے سے تمہاری نگاہیں قاصر ہیں۔
      ’ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ‘۔ یعنی وہ ان کو پیدا کر کے کہیں کسی گوشے میں نہیں جا بیٹھا ہے جیسا کہ مشرکین گمان کرتے ہیں، بلکہ وہ اپنے عرش اقتدار پر متمکن ہے اور اس پوری کائنات پر فرماں روائی کر رہا ہے۔
      ’وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ کُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّی‘۔ یہ دو بڑی نشانیاں۔ سورج اور چاند اپنے وجود سے شہادت دے رہی ہیں کہ ہر چیز ہر وقت، خدا کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ مجال نہیں ہے کہ کوئی چیز اپنے معین مدار سے بال برابر ادھر ادھر ہو سکے۔ سورج اور چاند کے طلوع و غروب کے لیے جو اوقات مقرر کر دیے گئے ہیں وہ ٹھیک ٹھیک اسی نظام الاوقات کی پابندی کرتے ہیں، اس میں منٹ اور سیکنڈ کا بھی کبھی کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔
      ’یُُدَبِّرُ الْاَمْرَ یُْفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّکُمْ بِلِقَآءِ رَبِّکُمْ تُوْقِنُوْنَ‘۔ یعنی ان نشانیوں سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ خدا ہی تمام کائنات کا اتنظام فرما رہا ہے اور ساتھ ہی وہ ان نشانیوں کے تمام مضمرات بھی واضح فرما رہا ہے تاکہ تم اس بات کا یقین کرو کہ جس طرح ہر چیز کے لیے ایک اجل معین ہے اسی طرح تمہارے لیے بھی ایک اجل معین ہے۔ بالآخر تمہیں ایک دن خدا کی طرف لوٹنا اور اس سے ملنا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو ایسے ستونوں کے بغیر اونچا بنا کھڑا کیا ہے جو تم کو نظر آتے ہوں،پھر وہ اپنے تخت سلطنت پر متمکن ہوا اور اُس نے سورج اور چاند کو ایک قانون کا پابند بنایا۔ اِن میں سے ہر ایک ایک مقرر وقت کے لیے گردش کر رہا ہے۔ وہی نظم عالم کی تدبیر فرماتا ہے۔ وہ (اپنی) اِن نشانیوں کی وضاحت کرتا ہے ، اِس لیے کہ تم اپنے پروردگار کی ملاقات کا یقین کرو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی محسوس اور مرئی ہوں۔ دور حاضر کے انسانی علم نے اِسی چیز کو کشش ثقل کا نام دیا ہے۔ یہاں اِس سے مقصود اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرت کی طرف توجہ دلانا ہے۔
      مطلب یہ ہے کہ اِن بے کراں آسمانوں کو پیدا کرکے وہ کسی گوشے میں نہیں جا بیٹھا ہے، جیسا کہ مشرکین گمان کرتے ہیں، بلکہ اپنے تخت سلطنت پر متمکن ہے اور زمین و آسمان کی تدبیر امور فرما رہا ہے۔ آگے ’یُدَبِّرُ الْاَمْرَ‘ کے الفاظ میں اِس کو کھول دیا ہے۔
      یہ دو بڑی نشانیوں کی مثال سے اِس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ ہر چیز ہر وقت خدا کے قبضۂ قدرت میں ہے اور اُس وقت تک کے لیے گردش کر رہی ہے جو اُس کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے۔ اِس عالم میں کوئی چیز بھی ابدی و سرمدی نہیں ہے، بلکہ کشاں کشاں ایک معین اجل کی طرف بڑھ رہی ہے۔
      یعنی اپنی کتاب میں اِن کی تفصیل کرتا ہے تاکہ جن حقائق پر یہ دلالت کر رہی ہیں، تم اُن کو سمجھو اور اِس کے نتیجے میں کائنات کی اِس عظیم حقیقت کا یقین حاصل کرلو کہ جس نے اپنی بے پایاں قدرت اور کمال حکمت کے ساتھ یہ دنیا بنائی ہے، وہ اِسے اتمام و تکمیل تک پہنچائے بغیر یوں ہی ختم نہیں ہونے دے گا، بلکہ لازماً اُس منزل تک لے جائے گا جو اِس کے لیے مقرر ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور وہی ہے جس نے زمین کو بچھایا اور اس میں پہاڑ اور دریا بنائے اور ہر قسم کے پھلوں کی دو دو قسمیں اس میں پیدا کیں۔ وہ رات کو دن پر اڑھا دیتا ہے۔ بے شک ان چیزوں کے اندر ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو غور کریں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آسمان کے بعد زمین کی نشانیوں کی طرف اشارہ: آسمان کی نشانیوں کے بعد یہ زمین کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جس طرح آسمان کی نشانیوں سے اس کے خلق و تدبیر، اس کی قدرت و حکمت اور اس کی وحدت و یکتائی کی شانیں ظاہر ہوتی ہیں اسی طرح زمین کے چپہ چپہ سے بھی اس کی ان صفات کی شہادت مل رہی ہے بشرطیکہ سوچنے والے دل اور غور کرنے والی عقلیں ہوں۔ دریا اور پہاڑ بظاہر اپنے مزاج کے اعتبار سے ایک دوسرے سے کتنے مختلف ہیں لیکن خدا نے اپنی قدرت و حکمت سے ان کے اندر ایسی سازگاری پیدا کر رکھی ہے کہ پتھروں کے اندر سے پانی کے چشمے جاری کر دیے ہیں۔ کیا یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ آپ سے آپ وجود میں آ گئے ہیں اور ان پر الگ الگ دیوتاؤں کی خدائی ہے یا اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک ہی قادر و توانا حکیم نے یہ تمام اضداد پیدا کیے اور پھر اپنی بے پایاں حکمت سے ان میں حیرت انگیز سازگاری پیدا کر دی کہ ان میں زوجین کا سارا توافق پیدا ہو گیا ہے۔
      آسمان و زمین کی نشانیوں کی شہادت: اس کائنات کے ہر گوشہ میں، ہر چیز، آسمان اور زمین، سورج اور چاند، شب اور روز کے اندر جس طرح کا تضاد اور پھر ساتھ ہی جس طرح کا توافق پایا جاتا ہے۔ وہ صاف صاف شہادت دے رہا ہے کہ یہ کائنات مختلف الاغراض دیوتاؤں کی رزم گاہ نہیں ہے بلکہ اس پر ایک ہی قادر و قیوم کا ارادہ کارفرما ہے۔
      تضاد اور توافق کے قانون کی ہمہ گیری: ’مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰت‘ کے الفاظ سے تضاد اور توافق کے اس قانون کی ہمہ گیری کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جس طرح شب اور روز کے اندر یہ قانون کارفرما ہے اسی طرح ایک ایک پھل اور ایک ایک دانے کے اندر کارفرما ہے، خواہ انسان کو اس کا علم ہو یا نہ ہو۔ گندم کے ایک دانے کو بھی دیکھیے تو وہ بھی دو حصوں میں تقسیم نظر آتا ہے۔ تاہم دونوں میں پوری وابستگی اور پیوستگی پائی جاتی ہے ۔۔۔ کائنات کے ہر گوشہ کی یہ شہادت اس امر کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ یہ دنیا بھی تنہا نہیں ہے بلکہ اس کا بھی جوڑا ہے اور وہ ہے آخرت۔ اپنے اسی جوڑے کے ساتھ مل کر ہی یہ اپنی غایت کو پہنچتی ہے ورنہ اس کا وجود بالکل بے مقصد اور بے غایت ہو کے رہ جاتا ہے۔
      نشانیاں صرف اہل حق کے لیے کارآمد ہیں: ’اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ‘ یعنی ان چیزوں کے اندر خدا کے خلق و تدبیر، اس کی قدرت و حکمت، اس کی توحید اور آخرت کی بہت سی نشانیاں ہیں لیکن ان نشانیوں تک انہی لوگوں کی عقلیں پہنچتی ہیں جو ان پر غور کرتے ہیں اور ان سے جو رہنمائی حاصل ہوتی ہے اس کو حرزجاں بناتے ہیں۔ بے فکرے اور لاابالی لوگ ان چیزوں سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔

      جاوید احمد غامدی اور وہی ہے جس نے زمین کو بچھایا اور اُس میں پہاڑوں کے کھونٹے گاڑے اور ندیاں بہا دیں اور اُس میں ہر طرح کے پھلوں کے جوڑے پیدا کیے۔ وہ رات کو (چادر کی طرح) دن پر اڑھا دیتا ہے۔ یقیناًاِن سب چیزوں میں اُن لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو غور کریں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی جس طرح حیوانات کے جوڑے ہیں، اُسی طرح درختوں کے بھی نر و مادہ ہیں جن سے طرح طرح کے پھل پیدا ہوتے ہیں۔
      اوپر آسمان کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی تھی، اُس کے بعد اب یہ زمین کی نشانیوں کی طرف متوجہ کیا ہے کہ اِنھیں بھی دیکھو۔ دریا، پہاڑ، زمین سے پیدا ہونے والے قسم قسم کے پھل اور لیل و نہار کی گردش، یہ سب کس قدر مختلف چیزیں ہیں، مگر کس بے پایاں حکمت، بے مثال نظم و ترتیب اور کتنی اتھاہ معنویت کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ متعلق ہیں۔ یہ اِس بات کا صریح ثبوت ہے کہ نہ یہ زمین و آسمان آپ سے آپ وجود میں آئے ہیں اور نہ اِن پر الگ الگ دیوتاؤں کی حکمرانی ہے، بلکہ ایک ہی قادر و حکیم ہے جس نے اِن کی ہر چیز میں یہ حیرت انگیز توافق، ہم آہنگی اور سازگاری پیدا کر دی ہے۔ اِس کو دیکھنے اور اِس پر غور کرنے کے بعد بھی اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ موت کے بعد کوئی زندگی نہیں ہے اور ایک دن یہ سب خاک میں گم ہو جائے گا تو یہ عقل و دانش کی نہیں، بلکہ حماقت و بلادت کی دلیل ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور زمین میں پاس پاس کے قطعے ہیں، انگوروں کے باغ ہیں، کھیتی ہے اور کھجور ہیں۔ جڑواں بھی ہیں اور اکہرے بھی۔ سب ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں لیکن ہم پیداوار میں ایک کو دوسرے پر ترجیح دے دیتے ہیں۔ بے شک اس کے اندر نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      زمین کی نشانیوں کے ایک اور پہلو کی طرف اشارہ: یہ زمین کی نشانیوں کے ایک اور پہلو کی طرف توجہ دلائی کہ دیکھتے ہو کہ زمین کے بالکل پاس پاس کے قطعے ہیں، بعض میں انگور کے باغ ہیں، بعض میں کھیتیاں ہیں، بعض میں کھجور ہیں، جن میں بعض کے تنے اکہرے ہیں، بعض کے دوہرے۔ ٹکڑے پاس پاس کے ہیں، سیراب سب ایک ہی پانی سے ہوتے ہیں، لیکن پیداوار کی مقدار میں فرق ہو جاتا ہے، کسی کی پیداوار زیادہ ہوتی ہے کسی کی کم، مزے میں بھی اختلاف ہو جاتا ہے، کسی کا مزا معیار پر ہوتا ہے کسی کا معیار سے اترا ہوا، درختوں کی نشوونما میں بھی بڑا فرق ہوتا ہے، کہیں ایک ہی جڑ سے کئی کئی تنے پھوٹ نکلے ہیں، کہیں ایک ہی تنا نکلا ہے۔ یہ صورت حال اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ یہ سب کچھ آپ سے آپ ہو رہا ہے اور نیچر کا ایک اندھا بہرہ قانون سب پر مسلط ہے یا اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ ایک ہی خدائے علیم و حکیم اس پورے نظام کائنات کو اپنی نگرانی میں چلا رہا ہے اور سارے عالم اسباب پر تنہا اسی کی حکمرانی ہے اور وہ اپنی حکمت کے تحت اس کے ذرے ذرے پر تصرف فرما رہا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور زمین میں پاس پاس کے قطعے ہیں، انگوروں کے باغ ہیں، کھیتی ہے، کھجور کے درخت ہیں، جن میں جڑواں بھی ہیں اور اکہرے بھی ۔سب ایک ہی پانی سے سیراب کیے جاتے ہیں، لیکن اُن کے پھلوں میں ہم ایک کو دوسرے پر برتری دے دیتے ہیں۔ یقیناًاِن سب چیزوں میں اُن لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      درختوں کی نشوونما میں جو فرق پیدا ہوجاتا ہے، یہ اُس کا ذکر ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ کہیں ایک ہی جڑ سے کئی کئی تنے پھوٹ نکلتے ہیں اور کہیں ایک ہی تنا نکلتا ہے۔
      یعنی اِس بات کی نشانیاں کہ کائنات کا خالق زمین کی پیداوار میں کس قدر تنوع، رنگا رنگی، جدت اور بوقلمونی کے ساتھ اپنی ہمہ گیر قدرت اور اپنے بے خطا علم و حکمت کو نمایاں کرتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور اگر تم تعجب کرو تو تعجب کے قابل ان کی یہ بات ہے کہ، کیا جب ہم مٹی ہو جائیں گے تو ہم ازسرنو وجود میں آئیں گے! یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کا انکار کیا، یہی لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں اور یہی لوگ اہل دوزخ ہیں، یہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      تعجب کی اصل بات: یعنی خدا کی قدرت و حکمت اور اس کے خلق و تدبیر کی ان نشانیوں کی موجودگی میں جن کا ذکر اوپر ہوا، تعجب کرنے کی بات وہ نہیں ہے جس سے تم (خطاب پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے) لوگوں کو آگاہ کر رہے ہو کہ مرنے کے بعد اٹھنا اور خدا کے حضور حساب کتاب کے لیے حاضر ہونا ہے بلکہ تعجب کے قابل ان لوگوں کا یہ تعجب ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ جب ہم سڑ گل کر خاک ہو جائیں گے تو کیا ازسرنو زندہ کیے جائیں گے۔
      خدا کو ماننے کا صحیح مفہوم: ’اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّہِمْ‘۔ فرمایا کہ اپنے رب کے اصلی منکر درحقیقت یہ لوگ ہیں۔ خدا کو ماننے کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ کوئی شخص یہ مان لے کہ خدا ہے بلکہ اس کو اس کی صفات اور اس کے حقوق کے ساتھ ماننا ضروری ہے، اگر کوئی شخص خدا کا اقرار کرتا ہے لیکن اس کی بدیہی اور لازمی صفات یا ان سے عاید شدہ حقوق و لوازم کا منکر ہے تو وہ اپنے اقرار کے باوجود مومن نہیں بلکہ کافر ہے۔ خدا کی میزان میں اس کے اس اقرار کا کوئی وزن نہیں ہے۔ خدا کسی کے ماننے کا محتاج نہیں ہے بلکہ لوگ اس کے ماننے کے محتاج ہیں اور یہ چیز اس کو صحیح طور پر ماننے سے ہی حاصل ہوتی ہے۔
      منکرین کے انکار کی اصل علت: ’اُولٰٓءِکَ الْاَغْلٰلُ فِیْٓ اَعْنَاقِھِمْ‘۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کی گردنوں میں کبر و انانیت، خودپرستی، تقلید اعمیٰ اور جمود کے طوق پڑے ہوئے ہیں۔ یہ طوق نہ ان کی گردنیں اوپر کی طرف اٹھنے دیتے ہیں کہ یہ آسمان کی ان نشانیوں پر غور کر سکیں جن کی طرف قرآن نے آیت ۲ میں اشارہ فرمایا ہے اور نہ زمین کی ان نشانیوں کی طرف جھکنے دیتے جن کا حوالہ آیات ۳-۴ میں ہے۔ نتیجہ اس اندھے پن کا یہ ہے کہ یہ دوزخ میں پڑیں گے اور اسی میں ہمیشہ سڑیں گے۔ اس حقیقت کو سورۂ یٰسین میں یوں واضح فرمایا ہے۔ ’اِنَّا جَعَلْنَا فِیْ اَعْنَاقِھِمْ اَغْلَالًا فَھِیَ اِلَی الْاَذْقَانِ فَھُمْ مُّقْمَحُوْنَ‘ (۸)

      جاوید احمد غامدی اب اگر تعجب کرو تو تعجب کے قابل تو اِن کی یہ بات ہے کہ جب ہم مٹی ہو جائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کیے جائیں گے؟ یہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے پروردگار کا انکار کر دیا ہے۔ یہی ہیں جن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے ہیں۔ یہی دوزخ کے لوگ ہیں، یہ اُس میں ہمیشہ رہیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ اگر کسی بات پر تعجب کرنا ہے تو زمین وآسمان کی اُن نشانیوں کو دیکھ کر ، جن کا ذکر اوپر ہوا ہے، اُن لوگوں کی بات پر تعجب کرنا چاہیے جو مرنے کے بعد جی اٹھنے پر تعجب کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ نشانیاں تو پکار پکار کر شہادت دے رہی ہیں کہ جس خدا نے اپنی مخلوقات میں کمال حکمت کے یہ نمونے دکھائے ہیں، اُس کا کوئی کام بھی عبث نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا ممکن نہیں ہے کہ وہ انسان جیسی مخلوق کو پیدا کرکے اُسے یوں ہی خاک میں گم کر دے گا اور اُس کے لیے کوئی ایسی دنیا نہیں بنائے گا، جہاں اُس کا باطن ہر لحاظ سے اُس کے ظاہر کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائے ۔
      یہ اِس لیے فرمایا ہے کہ آخرت کا انکار درحقیقت خدا کا انکار ہے، کیونکہ آخرت کے انکار کے بعد خدا کے اقرار کے بھی کوئی معنی نہیں ہیں۔ یہ ، اگر غور کیجیے تو خدا کی تمام اعلیٰ صفات قدرت، ربوبیت، علم اور حکمت کا انکار ہے۔ جو شخص اِن صفات کے بغیر خدا کو مانتا ہے، اُس کا ماننا اور نہ ماننا، دونوں برابر ہیں۔
      یعنی جہالت، ہٹ دھرمی، انانیت، تعصب اور اندھی تقلید کے طوق جو استاذ امام کے الفاظ میں اِن کی گردنیں نہ اوپر اٹھنے دیتے ہیں کہ آسمان کی نشانیوں پر غور کریں اور نہ زمین کی طرف جھکنے دیتے ہیں کہ اُس کی نشانیوں پر تدبر کی نگاہ ڈالیں۔ چنانچہ جو زاویۂ نظر اپنے لیے مقرر کیے ہوئے ہیں، اُسی پر جم کر رہ گئے ہیں۔ اُس سے ہٹ کر کسی اور طرف نظر دوڑانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور یہ لوگ خیر سے پہلے شر کے لیے تم سے جلدی مچائے ہوئے ہیں۔ حالانکہ ان سے پہلے عقوبت کی مثالیں گزر چکی ہیں۔ تمہارا رب لوگوں کی زیادتیوں کے باوجود ان سے درگزر کرنے والا بھی ہے اور تیرا رب سخت سزا دینے والا بھی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      عاقل وہ ہے جو دوسروں سے سبق حاصل کرے: قوموں کی تاریخ میں نشان عبرت: ’مثلت‘ ’مَثُلَۃ‘ کی جمع ہے۔ اس کے معنی عقوبت اور عبرت انگیز عذاب کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ توبہ اور اصلاح سے پہلے کسی آفت اور عذاب کے منتظر ہیں۔ کہتے ہیں کہ جب ہم اس عذاب کی کوئی نشانی دیکھ لیں گے جس سے پیغمبر ڈرا رہے ہیں، تب ہم ان کی بات مانیں گے۔ حالانکہ عاقل وہ ہے جو دوسروں سے سبق حاصل کرے۔ ان سے پہلے کتنی قومیں گزر چکی ہیں جنھوں نے انھی کی طرح اپنے اپنے پیغمبروں کی تکذیب کی اور بالآخر کیفر کردار کو پہنچیں۔ ان کی سرگزشتیں ان کو سنائی بھی جا رہی ہیں۔ کیا ان کے اندر ان کے لیے درس عبرت موجود نہیں ہے؟ یہ تو اللہ کی عنایت ہے کہ وہ لوگوں کو ان کے کفر و شرک کے باوجود توبہ و اصلاح کی طویل مہلت دیتا ہے لیکن اس مہلت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ اس کے گزر جانے کے بعد جب وہ پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ بھی بڑی ہی سخت ہوتی ہے۔

      جاوید احمد غامدی یہ بھلائی سے پہلے تم سے برائی کے لیے جلدی مچا رہے ہیں، دراں حالیکہ (اِس رویے پر) عبرت ناک عذاب کی مثالیں اِن سے پہلے گزر چکی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تیرا پروردگار لوگوں کی زیادتیوں کے باوجود اُن سے درگذر فرمانے والا ہے۔ اور (اِس کے ساتھ) یہ بھی حقیقت ہے کہ تیرا پروردگار سخت سزا دینے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ اِنھیں تو تم سے خدا کی رحمت و عنایت اور اپنے لیے خیر و صلاح کی طلب کرنی چاہیے تھی، مگر یہ اُس سے پہلے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ کہتے ہیں کہ اس پر اس کے رب کی جانب سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی؟ تم تو بس ایک آگاہ کر دینے والے ہو اور ہر قوم کے لیے ایک ہادی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مطالبۂ عذاب کا جواب: ’اٰیت‘ سے مراد یہاں کوئی نشانئ عذاب ہے۔ اوپر والی آیت میں جس عذاب کے لیے عجلت کا ذکر ہے یہ اسی کی طرف اشارہ ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر ہمیں جس عذاب کے ڈراوے ہر وقت سنا رہے ہیں آخر اس کی کوئی نشانی یہ کیوں نہیں دکھاتے؟ فرمایا کہ تمہارا کام صرف لوگوں کو اس عذاب سے خبردار کر دینا ہے، اس کی کوئی نشانی دکھانا یا اس عذاب کو لا دینا تمہارا کام نہیں ہے۔ یہ ہمارا کام ہے۔ تم اپنا کام کرو اور ہمارا کام ہم پر چھوڑو۔ ان کی بکواسوں کی پروا مت کرو۔ ’وَلِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ‘ میں اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو سزا دینے سے پہلے اس کو انذار و تنبیہ فرماتا ہے چنانچہ ان کے انذار کے لیے خدا نے تمہیں ہادی بنا کر بھیج دیا ہے جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ اگر انھوں نے تمہاری ہدایت قبول نہ کی تو اب اس کے بعد ان کے لیے عذاب ہی کا مرحلہ باقی رہ جاتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی یہ منکرین کہتے ہیں کہ اِس شخص پر اِس کے پروردگار کی طرف سے (عذاب کی) کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی؟ (اِنھیں بتاؤ کہ یہ تمھارا کام نہیں ہے، اِس لیے کہ) تم تو صرف خبردار کرنے والے ہو اور ہر قوم کے لیے (اِسی طرح) ایک راہ بتانے والا (آتا رہا) ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اللہ ہی جانتا ہے ہر مادہ کے حمل کو اور جو کچھ رحموں میں گھٹتا اور بڑھتا ہے اس کو بھی اور ہر چیز اس کے ہاں ایک اندازہ کے مطابق ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یعنی ایک بات جو ایک امر واقعی اور شدنی ہے اس میں اس بنیاد پر کوئی شبہ قائم کرنا کہ تم اس کا وقت معین طور پر نہیں بتا سکتے یا ان کے مطالبے پر اس کو دکھا نہیں سکتے، کوئی معقول بات نہیں ہے۔ ایک عورت حاملہ ہوتی ہے، اس کے رحم میں لڑکا ہے یا لڑکی، اس کو صرف اللہ ہی جانتا ہے، اس میں درپردہ جو کمی بیشی واقع ہوتی ہے اس کو بھی اللہ ہی جانتا ہے، اس کے وضع کا ٹھیک ٹھیک وقت بھی اللہ ہی کے علم میں ہوتا ہے۔ ان باتوں کے نہ جاننے سے نہ تو نفس حمل کی نفی ہوتی اور نہ کوئی عاقل اس بنیاد پر ایک حاملہ کے حاملہ ہونے سے انکار کرتا ہے۔ یہی مثال ان ظالموں کے لیے عذاب الٰہی کی ہے۔ انھوں نے اپنے عقاید و اعمال کے فساد کے باعث اس کا حمل قبول کر لیا ہے اور یہ حمل لازماً اپنی مدت کو پہنچ کر ظہور میں آئے گا لیکن کب آئے گا اور کس شکل و صورت میں آئے گا اس کا ٹھیک ٹھیک پتہ صرف اللہ ہی کو ہے، کسی دوسرے کو اس کا علم نہیں ہے۔ ’کُلُّ شَیْءٍ عِنْدَہٗ بِمِقْدَارٍ‘ اللہ کے ہاں ہر چیز کے لگے بندھے ضابطے، معین پیمانے اور مقرر اوقات ہیں۔ لوگوں کی جلد بازی سے وہ سنت الٰہی متغیر نہیں ہوتی جو اس نے ہر چیز کے لیے مقرر کر رکھی ہے۔

      جاوید احمد غامدی (اِن پر عذاب کے لیے کوئی نشانی کب ظاہر ہو گی؟ اِسے اللہ جانتا ہے، جس طرح) اللہ ہر مادہ کے حمل کو جانتا ہے اور جو کچھ رحموں میں گھٹتا اور بڑھتا ہے، اُس کو بھی جانتا ہے۔ ہر چیز اُس کے ہاں ایک اندازے کے مطابق ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہر حاملہ کے وضع حمل کا ٹھیک ٹھیک وقت صرف اللہ کے علم میں ہوتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ اُس میں درپردہ کیا کمی بیشی ہو رہی ہے، اُسی طرح عذاب کا وقت بھی اُسی کے علم میں ہے اور وہی جانتا ہے کہ تمھارے حالات کے لحاظ سے اُس میں کیا کمی بیشی کرنی ہے۔ میں تو جو کچھ بتا سکتا ہوں، وہ یہ ہے کہ اپنے عقیدہ و عمل کے فساد کا حمل تم لوگ بھی قبول کر چکے ہو اور اپنی مدت کو پہنچ کر وہ بھی لازماً ظہور میں آ جائے گا۔ میں اُسی سے تمھیں خبردار کر رہا ہوں، جس طرح پہلی قوموں کے رسول کرتے رہے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی وہ غائب و حاضر سب کا جاننے والا، عظیم اور عالی شان ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ اوپر والے مضمون کی مزید توضیح و تاکید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا کی باتوں، اس کے علم اور اس کے منصوبوں کو اپنے محدود علم سے ناپنے کی کوشش نہ کرو۔ اس کا علم تمام غائب و حاضر کا احاطہ کیے ہوئے ہے، وہ بڑی ہی عظیم ہستی اور اس کی بارگاہ بہت بلند ہے۔ وہ اپنے ارادوں اور اپنی اسکیموں کے بھیدوں کو خود ہی جانتا ہے، دوسرے اس میں سے اتنا ہی جان سکتے ہیں، جتنا وہ ظاہر کر دے۔

      جاوید احمد غامدی وہ غائب و حاضرکا جاننے والا ہے، سب سے بڑا ہے، سب سے برتر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اس کے علم میں یکساں ہیں تم میں سے وہ جو بات کو چپکے سے کہیں اور وہ جو بلند آواز سے کہیں اور جو شب کی تاریکی میں چھپے ہوئے ہوں اور جو دن کی روشنی میں نقل و حرکت کر رہے ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مطلب یہ کہ دیر سویر کی فکر تو اس کو ہو جس کو اندیشہ ہو کہ ذرا تاخیر ہوئی تو وقت نکل جائے گا اور پھر حریف قابو میں نہ آ سکے گا۔ جس کا علم اور جس کی قدرت ہر چیز اور ہر شخص کا اس طرح احاطہ کیے ہوئے ہو کہ اس کا ’سِرًّا وَّعَلَانِیَۃ‘ سب اس کے علم میں ہو اور اس کی شب اور اس کے روز کی ہر نقل و حرکت پر اس کو پورا اختیار حاصل ہو وہ پکڑنے میں جلد بازی کیوں کرے؟ وہ جب چاہے گا اور جہاں سے چاہے گا ہر ایک کو پکڑے گا۔ کس کی طاقت ہے کہ اس کے قابو سے باہر نکل سکے یا کہیں اس سے چھپ سکے۔

      جاوید احمد غامدی اُس کے علم میں یکساں ہیں جو تم میں سے چپکے سے بات کریں اور جو پکار کر کریں اور جو رات (کی تاریکی) میں چھپے ہوئے ہوں اور جو دن میں چل رہے ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی ان پر ان کے آگے اور پیچھے سے امر الٰہی کے مؤکل لگے رہتے ہیں جو باری باری سے ان کی نگرانی کرتے ہیں۔ اللہ کسی قوم کے ساتھ اپنا معاملہ اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی روش میں تبدیلی نہ کر لے اور جب اللہ کسی قوم پر کوئی آفت لانے کا ارادہ کر لیتا ہے تو وہ کسی کے ٹالے ٹل نہیں سکتی اور ان کا اس کے مقابل میں کوئی بھی مددگار نہیں بن سکتا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’مُعَقِّبٰتٍ‘ یعنی ’اَرْوَاحٌ مُّعَقِّبٰتٍ‘ مراد اس سے وہ فرشتے ہیں جو باری باری ہر انسان پر خدا کی طرف سے نگرانی کے لیے مقرر ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ ’مِنْ اَمْرِ اللّٰہِ‘ بیان کے لیے ہے جس طرح ’قُلِ الراُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ‘ اور بعض دوسری آیات میں ہے۔ یعنی یہ فرشتے یا یہ ارواح اللہ کے امر میں سے ہیں۔
      اوپر کے مضمون کی توضیح مزید: یہ آیت اوپر والی آیت کے مضمون کی توضیح مزید ہے۔ یعنی اللہ ہر شخص کے ظاہر و باطن اور اس کے شب و روز سے پوری طرح آگاہ ہے۔ اس نے ہر شخص پر اپنے فرشتے بطور پہرہ دار مقرر کر رکھے ہیں۔ یہ فرشتے اللہ کے امر میں سے ہیں جو ہر وقت ہر شخص کے ہر قول و فعل کی نگرانی کرتے ہیں۔
      عذاب کے معاملے میں سنت الٰہی: ’اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ‘۔ اب یہ قوموں کے عذاب کے معاملے میں اصل سنت اللہ کی وضاحت فرما دی کہ اللہ تعالیٰ اپنا معاملہ کسی قوم کے ساتھ اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ قوم خود اپنی روش میں تبدیلی نہ کر لے۔ جب قوم خود اپنی روش بدل لیتی ہے اور تنبیہ و انذار کے باوجود متنبہ نہیں ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس پر وہ عذاب بھیجتا ہے جس کو کوئی طاقت بھی دفع نہیں کر سکتی۔ مطلب یہ ہے کہ عذاب کی نشانیوں کا مطالبہ کرنے کے بجائے اس سنت الٰہی کی روشنی میں اپنے حالات کا جائزہ لو۔ اگر تم نے خود اپنی روش بدل لی ہے تو بس سمجھ لو کہ خدا کا تمہارے ساتھ جو معاملہ اب تک رہا ہے اب اس کے بدلنے میں بھی دیر نہیں ہے اور یہ بات بھی یاد رکھو کہ جب خدا کسی قوم پر عذاب بھیجنے کا فیصلہ کر لیتا ہے تو اس قضائے مبرم کو ٹالنے کا بوتا کسی میں نہیں ہوتا۔ تمہارے سارے اصنام خیالی اور سارے قلعے اور دمدمے ہوا ہو جائیں گے۔

      جاوید احمد غامدی اُن کے آگے اور پیچھے سے اُن پر امر الٰہی کے موکل لگے رہتے ہیں جو اُن کی نگرانی کرتے ہیں ۔ (یہ جلدی نہ مچائیں)، اللہ کسی قوم کے ساتھ اپنا معاملہ اُس وقت تک نہیں بدلتا، جب تک وہ خود اپنے رویے میں تبدیلی نہ کر لے اور جب اللہ کسی قوم کی شامت لانے کا ارادہ کر لیتا ہے تو وہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی اور نہ اللہ کے مقابل میں اُن کا کوئی مددگار ہو سکتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُس سنت الٰہی کا حوالہ ہے جس کے تحت اللہ تعالیٰ جس طرح افراد کو صبر یا شکر کے امتحان کے لیے منتخب کرتا ہے،اُسی طرح قوموں کو بھی منتخب کرتا ہے۔ اِس انتخاب کے نتیجے میں جب کوئی قوم ایک مرتبہ سرفرازی حاصل کر لیتی ہے تو اللہ اُس کے ساتھ اپنا معاملہ اُس وقت تک نہیں بدلتا، جب تک وہ علم و اخلاق کے لحاظ سے اپنے آپ کو پستی میں نہیں گرا دیتی۔ یہ خدا کی غیرمتبدل سنت ہے اور اپنی اِس سنت کے مطابق جب کسی قوم کے لیے بار بار کی تنبیہات کے بعد وہ ذلت و نکبت کا فیصلہ کر لیتا ہے تو اُس کا یہ فیصلہ کسی کے ٹالے نہیں ٹلتا اور دنیا کی کوئی قوت بھی خدا کے مقابلے میں اُس قوم کی کوئی مدد نہیں کر سکتی۔ انسان کی پوری تاریخ قوموں کے عزل ونصب میں اِس سنت کے ظہور کی گواہی دیتی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی وہی دکھاتا ہے تمہیں بجلی جو خوف بھی پیدا کرتی ہے اور امید بھی اور ابھارتا ہے بوجھل بادلوں کو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آفاق کی بعض نشانیوں کی طرف اشارہ: اب یہ اسی مطالبۂ عذاب کے جواب میں، جس کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے، آفاق کی بعض نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے کہ نشانیوں کی طلب ہے تو نشانیاں تو روز ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔ بجلی چمکتی ہے جو اپنے اندر امید و بیم دونوں کے پہلو رکھتی ہے، وہی بارش کا پیغام بھی بن کر نمودار ہوتی ہے اور اگر اللہ چاہتا ہے تو اسی کو عذاب کا تازیانہ بھی بنا دیتا ہے۔ بادل اٹھتے ہیں جو رحمت کی گھٹا بن کر بھی برستے ہیں اور اگر اللہ چاہتا ہے تو انہی کے اندر سے طوفان نوح بھی ابل پڑتا ہے ۔۔۔ ان نشانیوں کے بعد اب کن نشانیوں کے منتظر ہو؟

      جاوید احمد غامدی وہی ہے جو تمھیں بجلی دکھاتا ہے جس سے خوف بھی پیدا ہوتا ہے اور امید بھی اور وہی (پانی سے) لدی ہوئی بدلیاں اٹھاتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور بجلی کی گرج اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتی ہے اور فرشتے بھی اس کے ڈر سے اس کی تسبیح کرتے ہیں اور وہ بھیجتا ہے بجلی کے کڑکے اور ان کو نازل کر دیتا ہے جن پر چاہتا ہے اور وہ خدا کے باب میں جھگڑتے ہی ہوتے ہیں اور وہ بڑی ہی زبردست قوت والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِہٖ وَالْمَآٰءِکَۃُ مِنْ خِیْفَتِہٖ‘۔ میں حذف کا وہ اسلوب مضمر ہے جس کی طرف ہم ایک سے زیادہ مقامات میں اشارہ کر چکے ہیں کہ بعض مرتبہ مقابل الفاظ قرینہ کی وضاحت کی وجہ سے حذف کر دیے جاتے ہیں۔ اس اسلوب کو کھول دیجیے تو پوری بات گویا یوں ہو گی ’وَیُسَبِّحُ الرَّعْدُ مِنْ خیْفَتِہٖ بِحَمْدِہٖ وَالْمَآٰءِکَۃُ مِنْ خِیْفَتِہٖ بِحَمْدِہٖ‘۔ یہ بات بھی ہم دوسرے مقام میں واضح کر چکے ہیں کہ ’تسبیح‘ میں تنزیہہ کا پہلو غالب ہے اور حمد میں صفات حسنیٰ کے اقرار و اعتراف کا۔
      یہ اوپر والے مضمون ہی کی توضیح مزید ہے کہ منکرین اور مکذبین کی جسارت کا تو یہ عالم ہے کہ وہ عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں اور ادھر رعد و برق اور فرشتوں کا حال یہ ہے کہ وہ ہر وقت خوف الٰہی سے اس کی تسبیح اور حمد میں مصروف رہتے ہیں کہ معلوم نہیں کس وقت کیا حکم صادر ہو۔ پھر خدا جن پر چاہتا ہے اپنا صاعقۂ عذاب بھیج دیتا ہے اور لوگ خدا کے بارے میں جھگڑنے ہی میں مصروف ہوتے ہیں۔ خدا ’شَدِیْدُ الْمِحَالِ‘ یعنی بڑی طاقت والا ہے، کسی میں طاقت نہیں کہ اس کے وار کو روک سکے۔

      جاوید احمد غامدی اُن کی گرج اللہ کے ڈر سے اُس کی حمد کے ساتھ اُس کی پاکی بیان کرتی ہے اور فرشتے بھی (اِسی طرح) اُس کے ڈر سے اُس کی تسبیح کرتے ہیں، اُس کی حمد کے ساتھ۔ وہ کڑکتی ہوئی بجلیاں بھیجتا ہے، پھر جس پر چاہتا ہے، اُنھیں (بسا اوقات عین اُس حالت میں) گرا دیتا ہے ، جبکہ وہ خدا کے بارے میں جھگڑ رہے ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑی زبردست قوت والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      آیت میں ایک دوسرے کے مقابل الفاظ وضاحت قرینہ کی بنا پر حذف کر دیے گئے ہیں۔ ہم نے ترجمے میں اُنھیں کھول دیا ہے۔
      جو لوگ عذاب کا مطالبہ کر رہے تھے، یہ اُنھیں آفاق کی بعض نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے کہ امید و بیم کا پیغام لے کر بجلیاں تو ہر روز تمھارے سروں پر چمکتی ہیں۔ اِن کے بعد اب کس نشانی کے منتظر ہو؟ تم عذاب کا مطالبہ کر رہے ہو اور اُدھر جو چیزیں عذاب بن کر نازل ہو سکتی ہیں اور جو عذاب کا فیصلہ لے کر آتے ہیں، سب خدا کے خوف سے لرزتے اور ہر وقت اُس کی حمد اور تسبیح میں مصروف رہتے ہیں کہ معلوم نہیں ، کس وقت کیا حکم صادر ہو جائے۔

    • امین احسن اصلاحی حقیقی پکارنا تو صرف اس کو پکارنا ہے، رہے وہ جن کو یہ اس کے سوا پکارتے ہیں تو وہ ان کی کوئی بھی داد رسی نہیں کر سکتے۔ ان کو پکارنا ایسا ہی ہے کہ کوئی اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف بڑھائے کہ وہ اس کے منہ تک پہنچ جائے درآنحالیکہ وہ کسی طرح اس کے منہ تک پہنچنے والا نہ ہو۔ ان کافروں کی فریاد محض صدا بصحرا ہو گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      نتیجہ خیز پکارنا صرف خدا کو پکارنا ہے: ’لَہٗ دَعْوَۃُ الْحَقِّ‘ یعنی نتیجہ خیز، نافع اور موجب خیر و برکت پکارنا تو صرف اللہ ہی کو پکارنا ہے اس لیے کہ تمام اختیار و اقتدار اور تمام زور و اثر تنہا اسی کے اختیار میں ہے۔ جو لوگ خدا کے سوا دوسرے معبودوں سے آسرا لگائے بیٹھے ہیں، یہاں تک کہ ان کے بل پر خود خدا کو چیلنج کر رہے ہیں ان کو پکارنا محض صدا بصحرا ہے، اول تو ان کا کوئی وجود ہی نہیں اور اگر وجود ہے بھی تو وہ ان کی مدد کے معاملے میں بالکل بے بس ہیں۔
      مشرکوں کی محرومی کی تمثیل: ان کی محرومی و نامرادی کی مثال ایک ایسے پیاسے سے دی ہے جو پیاس کی بے قراری میں اپنے دونوں ہاتھ ایسے پانی کی طرف بڑھائے جو اس کی پہنچ سے باہر ہو۔ جس طرح وہ پیاس سے تڑپتا اور پانی سے محروم رہتا ہے اسی طرح یہ اپنی محرومی پر اپنے سر پیٹیں گے۔ ’وَمَا دُعَآءُ الْکٰفِرِیْنَ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ‘ کا ٹھیک مفہوم وہی ہے جس کو ہم اپنے الفاظ میں ’صدا بصحرا‘ کہتے ہیں۔ یہ گویا ’لَہٗ دَعْوَۃُ الْحَقِّ‘ کے مضمون کی تعبیر دوسرے اسلوب سے ہے۔

      جاوید احمد غامدی اُسی کو پکارنا برحق ہے۔ اُس کے سوا یہ جن کو پکارتے ہیں ، وہ اِس سے زیادہ اِن کی داد رسی نہیں کر سکتے کہ کوئی اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف بڑھائے کہ وہ اُس کے منہ تک پہنچ جائے، دراں حالیکہ وہ کسی طرح اُس کے منہ تک پہنچنے والا نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اِن منکروں کی فریاد محض صدا بہ صحرا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں سب خدا ہی کو سجدہ کرتے ہیں، خواہ طوعاً خواہ کرہاً۔ اور ان کے سائے بھی صبح اور شام۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ہر چیز کی تکوینی شہادت: یہ اوپر والے مضمون کی مزید تاکید ہر چیز کی تکوینی شہادت سے فرمائی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر چیز اپنے اصل وجود میں خدا ہی کی مطیع و منقاد ہے۔ جن کو کچھ اختیار ملا ہوا ہے اگر وہ اپنے اس اختیار سے غلط فائدہ اٹھا کر اکڑتے بھی ہیں تو وہ بھی اپنے تکوینی وجود میں خدا ہی کے آگے جھکنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہ شہادت ہے اس بات کی کہ ہمارا وجود اپنی فطرت سے خدا ہی کا مطیع ہے۔ اگر ہم خدا سے اکڑتے ہیں تو یہ حالت درحقیقت ہماری اپنی اصل جبلت سے بغاوت ہے۔ اس حقیقت کو اس مثال سے واضح فرمایا ہے کہ دیکھ لو، ہر چیز کا سایہ صبح و شام خدا کے آگے بچھا رہتا ہے اور رات بھر وہ اپنے اس تکوینی سجدہ سے سر نہیں اٹھاتا۔ صبح کو وہ آہستہ آہستہ سر اٹھاتا ہے اور پھر سورج کے زوال کے ساتھ اس پر رکوع و سجود کی وہی حالت طاری ہونی شروع ہو جاتی ہے۔ یہ مضمون سورۂ نحل کی آیات ۴۸-۴۹ میں بھی بیان ہوا ہے۔ انشاء اللہ وہاں ہم اس کی مزید تفصیل کریں گے۔ یہ دلائل کی ایک خاص قسم ہے جس کو ہم اشارات سے تعبیر کرتے ہیں۔ اگرچہ منطق کی میزان ان دلائل کی صحیح قدر و قیمت کا اندازہ لگانے سے قاصر ہے لیکن انسانی فطرت کی میزان میں ان دلائل کا بڑا وزن ہے۔

      جاوید احمد غامدی زمین اور آسمانوں میں جو بھی ہیں، سب طوعاً و کرہاً خدا ہی کو سجدہ کر رہے ہیں اور صبح و شام اُن کے سایے بھی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ استدلال کی ایک خاص قسم ہے جسے اشارات سے تعبیر کرنا چاہیے۔ اِس میں ذہن کو علامت سے حقیقت کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے۔ یہاں بھی مخاطب کو ہر چیز کے مطیع و منقاد اور قانون سے مسخر ہونے کی طرف متوجہ کرنے کے لیے یہ تعبیر اختیار فرمائی ہے کہ دیکھ لو، چیزوں کے سایے بھی رات بھر سجدے میں پڑے رہتے ہیں، صبح کو آہستہ آہستہ سر اٹھاتے اور زوال آفتاب کے بعد ایک مرتبہ پھر اُسی پروردگار کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی ان سے پوچھو آسمانوں اور زمین کا مالک کون ہے؟ کہہ دو، اللہ! ان سے پوچھو تو کیا اس کے بعد تم نے اس کے سوا ایسے کارساز بنا رکھے ہیں جو خود اپنی ذات کے لیے بھی نہ کسی نفع پر کوئی اختیار رکھتے اور نہ کسی ضرر پر۔ ان سے پوچھو، کیا اندھے اور بینا دونوں یکساں ہو جائیں گے! یا کیا روشنی اور تاریکی دونوں برابر ہو جائے گی! کیا انھوں نے خدا کے ایسے شریک ٹھہرائے ہیں جنھوں نے اسی کی طرح خلق کیا ہے جس کے سبب سے ان کو خلق میں اشتباہ لاحق ہو گیا ہے! بتا دو کہ ہر چیز کا خالق اللہ ہی ہے اور وہ واحد اور سب پر حاوی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ قُلِ اللّٰہُ‘ لفظ ’قُلْ‘ کہو، پوچھو، سوال کرو، جواب دو، سب معنوں میں آتا ہے۔ موقع و محل کی مناسبت پیش نظر رکھ کر اس کا صحیح مفہوم متعین کرنا پڑتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کا مالک اور کائنات کا رب کون ہے؟ پھر فرمایا کہ ان کو بتا دو کہ ان سب کا مالک اور رب خدا ہی ہے۔ ہم دوسرے مقام میں یہ واضح کر چکے ہیں کہ اہل عرب آسمانوں اور زمین کا خالق و مالک اصلاً اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے تھے لیکن اولیاء اور شرکاء انھوں نے بھی بنا لیے تھے جن کی نسبت ان کا گمان یہ تھا کہ یہ خدا کے بڑے چہیتے ہیں، ان کی عبادت خدا کی قربت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ انہی کی عنایت سے تمام دنیوی نعمتیں حاصل ہوتی ہیں اور اگر آخرت کا کوئی مرحلہ بالفرض پیش آیا تو یہ ان کو بخشوا لیں گے۔
      ’قُلْ اَفَاتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِہٖٓ اَوْلِیَآءَ لَا یَمْلِکُوْنَ لِاَنْفُسِہِمْ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا‘۔ یعنی جب آسمانوں اور زمین کا مالک وہی ہے تو ان سے پوچھو کہ کس منطق سے انھوں نے خدا کے دوسرے ولی اور کارساز بنا لیے ہیں جن کا حال یہ ہے کہ یہ بے چارے دوسروں کو کوئی نفع پہنچانا یا ان سے کسی ضرر کو دفع کرنا تو الگ رہا خود اپنے کو کوئی نفع پہنچانے یا اپنے اوپر کسی آئی ہوئی مصیبت کو دور کرنے پر بھی قادر نہیں ہیں۔
      ’قُلْ ھَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَالْبَصِیْرُ اَمْ ھَلْ تَسْتَوِی الظُّلُمٰتُ وَالنُّوْرُ‘
      ’اَعْمٰی‘ اور ’بَصِیْر‘ کا مفہوم: ’ظُلُمٰت‘ اور ’نُوْر‘ سے مراد: ’اَعْمٰی‘ اور ’بَصِیْر‘ کے الفاظ یہاں عقلی و اخلاقی اندھوں اور بیناؤں کے مفہوم میں استعمال ہوئے ہیں۔ اسی طرح ’ظُلُمٰت‘ سے مراد عقلی اور اخلاقی تاریکیاں ہیں اور ’نُوْر‘ سے مراد عقلی و ایمانی روشنی۔ ’ظُلُمٰت‘ جمع لانے میں، جب کہ مقابل ’نُوْر‘ واحد استعمال ہوا ہے، ایک لطیف نکتہ بھی ہے۔ وہ یہ کہ عقلی و اخلاقی مفاسد کے ظہور میں آنے کے راستے اور دروازے مختلف ہو سکتے ہیں اور ہوتے ہیں لیکن عقلی و اخلاقی روشنی کا دروازہ ایک ہی ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ۔
      شرک کی جڑ پر کلہاڑا: اب یہ شرک کی جڑ پر کلہاڑا مارا گیا ہے کہ تم خدا کے شریک مانتے ہو جن کی نسبت تمہارا گمان یہ ہے کہ وہ اپنے پجاریوں کو، خواہ ان کے اعمال و افعال اور عقائد و نظریات کچھ ہوں، خدا کی پکڑ سے بچا لیں گے تو دوسرے لفظوں میں اس کے معنی یہ ہوئے کہ خدا کی نگاہ میں اندھے اور بصیر، اور تاریکی اور روشنی دونوں یکساں ہوئے۔ اس طرح تم نے اس حق و عدل کی بنیاد ہی ڈھا دی جس پر یہ آسمان و زمین قائم ہیں اور جس کی نفی کے بعد یہ سارا عالم ایک اندھیر نگری یا کسی کھلنڈرے کا کھیل بن کے رہ جاتا ہے۔
      شرک کس دلیل کی بنا پر؟ ’اَمْ جَعَلُوْا لِلّٰہِ شُرَکَآءَ‘ یعنی آخر کس دلیل کی بنا پر انھوں نے خدا کے شریک بنائے ہوئے ہیں۔ کیا مخلوقات میں کچھ ان کے مزعومہ شرکاء کی پیدا کی ہوئی مخلوقات بھی ہیں جن کے سبب سے ان کو یہ گھپلا پیش آ گیا ہے کہ یہ متعین نہیں کر پا رہے ہیں کہ کس کو خدا کی مخلوق قرار دیں اور کس کو اپنے شرکاء کی۔ ’قُلِ اللّٰہُ خَالِقُ کُلِّ شَیْءٍ وَّھُوَ الْوَاحِدُ الْقَھَّارُ‘۔ مطلب یہ ہے کہ خالق تو ہر شے کا اللہ ہی ہے اور اس حقیقت سے تمہیں بھی انکار نہیں ہے تو پھر خدا کی خلق میں تم نے دوسروں کو کس دلیل سے شریک بنا کے رکھ دیا۔ لفظ ’قَھَّار‘ پر دوسرے مقام میں ہم بحث کر چکے ہیں کہ اس کا صحیح مفہوم ہے سب کو اپنے کنٹرول میں رکھنے والا، مطلب یہ ہے کہ وہ خالق بھی ہے اور سب کو اپنے کنٹرول میں رکھنے پر قادر بھی ہے تو ضرورت کیا ہے جس کی بنا پر دوسرے شریکوں کو اس کی خدائی میں شریک مانا جائے۔

      جاوید احمد غامدی اِن سے پوچھو، زمین اور آسمانوں کا مالک کون ہے؟ کہہ دو، اللہ۔ اِن سے پوچھو، کیا پھر بھی تم نے اُس کے سوا ایسے کارساز بنا رکھے ہیں جو خود اپنے لیے بھی کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے؟ اِن سے پوچھو، کیا اندھے اور آنکھوں والے، دونوں یکساں ہو جائیں گے؟ یا اندھیرے اور روشنی ، دونوں برابر ہوں گے؟ (اگر ایسا نہیں تو) کیا اُنھوں نے خدا کے ایسے شریک ٹھیرائے ہیں جنھوں نے اُسی طرح پیدا کیا ہے، جس طرح خدا نے پیدا کیا ہے، سو اُن پر تخلیق کا معاملہ مشتبہ ہو گیا ہے؟ اِنھیں بتا دو کہ ہر چیز کا خالق اللہ ہی ہے اور وہ یکتا ہے، سب پر غالب ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی خدا کی نگاہ میں برابر ہوں گے اور تمھارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کی بات مان کر وہ عقلی اور اخلاقی لحاظ سے اندھوں اور بیناؤں کو ایک ہی انجام سے دوچار کر دے گا؟ آیت میں یہ چیز بھی قابل توجہ ہے کہ اندھیرے کے لیے ’ظُلُمٰت‘ کا لفظ جمع لائے ہیں، جبکہ اُس کے مقابل لفظ ’نُوْر‘ واحد استعمال ہوا ہے۔ اِس سے یہ لطیف اشارہ مقصود ہے کہ تاریکیاں ہزار راستوں سے ظہور میں آتی ہیں، مگر روشنی اور اجالے کا منبع ایک ہی ہے اور وہ اِس کائنات کا پروردگار ہے۔
      چنانچہ مجبور ہیں کہ کسی نہ کسی درجے میں دوسروں کو بھی خالق مان کر خدائی میں شریک ٹھیرائیں۔

    • امین احسن اصلاحی اس نے آسمان سے پانی برسایا تو وادیاں اپنے اپنے ظرف کے مطابق بہہ نکلیں۔ پھر سیلاب نے ابھرتے جھاگ کو اٹھا لیا اور اسی طرح کا جھاگ ان چیزوں کے اندر سے بھی ابھرتا ہے جن کو یہ زیور یا اسی قسم کی کوئی اور چیز بنانے کے لیے آگ میں تپاتے ہیں۔ اسی طرح اللہ حق اور باطل کو ٹکراتا ہے تو جھاگ تو بے مصرف ہو کر اڑ جاتا ہے لیکن جو چیز لوگوں کو نفع پہنچانے والی ہوتی ہے وہ زمین میں ٹک جاتی ہے۔ اسی طرح اللہ تمثیلیں بیان کرتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اوپر آیت ۱۶ میں اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا تھا کہ شرک اور شفاعت باطل کا سب سے زیادہ گھنونا پہلو یہ ہے کہ یہ اندھے اور بینا اور نور و ظلمت یا بالفاظ دیگر حق و باطل سب کو ایک ہی درجے میں کر دیتا ہے جو بالبداہت عقل و انصاف کے خلاف ہے۔ اب ایک قدم بڑھ کر یہ واضح کیا جا رہا ہے کہ یہ چیز اس کائنات کی فطرت کے بھی خلاف ہے اور سنت الٰہی کے بھی جو اس کائنات میں جاری و نافذ ہے۔
      فطرت کائنات کی شہادت: اس کائنات کی فطرت کو یوں واضح فرمایا کہ تم دیکھتے ہو کہ آسمان سے بارش ہوتی ہے تو وادیاں اور نالے لبریز ہو کر بہہ نکلتے ہیں، پھر دیکھتے ہو کہ سیلاب جھاگ کو ابھار کر اوپر کر دیتا ہے، پھر جھاگ تو خس و خاشاک ہو کر ہوا میں اڑ جاتا ہے لیکن پانی جو زمین اور اہل زمین کے لیے نافع ہے زمین میں ٹک جاتا ہے۔
      پھر اسی حقیقت کو ایک دوسری مثال سے سمجھایا کہ چاندی کو کوئی زیور یا کوئی اور چیز بنانے کے لیے کٹھالی میں پگھلاتے ہو تو اس کا میل کچیل تو اوپر آ کر اڑ جاتا ہے اور چاندی باقی رہ جاتی ہے۔
      حق و باطل کی کشمکش میں بقائے نافع: ان دونوں مثالوں سے خدا کی بنائی ہوئی اس کائنات کا مزاج واضح ہو جاتا ہے کہ یہ درحقیقت نافع کو باقی رکھنا چاہتی ہے اور غیر نافع کو برابر چھانٹتی رہتی ہے۔ پھر اسی پر اللہ تعالیٰ نے اپنی اس سنت کو مبنی کیا ہے کہ وہ بھی اسی طرح حق اور باطل کو ٹکراتا ہے تو اس ٹکراؤ سے حق کے اوپر باطل کا جو جھاگ ابھرتا ہے وہ یوں ہی خس و خاشاک کی طرح اڑ جاتا ہے البتہ حق جو لوگوں کو نفع پہنچانے والی چیز ہے وہ باقی رہ جاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اسی طرح اس وقت قرآن کی صورت میں جو بارش زمین پر ہوئی ہے اس نے بھی کچھ جھاگ ابھار کر اوپر کر دیے ہیں لیکن یہ سارے جھاگ فنا ہو جائیں گے اور قرآن اور اس کے حاملین باقی رہ جائیں گے۔
      ’کَذٰلِکَ یَضْرِبُ اللّٰہُ الْاَمْثَالَ‘ اس سے آگے کا ٹکڑا حذف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ یہ تمثیلیں اس لیے پیش کر رہا ہے کہ ان کے اندر وہ لوگ بھی اپنا مستقبل دیکھ لیں جو باطل کی حمایت میں آستینیں چڑھائے ہوئے ہیں اور اہل ایمان بھی اپنا روشن مستقبل دیکھ لیں۔

      جاوید احمد غامدی اُس نے آسمان سے پانی برسایا تو وادیاں اپنے اپنے ظرف کے مطابق بہ نکلیں۔ پھر سیلاب نے ابھرتے جھاگ کو اُٹھا لیا اور اِسی طرح کا جھاگ اُن چیزوں کے اندر سے بھی ابھرتا ہے جنھیں زیور یا (اِسی قسم کا) دوسرا سازوسامان بنانے کے لیے آگ میں پگھلاتے ہیں۔ اللہ اِسی طرح حق اور باطل کو ٹکراتا ہے۔ سو جھاگ تو رائگاں جاتا ہے اور جو چیز لوگوں کو نفع پہنچانے والی ہے، وہ زمین میں ٹھیر جاتی ہے۔ اللہ اِسی طرح مثالیں بیان کرتا ہے ، (جن سے تم اِس حقیقت کو سمجھ سکتے ہو)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ وحی الٰہی کی صورت میں جو بارش اِس وقت ہو رہی ہے، اُس نے بھی منکرین کے ہنگامہ و شورش کی صورت میں کچھ جھاگ اٹھا دیا ہے جو اِس طرح چرخ کھا رہا ہے کہ شاید کچھ دیر تک سطح پر وہی نظر آئے گا، لیکن تم دیکھو گے کہ بہت جلد یہ سارا جھاگ فنا ہو جائے گا اور جو کچھ باقی رہے گا، وہ قرآن اور اُس کے حاملین ہوں گے۔ خدا کی سنت یہی ہے جس کا ظہور اِس کائنات میں ہر جگہ ہوتا ہے، جس طرح کہ مثال سے واضح ہے اور رسولوں کی بعثت کے بعد جب حق و باطل میں کشمکش برپا ہوتی ہے تو انسانوں کے لیے بھی لازماً ہو جاتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی جن لوگوں نے اپنے رب کی دعوت کو لبیک کہا ان کے لیے انجام کار کی فیروز مندی ہے اور جن لوگوں نے اس کی دعوت قبول نہیں کی اگر ان کو وہ سب کچھ حاصل ہو جائے جو زمین میں ہے اور اسی کے برابر اور بھی تو وہ فدیہ میں دے ڈالیں۔ یہی لوگ ہیں جن کا حساب برا اور ان کا ٹھکانا جہنم ہو گا اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اصل حقیقت سادہ لفظوں میں: ’اَلْحُسْنٰی‘ کا موصوف یہاں، بربنائے وضاحت قرینہ، محذوف ہے، یعنی ’اَلْعَاقِبَۃُ الْحُسْنٰی‘ اوپر تمثیلی رنگ میں جو بات فرمائی گئی تھی وہی بات سادہ لفظوں میں کہہ دی گئی ہے کہ جو لوگ آج اس دعوت پر لبیک کہہ رہے ہیں جو اللہ کا رسول قرآن کی شکل میں پیش کر رہا ہے ان کا انجام تو بخیر ہے، رہے وہ لوگ جو اس سے گریز یا اس کی مخالفت کر رہے ہیں تو وہ یاد رکھیں کہ جب ان کے سامنے ان کا انجام آئے گا تو اس وقت ان کا یہ حال ہو گا کہ اگر ساری دنیا بھی ان کو ہاتھ آ جائے اور اسی کے برابر مزید بھی تو وہ سب کچھ اس سے جان چھرانے کے لیے فدیہ میں دے دینا چاہیں گے۔ فرمایا کہ یہی لوگ ہیں جن کے لیے برا حساب ہے، ان کا ٹھکانا جہنم ہو گا اور وہ نہایت برا ٹھکانا ہے۔ ’سُوْٓءُ الْحِسَاب‘ سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ ان کی ایک ایک چھوٹی سے چھوٹی بات پر بھی گرفت ہو گی، اور ان کا ہر قول و فعل اپنی اصلی بھیانک شکل میں سامنے آئے گا۔ اہل ایمان کے ساتھ تو ان کی لغزشوں اور کوتاہیوں کے معاملے میں چشم پوشی برتی جائے گی لیکن ان اکڑنے والوں کی رائی بھی ہو گی تو وہ پہاڑ بن کر سامنے آئے گی۔
      ’لَوْ اَنَّ لَھُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا‘ سے ان کے اعراض و انکار کے اصل سبب پر روشنی پڑ رہی ہے کہ یہ اس دنیا اور متاع دنیا کی محبت ہے جو قرآن کی دعوت سے انھیں روک رہی ہے لیکن جس دنیا کا عشق آج ان سے یہ حرکت کرا رہا ہے جب اس کا انجام سامنے آئے گا تو یہ سارا عشق ہرن ہو جائے گا۔ اس وقت تو یہ چاہیں گے کہ یہ ساری دنیا اور اس کے برابر ایک اور دنیا بھی انھیں مل جائے تو وہ یہ سب کچھ فدیہ میں دے کر کسی طرح اس سے نجات حاصل کریں۔

      جاوید احمد غامدی جن لوگوں نے اپنے رب کی دعوت کو لبیک کہا، اُن کے لیے اچھا انجام ہے اور جنھوں نے اُس کی دعوت قبول نہیں کی، (اُن کا حال یہ ہو گا کہ) اُنھیں اگر وہ سب کچھ حاصل ہوجائے جو زمین میں ہے اور اُسی کے برابر اور بھی تو سب اپنی رہائی کے لیے دے ڈالیں۔ یہی لوگ ہیں جن کا حساب برا اور جن کا ٹھکانا جہنم ہو گا اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی ایسا سخت ہو گا کہ چھوٹی سے چھوٹی بات بھی بری طرح گرفت میں آئے گی، کسی لغزش سے چشم پوشی نہیں ہو گی اور اُن کے اعمال نامے میں رائی کے برابر برائی بھی اُن کے لیے پہاڑ بن کر سامنے آ جائے گی۔

    • امین احسن اصلاحی تو کیا جو جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے رب کی جانب سے اتارا گیا ہے وہ حق ہے وہ اس کے مانند ہو جائے گا جو اندھا ہے۔ یاددہانی تو اہل عقل ہی حاصل کرتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      پیغمبر صلعم کو تسلی، منکرین کو تہدید: ’اَعْمٰی‘ کا لفظ، جیسا کہ آیت ۱۶ میں عقل و دل کے اندھوں کے لیے آیا ہے اسی طرح اس آیت میں بھی یہ عقل و دل کے اندھوں کے لیے وارد ہوا ہے۔ یہ آیت بطور التفات، پیغمبر صلعم کی تسلی کے لیے بھی ہے اور مکذبین و منکرین کی تہدید و وعید کے لیے بھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی کا پہلو تو یہ ہے کہ تم قرآن کی شکل میں جو دعوت پیش کر رہے ہو اس کے بارے میں ہر ایک کا رویہ یکساں نہیں ہو گا۔ اس سے یاددہانی وہی حاصل کریں گے جو ’اُوْلُوا الْاَلْبَابِ‘ یعنی عقل و دل رکھنے والے ہیں، جن کے دل مردہ اور جن کی عقلیں اندھی ہو چکی ہیں وہ اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھائیں گے۔ مطلب یہ کہ تم ان کے رویہ سے بلاوجہ بددل اور پریشان نہ ہو۔
      اس آیت کا اسلوب خود بول رہا ہے کہ لوگ دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جن کے لیے پیغمبر اور قرآن کی ہر بات خود اپنے دل کی آواز ہوتی ہے۔ وہ پیغمبر کی بات اور قرآن کی آیات سن کر یوں محسوس کرتے ہیں کہ

      دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا
      میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

      ان کے لیے قرآن کی حیثیت ایک یاددہانی کی ہوتی ہے۔ وہ ان پر کوئی چیز اوپر سے لادتا نہیں بلکہ خود ان کی اپنی فطرت کے مدفون خزانوں کو ابھار کر ان کی نگاہوں کے سامنے کر دیتا ہے۔
      منکرین و مکذبین کے لیے اس میں وعید یہ ہے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اس طرح کے اندھے لوگ ان لوگوں کے مانند ہو جائیں جن کے دل و دماغ روشن ہیں۔ لازم ہے کہ دونوں کا انجام ان کے اعمال کے اعتبار سے الگ الگ ہو۔

       

      جاوید احمد غامدی سو کیا جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ تمھارے پروردگار کی طرف سے تمھاری طرف اتارا گیا ہے، وہ حق ہے، اُس شخص کے مانند ہو جائے گا جو اندھا ہے۔ (یہ ایک یاددہانی ہے اور) یاددہانی تو وہی حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی عقل کا اندھا ہے اور حقیقت کو سامنے پا کر بھی دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی جو اللہ سے کیے ہوئے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اپنے پیمان کو توڑتے نہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’میثاق‘ کا مفہوم: ’مِیْثَاق‘ سے مراد یہاں میثاق فطرت ہے جو تمام اولاد آدم سے لیا گیا ہے اور جس کا سب نے اقرار کیا ہے۔ اس پر مفصل بحث سورۂ اعراف آیت ۷۲ ’وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْم بَنِیْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُھُوْرِ ھِمْ ذُرِّیَّتَھُمْ وَاَشْھَدَھُمْ عَآٰی اَنْفُسِھِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْا بَلٰی‘ کے تحت گزر چکی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اس عہد کو یاد رکھے ہوئے ہیں اور جنھوں نے اس پیمان کو توڑا نہیں ہے وہی لوگ اس قرآن سے یاددہانی حاصل کریں گے۔ رہے وہ لوگ جو اپنی فطرت کو مسخ اور اس میثاق کو توڑ چکے ہیں ان سے کسی خیر کی امید نہ رکھو۔ ( اس عہد فطرت پر مفصل بحث ہم نے اپنی کتاب ’’حقیقت شرک و توحید‘‘ میں کی ہے۔ تفصیل کے طالب اسے پڑھیں۔)

      جاوید احمد غامدی جو اللہ کے عہد کو پورا کرتے ہیں اور اپنے اِس پیمان کو توڑتے نہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے مراد وہ ازلی عہد ہے جو اللہ تعالیٰ نے ابتدا ے آفرینش میں تمام انسانوں سے لیا تھا۔ سورۂ اعراف (۷) کی آیت ۱۷۲ میں اِس کا ذکر تفصیل کے ساتھ ہو چکا ہے۔

    Join our Mailing List