Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 109 آیات ) Al-Younus Al-Younus
Go
  • یونس (Jonah)

    109 آیات | مکی

    سورہ کا عمود
    اس سورہ کا عمود نہایت جامع الفاظ میں اس کی دوسری ہی آیت سے واضح ہو رہا ہے۔ فرمایا ہے:

    اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّھِمْ قَالَ الْکٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ. (۲۔ یونس)
    ’’ کہ لوگوں کو آگاہ کر دو اور اہل ایمان کو بشارت پہنچا دو کہ ان کے رب کے پاس ان کے لیے بڑی پایگاہ ہے کافروں نے کہا یہ تو کھلا ہوا جادوگر ہے۔‘‘

    سورۂ ہود میں اسی حقیقت کو یوں واضح فرمایا ہے:

    فَاصْبِرْ اِنَّ الْعَاقِبَۃَ لِلْمُتَّقِیْنَ. (۴۹۔ ہود)
    ’’ پس ثابت قدم رہو۔ انجام کار کی کامیابی متقین ہی کے لیے ہے۔‘‘

    سورۂ یوسف میں ارشاد ہے:

    اِنَّہٗ مَنْ یَّتَّقِ وَیَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ. (۹۰۔ یوسف)
    ’’ بے شک جو تقویٰ اختیار کریں گے اور ثابت قدم رہیں گے تو اللہ ایسے خوب کاروں کے اجر کو ضائع نہیں کرے گا۔‘‘

    سورۂ رعد میں اس صبر و تقویٰ کی کسی قدر تفصیل بھی آ گئی ہے:

    وَالَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْہِ رَبِّھِمْ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ سِرًّا وَّعَلَانِیَۃً وَّ یَدْرَءُ وْنَ بِالْحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃَ اُولٰٓئِکَ لَھُمْ عُقْبَی الدَّارِ. (۲۲۔ رعد)
    ’’اور جو لوگ اپنے رب کی رضا جوئی میں جمے رہے اور نماز کا اہتمام کیا اور جو کچھ ہم نے ان کو رزق بخشا اس میں سے چھپے اور کھلے خرچ کیا اور برائی کو بھلائی سے دفع کرتے رہے وہی لوگ ہیں جن کے لیے دارآخرت کی کامیابی ہے۔‘‘

    سورۂ ابراہیم میں اس کلمہ کی طرف بھی اشارہ ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں اہل ایمان کے ثبات قدم کا ضامن ہے:

    یُثَبِّتُ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْاٰخِرَۃِ وَیُضِلُّ اللّٰہُ الظّٰلِمِیْنَ. (۲۷۔ ابراہیم)
    ’’اللہ اہل ایمان کو دنیا اور آخرت میں قول محکم کی بدولت ثبات قدم بخشے گا اور ظالموں کو نامراد کر دے گا۔‘‘

    سورۂ نحل میں ہے:

    لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَۃٌ وَلَدَارُالْاٰخِرَۃِ خَیْرٌ وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِیْنَ. (۳۰۔ نحل)
    ’’جن لوگوں نے خوب کاری اختیار کی ان کے لیے اس دنیا میں بھی اچھا صلہ ہے اور آخرت کا گھر اس سے کہیں بہتر ہے اور کیا ہی اچھا ہے متقین کا گھر۔‘‘

    سورۂ بنی اسرائیل میں ہے کہ سیدھی راہ قرآن کی بتائی ہوئی راہ ہے اور جن لوگوں نے یہ راہ اختیار کر لی ہے دنیا اور آخرت کی فلاح کی بشارت انہی کے لیے ہے:

    اِنَّ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ یَھْدِیْ لِلَّتِیْ ھِیَ اَقْوَمُ وَیُبَشِّرُ الْمُؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَھُمْ اَجْرًا کَبِیْرًا ۵ وَّاَنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ اَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا. (۹۔۱۰ بنی اسرائیل)
    ’’بے شک یہ قرآن اس رستہ کی طرف رہنمائی کر رہا ہے جو بالکل سیدھا ہے اور ان مومنین کو جو نیک عمل کر رہے ہیں ایک اجر عظیم کی بشارت دے رہا ہے اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے لیے ہم نے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘

    سورۂ انبیاء میں ہے:

    وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْ م بَعْدِ الذِّکْرِ اَنَّ الْاَرْضَ یَرِثُھَا عِبَادِیَ الصّٰلِحُوْنَ. (۱۰۵۔ انبیاء)
    ’’اور ہم نے زبور میں یاددہانی کے بعد یہ لکھ دیا ہے کہ زمین کے وارث میرے صالح بندے ہوں گے۔‘‘

    گروپ کی آخری سورہ ۔۔۔ سورۂ نور۔۔۔ میں یہ بشارت واضح سے واضح تر ہو گئی ہے:

    وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَہُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّہُمْ مِّنْم بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا. (۵۵۔ نور)
    ’’تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے عمل صالح کیے ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو زمین میں خلافت عطا فرمائے گا جس طرح ان لوگوں کو خلافت عطا فرمائی جو ان سے پہلے گزرے اور ان کے اس دین کو مستحکم کرے گا جس کو ان کے لیے پسند فرمایا اور ان کی اس خوف کی حالت کو امن سے بدل دے گا۔‘‘

    ان آیات کو نقل کرنے سے مقصود سورۂ یونس اور اس گروپ کی دوسری سورتوں کے عام مزاج سے فی الجملہ قارئین کو آشنا کر دینا ہے۔

  • یونس (Jonah)

    109 آیات | مکی
    یونس ——- ہود

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ دونوں کا موضوع انذار و بشارت ہے۔ دوسری سورہ میں اِس انذار و بشارت کے تاریخی دلائل، البتہ زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ دونوں میں خطاب قریش سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میںیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی یہ الف، لام، را ہے۔ یہ پرحکمت کتاب کی آیات ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’کتاب حکیم‘ کا مفہوم: ’الٓرٰ‘۔ اس سورہ کا قرآنی نام ’الٓرٰ‘ ہے اور ’تِلْکَ‘ کا اشارہ اسی کی طرف ہے۔ یہ حروف مقطعات ہیں جن پر ایک جامع بحث ہم بقرہ کی تفسیر کے شروع میں کر آئے ہیں۔ کتاب کی صفت ’حکیم‘ اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ یہ کتاب اپنے ہر دعوے پر دلیل و حجت سے اس طرح آراستہ ہے کہ اپنی صداقت کی کسوٹی خود اپنے ہی اندر رکھتی ہے، کسی خارجی شہادت کی محتاج نہیں ہے۔ جو لوگ اس کی صداقت کے ثبوت کے لیے کسی شہادت کے طلب گار ہیں وہ خارج کی بجائے خود اس کے اندر اتریں، اگر ان کی عقل سلیم اور فطرت مستقیم ہو گی تو اس کی حکمت خود ان کے ہر شبہے کو صاف کر دے گی۔

      جاوید احمد غامدی یہ سورہ ’الر‘ ہے۔ یہ اُس کتاب کی آیتیں ہیں جو سراسر حکمت ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس نام کے کیا معنی ہیں؟ اِس کے متعلق ہم نے اپنا نقطۂ نظر سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۱ کے تحت تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔
      یہ اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اِس کتاب کی صداقت کا معیار خود اِس کی حکمت ہے۔ یہ اِس کے لیے کسی خارجی شہادت کی محتاج نہیں ہے۔

    • امین احسن اصلاحی کیا لوگوں کو اس بات پر حیرانی ہے کہ ہم نے انہی میں سے ایک شخص پر وحی کی کہ لوگوں کو ہوشیار کر دو اور اہل ایمان کو بشارت پہنچا دو کہ ان کے لیے ان کے رب کے پاس بڑا مرتبہ ہے۔ کافروں نے کہا، بے شک یہ ایک کھلا ہوا جادوگر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان: ’اَکَانَ لِلنَّاسِ عَجَباً ........ الایۃ‘۔ ’النَّاس‘ سے مراد، قرینہ دلیل ہے کہ یہاں قریش ہیں۔ یعنی جب یہ کتاب بجائے خود حجت و برہان ہے تو مجرد یہ بات اس کے انکار کی کیا دلیل ہوئی کہ اس کی وحی انہی میں سے ایک شخص پر آئی؟ اپنے اندر کے کسی شخص پر اس وحی کا آنا کوئی انکار و استعجاب کی چیز نہیں بلکہ یہ سوچیں تو یہ اللہ کا ان پر احسان عظیم ہے کہ اس نے ان پر انہی کے اندر کے ایک ایسے شخص کے ذریعہ سے یہ کتاب اتاری جس کے ماضی و حاضر اور جس کے کردار و اخلاق سے وہ اچھی طرح آگاہ بھی ہیں اور جس کے امین و راست باز ہونے کے وہ معترف بھی رہے ہیں؟ کیا یہ بات بہتر ہوتی کہ کوئی غیر ان پر اس حق کی گواہی دیتا یا یہ بہتر ہے کہ اللہ نے انہی کے ایک بہترین فرد کو اس حق کا گواہ بنایا اور اس طرح گویا انہی کی زبان اور انہی کے ضمیر نے ان پر حق کی حجت تمام کی۔ یہ بات بھی کسی پہلو سے معقول نہ ہوتی کہ اس کام کے لیے کوئی فرشتہ یا جن منتخب کیا جاتا۔ انسانوں کے لیے معلم و مرشد اور نمونہ و مثال انسان ہو سکتا ہے نہ کہ فرشتے اور جن۔
      کتاب اور حامل کتاب کا اصل پیغام: ’اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا‘۔ یہ اس کتاب یا حامل کتاب کا اصل پیغام نقل ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ پیغام بھی کوئی استعجاب یا انکار کی چیز نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے۔ یہ دنیا کی زندگی یوں ہی ختم ہو جانے والی نہیں ہے بلکہ اس کے بعد ایک ایسا دن آنے والا ہے جس میں سب کو خدا کی طرف لوٹنا ہے اور اس دن وہ لوگ خدا کے ہاں عزت و سرفرازی کا مقام پائیں گے جو اس کتاب پر ایمان لائیں گے اور جو لوگ اس کو جھٹلائیں گے وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں پڑیں گے۔ اس حقیقت کے اظہار سے اگر قریش کے متکبرین کے دل کو چوٹ لگتی ہے تو لگے اور وہ حیران ہوتے ہیں تو حیران ہوں لیکن جو حقیقت ہے وہ اس وجہ سے غلط نہیں ہو جائے گی کہ اس سے کسی گروہ کے پندار پر ضرب پڑتی ہے۔
      ’قَدَمَ صِدْقٍ‘ کا مفہوم: ’قَدَمَ صِدْقٍ‘ میں ’صدق‘ کا لفظ، جیسا کہ دوسرے مقام میں ہم واضح کر چکے ہیں، رسوخ، استحکام اور تمکن پر دلیل ہے اس وجہ سے ’قَدَمَ صِدْق‘ کا مفہوم عزت کا مقام، مرتبۂ بلند، اونچی پائگاہ اور لازوال سرفرازی ہوگا۔ اس آیت میں ایمان لانے والوں کے لیے جو بشارت ہے وہ تو واضح الفاظ میں مذکور ہے لیکن انذار کا پہلو مبہم چھوڑ دیا گیا ہے اس کی وجہ ہمارے نزدیک یہ ہے کہ اس گروپ کی تمام سورتوں میں نمایاں پہلو اہل ایمان کے لیے بشارت ہی کا ہے۔ کفار کے انجام کا پہلو ان میں اصلاً نہیں بلکہ ضمناً اور تبعاً بیان ہوا ہے۔
      کفار کے استعجاب و انکار کی تعبیر: ’قَالَ الْکٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ‘ یہ کفار کے استعجاب و انکار کی تعبیر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب اس پر حکمت کتاب کی آیتیں ان کو سنائی جاتی ہیں تو بجائے اس کے کہ اس کی قدر کریں اور اس پر ایمان لائیں اس کے لانے والے کو یہ کھلا ہوا جادوگر قرار دیتے ہیں۔ یعنی اس کتاب کے زور، اس کے اثر اور اس کی فصاحت و بلاغت کا لوہا تو مانتے ہیں لیکن ان سب چیزوں کو محض الفاظ اور سجع و قافیہ کی صناعی اور پیغمبر کی فصاحت و بلاغت کی شعبدہ بازی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں اور اپنے عوام کو یہ باور کراتے ہیں کہ اس کتاب اور اس کے لانے والے کے کلام میں جو تاثیر اور کشش محسوس کرتے ہو یہ نہ سمجھو کہ یہ اس وجہ سے ہے کہ یہ خدا کی طرف سے آئی ہے اور اس میں حکمت کا خزانہ ہے بلکہ جس طرح ایک شعبدہ باز اپنی شعبدہ بازی سے ایک شے کو کچھ سے کچھ بنا کر دکھاتا ہے اسی طرح یہ شخص (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) الفاظ کی شعبدہ گری کا ماہر ہے اور اپنی بات اس طرح پیش کرتا ہے کہ سادہ لوگ اس کے کلام سے مسحور ہو جاتے ہیں۔
      انبیاؑء کو ساحر و کاہن کہنے کا ایک خاص پہلو: یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ حضرات انبیاء علیہم السلام کو کفار جو ساحر قرار دیتے رہے ہیں تو صرف ان کے معجزات کی اہمیت گھٹانے کے لیے نہیں بلکہ یہی حربہ وہ ان کے کلام کو بے وقعت ٹھہرانے کے لیے بھی استعمال کرتے، جب دیکھتے کہ ان کے اندر کے سلیم الفطرت لوگ نبی کے پیش کیے ہوئے کلام سے متاثر ہو رہے ہیں تو یہ اشغلہ چھوڑتے کہ یہ تو محض الفاظ کی شعبدہ بازی اور زبان کی جادوگری ہے، اپنے آپ کو اس فریب سے بچاؤ۔ خود قرآن کو سحر کہنے میں بھی یہی مقصد ان کے پیش نظر ہوتا۔ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کاہن بھی کہتے تھے۔ اس سے بھی ان کا مقصد یہی ہوتا کہ اپنے عوام کی توجہ قرآن اور پیغمبر سے ہٹائیں کہ یہ کلام کوئی مافوق چیز اور اس کا پیش کرنے والا کوئی مافوق ہستی نہیں ہے۔ جس طرح ہمارے کاہن سجع اور قافیہ کے ساتھ مرصع اسلوب میں اپنا کلام پیش کرتے ہیں اور جس طرح کاہنوں کے کلام میں مستقبل سے متعلق کچھ پیشین گوئیوں کی جھلک ہوتی ہے اسی طرح کی جھلک ان کے کلام میں بھی ہوتی ہے۔ مطلب یہ کہ یہ ہماری جانی پہچانی ہوئی چیزیں ہیں۔ ان کو آسمانی اور خدائی مرتبہ دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

      جاوید احمد غامدی کیا اِن لوگوں کو اِس پر حیرانی ہو گئی کہ ہم نے اِنھی میں سے ایک شخص پر وحی کی ہے کہ لوگوں کو خبردار کرو اور جو مان لیں، اُنھیں خوش خبری پہنچا دوکہ اُن کے لیے اُن کے پروردگار کے پاس بڑا مرتبہ ہے۔ (اِس حقیقت کو سمجھنے کے بجاے) اِن منکروں نے کہہ دیا کہ یہ شخص تو کھلا جادوگر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اِس میں انکار و استعجاب اور حیرانی کی کیا بات ہے؟ خدا نے اپنا پیغام پہنچانے کے لیے اِنھی کے اندر سے ایک شخص کو منتخب کیا ہے تو یہی قرین عقل ہے۔ یہ اُس کے ماضی و حاضر اور اخلاق و کردار سے اچھی طرح واقف ہیں۔ اُس کی راست بازی اور امانت و دیانت کو جانتے ہیں۔ پھر یہی نہیں، اِن کا معلم و مرشد اور اِن کے لیے نمونہ و مثال بھی کوئی جن یا فرشتہ نہیں، بلکہ انسان ہی ہو سکتا تھا۔ چنانچہ خدا نے اِنھی کے ایک بہترین فرد کا انتخاب کیا ہے۔ استاذ امام کے الفاظ میں یہ گویا اِنھی کی زبان اور اِنھی کے ضمیر کی گواہی ہے جو اِن کے آگے پیش کی جا رہی ہے۔
      اصل میں ’قَدَمَ صِدْقٍ‘کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی ایسا مرتبہ جس میں عزت، بلندی اور لازوال سرفرازی ہو۔ یہ معنی لفظ ’صِدْق‘سے پیدا ہوئے ہیں جو رسوخ و استحکام اور تمکن پر دلیل ہوتا ہے۔
      یعنی جب دیکھا کہ اِس کی بات لوگوں کو متوجہ کر رہی ہے تو کہہ دیا کہ یہ شخص الفاظ کی جادوگری کا ماہر ہے۔ اِس کو کوئی مافوق ہستی اور اِس کے کلام کو کوئی مافوق چیز سمجھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ محض فصاحت و بلاغت اور حسن بیان کا کمال ہے۔ اِس سے زیادہ اِس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

    • امین احسن اصلاحی بے شک تمہارا رب وہی اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ ادوار میں پیدا کیا، پھر وہ معاملات کا انتظام سنبھالے عرش پر متمکن ہوا۔ اس کے ہاں اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارشی نہیں۔ یہی اللہ تمہارا رب ہے تو اسی کی بندگی کرو، کیا تم سوچتے نہیں! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مذکورہ بالا انذار و بشارت کی دلیل: اوپر والے ٹکڑے میں جو انذار و بشارت ہے یہ اسی کی دلیل بیان ہو رہی ہے اور مقدمات کی ترتیب اس طرح ہے کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور جس کا خالق ہونا تمہیں خود بھی تسلیم ہے، وہی تمہارا رب اور آقا و مولیٰ ہے۔ یہ کس طرح ممکن ہے کہ خالق تو کوئی اور ہو، آقا و مولیٰ کوئی اور بن جائے؟ اگر تم نے کچھ اور رب بنا کر ان سے کچھ امیدیں باندھ رکھی ہیں تو یہ محض تمہاری حماقت ہے جو عقل و فطرت اور خود تمہارے اپنے مسلمہ کے خلاف ہے۔ پھر یہ کائنات کسی اتفاقی حادثے کے طور پر ظہور میں نہیں آ گئی ہے بلکہ یہ خدائی دنوں کے حساب سے چھ دنوں یا بالفاظ دیگر چھ ادوار میں درجہ بدرجہ ارتقا پذیر ہوئی ہے۔ یہ تدریج و ترتیب اور یہ ارتقا خود شاہد ہے کہ نہ اس کا ظہور کوئی اتفاقی حادثہ ہے نہ یہ کسی کھلنڈرے کا کھیل تماشہ ہے بلکہ یہ نہایت اہتمام سے پیدا کیا ہوا ایک باغایت و بامقصد کارخانہ ہے اور اس کی مقصدیت کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ انسان جو اس کائنات میں خلیفہ کی حیثیت رکھتا ہے یوں ہی شتر بے مہار نہ چھوڑ دیا جائے بلکہ اس کے سامنے ایک ایسا دن آئے جس میں وہ لوگ پورے انصاف کے ساتھ اپنے اعمال کا صلہ پائیں جنھوں نے خالق کائنات کی پسند کے مطابق زندگی بسر کی اور وہ لوگ اپنے جرائم کی سزا بھگتیں جنھوں نے اس دنیا کو کھل تماشہ سمجھا اور ساری زندگی بطالت میں گزاری۔
      خدا عرش حکومت پر متمکن ہے: ’ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ‘۔ یعنی یہ نہ سمجھو کہ خدا دنیا کو پیدا کر کے کسی گوشے میں ایک خاموش علۃ العلل بن کر بیٹھ رہا ہے اور اس دنیا کا سارا انتظام و انصرام اس نے دوسروں کے حوالے کر دیا ہے بلکہ وہ خود عرش حکومت پر متمکن اور متمکن ہی نہیں بلکہ تمام معاملات کا انتظام فرما رہا ہے۔ زبور میں یہی حقیقت ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے:

      ’’تو نے تخت پر بیٹھ کر صداقت سے انصاف کیا۔‘‘ (۹: ۴)

      خدا کے ہاں کوئی سفارش اس کے اذن کے بغیر نہیں ہو گی: ’مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْ بَعْدِ اِذْنِہٖ‘ یعنی کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ خدا کے اس انصاف سے کسی کی سعی و سفارش کے ذریعے سے وہ اپنے آپ کو بچا لے جائے گا۔ خدا کے ہاں کوئی بھی نہ اس کے اذن کے بغیر سفارش کے لیے زبان کھول سکے گا اور نہ کوئی سفارش باطل کو حق یا حق کو باطل بنا سکے گی۔ اللہ کا علم ہر چیز کو محیط ہے۔
      ’ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ اَفَلَا تَذَکَّرُوْنَ‘۔ یعنی یہی اللہ جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے، جو عرش حکومت پر متمکن ہو کر عدل و انصاف کے ساتھ فرمانروائی کر رہا ہے، جس کے ہاں کوئی بڑے سے بڑا سفارشی بھی، اس کے اذن کے بغیر، کسی کی سفارش کی جرأت نہ کر سکے گا، وہی اللہ تمہارا رب ہے تو اپنے اسی رب کی بندگی کرو۔ اس کے سوا تم نے اور رب کہاں سے گھڑ لیے، تم اپنے مانے ہوئے مقدمات و مسلمات کو کس طرح نظرانداز کر جاتے ہو۔

       

      جاوید احمد غامدی (لوگو)، حقیقت یہ ہے کہ تمھارا پروردگار وہی اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر معاملات کا نظم سنبھالے ہوئے اپنے عرش پر قائم ہو گیا۔ اُس کی اجازت کے بغیر کوئی (اُس کے حضور میں) سفارش کرنے والا نہیں ہے۔ تمھارا پروردگار وہی اللہ ہے، لہٰذا اُسی کی بندگی کرو۔ کیا تم سوچتے نہیں ہو؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہاں سے آگے اُس انذار و بشارت کی دلیل بیان ہو رہی ہے جس سے سورہ کی ابتدا ہوئی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...(اِس میں) مقدمات کی ترتیب اِس طرح ہے کہ جس اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور جس کا خالق ہونا تمھیں خود بھی تسلیم ہے، وہی تمھارا رب اور آقا و مولیٰ ہے۔ یہ کس طرح ممکن ہے کہ خالق تو کوئی اور ہو، آقا و مولیٰ کوئی اور بن جائے؟ اگر تم نے کچھ اور رب بنا کر اُن سے کچھ امیدیں باندھ رکھی ہیں تو یہ محض تمھاری حماقت ہے جو عقل و فطرت اور خود تمھارے اپنے مسلمہ کے خلاف ہے۔ پھر یہ کائنات کسی اتفاقی حادثے کے طور پر ظہور میں نہیں آگئی ہے، بلکہ یہ خدائی دنوں کے حساب سے چھ دنوں یا بالفاظ دیگر چھ ادوار میں درجہ بدرجہ ارتقا پذیر ہوئی ہے۔ یہ تدریج و ترتیب اور یہ ارتقا خود شاہد ہے کہ نہ اِس کا ظہور کوئی اتفاقی حادثہ ہے، نہ یہ کسی کھلنڈرے کا کھیل تماشا ہے، بلکہ یہ نہایت اہتمام سے پیدا کیا ہوا ایک باغایت و بامقصد کارخانہ ہے اور اِس کی مقصدیت کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ انسان جو اِس کائنات میں خلیفہ کی حیثیت رکھتا ہے یوں ہی شتر بے مہار نہ چھوڑ دیا جائے، بلکہ اُس کے سامنے ایک ایسادن آئے جس میں وہ لوگ پورے انصاف کے ساتھ اپنے اعمال کا صلہ پائیں جنھوں نے خالق کائنات کی پسند کے مطابق زندگی بسر کی اور وہ لوگ اپنے جرائم کی سزا بھگتیں جنھوں نے اِس دنیا کو کھیل تماشا سمجھا اور ساری زندگی بطالت میں گزاری۔‘‘(تدبرقرآن۴/ ۲۳)

      یعنی پیدا کرنے کے بعد نہ کسی گوشے میں خاموش بیٹھ گیا ہے اور نہ اپنی مخلوقات کے معاملات دوسروں کے سپرد کرکے اُن سے بے تعلق ہو گیا ہے، بلکہ عرش حکومت پر متمکن ہے اور اپنی دنیا کا نظم خود چلا رہا ہے۔
      اِس لیے لوگوں کو اِس غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے کہ کسی کی سعی و سفارش اُنھیں خدا کے عذاب سے بچا لے گی۔

       

    • امین احسن اصلاحی اسی کی طرف تم سب کا لوٹنا ہے۔ یہ اللہ کا پکا وعدہ ہے۔ بے شک وہی خلق کا آغاز کرتا ہے پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک کام کیے ان کو عدل کے ساتھ بدلہ دے اور جنھوں نے کفر کیا ان کے لیے ان کے کفر کی پاداش میں کھولتا پانی اور دردناک عذاب ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      سب کی پیشی خدا ہی کے آگے ہو گی: ’اِلَیْہِ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعًا وَعْدَ اللّٰہِ حَقًّا‘۔ اسی کی طرف تم سب کا لوٹنا ہے۔ اس کے سوا کوئی اور مولیٰ و مرجع نہیں ہے۔ یہ اللہ کا شدنی وعدہ ہے۔ ’جَمِیْعًا‘ کی تاکید اس امر کے اظہار کے لیے ہے کہ تمہاری اور جن کو تم نے اپنے گمان کے مطابق خدا کا شریک و شفیع بنا رکھا ہے سب کی پیشی خدا ہی کے آگے ہونی ہے اس سے کوئی بھی نہ بچ سکے گا۔
      آغاز و اعادہ خدا کے اختیار میں ہے: ’اِنَّہٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ‘۔ یہ اس وعدے کے حق ہونے کی دلیل ہے کہ خدا خلق کا آغاز فرماتا ہے۔ وہی دوبارہ اس کا اعادہ فرمائے گا جس نے پہلی مرتبہ اس کا آغاز کیا، آخر دوبارہ اس کا اعادہ کرنے میں اس کو کیوں دشواری پیش آئے گی؟ اس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ جن کا نہ اس کائنات کے آغاز میں کوئی حصہ نہ اس کے اعادہ میں کوئی دخل آخر ان کو کس بنیاد پر تم نے مرجع و مولیٰ بنا رکھا ہے؟
      قیامت کا اصل مقصد: ’لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ‘۔ یہی اصل مقصد ہے قیامت کے آنے کا۔ اس سے معلوم ہوا کہ قیامت کا اصل مقصود درحقیقت اہل ایمان کو جزا دینا ہے، اہل کفر کو سزا اس کے لوازم اور توابع میں سے ہے۔ یہی وہ بشارت ہے جس کا آغاز میں ذکر ہوا ہے اس کی دلیل بیان کرنے کے بعد پھر اس کی طرف اشارہ فرما دیا۔
      کفار کے لیے اولین سامان ضیافت: ’وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَھُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّعَذَابٌ اَلِیْمٌم بِمَا کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ‘۔ کفار کو جو عذاب ہو گا یہ اس کا بیان ہے۔ ’شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ‘ کا ذکر، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں اشارہ کر چکے ہیں، اولین سامان ضیافت کی حیثیت سے ہے یعنی ان کی اول تواضع تو ان کے اترتے ہی کھولتے پانی سے ہو گی۔ پھر ان کے لیے دردناک عذاب کے دروازے کھول دیے جائیں گے۔

      جاوید احمد غامدی تم سب کو (ایک دن) اُسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ یہ خدا کا سچا وعدہ ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ وہی خلق کی ابتدا کرتا ہے، پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا، اِس لیے کہ جو لوگ ایمان لائے اور اُنھوں نے نیک عمل کیے ہیں، اُن کو انصاف کے ساتھ (اُن کے عمل کا) بدلہ دے اور جنھوں نے انکار کر دیا ہے، اُن کے انکار کے بدلے اُن کے لیے کھولتا ہوا پانی اور دردناک عذاب ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی تمھیں بھی اور تمھارے اُن معبودوں کو بھی جنھیں تم اپنے گمان کے مطابق خدا کے شریک اور اُس کے حضور میں سفارش کرنے والے سمجھتے ہو۔ آیت میں ’جَمِیْعًا‘ کی تاکید اِسی مضمون کو ظاہر کرتی ہے۔
      یعنی جس طرح ابتدا کی ہے، اُسی طرح دوبارہ پیدا کر دے گا۔ اُسے کوئی دشواری پیش نہ آئے گی۔ اِس میں یہ اشارہ بھی ہے کہ جب خلق اور اعادۂ خلق، دونوں میں کسی کا کوئی حصہ نہیں ہے تو مرجع و مولیٰ بھی وہی ہے۔ اُس کے سوا کوئی دوسرا یہ حیثیت کس بنیاد پر حاصل کر سکتا ہے؟

    • امین احسن اصلاحی وہی ہے جس نے سورج کو تاباں اور چاند کو نور بنایا اور اس کے لیے منزلیں ٹھہرا دیں تاکہ تم سالوں کا شمار اور حساب معلوم کر سکو۔ اللہ نے یہ کارخانہ بے مقصد نہیں بنایا ہے۔ وہ اپنی نشانیوں کی وضاحت کرتا ہے ان لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      جزا اور سزا کے قطعی ہونے کی دلیل: توحید کے بعد اب یہ جزا اور سزا کے قطعی ہونے کی دلیل بیان ہو رہی ہے کہ اس کارخانۂ کائنات پر جو شخص بھی غور کرے گا اس کو یہ حقیقت نہایت نمایاں طور پر نظر آئے گی کہ یہ کسی کباڑیے کا مال گودام نہیں بلکہ اس کے ہر گوشے میں اس کے خالق کی عظیم قدرت اور اس کی بے پایاں رحمت و ربوبیت نمایاں ہے۔ اس کے اندر نہایت اعلیٰ اہتمام ہے۔ بے نظیر ترتیب و انتظام ہے، بے مثال اقلیدس و ریاضی ہے۔ سورج معین نظام اوقات کے ساتھ نکلتا اور اپنی تابانیوں سے سارے جہان کو روشن کرتا ہے۔ اس کے فیض سے گرمی، سردی، خزاں اور بہار کے مختلف موسم پیدا ہو جاتے ہیں جن میں سے ہر ایک ہماری دنیا کی زندگی اور اس کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ چاند اس سے کسب ۱؂ نور کر کے اپنی معین منزلیں طے کرتا اور ہماری تاریک راتوں میں مختلف زاویوں سے ہمارے لیے شمع برداری بھی کرتا ہے اور ہمارے مہینوں اور سالوں کی تقویم بھی بناتا ہے ۔۔۔ کون کہہ سکتا ہے کہ یہ دنیا خیر و شر اور نیکی و بدی کے درمیان امتیاز کے بغیر یوں ہی چلتی رہے گی یا یوں ہی ختم ہو جائے گی؟ اگر یہ مان لیا جائے تو یہ ساری قدرت و حکمت بے مقصد بے غایت ہو جاتی ہے جو اس کائنات کے ہر گوشہ میں جلوہ گر ہے۔ پھر تو یہ دنیا بالکل باطل اور ایک کھیل تماشا بن کے رہ جاتی ہے اور یہ ایک ایسی خلاف عقل، ایسی خلاف عدل اور ایسی خلاف فطرت بات ہے کہ کوئی سلیم العقل اور کوئی مستقیم الفطرت انسان ایک لمحہ کے لیے بھی اس کو باور نہیں کر سکتا۔ کچھ اینٹیں ایک جگہ بکھری ہوئی پڑی ہوں تو ان کو تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ یونہی پڑی ہوئی ہیں لیکن کیا یہی گمان تاج محل، لال قلعہ اور لاہور و دلی کی جامع مسجدوں کے متعلق بھی کر سکتے ہیں؟
      صحیح انسانی فطرت کا اعتراف: ’مَا خَلَقَ اللّٰہُ ذٰلِکَ اِلَّا بِالْحَقِّ‘۔ یہ صحیح انسانی فطرت کا اعتراف بیان ہوا ہے کہ جو عاقل اس نظام کائنات پر غور کرتا ہے وہ پکار اٹھتا ہے کہ یہ کارخانہ باطل اور بے مقصد نہیں بلکہ ایک عظیم غایت کے ساتھ وجود میں آیا ہے اور یہ غایت مقتضی ہے کہ یہ ایک ایسے انجام پر منتہی ہو جو حق اور باطل کے درمیان پورے انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دے اور ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا دے۔
      ’یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ‘۔ فرمایا کہ اس جزا و سزا کی دلیلیں اور نشانیاں اس نظام کائنات کے اندر پھیلی ہوئی ہیں جو دیکھنے والی آنکھوں سے مخفی نہیں ہو سکتیں لیکن اگر کسی کے لیے یہ مخفی تھیں تو اب ہم نے ان لوگوں کے لیے جو جاننا اور سمجھنا چاہیں ان کی تفصیل بھی کر دی ہے۔ بعینہٖ یہی مضمون آل عمران کی آیت ۱۹۱۔ ’وَیَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ‘ میں بیان ہوا ہے۔ مزید تفصیل کے طالب اس آیت کی تفسیر پر بھی ایک نظر ڈال لیں۔
      _____
      ۱؂ آیت میں سورج کے لیے ضیا (چمک اور تابانی) اور چاند کے لیے نور (خنک روشنی) کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ بعض لوگوں نے اس فرق کی یہ توجیہہ کی ہے کہ سورج کی روشنی اپنی ذاتی ہے اور چاند کی روشنی سورج سے حاصل کی ہوئی ہے۔ اگرچہ یہ بات بجائے خود صحیح ہے لیکن میرے نزدیک ’ضیا‘ میں روشنی کے ساتھ تپش کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے اور ’نور‘ خنک روشنی کو کہتے ہیں۔ اور یہ ایک امر واقعہ ہے کہ سورج کی روشنی میں تپش ہوتی ہے اور چاند کی روشنی ٹھنڈی ہوتی ہے۔

      جاوید احمد غامدی وہی ہے جس نے سورج کو تاباں اور چاند کو روشنی بنایا اور اُس کے لیے منزلیں ٹھیرا دیں تاکہ تم (اُس سے) برسوں کی گنتی اور (اُن کا) حساب معلوم کرو۔ اللہ نے یہ سب کچھ بے مقصد نہیں بنایا ہے۔ وہ اُن لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں، اپنی نشانیوں کی وضاحت کرتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اوپر توحید کا استدلال تھا۔ اب جزا و سزا کے قطعی ہونے کی دلیل بیان ہو رہی ہے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’... اِس کارخانۂ کائنات پر جو شخص بھی غور کرے گا، اُس کو یہ حقیقت نہایت نمایاں طور پر نظر آئے گی کہ یہ کسی کباڑیے کا مال گودام نہیں، بلکہ اِس کے ہر گوشے میں اِس کے خالق کی عظیم قدرت اور اُس کی بے پایاں رحمت و ربوبیت نمایاں ہے۔ اِس کے اندر نہایت اعلیٰ اہتمام ہے۔ بے نظیر ترتیب و انتظام ہے، بے مثال اقلیدس و ریاضی ہے۔ سورج معین نظام اوقات کے ساتھ نکلتا اور اپنی تابانیوں سے سارے جہان کو روشن کرتا ہے۔ اُس کے فیض سے گرمی، سردی، خزاں اور بہار کے مختلف موسم پیدا ہو جاتے ہیں جن میں سے ہر ایک ہماری دنیا کی زندگی اور اُس کی بقا کے لیے ضروری ہے۔ چاند اُس سے کسب نور کر کے اپنی معین منزلیں طے کرتا اور ہماری تاریک راتوں میں مختلف زاویوں سے ہمارے لیے شمع برداری بھی کرتا ہے اور ہمارے مہینوں اور سالوں کی تقویم بھی بناتا ہے کون کہہ سکتا ہے کہ یہ دنیا خیر و شر اور نیکی و بدی کے درمیان امتیاز کے بغیر یوں ہی چلتی رہے گی یا یوں ہی ختم ہو جائے گی؟ اگر یہ مان لیا جائے تو یہ ساری قدرت و حکمت بے مقصد وبے غایت ہو جاتی ہے جو اِس کائنات کے ہر گوشے میں جلوہ گر ہے۔ پھر تو یہ دنیا بالکل باطل اور ایک کھیل تماشا بن کے رہ جاتی ہے اور یہ ایک ایسی خلاف عقل، ایسی خلاف عدل اور ایسی خلاف فطرت بات ہے کہ کوئی سلیم العقل اور کوئی مستقیم الفطرت انسان ایک لمحے کے لیے بھی اِس کو باور نہیں کر سکتا۔ کچھ اینٹیں ایک جگہ بکھری ہوئی پڑی ہوں تو اُن کو تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ یونہی پڑی ہوئی ہیں، لیکن کیا یہی گمان تاج محل، لال قلعہ اور لاہور و دلی کی جامع مسجدوں کے متعلق بھی کر سکتے ہیں؟‘‘(تدبرقرآن۴/ ۲۵)

      آیت میں سورج کے لیے ’ضِیَآء‘ اور چاند کے لیے ’نُوْر‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ نور خنک روشنی کو کہتے ہیں اور ضیا میں روشنی کے ساتھ تپش کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ چاند اور سورج کی روشنی میں یہ فرق ایک امر واقعی ہے۔ لفظ ’تاباں‘ سے یہی مفہوم ادا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
      چنانچہ جو عاقل بھی اِس نظام عالم کو دیکھے گا، یہی پکارے گا کہ یہ اتھاہ معنویت اور یہ حیرت انگیز نظم و ترتیب بے مقصد نہیں ہے، بلکہ ضرور کسی عظیم غایت کے ساتھ وجود پذیر ہوا ہے۔

       

    • امین احسن اصلاحی بے شک رات اور دن کی آمد و شد اور آسمانوں اور زمین کی مخلوقات میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ڈریں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      گردش لیل و نہار کا درس: ’اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّھَارِ ...... الایۃ‘۔ اختلاف لیل و نہار سے اس تعاقب کی طرف بھی اشارہ ہو رہا ہے جو وہ ایک دوسرے کا پوری سرگرمی سے کر رہے ہیں جس سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ یہ گردش بے غایت و بے مقصد نہیں ہے بلکہ ایک عظیم نتیجہ پر منتہی ہونے والی ہے، دوسرے اس عظیم نظام ربوبیت کی طرف بھی اس میں اشارہ ہے جو رات اور دن کے اختلاف مزاج کے اندر مضمر ہے کہ دن انسان کے لیے معاش و معیشت کی سرگرمیوں کا میدان گرم کرتا ہے اور رات اس کے لیے راحت و سکون کا بستر بچھاتی ہے۔ اس نظام پر جو شخص بھی غور کرتا ہے وہ لازماً اس نتیجہ تک پہنچتا ہے کہ اضداد کے اندر ایک مشترک مقصد کے لیے یہ حیرت انگیز توافق اسی شکل میں وجود میں آ سکتا ہے جب یہ مانا جائے کہ یہ سارا کارخانہ صرف ایک قادر و قیوم کے ارادے کے تحت کام کر رہا ہے اور پھر اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جس نے ربوبیت و پرورش کا یہ سارا نظام کھڑا کیا ہے اور اس کو اس اہتمام سے چلا رہا ہے وہ انسان کو مطلق العنان اور غیر مسؤل نہیں چھوڑے گا بلکہ اس کے بعد ایک ایسا دن لازماً آنا ہے جس میں وہ اس ربوبیت کا حق پہچاننے والوں کو ان کی حق شناسی کا انعام دے گا اور اس سے بے پروا رہنے والوں کو جہنم میں جھونک دے گا۔ یہی نتیجہ اس کائنات کے تمام اجزا اور اس کے تمام اضداد پر غور کرنے سے حاصل ہوتا ہے اور یہی حاصل ہے جو انسان کی رہنمائی آخرت اور اس جزا و سزا کی طرف کرتا ہے جس سے انسان کے اندر وہ حقیقی تقویٰ پیدا ہوتا ہے جس کی طرف آل عمران کی مذکورہ بالا آیت میں ’سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ‘ کے الفاظ سے اشارہ ہوا ہے۔

      جاوید احمد غامدی یقیناً رات اور دن کے الٹ پھیر میں اور جو کچھ زمین اور آسمانوں میں اللہ نے پیدا کیا ہے، اُس میں اُن لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو ڈرتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اِس بات کی نشانیاں کہ یہ کائنات بے مقصد نہیں ہے، بلکہ ایک عظیم نتیجے تک پہنچنے والی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... اِس نظام پر جو شخص بھی غور کرتا ہے، وہ لازماً اِس نتیجے تک پہنچتا ہے کہ اضداد کے اندر ایک مشترک مقصد کے لیے یہ حیرت انگیز توافق اِسی شکل میں وجود میں آسکتا ہے، جب یہ مانا جائے کہ یہ سارا کارخانہ صرف ایک قادر و قیوم کے ارادے کے تحت کام کر رہا ہے اور پھر اِس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جس نے ربوبیت و پرورش کا یہ سارا نظام کھڑا کیا ہے اور اُس کو اِس اہتمام سے چلا رہا ہے، وہ انسان کو مطلق العنان اور غیر مسؤل نہیں چھوڑے گا، بلکہ اِس کے بعد ایک ایسا دن لازماً آنا ہے جس میں وہ اِس ربوبیت کا حق پہچاننے والوں کو اُن کی حق شناسی کا انعام دے گا، اور اِس سے بے پروا رہنے والوں کو جہنم میں جھونک دے گا۔‘‘(تدبرقرآن۴/ ۲۶)

       

    • امین احسن اصلاحی جو لوگ ہماری ملاقات کے متوقع نہیں ہیں اور اسی دنیا کی زندگی پر قانع اور مطمئن ہیں اور جو ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ان لوگوں کا انجام جو نشانیوں سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں: ’اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ ....... بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ‘۔ یہ ان لوگوں کا انجام بیان ہوا ہے جو اس کائنات کی ان تمام نشانیوں کے باوجود اندھے بہرے بنے ہوئے ہیں اور اسی دنیا کی زندگی پر مطمئن ہیں نہ انھیں خدا کی ملاقات کا اندیشہ ہے، نہ آخرت کا ڈر ہے۔ فرمایا کہ ان سب کا ٹھکانا جہنم ہو گا۔ لفظ ’رجا‘ یہاں توقع اور اندیشہ کے معنی میں ہے اور یہی اس کا اصل لغوی مفہوم ہے۔

      جاوید احمد غامدی حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہماری ملاقات کی توقع نہیں رکھتے اور اِسی دنیا کی زندگی پر راضی اور مطمئن ہو گئے ہیں اور جو ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی انہی لوگوں کا ٹھکانا دوزخ ہے ان کے اعمال کی پاداش میں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ان لوگوں کا انجام جو نشانیوں سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں: ’اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ ....... بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ‘۔ یہ ان لوگوں کا انجام بیان ہوا ہے جو اس کائنات کی ان تمام نشانیوں کے باوجود اندھے بہرے بنے ہوئے ہیں اور اسی دنیا کی زندگی پر مطمئن ہیں نہ انھیں خدا کی ملاقات کا اندیشہ ہے، نہ آخرت کا ڈر ہے۔ فرمایا کہ ان سب کا ٹھکانا جہنم ہو گا۔ لفظ ’رجا‘ یہاں توقع اور اندیشہ کے معنی میں ہے اور یہی اس کا اصل لغوی مفہوم ہے۔

      جاوید احمد غامدی اُنھی کا ٹھکانا جہنم ہے اُن کے اعمال کی پاداش میں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے اللہ ان کے ایمان کی بدولت ان کو ان کی منزل پر پہنچائے گا، ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، نعمت کے باغوں میں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اہل ایمان کا انجام: ’اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَھْدِیْھِمْ رَبُّھُمْ بِاِیْمَانِھِمْ ....... اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘۔ ’ھدَایت‘ یہاں منزل مقصود کی ہدایت کے مفہوم میں ہے جو تمام کائنات کی تخلیق کی غایت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کی بدولت جنت میں ان کے حسب مراتب منازل و مقامات کی طرف ان کی رہنمائی فرمائے گا ’دَعْوٰھُمْ فِیْھَا سُبْحٰنَکَ‘ یعنی جب وہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ حق، حق ہو کے رہا اور باطل، باطل تو بے تحاشا ان کی زبان سے ’سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ‘ کے الفاظ نکلیں گے کہ آیات الٰہی کے مشاہدے سے ہمارا جو یہ گمان تھا کہ یہ کارخانۂ کائنات کھلنڈرے کا کھیل نہیں ہو سکتا، اس عظیم خالق کی شان سے بعید ہے کہ وہ کوئی کار عبث کرے، تو ہمارا یہ گمان سچا ثابت ہوا۔ ’تَحِیَّتُھُمْ فِیْھَا سَلٰمٌ‘ یعنی ایک کامیاب اور فتح مند ٹیم کی طرح ان کے آپس میں مبارک سلامت کے تبادلے ہوں گے اور دوسری طرف کفار کے اندر جوتیوں میں دال بٹ رہی ہو گی اور ہر ایک دوسرے پر لعنت کر رہا ہو گا ’وَاٰخِرُ دَعْوٰھُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘۔ یہ تکمیل نعمت پر اظہار تشکر ہے کہ اہل جنت جب دیکھیں گے کہ ہر طرف نعمت ہی نعمت ہے تو بے تحاشا ان کی زبان سے یہ شکر کا کلمہ نکلے گا۔

      جاوید احمد غامدی (اِس کے بر خلاف) جو لوگ ایمان لائے اور اُنھوں نے نیک عمل کیے ہیں، اُن کا پروردگار اُن کے ایمان کی بدولت اُنھیں (اُن کی منزل تک) پہنچا دے گا۔ اُن کے نیچے ، نعمت کے باغوں میں (اُن کے لیے) نہریں بہ رہی ہوں گی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اس میں ان کا ترانہ ہو گا اے اللہ تو پاک ہے۔ اور اس میں ان کی آپس کی تحیت سلام ہو گی اور ان کا آخری کلمہ الحمد للہ رب العالمین (شکر ہے اللہ رب العالمین کے لیے) ہو گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اہل ایمان کا انجام: ’اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَھْدِیْھِمْ رَبُّھُمْ بِاِیْمَانِھِمْ ....... اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘۔ ’ھدَایت‘ یہاں منزل مقصود کی ہدایت کے مفہوم میں ہے جو تمام کائنات کی تخلیق کی غایت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کی بدولت جنت میں ان کے حسب مراتب منازل و مقامات کی طرف ان کی رہنمائی فرمائے گا ’دَعْوٰھُمْ فِیْھَا سُبْحٰنَکَ‘ یعنی جب وہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ حق، حق ہو کے رہا اور باطل، باطل تو بے تحاشا ان کی زبان سے ’سُبْحٰنَکَ اللّٰھُمَّ‘ کے الفاظ نکلیں گے کہ آیات الٰہی کے مشاہدے سے ہمارا جو یہ گمان تھا کہ یہ کارخانۂ کائنات کھلنڈرے کا کھیل نہیں ہو سکتا، اس عظیم خالق کی شان سے بعید ہے کہ وہ کوئی کار عبث کرے، تو ہمارا یہ گمان سچا ثابت ہوا۔ ’تَحِیَّتُھُمْ فِیْھَا سَلٰمٌ‘ یعنی ایک کامیاب اور فتح مند ٹیم کی طرح ان کے آپس میں مبارک سلامت کے تبادلے ہوں گے اور دوسری طرف کفار کے اندر جوتیوں میں دال بٹ رہی ہو گی اور ہر ایک دوسرے پر لعنت کر رہا ہو گا ’وَاٰخِرُ دَعْوٰھُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘۔ یہ تکمیل نعمت پر اظہار تشکر ہے کہ اہل جنت جب دیکھیں گے کہ ہر طرف نعمت ہی نعمت ہے تو بے تحاشا ان کی زبان سے یہ شکر کا کلمہ نکلے گا۔

      جاوید احمد غامدی وہاں اُن کی صدا ہو گی کہ اے اللہ، تو پاک ہے اور اُن کی تسلیمات سلامتی کی دعا ہو گی اور آخری کلمہ یہ ہو گا کہ شکر اللہ ہی کے لیے ہے جو سارے عالم کا پروردگار ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اِس بات سے پاک ہے کہ کبھی کوئی عبث کام کرے۔

    • امین احسن اصلاحی اگر اللہ لوگوں کے لیے عذاب کے معاملے میں ویسی ہی سبقت کرنے والا ہوتا جس طرح وہ ان کے ساتھ رحمت میں سبقت کرتا ہے تو ان کی مدت تمام کر دی گئی ہوتی۔ تو ہم ان لوگوں کو جو ہماری ملاقات کے متوقع نہیں ہیں ان کی سرکشی میں بھٹکتے رہنے کے لیے ڈھیل دے دیتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      عذاب کے لیے جلد بازی کا جواب: یہ، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، جواب ہے عذاب کے لیے کفار کی جلدبازی کا۔ جب ان کو آیات الٰہی کی تکذیب کے انجام سے ڈرایا جاتا تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو زچ کرنے کے لیے فوراً یہ مطالبہ کرتے کہ اگر تم سچے رسول ہو اور تمہارے خیال کے مطابق تمہاری تکذیب مستوجب عذاب ہے تو اس عذاب کے لانے میں تاخیر نہ کرو۔ ہم اس کے دیکھنے کے لیے بے قرار ہیں۔ جواب میں ارشاد ہوا کہ سنت الٰہی یوں ہے کہ اللہ رحمت کرنے میں تو جلدی کرتا ہے لیکن عذاب بھیجنے میں جلدی نہیں کرتا۔ ’اِسْتِعْجَالَھُمْ بِالْخَیْرِ‘ میں استعجال ہمارے نزدیک اپنے مفعول کی طرف مضاف ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا چونکہ اصلاً اپنی رحمت ہی کے لیے خلق فرمائی ہے اس لیے وہ لوگوں پر رحمت نازل بھی فرماتا ہے اور لوگوں سے یہ چاہتا بھی ہے کہ وہ فرصت ختم ہونے سے پہلے پہلے اس کی رحمت کے قدردان بنیں اور سعادت کی وہ راہ اختیار کریں جو دنیا اور آخرت دونوں میں ان کو خدا کے فضل و رحمت کا مستحق بنائے۔ اس سنت الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ ان لوگوں پر عذاب بھیجنے میں جلدی نہ کرے جو اس کے آگے اکڑتے اور اس کے رسول کی تکذیب کرتے ہیں۔
      ’فَنَذَرُ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَ نَا ....... الایۃ‘۔ یہ مذکورہ سنت الٰہی کا تقاضا بیان ہوا ہے کہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ نافرمانی اور طغیان کے باوجود لوگوں کو زیادہ سے زیادہ مہلت اور ڈھیل دی جائے تاکہ کسی درجے میں بھی اصلاح حال کا کوئی امکان ہو تو لوگ اپنی اصلاح کر لیں اور اگر اصلاح نہ کریں تو ان پر اللہ کی حجت اس طرح تمام ہو جائے کہ روز آخرت کی پیشی کے وقت، جس سے وہ بالکل نچنت ہیں ان کے پاس پیش کرنے کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہ جائے۔

      جاوید احمد غامدی (یہ عذاب مانگتے ہیں) اگر اللہ لوگوں کے لیے عذاب کے معاملے میں بھی اُسی طرح جلدی کرتا، جس طرح وہ اُن کے ساتھ رحمت میں جلدی کرتا ہے تو اُن کی مدت پوری کر دی گئی ہوتی۔سو ہم اُن لوگوں کو جو ہماری ملاقات کی توقع نہیں رکھتے، اُن کی سرکشی میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی جب آیات الٰہی کو جھٹلانے کے انجام سے اِن لوگوں کو ڈرایا جاتا ہے تو فوراً مطالبہ کرتے ہیں کہ تم سچے رسول ہو تو جس عذاب کی دھمکیاں سناتے ہو، اُس کی کوئی جھلک دکھا کیوں نہیں دیتے؟ آگے اِسی مطالبے کا جواب ہے۔
      اصل میں ’اسْتِعْجَالَھُمْ بِالْخَیْرِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن میں ’اِسْتِعْجَال‘’تعجیل‘ کے معنی میں اور اپنے مفعول کی طرف مضاف ہے۔ اِس کی وجہ وہی ہے جو زمخشری نے’’الکشاف‘‘ (۲/ ۳۱۶) میں بیان کر دی ہے کہ ’تعجیلہ لھم الخیر‘کی جگہ یہ الفاظ سرعت اجابت پر دلالت کے لیے آگئے ہیں۔
      اِس لیے کہ عذاب سے پہلے اِنھیں زیادہ سے زیادہ مہلت مل جائے اور جب گرفت کی جائے تو یہ کوئی عذر نہ پیش کر سکیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تب تو لیٹے، بیٹھے یا کھڑے ہم کو پکارتا ہے۔ پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کر دیتے ہیں تو اس طرح چل دیتا ہے گویا کسی تکلیف کے لیے، جو اس کو پہنچی، اس نے ہم کو پکارا ہی نہیں تھا۔ اسی طرح حدود سے تجاوز کرنے والوں کی نگاہوں میں ان کے اعمال کھبا دیے گئے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      سرکشوں کی فطرت: ’اِنْسَان‘ کا لفظ ہر چند عام ہے لیکن اس سے مراد وہی متمردین قریش ہیں جو عذاب کا مطالبہ کر رہے تھے۔ ان کو لائق خطاب نہیں سمجھا اس وجہ سے بات عام الفاظ میں فرما دی۔ یہ ان کی اس اکڑ پر ایک ضرب بھی ہے اور اس میں اشارہ اس حقیقت کی طرف بھی ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ اس قسم کے لوگوں کا مطالبۂ عذاب پورا کر دیا جائے تو وہ ایمان لائیں گے۔ اس قسم کے لوگ ایمان نہیں لاتے بلکہ ان کا حال یہ ہوتا ہے کہ جب یہ کسی پکڑ میں آتے ہیں تب تو یہ خدا خدا پکارتے ہیں اور سو سو طرح سے توبہ کا عہد و پیمان باندھتے ہیں لیکن ذرا ڈھیل مل جاتی ہے تو وہی سرمستی ان پر پھر عود کر آتی ہے اور انھیں یاد بھی نہیں رہتا کہ کبھی پکڑ میں آئے تھے اور انھوں نے اس سے چھوٹنے کے لیے خدا کو پکارا بھی تھا۔ ’کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ‘ یعنی یہ جو کلمہ بیان ہوا ہے یہی ٹھیک ٹھیک ان سرکشوں اور حدود الٰہی سے ان تجاوز کرنے والوں پر منطبق ہوتا ہے۔ یہ جو بداعمالیاں کرتے رہے ہیں، سنت الٰہی کے تحت وہ ان کی نگاہوں میں اس طرح کھبا دی گئی ہیں کہ اگر ان کی طلب کے مطابق کوئی نشانئ عذاب ان کو دکھا بھی دی جائے تو اس کی گرفت سے چھوٹتے ہی پھر یہ اسی کیچڑ میں لوٹیں گے جس میں لوٹ رہے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی (حقیقت یہ ہے کہ اِنھیں کوئی عذاب دکھا بھی دیا جائے تو ایمان نہ لائیں گے۔ اِس لیے کہ) انسان کا حال یہ ہے کہ جب اُس پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو لیٹے اور بیٹھے اور کھڑے وہ ہم کو پکارتا ہے۔ پھر جب اُس کی تکلیف ہم ٹال دیتے ہیں تو اِس طرح چل دیتا ہے گویا جو تکلیف اُسے پہنچی، اُس میں کبھی اُس نے ہم کو پکارا ہی نہ تھا۔ حد سے گزرنے والوں کے لیے اُن کے اعمال اِسی طرح خوش نما بنا دیے گئے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور ہم نے تم سے پہلے قوموں کو ہلاک کیا جب کہ وہ طلم کی مرتکب ہوئیں۔ اور ان کے رسول ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے اور وہ ایمان لانے والے نہ بنے۔ ہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں مجرم قوم کو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      تاریخ کی شہادت: یہ جواب قریش کو مخاطب کر کے، تاریخ کی روشنی میں دیا گیا ہے کہ آخر دوسروں کو جو کچھ اسی ملک کی تاریخ کے مختلف ادوار میں پیش آ چکا ہے اس سے سبق کیوں نہیں لیتے۔ یہ کیا ضروری ہے کہ وہی کچھ تم پر گزر جائے تب تمھاری سمجھ میں بات آئے کہ جو کچھ تم سے کہا گیا وہ ٹھیک ہے۔ یہاں حوالہ اجمالی ہے۔ اسی سورہ میں آگے بعض اہم تاریخی واقعات کی تفصیل بھی آ رہی ہے۔ ’وَجَآءَ تْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ وَمَا کَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا‘ اسی ظلم کی تفصیل ہے۔ ’کَذٰلِکَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ‘ یعنی جو قومیں اپنے رسولوں کی تکذیب کرتی ہیں ہم ان کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب وہی جرم تم کرو گے تو آخر اس کی سزا سے کیسے بچ جاؤ گے۔

      جاوید احمد غامدی تم سے پہلے کی قوموں کو ہم نے (اِسی طرح) ہلاک کر دیا، جب اُنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا۔ اُن کے رسول اُن کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے اور اُنھوں نے ایمان لا کر نہیں دیا۔ ہم مجرموں کو اِسی طرح (اُن کے جرائم کا) بدلہ دیتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی پیغمبر کی طرف سے اتمام حجت کے باوجود اُسے ماننے سے انکار کر دیا۔ قرآن کی اصطلاح میں یہی ظلم ہے جس کے نتیجے میں قوموں پر اللہ کا عذاب آتا رہا ہے۔ قرآن نے آگے اِس کی وضاحت کر دی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی پھر ہم نے ان کے بعد تم کو ملک میں ان کا جانشین بنایا کہ دیکھیں تم کیسا عمل کرتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’ثُمَّ جَعَلْنٰکُمْ خَلٰٓئِفَ ....... الایۃ‘ یعنی جب تم انہی کے جانشین ہوئے ہو تو آخر تمہارے ساتھ اس سے مختلف معاملہ کیوں ہو گا جو ان کے ساتھ ہوا؟ ان کو ہٹا کر خدا نے تم کو ان کی جگہ تو اس لیے دی تھی کہ دیکھے تم کیا بناتے ہو؟

      جاوید احمد غامدی اب اُن کے بعد ہم نے زمین میں اُن کی جگہ تمھیں دی ہے تاکہ دیکھیں تم کیسے عمل کرتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور جب ہماری کھلی ہوئی آیتیں ان کو پڑھ کرسنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہماری ملاقات کے متوقع نہیں ہیں، کہتے ہیں اس قرآن کے سوا کوئی اور قرآن لاؤ یا اس میں ترمیم کرو۔ کہہ دو مجھے کیا حق ہے کہ میں اس میں اپنے جی سے ترمیم کر دوں۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر آتی ہے۔ اگر میں نے اپنے رب کی نافرمانی کی تو ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مخالفین کی شکست خوردگی: یعنی توحید اور آخرت کی یہ باتیں، جو مذکور ہوئیں، نہایت واضح دلائل کے ساتھ ان کو سنائی جاتی ہیں تو یہ ان سے چڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یا تو اس قرآن کی جگہ کوئی اور قرآن لاؤ یا کم از کم اس میں ایسی ترمیم کرو کہ ہمارے لیے گوارا ہو سکے۔ گویا قرآن ان کے نزدیک خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصنیف ہے کہ آپ اس میں ان کے مطالبے کے مطابق ترمیم و تنسیخ کر سکتے ہیں۔ یہ مطالبہ مخالفین کی شکست خوردگی کی دلیل تھا۔ وہ یہ تو مان چکے تھے کہ قرآن سے اب پیچھا چھڑانا ممکن نہیں رہا۔ اب اگر کوئی شکل باقی ہے تو یہ ہے کہ اس کا مقام تسلیم کرتے ہوئے اس میں ایسی ترمیم کرانے کی کوشش کی جائے جس کے بعد ان کے لیے بھی وہ قابل قبول ہو سکے۔ جواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ کہلایا گیا کہ یہ میری کوئی اپنی تصنیف تھوڑے ہی ہے کہ میں اس میں اپنی جانب سے کوئی ترمیم و تنسیخ کر دوں۔ یہ کلام تو مجھ پر خدا کی طرف سے وحی ہوتا ہے اور میں بے چون و چرا اسی وحی کی پیروی کرتا ہوں۔ اگر میں اس میں اپنی طرف سے کوئی ردوبدل کر دوں تو کل کو خدا کے آگے کیا جوب دوں گا۔

      جاوید احمد غامدی (لیکن اِن کا حال بھی وہی ہے، اے پیغمبر۔ چنانچہ) جب ہماری کھلی ہوئی آیتیں اِنھیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں کو ہماری ملاقات کا کھٹکا نہیں ہے، وہ کہتے ہیں کہ اِس کے بجاے کوئی اور قرآن لاؤ یا اِس میں ترمیم کر دو۔ کہہ دو، (یہ خدا کا کلام ہے)، مجھے کیا حق ہے کہ میں اِس میں اپنی طرف سے کوئی ترمیم کروں۔ میں تو صرف اُس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس آتی ہے۔ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو ایک بڑے ہول ناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی قرآن کو آپ کی تصنیف سمجھتے اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اُس میں ایسی ترمیم کر دی جائے جس کے بعد وہ اُن کے دینی تصورات کے مطابق ہو جائے۔ اِس وقت جو قرآن پیش کیا جا رہا ہے، وہ اُنھیں گوارا نہیں ہے، اِس لیے کہ وہ نہ اُن کے مشرکانہ عقائد کے ساتھ کسی مصالحت کے لیے تیار ہے اور نہ دین داری کے اُن رسوم کو کوئی اہمیت دیتا ہے جنھیں وہ اپنا سرمایۂ فخر بنائے ہوئے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی کہہ دو اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو نہ میں اس کو تمہیں سناتا اور نہ وہ اس سے تمہیں باخبر کرتا۔ میں اس سے پہلے تم میں ایک عمر بسر کر چکا ہوں تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’اَدْرٰکُمْ‘ ’دَرٰی یَدْرِیْ‘ سے باب افعال اور غائب کا صیغہ ہے۔ فاعل اس کا اللہ ہے۔ بعض لوگوں نے اس کو ’مَا تَلَوْتُہٗ‘ سے ہم آہنگ کرنے کے لیے اس کا ترجمہ متکلم کا کیا ہے لیکن یہ عربیت کے بالکل خلاف ہے۔
      مسکت جواب: اب یہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کفار کے مطالبے کے پہلے ٹکڑے کا جواب دلوایا ہے۔ یعنی اس بات کا کہ اس قرآن کے بجائے کوئی اور قرآن لاؤ۔ فرمایا کہ تم گمان کرتے ہو کہ میں نے یہ قرآن تمہارے سامنے اپنے شوق میں پیش کیا ہے اور اس رنگ میں میں نے تم پر اپنی سیادت اور نبوت جمانی چاہی ہے۔ تمہارا یہ خیال بالکل غلط ہے۔ میں نے اس بارگراں کا نہ کبھی ارمان کیا اور نہ اپنے شوق سے اس کو اٹھایا ہے۔ میں اس ذمہ داری کی گراں باریوں سے سب سے زیادہ بھاگنے والا رہا ہوں۔ لیکن مشیت الٰہی یہی ہوئی کہ میں یہ بوجھ اٹھاؤں۔ اگر خدا کی مشیت نہ ہوتی تو نہ میں اس چیز کو تمہارے سامنے پیش کرتا اور نہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ سے تم کو اعلام و انذار کرتا۔
      پیغمبرؐ کی تاریخ سے استدلال: ’فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ‘۔ یہ اوپر والی بات کی ایسی سادہ اور مسکت دلیل ہے کہ کوئی ایمان دار آدمی اس کو جھٹلا نہیں سکتا۔ ارشاد ہوا کہ میں تم میں کوئی نووارد آدمی نہیں ہوں جس کے ماضی و حاضر سے تم بے خبر ہو۔ میں تمہارے اندر زندگی کے چالیس سال گزار چکا ہوں۔ اس طویل مدت میں کب تم نے میری طرف سے کسی جھوٹ یا فریب کا تجربہ کیا ہے۔ کب تم نے میرے اندر سیادت و امارت کی بو محسوس کی ہے، کب تم نے پایا ہے کہ میں اونچے اونچے خواب دیکھتا ہوں اور اپنی بڑائی کی دھونس جمانے کا شوق رکھتا ہوں؟ آدمی کا مزاج راتوں رات نہیں بنتا اور نہ کردار ایسی چیز ہے جو اتنی طویل باہمی معاشرت کے باوجود نگاہوں میں مخفی رہے۔ جس شخص نے خلق میں سے کسی سے جھوٹ نہ بولا ہو آخر وہ خالق پر اتنا بڑا جھوٹ باندھنے کی جسارت کیسے کر سکتا ہے؟ آج تک تم مجھے صادق اور امین سمجھتے رہے تو اب میں راتوں رات برخود غلط، خود نما، لپاٹیا اور مفتری کیسے بن گیا؟ خدا کے بندو عقل سے کام لو۔ انصاف سے غور کرو اور ضد و عناد میں اندھے نہ بن جاؤ۔۔۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضرات انبیاء کی زندگی شرف رسالت سے ممتاز ہونے سے پہلے بھی ایسی بے داغ ہوتی ہے کہ ان کے مخالفین اس پر انگلی رکھنے کی کوئی گنجائش نہیں پاتے اور یہ چیز ان کے دعوے کی صداقت کی ایک بہت بڑی دلیل ہوتی ہے۔

      جاوید احمد غامدی کہہ دو، اگر اللہ چاہتا تو نہ میں یہ قرآن تمھیں سناتا، نہ اللہ اِس کی خبر تمھیں دیتا۔ (یہ اُسی کا فیصلہ ہے)، میں تو اِس سے پہلے ایک عمر تمھارے درمیان گزار چکا ہوں۔ ( میں نے کب اِس طرح کی کوئی بات کبھی کی ہے)؟ پھر کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اوپر جو کچھ فرمایا ہے، یہ اُس کی ایسی زبردست دلیل ہے کہ کوئی سلیم الطبع انسان اِس کو جھٹلانے کی جسارت نہیں کر سکتا۔ مطلب یہ ہے کہ تم نے کب دیکھا ہے کہ میں اُن مباحث میں دل چسپی لے رہا ہوں یا اُن کے بارے میں کچھ خیالات و افکار کا اظہار کر رہا ہوں یا اُن کی ترتیب و تدوین کے لیے مشق و مزاولت میں مصروف ہوں یا اُن سے متعلق کسی علم و فن کا اکتساب کر رہا ہوں جو اِس وقت قرآن کی سورتوں میں پے در پے زیر بحث آ رہے ہیں؟ پورے چالیس سال میں نے تمھارے درمیان گزارے ہیں۔ میری باتوں اور میری حرکات و سکنات میں تم نے کب ایسی کوئی چیز محسوس کی ہے جسے اُس دعوت کی تمہید کہا جا سکے جو میں اِس وقت پیش کر رہا ہوں؟ جو کچھ میں آج کہہ رہا ہوں، اُس کے نشووارتقا کے کوئی نشانات تم نے کبھی میری زندگی میں پائے ہیں؟ تم جانتے ہو کہ انسانی دماغ اپنی عمر کے کسی مرحلے میں بھی ایسی کوئی چیز پیش نہیں کر سکتا جس کے نشوو ارتقا کے نشانات اُس سے پہلے کے مرحلوں میں نہ پائے جاتے ہوں؟ تم کہتے ہو کہ میں خدا پر جھوٹ باندھ رہا ہوں۔ اِس سے پہلے کسی جھوٹ، فریب، جعل یا مکاری و عیاری کا کوئی ادنیٰ شائبہ تم نے کبھی میری سیرت و کردار میں دیکھا ہے؟ آج تک تم مجھے صادق اور امین سمجھتے رہے ہو۔ اب کس طرح کہہ رہے ہو کہ وہی صادق اور امین راتوں رات برخود غلط، لپاٹیا اور مفتری بن گیا ہے۔ خدا کے بندو، تم عقل سے کام کیوں نہیں لیتے؟

    • امین احسن اصلاحی اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھے یا اس کی آیات کو جھٹلائے۔ بے شک مجرم فلاح پانے والے نہیں بنیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      رسول کے لیے غلبہ لازمی ہے: ’فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی ........ الایۃ‘۔ یعنی اگر میں خدا پر افترا کر رہا ہوں اور جھوٹا دعوائے نبوت لے کر اٹھا ہوں تو مجھ سے بڑا کوئی ظالم نہیں اور اگر میں سچا ہوں اور تم اللہ کی آیات کو جھٹلا رہے ہو تو تم سے بڑا کوئی ظالم نہیں۔ اب مستقبل فیصلہ کرے گا کہ ظالم تم ہو یا میں۔ یہ یاد رکھو کہ جو مجرم ہوں گے وہ فلاح نہیں پائیں گے ۔۔۔ یہاں وہ بات یاد رکھنے کی ہے جس کی طرف ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں کہ اللہ کے رسولوں اور ان کے مخالفین کے مابین حق و باطل کی جو کشمکش برپا ہوتی ہے وہ لازماً حق کے غلبہ پر منتہی ہوتی ہے اس لیے کہ رسول خدا کی عدالت ہوتا ہے اور اس کے لیے بفحوائے ’لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ‘ آخرت سے پہلے اس دنیا میں بھی غلبہ لازمی ہے۔

      جاوید احمد غامدی سو اُس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ بہتان باندھے یا اُس کی آیتوں کو جھٹلا دے۔ حقیقت یہ ہے کہ اِس طرح کے مجرم کبھی فلاح نہیں پائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اگر یہ خدا کی آیات نہیں ہیں اور میں اِنھیں خود تصنیف کرکے آیات الٰہی کی حیثیت سے پیش کر رہا ہوں تو مجھ سے بڑا کوئی ظالم نہیں ہے، اور اگر میں سچا ہوں اور تم خدا کی آیات کو جھٹلا رہے ہو تو پھر تم سے بڑا کوئی ظالم نہیں ہے۔
      یعنی دنیا میں تو ہو سکتا ہے کہ اُن کی یہ باتیں چل جائیں، لیکن خدا کے حضور میں کبھی فلاح نہیں پائیں گے۔

    • امین احسن اصلاحی اور وہ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہیں جو ان کو نقصان پہنچا سکیں نہ نفع اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں، کہہ دو، کیا تم اللہ کو ایسی چیز کی خبر دیتے ہو جس کا اس کو خود پتہ نہیں، نہ آسمانوں میں نہ زمین میں۔ وہ پاک اور ارفع ہے ان چیزوں سے جن کو وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مشرکین مکہ کی اصلی چڑ: ’وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ..... الایۃ‘ یہ اس خاص چیز کا حوالہ بھی ہے جس کے سبب سے مشرکین مکہ قرآن سے چڑتے اور اس میں ترمیم کا مطالبہ کرتے تھے اور اللہ پر افترا کی ایک مثال بھی ہے جو دلیل ہے اس بات کی کہ عند اللہ سب سے بڑے ظالم یہی ہیں اس لیے کہ یہ ایسی چیزوں کی بندگی کرتے ہیں جو ان کو ضرر پہنچا سکیں نہ نفع اور ان کی نسبت یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہماری سفارشی ہیں، دنیا میں ہمیں آل و اولاد اور رزق و مال جو کچھ ملتا ہے انہی کی سفارش سے ملتا ہے اور اگر آخرت ہوئی تو وہاں بھی یہ ہمیں بخشوائیں گی۔ یہ بات یہاں یاد رکھنے کی ہے کہ اہل عرب اپنے معبودوں کو نہ خدا کی ذات میں شریک مانتے تھے نہ کسی کو خالق و مالک کا درجہ دیتے تھے بلکہ صرف ان کو خدا کے چہیتوں کا درجہ دیتے اور ان کی سفارش کی امید پر ان کی پرستش کرتے تھے۔
      عربیت کا ایک خاص اسلوب: ’قُلْ اَتُنَبِّءُوْنَ اللّٰہَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَا فِی الْاَرْضِ‘۔ یہ نفی الشئ بنفی لازمہ کے اسلوب پر ان فرضی سفارشیوں کی تردید ہے۔ یعنی ان کے ان فرضی سفارشیوں کا آسمان و زمین میں کوئی وجود ہوتا تو سب سے زیادہ ان سے باخبر تو خود اللہ تعالیٰ ہوتا جس کے وہ مقرب اور چہیتے ٹھہرائے جاتے ہیں۔ لیکن خدا کو تو ان کا کوئی پتا نہیں ہے، بس یہی لوگ ان کا سراغ بھی دے رہے ہیں اور یہی ان کو آسمان پر بھی چڑھا رہے ہیں۔ بعینہٖ یہی مضمون رعد آیت ۳۳ میں بھی ہے۔

      ’وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ شُرَکَآءَ قُلْ سَمُّوْھُمْ اَمْ تُنَبِّءُوْنَہٗ بِمَالَا یَعْلَمُ فِی الْاَرْضِ اَمْ بِظَاھِرٍ مِّنَ الْقَوْلِ‘
      (اور انھوں نے اللہ کے شریک ٹھہرائے ہیں، ان سے کہو کہ ذرا ان کے نام تو لو، کیا تم اس کو ایسی چیز کا پتہ دے رہے ہو جس کے زمین میں وجود کا اس کو خود علم نہیں یا یوں ہی ہوائی بات کر رہے ہو)

      عربیت کے اس اسلوب کی مثالیں کلام عرب میں موجود ہیں۔ امرء القیس نے ایک صحرائی راستہ کی تعریف کی ہے کہ ’لا یُھتدیٰ بمنارہ‘ اس کی برجیوں سے رہنمائی نہیں حاصل کی جاتی۔ جس کا صریح مفہوم یہ ہے کہ اس میں برجیاں اور مینارے سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اگر ہوتے تو لازماً ان سے رہنمائی حاصل کی جاتی۔
      رد شرک کی ایک دلیل: ’سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ‘۔ ہم دوسرے مقام میں واضح کر چکے ہیں کہ یہ صرف تنزیہہ کا کلمہ نہیں ہے بلکہ رد شرک کی ایک بہت بڑی دلیل بھی ہے۔ وہ یوں کہ کسی شے کی بنیادی صفات کے ساتھ کسی ایسی صفت کا جوڑ ملانا خلاف عقل ہے جس سے بنیادی صفات میں سے کسی صفت کی نفی ہوتی ہو یا اس سے کوئی تضاد لازم آتا ہو۔ شرک ہر شکل میں یا تو خدا کی بنیادی مسلم صفات میں سے کسی صفت کی نفی کرتا ہے یا اس سے تضاد لازم آتا ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی (یہ اِس وقت بھی جھوٹ باندھ رہے ہیں۔ چنانچہ) اللہ کے سوا اُن کی پرستش کر رہے ہیں جو اِن کو نہ نقصان پہنچا سکیں ، نہ نفع اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ (اِن سے ) کہو، کیا تم اللہ کو اُس بات کی خبر دیتے ہو جسے وہ نہ آسمانوں میں جانتا ہے، نہ زمین میں۔ وہ پاک اور برتر ہے اُن چیزوں سے جنھیں یہ شریک ٹھیراتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ نفی الشئ بنفی لازمہ کا اسلوب ہے، جس طرح امرؤ القیس ایک صحرائی راستے کی تعریف میں کہتا ہے کہ ’لا یھتدٰی بمنارہ‘۔ مطلب یہ ہے کہ تمھارے اِن شریکوں کا کوئی وجود ہوتا تو سب سے زیادہ اُس کو پتا ہوتا جس کی خدائی میں اِنھیں شریک کر رہے ہو۔ پھر جب اُس کو پتا نہیں تو خود اندازہ کر سکتے ہو کہ خدا پر کتنا بڑا جھوٹ باندھ رہے ہو۔
      اِس لیے کہ نہ اُس کی صفات سے اِن چیزوں کو کوئی مناسبت ہے اور نہ اُس کی صفات میں کوئی تضاد مانا جاسکتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور لوگ تو ایک ہی امت تھے۔ پھر انھوں نے اختلاف کیا۔ اور اگر تمہارے رب کی جانب سے ایک بات پہلے سے طے نہ پا چکی ہوتی تو ان کے درمیان اس امر میں فیصلہ کر دیا جاتا جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      توحید کے حق میں تاریخ کی شہادت: ’وَمَا کَانَ النَّاسُ اِلَّآ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَاخْتَلَفُوْا‘۔ یہ توحید کے حق میں تاریخی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے لوگوں کو ایک ہی دین توحید کی تعلیم دی اور ایک ہی امت بنایا۔ لیکن لوگوں نے بعد میں اس میں اختلاف پیدا کر کے کج پیچ کی بہت سی راہیں نکال لیں اور مختلف امتوں اور گروہوں میں بٹ گئے۔ مطلب یہ ہے کہ آج شرک و ضلالت کے مختلف طریقوں کی موجودگی سے کوئی یہ دلیل نہ پکڑے کہ یہ راستے بھی خدا اور رسول کے بتائے ہوئے ہیں۔ ان کو خدا سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ گمراہوں کی اپنی ایجاد سے ظہور میں آئے ہیں ۔۔۔ ضمناً ا س سے جدید فلسفیوں کے اس نظریہ کی بھی تردید ہو گئی کہ انسان نے دین کا آغاز شرک سے کیا پھر درجہ بدرجہ ارتقاء کرتے ہوئے توحید تک پہنچا۔ قرآن اس کے بالکل برعکس یہ کہتا ہے کہ خدا نے شروع ہی سے انسان کو توحید کی تعلیم دی لیکن گمراہوں نے اس میں اختلاف پیدا کر کے فتنے کھڑے کر دیے۔ ہم نے فلسفۂ جدید کے اس باطل نظریہ کی تردید اپنی کتاب ’’حقیقت توحید‘‘ میں تفصیل سے کی ہے۔
      ’وَلَوْلَا کَلِمَۃٌ ...... الایۃ‘۔ یعنی اس اختلاف کے فیصلہ کے لیے آخرت کا دن خدا کی طرف سے مقرر ہو چکا ہے۔ اگر یہ دن مقرر نہ ہو چکا ہوتا تو آج ہی ان کے درمیان فیصلہ کر دیا جاتا۔

      جاوید احمد غامدی (اپنے اِس شرک کے لیے یہ باپ دادوں کا حوالہ نہ دیں۔ حقیقت یہ ہے کہ) لوگ ایک ہی امت تھے، اُنھوں نے بعد میں اختلاف کیا ہے اور اگر تیرے پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے طے نہ کر لی گئی ہوتی تو اُس چیز کا فیصلہ کر دیا جاتا جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی خدا نے انسانیت کی ابتدا دین فطرت سے کی تھی۔ اُس وقت تمام انسان توحید کے ماننے والے تھے۔ انسانیت کی ابتدا شرک سے نہیں ہوئی۔ یہ نجاست تو انسان کے عقائد کو بہت بعد میں لاحق ہوئی ہے۔
      یعنی یہ بات کہ اختلافات کا حتمی فیصلہ قیامت کے دن سنایا جائے گا۔ اُس سے پہلے اُنھیں گوارا کیا جائے گا تاکہ لوگوں کے عقل و فہم اور ضمیر و وجدان کو آزمایش میں ڈال کر اُنھیں جنت کے لیے منتخب کیا جائے۔

    • امین احسن اصلاحی اور وہ کہتے ہیں ان پر ان کے رب کی جانب سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری جاتی؟ تو تم جواب دے دو کہ غیب کا علم تو بس اللہ ہی کو ہے تو تم لوگ انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مطالبۂ عذاب کا جواب: ’آیت‘ سے یہاں قرینہ دلیل ہے کہ نشانئ عذاب مراد ہے۔ قرآن ان کو دو عذابوں کی خبر دے رہا تھا۔ ایک رسول کی تکذیب کی صورت میں اس دنیا میں۔ دوسرا عدم ایمان کی صورت میں آخرت میں۔ سادات قریش کے پندار پر اس سے بڑی چوٹ پڑتی تھی اور یہ چیز بھی منجملہ ان چیزوں کے تھی جن کی وجہ سے وہ قرآن کے بدلنے یا اس میں ترمیم کا مطالبہ کرتے تھے۔ اس باب میں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو زچ کرنے کے لیے یہ کہتے کہ اگر یہ اپنی اس دھمکی میں سچے ہیں تو آخر یہ اس عذاب کا نمونہ دکھاتے کیوں نہیں جس کی اس شد و مد سے منادی کرتے پھر رہے ہیں؟ جواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کہلوایا گیا کہ عذاب لانا میرا کام نہیں ہے۔ عذاب کی خبر خدا نے دی ہے۔ میں تم کو اس سے خبردار کر رہا ہوں۔ رہی یہ بات کہ عذاب کب اور کس شکل میں آئے گا تو یہ امور غیب ہیں، ان کا علم صرف اللہ ہی کو ہے۔ ’فَانْتَظِرُوْا اِنِّیْ مَعَکُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ‘۔ اگر تم اس کے طلب گار ہو تو انتظار کرو، میں بھی خدا کی دی ہوئی خبر کی بنا پر اس کے انتظار میں ہوں۔ ’’انتظار میں ہوں‘‘ سے یہ مقصد نہیں ہے کہ آپؐ کو اپنی قوم کو مبتلائے عذاب الٰہی دیکھنے کا ارمان تھا۔ حضرات انبیاؑ اپنی قوم کو عذاب سے بچانے کے لیے اپنا ایڑی چوٹی کا زور صرف کر دیتے ہیں لیکن جب قوم اپنی ضد کے سبب سے اپنے اندر وہ تمام اسباب و علامات جمع کر لیتی ہیں جن کے بعد عذاب آیا کرتا ہے تو قدرتی طور پر نبی کے دل کو بھی ہر وقت کھٹکا لگا رہتا ہے کہ اب مریض کا دم واپسیں ہے اور خدا کا حکم آیا ہی چاہتا ہے۔ اس انتظار میں تمنا کا کوئی دخل نہیں ہوتا ہے بلکہ یہ حسرت و اندوہ کے ساتھ ایک امر شدنی کا انتظار ہوتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور یہ جو کہتے ہیں کہ نبی پر اُس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اتاری گئی تو (اِن سے) کہو، (یہ غیب کے معاملات ہیں اور )غیب کا علم تو اللہ ہی کو ہے۔ سو انتظار کرو، میں بھی تمھارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’اٰیَۃٌ‘ آیا ہے۔ آگے کی آیات سے واضح ہے کہ اِس سے یہاں عذاب کی نشانی مراد ہے جسے دیکھ کر واضح ہو جائے کہ پیغمبر جس فیصلہ کن عذاب کی وعید سنا رہا ہے، وہ بھی آ کر رہے گا۔
      یعنی یہ معاملات کہ اللہ عذاب کی کوئی نشانی دکھائے یا کسی قوم پر وہ عذاب نازل کرے جس کی وعید سنائی جا رہی ہے۔
      یہ قوم کو مبتلاے عذاب دیکھنے کی تمنا نہیں، بلکہ حسرت و اندوہ کے ساتھ ایک ایسی چیز کا انتظار ہے جو قوم کی ضد کے باعث خدا کا فیصلہ بن چکی ہے۔

    Join our Mailing List