Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 129 آیات ) Al-Tawbah Al-Tawbah
Go
  • التوبہ (The Repentance)

    129 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود اور اس پر بسم اللہ نہ لکھنے کی وجہ

    یہ سورہ، جیسا کہ گروپ کی تمہید میں ہم واضح کر چکے ہیں، سورتوں کے دوسرے گروپ کی آخری سورہ ہے۔ اس میں اور انفال میں بالکل اسی نوع کا تعلق ہے جس نوع کا تعلق متن اور شرح یا تمہید اور اصل مقصد میں ہوتا ہے۔ سورۂ انفال میں مسلمانوں کو جس جہاد کے لیے ظاہراً و باطناً منظم کیا گیا ہے اس سورہ میں اس کا اعلان فرما دیا۔ مصحف کی ترتیب میں اس سورہ پر بسم اللہ نہیں لکھی ہوئی ہے اور روایات سے ثابت ہے کہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے ہی سے چلی آ رہی ہے جس سے اس امر کا ثبوت ملتا ہے کہ اس پر بسم اللہ کا نہ لکھا جانا ایمائے الٰہی سے ہوا ہے۔ علمائے تفسیر نے اس کی مختلف توجیہیں کی ہیں۔ سب سے زیادہ قابل قبول توجیہہ ہمارے نزدیک یہ ہے کہ ان دونوں سورتوں میں عمود و مضمون کے لحاظ سے نہایت گہرا اتصال بھی ہے اور مقصد و غایت کے اعتبار سے فی الجملہ انفصال بھی۔ ایک کا رخ بالکلیہ مسلمانوں کی طرف ہے اور دوسری کا رخ اصلاً مشرکین، اہل کتاب اور منافقین کی طرف۔ ایک کی نوعیت تیاری کی ہے اور دوسری کی، جیسا کہ ہم اشارہ کر چکے ہیں، الٹی میٹم اور اعلان جنگ کی۔ اشتراک و انفصال کے ان دونوں پہلوؤں کو ممیز کرنے کے لیے حکمت الٰہی مقتضی ہوئی کہ یہ سورہ سابق سورہ سے بالکل الگ بھی نہ ہو لیکن فی الجملہ نمایاں اور ممتاز بھی رہے۔ بسم اللہ نہ لکھے جانے سے یہ دونوں پہلو بیک وقت نمایاں ہو گئے۔ بسم اللہ، جیسا کہ ہم واضح کر چکے ہیں، دو سورتوں کے درمیان علامت فصل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس علامت فصل کے نہ ہونے سے دونوں کا معنوی اتصال نمایاں ہو گیا اور ساتھ ہی اس کے علیحدہ وجود نے اس کو علیحدہ نام دے دیا جس سے اس کی امتیازی خصوصیت بھی سامنے آ گئی۔

  • التوبہ (The Repentance)

    129 آیات | مدنی
    الانفال —— التوبۃ

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں جس آخری دینونت کے لیے تیاری اور مسلمانوں کے تزکیہ و تطہیر کی ہدایات دی گئی ہیں، دوسری اُسی کے ظہور کا بیان ہے۔ دونوں کے مخاطب اہل ایمان ہیں اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینۂ طیبہ میں یہ دونوں سورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ جزا و سزا میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ— الانفال— کا موضوع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکرین کے خلاف آخری اقدام کی تیاری اور اِس کے لیے مسلمانوں کا تزکیہ وتطہیر ہے۔

    دوسری سورہ— التوبہ— کا موضوع اِنھی منکرین کے لیے، خواہ وہ کھلے منکر ہوں یا منافقین، خدا کی آخری دینونت کا ظہور ہے۔

    • امین احسن اصلاحی ان مشرکین سے اللہ اور رسول کی طرف سے اعلان براء ت ہے جن سے تم نے معاہدے کیے تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      لفظ ’بَرَآءَ ۃٌ‘ کا مفہوم: ’بَرَآءَ ۃٌ مِنَ اللّٰہِ الایہ‘۔ ’بَرَآءَ ۃٌ‘ کے معنی کسی ذمہ داری سے دست بردار اور بری الذمہ ہونے کے ہیں۔ یہاں یہ ان معاہدات کی ذمہ داری سے دست کش ہونے کے معنی میں ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ ہجرت فرمانے کے بعد مشرکین عرب کے مختلف قبائل سے موقت اور غیر موقت نوعیت کے کر لیے تھے۔ ’مشرکین‘ سے یہاں بھی اور قرآن میں جہاں جہاں بھی یہ لفظ بشکل علم استعمال ہوا ہے مشرکین بنی اسمٰعیل یا بالفاظ دیگر مشرکین عرب مراد ہیں۔ ان کے معاہدات کی ذمہ داری سے اس اعلان براء ت کی وجہ آگے آیت ۳ سے واضح ہوتی ہے کہ بہت سے قبائل نے معاہدات کرنے کو تو کر لیے تھے لیکن ان کو وفاداری اور راست بازی کے ساتھ نباہ نہیں رہے تھے اس وجہ سے اس قسم کے معاہدوں کے کالعدم ہونے کا اعلان کر دیا گیا، صرف ان قبائل کے معاہدے باقی رکھے گئے جنھوں نے کوئی غداری یا عہد شکنی نہیں کی تھی اور وہ بھی صرف ان کی قرار دادہ مدت تک کے لیے۔ لفظ ’بَرَآءَ ۃٌ‘ کے بعد حرف ’الٰی‘ جو آیا ہے یہ دلیل ہے اس بات پر کہ یہاں ’ابلاغ‘ کا مفہوم بھی مضمر ہے۔ یعنی اس دست برداری کی اطلاع تمام ناقض عہد مشرکین کو پہنچا دی جائے چنانچہ بعد والی آیت میں اس کی تصریح بھی آ رہی ہے۔
      ایک قابل توجہ نکتہ: یہاں یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ جہاں تک معاہدہ کرنے کا تعلق ہے اس کی ذمہ داری تو اللہ تعالیٰ نے، جیسا کہ ’عٰھَدْتُّمْ‘ کے لفظ سے واضح ہے تمام مسلمانوں پر ڈالی ہے اس لیے کہ پیغمبر کی اٹھائی ہوئی ذمہ داری تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے لیکن براء ت ذمہ کے معاملے میں مسلمانوں کی ذمہ داری معین نہیں فرمائی ہے کہ انھیں کیا کرنا ہے۔ اس سے اس اعلان کی شدت ظاہر ہوتی ہے کہ اللہ و رسول تو ان بودے معاہدوں سے بری ہوئے، اب اہل ایمان خود فیصلہ کریں کہ انھیں کیا رویہ اختیار کرنا چاہیے، اللہ و رسول کا ساتھ دے کر اپنے ایمان کا ثبوت دینا ہے یا عزیز داری، برادری اور خاندان و قبیلہ کی پاس داری میں نفاق کی روش اختیار کرنی ہے۔ بات کے اس انداز سے کہنے میں مصلحت یہ تھی کہ پس منظر میں، جیسا کہ آگے تفصیل آ رہی ہے، منافقین بھی تھے جو ابھی اپنے خاندانی و قبائلی بندھنوں سے پوری طرح آزاد نہیں ہوئے تھے۔ ان لوگوں پر اس اسلوب سے یہ حقیقت واضح کر دی گئی کہ اللہ اور رسول کی طرف سے یہ فیصلہ قطعی ہے، اس میں کسی لچک کا امکان نہیں ہے، جس کو اس کا ساتھ دینا ہو، ساتھ دے ورنہ اپنی راہ اور اپنی منزل کا خود فیصلہ کرے۔

      جاوید احمد غامدی اللہ اور اُس کے رسول کی طرف سے اُن مشرکوں کے لیے اعلان براء ت ہے جن سے تم نے معاہدے کیے تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سورہ کی ابتدا میں ’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘ نہیں لکھی جاتی۔ اِس کی وجہ ہمارے نزدیک یہ ہے کہ سورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین پر اُس عذاب کا اعلان کیا گیا ہے جو پیغمبروں کی تکذیب کے نتیجے میں اُن کے منکرین پر لازماً آتا ہے۔ خدا کی زمین پر یہ اُس کی آخری دینونت کی سرگذشت ہے جس میں مشرکین کے قتل عام اور اہل کتاب کو محکوم بنا لینے کا حکم دیا گیا ہے۔ چنانچہ سورہ کی ابتدا جن الفاظ سے ہوئی ہے، اُن کے ساتھ کسی طرح موزوں نہیں تھا کہ خدا کی رحمت و شفقت کا حوالہ دیا جائے۔ یہ خدا کے جلال اور قہر و غضب کے ظہور کا موقع ہے، اِس لیے ’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘ سے ابتدا نہیں کی گئی۔
      دنیا میں انسان کو رہنے بسنے کا جو موقع دیا گیا ہے، وہ کسی حق کی بنیاد پر نہیں ہے،بلکہ محض امتحان کے لیے ہے۔ پیغمبروں کی طرف سے اتمام حجت کے بعد یہ امتحان پورا ہو جاتا ہے تو یہ ضرورت بھی اِس کے ساتھ ہی ختم ہو جاتی ہے کہ اُنھیں باقی رکھا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین اب اِسی مقام پر پہنچ چکے تھے۔ چنانچہ آگے جس قتل عام کا حکم دیا گیا ہے، وہ خدا کی اِس سنت کا ظہور ہے کہ رسولوں کے مخاطبین اُن کی طرف سے اتمام حجت کے بعد اِسی دنیا میں عذاب سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ اِس عذاب کا فیصلہ بھی خدا کرتا ہے اور جن پر یہ نازل کیا جاتا ہے، وہ بھی خدا کی طرف سے متعین کرکے بتا دیے جاتے ہیں۔ کوئی شخص ، یہاں تک کہ خدا کا پیغمبر بھی اپنی طرف سے اِس کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ سورۂ توبہ اِسی فیصلے کا اعلان ہے۔ تاہم اخلاقی لحاظ سے ضروری تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن لوگوں کے ساتھ تبلیغ و دعوت اور اتمام حجت کی مصلحت سے معاہدے کر رکھے ہیں ، کسی اقدام سے پہلے اُنھیں ختم کر دیا جائے۔ یہ اُنھی معاہدات سے براء ت کی گئی ہے۔ آیت میں لفظ ’بَرَآءَ ۃ‘ کے بعد ’اِلٰی‘ ہے۔ یہ اِس بات کی دلیل ہے کہ یہاں ’ابلاغ‘ کا مفہوم بھی مضمر ہے ۔ یعنی اِس دست برداری کی اطلاع اُن تک پہنچا دی جائے۔

    • امین احسن اصلاحی سو اب ملک میں چار ماہ چل پھر لو اور جان رکھو کہ تم اللہ کے قابو سے باہر نہیں جا سکتے اور اللہ کافروں کو رسوا کر کے رہے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      براہ راست مشرکین سے خطاب: ’فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَۃَ اَشْھُرٍ الایۃ‘ اوپر والی آیت کا خطاب مسلمانوں سے تھا، اس آیت میں خطاب کا رخ براہ راست مشرکین کی طرف ہو گیا ہے۔ خطاب کی یہ تبدیلی اس دھمکی کی شدت اور اس کے فیصلہ کن ہونے کی دلیل ہے۔ مسلمانوں کو خطاب کر کے یوں نہیں فرمایا کہ دھمکی مشرکین کو سنا دو بلکہ جس طرح اعلان براء ت خود فرما دیا اسی طرح براہ راست مشرکین کو خطاب کر کے فرمایا کہ بس اب چار ماہ کی مہلت تمھیں اور حاصل ہے، اس کے بعد ان لوگوں کے معاہدات کی اللہ و رسول پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے جو اپنے معاہدوں کی خلاف ورزیاں کر چکے ہیں بلکہ ہر قدم پر ان کی دار و گیر شروع ہو جائے گی۔
      معاہدات میں براء ت میں چار ماہ کی مہلت کی مصلحتیں: چار ماہ کی مہلت میں کئی مصلحتیں مدنظر ہو سکتی ہیں۔ یہ مصلحت بھی ہو سکتی ہے کہ معاہدے کے باوجود جو لوگ شرارتیں کر رہے تھے وہ اپنے رویے پر نظرثانی کرنا چاہیں تو نظرثانی کر لیں، یہ مصلحت بھی ہو سکتی ہے کہ اس دوران میں مسلمان اپنے اس اہم اقدام سے پوری طرح یک سو، منظم اور تیار ہو جائیں۔ علاوہ ازیں آیت ۵ سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ آگے اشہر حرم آ رہے تھے جن کا احترام کسی جنگی اقدام سے مانع تھا۔
      ’وَّاعْلَمُوْآ اَنَّکُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰہِ‘ کی وضاحت انفال آیت ۵۹ کے تحت گزر چکی ہے۔

      جاوید احمد غامدی سو (اے مشرکین عرب)، اب ملک میں چار مہینے اور چل پھر لو اور جان رکھو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے اور یہ بھی کہ اللہ (اپنے پیغمبر کا) انکار کرنے والوں کو رسوا کر کے رہے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہاں سے خطاب میں تبدیلی ہوئی ہے اور اُس کا رخ براہ راست مشرکین کی طرف ہو گیا ہے۔ یہ تبدیلی بتا رہی ہے کہ اِس دھمکی کو معمولی نہ سمجھا جائے۔ یہ ایک فیصلہ کن دھمکی ہے جس کے نتائج اب پوری قطعیت کے ساتھ سامنے آنے والے ہیں۔
      عذاب سے پہلے چار ماہ کی یہ مہلت کب دی گئی؟ اِس کی کوئی حتمی تاریخ تو متعین نہیں کی جا سکتی۔ تاہم آگے کی آیتوں سے اتنی بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ اُس وقت دی گئی، جب قریش کی طرف سے معاہدۂ حدیبیہ کی کوئی خلاف ورزی ابھی نہیں ہوئی تھی۔

    • امین احسن اصلاحی اور اللہ و رسول کی طرف سے بڑے حج کے دن لوگوں میں منادی کر دی جائے کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے بری الذمہ ہیں تو اگر تم توبہ کرو تو تمھارے حق میں بہتر ہے اور اگر روگردانی کرو گے تو جان رکھو کہ تم اللہ سے بھاگ نہیں سکتے اور کافروں کو ایک دردناک عذاب کی خوش خبری پہنچا دو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حج کے موقع پر اعلان براء ت کی عام منادی: ’اَذَان‘ یہاں اپنے لغوی مفوہم یعنی اعلان و منادی کے معنی میں ہے۔ ہدایت ہوئی کہ حج اکبر کے دن یہ منادی کرا دی جائے کہ اللہ و رسولؐ اس قسم کے معاہدوں سے بری الذمہ ہیں، اب جو توبہ کر لے گا اس کی خیر ہے اور جو روگردانی کریں گے وہ اللہ کی پکڑ سے نہیں بچ سکیں گے۔ حج کے موقع پر منادی کی ہدایت اس وجہ سے ہوئی کہ عرب میں حج ہی کا اجتماع ایک ایسا اجتماع ہوتا تھا جس میں ملک کے کونے کونے سے لوگ جمع ہوتے جس کے سبب سے ہر وہ بات جو وہاں پھیل جائے پورے ملک میں پھیل جاتی تھی۔ خاص طور پر ۹ھ کے حج تک چونکہ صورت یہ تھی کہ مشرکین بھی حج کو جاتے تھے اس وجہ سے وہاں کا ہر اعلان سب کے کانوں تک پہنچ جاتا تھا، خواہ مسلمان ہوں یا کفار۔ اسی وجہ سے آیت میں لفظ بھی ’الی الناس‘ استعمال ہوا ہے جو عام ہے۔
      حج اکبر سے کیا مراد ہے؟ ’حج اکبر‘ سے کیا مراد ہے اور یہ کس سن کے حج کی طرف اشارہ ہے؟ اس سوال کا جواب مفسرین نے یہ دیا ہے کہ اس سے مراد ۹ھ کا حج ہے جو حضرت ابوبکرؓ صدیق کی امارت میں ہوا۔ ہمارے نزدیک یہ بات ٹھیک ہے۔ اس لیے کہ یہی پہلا موقع ہے جب مسلمانوں کو باقاعدہ حج کی سعادت حاصل ہوئی ہے۔ اس سے پہلے انھیں دو تین مواقع جو ملے ان میں وہ صرف عمرہ کر سکے تھے۔ عمرہ کو حج اصغر (چھوٹا حج) بھی کہتے ہیں۔ اس نسبت سے پورے حج کے لیے ’حج اکبر‘ (بڑا حج) کا لفظ استعمال ہوا جس میں گویا مسلمانوں کو پہلے سے یہ بشارت بھی دے دی گئی کہ اب تک وہ صرف چھوٹے حج ہی کی سعادت حاصل کر سکے ہیں، آگے ان کو بڑے حج سے بھی سعادت اندوز ہونے کا موقع ملنے والا ہے۔
      سورۂ توبہ کا نزول: یہیں سے عام طور پر لوگوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اس سورہ کا نزول ۹ھ میں ہوا ہے لیکن اس نتیجہ کے قبول کرنے میں مجھے تردد ہے اس لیے کہ آگے جو آیات آ رہی ہیں ان سے، جیسا کہ آپ دیکھیں گے، صاف واضح ہے کہ کم از کم یہ اور آگے کی آیات معاہدہ حدیبیہ کے خاتمہ اور فتح مکہ سے کچھ پہلے نازل ہوئی ہیں لیکن اعلان براء ت کی منادئ عام چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ۹ھ کے حج کے موقع پر ہی کرائی اس لیے بعض لوگوں کو یہ گمان گزرا کہ ان آیات کا نزول بھی اسی موقع پر ہوا۔ حالانکہ یہ ایک پیشگی ہدایت تھی اس بات کی کہ جب حج اکبر کی سعادت حاصل کرنے کا موقع آئے تو اس موقع پر اس فیصلہ کی منادئ عام بھی کرا دی جائے۔ اس سے ضمناً مسلمانوں کو، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، حج سے مشرف ہونے کی بشارت بھی حاصل ہو گئی۔
      میرے لیے ان آیات کا زمانۂ نزول ٹھیک ٹھیک متعین کرنا مشکل ہے۔ اس لیے کہ عرب میں حجۃ الوداع سے پہلے تک دو جنتریاں رائج رہی ہیں، ایک سادہ قمری حساب پر مبنی تھی دوسری نسی کے اس قاعدے پر مبنی تھی جس کی طرف آگے اسی سورہ میں اشارہ آئے گا۔ اگر کوئی شخص اس فرق کو معلوم کر سکے جو نسی کے قاعدے نے اصل قمری مہینوں میں پیدا کر دیا تھا تو وہ ان چار مہینوں کو بھی معین کر سکے گا جو آیت نمبر ۲ میں مذکور ہیں اور ان محترم مہینوں کو بھی ٹھیک ٹھیک بتا سکے گا جن کا حوالہ آیت ۵ میں ہے۔ اس تحقیق میں اس مسلم حقیقت سے بڑی رہنمائی مل سکتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ۱۰ھ میں جو حج کیا وہ قمری حساب سے بھی ٹھیک نویں ذی الحجۃ کو پڑا تھا اور نسی کے حساب سے بھی اس کی تاریخ یہی تھی، گویا دونوں جنتریوں کا قِران ہو گیا تھا۔ ’استدار الزمان کھیئتہ یوم خلق السموت والارض‘ میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا تھا۔ میں حساب کتاب کے میدان کا مرد نہیں ہوں اس وجہ سے اس باب میں عزم و جزم سے کچھ کہنا میرے لیے مشکل ہے لیکن قرآن کے الفاظ اور اس کے نظم کی روشنی میں اس بات پر میں مطمئن ہوں کہ یہ آیات معاہدۂ حدیبیہ کے خاتمہ سے کچھ پہلے نازل ہوئی ہیں۔ دلائل و قرائن کی تفصیل آئے گی۔

      جاوید احمد غامدی (پھر حج کا موقع آئے تو اِس سرزمین کے) سب لوگوں تک پہنچانے کے لیے بڑے حج کے دن اللہ اور اُس کے رسول کی طرف سے اعلان عام کر دیا جائے کہ اللہ مشرکوں سے بری الذمہ ہے اور اُس کا رسول بھی۔ اب اگر تم لوگ توبہ کر لو تو تمھارے حق میں بہتر ہے اور اگر منہ پھیرو گے تو جان لو کہ تم اللہ سے بھاگ نہیں سکتے۔ (اے پیغمبر)، اِن منکروں کو دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے مراد حج ہی ہے۔ اہل عرب عمرے کو حج اصغر اور اِس کے مقابلے میں حج کو حج اکبر کہتے تھے۔
      مطلب یہ ہے کہ چارماہ کی جو مہلت اوپر دی گئی ہے، اُس کے گزر جانے کے بعد اُن لوگوں کی داروگیر شروع کر دی جائے جن تک اعلان براء ت کی اطلاع پہنچانا ممکن ہو۔ اِس کے بعد حج کے دن کا انتظار کیا جائے۔ اِس میں ملک کے کونے کونے سے لوگ جمع ہوں گے جن کی وساطت سے یہ اطلاع سرزمین عرب کے باقی سب لوگوں تک بھی پہنچا دی جائے کہ اللہ و رسول نے مشرکین سے براء ت کا اعلان کر دیا ہے۔ خدا کی طرف سے جو مہلت اُنھیں ملی ہوئی تھی، اُس کی مدت پوری ہو گئی ہے۔وہ اب عذاب کی زد میں ہیں۔ چنانچہ تمام معاہدات ختم کر دیے گئے ہیں اور آیندہ بھی اُن کے ساتھ کسی معاہدے کا امکان باقی نہیں رہا۔ اِس میں ضمناً یہ بشارت بھی ہے کہ عنقریب وہ موقع آنے والا ہے، جب مسلمان حج بھی کریں گے اور منکرین پر ایسا غلبہ بھی حاصل کر لیں گے کہ حج کے موقع پر اِس طرح کا اعلان کر سکیں۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان ۹ ہجری میں اِس حج سے سعادت اندوز ہوئے۔ یہ حج سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی امارت میں کیا گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق علی رضی اللہ عنہ نے قرآن کی یہ آیتیں لوگوں کو پڑھ کر سنائیں جس سے پورے عرب کے مشرکین تک اطلاع پہنچانے کا اہتمام کر دیا گیا۔*
      _____
      * تفسیر القرآن العظیم، ابن کثیر ۲/ ۴۳۶۔

    • امین احسن اصلاحی وہ مشرکین اس سے مستثنیٰ ہیں جن سے تم نے معاہدہ کیا اور انھوں نے اس میں نہ تم سے کوئی خیانت کی اور نہ تمھارے خلاف کسی کی مدد کی سو ان کے معاہدے ان کی قراردادہ مدت تک پورے کرو، اللہ نقض عہد سے بچنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اعلان براء ت سے مستثنیٰ مشرکین: یہ ان مشرکین کا بیان ہے جو مذکورہ اعلان سے مستثنیٰ تھے۔ یہ وہ قبائل ہیں جو اپنے عہد پر قائم رہے، نہ خود معاہدے کے خلاف کوئی چھوٹا یا بڑا اقدام کیا، نہ مسلمانوں کے خلاف بالواسطہ یا بلاواسطہ کوئی مدد کی۔ اس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ مذکورہ بالا اعلان ناقضین عہد ہی سے متعلق تھا لیکن ساتھ ہی یہ حقیقت بھی اس سے واضح ہوتی ہے کہ یہ معاہدے بھی صرف ان کی قرار دادہ مدت ہی تک باقی رکھنے کی اجازت ہوئی۔ مدت گزر جانے کے بعد یہ بھی کالعدم۔ آگے کے لیے ان سے کسی نئے معاہدے کی اجازت نہیں دی گئی۔ چنانچہ اس اعلان براء ت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کے کسی گروہ سے کوئی معاہدہ نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان مشرکین سے جو معاہدے کیے گئے تھے وہ صرف دعوت و تبلیغ اور اتمام حجت کی مصلحت سے کیے گئے تھے۔ مقصود ان کے ساتھ ہمیشہ کے لیے نباہ کرنا نہ تھا۔ یہ سنت الٰہی ہم ایک سے زیادہ مقامات میں واضح کر چکے ہیں کہ جس قوم کی طرف براہ راست رسول کی بعثت ہوتی ہے اگر وہ تبلیغ و دعوت اور اتمام حجت کے بعد بھی رسول کی تکذیب پر اڑی رہتی ہے تو وہ لازماً ختم کر دی جاتی ہے۔ خواہ اس کا خاتمہ خدا کے کسی براہ راست عذاب سے ہو یا اہل ایمان کی تلوارسے۔ مشرکین عرب کا معاملہ اسی نوعیت کا تھا۔ اب تبلیغ و دعوت اور اتمام حجت کا دور ان کے لیے ختم ہو رہا تھا اس وجہ سے اب ان کے کسی گروہ کے ساتھ کسی معاہدے کا سوال خارج از بحث تھا۔
      ’اجتماعی تقویٰ‘ کی وضاحت: ’اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ‘ میں جس تقویٰ کا ذکر ہے، یہ انفرادی تقویٰ نہیں بلکہ اجتماعی و سیاسی تقویٰ ہے۔ اسلام جس طرح ہر شخص سے انفرادی تقویٰ کا مطالبہ بھی کرتا ہے اسی طرح مسلمانوں سے من حیث الجماعت اجتماعی اور سیاسی تقویٰ کا مطالبہ بھی کرتا ہے۔ یعنی مسلمان دوسری قوموں سے جو معاملات اور معاہدات کریں ان میں راست باز، صداقت شعار اور وفادار رہیں، کسی عہد اور قول و قرار کی کوئی ادنیٰ خلاف ورزی بھی نہ کریں۔ خدا ایسے ہی متقیوں کو دوست رکھتا ہے اور خدا جن کو دوست رکھتا ہے وہی دنیا اور آخرت میں برو مند اور فائز المرام ہوتے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی وہ مشرکین، البتہ (اِس اعلان براء ت سے) مستثنیٰ ہیں جن سے تم نے معاہدہ کیا، پھر اُس کو پورا کرنے میں اُنھوں نے تمھارے ساتھ کوئی کمی نہیں کی اور نہ تمھارے خلاف کسی کی مدد کی ہے۔ سو اُن کا معاہدہ اُن کی مدت تک پورا کرو، اِس لیے کہ اللہ اُن لوگوں کو پسند کرتا ہے جو (بد عہدی سے) بچنے والے ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اُن معاہدوں کا بیان ہے جو مذکورہ اعلان سے مستثنیٰ تھے۔ مدعا یہ ہے کہ غیر موقت معاہدے تو مہلت کی مدت گزر جانے کے فوراً بعد ختم ہو جائیں گے۔ اِسی طرح وہ معاہدے بھی ختم ہو جائیں گے جو اگرچہ موقت تھے، مگر فریق ثانی کی طرف سے اُن کی خلاف ورزی ہو چکی ہے۔ لیکن ایسے موقت معاہدے جن کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی، اُنھیں ختم نہیں کیا جائے گا، بلکہ قراردادہ مدت تک برقرار رکھا جائے گا۔ مدت گزر جانے کے بعد، البتہ وہ بھی کالعدم ہوں گے اور جن مشرکین سے کیے گئے تھے، اُن کی داروگیر بھی اُسی طرح شروع ہو جائے گی، جس طرح حکم دیا گیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی سو جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو ان مشرکین کو جہاں کہیں پاؤ قتل کرو، ان کو پکڑو، ان کو گھیرو، اور ہر گھات کی جگہ ان کی تاک لگاؤ۔ پس اگر یہ توبہ کر لیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تب ان کی جان چھوڑو۔ بے شک اللہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’اشہر حرم‘ سے مراد: ’اَشْھُرُ حُرُم‘ سے مراد ذی قعدہ، ذی الحجۃ، محرم اور رجب کے مہینے ہیں۔ ’اَشْھُرُ حُرُم‘ ان مہینوں کے لیے بطور اسم و علم استعمال ہوتا ہے۔ ان کے سوا کوئی اور مہینہ اس لفظ سے مراد لینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ یہ مہینے زمانۂ جاہلیت بلکہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے محترم چلے آ رہے تھے۔ ہم سورۂ بقرہ کی تفسیر میں بیان کر چکے ہیں کہ یہ حج و عمرہ کے مہینے بھی تھے اور اہل عرب کی بیشتر تجارتی کاروباری نقل و حرکت انہی مہینوں میں ہوتی تھی۔ ان میں لڑنا بھڑنا شرعاً ممنوع تھا اور اہل عرب اپنی جنگ جویانہ طبیعت کے باوجود ان کا احترام برابر ملحوظ رکھتے تھے۔ اوپر آیت ۲ میں جو چار ماہ کی مہلت مذکور ہوئی ہے ان میں تین مہینے حرمت والے تھے۔ تین مہینے اس وجہ سے کہ حرمت کے چاروں مہینے یک جا نہیں ہیں۔ تین ایک سلسلہ میں ہیں، رجب الگ ہے۔ اگرچہ نسی کے قاعدے کے تحت یہ اپنے اصل مقام سے ہٹے ہوئے تھے تاہم اگر ان تین حرمت والے مہینوں سے پہلے وقت کے مہینوں میں سے شوال کو ملا دیا جائے تو یہ چار مہینے بن جاتے ہیں۔ فرمایا کہ جب محترم مہینے گزر جائیں تو ان ناقض عہد مشرکین کو جہاں پاؤ قتل کرو۔ ’جہاں پاؤ‘ سے مراد، جیسا کہ سورۂ بقرہ کی تفسیر میں وضاحت گزر چکی ہے، یہ ہے کہ حدود حرم میں بھی ان سے جنگ و قتال مباح ہے۔
      مشرکین عرب کی داروگیر: ’وَخُذُوْھُمْ وَاحْصُرُوْھُمْ وَاقْعُدُوْا لَھُمْ کُلَّ مَرْصَدٍ‘ یعنی ان کے خلاف ہر قسم کی جنگی کارروائی کی جائے اور ہر پہلو سے ان کا ناطقہ بند کیا جائے۔ اس شدت کے ساتھ ان کی داروگیر کے اس حکم کی وجہ یہ ہے کہ اس کی نوعیت محض ایک دشمن کے خلاف اقدام کی نہیں تھی بلکہ یہ مشرکین عرب کے لیے اس سنت الٰہی کا ظہور تھا جو رسولوں کی تکذیب کرنے والی قوموں کے لیے ہمیشہ ظاہر ہوئی ہے اور جس کی تفصیلات سورۂ اعراف میں بیان ہوئی ہیں۔
      مشرکین عرب کے لیے دو راہیں: اسلام یا تلوار: ’فَاِنْ تَابُوْا وَاَقَامُواالصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ‘ مطلب یہ ہے کہ ان کی یہ داروگیر اس وقت تک بند نہ کی جائے جب تک یہ اپنے کفرو شرک سے تائب ہو کر نماز نہ قائم کریں اور زکوٰۃ نہ ادا کرنے لگ جائیں۔ نماز اور زکوٰۃ ایک جامع تعبیر ہے اسلام کے نظام عبادت و اطاعت میں داخل ہونے کی۔ جس کے معنی یہ ہوئے کہ اسلام کے بغیر نہ ان کے لیے ذمی یا معاہد بن کر اسلامی نظام میں باقی رہنے کی گنجائش رہی نہ لونڈی غلام بن کر۔ ان کے لیے صرف دو راہیں باقی ہیں۔ یا تو اسلام قبول کریں یا تلوار۔
      مشرکین عرب کے ساتھ خاص معاملہ کی وجہ: مشرکین عرب کے ساتھ یہ خاص معاملہ کرنے کی وجہ وہی ہے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اندر انہی میں سے ایک رسول بھیجا، انہی کی زبان میں ان پر اپنی کتاب اتاری، اسی ملت کی ان کو دعوت دی گئی جس کے وہ مدعی تھے۔ رسول نے مسلسل ۲۳ سال تک ان کو جھنجھوڑا اور جگایا، ان کی ہر مجلس اور ہر بزم میں وہ پہنچا، ان کے ایک ایک دروازے پر اس نے دستک دی۔ ان کے ایک ایک شبہ اور ایک ایک اعتراض کا جواب دیا۔ ان کی تمام الزام تراشیوں، تہمتوں اور عداوتوں کا مقابلہ کیا۔ ان کے مطالبہ پر معجزے بھی دکھائے اور ان کی منتخب کی ہوئی کسوٹیوں پر بھی اپنے کو کھرا اور سچا ثابت کر دیا۔ یہاں تک کہ ان کے اندر جو اچھے لوگ تھے وہ اس کے ساتھی بھی بن گئے تو اس سارے اہتمام کے بعد بھی جو لوگ قبول حق پر آمادہ نہیں ہوئے آخر وہ کس لیے باقی رکھے جاتے۔ رسول اتمام حجت کا کامل اور آخری ذریعہ ہوتا ہے، جو لوگ اس کے جگانے سے بھی نہیں جاگتے وہ مردہ ہیں اور مردوں کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ دفن کر دیے جائیں۔

      جاوید احمد غامدی (بڑے حج کے دن) اِس (اعلان) کے بعد جب حرام مہینے گزر جائیں تو اِن مشرکوں کو جہاں پاؤ، قتل کرو اور (اِس مقصد کے لیے) اِن کو پکڑو، اِن کو گھیرو اور ہر گھات کی جگہ اِن کی تاک میں بیٹھو۔پھراگر یہ توبہ کر لیں اور نمازکا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو اِن کی راہ چھوڑ دو۔ یقیناًاللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے وہ چار مہینے مراد نہیں ہیں جن کا ذکر اوپر ہوا ہے، بلکہ وہی مہینے مراد ہیں جنھیں اصطلاح میں اشہر حرم کہا جاتا ہے۔ یہ تعبیر اِن مہینوں کے لیے بطور اسم و علم استعمال ہوتی ہے، اِس لیے عربیت کی رو سے کوئی اور مہینے مراد نہیں لیے جا سکتے۔ حج اکبر کے موقع پر جس اعلان کے لیے کہا گیا ہے، اُس کے بعد ۲۰ دن ذوالحجہ اور ۳۰ محرم کے باقی ہوں گے۔ یہ اُنھی کے بارے میں فرمایا ہے کہ اِن دنوں میں چونکہ جنگ و جدال ممنوع ہے، اِس لیے یہ جب گزر جائیں تو اِس اعلان کے نتیجے میں جن لوگوں کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہو، اُن کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا جائے، اِس سے پہلے کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ ذوالحجہ اور محرم کے پچاس دنوں کے لیے یہ تعبیر بالکل اُسی طرح اختیار کی گئی ہے، جس طرح ہم اپنی زبان میں بعض اوقات نومبر یا دسمبر کے مہینے میں کہتے ہیں کہ یہ سال گزر جائے تو فلاں کام کیا جائے گا۔
      یہ قتل عام کا حکم ہے جو مشرکین عرب کے لیے اُسی طرح کا عذاب تھا جو رسولوں کی تکذیب کے نتیجے میں اُن کے مخاطبین پر ہمیشہ نازل کیا جاتا رہا ہے۔
      یعنی خدا کے اِس عذاب سے بچنے کے لیے صرف اتنا کافی نہیں ہے کہ وہ کفر و شرک سے توبہ کرکے اسلام قبول کر لیں، اِس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اپنے ایمان و اسلام کی شہادت کے طور پر وہ نماز کا اہتمام کریں اور ریاست کا نظم چلانے کے لیے اُس کے بیت المال کو زکوٰۃ ادا کریں۔ اِس کے بعد فرمایا ہے کہ ’فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ‘، یعنی اُن کی راہ چھوڑ دو۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ ریاست اور قانون کی سطح پر ایمان و اسلام کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اِس سے زائدکوئی مطالبہ کسی مسلمان سے نہیں کیا جا سکتا، اِس لیے کہ جب خدا نے اپنے پیغمبر کو خود اپنی حکومت میں اِس کی اجازت نہیں دی تو دوسروں کو کس طرح دی جا سکتی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور اگر ان مشرکین میں سے کوئی تم سے امان کا طالب ہو تو اس کو امان دے دو تاکہ وہ اللہ کا کلام سن لے، پھر اس کو اس کے امان کی جگہ پہنچا دو۔ یہ اس لیے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جنھیں اللہ کی باتوں کا علم نہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اتمام حجت کی خاطر آخری رعایت: اوپر والی آیت میں مشرکین کی داروگیر کا جو حکم ہوا ہے، اتمام حجت کی خاطر یہ اس میں آخری رعایت ہے۔ فرمایا کہ اس داروگیر کے دوران میں اگر کوئی شخص امان کا طالب ہو تو اس کو امان دے دو۔ اور اس کو اللہ و رسول کی دعوت اور اس کا مقصد اچھی طرح سنا سمجھا کر اس کی امان کی جگہ پر پہنچا دو تاکہ وہ ٹھنڈے دل سے اپنے معاملہ پر غور کر کے فیصلہ کر سکے کہ وہ اسلام قبول کرتا ہے یا تلوار۔ یہ امان بخشی، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ہے، محض اتمام حجت کے نقطۂ نظر سے تھی۔ اس کے معنی یہ نہیں تھے کہ وہ اس داروگیر کے حکم سے امان پا گیا۔ اگر وہ ایمان نہ قبول کرے گا تو اس کے لیے وہی حکم باقی رہے گا جو اوپر بیان ہوا ہے اور جب وہ دوبارہ زد میں آئے گا تو نہ یہ امان اس کے لیے نافع ہو گی، نہ ازسرنو طلب امان کی اس کے لیے کوئی گنجائش ہی باقی رہے گی۔
      ’ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ‘ یہ اس رعایت کی وجہ بیان ہوئی ہے کہ چونکہ یہ امی لوگ رہے ہیں۔ دین و شریعت سے بے خبر اور نبوت و رسالت سے نا آشنا، اس وجہ سے اس کا امکان ہے کہ اتنے طویل سلسلۂ تبلیغ و دعوت کے بعد بھی، کسی کے معاملہ میں اتمام حجت کے پہلو سے کوئی کسر رہ گئی ہو اور چونکہ اس داروگیر کا حکم، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، اتمام حجت ہی کی بنیاد پر تھا اس وجہ سے ہدایت ہوئی کہ اگر کوئی شخص طالب رعایت ہو تو اس کو رعایت دے دی جائے۔ ہر چند اس میں یہ خطرہ بھی تھا کہ کوئی شخص اس رعایت سے فائدہ اٹھا کر جاسوسی کرے یا دوبارہ حریف بن کر سامنے آئے۔

      جاوید احمد غامدی اور اگر (اِس داروگیر کے موقع پر) اِن مشرکوں میں سے کوئی شخص تم سے امان چاہے (کہ وہ تمھاری دعوت سننا چاہتا ہے) تو اُس کو امان دے دو، یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے۔ پھر اُس کو اُس کے مامن تک پہنچا دو۔ یہ اِس لیے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو (خدا کی باتوں کو) نہیں جانتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی دین و شریعت اور نبوت و رسالت سے زیادہ واقف نہیں ہیں، اِس وجہ سے رعایت کے مستحق ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ لمبے عرصے تک تبلیغ و دعوت کے بعد بھی اتمام حجت میں کوئی کسر رہ گئی ہو، لہٰذا اِن میں سے کوئی شخص اگر بات سننے اور سمجھنے کے لیے امان چاہتا ہو تو امان دے دو اور اللہ کا کلام اچھی طرح سنا اور سمجھا کر اُس کے مامن تک پہنچا دو تاکہ وہ ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ غور کرکے فیصلہ کر سکے کہ اُسے اسلام قبول کرنا ہے یا تلوار۔ اِس کے بعد، ظاہر ہے کہ اُس کے لیے بھی وہی حکم ہو گا جو اوپر بیان ہوا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی مشرکین کے کسی عہد کی ذمہ داری اللہ اور اس کے رسول پر کس طرح باقی رہ سکتی ہے؟ ۔۔۔ ہاں جن سے تم نے مسجد حرام کے پاس عہد کیا ہے تو جب تک وہ قائم رہیں تم بھی ان کے لیے معاہدے پر قائم رہو، اللہ نقض عہد سے بچنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔۔۔ ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اعلان براء ت کے وجوہ: یہ اعلان براء ت کے وجوہ اور دلائل بیان ہو رہے ہیں۔ خطاب اگرچہ بظاہر عام ہے لیکن روئے سخن ان مسلمانوں کی طرف خاص طور سے ہے جو مشرکین کے اندر اپنے تعلقات اور عزیز داریوں کے باعث اس اعلان سے تشویش میں مبتلا ہو گئے تھے۔ اس اعلان سے اتنی بات تو ہر شخص کے سامنے آ گئی کہ اب حدیبیہ کے اس معاہدے کے دن بھی قریب آ لگے ہیں جس نے مسلمانوں اور قریش کے درمیان ایک دوسرے سے ملنے جلنے کی راہ کھول دی تھی۔ جو لوگ ضعیف الایمان تھے قدرتی طور پر ان کا ایمان ایک سخت آزمائش میں پڑ گیا۔ قریش میں گھر گھر ان کی عزیز داریاں تھیں اور وہ توقع لیے بیٹھے تھے کہ ملنے جلنے کا یہ دروازہ کھلا رہے گا اور وہ کفر اور اسلام دونوں کے ساتھ نباہ کرتے رہیں گے۔ اس اعلان نے نہ صرف اس توقع کا ہمیشہ کے لیے یک قلم خاتمہ کر دیا بلکہ انھوں نے دیکھا کہ اب وہ وقت سر پر آ رہا ہے کہ انھیں اپنے ان تمام عزیزوں اور رشتہ داروں کے خلاف تلوار سونتنی پڑے گی۔ اس ذہن کے لوگوں کو سامنے رکھ کر فرمایا جا رہا ہے کہ بھلا ان مشرکین کے کسی عہد و پیمان کی کوئی ذمہ داری اللہ و رسول پر کیسے ہو سکتی ہے جن کا حال یہ ہے کہ اگر تم پر کہیں ان کا زور چل جائے تو نہ قرابت کا پاس کریں نہ کسی عہد کا۔ باتوں سے وہ تمہیں خوش کرنا چاہتے ہیں لیکن ان کے دل تمہارے اوپر غم و غصہ سے کھول رہے ہیں۔ ان کی اکثریت بدعہدوں پر مشتمل ہے۔
      آیات ۷۔۸ کا دروبست: اس آیت کا درو بست ذرا قابل غور ہے اس کو سمجھ لیجیے۔ کلام کا آغاز تو فرمایا ’کَیْفَ یَکُوْنُ لِلْمُشْرِکِیْنَ عَھْدٌ عِنْدَ اللّٰہِ وَعِنْدَ رَسُوْلِہٖٓ‘ سے لیکن بات پوری کرنے سے پہلے ایک استثنا کا ذکر بطور جملۂ معترضہ کر دیا کہ ’اِلَّا الَّذِیْنَ عٰھَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَکُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَھُمْ‘ پھر اس بات کو جو اس جملۂ معترضہ کے سبب سے ادھوری رہ گئی تھی ازسرنو لیا اور اس کو بعینہٖ اسی تمہید سے شروع کر کے اس کی تکمیل کی۔ فرمایا ’کَیْفَ وَاِنْ یَّظْھَرُوْا عَلَیْکُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْکُمْ اِلًّا وَّلَا ذِمَّۃً‘۔ الایۃ
      معاشرتی و سیاسی تعلقات کی بنیادیں: تعلقات کی بنیاد دو ہی چیزوں پر ہوتی ہے۔ معاشرتی تعلقات کی بنیاد رشتۂ رحم و قرابت کے پاس و لحاظ پر اور سیاسی روابط کی بنیاد باہمی معاہدات کی عائد کردہ ذمہ داریوں کے احترام پر۔ پہلی کو ’الّ‘ سے تعبیر فرمایا ہے جو ان حقوق کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ایک اصل و نسل، ایک جوہر و معدن سے ہونے یا قرابت اور پڑوس کی بنا پر ایک دوسرے پر آپ سے آپ قائم ہو جاتے ہیں۔ دوسری کو ’ذمّہ‘ سے تعبیر فرمایا ہے جو ان ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو کسی معاہدہ میں شریک ہونے والی پارٹیوں پر ازروئے معاہدہ عائد ہوتی ہیں۔ فرمایا کہ اس اعلان براء ت سے تم میں سے کوئی اس تشویش میں مبتلا نہ ہو کہ اب ان لوگوں کے ساتھ تمام معاشرتی اور اجتماعی تعلقات ختم ہو رہے ہیں۔ یہ ختم ہو رہے ہیں تو اب ان کو ختم ہی ہونا تھا۔ تعلقات کبھی بھی یک طرفہ قائم نہیں رہتے۔ تم میں سے جو لوگ ان کے تعلقات کو عزیز رکھتے ہیں انھیں یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لینی چاہیے کہ وہ اگر تم پر کبھی قابو پا جائیں گے تو نہ قرابت مندی کا لحاظ رکھیں گے نہ کسی معاہدے کا۔ ملاقاتوں میں یہ جو چکنی چپڑی باتیں کرتے ہیں وہ محض زبانی ہمدردی کی نمائش اور تمہیں بے وقوف بنانے کی ایک کوشش ہے ورنہ حقیقت میں ان کے دل ان کی زبان سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ ان کے دلوں کے اندر تمہارے اور تمہارے دین کے خلاف عناد بھرا ہوا ہے۔
      ’فسق‘ کا مفہوم: ’وَاَکْثَرُھُمْ فٰسِقُوْنَ‘ یعنی جس طرح ان کی قرابت داری محض زبانی اور نمائشی ہے اسی طرح اپنے عہد و پیمان کے معاملے میں بھی یہ بالکل جھوٹے اور غدار ہیں۔ ان کی اکثریت عہد شکن ہے۔ ’فسق‘ کا لفظ یہاں غداری اور عہد شکنی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اور قرآن میں اس لفظ کا استعمال اس معنی میں معروف ہے۔ جس طرح اوپر ’تقوٰی‘ کا لفظ پاس عد کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے اسی طرح یہاں ’فسق‘ کا لفظ نقض عہد کے لیے استعمال ہوا ہے۔
      معاہدۂ حدیبیہ کی طرف اشارہ: ’اِلَّا الَّذِیْنَ عٰھَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَکُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَھُمْ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ‘ ہمارے نزدیک یہ اشارہ اس معاہدہ کی طرف ہے جو قریش کے ساتھ صلح حدیبیہ کے موقع پر ہوا تھا۔ اس رائے کے دلائل تو آگے واضح ہوں گے لیکن ایک قرینہ یہاں قابل توجہ ہے۔ وہ یہ کہ اس کا تعارف ’اَلَّذِیْنَ عٰھَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ‘ سے کیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنے بھی معاہدے ہجرت کے بعد مشرکین کے ساتھ کیے ان میں سے اگر کوئی معاہدہ مسجد حرام کی نسبت کے ساتھ تعارف کا سزاوار ہو سکتا ہے تو وہ صرف حدیبیہ کا معاہدہ ہی ہو سکتا ہے۔ اس لیے کہ یہی معاہدہ مسجد حرام کے قرب و جوار میں طے پایا تھا۔ اس نسبت کے اظہار سے ایک طرف تو معاہدے کا تعارف ہو گیا۔ دوسری طرف اس سے اس کی غیرمعمولی حرمت بھی واضح ہوئی کہ کوئی ایسا ویسا معاہدہ نہیں ہے بلکہ اس کی تکمیل جوار حرم میں ہوئی ہے جس سے زیادہ کوئی دوسری جگہ مقدس و محترم نہیں ہو سکتی۔ ہم کسی دوسرے مقام میں اس بات کی طرف اشارہ کر چکے ہیں کہ اہل عرب بالعموم اپنے معاہدات اپنے معبدوں اور استھانوں کے سامنے کرتے تھے تاکہ فریقین کے اندر معاہدات کے احترام کا جذبہ پیدا ہو۔
      معاہدۂ حدیبیہ کی پابندی کی ہدایت: فرمایا کہ ’فَمَا اسْتَقَامُوْا لَکُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَھُمْ‘ یعنی جب تک قریش اس معاہدے پر قائم رہیں تم بھی اس پر قائم رہو۔ اگر وہ اس کو توڑ دیں تم بھی اس کو توڑ دو۔ کوئی معاہدہ یک طرفہ قائم نہیں رہتا۔ دونوں پارٹیاں مل کر اس کو قائم رکھتی ہیں۔ یہی تقاضائے عدل ہے اور اسلام اسی کا تمہیں حکم دیتا ہے۔ ’اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ‘ یعنی اللہ تعالیٰ ایسے ہی عدل پسندوں کو دوست رکھتا ہے۔
      معاہدات سے متعلق تین باتیں: اوپر کی آیات سے اس وقت تک کے ان تمام معاہدات کے بارے میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین کی مختلف پارٹیوں کے درمیان طے پائے تھے تین باتیں واضح ہوئیں:

      ۱۔ جن مشرکین نے اپنے معاہدات کی خلاف ورزیاں کی تھیں ان سے اعلان براء ت اور چار ماہ کی مہلت کے بعد ان سے جنگ۔
      ۲۔ جنھوں نے اپنے معاہدات پوری وفاداری سے نباہے تھے اور ان کے معاہدات موقّت تھے، اختتام مدت کے بعد یہ معاہدات بھی ختم۔
      ۳۔ معاہدۂ حدیبیہ کی خاص نوعیت: معاہدۂ حدیبیہ کو اس وقت تک قائم رکھنے کی ہدایت جب تک قریش اس کو قائم رکھیں۔ یہ یاد رہے کہ معاہدۂ حدیبیہ غیر موقت تھا اور ان آیات کے نزول کے وقت تک معلوم ہوتا ہے قریش لشتم پشتم اس کو نباہ رہے تھے اس وجہ سے قدرتی طور پر اس کے متعلق بہت سے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوا ہوگا کہ چار ماہ کی مذکورہ مدت گزرنے کے بعد اس کا کیا انجام ہو گا؟ یہ اسی سوال کا جواب ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اسی دوران میں قریش نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیف بنی خزاعہ کے خلاف اپنے حلیف بنی بکر کی مدد کر کے اس معاہدہ کی بھی خلاف ورزی کی جس کے نتیجہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ پر فوج کشی کی اور اس کو فتح کر لیا۔

      جاوید احمد غامدی اللہ اور اُس کے رسول کے ہاں اِن مشرکوں سے کوئی عہد کس طرح باقی رہ سکتا ہے؟ ہاں جن لوگوں سے تم نے مسجد حرام کے پاس (حدیبیہ میں) عہد کیا تھا، سو جب تک وہ تمھارے ساتھ سیدھے رہیں، تم بھی اُن کے ساتھ سیدھے رہو، اِس لیے کہ اللہ اُن لوگوں کو پسند کرتا ہے جو (بد عہدی سے) بچنے والے ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہاں سے روے سخن اُن لوگوں کی طرف ہو گیا ہے جو اِن مشرکوں کے لیے مزید مہلت کے خواہاں تھے۔ اُنھیں صاف نظر آ رہا تھا کہ اِس اعلان کے نتیجے میں اب اُنھیں اپنے عزیزوں ، رشتہ داروں اور زمانۂ جاہلیت کے دوست احباب کے خلاف تلوار سونتنی پڑے گی۔ یہ لوگ چونکہ ضعیف الایمان تھے، اِس لیے قدرتی طور پر سخت آزمایش میں مبتلا ہو گئے تھے۔ آگے جو کچھ فرمایا ہے، اِنھی کمزور مسلمانوں کی ذہنی کیفیت کو سامنے رکھ کر فرمایا ہے۔
      اصل الفاظ ہیں: ’الَّذِیْنَ عٰھَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ‘۔ زبان کے اسالیب سے واقف ہر شخص اندازہ کر سکتا ہے کہ یہ الفاظ اگر کسی معاہدے کے لیے موزوں ہو سکتے ہیں تو صرف معاہدۂ حدیبیہ ہی کے لیے موزوں ہو سکتے ہیں۔ ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنے بھی معاہدے مشرکین کے ساتھ کیے، اُن میں سے کوئی بھی مسجد حرام کے ساتھ اِس طرح کی نسبت سے تعارف کا سزاوار نہیں ہو سکتا۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...اِس نسبت کے اظہار سے ایک طرف تو معاہدے کا تعارف ہو گیا۔ دوسری طرف اِس سے اُس کی غیر معمولی حرمت بھی واضح ہوئی کہ کوئی ایسا ویسا معاہدہ نہیں ہے، بلکہ اِس کی تکمیل جوار حرم میں ہوئی ہے جس سے زیادہ کوئی دوسری جگہ مقدس و محترم نہیں ہو سکتی۔‘‘(تدبرقرآن ۳/ ۵۴۳)

      یہ بات اگرچہ اوپر بیان ہو چکی ہے کہ ایسے موقت معاہدے جن کی خلاف ورزی نہیں ہوئی، وہ باقی رہیں گے، لیکن معاہدۂ حدیبیہ کی اہمیت چونکہ غیر معمولی تھی اور یہ دس سال کے لیے کیا گیا تھا، اِس لیے سلسلۂ کلام کو روک کر متنبہ کر دیا ہے کہ یہ معاہدہ بھی اُس وقت تک باقی رہے گا، جب تک قریش اِس پر قائم رہتے ہیں۔
      اصل میں لفظ ’تَقْوٰی‘ آیا ہے۔ اِس کے لغوی معنی بچنے کے ہیں۔ جس چیز سے بچنے کی طرف اشارہ مقصود ہے، وہ سیاق سے مفہوم ہو رہی ہے، اِس لیے لفظوں میں بیان نہیں ہوئی۔ قرآن میں جگہ جگہ یہ لفظ اِس طریقے سے استعمال ہوا ہے۔ لفظ ’فِسْق‘ کے معاملے میں بھی آگے یہی اسلوب اختیار فرمایا ہے۔

       

    • امین احسن اصلاحی کس طرح باقی رہ سکتی ہے جب کہ حال یہ ہے کہ اگر وہ کہیں تمہیں دبا پائیں تو نہ تمہارے بارے میں کسی قرابت کا پاس کریں نہ عہد کا۔ وہ تمہیں باتوں سے مطمئن کرنا چاہتے ہیں، پر ان کے دل انکار کر رہے ہیں اور ان کی اکثریت بدعہد ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آیات ۷۔۸ کا دروبست: اس آیت کا درو بست ذرا قابل غور ہے اس کو سمجھ لیجیے۔ کلام کا آغاز تو فرمایا ’کَیْفَ یَکُوْنُ لِلْمُشْرِکِیْنَ عَھْدٌ عِنْدَ اللّٰہِ وَعِنْدَ رَسُوْلِہٖٓ‘ سے لیکن بات پوری کرنے سے پہلے ایک استثنا کا ذکر بطور جملۂ معترضہ کر دیا کہ ’اِلَّا الَّذِیْنَ عٰھَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَکُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَھُمْ‘ پھر اس بات کو جو اس جملۂ معترضہ کے سبب سے ادھوری رہ گئی تھی ازسرنو لیا اور اس کو بعینہٖ اسی تمہید سے شروع کر کے اس کی تکمیل کی۔ فرمایا ’کَیْفَ وَاِنْ یَّظْھَرُوْا عَلَیْکُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْکُمْ اِلًّا وَّلَا ذِمَّۃً‘۔ الایۃ
      معاشرتی و سیاسی تعلقات کی بنیادیں: تعلقات کی بنیاد دو ہی چیزوں پر ہوتی ہے۔ معاشرتی تعلقات کی بنیاد رشتۂ رحم و قرابت کے پاس و لحاظ پر اور سیاسی روابط کی بنیاد باہمی معاہدات کی عائد کردہ ذمہ داریوں کے احترام پر۔ پہلی کو ’الّ‘ سے تعبیر فرمایا ہے جو ان حقوق کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ایک اصل و نسل، ایک جوہر و معدن سے ہونے یا قرابت اور پڑوس کی بنا پر ایک دوسرے پر آپ سے آپ قائم ہو جاتے ہیں۔ دوسری کو ’ذمّہ‘ سے تعبیر فرمایا ہے جو ان ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو کسی معاہدہ میں شریک ہونے والی پارٹیوں پر ازروئے معاہدہ عائد ہوتی ہیں۔ فرمایا کہ اس اعلان براء ت سے تم میں سے کوئی اس تشویش میں مبتلا نہ ہو کہ اب ان لوگوں کے ساتھ تمام معاشرتی اور اجتماعی تعلقات ختم ہو رہے ہیں۔ یہ ختم ہو رہے ہیں تو اب ان کو ختم ہی ہونا تھا۔ تعلقات کبھی بھی یک طرفہ قائم نہیں رہتے۔ تم میں سے جو لوگ ان کے تعلقات کو عزیز رکھتے ہیں انھیں یہ بات اچھی طرح سے سمجھ لینی چاہیے کہ وہ اگر تم پر کبھی قابو پا جائیں گے تو نہ قرابت مندی کا لحاظ رکھیں گے نہ کسی معاہدے کا۔ ملاقاتوں میں یہ جو چکنی چپڑی باتیں کرتے ہیں وہ محض زبانی ہمدردی کی نمائش اور تمہیں بے وقوف بنانے کی ایک کوشش ہے ورنہ حقیقت میں ان کے دل ان کی زبان سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ ان کے دلوں کے اندر تمہارے اور تمہارے دین کے خلاف عناد بھرا ہوا ہے۔
      معاہدات سے متعلق تین باتیں: اوپر کی آیات سے اس وقت تک کے ان تمام معاہدات کے بارے میں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین کی مختلف پارٹیوں کے درمیان طے پائے تھے تین باتیں واضح ہوئیں:

      ۱۔ جن مشرکین نے اپنے معاہدات کی خلاف ورزیاں کی تھیں ان سے اعلان براء ت اور چار ماہ کی مہلت کے بعد ان سے جنگ۔
      ۲۔ جنھوں نے اپنے معاہدات پوری وفاداری سے نباہے تھے اور ان کے معاہدات موقّت تھے، اختتام مدت کے بعد یہ معاہدات بھی ختم۔
      ۳۔ معاہدۂ حدیبیہ کی خاص نوعیت: معاہدۂ حدیبیہ کو اس وقت تک قائم رکھنے کی ہدایت جب تک قریش اس کو قائم رکھیں۔ یہ یاد رہے کہ معاہدۂ حدیبیہ غیر موقت تھا اور ان آیات کے نزول کے وقت تک معلوم ہوتا ہے قریش لشتم پشتم اس کو نباہ رہے تھے اس وجہ سے قدرتی طور پر اس کے متعلق بہت سے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوا ہوگا کہ چار ماہ کی مذکورہ مدت گزرنے کے بعد اس کا کیا انجام ہو گا؟ یہ اسی سوال کا جواب ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ اسی دوران میں قریش نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیف بنی خزاعہ کے خلاف اپنے حلیف بنی بکر کی مدد کر کے اس معاہدہ کی بھی خلاف ورزی کی جس کے نتیجہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ پر فوج کشی کی اور اس کو فتح کر لیا۔

      جاوید احمد غامدی کس طرح باقی رہ سکتا ہے، جبکہ حال یہ ہے کہ اگر وہ تم پر کہیں غلبہ پا لیں تو نہ تمھارے بارے میں کسی قرابت کا لحاظ کریں، نہ کسی عہد کا؟ اپنے منہ کی باتوں سے وہ تمھیں راضی کرنا چاہتے ہیں، مگر اُن کے دل انکار کر رہے ہیں اور اُن میں سے اکثر بدعہد ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں ’اِلًّا‘ اور ’ذِمَّۃً‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’تعلقات کی بنیاد دو ہی چیزوں پر ہوتی ہے۔ معاشرتی تعلقات کی بنیاد رشتۂ رحم و قرابت کے پاس و لحاظ پر اور سیاسی روابط کی بنیاد باہمی معاہدات کی عائد کردہ ذمہ داریوں کے احترام پر۔ پہلی کو ’ال‘ سے تعبیر فرمایا ہے جو اُن حقوق کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ایک اصل و نسل، ایک جوہر و معدن سے ہونے یا قرابت اور پڑوس کی بنا پر ایک دوسرے پر آپ سے آپ قائم ہو جاتے ہیں۔ دوسری کو ’ذِمَّہ‘ سے تعبیر فرمایا ہے جو اُن ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کرتا ہے جو کسی معاہدہ میں شریک ہونے والی پارٹیوں پر ازروے معاہدہ عائد ہوتی ہیں۔‘‘(تدبرقرآن۳/ ۵۴۲)

       

    • امین احسن اصلاحی انھوں نے اللہ کی آیات کے عوض میں ایک نہایت حقیر قیمت اختیار کر لی ہے۔ اور اس طرح وہ اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں، بے شک بہت ہی برا ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اعلان براء ت کے وجوہ کی مزید وضاحت: یہ اعلان براء ت کے وجود کی مزید وضاحت ہے کہ ان مشرکین کا معاملہ خالق اور خلق کسی کے ساتھ بھی درست نہیں۔ ان کے لیے اللہ کی ہدایت اتری تو انھوں نے اس کے مقابل میں اس دنیا کی متاع حقیر کو ترجیح دی، خود بھی اس سے منہ موڑا اور دوسروں کو بھی، جن پر ان کا بس چلا، اس سے روکا۔ خلق کے ساتھ ان کے معاملے کی نوعیت یہ ہے کہ کسی مسلمان کے معاملے میں ان کو نہ رِحم اور قرابت کا پاس ہے نہ عہد و ذمہ کا۔ ’وَاُولٰءِٓکَ ھُمُ الْمُعْتَدُوْنَ‘ یعنی حقوق تلف کرنے اور حدود توڑنے میں انہی نے سبقت کی ہے تو ایسے بدعہدوں اور ایسے ظالموں کے ساتھ اللہ و رسول کا کوئی عہد کیسے رہ سکتا ہے۔ اب ان کے لیے بس یہی راہ ہے کہ توبہ کریں ، نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں تو تمھارے دینی بھائی بن جائیں گے ’وَنُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ‘ میں فی الجملہ تنبیہ کا مضمون ہے مسلمانوں اور کفار دونوں کے لیے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ جاننا اور سمجھنا چاہیں ان کے لیے اس باب میں اللہ کے احکام کی پوری وضاحت کر دی گئی ہے۔ کوئی ابہام باقی نہیں رہا ہے۔ اب اگر مسلمانوں میں سے کسی نے ان مشرکین کے ساتھ اس سے الگ ہو کر کوئی معاملہ کرنا چاہا تو اس کی ذمہ داری خود اسی پر ہے، اسی طرح مشرکین میں سے اگر کسی نے اس سے کچھ الگ امید باندھی تو اس کی ذمہ داری بھی خود اسی پر ہے۔

      جاوید احمد غامدی اللہ کی آیتوں کے عوض میں اُنھوں نے تھوڑی قیمت قبول کر لی، پھر اُس کی راہ سے رک گئے ہیں۔ یقیناً بہت برا ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی دنیا کی متاع حقیر کو ترجیح دی اور خدا کی آیتوں کو چھوڑ کر اُسے اختیار کر لیا۔ آیت میں اِسے ’اِشْتِرَآء‘ سے تعبیر کیا ہے۔ زمانۂ قدیم میں خرید و فروخت مبادلۂ اشیا کے طریقے پر ہوتی تھی۔ لفظ ’اِشْتِرَآء‘ میں یہ مفہوم اِسی سے پیدا ہوا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی کسی صاحب ایمان کے معاملے میں نہ ان کو کسی قرابت کا پاس ہے اور نہ کسی عہد کا۔ اور یہی لوگ ہیں جو حدود کو توڑنے والے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اعلان براء ت کے وجوہ کی مزید وضاحت: یہ اعلان براء ت کے وجود کی مزید وضاحت ہے کہ ان مشرکین کا معاملہ خالق اور خلق کسی کے ساتھ بھی درست نہیں۔ ان کے لیے اللہ کی ہدایت اتری تو انھوں نے اس کے مقابل میں اس دنیا کی متاع حقیر کو ترجیح دی، خود بھی اس سے منہ موڑا اور دوسروں کو بھی، جن پر ان کا بس چلا، اس سے روکا۔ خلق کے ساتھ ان کے معاملے کی نوعیت یہ ہے کہ کسی مسلمان کے معاملے میں ان کو نہ رِحم اور قرابت کا پاس ہے نہ عہد و ذمہ کا۔ ’وَاُولٰءِٓکَ ھُمُ الْمُعْتَدُوْنَ‘ یعنی حقوق تلف کرنے اور حدود توڑنے میں انہی نے سبقت کی ہے تو ایسے بدعہدوں اور ایسے ظالموں کے ساتھ اللہ و رسول کا کوئی عہد کیسے رہ سکتا ہے۔ اب ان کے لیے بس یہی راہ ہے کہ توبہ کریں ، نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں تو تمھارے دینی بھائی بن جائیں گے ’وَنُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ‘ میں فی الجملہ تنبیہ کا مضمون ہے مسلمانوں اور کفار دونوں کے لیے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ جاننا اور سمجھنا چاہیں ان کے لیے اس باب میں اللہ کے احکام کی پوری وضاحت کر دی گئی ہے۔ کوئی ابہام باقی نہیں رہا ہے۔ اب اگر مسلمانوں میں سے کسی نے ان مشرکین کے ساتھ اس سے الگ ہو کر کوئی معاملہ کرنا چاہا تو اس کی ذمہ داری خود اسی پر ہے، اسی طرح مشرکین میں سے اگر کسی نے اس سے کچھ الگ امید باندھی تو اس کی ذمہ داری بھی خود اسی پر ہے۔

      جاوید احمد غامدی کسی مسلمان کے معاملے میں نہ اُنھیں کسی قرابت کا لحاظ ہے، نہ عہد کا اور وہی زیادتی کرنے والے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی پس اگر وہ توبہ کریں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو تمھارے دینی بھائی ہیں اور ہم آیات کی تفصیل کیے دے رہے ہیں ان لوگوں کے لیے جو جاننا چاہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اعلان براء ت کے وجوہ کی مزید وضاحت: یہ اعلان براء ت کے وجود کی مزید وضاحت ہے کہ ان مشرکین کا معاملہ خالق اور خلق کسی کے ساتھ بھی درست نہیں۔ ان کے لیے اللہ کی ہدایت اتری تو انھوں نے اس کے مقابل میں اس دنیا کی متاع حقیر کو ترجیح دی، خود بھی اس سے منہ موڑا اور دوسروں کو بھی، جن پر ان کا بس چلا، اس سے روکا۔ خلق کے ساتھ ان کے معاملے کی نوعیت یہ ہے کہ کسی مسلمان کے معاملے میں ان کو نہ رِحم اور قرابت کا پاس ہے نہ عہد و ذمہ کا۔ ’وَاُولٰءِٓکَ ھُمُ الْمُعْتَدُوْنَ‘ یعنی حقوق تلف کرنے اور حدود توڑنے میں انہی نے سبقت کی ہے تو ایسے بدعہدوں اور ایسے ظالموں کے ساتھ اللہ و رسول کا کوئی عہد کیسے رہ سکتا ہے۔ اب ان کے لیے بس یہی راہ ہے کہ توبہ کریں ، نماز قائم کریں، زکوٰۃ ادا کریں تو تمھارے دینی بھائی بن جائیں گے ’وَنُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ‘ میں فی الجملہ تنبیہ کا مضمون ہے مسلمانوں اور کفار دونوں کے لیے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ جاننا اور سمجھنا چاہیں ان کے لیے اس باب میں اللہ کے احکام کی پوری وضاحت کر دی گئی ہے۔ کوئی ابہام باقی نہیں رہا ہے۔ اب اگر مسلمانوں میں سے کسی نے ان مشرکین کے ساتھ اس سے الگ ہو کر کوئی معاملہ کرنا چاہا تو اس کی ذمہ داری خود اسی پر ہے، اسی طرح مشرکین میں سے اگر کسی نے اس سے کچھ الگ امید باندھی تو اس کی ذمہ داری بھی خود اسی پر ہے۔

      جاوید احمد غامدی سو اگر توبہ کر لیں اور نماز کا اہتمام کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو تمھارے دینی بھائی ہیں۔ ہم اُن لوگوں کے لیے اپنی آیتوں کی تفصیل کیے دے رہے ہیں جو جاننا چاہتے ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      پیچھے اِنھی شرائط کے بعد فرمایا ہے کہ ’فَخَلُّوْا سَبِیْلَھُمْ‘۔ یہاں اُس کی جگہ ’فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ‘ کے الفاظ ہیں۔ یہ دونوں تعبیرات مل کر حکم کا منشا ہر لحاظ سے واضح کر دیتی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اِن شرائط کے پورا ہو جانے کے بعد اُن سے مزید کوئی مطالبہ نہیں کیا جائے گا، قانون اور ریاست کے نقطۂ نظر سے وہ مسلمان سمجھے جائیں گے اور وہ تمام حقوق اُنھیں حاصل ہو جائیں گے جو ایک مسلمان کی حیثیت سے مسلمانوں کے نظم اجتماعی میں اُن کو حاصل ہونے چاہییں۔ اُن میں اور پہلے ایمان لانے والوں کے حقوق و فرائض میں کوئی فرق نہیں ہو گا اور اخوت کا یہ رشتہ قائم ہو جانے کے بعد وہ تمام ذمہ داریاں بھی اُن میں سے ہر ایک پر عائد ہو جائیں گی جو عقل و فطرت کی رو سے ایک بھائی پر اُس کے بھائی کے بارے میں عائد ہونی چاہییں۔
      یہ مسلمانوں اور کفار ، دونوں کے لیے تنبیہ ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... مطلب یہ ہے کہ جو لوگ جاننا اور سمجھنا چاہیں، اُن کے لیے اِس باب میں اللہ کے احکام کی پوری وضاحت کر دی گئی ہے۔ کوئی ابہام باقی نہیں رہا ہے۔ اب اگر مسلمانوں میں سے کسی نے اِن مشرکین کے ساتھ اِس سے الگ ہو کر کوئی معاملہ کرنا چاہا تو اُس کی ذمہ داری خود اُسی پر ہے ، اِسی طرح مشرکین میں سے اگر کسی نے اِس سے کچھ الگ امید باندھی تو اُس کی ذمہ داری بھی خود اُسی پر ہے۔‘‘(تدبرقرآن۳/ ۵۴۴)

       

    • امین احسن اصلاحی اور اگر عہد کر چکنے کے بعد یہ اپنے قول و قرار توڑ دیں اور تمہارے دین پر نیش زنی کریں تو تم کفر کے ان سرخیلوں سے بھی لڑو۔ ان کے کسی قول و قرار کا کوئی وزن نہیں تا کہ یہ اپنی حرکتوں سے باز آئیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قریش کے باب میں ہدایات: ’وَاِنْ نَّکَثُوْآ اَیْمَانَھُمْ مِّنْم بَعْدِ عَھْدِھِمْ وَطَعَنُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ فَقَاتِلُوْآ اَءِمَّۃَ الْکُفْرِ‘ یہ اوپر آیت ۷ سے متعلق ہے۔ وہاں فرمایا تھا کہ جن لوگوں سے تم نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا ہے جب تک یہ لوگ اس پر قائم رہیں تم بھی اس پر قائم رہو۔ اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ اگر قریش بھی اپنا معاہدہ توڑ دیں تو تم ان ائمۂ کفر سے بھی لڑو۔ ’ائمۂ کفر‘ کا اطلاق عرب میں ظاہر ہے کہ قریش کے سوا کسی اور پر نہیں ہو سکتا تھا۔ دین کے معاملہ میں سارا عرب انہی کے تابع تھا۔ پیشوائی اور سرداری کا مقام انہی کو حاصل تھا۔ قریش کے لیے اس لقب کے استعمال میں ان کے خلاف جہاد کی ایک مضبوط دلیل بھی ہے کہ سارے کفر کے امام و سرغنہ جب یہ ہیں تو ان سے نہ لڑو گے تو کس سے لڑو گے۔ اسلام کے خلاف طعن و طنز اور استخفاف و استہزا کے جتنے تیر و نشتر اور جتنے پروپیگنڈے اور اشغلے ایجاد ہوتے تھے سب انہی کے کارخانے میں ڈھلتے تھے، پھر انہی سے دوسروں میں پھیلتے تھے۔ اسی چیز کی طرف ’وَطَعَنُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ‘ میں اشارہ ہے۔
      ’اِنَّھُمْ لَا اَیْمَانَ لَھُمْ‘ بطور جملہ معترضہ ہے اور ’لَعَلَّھُمْ یَنْتَھُوْنَ‘ اصل سلسلہ کلام سے مربوط ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے عہد و پیمان کا کوئی وزن نہیں۔ یہ زیادہ دیر اس کو نباہ نہ سکیں گے۔ آج نہیں تو کل یہ اس کو توڑ دیں گے تو جب بھی اس کو توڑ دیں تم ان سے جنگ کرو تاکہ یہ اپنی شرارتوں سے باز آئیں۔ ان کے باز آنے کا مفہوم وہی ہے جو اوپر کی آیات سے واضح ہو چکا ہے کہ توبہ کریں اور اسلام لائیں۔

      جاوید احمد غامدی اور اُس عہد کے بعد بھی جو اُنھوں نے کر رکھا ہے، اگر وہ اپنے قول و قرار توڑ ڈالیں اور تمھارے دین میں عیب لگائیں تو کفر کے اِن سرخیلوں سے بھی لڑو۔ اِن کے قول و قرار کچھ نہیں، (اِس لیے آج نہیں تو کل اپنا عہد توڑ دیں گے، لہٰذا لڑو) تا کہ یہ (اِس کفر و شرک سے) باز آ جائیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی معاہدۂ حدیبیہ جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔ اُس کے لیے یہ الفاظ عہد کی اہمیت کو واضح کرنے کے لیے آئے ہیں، اِن سے کوئی نیا معاہدہ مراد نہیں ہے۔
      اصل میں ’اَءِمَّۃَ الْکُفْرِ‘ کے الفاظ ہیں۔ اِن کا اطلاق قریش کے سوا کسی اور پر نہیں ہو سکتا تھا۔ وہی پورے عرب کے سردار اور پیشوا تھے اور دین کے معاملے میں تمام اہل عرب اُنھی کے تابع تھے۔ مدعا یہ ہے کہ اگر قریش بھی اپنا معاہدہ توڑ دیں تو اُن سے بھی لڑو اور ایمان و اسلام کی دعوت قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوں تو جہاں پاؤ، قتل کر دو۔ سرزمین عرب کے تمام مشرکین کے لیے یہی اللہ کا حکم ہے۔ اِس میں اب کسی کے لیے مزید رعایت کی گنجایش باقی نہیں رہی۔

    • امین احسن اصلاحی بھلا تم ایسے لوگوں سے نہ لڑو گے جنھوں نے اپنے قول و قرار توڑ دیے، اور رسول کو نکالنے کی جسارت کی، اور وہی ہیں جنھوں نے تم سے جنگ چھیڑنے میں پہل کی! کیا تم ان سے ڈرو گے؟ اصلی حق دار تو اللہ ہے کہ تم اس سے ڈرو اگر تم واقعی مومن ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      نقض عہد کے بعد قریش سے قتال کی ہدایت: ’اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّکَثُوْآ اَیْمَانَھُمْ وَھَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَھُمْ بَدَءُ وْکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ‘ یہ قریش کے خلاف مسلمانوں کو جنگ پر ابھارا ہے اور قرینہ دلیل ہے کہ آیت کچھ فصل سے نازل ہوئی ہے۔ اوپر والی آیت میں تو ’وَاِنْ نَّکَثُوْا‘ کے الفاظ تھے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی معاہدہ کم از کم رسمی طور پر باقی تھا لیکن اس آیت میں ’نَّکَثُوْا اَیْمَانَھُمْ‘ کے الفاظ آئے ہیں جو بتاتے ہیں کہ انھوں نے معاہدہ توڑ دیا۔ اس معاہدہ کے توڑنے کی شکل، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، یہ ہوئی کہ قریش نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیفوں کے خلاف اپنے حلیفوں کی مدد کی۔
      قریش کے جرائم: ’وَھَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ‘ نقض عہد کے جرم کے ساتھ ان کے بعض پچھلے جرائم کی طرف بھی اشارہ کر دیا۔ خاص طور پر ان جرائم کی طرف جو انھوں نے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف کیے۔ ان میں سب سے زیادہ سنگین جرم اللہ کے رسول کو جلاوطن کرنے کا جرم تھا۔ یہ جرم ایک ایسا جرم ہے کہ اس کے ارتکاب پر، جیسا کہ پچھلی سورتوں میں وضاحت ہو چکی ہے، فیصلہ کن عذاب آ جایا کرتا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جو لوگ سنت الٰہی کے مطابق عذاب کے مستحق ہیں، کیا تم ان سے جنگ کرنے سے جی چراؤ گے؟ اس جرم کا ذکر ’وَھَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ‘ کے الفاظ سے فرمایا ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ ان کا اصل جرم یہ ہے کہ انھوں نے رسولؐ کے جلاوطن کرنے کا ارادہ کیا۔ یہ جسارت ہی بجائے خود ایک جرم عظیم ہے۔ رہا رسول کا نکلنا تو وہ تمام تر اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی حکمت و مشیت کے تحت ہوتا ہے۔ ’وَھُمْ بَدَءُ وْکُمْ اَوَّلَ مَرَّۃٍ‘ یعنی صرف رسولؐ کے جلاوطن کرنے کی جسارت ہی پر بس نہیں کیا بلکہ اس کے بعد جنگ چھیڑنے میں بھی پہل انہی نے کی۔ ظاہر ہے کہ یہ اشارہ جنگ بدر کی طرف ہے جس پر تفصیلی بحث انفال میں گزر چکی ہے۔ ان الفاظ سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے جو ہم پیچھے واضح کر چکے ہیں کہ جنگ بدر کے لیے پیش قدمی تمام تر قریش کی طرف سے ہوئی۔ قافلۂ تجارت کی حفاظت کا انھوں نے محض ایک بہانہ پیدا کیا۔
      یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ مذکورہ جرائم اصلا قریش ہی کے جرائم تھے اس وجہ سے ان آیات کا تعلق قریش ہی سے ہو سکتا ہے۔ اس سے ہمارے اس خیال کی تائید ہوتی ہے جو پیچھے ہم نے اس سورہ کے زمانۂ نزول سے متعلق ظاہر کیا ہے۔
      کمزور قسم کے مسلمانوں کو تنبیہ: ’اَتَخْشَوْنَھُمْ فَاللّٰہُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْہُ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ‘ خطاب اگرچہ عام ہے لیکن روئے سخن خاص طور پر کمزوروں اور منافق قسم کے لوگوں کی طرف ہے۔ یہ لوگ، جیسا کہ ہم پیچھے اشارہ کر چکے ہیں اور آگے تفصیل آ رہی ہے، قریش کے ساتھ جنگ کے معاملے میں بہت ہراساں تھے اور اس کی وجہ جنگ سے زیادہ یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے پچھلے تعلقات و روابط کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ ان کے دل کسی طرح اس بات پر راضی نہیں ہوتے تھے کہ یہ تعلقات یک قلم ختم ہو کے رہ جائیں۔ فرمایا کہ تم ان لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ ڈرنے کا زیادہ حق دار اللہ ہے۔ اگر ایمان کے مدعی ہو تو تمہیں دوسروں کے تعلقات سے زیادہ اپنے اس تعلق کا اہتمام ہونا چاہیے جو تم اللہ سے رکھنے کا دعویٰ کرتے ہو۔

      جاوید احمد غامدی (ایمان والو)، کیا اب بھی اُن لوگوں سے نہیں لڑو گے جنھوں نے اپنے قول و قرار توڑ دیے ہیں اورجنھوں نے (اِس سے پہلے) رسول کو (اُس کے وطن سے) نکالنے کی جسارت کی تھی اور وہی ہیں جنھوں نے تم سے جنگ چھیڑنے میں پہل کی۔ کیا تم اُن سے ڈرتے ہو؟ اللہ زیادہ حق دار ہے کہ تم اُس سے ڈرو، اگر تم فی الواقع مومن ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ سورہ چند شذرات کا مجموعہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکرین پر عذاب کے مراحل میں ہر مرحلے کی مناسبت سے نازل ہوئے اوراِنھی مراحل کی ترتیب کے ساتھ سورہ میں جمع کر دیے گئے ہیں۔ اِن میں سے پہلا شذرہ آیت ۱۲ پر ختم ہو گیا ہے۔ یہاں سے دوسرا شروع ہوتا ہے جس کی پہلی آیت ہی واضح کر دیتی ہے کہ یہ کچھ فصل سے نازل ہوا ہے، اِس لیے کہ اوپر جس معاہدے کے بارے میں فرمایا تھا کہ اگر توڑ دیں ، یہ آیت بتا رہی ہے کہ وہ معاہدہ قریش نے توڑ دیا ہے۔
      مطلب یہ ہے کہ اِن کا یہ پہلا جرم نہیں ہے، اِس سے پہلے یہ خدا کے رسول کو اُس کے وطن سے نکالنے کی جسارت کر چکے ہیں۔ قرآن کے ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کی تکذیب کے بعد جب کوئی قوم اُسے وطن سے نکالنے یا قتل کر دینے کا فیصلہ کر لیتی ہے تو اُس کی مہلت عمر بھی ختم ہو جاتی ہے۔ رسولوں کے باب میں یہی سنت الٰہی ہے۔ قرآن نے یہ اُسی کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ اِس سے مزید وضاحت ہو گئی کہ یہ آیتیں قریش ہی سے متعلق ہیں، اِن کا کسی دوسرے قبیلے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
      یعنی جب ہجرت کے موقع پر قتل کر دینے میں کامیاب نہیں ہوئے تو قافلے کی حفاظت کا بہانہ کرکے حملہ آور ہو گئے اور اِس طرح خدا کے رسول اور اُس کے ساتھیوں کے خلاف صریح جارحیت کا ارتکاب کیا۔ یہ جنگ بدر کی طرف اشارہ ہے جس سے اُس بات کی تائید ہوتی ہے جو پیچھے بیان ہو چکی ہے کہ اِس جنگ کے لیے پیش قدمی تمام تر قریش کی طرف سے ہوئی تھی۔

    • امین احسن اصلاحی تم ان سے لڑو، اللہ تمھارے ہاتھوں ان کو سزا دے گا، ان کو رسوا کرے گا، تم کو ان پر غلبہ دے گا، اہل ایمان کے ایک گروہ کے کلیجے ٹھنڈے کرے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مقابلے میں دشمن کی رسوائی کی بشارت: ’قَاتِلُوْھُمْ یُعَذِّبْھُمُ اللّٰہُ بِاَیْدِیْکُمْ وَیُخْزِھِمْ‘ یہ مسلمانوں کی عموماً اور کمزور مسلمانوں کی خصوصاً حوصلہ افزائی کی گئی ہے کہ تم ان ائمہ کفر سے جنگ کرنے میں کمزوری نہ دکھاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے تمھارے ہاتھوں ان کو عذاب دینے اور ان کو رسوا کرنے کا فیصلہ فرما لیا ہے۔ ہم پیچھے اس سنت الٰہی کا ذکر کر چکے ہیں کہ جو قوم اپنے رسول کی تکذیب پر اڑ جاتی ہے، رسول کی ہجرت کے بعد اس پر لازماً عذاب آ جاتا ہے۔ اگر رسول پر ایمان لانے والوں کی تعداد بہت تھوڑی ہوتی ہے تو یہ عذاب براہ راست خدا کی طرف سے آتا ہے۔ اور اگر ایمان لانے والوں کی تعداد معتد بہ ہوتی ہے تو پھر انہی اہل ایمان کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ اس قوم کو عذاب دیتا اور ان کو رسوا کرتا ہے۔ یہ رسوائی بھی اس کا خاص حصہ ہوتی ہے، اس لیے کہ تکذیب رسول کا اصل محرک، جیسا کہ اپنے مقام میں واضح ہو چکا ہے، استکبار ہے اور اسکتبار کی سزا رسوائی ہے۔
      مظلوم مسلمانوں کی دل داری: ’وَیَنْصُرْکُمْ عَلَیْھِمْ وَیَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ‘ میں ان مسلمانوں کی دل داری ہے جو بے بس و بے کس ہونے کے سبب سے قریش کے شریروں اور سنگ دلوں کے ہاتھوں مکہ میں سنگ دلانہ مظالم کے ہدف بنے تھے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمھارے ہاتھوں ان سنگ دلوں کو اس طرح ذلیل و خوار کرے گا کہ ان کے اس عبرت انگیز انجام کو دیکھ کر ان لوگوں کے کلیجے ٹھنڈے ہو جائیں گے جو اسلام لانے کے جرم میں ان اشقیاء کے ہاتھوں ستائے گئے تھے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اعدائے حق کے خلاف دل میں غم و غصہ کا پایا جانا اور ان کی بربادی پر خوش ہونا ان لوگوں کے لیے بالکل روا ہے جو ان پر حق کی حجت تمام کر کے اپنے فرض سے سبکدوش ہو چکے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی اُن سے لڑو، اللہ تمھارے ہاتھوں سے اُن کو سزا دے گا اور اُنھیں ذلیل و خوار کرے گا اور تمھیں اُن پر غلبہ عطا فرمائے گا اور مومنوں کے ایک گروہ کے کلیجے (اِس سے) ٹھنڈے کرے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ قرآن نے خود صراحت فرما دی ہے کہ پیچھے جس قتل عام کا حکم دیا ہے، وہ درحقیقت خدا کا عذاب ہے جو آخری پیغمبر کے منکرین پر اُس کے ساتھیوں کے ہاتھوں سے نازل کیا جا رہا ہے۔
      یہ اِس لیے فرمایا ہے کہ رسولوں کی تکذیب کا اصلی محرک استکبار ہوتا ہے اور استکبار کی سزا دنیا اور آخرت میں ذلت اور خواری ہی ہے۔
      اُس گروہ کی طرف اشارہ ہے جسے اسلام لانے کے جرم میں برسوں ستایا گیا تھا۔ اُن کی دل داری کے لیے فرمایا ہے کہ جن سنگ دلوں کے ہاتھوں تم مظالم کا ہدف بنے رہے ہو، اب اُن کی سزا کا وقت آگیا ہے۔ مطمئن رہو، یہ سزا ایسی عبرت ناک ہو گی کہ تمھارے سینے اِس سے ٹھنڈے ہو جائیں گے۔

    • امین احسن اصلاحی اور ان کے دلوں کا غم و غصہ دور فرمائے گا اور جن کو چاہے گا اللہ توبہ کی توفیق دے گا۔ اللہ علم و حکمت والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اپنے اعزہ و اقرباء کے ایمان کے آرزو مند مسلمانوں کے لیے بشارت: ’وَیُذْھِبْ غَیْظَ قُلُوْبِھِمْ وَیَتُوْبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ‘۔ ’وَیَتُوْبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ‘ میں ایک لطیف اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ ان لوگوں کے اندر سے ابھی کچھ لوگوں کو توبہ کی توفیق نصیب ہو گی اور وہ ایمان سے مشرف ہوں گے۔ یہ ایک قسم کی خوش خبری ہے ان مسلمانوں کے لیے جو اپنے عزیزوں اور قریبوں کے ایمان کے آرزو مند تھے۔ فرمایا کہ مطمئن رہو۔ اگر اس گھورے میں رلے ملے کچھ اور جواہر ریزے بھی ہوئے تو اللہ ان کو بھی چن لے گا۔ ’عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ‘ اور ’وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ‘ سے اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ فرما دیا ہے جو توفیق توبہ کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے پسند فرمائی ہے اور جس کی وضاحت اس کتاب میں ایک سے زیادہ مقامات میں ہو چکی ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور اُن کے دلوں کا غم و غصہ دور فرمائے گا اور (اِن منکروں میں سے) جن کو چاہے گا، اللہ توبہ کی توفیق بھی دے گا۔ اللہ علیم و حکیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مسلمانوں کا ایک گروہ آرزومند تھا کہ اُن کے اعزہ و اقربا عذاب الٰہی سے دوچار ہونے کے بجاے ایمان لے آئیں۔ یہ اُن کو خوش خبری دی ہے کہ تمھاری یہ آرزو بھی کسی حد تک پوری ہو جائے گی اور اللہ اپنے علم و حکمت کے مطابق جس کو چاہے گا، توبہ اور اصلاح کی توفیق بھی عطا فرمائے گا۔

    • امین احسن اصلاحی کیا تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ یوں ہی چھوڑ دیے جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو چھانٹا ہی نہیں جنھوں نے جہاد کیے اور اللہ و رسول اور مومنین کے سوا کسی کو جنھوں نے دوست نہیں بنایا اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے خوب باخبر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَلِیْجَۃ‘ بطانۃ الانسان وخاصۃ او من یتخذہ معتمدا علیہ من غیر اھلہ‘۔ یعنی محرم راز، دوست اور معتمد۔
      اعلان براء ت مومنین کی تطہیر کے لیے ایک کسوٹی: اوپر ہم اشارہ کر آئے ہیں کہ ہر چند یہاں خطاب باعتبار الفاظ عام ہے لیکن روئے سخن ان مسلمانوں ہی کی طرف ہے جو ابھی اپنے سابق روابط و تعلقات کے بندھنوں سے پوری طرح آزاد نہیں ہوئے تھے اس وجہ سے ان کے لیے یہ اعلان برأت ایک سخت آزمائش بن گیا۔ ان کو خطاب کر کے فرمایا کہ یہ اعلان ایک کسوٹی ہے جو تمہارے کھرے اور کھوٹے میں امتیاز کر دے گی کہ کون لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے اور ایسے بے لاگ ہیں کہ انھیں اللہ، اس کے رسول اور اہل ایمان کے سوا کسی کی دوستی اور قرابت کی کوئی پروا نہیں ہے اور کون لوگ دوسروں کی خاطر اللہ و رسول اور اہل ایمان کو نظرانداز کر دینے والے ہیں۔ یہ امتحان ایک سنت الٰہی ہے جس سے ایمان کا دعویٰ کرنے والوں کو لازماً گزرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کے اعمال سے اچھی طرح باخبر ہے لیکن اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ امتحان کی کسوٹی پر پرکھ کے غث و سمین کو نمایاں اور اہل ایمان کی تطہیر کرتا رہتا ہے۔ اگر تمہارا گمان یہ تھا کہ تم ایمان کا دعویٰ کر کے یوں ہی چھوڑ دیے جاؤ گے تو یہ خیال غلط تھا۔ اب تمہاری جانچ کا مرحلہ آ گیا کہ تم میں کون اللہ و رسول اور اہل ایمان کا وفادار ہے اور کون محض جھوٹا مدعی ہے۔
      اہل ایمان کا دشمن اللہ و رسول کا دشمن ہے: یہاں یہ بات خاص طور پر نگاہ میں رکھنے کی ہے کہ اللہ اور رسول اور اہل ایمان کا ذکر ایک ہی ساتھ ہوا ہے جس سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ اس میں تقسیم کی گنجائش نہیں ہے۔ جو شخص اللہ کا وفادار ہونے کا مدعی ہے اس پر واجب ہے کہ وہ اس کے رسول اور اس پر ایمان لانے والوں کا بھی اپنے آپ کو وفادار ثابت کرے۔ اگر کوئی شخص اہل ایمان کے مقابل میں کسی اور کو اپنا دوست اور معتمد بناتا ہے تو وہ خدا اور رسول کا بھی ساتھی نہیں ہے اگرچہ وہ کتنی ہی بلند آہنگی سے اس کا دعویٰ کرے۔ یہ مضمون نہایت وضاحت سے آگے آیات ۲۳۔۲۴ میں بھی آ رہا ہے۔
      لفظ ’عَلِمَ یَعْلَمُ‘ کے مفہوم پر دوسرے مقام میں بحث ہو چکی ہے۔

      جاوید احمد غامدی کیا تم نے گمان کر رکھا ہے کہ یوں ہی چھوڑ دیے جاؤ گے، دراں حالیکہ اللہ نے اُن لوگوں کو ابھی جانا ہی نہیں جنھوں نے تم میں سے جہاد کیا اور اللہ اور اُس کے رسول اور اُن کے ماننے والوں کے سوا کسی کو دوست نہیں بنایا۔ (یاد رکھو)، جو کچھ تم کر رہے ہو، اللہ اُس سے خوب واقف ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ ابھی جماعت کی تطہیر نہیں ہوئی اور وہ لوگ پوری طرح الگ نہیں ہوئے جو سچے مجاہدین ہوں اور اللہ و رسول اور اُن کے ماننے والوں کے سوا کسی کی دوستی اور قرابت کی پروا نہ کریں۔ اِس وقت جو دینونت برپا ہے، اُس کے لیے اُنھیں الگ کرنا ضروری ہے۔ یہ امتحان اِسی مقصد سے برپا کیا جا رہا ہے، ورنہ خدا کے لیے کچھ مشکل نہ تھا کہ آسمان سے عذاب نازل کرتا اور جن لوگوں سے تمھیں لڑنے کے لیے کہا جا رہا ہے، اُنھیں اُسی طرح صفحۂ ہستی سے مٹا دیتا، جس طرح عاد و ثمود صفحۂ ہستی سے مٹا دیے گئے تھے۔

    • امین احسن اصلاحی مشرکین کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ مساجد الٰہی کا انتظام کریں درآنحالیکہ وہ خود اپنے کفر کے گواہ ہیں۔ ان لوگوں کے سارے اعمال ڈھے گئے اور دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے تو یہی ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      جزوی نیکی اصل مقصود کی قائم مقام نہیں ہو سکتی: اوپر کے پیرے میں مشرکین قریش کے ان جرائم کی طرف اشارے کیے گئے ہیں جو ان کو اعلان براء ت اور جنگ کا سزاوار قرار دیتے ہیں۔ اب یہ تولیت بیت اللہ کے سلسلہ میں ان کی بعض خدمات کا حوالہ دے کر یہ واضح کیا جا رہا ہے کہ ان کی یہ خدمات بالکل بے حقیقت اور بے وزن ہیں۔ ان کی بنیاد پر یہ ہرگز اس بات کے سزاوار نہیں ہیں کہ ان کے ساتھ کوئی رعایت کی جائے۔ کوئی خدمت اور نیکی اس وقت معتبر ہوتی ہے جب وہ اصل مقصود کے تحفظ کے ساتھ ہو۔ اگر اصل مقصد برباد ہو جائے تو کوئی جزوی نیکی اصل مقصود کی قائم مقام نہیں ہو سکتی۔ ایک مسجد کا متولی اگر مسجد کو بت خانہ بنا دے تو مجرد اس بنا پر وہ کسی کریڈٹ کا سزاوار نہیں قرار دیا جا سکتا کہ اس نے مسجد میں پانی اور لوٹے کا انتظام کر رکھا ہے۔ مسجد میں پانی اور لوٹے کا انتظام بجائے خود ایک اچھا کام ہے۔ لیکن ایسا کام نہیں ہے کہ اس کی خاطر کسی کے اس حق کو تسلیم کر لیا جائے کہ وہ مسجد کو بت خانہ بنائے رکھے اور اس کا متولی بنا رہے۔
      یہ امر یہاں ملحوظ رے کہ قریش بھی اپنی ان خدمات پر نازاں تھے اور ان کے دوسرے ہمدرد بھی ان کے ان کاموں کو قابل لحاظ سمجھتے تھے۔ خاص طور پر جب ان کے خلاف اعلان جنگ ہوا تو وہ مسلمان بھی، جو ابھی اچھی طرح یکسو نہیں ہوئے تھے، یہ سوچنے لگ گئے کہ یہ لوگ خانہ کعبہ کے متولی ہیں، اس کی خدمت کرتے ہیں، حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں اس وجہ سے یہ رعایت کے حق دار ہیں، ان کے ساتھ اتنا سخت معاملہ نہیں ہونا چاہیے کہ ان کے آگے یہ دوٹوک فیصلہ رکھ دیا جائے کہ اسلام قبول کریں یا تلوار۔ یہ ذہنیت ایک فاسد ذہنیت تھی جو ایک طرف تو مکذبین رسول کے لیے ایک عذر فراہم کرتی تھی، دوسری طرف اس سے ایک نہایت مکروہ قسم کے نفاق کے پرورش پانے کا امکان تھا اس وجہ سے قرآن نے اس فساد کی اصلاح کی تاکہ ایک غلط تصور دین مسلمانوں کے اندر جڑ نہ پکڑنے پائے۔
      ’مَاکَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰہِ شٰھِدِیْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ بِالْکُفْرِ‘
      قریش کی تولیت بیت اللہ سے معزولی: ’عَمَرَ یَعْمُرُ‘ مکان بنانے، کسی زمین کو آباد کرنے، کسی گھر کو بسانے اور اس کا انتظام کرنے کے معنی میں آتا ہے۔
      ’’مشرکین‘‘ کا لفظ اگرچہ عام ہے لیکن یہاں اس عام سے مراد قریش ہیں جو بیت اللہ کی تولیت کے مدعی تھے۔ نام کی بجائے وصف سے ان کے ذکر کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ یہ حکم عام ہو جائے اور اس کی علت بھی واضح ہو جائے۔
      ’مَسٰجِدَ اللّٰہِ‘ سے مراد اگرچہ مسجد حرام ہی ہے، چنانچہ آیت ۱۹ میں اس کی وضاحت بھی ہو گئی ہے، لیکن اس کو جمع کے لفظ سے تعبیر فرمایا اس لیے کہ مسجد حرام کا معاملہ تنہا مسجد حرام ہی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ تمام مساجد الٰہی کا معاملہ ہے۔ یہی تمام مساجد کی اصل، سب کا مرکز و محور اور سب کا قبلہ ہے۔ اس کے انتظام و انصرام، اس کے مقصد اور اس کی دعوت میں کوئی فساد پیدا ہو جائے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ تمام ہدایت و سعادت اور ساری خیر و برکت کا مرکز ہی درہم برہم ہو گیا۔
      فرمایا کہ مشرکین کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ مسجد حرام کے جو تمام مساجد الٰہی کا مرکز اور قبلہ ہے منتظم بنے رہیں جب کہ وہ خود اپنے کفر کے گواہ ہیں۔ کفر سے مراد یہاں ان کا شرک ہی ہے۔ شرک کو کفر سے تعبیر کر کے دین کی یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ شرک کے ساتھ خدا کو ماننا بالکل اس کے نہ ماننے کے ہم معنی ہے۔ خدا کا ماننا صرف وہ معتبر ہے جو توحید کے ساتھ ہو بالخصوص اس شرک کے ساتھ تو ایمان باللہ کے جمع ہونے کا کوئی امکان ہی نہیں ہے جس کا کھلم کھلا اقرار و اظہار ہو۔ مشرکین عرب کے متعلق یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ان کے ہاں شرک کی نوعیت یہ نہیں تھی کہ ان کے کسی قول یا عمل سے شرک ایک لازمی نتیجہ کے طور پر پیدا ہوتا ہو بلکہ شرک کو بطور دین اور عقیدہ کے انھوں نے اختیار کیا تھا۔ یہ ان کے تصور الوہیت کا ایک غیر منفک حصہ تھا۔ ظاہر ہے کہ جو لوگ اس کفر کے علم بردار ہوں ان کو یہ حق کسی طرح نہیں پہنچتا کہ وہ اس گھر کی تولیت پر، جو دنیا میں توحید اور خالص خدا پرستی کا سب سے پہلا گھر اور تمام مساجد الٰہی کا قبلہ ہے، قابض رہیں۔ ان کا اس گھر کا منتظم بنے رہنا کوئی نیکی نہیں ہے جو ان کے حق میں سفارش بنے بلکہ ایک بہت بڑی بدی ہے جس سے اس گھر کو پاک کرنا اہل ایمان کا اولین فریضہ ہے۔
      شرک کے ساتھ ہر نیکی برباد: ’اُولٰٓءِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ وَفِی النَّارِ ھُمْ خٰلِدُوْنَ‘ ’اعمال‘ سے یہاں ان کے وہی اعمال مراد ہیں جن کو لوگ نیکی اور خدمت دین کے کام شمار کرتے تھے۔ فرمایا کہ ان کے یہ سارے اعمال ڈھے جائیں گے اور یہ لوگ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ شرک کے ساتھ کوئی نیکی بھی نیکی نہیں رہ جاتی۔ خدا کے ہاں صرف وہی نیکی باقی رہتی ہے جو توحید کے ساتھ ہو۔ مذہبی صحیفوں میں مشرک کو زانیہ عورت سے تشبیہ دی گئی ہے۔ جس طرح ایک عورت کا اپنے شوہر کے ساتھ سارا چاؤ پیار بیکار ہے اگر وہ بدکار ہے اسی طرح بندے کا سارا کیا دھرا برباد ہے اگر وہ اپنے رب کا کسی کو شریک ٹھہراتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی (تم اِنھیں بیت اللہ کے متولی سمجھتے ہو اور اِسی بنا پر اُن سے ہم دردی رکھتے ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ) اِن مشرکوں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ اللہ کی مسجد وں۱۵۴؂ کا انتظام کریں، دراں حالیکہ وہ خود اپنے اوپر کفر کے گواہ ہیں۔ اُن کے سارے اعمال ضائع ہو گئے اور وہ ہمیشہ آگ میں رہنے والے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ قرآن کی بلاغت ہے ۔ اِس سے مراد اگرچہ مسجد حرام ہی ہے، لیکن اللہ کی مسجدوں کے الفاظ سے حکم بھی عام ہو گیا ہے اور اُس کی علت بھی پوری طرح واضح ہو گئی ہے۔
      قریش اپنے شرک کا خود اعتراف کرتے تھے۔ اُسی کو یہاں کفر سے تعبیر کیا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ شرک کے ساتھ خدا کو ماننا اُس کو نہ ماننے کے مترادف ہے۔
      اللہ شرک کے ساتھ کسی نیکی کو بھی قبول نہیں کرتا۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ جو اعمال وہ حرم کی خدمت کے لیے کر رہے ہیں، آخرت میں اُن کا کوئی اجر اُن کے لیے باقی نہ رہے گا۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...خدا کے ہاں صرف وہی نیکی باقی رہتی ہے جو توحید کے ساتھ ہو۔ مذہبی صحیفوں میں مشرک کو زانیہ عورت سے تشبیہ دی گئی ہے۔ جس طرح ایک عورت کا اپنے شوہر کے ساتھ سارا چاؤ پیار بے کار ہے، اگر وہ بدکار ہے، اُسی طرح بندے کا سارا کیا دھرا برباد ہے ،اگر وہ اپنے رب کا کسی کو شریک ٹھیراتا ہے۔‘‘(تدبرقرآن۳/ ۵۵۰)

       

    • امین احسن اصلاحی مساجد الٰہی کے انتظام کرنے والے تو بس وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہوں، نماز قائم کرتے ہوں، زکوٰۃ دیتے ہوں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں، یہ لوگ توقع ہے کہ راہ یاب ہونے والے بنیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مساجد الٰہی کی تولیت کے اصلی حق دار: ’اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَی الزَّکٰوۃَ وَلَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰہَ‘۔ اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ بیت اللہ اور مساجد الٰہی کی تولیت کے اصل حق دار کون لوگ ہیں۔ فرمایا کہ صرف وہ لوگ اس کے حق دار ہیں جو اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہوں، جو نماز قائم کریں اور جو زکوٰۃ ادا کریں۔ ظاہر ہے ان تمام صفات کے حامل اگر تھے تو مسلمان تھے نہ کہ مشرکین۔ لیکن مسلمانوں کا نام لینے کے بجائے صرف ان صفات کا ذکر فرمایا جو منصب تولیت کے لیے بنیادی شرائط کی حیثیت رکھتی تھیں تاکہ یہ حقیقت اچھی طرح سے واضح ہو جائے کہ یہ منصب کسی گروہ یا خاندان کا اجارہ نہیں ہے بلکہ یہ تمام تر چند صفات اور فرائض کے ساتھ مشروط ہے۔ اگر یہ صفات مفقود ہوں تو کوئی گروہ اس منصب کا دعوے دار نہیں ہو سکتا۔ ’وَلَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰہَ‘ شرک کی نفی کے لیے ہے یعنی ان کے اندر کسی غیر اللہ کا خوف نہ پایا جاتا ہو۔ ظاہر ہے یہاں خوف سے مراد وہ خوف ہے جو کسی غیر اللہ کو بذات خود نافع و ضار ماننے سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ خوف شرک ہے۔ یہاں شرک کی نفی اس کے اصل محرک کی نفی سے کی ہے۔ ہم اپنی کتاب ’’حقیقت شرک‘‘ میں یہ بات وضاحت سے لکھ چکے ہیں کہ شرک کا اصل سبب یہ خوف ہی ہوتا ہے۔
      فائزالمرام گروہ: ’فَعَسٰٓی اُولٰٓءِکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُھْتَدِیْنَ‘۔ ’اِھتدَاء‘ کا لفظ یہاں ہدایت منزل کے مفہوم میں ہے۔ یعنی جو مذکورہ صفات کے حامل ہوں گے انہی کے باب میں یہ توقع ہے کہ وہ منزل پر پہنچیں اور بامراد و فائزالمرام ہوں۔ لفظ کے اس مفہوم کی وضاحت ہم دوسرے مقام میں کر چکے ہیں۔ اس بات کو ’عَسٰی‘ کے لفظ سے تعبیر کرنے میں یہ اشارہ ہے کہ یہ راہ کوئی آسان راہ نہیں ہے۔ اس میں قدم قدم پر مشکلات اور آزمائشیں ہیں صرف وہی لوگ جادۂ مستقیم پر استوار رہ سکتے ہیں جن کے پاس توفیق الٰہی کا زاد راہ ہو اور جن کو خدا سے استعانت کا سہارا حاصل ہو۔

      جاوید احمد غامدی اللہ کی مسجدوں کا انتظام کرنے والے تو وہی لوگ ہو سکتے ہیں جو اللہ اور روز آخر کو مانتے ہوں، نماز کا اہتمام کرتے ہوں، زکوٰۃ دیتے ہوں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں۔ یہ لوگ، توقع ہے کہ راہ یاب ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اُن کے اندر کسی غیر اللہ کا خوف نہ ہو۔ یہ شرک کے اصلی محرک سے اُس کی نفی کی ہے۔ مدعا یہ ہے کہ حرم کی تولیت، بے شک اولاد ابراہیم کے سپرد کی گئی ہے، مگر اِس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اُن صفات کے حامل بن کر رہیں جو اِس منصب کے لیے بنیادی شرائط کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اِن میں اہم ترین شرط یہ ہے کہ وہ خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھیرائیں۔
      اصل میں لفظ ’اِھْتِدَآء‘استعمال ہوا ہے۔ یہ ہدایت منزل کے مفہوم میں ہے۔ یعنی کامیابی کے ساتھ اُس منزل تک پہنچیں گے جو آخرت میں اُن کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ آیت میں ’عَسٰی‘کا لفظ بھی قابل توجہ ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...اِس بات کو ’عَسٰی‘ کے لفظ سے تعبیر کرنے میں یہ اشارہ ہے کہ یہ راہ کوئی آسان راہ نہیں ہے۔ اِس میں قدم قدم پر مشکلات اور آزمایشیں ہیں۔ صرف وہی لوگ جادۂ مستقیم پر استوار رہ سکتے ہیں جن کے پاس توفیق الٰہی کا زادراہ ہو اور جن کو خدا سے استعانت کا سہارا حاصل ہو۔‘‘ (تدبرقرآن۳/ ۵۵۰)

       

    • امین احسن اصلاحی کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کے انتظام کو ان لوگوں کے عمل کے ہم رتبہ کر دیا ہے جو اللہ اور آخرت پر ایمان لائے اور جنھوں نے اللہ کی راہ میں جہاد کیے۔ اللہ کے نزدیک یہ دونوں برابر نہیں ہوں گے۔ خدا ظالموں کو راہ یاب نہیں کرے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مشرکین کی خدمت بیت اللہ بے ثمر: ’اَجَعَلْتُمْ سِقَایَۃَ الْحَآجِّ وَعِمَارَۃَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَجٰھَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ‘ ’کَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ‘ میں مضاف محذوف ہے جس طرح ’وَلٰکِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ‘ میں محذوف ہے۔ مخاطب وہی لوگ ہیں جو حرم کی تولیت اور اس سے متعلق بعض خدمات، مثلاً حجاج کے لیے پانی کے انتظام کی خدمت، کی بنا پر مشرکین قریش کو دوسروں کے مقابل میں ایک امتیاز کا درجہ دے کر ان کو مستحق رعایت خیال کرتے تھے۔ فرمایا کیا حاجیوں کو پانی پلا دینا اور مسجد حرام کا الٹا سیدھا کچھ انتظام کر دینا ایمان باللہ والآخرۃ اور جہاد فی سبیل اللہ کا قائم مقام ہو سکتا ہے؟ ’لَایَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰہِ‘ اگر تم ان کاموں کو یکساں سمجھتے ہو تو سمجھو لیکن خدا کے ہاں یہ دونوں قسم کے لوگ یکساں نہیں ہوں گے۔ ’وَاللّٰہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ‘ خدا ان مشرکوں کو بامراد نہیں کرے گا۔ ظلم سے مراد یہاں شرک ہے اور ’ہدایت‘ سے مراد مطلوب و مقصود کی ہدایت ہے۔ اوپر ہم واضح کر چکے ہیں کہ شرک کے ساتھ جو کام نیکی کے کیے جاتے ہیں وہ نقش بر آب ہوتے ہیں۔ خدا کے ہاں وہ بالکل لا حاصل ہو کر رہ جائیں گے اور ان کی بنا پر جو امیدیں باندھی جائیں گی ان سب کا نتیجہ نامرادی کی شکل میں نکلے گا۔

      جاوید احمد غامدی کیا تم نے حاجیوں کے پانی پلانے اور مسجد حرام کا انتظام کر دینے کو اُن لوگوں کے برابر کر دیا ہے جو اللہ اور روز آخر پر ایمان لائے اور جنھوں نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہے۔ اللہ کے نزدیک یہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ (حقیقت یہ ہے کہ مسجد حرام کے اِن مجاوروں نے اپنے اوپر ظلم ڈھایا ہے) اور (اب) اللہ اِن ظالموں کو راہ یاب نہیں کرے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اُس منزل تک پہنچائے گا جو آخرت میں اہل ایمان کی منزل ہے۔

    • امین احسن اصلاحی جو ایمان لائے، جنھوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جنھوں نے اپنے جان و مال سے جہاد کیا، ان کا درجہ اللہ کے ہاں بڑا ہے اور وہی لوگ فائز المرام ہونے والے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      فائز المرام صرف اہل ایمان ہوں گے: ’اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَھَاجَرُوْا وَجٰھَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِھِمْ وَاَنْفُسِھِمْ اَعْظَمُ دَرَجَۃً‘ ’اَعْظَمُ دَرَجَۃً‘ یہاں تقابل کے لیے نہیں بلکہ تفخیم شان کے لیے ہے۔ یعنی ایمان، ہجرت اور جہاد والوں کا مرتبہ اللہ کے ہاں بہت اونچا ہے۔ جس طرح سورۂ بقرہ میں ارشاد ہوا ہے:

      ’وَالَّذِیْنَ اتَّقَوْا فَوْقَھُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ‘ (۲۱۲)
      (جو لوگ تقویٰ اختیار کریں گے قیامت کے دن ان پر بالا ہوں گے)

      اس اسلوب میں یہاں اہل ایمان کے درجے کی عظمت کفار کے درجے سے قطع نظر کر کے بتائی گئی ہے۔ کفار کا جو حال ہو گا وہ ’اُولٰٓءِکَ حَبِطَتْ اَعْمَالُھُمْ وَفِی النَّارِ ھُمْ خٰلِدُوْنَ‘ سے واضح ہو ہی چکا ہے ’وَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْفَآءِزُوْنَ‘ بالکل ’وَاللّٰہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ‘ کے مقابل میں ہے یعنی کفار و مشرکین تو آخرت میں بالکل نامراد رہیں گے البتہ اہل ایمان فائزالمرام اور بامراد ہوں گے۔

       

      جاوید احمد غامدی اللہ کے ہاں اُن لوگوں کا درجہ بڑا ہے جو ایمان لائے اور جنھوں نے ہجرت کی اور اپنے جان و مال سے خدا کی راہ میں جہاد کیا۔ وہی کامیاب ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ تقابل کے لیے نہیں ، بلکہ تفخیم شان کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اُن کا درجہ اللہ کے ہاں بہت اونچا ہے۔

    Join our Mailing List