Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 111 آیات ) Yousuf Yousuf
Go
  • یوسف (Joseph)

    111 آیات | مکی

    سورہ کا عمود

    سورتوں کا یہ گروپ سورۂ یونس سے شروع ہوا ہے۔ ہم اس پورے گروپ کے عمود پر، سورۂ یونس کی تفسیر کی تمہید میں ایک جامع تبصرہ کر چکے ہیں۔ یہاں ہم اس کا ضروری حصہ نقل کیے دیتے ہیں تاکہ ذہن میں بات تازہ ہو جائے ہم نے لکھا ہے:

    ’’اس پورے گروپ کی تلاوت، تدبر کے ساتھ باربار کیجیے تو آپ نہایت واضح طور پر محسوس کریں گے کہ گروپ کی تمام سورتوں میں مشترک حقیقت، جو مختلف پہلوؤں اور اسلوبوں سے واضح فرمائی گئی ہے، یہ ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت سے حق و باطل کے درمیان جو کشمکش برپا ہو چکی ہے وہ بالآخر پیغمبرؐ اور اس پر ایمان لانے والوں کی کامیابی و فتح مندی اور قریش کی ذلت و ہزیمت پر منتہی ہو گی۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہیے کہ اس میں قریش کے لیے انذار اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ کے لیے بشارت ہے۔ قریش پر عقل و فطرت اور آفاق و انفس کے دلائل اور تاریخ و نظام کائنات کے شواہد سے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ جو حق تمہارے پاس آ چکا ہے۔ اس کی مخالفت میں اگر تمہاری یہی روش قائم رہی تو بہت جلد وہ وقت آ رہا ہے جب تم اس کا انجام بد اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے۔‘‘
    ’’اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ کو صبر، اسقامت اور تقویٰ کی تلقین فرمائی گئی ہے کہ جس حق کو لے کر تم اٹھے ہو انجام کار کی کامیابی و فیروز مندی اسی کا حصہ ہے۔ البتہ سنت الٰہی یہ ہے کہ حق کو غلبہ اور کامیابی کی منزل تک پہنچنے کے لیے آزمائش کے مختلف مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان مرحلوں سے لازماً تمہیں بھی گزرنا ہے۔ اگر یہ مرحلے تم نے عزیمت و استقامت کے ساتھ طے کر لیے تو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی تمہارا ہی حصہ ہے۔ ’یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ وَیُضِلُّ اللّٰہُ الظّٰلِمِیْنَ‘۔ (۲۷۔ ابراہیم)‘‘

    اسی حقیقت کو واضح کرنے کے لیے سورۂ یونس اور سورۂ ہود دنوں میں، جیسا کہ آپ نے دیکھا، حضرات انبیاء علیہم السلام اور ان کی قوموں کی سرگزشتیں تفصیل سے سنائی گئی ہیں اور سورۂ ہود کے آخر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے ان سرگزشتوں کے سنانے کا یہ مقصد بیان فرمایا گیا ہے:

    وَکُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِہٖ فُؤَادَکَ وَجَآءَ کَ فِی ھٰذِہِ الْحَقُّ وَمَوْعِظَۃٌ وَّ ذِکْرٰٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ ۵ وَقُلْ لِّلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ اعْمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْ اِنَّا عٰمِلُوْنَ ۵ وَانْتَظِرُوْا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ. (ہود ۱۲۰-۱۲۲)
    ’’اور ہم رسولوں کی سرگزشتوں میں سے تمہیں وہ سب سنا رہے ہیں جس سے تمہارے دل کو مضبوط کریں اور ان میں تمہارے لیے بھی حق واضح ہوا ہے اور ایمان لانے والوں کے لیے بھی ان میں موعظت اور یاددہانی ہے اور جو ایمان نہیں لا رہے ہیں ان سے کہہ دو کہ تم اپنی جگہ پر کام کرو، ہم اپنی جگہ پر کام کر رہے ہیں اور تم بھی انتظار کرو، ہم بھی منتظر ہی ہیں۔‘‘

  • یوسف (Joseph)

    111 آیات | مکی

    یوسف —— الرعد

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع اُن نتائج کے حوالے سے انذار و بشارت ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اتمام حجت کے بعد آپ کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کے لیے اِسی دنیا میں نکلنے والے تھے۔ استدلال کا طریقہ، البتہ الگ الگ ہے۔ پہلی سورہ جن حقائق کو یوسف علیہ السلام کی سرگذشت کے حوالے سے مبرہن کرتی ہے، دوسری میں وہی حقائق عقل و فطرت کے دلائل سے مبرہن کیے گئے ہیں۔ دونوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی یہ الف، لام، را ہے۔ یہ واضح کتاب کی آیات ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      سورہ کا قرآنی نام: ’الٓرٰ‘ یہ اس سورہ کا قرآنی نام ہے۔ یہی نام سورۂ یونس اور سورۂ ہود کا بھی ہے۔ نام میں اصل مقصود تسمیہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے ان کے معانی کی کھود کرید کی ضرورت نہیں ہے۔ بس اتنی بات یاد رکھنی چاہیے کہ ناموں کا اشتراک معانی و مطالب کے اشتراک کی دلیل ہوتا ہے۔ سو یہ چیز، جیسا کہ ہم پچھلی دونوں سورتوں کی تفسیر میں اشارہ کر آئے ہیں، ان سب سورتوں میں موجود ہے۔ ان میں اصل موضوع بحث ایک ہی ہے البتہ انداز بحث اور مواد استدلال ہر ایک میں الگ الگ ہے۔
      کتاب مبین کا مفہوم: ’تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ‘۔ ’کتاب مبین‘ وہ کتا ب جو اپنے بیان و استدلال میں بالکل واضح ہو، جس کی ہر بات ناقابل انکار دلائل سے مبرہن ہو، جس کا انداز بحث و نظر دل نشین، طمانیت بخش اور تمام الجھنوں کو دور کر دینے والا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اس کتاب کی صداقت کی گواہی کے لیے کسی خارجی معجزے یا نشانی کی ضرورت نہیں ہے، جیسا کہ منکرین مطالبہ کر رہے ہیں، بلکہ اس کی حقانیت و صداقت کے سورج کی طرح روشن دلائل خود اس کے اندر ہی موجود ہیں بشرطیکہ لوگ کان کھول کر اس کو سنیں اور اس کے دلائل پر غور کریں۔

      جاوید احمد غامدی یہ سورہ ’الٓرٰ‘ ہے۔ یہ اُس کتاب کی آیتیں ہیں جو اپنا مدعا پوری وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      سورۂ یونس اور سورۂ ہود کی طرح اِس سورہ کا نام بھی ’الٓرٰ‘ ہے۔ اِس سے یہ اشارہ مقصود ہے کہ اِس کا مضمون بھی اصلاً وہی ہے جو پچھلی سورتوں میں زیر بحث رہا ہے۔ اِس نام کے معنی کیا ہیں؟ اِس کے متعلق اپنا نقطۂ نظر ہم سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۱ کے تحت تفصیل کے ساتھ بیان کر چکے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی ہم نے اس کو عربی قرآن بنا کر اتارا تاکہ تم سمجھو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اہل عرب پر عظیم احسان: ’اِنَّآ اَنْزَلْنٰہُ قُرْءٰ نًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ‘۔ خطاب اہل عرب سے عموماً اور قریش سے خاص طور پر ہے کہ اللہ کا تم پر عظیم احسان ہوا ہے کہ اللہ کی یہ سب سے بڑی نعمت تمہاری عربی زبان میں نازل ہوئی ہے تاکہ تم اس کو سمجھو، اس کی قدر کرو اور اس کو دوسروں تک پہنچاؤ اور ان کو سمجھاؤ۔ یہ اس کتاب کے ’کتاب مبین‘ ہونے کا ایک پہلو ہے اور اس میں قریش کے لیے ایک دھمکی بھی ہے کہ اگر تم نے اس نعمت کی قدر نہ کی تو تم سے بڑا بدقسمت بھی کوئی اور نہ ہو گا، یہ جتنی بڑی نعمت ہے اتنی ہی بڑی نقمت کے سزاوار ٹھہرو گے اگر تم نے اس کی قدر نہ کی۔

      جاوید احمد غامدی ہم نے اِس کو عربی زبان میں قرآن بنا کر اتارا ہے تاکہ، (اے قریش مکہ)، تم اِس کو اچھی طرح سمجھ سکو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      سورہ کے مخاطب قریش ہیں۔ یہ اُنھی پر امتنان و احسان کا اظہار ہے جس میں یہ تنبیہ بھی چھپی ہوئی ہے کہ نہیں سمجھو گے تو یاد رکھو، اِس کے بعد تمھارے پاس کوئی عذر نہیں ہو گا جسے خدا کے حضور میں پیش کر سکو۔

    • امین احسن اصلاحی ہم تمہیں ایک بہترین سرگزشت سناتے ہیں اس قرآن کی بدولت جو ہم نے تمہاری طرف وحی کیا۔ اس سے پہلے بے شک تم اس سے نا آشنا تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’احسن القصص‘ کا مفہوم: ’اَحْسَنَ الْقَصَصِ‘ میں ’قصص‘ قصہ اور سرگزشت کے معنی میں ہے۔ مصدر یعنی قصہ بیان کرنے کے معنی میں نہیں ہے۔ اگر مصدر کے معنی میں ہوتا تو زبان کے معروف استعمال کے مطابق اس پر الف لام نہ آتا بلکہ ’احسن قصص‘ ہوتا۔ اس وجہ سے ہمارے نزدیک اس کے معنی یہ ہیں کہ ہم تمہیں بہترین قصہ سناتے ہیں۔ یہ معنی اس کے صحیح نہیں ہیں کہ ہم تمہیں بہترین پیرایہ میں سناتے ہیں۔ قرآن کے نظائر سے اسی کی تائید ہوتی ہے، مثلاً سورۂ اعراف میں ہے:

      ’فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ‘
      (پس ان کو سرگزشت سناؤ تاکہ وہ غور کریں)

      سورۂ قصص میں ہے:

      ’فَلَمَّا جَآءَ ہٗ وَقَصَّ عَلَیْہِ الْقَصَصَ‘
      (پس جب وہ اس کے پاس آیا اور اس کو سرگزشت سنائی)

      ہمارے نزدیک ’احسن القصص‘ اسی طرح کی تالیف کلام ہے جس کی نظیر قرآن میں

      ’اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ‘۔(۲۳ زمر)
      (اللہ نے بہترین کلام اتارا ہے)

      ہے۔ یہ امر بھی یہاں قابل توجہ ہے کہ ’احسن القصص‘ کو مصدر کے معنی میں لینے کی صورت میں مفعول غائب ہو جاتا ہے۔ درآنحالیکہ فعل اپنے مفعول کا مقتضی ہے اور قرآن میں ہر جگہ یہ اپنے مفعول کے ساتھ ہی آیا ہے۔
      یہ چند اشارات تالیف کلام سے متعلق ہیں۔ رہا یہ سوال کہ حضرت یوسفؑ کی اس سزگزشت کو ’احسن القصص‘ سے کیوں تعبیر فرمایا گیا ہے تو اس کے بعض پہلو ہم اپنے تمہیدی مباحث میں واضح کر چکے ہیں اور بعض کی طرف ہم آگے ان کے محل میں انشاء اللہ اشارہ کریں گے۔
      ایک سرگزشت آنحضرت صلعم کے لیے بمنزلہ آئینہ: اوپر کی آیات میں خطاب عام ہے اور اس کی نوعیت، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، قریش کو تنبیہ کی تھی۔ اب اس آیت سے روئے سخن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف براہ راست ہو گیا ہے۔ آپؐ کو خطاب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ ہم تمہیں ایک بہترین سرگزشت سنا رہے ہیں اور یہ سرگزشت اس قرآن کی بے شمار برکتوں میں سے ایک برکت ہے جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں، اس سے پہلے تم اس سے بالکل ناآشنا تھے۔
      یہاں غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اس سرگزشت کے دو نہایت اہم پہلو آپؐ کے سامنے واضح کیے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ احسن القصص ہے، دوسرا یہ کہ یہ آپؐ کی رسالت کی ایک نہایت واضح دلیل ہے۔ جہاں تک اس کے احسن القصص ہونے کا تعلق ہے اس کی وضاحت ہم پیچھے کر چکے ہیں۔ ایک سرگزشت اگر بجائے خود سچی بھی ہو اور جس کو سنائی جا رہی ہو اس کے لیے وہ بمنزلہ ایک آئینہ کے بھی بن جائے جس میں وہ اپنی زندگی کے تمام نشیب و فراز کامیابی کی آخری منزلوں تک، دیکھ لے تو اس سرگزشت سے زیادہ سبق آموز، بابرکت اور قیمتی سرگزشت کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حضرت یوسفؑ کی سرگزشت کی نوعیت یہی تھی۔ اس میں آپؐ کو آپؐ کے حاضر اور مستقبل کا پورا نقشہ دکھا دیا گیا جس میں چند مقامات بہت سخت بھی تھے لیکن آخری منزل نہایت شان دار تھی۔ اس راہ میں اگرچہ غار ثور بھی آتا تھا لیکن غار ثور کی ظلمتوں سے مدینہ کی حکومت بھی نظر آرہی تھی اور مکہ کی پرمحن زندگی کے اندر اس دن کی جھلک بھی نمایاں تھی جب کہ مکہ کے متمردین گھٹنے ٹیک کر آپ سے عفو و کرم کی التجائیں کریں گے۔
      سرگزشت کے دلیل رسالت ہونے کی نوعیت: رسالت کی دلیل یہ یوں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم امی تھے۔ آپ نہ تو اس سرگزشت سے واقف ہی تھے نہ آپؐ کے پاس اس سے واقف ہونے کا ذریعہ ہی تھا۔ یہ قرآن کا فیض تھا کہ آپؐ اس سے واقف ہوئے اور اس صحت و صداقت اور ایسی وسعت و تفصیل کے ساتھ واقف ہوئے کہ اہل کتاب بھی اس سے واقف نہ تھے۔ اس پہلو سے یہ آپؐ کی قوم کے لیے بھی آپؐ کی رسالت کی ایک دلیل تھی اور اہل کتاب کے لیے بھی، کہ اگر آپؐ وحی الٰہی سے مشرف نہیں ہیں تو یہ باتیں اس استقصا اور صحت و صداقت کے ساتھ آپؐ کو کیسے معلوم ہوئیں! ’مِنْ قَبْلِہٖ‘ کے لفظ سے اس امر واقعی کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ اگر اس قرآن سے پہلے تمہیں اس سرگزشت کی کچھ بھی واقفیت ہوتی تو چالیس سال کی وسیع مدت میں کبھی تو بات زبان پر آتی۔ پھر تمہارے مخالفین کیوں نہیں سوچتے کہ اگر یہ وحی الٰہی کا فیضان نہیں ہے تو یہ چشمہ یکایک کہاں سے پھوٹ پڑا۔ یہ امر بھی یہاں ملحوظ رہے کہ تورات اور تالمود میں یہ سرگزشت ہے ضرور لیکن اول تو، جیسا کہ ہم نے عرض کیا آپؐ کے پاس ان سے واقف ہونے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا، پھر ان کے بیان اور قرآن کے بیان میں قدم قدم پر اختلاف ہے اور اس اختلاف پر جو شخص بھی انصاف سے غور کرے گا وہ اسی نتیجہ پر پہنچے گا کہ قرآن کا بیان بالکل نیچرل ہے اور تورات کا بیان بالکل خلاف عقل و فطرت اور شان نبوت کا منافی۔

      جاوید احمد غامدی (اے پیغمبر)، اِس قرآن کی بدولت جو ہم نے تمھاری طرف وحی کیا ہے، ہم تمھیں ایک بہترین سرگذشت سناتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ (اِس طرح کی چیزوں سے) تم اِس سے پہلے بالکل بے خبر تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ کس لحاظ سے بہترین سرگذشت ہے؟ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اِس کے جن پہلوؤں کی طرف توجہ دلائی ہے، اُن کا خلاصہ درج ذیل ہے:

      ۱۔ اِس میں حسن و عشق کی چاشنی ہے، مگر یوسف علیہ السلام جو اِس قصے کا مرکزی کردار ہیں، اُن کی شخصیت اِسے پاکیزگیِ سیرت و کردار کا ایک ایسا مرقع بنا دیتی ہے کہ پڑھنے والا اِس کے اندر اپنے ایمان کے لیے غذا اور اپنی روح کے لیے لذت و حلاوت محسوس کرتا ہے۔
      ۲۔ یوسف علیہ السلام کی فطرت کے جو جوہر اِس قصے میں نمایاں ہوتے ہیں، وہ ایسے شان دار ہیں کہ ہر پڑھنے والے کے اندر اُن کی تقلید کا جذبہ ابھرتا ہے اور خاص بات یہ ہے کہ یہ تقلید ناممکن نہیں ، بلکہ ممکن محسوس ہوتی ہے۔
      ۳۔ یہ سرگذشت بتاتی ہے کہ انسان کا ظاہری حسن تو زنان مصر کی آنکھیں بھی دیکھ لیتی ہیں، لیکن اُس کے باطن کا حسن اُس وقت نمایاں ہوتا ہے، جب وہ زندگی کے مختلف مراحل میں اُس کی آزمایشوں سے گزرتا ہے۔ سیدنا یوسف کی شخصیت کا یہ حسن بھی اِسی طرح نمایاں ہوا ہے اور اِس سرگذشت میں وہ ذہانت، صداقت، پاکیزگی، پاک دامنی اور انتقام کی قدرت کے باوجود عفو و درگذر کی ایک زندہ جاوید مثال بن کر ابھرے ہیں۔
      ۴۔ اِس میں جو حالات و واقعات پیش آئے ہیں، وہ نہایت حیرت انگیز ہیں، مگر کسی جگہ محسوس نہیں ہوتا کہ اُن میں کوئی چیز بے جوڑ اور بے ربط ہو گئی ہے یا حالات کی فطری رفتار کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی۔
      ۵۔ اِس کے اولین مخاطبین قریش تھے۔ اُن کے لیے تو گویا اِسے ایک آئینہ بنا دیا گیا ہے، جس میں وہ اپنی عاقبت بھی دیکھ سکتے تھے اور اسلام اور مسلمانوں کا مستقبل بھی۔ اِس لحاظ سے یہ ایک صریح پیشین گوئی تھی جسے آیندہ دس سال کے واقعات نے حرف بہ حرف صحیح ثابت کرکے دکھادیا۔ چنانچہ اِس کے نزول پر ڈیڑھ دو سال ہی گزرے تھے کہ قریش نے برادران یوسف کی طرح دارالندوہ میں رسول اللہ کے قتل کی سازش کی، مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اُن کے شر سے محفوظ رکھا۔ آپ مکہ سے نکلے اور غار ثور میں جا چھپے ۔ اِس کے بعد وہاں سے نکل کر مدینہ پہنچ گئے۔ پھر قریش کی توقعات کے بالکل خلاف آپ کو وہاں ایسا وقار اور اقتدار حاصل ہوا کہ چشم فلک نے اُس کی نظیر نہیں دیکھی۔ اہل مکہ کو طوعاً و کرہاً آپ کی اطاعت میں داخل ہونا پڑا، یہاں تک کہ فتح مکہ کے موقع پر ٹھیک وہی صورت پیدا ہو گئی جو مصر کے پایۂ تخت میں یوسف علیہ السلام کے سامنے اُن کے بھائیوں کی حاضری کے موقع پر پیدا ہوئی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کے لوگوں سے پوچھا: بتاؤ، میں تمھارے ساتھ کیا معاملہ کرنے والا ہوں؟ اُنھوں نے عرض کیا: ’أخ کریم و إبن أخ کریم‘، آپ ایک عالی ظرف بھائی اور عالی ظرف بھائی کے بیٹے ہیں۔اِس پر آپ نے فرمایا: میں تم سے وہی بات کہتا ہوں جو میرے بھائی یوسف نے اپنے بھائیوں سے کہی تھی: ’لا تثریب علیکم الیوم، إذھبوا فأنتم الطلقاء‘ جاؤ، تم آزاد ہو، آج تم پر کوئی گرفت نہیں۔

      یہ اِس لیے فرمایا ہے کہ قرآن کے مخاطبین اِس قصے پر اِس پہلو سے بھی غور کریں کہ اگر آپ وحی الٰہی سے مشرف نہیں ہوئے تو آپ کے لیے یہ کس طرح ممکن ہوا کہ اِس استقصا اور اِس صحت و صداقت کے ساتھ یہ قصہ سنا سکیں؟ آخر اِس قرآن کے نزول سے پہلے بھی آپ کم و بیش چالیس سال اپنی قوم میں گزار چکے تھے۔ آپ کو اِس سرگذشت سے کچھ بھی واقفیت ہوتی تو اِس طرح کی کوئی بات اِس مدت میں بھی کبھی تو آپ کی زبان پر آتی۔ آپ کے مخاطبین جانتے تھے کہ جس وضاحت اور جس یقین و اذعان کے ساتھ آپ یہ قصہ سنا رہے ہیں، اُس کے کوئی آثار اِس سے پہلے کبھی آپ کی کسی گفتگو میں نہیں دیکھے گئے۔ چنانچہ قرآن نے توجہ دلائی ہے کہ سننے والے اِس پر بھی غور کریں۔

    • امین احسن اصلاحی یہ اس وقت کی بات ہے جب یوسفؑ نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا جان! میں نے خواب میں گیارہ ستارے اور سورج اور چاند دیکھے، میں نے ان کو دیکھا کہ وہ میرے آگے سربسجود ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حضرت یوسفؑ کا خواب: اب یہ اصل سرگزشت کی تمہید شروع ہوتی ہے۔ حضرت یوسفؑ نے ایک دن اپنے والد حضرت یعقوبؑ سے اپنا ایک خواب بیان کیا کہ گیارہ ستارے اور سورج اور چاند میرے آگے سربسجود ہیں۔ حضرت یوسفؑ کا اس خواب کو سب سے پہلے اپنے والد کے علم میں لانا ان کی غیرمعمولی سلیم الطبعی، نیک نیتی اور سعادت مندی کی دلیل ہے۔ اس طرح کا خواب اگر کوئی اوچھی طبیعت کا آدمی دیکھتا تو سب سے پہلے اپنی بڑائی کا ڈھول دوسروں میں پیٹتا لیکن حضرت یوسفؑ بچپن ہی سے نہایت رزین، متین اور سنجیدہ تھے۔ انھوں نے یہ خواب دیکھا تو انھیں یہ محسوس ہوا کہ یہ خواب خواب پریشاں کی نوعیت کا نہیں ہے بلکہ اہمیت رکھنے والا خواب ہے اس وجہ سے انھوں نے اس کو سب سے پہلے اپنے والد ماجد کے سامنے پیش کیا جن پر ہر پہلو سے ان کو سب سے زیادہ اعتماد تھا۔ آیت کے الفاظ پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ان کی طبیعت کے اندر جو تواضع تھی وہ خواب کو پیش کرنے کے انداز میں بھی نمایاں ہے۔ حضرت یعقوبؑ کے سامنے جاتے ہی بے دھڑک یوں نہیں کہہ دیا کہ میں نے گیارہ ستاروں اور سورج چاند کو اپنے آگے سربسجود دیکھا بلکہ خواب کا ابتدائی حصہ کہ ’میں نے گیارہ ستاروں اور سورج چاند کو دیکھا، کہہ کر ٹھٹک گئے اس لیے کہ آگے کی بات میں ان کی بڑائی نمایاں تھی جس کے اظہار سے ان کی متواضع طبیعت جھجھکتی تھی لیکن چونکہ اظہار ضروری تھا اس وجہ سے ذرا توقف کے بعد فرمایا کہ ’رَاَیْتُھُمْ لِیْ سٰجِدِیْنَ‘ میں نے دیکھا کہ وہ میرے لیے سجدے میں پڑے ہوئے ہیں۔ عربیت کا ذوق رکھنے والے اندازہ کر سکتے ہیں کہ فعل ’رایت‘ کے اعادہ میں یہ بلاغت ہے کہ اس میں رویا کے بیان کرتے وقت خاص کر واقعۂ سجدہ کے بیان کرتے وقت، حضرت یوسفؑ پر جو جھجھک طاری رہی ہے وہ واضح ہے۔

      جاوید احمد غامدی یہ اُس وقت کا قصہ ہے، جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا: ابا جان، میں نے خواب دیکھا ہے کہ گیارہ ستارے ہیں اور سورج اورچاند ہیں۔ میں نے اُن کو دیکھا کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی یعقوب علیہ السلام سے۔ حضرت یوسف اُن کے بیٹے، حضرت اسحاق کے پوتے اور حضرت ابراہیم کے پرپوتے تھے۔ بائیبل سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب کے بارہ بیٹے اُن کی چار بیویوں سے تھے۔ اُن میں سے حضرت یوسف اور اُن کے چھوٹے بھائی بن یمین ایک بیوی سے تھے اور باقی دس دوسری بیویوں سے۔ یہ لوگ فلسطین کے علاقے حبرون کی وادی میں رہتے تھے۔ اِسے اب الخیل کہا جاتا ہے۔ یہاں جو واقعہ بیان کیا جا رہا ہے، بائیبل کے علما کی تحقیق کے مطابق وہ ۱۸۹۰ قبل مسیح کے قریب زمانے میں کسی وقت پیش آیا تھا۔ حضرت یوسف کی عمر اُس وقت سترہ برس کی تھی۔
      یوسف علیہ السلام نے یہ خواب جس طرح سنایا ہے، اُس سے اُن کی طبیعت کے اندر جو تواضع تھی، وہ پوری طرح نمایاں ہو گئی ہے۔ اُنھوں نے پہلے صرف اتنی بات کہی کہ میں نے گیارہ ستارے اور سورج اور چاند دیکھے ہیں۔ پھر آگے کی بات سے چونکہ اُن کی بڑائی سامنے آ رہی تھی، اِس لیے کسی قدر رک کر جھجکتے ہوئے بیان کیا ہے کہ میں نے دیکھا کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔ آیت میں فعل ’رَاَیْتُ‘ کے اعادے نے یہ جھجک پوری طرح ظاہر کر دی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اس نے جواب دیا کہ اے میرے بیٹے تم اپنے اس خواب کو اپنے بھائیوں کو نہ سنانا کہ وہ تمہارے خلاف کسی سازش میں لگ جائیں۔ شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حضرت یعقوبؑ کی تعبیر اور حضرت یوسفؑ کو ہدایت: حضرت یعقوبؑ نے خواب سنتے ہی یہ اندازہ فرما لیا کہ یہ منصب نبوت پر سرفرازی کا اشارہ ہے لیکن اس بشارت سے پہلے انھوں نے حضرت یوسفؑ کو تاکید کے ساتھ منع فرمایا کہ یہ خواب اپنے بھائیوں کے آگے نہ بیان کر دینا کہ کہیں وہ حسد سے جل بھن کر تمہارے خلاف کسی سازش میں سرگرم ہو جائیں۔ یہ امر یہاں واضح رہے کہ حضرت یوسفؑ کے کل گیارہ بھائی تھے جن میں سے دس ان کی سوتیلی ماؤں سے تھے۔ صرف سب سے چھوٹے بھائی بن یامین ان کی اپنی ماں سے تھے۔ یہاں اشارہ انھی دس سوتیلے بھائیوں کی طرف ہے۔ چونکہ ان بھائیوں کی پرخاش حضرت یوسفؑ کے ساتھ واضح تھی اس وجہ سے حضرت یوسفؑ کو اندیشہ ہوا کہ اگر کہیں انھوں نے یوسفؑ کا خواب سن لیا تو ان کی حسد کی آگ اور بھڑک اٹھے گی اور عجب نہیں کہ وہ حسد سے اندھے ہو کر ان کو نقصان پہنچانے کی کوئی خطرناک سازش کر ڈالیں ’اِنَّ الشَّیْطٰنَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ‘ یعنی کھلا ہوا دشمن شیطان تو موجود ہی ہے، وہ کہیں ان کو کسی فتنہ کی راہ پر نہ ڈال دے۔

      جاوید احمد غامدی جواب میں اُس کے باپ نے کہا: بیٹا، اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ سنانا، ایسا نہ ہو کہ وہ تمھارے خلاف کوئی سازش کرنے لگیں۔ اِس میں شبہ نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے معلوم ہوا کہ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کی پرخاش اُن کے ساتھ واضح تھی۔ اُن کی اعلیٰ صلاحیتوں کو دیکھ کر حضرت یعقوب اُن سے غیر معمولی طور پر محبت کرنے لگے تھے اور یہی چیز اُن کے بھائیوں کے لیے اُن کے ساتھ حسد کا باعث بن گئی تھی۔

    • امین احسن اصلاحی اور اسی طرح تمہارا رب تمہیں برگزیدہ کرے گا اور تمہیں باتوں کی حقیقتوں تک پہنچنا سکھائے گا اور تم پر اور آل یعقوب پر اپنی نعمت تمام کرے گا جس طرح اس نے اس سے پہلے تمہارے اجداد ابراہیمؑ اور اسحاقؑ پر اپنی نعمت تمام کی۔ بے شک تمہارا رب بڑا ہی علیم و حکیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حضرت یعقوبؑ نے جب خواب سنا تو چونکہ یہ بات ان کے علم میں تھی کہ نبوت کا آغاز رویائے صادقہ ہی سے ہوتا ہے اور اس خواب کا ظاہر ہی بتا رہا تھا کہ یہ سچا خواب ہے اور خواب دیکھنے والے کے لیے ایک شان دار مستقبل کی پیشین گوئی کر رہا ہے اس وجہ سے انھوں نے فرمایا کہ یہ جو کچھ تم نے دیکھا ہے ٹھیک ہے۔ جلد وہ وقت آنے والا ہے جب تمہارا رب تمہیں منصب نبوت کے لیے منتخب فرمائے گا۔
      ’وَیُعَلِّمُکَ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ‘ میں دو باتوں کی طرف اشارہ ہے ایک تو اس بات کی طرف کہ اس رویا کی حقیقت اللہ تعالیٰ خود تم پر واضح فرما دے گا۔ چنانچہ جب اس کی حقیقت حضرت یوسفؑ نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لی تو فرمایا:

      ’یٰٓاَبَتِ ھٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْ یَایَ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَھَا رَبِّیْ حَقًّا وَقَدْ اَحْسَنَ بِیْٓ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَجَآءَ بِکُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْم بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَبَیْنَ اِخْوَتِیْ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ اِنَّہٗ ھُوَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ ۵ رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْکِ وَعَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ‘۔
      (اے میرے باپ یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے دیکھا تھا۔ میرے رب نے اس کو حقیقت کر دکھایا اور اس نے مجھ پر بڑا ہی کرم فرمایا جب کہ مجھے قید خانہ سے باہر نکالا اور آپ لوگوں کو بعد اس کے کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال دیا تھا، دیہات سے یہاں لایا، میرا رب جو کچھ چاہتا ہے اس کو نہایت خوبی سے کر دکھاتا ہے۔ وہ بڑا ہی علیم و حکیم ہے۔ اے میرے رب تو نے مجھے حکومت بھی عطا فرمائی اور رویا کی تعبیر بھی بتائی)۔

      تعبیر رؤیا کا علم: دوسری یہ کہ رویا چونکہ علوم نبوت کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے اور رویا میں حقائق مجاز کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں جن کو سمجھنا ایک خاص ذہنی مناسبت کا مقتضی ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ حضرات انبیاء علیہم السلام کو تعبیر رویا کا ایک خاص ذوق اور ایک خاص علم بھی عطا فرماتا ہے۔ حضرت یعقوبؑ نے جب محسوس فرما لیا کہ اس رویا میں حضرت یوسفؑ کے لیے نبوت کی بشارت ہے تو ساتھ ہی ان پر یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ اب حضرت یوسفؑ کو تعبیر رویا کا علم بھی عطا ہو گا تاکہ رویا کی شکل میں جو حقائق ان پر وارد ہوں ان کو ٹھیک ٹھیک سمجھ کر وہ منشائے خداوندی کی تعمیل کر سکیں۔ چنانچہ آگے اسی سورہ میں آئے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اس علم میں ان کا درجہ اتنا بلند کیا کہ بالآخر یہی علم ان کے لیے مصر کی بادشاہی کے حصول کا ذریعہ بن گیا۔
      اصل نعمت دین و شریعت ہے: ’یُتِمُّ عَلَیْکَ ....... الایہ‘۔ نعمت سے مراد دین و شریعت کی نعمت ہے۔ دنیا کی دوسری چیزوں کا نعمت ہونا ایک امر اضافی ہے۔ جب بندے کو دین و شریعت کی نعمت ملتی ہے تب ہی نعمت کامل ہوتی ہے۔ حضرت یعقوبؑ نے فرمایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہارے اجداد ابراہیمؑ اور اسحقؑ کو اپنی نعمت سے نوازا اسی طرح وہ تم کو اور آل یعقوب کو بھی اس نعمت سے نوازے گا اور تم نے جو رویا دیکھی ہے وہ اسی اتمام نعمت کی بشارت ہے۔ اللہ بڑا ہی علیم و حکیم ہے۔ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور جو کچھ کرتا ہے وہ حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی (تمھارا یہ خواب بتا رہا ہے کہ) تمھارا پروردگار تمھیں اِسی طرح برگزیدہ کرے گا اور تمھیں باتوں کی حقیقت تک پہنچنا سکھائے گا اور تم پر اور آل یعقوب پر اپنی نعمت تمام کرے گا، جس طرح وہ اِس سے پہلے تمھارے بزرگوں ابراہیم اور اسحق پر کر چکا ہے۔ یقیناًتیرا پروردگار علیم و حکیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی نبوت عطا کرے گا۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ حضرت یعقوب نے خواب سنتے ہی اندازہ فرما لیا کہ یہ منصب نبوت پر سرفرازی کا اشارہ ہے۔
      یعنی اِس رویا کی حقیقت بھی تم پر واضح ہو جائے گی اور اِس نوعیت کی دوسری چیزوں کو سمجھنے کا علم بھی عطا ہو گا۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...رویا چونکہ علم نبوت کے ذرائع میں سے ایک ذریعہ ہے اور رویا میں حقائق مجاز کی شکل میں ظاہر ہوتے ہیں جن کو سمجھنا ایک خاص ذہنی مناسبت کا مقتضی ہے، اِس وجہ سے اللہ تعالیٰ حضرات انبیا علیہم السلام کو تعبیر رویا کا ایک خاص ذوق اور ایک خاص علم بھی عطا فرماتاہے۔‘‘(تدبرقرآن۴/ ۱۹۲)

      یہ خاص تعبیر ہے جو دین و شریعت کی نعمت کے لیے قرآن کے دوسرے مقامات میں بھی اختیار کی گئی ہے۔ انسان کی فطرت میں یہ دین بالاجمال ودیعت ہے۔ انبیا علیہم السلام چونکہ اِس کی تمام فروع اور تفصیلات کے ساتھ اِس کو بالکل واضح اور متعین کر دیتے ہیں، اِس لیے قرآن اِسے اتمام نعمت سے تعبیر کرتا ہے۔

       

    • امین احسن اصلاحی بے شک یوسف اور اس کے بھائیوں کی سرگزشت میں پوچھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      سرگزشت سے پہلے ایک تنبیہ: غلبۂ حق اور ہزیمت باطل کی بشارت: یہ آیت، جیسا کہ ہم نے تمہید میں اشارہ کیا، اصل سرگزشت کے شروع کرنے سے پہلے ایک تنبیہ ہے کہ مخاطب اس کو محض ایک کہانی کی طرح نہ سنیں بلکہ اس میں ان بہت سے سوالوں کے جواب مضمر ہیں جو دعوت اسلامی کے اس دور میں مخالفین و موافقین دونوں ہی کے ذہنوں میں ابھر رہے ہیں۔ اس گروپ کی پچھلی سورتوں میں حق کے غلبہ اور باطل کی ہزیمت کا مضمون مختلف اسلوبوں سے بیان ہوا ہے لیکن جس وقت یہ مضمون بیان ہوا ہے پورے ملک پر اس طرح کفر کی تاریکی چھائی ہوئی تھی کہ یہ تصور کرنا کچھ آسان نہ تھا کہ یہ تاریکی ایک دن بالکل کافور ہو جائے گی اور جو شخص آج اپنے چند نہایت مظلوم ساتھیوں کے ساتھ وقت کے متمردین کے ہاتھوں ہر قسم کے مصائب و مظالم کا ہدف ہے ایک دن آئے گا کہ یہ تمام متمردین اس کے آگے گھٹنے ٹیک کر اس سے رحم و کرم کی التجائیں کریں گے۔ قرآن نے اس تصور کو ذہنوں کے قریب لانے کے لیے یہ سرگزشت سنائی تاکہ اس امر سے متعلق ذہنوں میں جتنے بھی سوالات و شبہات موجود ہوں یا آئندہ پیدا ہو سکتے ہوں وہ دور ہو جائیں اور لوگوں کو اندازہ ہو جائے کہ خدا کی شانیں یوں ظاہر ہوتی ہیں اور اس کے ارادے اور منصوبے یوں بروئے کار آتے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی حقیقت یہ ہے کہ یوسف اور اُس کے بھائیوں (کی اِس سرگذشت) میں پوچھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اُن لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جن کے ذہنوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی دعوت سے متعلق اِس طرح کے سوالات پیدا ہو رہے ہیں کہ آگے کیا ہو گا اور کس طرح ہو گا۔ اِس دعوت کے جن شان دار نتائج کی طرف اشارے کیے جا رہے ہیں، وہ کیسے نمودار ہوں گے، جبکہ اِس وقت تو اِس کے علم بردار وقت کے متمردین کے ہاتھوں ہر قسم کے آلام و مصائب کا ہدف بنے ہوئے ہیں اور ہر طرف اُنھی عقائد و افکار کا غلبہ نظر آتا ہے جنھیں یہ لوگ ہدف تنقید بنا رہے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی خیال کرو جب انھوں نے کہا کہ یوسف اور اس کا بھائی ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ پیارے ہیں حالانکہ ہم ایک پورا جتھا ہیں۔ بے شک ہمارا باپ ایک کھلی ہوئی غلطی میں مبتلا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      برادران یوسف کا غصہ: ’عُصْبَۃ‘ کے معنی گروہ، جتھہ اور جماعت کے ہیں، خاص طور پر وہ گروہ جس کے اندر خون کی عصبیت بھی موجود ہو۔ بدویانہ دور زندگی میں، جب منظم حکومتوں کا وجود نہیں تھا، حمایت و مدافعت کا تمام تر انحصار خاندان اور قبیلہ کی عصبیت ہی پر ہوتا تھا۔ سب سے زیادہ باعزت اور بااثر وہ خاندان سمجھا جاتا جس کے اندر حمایت اور مدافعت کے لیے اٹھنے والے نوجوان سب سے زیادہ ہوں۔ اسی خاندان کو قوم و قبیلہ کی سربراہی حاصل ہوتی اور وہی حکومت کرتا۔ حضرت یوسفؑ کے بھائیوں نے اسی امر کو مدنظر رکھ کر نعوذ باللہ اپنے باپ کی بے خردی اور ناعاقبت اندیشی پر آپس میں غصہ کا اظہار کیا کہ جتھہ اور گروہ کی حیثیت تو ہماری ہے، حمایت و مدافعت کا ذریعہ تو ہم بنیں گے، دوسروں پر دھاک تو ہمارے بل بوتے پر بیٹھے گی لیکن ہمارے باپ کا حال یہ ہے کہ اس کو محبت یوسف اور اس کے بھائی بنیامین سے ہے، اس سے بڑی غلطی اور گمراہی اور کیا ہو سکتی ہے۔

      جاوید احمد غامدی جب اُس کے بھائیوں نے آپس میں کہا کہ یوسف اور اُس کا بھائی، ہمارے باپ کو ہم سے زیادہ محبوب ہیں، حالاں کہ ہم ایک پورا جتھا ہیں۔ یقیناً ہمارا باپ ایک کھلی ہوئی غلطی میں مبتلا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے یوسف علیہ السلام کے حقیقی بھائی بن یمین مراد ہیں۔ یہ اُن سے کئی سال چھوٹے تھے۔
      بدویانہ زندگی میں آدمی کی قوت کا انحصار جوان بیٹوں ہی پر ہوتا تھا۔ وہی دشمنوں کے مقابلے میں اُس کے کام آتے تھے۔ یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے اِسی کے پیش نظر کہا ہے کہ والد، معاذ اللہ، ایسے نا عاقبت اندیش ہو گئے ہیں کہ بیٹوں کا جو جتھا مشکل وقت میں اُن کے کام آ سکتا تھا، اُسے تو نظر انداز کر رہے ہیں اور اپنی محبت اُن چھوٹے بچوں پر نچھاور کرتے ہیں جو اُن کے کسی کام نہیں آسکتے، بلکہ خود ہی حفاظت کے محتاج ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی یوسف کو قتل کر دو یا اس کو کہیں پھینک دو تو تمہارے باپ کی ساری توجہ تمہاری ہی طرف ہو جائے گی اور اس کے بعد تم بالکل ٹھیک ہو جاؤ گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      لفظ ’صالح‘ کا لغوی مفہوم: لفظ ’صالح‘ یہاں ٹھیک اپنے لغوی مفہوم میں ہے۔ عربی میں اگر کہیں ’صَلَحَتْ حَال فلَان‘ تو اس کے معنی ہوں گے، اس کا حال ٹھیک ہو گیا، اس کی پریشانی دور ہو گئی، جو کانٹا اسے چبھ رہا تھا اس سے وہ نجات پا گیا۔
      برادران یوسف کی مشورت: یہ وہ علاج ہے جو حضرت یوسفؑ کے بھائیوں نے اپنی پریشانی دور کرنے کے لیے سوچا۔ انھوں نے اسکیم یہ بنائی کہ یوسفؑ کو یا تو قتل کر دیں یا کہیں دور دراز مقام میں لے جا کر پھینک دیں تاکہ ان کے باپ کی ساری توجہ انہی کی طرف ہو جائے اور یہ کانٹا جو انھیں چبھ رہا ہے نکل جائے۔
      بعض لوگوں نے ’وَتَکُوْنُوْا مِنْ بَعْدِہٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ‘ کا یہ مطلب لیا ہے کہ اس جرم کے کر لینے کے بعد پھر نیک بن جانا لیکن یہ معنی اس جملہ کے کسی طرح نہیں ہو سکتے۔ دوسرے پہلوؤں سے قطع نظر جملہ کی نحوی ترکیب ہی اس سے ابا کر رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کا عطف سابق جواب امر پر ہے اس وجہ سے جو حکم اس کا ہو گا وہی حکم اس کا بھی ہو گا۔
      حضرت یوسفؑ کے بھائیوں کی اس مشورت سے یہ بات بالکل صاف ہو جاتی ہے کہ ان کو اصلی کد حضرت یوسفؑ ہی سے تھی اور اس کد میں اصلی دخل صرف ان کے سوتیلے ہونے کو نہیں تھا بلکہ ان کی ان اعلیٰ صلاحیتوں کو تھا جو اسی عمر سے ان میں ابھرنے لگی تھیں اور جن کو دیکھ کر حضرت یعقوبؑ ان سے غیرمعمولی طور پر محبت کرنے لگے تھے۔ اگر مجرد سوتیلے ہونے کے سبب سے کد ہوتی تو سوتیلے تو بنیامین بھی تھے آخر ان کو ٹھکانے لگانے کی انھوں نے کوئی اسکیم کیوں نہیں بنائی!

      جاوید احمد غامدی (اِس کا علاج یہی ہے کہ) یوسف کو قتل کر دو یا اُس کو کہیں پھینک دو، تمھارے باپ کی توجہ (اِس سے) صرف تمھاری طرف ہو جائے گی اور اِس کے بعد تم لوگ بالکل ٹھیک ہو جاؤ گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’تَکُوْنُوْا مِنْ م بَعْدِہٖ قَوْمًا صٰلِحِیْنَ‘۔ یہ فقرہ سابق جواب امر پر معطوف ہے، اِس لیے اِس کا حکم اُس سے مختلف نہیں ہو سکتا۔چنانچہ لفظ ’صَالِح‘ یہاں نیک کے معنی میں نہیں، بلکہ ٹھیک اپنے لغوی مفہوم میں آیا ہے۔یعنی اِس کے بعد ہم ایسے لوگ ہوں گے جن کا حال بالکل ٹھیک ہو گا، تمام پریشانیاں دور ہو جائیں گی اور یہ کانٹا جو اِس وقت چبھ رہا ہے، نکل جائے گا۔ ہم نے ترجمے میں یہی مدعا ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یوسف کو قتل تو نہ کرو، اگر تم کچھ کرنے ہی والے ہو تو اس کو کسی کنوئیں کی تہ میں پھینک دو، کوئی راہ چلتا قافلہ اس کو نکال لے جائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’غَیَابَۃَ‘ کنوئیں کی تہ کو اور ’جُبّ‘ کچے کنوئیں کو کہتے ہیں۔ صحرائی راستوں میں جن پر سے قافلے گزرتے ہیں اس طرح کے کنوئیں ہوتے تھے جو عام حالات میں تو یوں ہی پڑے رہتے لیکن کوئی قافلہ گزرتا تو ان پر رونق ہو جاتی۔
      دس بھائیوں میں سے ایک کے دل میں معلوم ہوتا ہے حضرت یوسفؑ کے لیے کوئی نرم گوشہ تھا۔ اس نے مشورہ دیا کہ قتل تو نہ کرو، اگر کچھ کرنا ہی ہے تو یہ کرو کہ قافلوں کے راستے کے کسی کنوئیں میں اس کو ڈال دو، کوئی قافلہ گزرے گا اس کو نکال لے گا۔ چونکہ اس زمانہ میں بردہ فروشی کا عام رواج تھا اس وجہ سے ممکن ہے یہ خیال بھی ہوا ہو کہ قافلے والے یا تو اس کو غلام بنا لیں گے یا کسی شہر میں لے جا کر اس کو بیچ دیں گے۔ اس طرح اس کی جان بھی بچ جائے گی اور تمہارے پہلو کا کانٹا بھی نکل جائے گا۔ بالآخر اسی مشورے پر سب کا اتفاق رائے ہو گیا۔

      جاوید احمد غامدی (اِس پر) اُن میں سے ایک کہنے والے نے کہا: یوسف کو قتل نہ کرو ، اگر کچھ کرنا ہی ہے تو اُس کو کسی اندھے کنویں کی تہ میں پھینک دو، کوئی راہ چلتا قافلہ اُسے نکال لے جائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ مشورہ بتا رہا ہے کہ دس بھائیوں میں سے کسی ایک کے دل میں یوسف علیہ السلام کے لیے نرم گوشہ تھا۔ وہ یہ تو ضرور چاہتا تھا کہ پہلو کا یہ کانٹا نکل جائے، مگر اِس حد تک جانے کے لیے تیار نہیں تھا کہ اِس کے لیے اُن کی جان لے لے۔

    • امین احسن اصلاحی انھوں نے اپنے باپ سے کہا، اے ہمارے باپ، کیا بات ہے کہ یوسف کے معاملے میں آپ ہم پر اعتماد نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے بڑے ہی خیر خواہ ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حضرت یعقوبؑ کو فریب: ’یَرْتَعْ وَیَلْعَبْ‘ کا لغوی مفہوم تو یہ ہے کہ ذرا چرے چگے اور کھیلے کودے لیکن یہ نہایت خوب صورت تعبیر ہے پکنک منانے کی۔ بدویانہ دور زندگی میں جی بہلانے کے جو طریقے بہت مقبول و محبوب رہے ہیں ان میں پکنک کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ شعرائے جاہلیت اپنے قصائد میں بڑی دلچسپی سے اس کا ذکر کرتے ہیں۔ حضرت یوسفؑ کے بھائیوں نے بھی مذکورہ بالا رائے پر اتفاق کر لینے کے بعد حضرت یعقوبؑ کو شیشہ میں اتارنے کے لیے ان کو یہی سبز باغ دکھانے کی کوشش کی۔ سب مل کر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ پہلے تو اپنا اعتماد جمانے کے لیے یہ کہا کہ کیا بات ہے کہ یوسفؑ کے معاملے میں آپ ہم پر اعتماد نہیں کرتے حالانکہ ہم تو اس کے بڑے ہی خیرخواہ اور محبت کرنے والے ہیں۔ پھر ان کے سامنے اپنا پکنک کا پروگرام پیش کیا کہ کل ہم نے تفریح کا پروگرام بنایا ہے اور ہماری دلی آرزو ہے کہ یوسفؑ بھی اس پروگرام میں شریک ہو، ذرا پھل پھلاری کھائے گا، ہمارے ساتھ کھیلے کودے گا اور آپ پوری طرح مطمئن رہیں کہ کسی بات کا اندیشہ نہیں ہے، اگر کوئی خطرہ ہوا تو ہم سب اس کی حفاظت کے لیے موجود ہیں۔

      جاوید احمد غامدی (اِس کے بعد وہ گئے اور) اُنھوں نے اپنے باپ سے کہا: ابا جان، کیا بات ہے کہ یوسف کے معاملے میں آپ ہم پر بھروسا نہیں کرتے، دراں حالیکہ ہم اُس کے سچے خیرخواہ ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی کل اس کو ہمارے ساتھ جانے دیجیے ذرا چرے چگے اور کھیلے کودے اور ہم اس کی پوری خفاظت کے ذمہ دار ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حضرت یعقوبؑ کو فریب: ’یَرْتَعْ وَیَلْعَبْ‘ کا لغوی مفہوم تو یہ ہے کہ ذرا چرے چگے اور کھیلے کودے لیکن یہ نہایت خوب صورت تعبیر ہے پکنک منانے کی۔ بدویانہ دور زندگی میں جی بہلانے کے جو طریقے بہت مقبول و محبوب رہے ہیں ان میں پکنک کو خاص اہمیت حاصل رہی ہے۔ شعرائے جاہلیت اپنے قصائد میں بڑی دلچسپی سے اس کا ذکر کرتے ہیں۔ حضرت یوسفؑ کے بھائیوں نے بھی مذکورہ بالا رائے پر اتفاق کر لینے کے بعد حضرت یعقوبؑ کو شیشہ میں اتارنے کے لیے ان کو یہی سبز باغ دکھانے کی کوشش کی۔ سب مل کر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ پہلے تو اپنا اعتماد جمانے کے لیے یہ کہا کہ کیا بات ہے کہ یوسفؑ کے معاملے میں آپ ہم پر اعتماد نہیں کرتے حالانکہ ہم تو اس کے بڑے ہی خیرخواہ اور محبت کرنے والے ہیں۔ پھر ان کے سامنے اپنا پکنک کا پروگرام پیش کیا کہ کل ہم نے تفریح کا پروگرام بنایا ہے اور ہماری دلی آرزو ہے کہ یوسفؑ بھی اس پروگرام میں شریک ہو، ذرا پھل پھلاری کھائے گا، ہمارے ساتھ کھیلے کودے گا اور آپ پوری طرح مطمئن رہیں کہ کسی بات کا اندیشہ نہیں ہے، اگر کوئی خطرہ ہوا تو ہم سب اس کی حفاظت کے لیے موجود ہیں۔

      جاوید احمد غامدی اُسے کل ہمارے ساتھ جانے دیجیے، ذرا کچھ چر چگ لے اور کھیلے کودے، ہم اُس کی حفاظت کے ذمہ دار ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      بدویانہ زندگی میں دل بہلانے کا یہ طریقہ نہایت مقبول رہا ہے کہ بستی سے باہر جا کر دشت و صحرا یا کسی نخلستان میں کچھ وقت اِس طرح گزارا جائے کہ سب مل کر کھائیں پکائیں اور کھیلیں کو دیں۔ یہ وہی چیز ہے جسے ہمارے ہاں پکنک سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اس نے کہا مجھے غم میں یہ چیز ڈالتی ہے کہ تم اسے لے جاؤ اور ڈرتا ہوں کہ جب تم اس سے غافل ہو تو اس کو بھیڑیا کھا جائے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حضرت یعقوبؑ نے فرمایا کہ مجھے غم اور اندیشہ اگر ہے تو اس بات کا ہے کہ تم اس کو لے جاؤ اور تم تو اپنے کھیل کود، اپنی دلچسپیوں میں مصروف ہو جاؤ اور تمہاری غفلت میں اس کو کوئی بھیڑیا کھا جائے۔ معلوم ہوتا ہے اس علاقے میں بھیڑیوں کی کثرت تھی اور آدمیوں پر ان کے حملوں کی وارداتیں ہوتی رہتی تھیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے اس اندیشے کو سن کر بڑے تاؤ سے انھوں نے جواب دیا کہ ہماری پوری پارٹی کی موجودگی میں اگر اس کو بھیڑیا کھا گیا تو ہم سے بڑھ کر بدقسمت اور نامراد کون ہو گا ۔۔۔ معلوم ہوتا ہے حضرت یعقوبؑ نے ان کی اس یقین دہانی کے بعد بادل نخواستہ ہی سہی، حضرت یوسفؑ کو ان کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی اور ان کی سازش کا پہلا مرحلہ کامیابی سے طے ہو گیا۔

      جاوید احمد غامدی باپ نے کہا: مجھے یہ چیز افسردہ کر دیتی ہے کہ تم اُسے لے جاؤ اور ڈرتا ہوں کہ تم اُس سے غافل ہو اور اُسے بھیڑیا کھا جائے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ گرد و پیش کے علاقے میں بھیڑیوں کی کثرت تھی اور وہ باہر جانے والوں پر وقتاً فوقتاً حملے کرتے رہتے تھے۔

    • امین احسن اصلاحی وہ بولے کہ اگر اس کو بھیڑیا کھا گیا جب کہ ہم ایک پوری جماعت ہیں تو ہم تو اس صورت میں نہایت ہی نامراد ثابت ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حضرت یعقوبؑ نے فرمایا کہ مجھے غم اور اندیشہ اگر ہے تو اس بات کا ہے کہ تم اس کو لے جاؤ اور تم تو اپنے کھیل کود، اپنی دلچسپیوں میں مصروف ہو جاؤ اور تمہاری غفلت میں اس کو کوئی بھیڑیا کھا جائے۔ معلوم ہوتا ہے اس علاقے میں بھیڑیوں کی کثرت تھی اور آدمیوں پر ان کے حملوں کی وارداتیں ہوتی رہتی تھیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے اس اندیشے کو سن کر بڑے تاؤ سے انھوں نے جواب دیا کہ ہماری پوری پارٹی کی موجودگی میں اگر اس کو بھیڑیا کھا گیا تو ہم سے بڑھ کر بدقسمت اور نامراد کون ہو گا ۔۔۔ معلوم ہوتا ہے حضرت یعقوبؑ نے ان کی اس یقین دہانی کے بعد بادل نخواستہ ہی سہی، حضرت یوسفؑ کو ان کے ساتھ جانے کی اجازت دے دی اور ان کی سازش کا پہلا مرحلہ کامیابی سے طے ہو گیا۔

      جاوید احمد غامدی اُنھوں نے جواب دیا: اگر اُسے بھیڑیے نے کھا لیا، جبکہ ہم ایک جتھا ہیں تو ہم بڑے ہی نامراد ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی پس جب وہ اس کو لے گئے اور یہ طے کر لیا کہ اس کو کنوئیں کی تہ میں پھینک دیں اور ہم نے اس کو وحی بھی کر دی کہ تم ان کو ان کی اس کارستانی سے آگاہ کرو گے جب کہ ان کو کچھ خیال بھی نہ ہو گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      تجویز جس پر عمل ہوا: ان آیات میں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ’لمَّا‘ کا جواب ’قَالُوْا یٰٓاَبَانَآ ... الایۃ‘ ہے۔ بات کو سمیٹنے کے لیے بیچ میں کئی باتوں کو ’لَمَّا‘ ہی کے تحت کر دیا ہے۔ یعنی جب انھوں نے اس کو کنوئیں میں ڈالنے کا فیصلہ کر لیا اور یوسفؑ کو یہ خوش خبری بھی الہام کر دی گئی کہ تم اس آفت سے نجات پاؤ گے اور ایک دن آئے گا کہ تم ان کو ان کی اس کارستانی سے آگاہ کرو گے، اور وہ روتے ہوئے اپنے باپ کے پاس رات میں آئے، تب انھوں نے یہ کہا کہ ہم تو یوسفؑ کو سامان کے پاس چھوڑ کر دوڑ لگاتے ہوئے دور نکل گئے اور یوسف کو بھیڑیا کھا گیا۔ اس ایجاز کا فائدہ یہ ہوا کہ سرگزشت کے تمام اجزا کی طرف اشارہ بھی ہو گیا اور اصل نقطہ سے مخاطب کی توجہ ہٹنے بھی نہ پائی۔
      اب اس کے اجزا پر ایک نظر ڈال لیجیے۔
      ’فَلَمَّا ذَھَبُوْا بِہٖ وَاَجْمَعُوْٓا اَنْ یَّجْعَلُوْہُ فِیْ غَیٰبَتِ الْجُبِّ‘۔ یعنی حضرت یعقوبؑ کو کسی نہ کسی طرح راضی کر ہی لیا اور یوسفؑ کو ساتھ لے گئے اور اس بات پر اتفاق کر لیا کہ اس کو کنوئیں میں ڈال دیں۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اس امر میں اختلاف اگرچہ آخر تک موجود رہا کہ یوسفؑ کو قتل کریں یا کنوئیں میں ڈالیں لیکن بالآخر کنوئیں والی تجویز ہی پر سب کا اتفاق اور اسی پر عمل ہوا۔
      حضرت یوسفؑ کو بشارت: ’وَاَوْحَیْنَآ اِلَیْہِ لَتُنَبِّءَنَّھُمْ بِاَمْرِھِمْ ھٰذَا وَھُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ‘۔ یہاں ’وحی‘ سے مراد اصطلاحی وحی نہیں ہے بلکہ مراد دل میں بات ڈال دینا ہے۔ صالحین کو ظالموں اور شریروں کے ہاتھوں جب کوئی آزمائش پیش آتی ہے تو اللہ تعالیٰ جس وقت ظالموں کو ڈھیل دیتا ہے اسی وقت مظلوم کے دل پر بھی غیب سے سکینت و طمانیت، تسلی اور بشارت نازل فرماتا ہے۔ اس کا تجربہ کم و بیش ہر اس شخص کو ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں کوئی تکلیف اٹھانے کی سعادت حاصل ہوتی ہے۔ یہ چیز آپ سے آپ دل پر نازل ہوتی ہے اور پھر دل کو اس طرح اپنے رنگ میں رنگ لیتی ہے کہ بڑی سے بڑی مصیبت کی اہمیت بھی پرکاہ کے برابر نہیں رہ جاتی۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے دل پر بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بات ڈال دی گئی کہ یہ آزمائش وقتی اور عارضی ہے۔ وہ وقت آئے گا کہ تم ان لوگوں کو ان کی کارستانی سے آگاہ کرو گے اور تم اس وقت ایسے منصب بلند پر ہو گے کہ یہ گمان بھی نہ کر سکیں گے کہ یہ ان کا وہی بھائی ان سے بات کر رہا ہے جس کو انھوں نے اندھے کنوئیں میں پھینکا تھا۔ اس کی تفصیل آیت ۹۰ کے تحت آئے گی۔

      جاوید احمد غامدی اِس طرح (اصرار کر کے) جب وہ یوسف کو لے گئے اور بالآخر طے کر لیا کہ اُس کو کنویں کی تہ میں پھینک دیں اور (اُدھر) ہم نے اُس کو وحی کر دی کہ تم (ایک دن) اِن کی اِس حرکت سے اِنھیں آگاہ کرو گے، جب اِنھیں کچھ خیال بھی نہ ہو گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی لانے کے بعد اگرچہ پھر کچھ اختلاف ہوا، لیکن بالآخر یہی بات طے ہوئی کہ کنویں میں ڈال دینا ہی بہتر ہے۔ بائیبل اور تالمود کی روایات کے مطابق یہ کنواں سکم کے شمال میں دو تن (موجودہ دثان) کے قریب واقع تھا۔
      یعنی اُس وقت آگاہ کرو گے، جب اِن کے تصور میں بھی نہیں ہو گا کہ جس بھائی کو ہم نے اندھے کنویں میں ڈال دیا تھا، وہ اِس مقام بلند پر فائز ہے اور ہم سے بات کر رہا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور وہ اپنے باپ کے پاس کچھ رات گئے روتے ہوئے آئے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      تجویز جس پر عمل ہوا: ان آیات میں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ’لمَّا‘ کا جواب ’قَالُوْا یٰٓاَبَانَآ ... الایۃ‘ ہے۔ بات کو سمیٹنے کے لیے بیچ میں کئی باتوں کو ’لَمَّا‘ ہی کے تحت کر دیا ہے۔ یعنی جب انھوں نے اس کو کنوئیں میں ڈالنے کا فیصلہ کر لیا اور یوسفؑ کو یہ خوش خبری بھی الہام کر دی گئی کہ تم اس آفت سے نجات پاؤ گے اور ایک دن آئے گا کہ تم ان کو ان کی اس کارستانی سے آگاہ کرو گے، اور وہ روتے ہوئے اپنے باپ کے پاس رات میں آئے، تب انھوں نے یہ کہا کہ ہم تو یوسفؑ کو سامان کے پاس چھوڑ کر دوڑ لگاتے ہوئے دور نکل گئے اور یوسف کو بھیڑیا کھا گیا۔ اس ایجاز کا فائدہ یہ ہوا کہ سرگزشت کے تمام اجزا کی طرف اشارہ بھی ہو گیا اور اصل نقطہ سے مخاطب کی توجہ ہٹنے بھی نہ پائی۔
      بھائیوں کی سخن سازی: ’وَجَآءُ وْٓ اَبَاھُمْ عِشَآءً یَّبْکُوْنَ‘۔ یعنی یہ کارستانی انجام دے کر کچھ رات گئے منہ بسورتے اور ٹسوے بہاتے باپ کے پاس آئے۔ کچھ رات گئے آنے میں ممکن ہے یہ مصلحت مدنظر رہی ہو کہ اگر باپ کے دل میں تلاش و تحقیق کا کوئی خیال پیدا ہو تو اس کا بھی کوئی امکان باقی نہ رہے۔

      جاوید احمد غامدی اور وہ روتے پیٹتے کچھ رات گئے اپنے باپ کے پاس پہنچ گئے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      رات گئے واپس آنے میں غالباً یہ مصلحت رہی ہو گی کہ باپ اگر کسی کو تلاش کے لیے بھیجنا چاہے تو اِس کا بھی امکان باقی نہ رہے۔

    • امین احسن اصلاحی تو بولے کہ اے ہمارے باپ ہم ایک دوسرے سے دوڑ میں مقابلہ کرتے ہوئے دور نکل گئے اور یوسف کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑا تو اس کو بھیڑیا کھا گیا ۔۔۔ اور آپ تو ہماری بات باور کرنے والے ہیں نہیں اگرچہ ہم سچے ہی ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      تجویز جس پر عمل ہوا: ان آیات میں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ’لمَّا‘ کا جواب ’قَالُوْا یٰٓاَبَانَآ ... الایۃ‘ ہے۔ بات کو سمیٹنے کے لیے بیچ میں کئی باتوں کو ’لَمَّا‘ ہی کے تحت کر دیا ہے۔ یعنی جب انھوں نے اس کو کنوئیں میں ڈالنے کا فیصلہ کر لیا اور یوسفؑ کو یہ خوش خبری بھی الہام کر دی گئی کہ تم اس آفت سے نجات پاؤ گے اور ایک دن آئے گا کہ تم ان کو ان کی اس کارستانی سے آگاہ کرو گے، اور وہ روتے ہوئے اپنے باپ کے پاس رات میں آئے، تب انھوں نے یہ کہا کہ ہم تو یوسفؑ کو سامان کے پاس چھوڑ کر دوڑ لگاتے ہوئے دور نکل گئے اور یوسف کو بھیڑیا کھا گیا۔ اس ایجاز کا فائدہ یہ ہوا کہ سرگزشت کے تمام اجزا کی طرف اشارہ بھی ہو گیا اور اصل نقطہ سے مخاطب کی توجہ ہٹنے بھی نہ پائی۔
      ’قَالُوْا یٰٓاَبَانَآ اِنَّا ذَھَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَکْنَا یُوْسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَاَکَلَہُ الذِّءْبُ‘ یہ وہ اصل بات ہے جو انھوں نے اپنی صفائی میں پیش کی۔ ’اِسْتِبَاق‘ کے معنی دوڑنے، جھپٹنے اور ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کے ہیں۔ اسی سورہ میں آگے ’اِسْتَبَقَا الْبَاب‘ آیا ہے یعنی وہ دونوں دروازے کی طرف جھپٹے۔ ان لوگوں نے اپنے لیے عذر تلاش کرنے میں کچھ زیادہ ذہانت کا ثبوت نہیں دیا۔ حضرت یعقوبؑ نے ان کے سامنے بھیڑیے کا جو اندیشہ ظاہر کیا تھا اسی سے انھوں نے یہ بات بنا لی کہ باپ کے ذہن میں بھیڑیے کا اندیشہ تو موجود ہی ہے تو کیوں نہ اس کی آڑ میں پناہ لی جائے۔ چنانچہ انھوں نے حضرت یعقوبؑ ہی کی بات دہرا دی کہ ہم تو یوسفؑ کو سامان کے پاس چھوڑ کر دوڑ لگاتے ہوئے دور نکل گئے اور پھر بھیڑیا آیا اور یوسفؑ کو کھا گیا۔ یہ بات کہنے کو تو انھوں نے کہہ دی لیکن وہ خود بھی مطمئن نہیں تھے کہ حضرت یعقوبؑ ان کی بات باور کر لیں گے۔ چنانچہ ان کے دل کا چور ان کی زبان پر بھی آ گیا اور ساتھ ہی وہ یہ بھی کہہ گزرے کہ ’وَمَآ اَنْتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ کُنَّا صٰدِقِیْنَ‘۔ آپ ہماری بات ماننے والے تو ہیں نہیں اگرچہ ہم سچے ہی کیوں نہ ہوں۔

      جاوید احمد غامدی تو اُنھوں نے (آ کر) کہا: ابا جان، ہم دوڑ کا مقابلہ کرنے میں لگ گئے تھے اور یوسف کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا کہ اتنے میں بھیڑیا (آیا اور) اُس کو کھا گیا۔ آپ تو ہماری بات کا یقین نہ کریں گے، اگرچہ ہم سچے ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب نے جو کچھ کہا تھا، اُنھوں نے اُسی سے بات بنا لی کہ باپ کے ذہن میں بھیڑیے کا اندیشہ پہلے سے موجود ہے، اِس لیے جلد باور کر لیں گے۔
      یہ دل کا چور ہے جو زبان پر آ گیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور وہ اس کے کرتے پر جھوٹ موٹ کا خون بھی لگا لائے۔ اس نے کہا کہ بلکہ یہ تو تمہارے جی کی ایک گھڑی ہوئی بات ہے تو صبر جمیل کی توفیق ملے اور جو کچھ تم بیان کرتے ہو اس میں خدا ہی سہارا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’سولت لَہٗ نفسہ کذا، زّنتہ لہ وسھّلتہ لہ وھَوَّنتہ‘۔ شیطان نے اس کی نگاہ میں فلاں بات کھبا دی اور آسان کر دی۔
      ’صبر جمیل‘ کا مفہوم: ’فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ‘ مبتدا بھی ہو سکتا ہے اس لیے کہ نکرۂ موصوف میں مبتدا ہونے کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے اور مبتدائے محذوف کی خبر بھی ہو سکتا ہے۔ ہم نے مبتدا مان کر ترجمہ کیا ہے اور خبر محذوف کو ترجمہ میں کھول دیا ہے۔ ایسے مواقع میں خبر کے محذوف ہونے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ بالکل واضح ہوتی ہے اور اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ساری توجہ اصل نقطہ پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ ’صَبْرٌ جَمِیْلٌ‘ سے مراد وہ صبر ہے جو ہر قسم کے جزع فزع، گلے شکوے اور نوحہ و ماتم سے پاک ہو۔ اگر قرآن اور تورات کا فرق دیکھنا ہو تو صرف یہی ایک مقام تورات میں دیکھ لیجیے۔ قرآن تو ان کے صبر جمیل کی تعریف کرتا ہے اور تورات میں ہے کہ

      ’’تب یعقوب نے اپنے کپڑے پھاڑے اور ٹاٹ اپنے کولہے پر ڈالا اور بہت دن تک اپنے بیٹے کا غم کیا۔‘‘ (پیدائش ۳۷: ۳۴)

      حضرت یعقوبؑ کو اپنی بات باور کرانے کے لیے ان لوگوں نے تدبیر یہ کی کہ حضرت یوسفؑ کے قمیض پر کسی چیز کے خون کے دھبے ڈال لائے لیکن حضرت یعقوبؑ نے ایک لمحہ کے لیے بھی ان کی بات باور نہیں کی۔ سنتے ہی فرمایا کہ یہ سب تمہارا من گھڑت قصہ ہے تو ’صبر جمیل‘ کی توفیق ملے اور جو کچھ تم بیان کرتے ہو اللہ ہی مدد فرمائے تو اس کا عقدہ کھلے۔

       

      جاوید احمد غامدی وہ (اِس بات کو ثابت کرنے کے لیے) یوسف کے قمیص پر جھوٹ موٹ کا خون بھی لگا کر لے آئے تھے۔ باپ نے کہا: (نہیں)، بلکہ یہ تو تمھارے دل نے تمھارے لیے ایک بات گھڑ لی ہے۔ سو اب صبر جمیل (کی توفیق ملے) اور جو کچھ تم بیان کر رہے ہو، اُس پر خدا ہی سہارا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      آیت میں ’صَبْرٌ جَمِیْلٌ‘ کا ترجمہ اچھا صبر ہو سکتا ہے، یعنی وہ صبر جس میں فریاد نہ ہو، گلہ شکوہ نہ ہو، جزع فزع اور نوحہ و ماتم نہ ہو۔ یہ اصل میں مبتدا کے طور پر آیا ہے جس کی خبر محذوف ہے۔ ہم نے ترجمے میں اُسے کھول دیا ہے۔
      مطلب یہ ہے کہ اب یہ عقدہ اُسی کی مدد سے کھل سکتا ہے کہ تم نے کیا کیا ہے اور کیا بات بنا کر لے آئے ہو۔

    • امین احسن اصلاحی اور ایک قافلہ آیا تو انھوں نے اپنے سقہ کو بھیجا۔ اس نے ڈول ڈالا تو پکار اٹھا، خوشخبری ہو! یہ تو ایک لڑکا ہے! اور اس کو ایک پونجی سمجھ کر محفوظ کر لیا اور اللہ خوب باخبر تھا اس چیز سے جو وہ کر رہے تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وارد‘ کا مفہوم: ’وارد‘ کے اصل معنی تو کسی گھاٹ یا چشمہ پر اترنے والے کے ہیں۔ عرب میں قافلے والے یوں کرتے کہ جس کنوئیں میں اترنا ہوتا ذرا پہلے اپنا ایک آدمی اس پر بھیج دیتے کہ وہ پانی وغیرہ کا انتظام کر رکھے، یہاں وارد سے وہی مراد ہے۔
      خدائے کارساز کی کارسازی: برادران یوسفؑ تو ان کنوئیں میں ڈال کر گھر کو سدھارے۔ ادھر رب کریم کارساز نے یہ انتظام فرمایا کہ ایک قافلہ آ نکلا اور اس نے اپنے پانی کے منتظم کو کنوئیں پر بھیجا۔ اس نے ڈول ڈالا تو دیکھتا ہے کہ کنوئیں میں ایک لڑکا ہے۔ وہ خوشی سے چلایا کہ خوش خبری ہو، اس میں تو ایک لڑکا ہے! اس دور میں بردہ فروشی کا رواج عام تھا۔ انھوں نے سوچا کہ چلو ایک نفع کی چیز مل گئی، کہیں بیچ لیں گے اور اس خیال سے کہ کہیں داہنے بائیں کوئی مدعی نہ اٹھ کھڑا ہو اس واقعہ کو انھوں نے راز میں رکھنے کی کوشش کی، اس کی تشہیر نہیں ہونے دی۔ ’وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ بِمَا یَعْمَلُوْنَ‘ اور اللہ کو خوب پتہ تھا کہ وہ کیا کر رہے تھے۔ وہ تو اپنی اسکیم پوری کر رہے تھے اور اللہ اپنی اسکیم پوری کر رہا تھا۔ انھیں تو ایک غلام ملا تھا، خوش تھے کہ اس کو بیچ کر کچھ پیسے حاصل کر لیں گے اور اللہ نے یہ چاہا کہ یوسفؑ کی یہ غلامی مصر کی بادشاہی کی تمہید ثابت ہو۔

      جاوید احمد غامدی (اُدھر) ایک قافلہ آیا اور اُنھوں نے اپنا پانی بھرنے والا بھیجا۔ سو اُس نے اپنا ڈول (کنویں میں) ڈالا، (پھر یوسف کو دیکھ کر) پکار اٹھا:خوش خبری ہو، یہ تو ایک لڑکا ہے۔ (چنانچہ) اُنھوں نے (اُس کو نکالا اور) اُس کو پونجی سمجھ کر چھپا لیا اور جو کچھ وہ کر رہے تھے، اللہ اُس سے خوب واقف تھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’وَارِد‘ آیا ہے۔ اِس کے اصل معنی تو کسی گھاٹ یا چشمے پر اترنے والے کے ہیں، لیکن یہاں یہ اُس شخص کے لیے استعمال ہوا ہے جو قافلے والوں کی طرف سے پانی کے انتظام کے لیے مقرر کیے جاتے تھے۔ بائیبل اور تالمود، دونوں کی روایت ہے کہ یہ قافلہ جلعاد (شرق اردن) سے مصر جا رہا تھا جس کا دارالسلطنت اُس زمانے میں ممفس تھا جس کے کھنڈر قاہرہ کے جنوب میں ۲۱ کلومیٹر کے فاصلے پر پائے جاتے ہیں۔
      اِس لیے چھپا لیا کہ گردوپیش سے آ کر کوئی شخص اُس پر اپنا دعویٰ پیش نہ کر دے۔

    • امین احسن اصلاحی اور انھوں نے اس کو ایک حقیر قیمت، چند درم کے عوض، بیچ دیا اور وہ اس کے معاملے میں بالکل بے پروا تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’بخس‘ اور ’زھد‘ کا مفہوم: ’شَری یَشْرِی‘ خریدنے اور بیچنے دونوں معنی میں آتا ہے۔ یہاں یہ اپنے دوسرے معنی میں آیا ہے۔ ’بَخْسٍ‘ کے معنی ناقص اور حقیر کے ہیں۔ ’زَھَدَ فِی الشَّیْ، رَغِبَ عَنْہُ وَتَرَکَہ‘ یعنی وہ فلاں چیز سے بے رغبت ہو گیا، اس کو چھوڑ بیٹھا۔ تارک دنیا کو ’زاہد‘ اس لیے کہتے ہیں کہ وہ دنیا اور اسباب دنیا سے بے رغبت و بے نیاز ہو جاتا ہے۔
      حضرت یوسفؑ کی فروخت: مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے مصر پہنچتے ہی اس کو نہایت حقیر قیمت، گنتی کے چند درم، کے عوض بیچ دیا۔ انھوں نے حضرت یوسفؑ کے حاصل کرنے پر کچھ دام تو خرچ نہیں کیے تھے کہ اپنے دام وصول کرنے اور اس پر کچھ مزید نفع حاصل کرنے کی فکر ہوتی۔ ایک چیز مفت ہاتھ آئی تھی وہ جس قیمت پر بھی بک گئی ان کے لیے نفع ہی نفع تھی۔ چنانچہ انھوں نے غالباً خریدار اول ہی کے ہاتھ، جو قیمت بھی اس کی زبان سے نکل گئی، اسی قیمت پر ان کو فروخت کر دیا۔ انھیں کیا پتہ تھا کہ وہ جس لڑکے کو بیچ رہے ہیں وہ خانوادۂ یعقوبی کا چشم و چراغ اور خدا کا پیغمبر ہے اور بہت جلد مصر کی پوری حکومت اس کے انگوٹھے کے نیچے آنے والی ہے۔ جب وہ ان باتوں میں سے کسی بات سے واقف ہی نہیں تھے تو ان کو بے پروا تو ہونا ہی تھا۔

      جاوید احمد غامدی (پھر لے کر مصر پہنچ گئے) اور اُس کو تھوڑی سی قیمت، چند درہموں کے عوض بیچ دیا اور وہ اُس کے معاملے میں کوئی رغبت نہیں رکھتے تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس لیے بے رغبت تھے کہ جو کچھ ملا تھا، بغیر کسی قیمت کے ملا تھا، لہٰذا جو خریدار بھی سب سے پہلے سامنے آیا اور اُس نے جو کچھ بھی پیش کر دیا، اُسی پر بیچ کر فارغ ہو گئے۔

    Join our Mailing List