Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 75 آیات ) Al-Anfal Al-Anfal
Go
  • الانفال (The Spoils of War)

    75 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود

    سورۂ انفال دوسرے گروپ کی تیسری سورہ ہے۔ یہ مدنی ہے۔ اس میں مسلمانوں کو تقویٰ، باہمی اخوت و ہمدردی اور اللہ و رسول کی اطاعت کی اساس پر منظم اور جہاد کے لیے تیار ہونے کی دعوت دی گئی ہے تاکہ وہ اس ملت ابراہیمیؑ اور مرکز ملت ابراہیمیؑ ۔ بیت اللہ ۔ کی امانت و تولیت کے اہل ہو سکیں جو اب قریش کی جگہ ان کی تحویل میں دی جانے والی ہے۔

    پچھلی دونوں سورتوں ۔۔۔ انعام اور اعراف ۔۔۔ میں آپ نے دیکھا کہ قریش کو عقائد، اعمال اور اخلاق، ہر پہلو سے اس امانت کے لیے نااہل ثابت کر دیا ہے۔ اب اس سورہ میں مسلمانوں کی تطہیر و تنظیم، ان کی اصلاح اور تزکیہ کی طرف توجہ فرمائی ہے۔ اس کا آغاز اس طرح ہوا ہے کہ غزوۂ بدر کے دوران میں بعض کمزور مسلمانوں کی طرف سے جو کمزوریاں، اللہ و رسول کی اطاعت اور ایمان و توکل کے منافی، صادر ہوئی تھیں، ان پر پہلے گرفت فرمائی ہے کہ مسلمان اپنے آپ کو ان کمزوریوں سے پاک کریں۔ پھر ان غیبی تائیدات کی طرف اشارہ فرمایا جو غزوۂ بدر کے دوران میں ظاہر ہوئیں تاکہ مسلمانوں کا اعتماد اللہ پرمضبوط ہو اور جو لوگ ابھی پوری طرح یکسو نہیں ہوئے ہیں وہ یکسو ہو کر آگے کے مراحل کے تقاضے پورے کرنے کے اہل ہو سکیں۔ پھر مسلمانوں کو اللہ کی راہ میں جہاد پر ابھارا ہے اور یہ وعدہ فرمایا ہے کہ اگر انھوں نے کمزوری نہ دکھائی تو جلد وہ وقت آنے والا ہے کہ حریف کی سازشوں کے سارے تار و پود بکھر جائیں گے۔ بیچ بیچ میں قریش کو بھی تنبیہ فرمائی ہے کہ بدر کے واقعہ میں تمہارے لیے بڑا سبق ہے، تمہارے لیے اب بہتر یہی ہے کہ اس سے فائدہ اٹھاؤ ورنہ یاد رکھو کہ اگر تم نے مزید کوئی شرارت کی تو پھر منہ کی کھاؤ گے، اب تک تمہارے ساتھ جو رعایت ہوئی ہے اس کی وجہ یہ تھی کہ رسولؐ تمہارے اندر موجود تھا۔ سنت الٰہی یہ ہے کہ جب تک رسولؐ قوم کے اندر موجود رہتا ہے اس وقت تک قوم پر عذاب نہیں آتا لیکن اب جب کہ رسول تمہارے اندر سے ہجرت کر چکا ہے، تمہاری امان اٹھ چکی ہے اور تم ہر وقت عذاب الٰہی کی زد میں ہو۔ تمہارا یہ غرہ بالکل بے جا ہے کہ تم بیت اللہ کے متولی اور مجاور ہو، بیت اللہ کے متولی ہونے کے اہل تم نہیں ہو، تم نے ابراہیمؑ کے بنائے ہوئے اس گھر کا مقصد بالکل برباد کر کے رکھ دیا اور اس کی حرمت کو بٹہ لگایا، تم جس نماز اور عبادت کے مدعی ہو یہ نماز عبادت نہیں بلکہ محض مذاق ہے، تمہارے لیے سلامتی کی راہ یہ ہے کہ تم توبہ اور اصلاح کی روش اختیار کرو ورنہ یاد رکھو کہ اب اس حرم کی سرزمین پر نہ اہل ایمان پر عرصۂ حیات تنگ کرنے کا کوئی موقع باقی چھوڑا جائے گا اور نہ اللہ کے دین کے سوا یہاں کوئی اور دین باقی رہنے دیا جائے گا۔

    آگے بدر کے واقعات ہی کی روشنی میں مسلمانوں کی حوصلہ افزائی اور کفار کو تنبیہ کرتے ہوئے بات ان اعتراضات کے جواب تک پہنچ گئی ہے جو قریش نے بدر میں شکست کھانے کے بعد لوگوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بدگمان کرنے کے لیے اٹھائے۔ بدر سے پہلے تک تو وہ مسلمانوں کی کمزوری و مجبوری کو اسلام کے خلاف دلیل کے طور پر پیش کرتے تھے لیکن بدر میں انہی کمزور مسلمانوں کے ہاتھوں جب پٹ گئے تو یہ کہنا شروع کر دیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پیغمبر کس طرح ہو سکتے ہیں، بھلا پیغمبر کا کہیں یہ کام ہوتا ہے کہ اپنی ہی قوم کو باہم لڑا دے۔ اپنے ہی بھائیوں کو قتل کرائے، پھر ان کو قید کرے، ان سے فدیہ وصول کرے اور ان کا مال و اسباب غنیمت بنا کر کھائے اور کھلائے؟ اس اعتراض سے بھی کمزور قسم کے لوگوں کے دلوں میں شبہات پیدا ہو سکتے تھے اس وجہ سے قرآن نے ان کو بھی صاف کیا اور آخر میں انصار اور مہاجرین کو باہمی اخوت کی تعلیم و تلقین فرمائی کہ دونوں مل کر کفر کے مقابلہ میں بنیان مرصوص بن کر کھڑے ہوں۔

    اگرچہ سورہ کا نظام سمجھنے کے لیے یہ اجمالی نظر بھی کافی ہے لیکن ہم مزید وضاحت کے لیے سورہ کے مطالب کا تجزیہ بھی کیے دیتے ہیں۔

  • الانفال (The Spoils of War)

    75 آیات | مدنی
    الانفال ——- التوبۃ

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں جس آخری دینونت کے لیے تیاری اور مسلمانوں کے تزکیہ و تطہیر کی ہدایات دی گئی ہیں، دوسری اُسی کے ظہور کا بیان ہے۔ دونوں کے مخاطب اہل ایمان ہیں اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ مدینۂ طیبہ میں یہ دونوں سورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ جزا و سزا میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ— الانفال— کا موضوع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکرین کے خلاف آخری اقدام کی تیاری اور اِس کے لیے مسلمانوں کا تزکیہ وتطہیر ہے۔

    دوسری سورہ— التوبہ— کا موضوع اِنھی منکرین کے لیے، خواہ وہ کھلے منکر ہوں یا منافقین، خدا کی آخری دینونت کا ظہور ہے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی وہ تم سے غنیمتوں کے بابت سوال کرتے ہیں، ان کو بتا دو کہ غنیمتیں اللہ اور رسول کے لیے ہیں، پس اللہ سے ڈرتے رہو، اپنے باہمی تعلقات کی اصلاح اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اگر تم سچے مومن ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الْاَنْفَالِ
      لفظ انفال کی تحقیق: ’انفال‘، نفل کی جمع ہے، اس کے معنی اضافہ اور زیادتی کے ہیں۔ جو چیز کسی کو اس کے حق سے زیادہ دی جائے تو جتنی حق سے زیادہ دی گئی وہ نفل ہے۔ اسی طرح اگر کسی نے حق واجب سے زیادہ ادا کیا تو اس حصہ مزید کو ’نفل‘ کہیں گے۔ یہاں انفال سے اس مال غنیمت کو تعبیر کیا گیا ہے جو راہ خدا میں جہاد کرنے والوں کو مفتوح دشمن سے میدان جنگ میں حاصل ہوتا ہے۔ اس تعبیر میں یہ لطیف اشارہ ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے دشمن سے جو مال غنیمت حاصل کرتے ہیں اس کی حیثیت ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نفل مزید اور انعام مزید کی ہے اس لیے کہ جہاد کا جو اجر ہے وہ اس سے بالکل الگ مستقلاً اللہ کے ہاں دائمی اور بے پایاں اجر کی شکل میں محفوظ ہو جاتا ہے۔
      غنیمت سے متعلق سوال کی نوعیت: سوال، جیسا کہ ہم بقرہ کی تفسیر میں واضح کر چکے ہیں، بعض اوقات اعتراض کی نوعیت کا بھی ہوتا ہے، خواہ وہ الفاظ سے ظاہر ہو یا اس کے اندر مضمر ہو۔ یہاں قرینہ دلیل ہے کہ اسی نوعیت کے سوال کا حوالہ ہے۔ یہ سوال، جیسا کہ اوپر ہم نے اشارہ کیا، غزوۂ بدر میں حاصل شدہ مال غنیمت سے متعلق ہے۔ اس سے پہلے مسلمانوں کو کفار سے نہ تو کوئی منظم جنگ پیش آئی تھی نہ مال غنیمت اور اس کی تقسیم کا سوال پیدا ہوا تھا۔ ۲ھ  میں یہ جنگ پیش آئی جس میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح بھی شان دار عطا فرمائی اور مال غنیمت بھی ان کو کافی مقدار میں حاصل ہوا۔ جاہلیت میں تو دستور یہ تھا کہ جو جتنا مال جنگ میں لوٹے وہ اس کا حق دار ہے ۔ اسی دستور کی بنا پر بعض لوگوں نے، خاص طور پر کمزور قسم کے مسلمانوں نے ایسے سوالات اٹھائے جن سے یہ بات نمایاں ہوئی کہ تقویٰ، باہمی خیر خواہی، اطاعت اللہ و رسول کی وہ روح جو سچے ایمان کا تقاضا ہے ابھی ایک گروہ کے اندر اچھی طرح پختہ نہیں ہوئی ہے۔ اگرچہ یہ سوال، جیسا کہ قرائن سے واضح ہے، کچھ خاص افراد ہی کی طرف سے اٹھایا گیا لیکن اسلامی معاشرہ کے اندر اس سے ایک بڑی خامی کی نشان دہی ہوئی تھی اس وجہ سے قرآن نے مسلمانوں کی تطہیر و تنظیم کی اس سورہ کا آغاز اسی واقعہ سے کیا کہ

      سرچشمہ شاید گرفتن بہ میل
      چوپر شد نشاید گزشتن بہ پیل

      اور اس کا ذکر بھی عام صیغہ سے کیا تاکہ کسی خاص گروہ کی پردہ دری نہ ہو بلکہ تمام مسلمان بحیثیت مجموعی اس تعلیم کو قبول کریں اور اپنے اندر کسی ایسے رجحان کو نشوونما نہ پانے دیں جو تقویٰ و توکل، باہمی ہمددردی اور اطاعت اللہ و رسول کے خلاف ہو۔
      جس قسم کے سوال کی طرف قرآن نے یہاں اشارہ کیا ہے اس کی تفصیل تاریخ و سیرت کی کتابوں میں موجود ہے۔ ابن ہشام میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ سے فارغ ہونے کے بعد حکم دیا کہ فوج کے لوگوں نے جتنا مال غنیمت جمع کیا ہے سب اکٹھا کیا جائے چنانچہ و ہ سب اکٹھا کیا گیا۔ اب لوگوں میں اختلاف ہوا کہ یہ کس کا حق ہے؟ جن لوگوں نے جمع کیا تھا وہ مدعی ہوئے کہ یہ ہمارا حق ہے، اگر ہم نہ ہوتے تو یہ مال حاصل نہ ہوتا، ہم نے دشمن کو مار بھگایا اس وجہ سے یہ ہاتھ لگا۔ اسی طرح جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت پر تھے انھوں نے کہا کہ ہم بھی سب کچھ کر سکتے تھے، لڑ بھی سکتے تھے، غنیمت بھی جمع کر سکتے تھے لیکن ہم نے رسول اللہ کی حفاظت کے کام کو دسرے تمام کاموں پر مقدم رکھا اس وجہ سے مال غنیمت میں دوسرے لوگ ہم سے زیادہ حق دار نہیں ہو سکتے۔ غرض مختلف سوالات اٹھ کھڑے ہوئے جن سے لوگوں کے اندر دبی ہوئی بعض کمزوریاں سامنے آ گئیں اور حکمت الٰہی مقتضی ہوئی کہ ان کمزوریوں کا برسر موقع علاج ہو جائے تا کہ یہ مزید بڑھنے نہ پائیں۔
      سوالات کا اصولی جواب: ’قُلِ الْاَنْفَالُ لِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِ‘۔ یہ ان تمام سوالات کا جامع اور اصولی جواب ہے کہ ان کو بتا دو کہ اموال غنیمت اللہ اور رسول کی ملک ہیں۔ ’اللہ و رسول کی ملک‘ قرآن میں اجتماعی ملکیت کی تعبیر ہے۔ اس اصولی جواب نے اموال غنیمت کے باب میں اس جاہلی دستور کا خاتمہ کر دیا جو اب تک رہا تھا اور جس کی بنا پر ہی وہ سوالات پیدا ہوئے تھے جو اوپر مذکور ہوئے۔ گویا اموال غنیمت میں استحقاق کی بنیاد یہ نہیں ہو گی کہ کس نے جمع کیا، کس نے بالفعل جنگ کی، کس نے پہرہ دیا بلکہ اس میں سب مجاہدین، بلالحاظ اس کے کہ کس کی خدمت کی نوعیت کیا رہی ہے، شریک ہوں گے اور دوسرے مسلمانوں کا بھی اس میں حصہ ہوگا۔ یہاں یہی اصولی جواب دے کر کلام کا رخ ان خامیوں کی اصلاح کی طرف مڑ گیا ہے جو اس واقعہ سے نمایاں ہوئی تھیں۔ پھر آگے چل کر آیت ۴۱ میں اس اجمال کی تفصیل بھی فرما دی کہ اس کا کتنا حصہ مجاہدین پر تقسیم ہو گا اور کتنا حصہ دوسرے مسلمانوں کے حق کی حیثیت سے بیت المال میں جمع ہو گا۔
      مسلمانوں کی اجتماعی شیرازہ بندی کی بنیاد: ’فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَاَصْلِحُوْا ذَاتَ بَیْنِکُمْ‘ جس طرح تقویٰ اور پاس رِحم کو سورۂ نساء میں تمام خاندانی و معاشرتی صلاح و فلاح کی اساس ٹھہرایا ہے۔ اسی طرح یہاں تقویٰ اور اصلاح ذات البین کو مسلمانوں کی اجتماعی شیرازہ بندی کی بنیاد قراردیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اموال غنیمت اصلاً اللہ اور رسول کی ملکیت ہیں تو اللہ و رسول جس طرح ان کو تقسیم کریں پوری خوش دلی اور رضا مندی سے اس کو قبول کرو۔ نہ اللہ کے حکم سے متعلق دل میں کوئی بدگمانی یا رنجش پیدا ہو اور نہ اپنے دینی بھائیوں کے خلاف کوئی رشک و حسد کا جذبہ ابھرے کہ فلاں اور فلاں کو اس مال میں کیوں شریک بنا دیا گیا؟ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ ان کے باہمی تعلقات کی بنیاد اخوت، رحم اور محبت پر ہے۔ یہ ’رُحَمَاءُ بَیْنَھُمْ‘ کا گروہ ہے، ان کے اندر حسد، رقابت، خود غرضی اور نفسا نفسی کی حالت اس ایمان اور تقویٰ کے منافی ہے جس کو انھوں نے اختیار کیا ہے۔ جن کے اندر ابھی کو ئی کانٹا اپنے دینی بھائیوں کے خلاف موجود ہے وہ اس کو نکال ڈالیں اور اپنے دامن دل کو ہر قسم کے غبار سے پاک و صاف کر لیں۔
      ایمان باللہ کا لازمی تقاضا: ’وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٓ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ‘ یہ ’ایمان باللہ‘ کا اصل تقاضا بیان ہوا کہ جو لوگ اللہ و رسول پر ایمان کے مدعی ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ اللہ و رسول کے ہر حکم کی اطاعت کریں۔ یہ بات ایمان کے منافی ہے کہ اللہ و رسول کا کوئی حکم اپنی خواہشات نفس کے خلاف ہو تو اس کے خلاف بغاوت کا جذبہ ابھرے یا اس سے متعلق دل میں کوئی رنجش یا بدگمانی جگہ پائے۔ ’اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ‘ کے الفاظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ جو لوگ ایمان کا دعویٰ رکھتے ہیں وہ ایمان کی اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ جنھوں نے ایمان کی یہ حقیقت نہیں سمجھی ہے ان کا دعوائے ایمان بالکل بے حقیقت ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی وہ تم سے غنائم کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ اِنھیں بتا دو کہ یہ سب غنائم اللہ اور اُس کے رسول کے ہیں۔ اِس لیے اللہ سے ڈرو، (اِس معاملے میں کوئی نزاع پیدا نہ کرو اور) اپنے آپس کے معاملات کی اصلاح کر لو اور اللہ اور اُس کے رسول کا حکم مانو، اگر تم مومن ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      آیت میں لفظ ‘اَلْاَنْفَال’ آیا ہے۔ ‘نفل’ اُس چیز کو کہتے ہیں جو حق سے زیادہ حصۂ مزید کے طور پر دی جائے۔ اِس تعبیر میں یہ لطیف اشارہ ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کا اجر تو اُس کے ہاں بالکل الگ اور دائمی طور پر محفوظ ہو جاتا ہے، اِس کے ساتھ جو مال غنیمت دشمن سے حاصل ہوتا ہے، وہ ایک حصۂ مزید ہے۔ قیامت سے پہلے وہ اللہ تعالیٰ اِسی دنیا میں مجاہدین کو عطا کر دیتے ہیں۔
      یہ سوال اعتراض کی نوعیت کا ہے اور غزوئہ بدر میں حاصل ہونے والے مال غنیمت سے متعلق پیدا ہوا ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں دستور تھا کہ جو جتنا مال جنگ میں لوٹے، وہ اُسی کا حق ہے۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بدر کے بعد جب لوٹنے والوں سے دوسروں نے جنگی خدمات کی بنا پر اپنے حق کا مطالبہ کیا تو اُس سے ایک نزاع پیدا ہو گئی جس نے کسی حد تک تلخی کی صورت اختیار کر لی۔یہ سوال اِسی پس منظر میں اور مسلمانوں کے ایک گروہ کی طرف سے کیا گیا ہے۔*
      یعنی اِس وقت جو غنائم حاصل ہوئے ہیں، اُن کے متعلق خدا کا فیصلہ یہ ہے کہ اُن پر کسی شخص کا بھی کوئی حق قائم نہیں ہوتا۔ یہ سب اللہ اور رسول کا ہے اور وہ اِس کے ساتھ جو معاملہ چاہیں گے، اپنی صواب دید کے مطابق کریں گے۔ یہ فیصلہ اِس لیے کیا گیا کہ زمانۂ رسالت کی جنگیں زیادہ تر اللہ تعالیٰ کے قانون اتمام حجت کے تحت لڑی گئی تھیں اور اِن میں لڑنے والوں کی حیثیت اصلاً آلات و جوارح کی تھی۔ وہ اللہ کے حکم پر میدان میں اترے اور براہ راست اُس کے فرشتوں کی مدد سے فتح یاب ہوئے تھے۔ لہٰذا اِن جنگوں کے مال غنیمت پر اُن کا کوئی حق اللہ تعالیٰ نے تسلیم نہیں کیا، تاہم آگے جا کر بتا دیا ہے کہ اِس کے باوجود یہ سارا مال نہیں، بلکہ اِس کا پانچواں حصہ ہی اجتماعی مقاصد کے لیے خاص رہے گا اور باقی ازراہ عنایت مجاہدین میں تقسیم کر دیا جائے گا۔
      مطلب یہ ہے کہ بحث و اختلاف کی گرما گرمی میں اگر کوئی بدگمانی یا رنجش پیدا ہو گئی ہے یا اپنے بھائیوں کے بارے میں رشک و حسد کے جذبات کسی کے دل میں ابھرے ہیں کہ فلاں اور فلاں کو اِس مال میں کیوں شریک بنایا گیا ہے، تو اپنی اصلاح کر لو۔ تم سب بھائی بھائی ہو۔ تمھارے تعلقات اخوت، رحم اور محبت کی بنیاد پر قائم ہونے چاہییں۔ یہ ایمان و تقویٰ کے منافی ہے کہ تمھارا دامن دل حسد، رقابت اور خود غرضی کے غبار سے آلودہ ہو، اِسے پاک صاف کر لو۔
      _____
      * السیرۃ النبویہ، ابن ہشام ٢/ ٥٧٠۔

    • امین احسن اصلاحی مومن تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے ان کے دل دہل جائیں اور جب اس کی آیتیں ان کو سنائی جائیں تو وہ ان کے ایمان میں اضافہ کریں اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      سچے اہل ایمان کے اوصاف: ’اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ ............‘ اب یہ حقیقی ایمان اور سچے اہل ایمان کے اوصاف بیان ہو رہے ہیں۔ گویا ’اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ‘ کے الفاظ ہیں جن کمزور قسم کے لوگوں کی طرف اشارہ تھا ان کے سامنے سچے اہل ایمان کی تصویر رکھ دی گئی کہ اگر ایمان کا دعویٰ ہے تو اپنے اندر یہ اوصاف پیدا کرو۔ ان صفات کے بدوں یہ دعویٰ کسی کو زیب نہیں دیتا۔
      ایمان کی پہلی علامت: ’اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُھُمْ وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْہِمْ اٰیٰتُہ زَادَتْھُمْ اِیْمَانًا‘۔ ان کی پہلی علامت یہ بتائی ہے کہ ان کے اندر خدا کی عظمت و کبریائی اور اس کی جلالت کا شعور ہوتا ہے۔ اس وجہ سے وہ خدا سے برابر ڈرتے رہتے ہیں۔ جب ان کے سامنے خدا کا نام آ جائے، جب ان کو اس کی یاددہانی کی جائے، جب ان کے سامنے کوئی بات خدا کی بات کی حیثیت سے پیش کی جائے، وہ اس کو خوف و خشیت کے گہرے احساس کے ساتھ سنتے ہیں۔ گویا ایمان کا پہلا تقاضا خدا کا خوف ہے جو اس کی عظمت و جلالت اور اس کی صفات عدل و حکمت و ربوبیت و رحمت کے صحیح تصور سے پیدا ہوتا ہے اور اسی سے وہ تقویٰ وجود میں آتا ہے جس کی اوپر ’وَتَّقُوا اللّٰہ‘ کے الفاظ سے ہدایت فرمائی گئی ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ خدا کی رحمت و ربوبیت بھی، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کر چکے ہیں، خدا کے عدل اور اس کے روز جزا کو مستلزم ہیں، اس وجہ سے ان صفات کا صحیح تصور بھی بندے کو خدا سے بے خوف نہیں بناتا بلکہ اس کے خوف کو بڑھاتا ہے اور اس خوف کی بنیاد خدا کی محبت پر ہوتی ہے۔
      ایمان کی دوسری علامت: دوسری علامت یہ بتائی کہ جب اللہ کی آیات ان کو سنائی جاتی ہیں یہ ان کے ایمان کو بڑھاتی ہیں۔ قرینہ دلیل ہے کہ یہاں آیات سے مراد خدا کے احکام اور اس کے قوانین ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ خدا پر ایمان کے بعد ان کو سب سے زیادہ مرغوب و مطلوب خدا کی پسند و ناپسند اور اس کی مرضیات و احکام کا علم ہوتا ہے اور یہ علم ان کی دولت ایمان میں اضافہ کرتا ہے۔ ایمان کی مثال جڑ کی ہے اور آداب و احکام اور قوانین و شرائع کی حیثیت اس جڑ سے پھوٹی ہوئی شاخوں اور ان سے ظہور میں آئے ہوئے برگ و بار کی۔ گویا پوری شریعت، ایمان ہی کا مظہر اور اسی کے مضمرات کی تفصیل ہوئی۔
      ’زَادَتْھُمْ اِیْمَانًا‘ کے اسلوب بیان سے یہ بات نکلتی ہے کہ جن کے اندر ایمان موجود ہوتا ہے جب ان کے سامنے ایمان کے مقتضیات و مطالبات آتے ہیں تو وہ پوری بشاشت سے ان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ وہ ان مقتضیات و مطالبات کو اپنے ہی لگائے ہوئے درخت کا پھل اور اپنی ہی بوئی ہوئی کھیتی کا حاصل سمجھتے ہیں اور جس طرح ہر کسان اپنی کھیتی کے حاصل اور اپنے درخت کے پھلوں میں افزونی دیکھ کر باغ باغ ہوتا ہے اسی طرح یہ اہل ایمان بھی اپنے ایمان کی یہ افزائش دیکھ کر شادمان ہوتے ہیں۔ یہ گویا ان مدعیان ایمان پر ایک لطیف تعریض ہوئی جو ایمان کا دعویٰ کرنے کو تو کر بیٹھے لیکن جب اس کے مطالبے سامنے آئے تو ان سے خوش ہونے کے بجائے ان کی پیشانیوں پر بل پڑ گئے کہ یہ کیا بلا نازل ہو گئی۔
      ایک نکتہ: یہ نکتہ بھی یہاں ملحوظ رہے کہ ایمان کے اقرار کے بعد اس کے مطالبات میں سے بڑا یا چھوٹا جو مطالبہ بھی اہل ایمان کے سامنے آتا ہے وہ ان کے لیے آزمائش و امتحان کا ایک میدان کھولتا ہے اور جو سچے اہل ایمان ہوتے ہیں وہ اس امتحان سے گھبرانے کی بجائے اس میں بازی جیتنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ کوشش ان کی مومنانہ فتوت کا ایک فطری تقاضا ہوتی ہے۔ جس کے بروئے کار آنے سے ان کے لیے ہر امتحان فتح مندی کا ایک نیا دروازاہ کھولتا ہے جس سے ان کا ایمان قوی سے قوی تر ہوتا جاتا ہے۔ اسی حقیقت کی طرف سورۂ احزاب میں یوں اشارہ فرمایا گیا ہے

      وَلَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ قَالُوْا ھٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَرَسُوْلُہ وَصَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہ وَمَا زَادَھُمْ اِلَّآ اِیْمَانًا وَّتَسْلِیْمًا (۲۲۔ احزاب)
      (اور جب مومنوں نے پارٹیوں کے ہجوم کو دیکھا تو بولے، یہ تو وہی صورت حال سامنے آئی ہے جس سے اللہ و رسول نے پہلے ہی ہمیں خبردار کر دیا تھا، اور اس چیز نے ان کے ایمان و اطاعت میں اضافہ ہی کیا)

      ایمان کی تیسری علامت: ’وَّعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ‘ یہ ان کی تیسری علامت بیان ہوئی ہے کہ وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے یعنی ایمان کے مطالبے، خواہ سخت ہوں یا نرم، ان سے دنیوی مفادات کو نقصان پہنچے یا نفع، ان کی خاطر تعلقات ٹوٹیں یا جڑیں وہ بہرحال دین و دنیا کی فلاح اپنے رب کے احکام کی تعمیل ہی میں سمجھتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایمان کی راہ میں انھیں اپنے سر بھی کٹوانے پڑ جاتے ہیں تو وہ یہی یقین رکھتے ہیں کہ حیات جاوداں کے حصول کی راہ یہی ہے۔ ان کو اپنے رب پر پورا بھروسہ ہوتا ہے کہ اس نے جو حکم بھی ان کو دیا ہے اور جس آزمائش میں بھی ان کو ڈالا ہے اس میں سرتاسر انہی کی فلاح ہے۔ اپنے بندوں کے ساتھ خدا کا کوئی معاملہ بھی حکمت و مصلحت اور رحمت و برکت سے خالی نہیں۔ اس ٹکڑے میں بھی ان خام کاروں پر تعریض ہے جو دین کے مطالبات کو اپنے مفادات کی میزان میں تولنے کے خواہش مند تھے اور وہ باتیں ان کو بالکل بے مصلحت نظر آتی تھیں جن کو وہ اپنی خواہشات کے خلاف پاتے تھے۔

       

      جاوید احمد غامدی (یاد رکھو)، اہل ایمان تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو اُن کے دل دہل جاتے ہیں اور جب اُس کی آیتیں اُنھیں سنائی جاتی ہیں تو اُن کا ایمان بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے رب پر بھروسا رکھتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہاں سے آگے سچے اہل ایمان کی تصویر ہے جو اُن لوگوں کے سامنے رکھی گئی ہے جنھیں ‘اگر تم مومن ہو’ کے الفاظ میں خطاب فرمایا ہے۔ مدعا یہ ہے کہ ایمان کا دعویٰ رکھتے ہو تو اپنے اندر یہ اوصاف پیدا کرو۔ اِن کے بغیر یہ دعویٰ کسی کو زیب نہیں دیتا۔
      یہ سچے اہل ایمان کی پہلی علامت بتائی ہے کہ وہ خدا کی عظمت و جلالت اور کبریائی کا شعور رکھتے ہیں، لہٰذا خدا کی کوئی بات بھی اُن کے سامنے پیش کی جائے، وہ اِس گہرے احساس کے ساتھ اُس کو سنتے ہیں کہ یہ اُس ہستی کا ذکر ہو رہا ہے یا اُس کے نام پر کوئی بات کہی جا رہی ہے، جس کی ناراضی کا خوف ہر انسان کے نہاں خانہئ وجود میں جاگزیں ہونا چاہیے۔ چنانچہ اُن کا دل اِس گہرے احساس سے لرز جاتا ہے۔
      یہ دوسری علامت ہے۔ قرینہ دلیل ہے کہ آیات سے یہاں کتاب الٰہی کی وہ آیات مراد ہیں جن میں خدا کے احکام اور قوانین بیان ہوتے ہیں۔ مدعا یہ ہے کہ اہل ایمان جب اِن احکام و قوانین کو سنتے ہیں تو اِنھیں ایمان ہی کا مظہر اور اُس کے مضمرات کی تفصیل سمجھتے ہیں۔ چنانچہ اپنے ایمان کے شجرئہ طیبہ پر یہ برگ و بار دیکھ کر اُن کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ اِسی طرح ایمان کے اِن مطالبات کو جب وہ پورا کرتے ہیں تو امتحان و آزمایش کے جن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، اُن میں خدا کی تائید و نصرت کا ظہور اور کامیابی سے گزرنے کے بعد فتح مندی کا احساس بھی اُن کے ایمان کو قوی سے قوی تر بنا دیتا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ‘’‘زَادَتْھُمْ اِیْمَانًا’ کے اسلوب بیان سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ جن کے اندر ایمان موجود ہوتا ہے، جب اُن کے سامنے ایمان کے مقتضیات و مطالبات آتے ہیں تو وہ پوری بشاشت سے اُن کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ وہ اِن مقتضیات و مطالبات کو اپنے ہی لگائے ہوئے درخت کا پھل اور اپنی ہی بوئی ہوئی کھیتی کا حاصل سمجھتے ہیں اور جس طرح ہر کسان اپنی کھیتی کے حاصل اور اپنے درخت کے پھلوں میں افزونی دیکھ کر باغ باغ ہوتا ہے، اِسی طرح یہ اہل ایمان بھی اپنے ایمان کی یہ افزایش دیکھ کر شادمان ہوتے ہیں۔ یہ گویا اُن مدعیان ایمان پر ایک لطیف تعریض ہوئی جو ایمان کا دعویٰ کرنے کو تو کر بیٹھے، لیکن جب اُس کے مطالبے سامنے آئے تواُن سے خوش ہونے کے بجاے اُن کی پیشانیوں پر بل پڑ گئے کہ یہ کیا بلا نازل ہوگئی۔’’ (تدبرقرآن٣/ ٤٣٢)

      یہ تیسری علامت ہے۔ یعنی امتحان و آزمایش کے مراحل میں وہ اپنے رب پر بھروسا رکھتے ہیں۔ اُنھیں یقین کامل ہوتا ہے کہ اُن کے پروردگار نے جو حکم بھی دیا ہے اور جس امتحان سے بھی گزارا ہے ، اُس میں سرتاسر اُنھی کی فلاح ہے۔ چنانچہ تمام احکام اور تمام امتحانات کو وہ یہی سمجھتے ہیں کہ اُن میں یقینا کوئی حکمت و مصلحت پوشیدہ ہو گی اور جلد یا بدیر وہ اُن کے لیے رحمت و برکت کی صورت میں ظاہر ہو جائے گی۔

       

    • امین احسن اصلاحی جو نماز کا اہتمام کریں اور اس مال میں سے، جو ہم نے ان کو بخشا ہے، خرچ کریں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ایمان کی چوتھی علامت: ’الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ‘ یہ چوتھی علامت بیان ہوئی اور اس کی حیثیت، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کر چکے ہیں، رأس الصفات کی ہے اس لیے کہ انہی دو چیزوں ۔۔۔ اہتمام نماز اور انفاق ۔۔۔ سے ان تمام اوصاف کو بیان کرنے کے بعد جن کا بیان کرنا پیش نظر گروہ کی خامیوں کی اصلاح کے لیے ضروری ہوا، آخر میں ان دو چیزوں کا ذکر فرمایا جو سب کی جامع بھی ہیں اور سب کی محافظ بھی۔

      جاوید احمد غامدی وہ نماز کا اہتمام کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے اُنھیں دیا ہے، اُس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ چوتھی علامت ہے اور اِس میں جو چیزیں بیان ہوئی ہیں، وہ سب کی جامع اور محافظ ہیں۔ ایمان جو اوصاف اہل ایمان کے اندر پیدا کرتاہے، اُن کی شیرازہ بندی اِنھی دو چیزوں ۔۔۔۔۔۔ نماز اور انفاق ۔۔۔۔۔۔ سے ہوتی ہے۔ قرآن مجیدمیں جگہ جگہ یہ اِسی حیثیت سے بیان ہوئی ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی یہی لوگ سچے مومن ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب کے پاس درجے اور مغفرت اور باعزت روزی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا‘ یعنی جن کے اندر یہ اوصاف ہیں سچے مومن وہی ہیں۔ رہے وہ لوگ جو اہل ایمان کی صفوں میں آ تو گھسے ہیں لیکن ان اوصاف سے عاری ہیں، وہ محض مدعی ایمان ہیں۔ سچے مومن نہیں ہیں۔ گویا اوپر ’اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ‘ کے الفاظ میں جو بات اشارۃً فرمائی گئی تھی اب وہ پوری طرح واضح ہو کر سامنے آ گئی۔
      ’لَھُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ وَمَغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیْمٌ‘ مطلب یہ ہے کہ خدا کے ہاں جو درجے اور مرتبے ہیں وہ ہر مدعی ایمان کے لیے نہیں ہیں بلکہ انہی لوگوں کے لیے ہیں جو اپنے اندر یہ اوصاف پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس سیاق میں ’مغفرۃ‘ کا لفظ بڑا بلیغ اور بشارت انگیز ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ ہر چند مطلوب و مطبوع تو یہی اوصاف ہیں اور مراتب انہی کے اعتبار سے قائم ہوں گے لیکن اللہ رحیم و کریم ہے، وہ اپنے بندوں کی کمزوریوں سے بھی واقف ہے اس وجہ سے ان غلطیوں اور کوتاہیوں کے لیے اس کی مغفرت کا دامن بھی ہے جو انسان کی بشریت کے لوازم میں سے ہیں۔
      ’رزق‘ کا لفظ، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں واضح کر چکے ہیں ایک جامع لفظ ہے اور ’کریم‘ کی صفت اس کے ساتھ اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اگرچہ بندوں کو سارا رزق و فضل رب کی عنایت ہی سے ملے گا لیکن اس کے ساتھ بندوں کے لیے عزت کی یہ سرفرازی بھی ہو گی کہ یہ سب کچھ ان کے حق کی حیثیت سے ان کو عطا ہو گا۔
      ایمان کے گھٹنے اور بڑھنے کی نوعیت: اس تفصیل سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ ایمان کوئی ٹھونٹھ درخت نہیں ہے بلکہ یہ جڑ بھی رکھتا ہے اور شاخیں اور برگ و بار بھی۔ قرآن میں اس کی تمثیل یوں بیان ہوئی ہے کہ ’اَصْلُھَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُھَا فِی السَّمَآءِ‘ اس کی مثال ایک ایسے درخت کی ہے جس کی جڑیں پاتال میں اتری ہوئی ہوں اور جس کی شاخیں فضا میں پھیلی ہوئی ہوں۔ یہ جس طرح عقائد پر مبنی ہے اسی طرح احکام و شرائع پر بھی مشتمل ہے اور جس طرح ایک شاداب درخت اپنی جڑوں سے بھی غذا حاصل کرتا ہے اور اپنی شاخوں اور پتوں سے بھی، اسی طرح یہ عقائد کی معرفت اور اعمال کی بجا آوری دونوں سے غذا اور قوت حاصل کرتا ہے۔ اگر عقائد میں کھوکھلا پن پیدا ہو جائے جب بھی یہ سوکھ جاتا ہے اور اگر اس کی شاخوں کو کوئی روگ لگ جائے جب بھی یہ مضمحل ہو جاتا ہے۔ اس کے صحیح نشوونما کے لیے ضروری ہے کہ اس کی جڑ اور اس کی شاخوں دونوں کی دیکھ بھال ہوتی رہے۔ اس دیکھ بھال سے یہ بڑھتا، پھیلتا اور پھلتا پھولتا ہے اور اس کے مفقود ہو جانے سے وہ گھٹتا، سکڑتا اور مردہ ہو جاتا ہے۔ ہمارے نزدیک قرآن و حدیث دونوں سے یہی حقیقت واضح ہوتی ہے۔ ہمارے فقہاء اور متکلمین میں سے جن لوگوں نے ایمان کے گھٹنے بڑھنے سے انکار کیا ہے ان کی بات کا کوئی صحیح محل اگر ہو سکتا ہے تو یہ ہو سکتا ہے کہ اس کو قانونی ایمان سے متعلق مانا جائے۔ قانون چونکہ صرف ظاہری حالات سے تعلق رکھتا ہے، باطن اس کی دسترس سے باہر ہے اس وجہ سے اس کی نظر میں ایک مخلص اور ایک منافق کے ایمان میں کوئی فرق نہیں ہوتا لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ حقیقت کی نگاہ میں بھی دونوں کا ایمان یکساں ہے۔ یہاں اس اجمالی اشارے پر قناعت کیجیے۔ اس پر تفصیلی بحث اپنے محل میں آئے گی۔

      جاوید احمد غامدی یہی سچے مومن ہیں۔ اِن کے پروردگار کے پاس اِن کے لیے درجے ہیں، مغفرت ہے اور عزت کی روزی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اُن کے ایمان و یقین کی کیفیات اور اُن کے ظہور کے لحاظ سے درجے ہیں، اُن کی غلطیوں اور کوتاہیوں کے لیے خدا کا دامن مغفرت ہے اور اِس کے نتیجے میں ایسی روزی ہے جو اِس عزت کے ساتھ دی جائے گی کہ یہ درحقیقت اُنھی کا حق ہے جو اُنھیں دیا جا رہا ہے۔
      یہ امر ملحوظ رہے کہ اِن آیتوں میں جس ایمان کا ذکر ہوا ہے، وہ قانونی اور فقہی ایمان نہیں ہے جس سے لوگوں کے حقوق و فرائض کا تعین کیا جاتا ہے، بلکہ حقیقی ایمان ہے اور یہ ہرگز کوئی جامد چیز نہیں ہے۔ اللہ کے ذکر اور اُس کی آیتوں کی تلاوت اور انفس و آفاق میں اُن کے ظہور سے اِس میں افزونی ہوتی ہے۔ قرآن مجید نے دوسری جگہ اِسے ایک ایسے درخت سے تشبیہ دی ہے جس کی جڑیں زمین کے اعماق میں اتری ہوئی اور شاخیں آسمان کی وسعتوں میں پھیلی ہوئی ہوں۔ چنانچہ انسان اگر اپنے ایمان کو علم نافع اور عمل صالح سے برابر بڑھاتے رہنے کے بجاے اُس کے تقاضوں کے خلاف عمل کرنا شروع کر دے تو یہ کم بھی ہوتا ہے، بلکہ بعض حالات میں بالکل ختم ہو جاتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اسی طرح کی بات اس وقت ظاہر ہوئی جب تمہارے رب نے ایک مقصد کے ساتھ تم کو گھر سے نکلنے کا حکم دیا اور مسلمانوں میں سے ایک گروہ کو یہ بات ناگوار تھی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’کَمَا‘ کے مواقع استعمال: ’کَمَا‘۔ عربی زبان میں ’کَذَالِک‘، ’کَدَأبِک‘ اور ’کَمَا‘، بسا اوقات واقعہ کی مماثلت واقعہ سے ظاہر کرنے کے لیے بھی آتے ہیں۔ ایسی صورت میں متعین الفاظ کے اندر ان کا مشبہ اور مشبہ بہ نہیں ہوتا بلکہ بحیثیت مجموعی واقعہ کے اندر ہوتا ہے۔ ’کَذٰلِک‘ بقرہ کی آیت ۱۴۳ میں اسی نوعیت سے آیا ہے۔ امرأ القیس نے اپنے مشہور قصیدہ میں پہلے اپنی ایک سرگزشت عشق بیان کی اس کے بعد ’کَدَابک من ام الحویرث قبلھا‘ کہہ کر اپنی اسی طرح کی دوسری سرگزشتوں کا ذکر شروع کر دیا کہ اسی طرح کا ماجرا اس کو فلاں اور فلاں کے ساتھ بھی پیش آچکا ہے۔ بقرہ آیت ۱۵۱ سے اوپر تحویل قبلہ کا ذکر ہوا پھر بدوں کسی تقریب و تمہید کے ارشاد ہوا ’کَمَا اَرْسَلْنَا فِیْکُمْ رَسُوْلًا مِّنْکُمْ‘ یہ بھی اسی طرح کا اسلوب بیان ہے یعنی تمہارے قبلہ کو اہل کتاب کے قبلہ سے الگ کر کے خدا نے تم کو ایک علیحدہ امت کی حیثیت سے ممتاز کر دیا۔ اسی طرح کا ’کَمَا‘ یہ زیربحث آیت میں بھی ہے۔ اوپر جیسا کہ مذکور ہوا، ان کمزور قسم کے مسلمانوں کے رویہ پر گرفت فرمائی ہے جو بدر میں حاصل شدہ مال غنیمت کی تقسیم پر معترض ہوئے تھے۔ جب ان کی یہ کمزوری زیربحث آ گئی تو تعلیم و تربیت کا تقاضا یہ ہوا کہ ان لوگوں کی ایک اور کمزوری کی طرف بھی توجہ دلا دی جائے جو اس سے پہلے ان سے اس وقت ظاہر ہوئی جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے بدر کے لیے نکلنے کا ارادہ فرمایا ہے۔ گویا اس وقت تو ان کی غلطی نظرانداز فرما دی گئی کہ حکمت کا تقاضا یہی تھا لیکن جب اسی طرح کی غلطی ان سے پھر صادر ہوئی تو اس پر گرفت فرمائی گئی اور ساتھ ہی سابق غلطی کی طرف بھی اشارہ فرما دیا گیا کہ لوگ متنبہ ہو جائیں کہ یہ بیماری کہاں سے چلی ہے اور اگر اس کی اصلاح نہ ہوئی تو کہاں تک پہنچ سکتی ہے۔
      بدر کے لیے مسلمانوں کا نکلنا ایمائے الٰہی سے ہوا: ’اَخْرَجَکَ رَبُّکَ مِنْ م بَیْتِکَ بِالْحَقِّ‘۔ ’اَخْرَجَکَ رَبُّکَ‘ کے الفاظ اس امر پر نہایت واضح دلیل ہیں کہ بدر کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نکلنا اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوا تھا۔ آگے آیت ۴۲۔۴۳ میں یہ اشارہ موجود ہے کہ آپ کو رویا میں شام کی طرف سے قافلۂ قریش کی واپسی اور مکی کی طرف سے فوج قریش کی آمد کا مشاہدہ کرا دیا گیا تھا اور حملہ آور فوج کی حقیقت بھی واضح کر دی گئی تھی کہ معنوی اعتبار سے وہ کچھ زیادہ وزنی نہیں ہو گی بلکہ مسلمانوں سے مغلوب ہو جائے گی۔ بلکہ روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسی رویا میں حضور کو قریش کے خاص خاص لیڈروں کے قتل ہونے کی جگہیں بھی دکھا دی گئیں۔ اسی رویا کی ہدایت کے بموجب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اس وجہ سے اس کو ’اَخْرَجَکَ رَبُّکَ مِنْ م بَیْتِکَ‘ کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ آگے کی آیت ۴۲ سے یہ بات بھی واضح ہو گی کہ اسی خدائی رہنمائی کی برکت تھی کہ مسلمان بالکل ٹھیک اس وقت قریش کی فوج کے مقابلہ کے لیے بدر کے مقام پر پہنچ گئے جب کہ وادی کے ایک سرے پر ان کی فوج تھی اور نیچے سے قافلہ گزر رہا تھا۔
      بدر کے لیے نکلنے کا اصل مقصد: ’بِالْحَقِّ‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے نکلنے کا یہ حکم ایک مقصد حق کے لیے دیا تھا۔ اس مقصد حق کی وضاحت آگے یوں فرما دی ہے:

      ’یُرِیْدُ اللّٰہُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِکَلِمٰتِہ وَیَقْطَعَ دَابِرَ الْکٰفِرِیْنَ‘
      (اللہ تعالیٰ اپنے حکموں سے یہ چاہتا ہے کہ حق کا بول بالا کرے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے)۔

      ’لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَیُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْکَرِہَ الْمُجْرِمُوْنَ‘
      (تاکہ حق کا بول بالا کرے اور باطل کو نابود کرے مجرموں کے علی الرغم)

      اس سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نکلنا ابتدا ہی سے اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت ایک مقصد حق کے لیے تھا اور وہ مقصد حق یہ تھا کہ دین کا بول بالا ہو اور کفر کی جڑ کٹے۔ ظاہر ہے کہ کفر کی جڑ کٹ سکتی تھی تو قریش کی ہزیمت سے کٹ سکتی تھی نہ کہ ان کے کسی تجارتی قافلہ کو لوٹ لینے سے اس وجہ سے سیرت و مغازی کی کتابوں کی وہ روایت قرآن کے الفاظ کے صریحاً خلاف ہے جس میں یہ بیان ہوا ہے کہ نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے اس تجارتی قافلے پر حملہ کرنا چاہتے تھے جو ابوسفیان کی سرکردگی میں شام سے واپس آ رہا تھا۔
      مسلمانوں کے اندر کے ایک کمزور گروہ کی طرف اشارہ: ’وَاِنَّ فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ لَکٰرِھُوْنَ‘۔ ’فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ‘ سے کمزور قسم کے مسلمانوں کی وہ ٹولی مراد ہے جس کا کردار ابتدائے سورہ ہی سے زیربحث ہے اور جس نے مال غنیمت سے متعلق بعد میں وہ سوالات بھی اٹھائے جن پر اوپر کی آیات میں تبصرہ ہوا ہے۔ ’’فَرِیْقًا‘‘ کے لفظ سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ ان لوگوں کی تعداد کچھ زیادہ نہیں تھی، بس ایک مختصر سی جماعت تھی۔ ان لوگوں نے جب یہ سنا ہو گا کہ کفار کی دو جماعتیں آ رہی ہیں جن میں سے ایک سے مقابلہ درپیش ہے تو یہ بات تو وہ فوراً تاڑ گئے ہوں گے کہ یہ مقابلہ بہرحال فوج سے ہونا ہے نہ کہ تجارتی قافلہ سے اس وجہ سے ان لوگوں پر دہشت طاری ہوئی اور یہ دہشت ان کے اس ضعف اعتماد علی اللہ کا نتیجہ تھی جس کی طرف اوپر آیت ۲ میں اشارہ ہوا ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی اِسی طرح کی صورت اُس وقت پیش آئی تھی، جب تمھارا پروردگار تمھیں ایک مقصد حق کے ساتھ تمھارے گھر سے نکال لایا اور مسلمانوں کے ایک گروہ کو یہ سخت ناگوار تھا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ‘کَمَا’ ہے۔ یہ واقعہ سے واقعہ کی مماثلت کو ظاہر کرنے کے لیے بھی آتا ہے۔ اِس صورت میں اِس کا مشبہ اور مشبہ بہ متعین الفاظ کے اندر نہیں ہوتا، بلکہ بحیثیت مجموعی واقعہ کے اندر ہوتا ہے۔ یہاں بھی یہی صورت ہے۔ اوپر مال غنیمت سے متعلق نزاع کا ذکر ہوا ہے۔ اِسی طرح کا ایک معاملہ جنگ کے لیے روانہ ہونے سے پہلے پیش آیا تھا۔ تزکیہ و تطہیر کی ضرورت سے قرآن نے اُسے بھی ساتھ ہی موضوع بنا لیا ہے۔
      اِس کی وضاحت آگے فرما دی ہے کہ وہ مقصد حق یہ تھا کہ حق کا بول بالا ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منکروں کی جڑ کاٹ دی جائے۔ اِس سے قرآن نے اُن روایتوں کی تردید کر دی ہے جن میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے اُس تجارتی قافلے کو لوٹنے کے لیے گھر سے روانہ ہوئے تھے جو ابوسفیان کی سربراہی میں شام سے واپس آ رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا ہے کہ ابتدا ہی سے قریش کی ہزیمت پیش نظر تھی اور نکلنے کی ہدایت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوئی تھی تاکہ حق حق ہو کر رہے اور باطل باطل ہو کر رہ جائے۔ یہ چیز ، ظاہر ہے کہ کسی تجارتی قافلے کو لوٹ لینے سے ہرگز حاصل نہیں ہو سکتی تھی۔
      آیت میں ‘فَرِیْقًا’ کا لفظ بتاتا ہے کہ اُن لوگوں کی تعداد کچھ زیادہ نہیں تھی جن پر یہ دیکھ کر دہشت طاری ہو رہی تھی کہ پیش نظر تجارتی قافلہ نہیں، بلکہ قریش کا لشکر ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اِسی لشکر کی سرکوبی کے لیے مدینہ سے نکل رہے ہیں۔ تاہم یہ گروہ اتنا قابل لحاظ ضرور تھا کہ مسلمانوں کی جماعت کے تزکیہ و تطہیر کے لیے اِس کا رویہ زیر بحث آیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی وہ تم سے امر حق میں جھگڑتے رہے باوجودیکہ حق ان پر اچھی طرح واضح تھا۔ معلوم ہوتا تھا کہ وہ موت کی طرف ہانکے جا رہے ہیں اور وہ اس کو دیکھ رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      کمزوروں کی کمزوری پر گرفت: ’یُجَادِلُوْنَکَ فِی الْحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ کَاَنَّمَا یُسَاقُوْنَ اِلَی الْمَوْتِ وَھُمْ یَنْظُرُوْنَ‘ لفظ ’مُجَادلۃ‘ کے معنی یہاں، جیسا کہ ہم دوسرے مقام میں اس کی تحقیق بیان کر چکے ہیں، باصرار و بلطائف الحیل مخاطب سے اپنی بات منوانے کی کوشش کرنے کے ہیں۔ اب یہ وضاحت ہو رہی ہے اس بات کی کہ جب ان کو خطرہ لاحق ہو گا کہ مقابلہ فوج سے درپیش ہے تو اس کے فرار کی انھوں نے کیا راہ نکالنی چاہی۔ انھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو باصرار اور بلطائف الحیل اپنی چرب زبانی سے اس رخ پر لانا چاہا کہ آپ تجارتی قافلے کا قصد کریں۔ بظاہر تو انھوں نے یہ باور کرانے کی کوشش کی ہو گی کہ یہ مشورہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی خیر خواہی میں دے رہے ہیں کہ قافلہ کو لوٹ لینے سے قریش کی کمر اقتصادی اعتبار سے ٹوٹ جائے گی اس لیے کہ ان کے سرمایہ کا بڑا حصہ اس قافلے کے ساتھ ہے جس سے مسلمانوں کی موجودہ کمزور مالی حالت کو درست کرنے میں بڑی مدد ملے گی لیکن اس مشورہ کی تہ میں ان کا وہی خوف بیٹھا ہوا تھا جس کو قرآن نے بے نقاب کردیا ہے کہ ’’گویا وہ موت کی طرف ہنکائے جا رہے ہوں اور وہ موت کو سامنے دیکھ رہے ہوں۔‘‘ اس مشورے کا سب سے زیادہ خطرناک پہلو یہ تھا کہ ان پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا منشا، جیسا کہ قرآن کے الفاظ ’بَعْدَ مَا تَبَیَّنَ‘ سے ثابت ہے، اچھی طرح واضح تھا لیکن اس کے باوجود انھوں نے اپنی بات منوانے کے لیے تمام حربے استعمال کیے۔ ہر چند آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرحلے تک، جیسا کہ آگے والی آیت میں اشارہ آ رہا ہے، بعض خاص اسباب سے، جن کی تفصیل آگے آئے گی، اپنا منشا واضح الفاظ میں ظاہر نہیں فرمایا تھا لیکن یہ لوگ اتنے غبی نہیں تھے کہ یہ نہ سمجھ سکیں کہ جب ایک طرف تجارتی قافلہ ہے اور دوسری طرف سے فوج آ رہی ہے تو آنحضرت کا یہ نکلنا کس سے نمٹنے کے لیے ہو سکتا ہے۔ یہ لوگ دل کے بودے ضرور تھے لیکن عقل کے اتنے غریب نہیں تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج، اسلام کے مقصد، احقاق حق کے تقاضوں سے اتنے نابلد ہوں کہ یہ موٹی سی بات بھی نہ سمجھ سکیں کہ کسی تجارتی قافلہ کو تاخت و تاراج کرنا ایسا کیا کام ہو سکتا ہے جس کے لیے خدا کا رسول اپنے جاں نثاروں کے ساتھ یوں سربکف ہو کر نکلے! چنانچہ آگے تفصیل آئے گی کہ نہ مہاجرین کے لیڈروں کو آنحضرت کا منشا سمجھنے میں کوئی اشتباہ پیش آیا نہ انصار کے جان نثاروں کو۔ سب نے پہلے ہی مرحلے میں تاڑ لیا کہ حضور کا منشا کیا ہے اور اس منشا کی تکمیل کے لیے وہ سربکف ہو گئے۔ صرف ایک گروہ موت کے ڈر سے آخر وقت تک سخن سازی کرتا رہا اس وجہ سے اس کا رویہ قرآن میں زیر بحث آیا تاکہ آئندہ کے مراحل میں مسلمان ان داخلی فتنوں سے ہوشیار رہیں۔

      جاوید احمد غامدی وہ اِس مقصد حق کے معاملے میں تم سے جھگڑ رہے تھے، اِس کے باوجود کہ (اُن پر) وہ اچھی طرح واضح تھا۔ اُن کا حال یہ تھا کہ گویا آنکھوں دیکھے موت کی طرف ہانکے جا رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ‘یُجَادِلُوْنَکَ’ آیا ہے۔ اِس کے معنی یہاں بلطائف الحیل مخاطب سے اپنی بات منوانے کے ہیں۔ مدعا یہ ہے کہ اِس کے باوجود کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ منشا اُن پر واضح تھا کہ آپ لشکرہی کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں، وہ موت کے خوف سے آخر وقت تک سخن سازی کرتے اور زور لگاتے رہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے آپ کو قائل کر لیں کہ لشکر کے مقابلے میں جانے کے بجاے قافلے کو لوٹنا زیادہ قرین مصلحت ہے، اِس سے مسلمانوں کی اقتصادی حالت کو سنبھالنے میں بہت کچھ مدد مل سکتی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی یاد کرو جب کہ اللہ تم سے دو گروہوں میں سے ایک کا وعدہ کر رہا تھا کہ وہ تمہارا لقمہ بنے گا اور تم یہ چاہ رہے تھے کہ غیر مسلح گروہ تمہارا لقمہ بنے اور اللہ چاہتا تھا کہ وہ اپنے کلمات سے حق کا بول بالا کرے اور کافروں کی جڑ کاٹے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَاِذْ یَعِدُکُمُ اللّٰہُ اِحْدَی الطَّآءِفَتَیْنِ اَنَّھَا لَکُمْ وَتَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْکَۃِ تَکُوْنُ لَکُمْ‘۔
      جماعت کے حوصلہ کا اندازہ کرنے کے لیے ایک حکیمانہ طریقہ: ’وَاِذْ یَعِدُکُمُ اللّٰہُ اِحْدَی الطَّآءِفَتَیْنِ اَنَّھَا لَکُمْ‘ کے اسلوب بیان میں جو ابہام ہے وہ اس حقیقت کے اظہار کے لیے ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نکلتے وقت انصار و مہاجرین سے جب اس مہم کے باب میں استمزاج فرمایا تو بات کھل کر یوں نہیں فرمائی کہ تجارتی قافلہ کی حفاظت کا بہانہ بنا کر قریش نے ہم پر حملہ کرنے کے لیے اپنی فوج بھیج دی ہے بلکہ مبہم انداز میں یوں فرمایا کہ کفار کی دو جماعتیں آ رہی ہیں جن میں سے ایک کو اللہ تعالیٰ ہمارے قابو میں کر دے گا۔ یہ مبہم انداز بیان حضور نے کیوں ارشاد فرمایا؟ ہمارے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک اہم مہم پر روانہ ہونے سے پہلے حضور نے چاہا کہ ہر گروہ کا جائزہ لے لیا جائے کہ کون کتنے پانی میں ہے۔ ظاہر ہے کہ حضور اگر مسئلہ کو بالکل دوٹوک انداز میں لوگوں کے سامنے رکھ دیتے تو مخلص و منافق سب کو آمنا و صدقنا کہتے ہی بن پڑتی۔ پھر نہ تو کسی کو اس سے اختلاف کی جرأت ہوتی اور نہ کسی کی کمزوری ظاہر ہو سکتی۔ یاد ہو گا، یہی طریقہ آپ نے جنگ احد کے موقع پر بھی اختیار فرمایا۔ اس وقت آپ نے لوگوں کے سامنے یہ سوال رکھا کہ جنگ شہر سے باہر نکل کر کی جائے یا شہر میں محصور ہو کر اور خود اپنی رائے ظاہر نہیں فرمائی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جاں نثاروں نے شہر سے باہر نکل کر جنگ کرنے کی رائے دی اور کمزور قسم کے لوگوں نے شہر میں محصور ہو کر۔ اس طرح آپ کو جماعت کے قوی و ضعیف اور مخلص و منافق سب کا جائزہ لینے کا موقع مل گیا۔ ۱؂ اسی حکمت و مصلحت سے حضور نے اس موقع پر بھی بات مبہم انداز میں فرمائی کہ لوگوں کے جواب سے اندازہ ہو جائے کہ کون کس طرز پر سوچ رہا ہے چنانچہ پہلے اپنے مہاجرین کا عندیہ معلوم کرنا چاہا۔ وہ صاف سمجھ گئے کہ حضور کا منشا کیا ہے۔ چنانچہ ان میں سے مقداد بن عمر نے اٹھ کر ایک ایسی تقریر کی جس کی گونج اسلام کی تاریخ میں ہمیشہ باقی رہے گی۔ انہوں نے فرمایا:

      ’’اے اللہ کے رسول! اللہ نے آپ کو جس بات کا حکم دیا ہے آپ اس کے لیے اقدام کیجیے۔ آپ جہاں کے لیے نکلیں گے ہم آپ کے ہم رکاب ہیں۔ ہم آپ سے وہ بات کہنے والے نہیں ہیں جو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ  سے کہی تھی کہ تم اور تمہارا رب دونوں جا کر لڑو ہم تو یہاں بیٹھتے ہیں۔ بلکہ ہمارا قول یہ ہے کہ آپ اور آپ کا رب دونوں جنگ کے لیے نکلیں، جب تک کہ ایک آنکھ بھی ہم میں گردش کرتی ہے ہم سر کٹانے کے لیے حاضر ہیں۔‘‘

      کیا یہ تصور بھی کیا جا سکتا ہے کہ ان الفاظ میں جن لوگوں کی ترجمانی کی گئی ہے ان کے کسی فرد میں بھی کسی تجارتی قافلے پر حملے کا کوئی موہوم وسوسہ بھی ہو سکتا ہے۔
      نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین کی طرف سے اطمینان کر لینے کے بعد اپنے وہی الفاظ جو اوپر مذکور ہوئے پھر دہرائے۔ انصار سمجھ گئے کہ اب حضور ہمارا عندیہ معلوم کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ انصار کے لیڈر سعد بن معاذ اٹھے اور انھوں نے عرض کیا کہ حضور کا روئے سخن ہماری طرف ہے؟ پھر انھوں نے وہ تقریر کی جس کا ایک ایک لفظ میدان جہاد کا رجز ہے اور جس کی حرارت ایمانی 14 سو سال گزرنے پر بھی ٹھنڈی نہیں پڑی ہے۔ انھوں نے فرمایا:

      ’’ہم آپ پر ایمان لائے ہیں اور ہم نے آپ کی تصدیق کی ہے۔ ہم اس بات کے گواہ ہیں کہ جو دین آپ لے کر آئے ہیں وہی حق ہے۔ ہم نے آپ سے سمع و طاعت کا عہد و میثاق کیا ہے۔ پس اے اللہ کے رسول، آپ نے جو ارادہ فرمایا ہے وہ پورا کیجیے۔ اس خدا کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر آپ ہمیں اس سمندر کے کنارے لے جا کر اس میں کود پڑیں گے تو آپ کے ساتھ ہم بھی اس میں کود پڑیں گے اور ایک شخص بھی ہم میں سے پیچھے رہنے والا نہیں ہو گا۔ ہم اس بات سے نہیں گھبراتے کہ کل آپ ہمیں ہمارے دشمنوں کے مقابلہ کے لیے لے جا کھڑا کریں۔ ہم جنگ میں ثابت قدم رہیں گے۔ مقابلہ کے وقت ہم راست باز ثابت ہوں گے اور کیا عجب کہ اللہ ہمارے ہاتھوں وہ کچھ دکھائے جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں تو اللہ کا نام لے کر آپ ہمیں ہم رکابی کا شرف بخشیے۔‘‘

      غور کیجیے کہ کیا یہ تقریریں ان لوگوں کی ہو سکتی ہیں جو ایک غیرمسلح قافلہ پر، جس کی جمعیت شاید کل چالیس آدمیوں پر منحصر تھی، حملہ کی سکیمیں سوچ رہے ہوں اور پھر اس امر پر غور کیجیے کہ کیا لفظ لفظ سے یہ بات واضح نہیں ہو رہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال کے اس ابہام کے باوجود، جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا، انصار و مہاجرین دونوں گروہوں پر یہ بات سورج کی طرح روشن تھی کہ آپ کا منشا کیا ہے اور آپ کا رخ کدھر کو ہے۔ البتہ ایک گروہ، جیسا کہ قرآن کے الفاظ سے واضح ہے، ضعیف الایمانوں کا ایسا تھا جو حقیقت کی وضاحت کے باوجود محض اپنی بزدلی کے سبب سے یہ چاہتا تھا کہ حملہ قافلہ پر کیا جائے جو غیر مسلح ہے تاکہ خطرہ کوئی نہ پیش آئے اور لقمہ تر ہاتھ آئے۔ انہی کو مخاطب کر کے فرمایا کہ

      ’تَوَدُّوْنَ اَنَّ غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْکَۃِ تَکُوْنُ لَکُمْ‘
      (تم چاہتے تھے کہ غیرمسلح گروہ تمہارا لقمہ بنے)

      ’شوک‘ اور ’شوکۃ‘ عربی میں کانٹے کو کہتے ہیں یہیں سے لفظ ’شوکۃ‘ ہتھیار اور پھر قوت اور دبدبہ کے معنی میں استعمال ہوا۔ چونکہ تجارتی قافلہ غیر مسلح تھا اس وجہ سے اس کے لیے ’غَیْرَ ذَاتِ الشَّوْکَۃِ‘ کا لفظ استعمال ہوا۔
      خدائی احکام کا منشا سمجھنے کے لیے ایک عقلی کسوٹی: ’وَیُرِیْدُ اللّٰہُ اَنْ یُّحِقَّ الْحَقَّ بِکَلِمٰتِہ وَیَقْطَعَ دَابِرَ الْکٰفِرِیْنَ‘ اب یہ اللہ کے ارادے اور منشا کو سمجھنے اور جانچنے کے لیے ایک عقلی اور فطری معیار بتایا گیا ہے کہ اللہ کا ہر حکم و ارادہ احقاق حق اور ابطال باطل کے مقصد کے لیے ہوتا ہے اس وجہ سے اس کی باتوں کا منشا، اگرچہ وہ مجمل ہوں، معین کرنے میں اس اصول کو نظرانداز کرنا جائز نہیں ہے۔ جن لوگوں نے قافلہ پر حملہ کرنے کا ارمان کیا انھوں نے اس بات کا خیال نہ کیا کہ خدا ایک ایسی بات کیسے چاہ سکتا ہے جس سے نہ حق کا بول بالا ہو نہ کفر اور اہل کفر کی جڑ کٹے۔ ’کَلِمَات‘ کا لفظ، جیسا کہ ہم سورۂ بقرہ کی تفسیر میں تصریح کر چکے ہیں، ایک قسم کے ابہام کا حامل ہے۔ چونکہ اس موقع پر بات، جیسا کہ ہم اوپر واضح کر چکے ہیں، لوگوں کے سامنے مبہم طور پر رکھی گئی تھی اس وجہ سے قرآن نے اس کو ’کَلِمَات‘ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے۔ جن باتوں کے اندر کوئی اجمال و ابہام ہوتا ہے درحقیقت وہی باتیں ہوتی ہیں جن کے منشا کے تعین کا کام دشوار ہوتا ہے۔ ایسے مواقع میں اہل ایمان کی روش یہ ہونی چاہیے کہ بات کا وہ پہلو اختیار کریں جو اللہ تعالیٰ کی صفات اور اس کی شان سے موافقت رکھنے والا ہو نہ کہ ان کے منافی۔ ’یَقْطَعَ دَابِرَ الْکٰفِرِیْنَ‘ کے الفاظ سے قرآن نے اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کر دیا کہ سارے کفر کی جڑ تو قریش کی جمعیت تھی، کاٹنے کی چیز تھی تو وہ تھی اور اللہ چاہ سکتا تھا تو اس کو کاٹنا چاہ سکتا تھا لیکن ایک گروہ نے تجارتی قافلہ ہی پر وار کر کے تیس مارخاں بننے کی کوشش کی۔

      _____
      ۱؂ اس مسئلہ پر تفصیلی بحث آل عمران کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی اُس وقت کو یاد کرو، جب اللہ تم لوگوں سے وعدہ کر رہا تھا کہ دونوں گروہوں میں سے ایک تمھیں مل جائے گا۔ تم چاہتے تھے کہ تمھیں وہ ملے جو مسلح نہیں ہے اور اللہ چاہتا تھا کہ اپنے کلمات سے حق کا بول بالا کرے اور منکروں کی جڑ کاٹ دے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس وعدے میں ابہام کا اسلوب ہے۔ یعنی دو ٹوک انداز میں یہ نہیں کہا گیا کہ تجارتی قافلے کی حفاظت کا بہانہ بنا کر قریش نے حملے کے لیے فوج بھیج دی ہے، اُس کے مقابلے کے لیے نکلو، اللہ اُس کو تمھارے قابو میں کر دے گا، بلکہ ابہام کا انداز بیان اختیار کیا گیا ہے کہ قریش کی دو جماعتیں آ رہی ہیں جن میں سے ایک تمھیں مل جائے گی، اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِس سے مخلصین اور منافقین کو الگ الگ کرنا مقصود تھا تاکہ ایک بڑی مہم پر روانہ ہونے سے پہلے یہ اندازہ ہو جائے کہ کون کہاں کھڑا ہے۔ چنانچہ اِس موقع پر مہاجرین و انصار کے اکابر کی جو تقریریں روایتوں میں نقل ہوئی ہیں، اُن سے صاف واضح ہے کہ وہ حضور کا یہ منشاپوری طرح سمجھ گئے تھے۔* استاذ امام کے الفاظ میں، اُنھوں نے آپ کے استفسار کے جواب میں ایسی تقریریں کیں جن کی گونج اسلام کی تاریخ میں ہمیشہ باقی رہے گی، جن کا ایک ایک لفظ میدان جہاد کا رجز ہے اور جن کی حرارت ایمانی چودہ سو سال گزرنے پر بھی ٹھنڈی نہیں پڑی ہے۔ یہ تقریریں، ظاہر ہے کہ کسی تجارتی قافلے پر حملے کے لیے نہیں کی گئی تھیں۔
      یہ ضعیف الایمانوں کے اُسی گروہ قلیل کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔ اُن پر بھی، جیسا کہ فرمایا ہے، حقیقت بالکل واضح تھی، مگر اپنی بزدلی کے باعث وہ چاہتے تھے کہ قافلے کا قصد کیا جائے جو غیر مسلح ہے تاکہ کوئی خطرہ پیش نہ آئے اور مال غنیمت بھی حاصل ہو جائے۔
      اِس سے وہ کلمات مراد ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگ کے لیے گھر سے نکالنے اور بعد میں آپ کی تائید و نصرت کے لیے صادر ہوئے۔
      _____
      * السیرۃ النبویہ، ابن ہشام ٢/ ٢٣٣۔

    • امین احسن اصلاحی تا کہ مجرموں کے علی الرغم وہ حق کو پابرجا اور باطل کو نابود کرے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’لِیُحِقَّ الْحَقَّ وَیُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَلَوْکَرِہَ الْمُجْرِمُوْنَ‘ یہ ٹکڑا ’یَقْطَعَ دَابِرَ الْکٰفِرِیْنَ‘ کی غایت واضح کر رہا ہے کہ اللہ نے ان کافروں کی جڑ کاٹنے کا جو ارادہ فرمایا ہے تو اس کا مقصد حق کا بول بالا کرنا اور باطل کو مٹانا ہے۔ خدا کو کسی سے پرخاش نہیں ہے البتہ احقاق حق اور ابطال باطل اس کی صفات کا مقتضیٰ ہے اور اس کا فیصلہ اب خدا نے فرما لیا ہے اور یہ کام ہو کر رہے گا اور ان مجرموں کے علی الرغم ہو کر رہے گا۔
      قرآنی اشارات کی روشنی میں غزوۂ بدر کی اصل تصویر: اوپر قرآن نے جو اشارات کیے ہیں ان کی روشنی میں غزوہ بدر کی جو تصویر سامنے آتی ہے وہ اس سے بالکل مختلف ہے جو سیرت و مغازی کی کتابوں میں پیش کی گئی ہے اور جس میں رنگ آمیزی کر کے مستشرقین نے اس کو اور زیادہ بھیانک شکل دے دی ہے۔
      قرآن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا مسلمانوں کے ذہن میں قریش کے قافلۂ تجارت سے تعرض کرنے کا کوئی خیال موجود نہیں تھا۔ مدینہ پر حملہ کی ساری اسکیم قریش نے بنائی اور اس کے لیے قافلۂ تجارت کی حفاظت کا بہانہ تراشا۔ قریش مدینہ میں مسلمانوں کے جڑ پکڑنے سے بہت خائف تھے۔ مذہبی عناد کے علاوہ انہیں یہ بھی اندیشہ تھا کہ اب مکہ اور شام کی تجارتی شاہراہ ان کے لیے محفوظ نہیں رہ گئی ہے۔ اس وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد ہی وہ اس فکر میں تھے کہ کوئی عذر تلاش کر کے مسلمانوں کو ایک قوت بننے سے پہلے ہی ختم کر دیں۔ اب یا تو قافلۂ تجارت کے سالار ابوسفیان نے واپسی کے موقع پر کوئی وہمی خطرہ مسلمانوں کے حملے کا محسوس کیا ہو کہ آدمی بھیج کر قریش کو حملہ کی خبر بھیج دی یا اس کے لیے بھی پہلے سے قریش کے لیڈروں میں کوئی سازش رہی ہو۔ بہرحال ابوسفیان کی اطلاع پر مکہ سے ایک بھاری بھرکم لشکر مدینہ کے لیے روانہ ہو گیا۔ یہ مرحلہ ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رویا کے ذریعے سے یہ اطلاع ہوتی ہے کہ قریش کی دو جماعتیں آ رہی ہیں جن میں سے ایک سے مسلمانوں کا مقابلہ ہوتا ہے۔
      آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد مدینہ سے بدر کے لیے نکلنے کا ارادہ فرمایا اور مسلمانوں کے حوصلہ کا اندازہ کرنے کے لیے صورت حال مبہم انداز میں ان کے سامنے رکھی کہ کفار کی دو جماعتیں آ رہی ہیں جن میں سے ایک سے ہمارا مقابلہ ہو گا۔ اور وہ ہم سے شکست کھائے گی۔ مسئلہ کے سامنے آتے ہی مہاجرین و انصار سب سمجھ گئے کہ قریش کی فوج آ رہی ہے اور اس سے معاملہ درپیش ہے۔ چنانچہ ان کے لیڈروں نے پورے جوش و خروش کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی وفاداری اور اسلام کے لیے اپنی جاں نثاری کا یقین دلایا۔ البتہ ایک مختصر سی ٹولی ان میں ایسی بھی تھی جس نے اپنا زور اس بات کے لیے لگایا کہ قریش کی فوج کے بجائے قافلۂ تجارت کا رخ کیا جائے تاکہ بغیر ایک قطرۂ خون بہائے بھاری غنیمت ہاتھ آئے۔ اسی گروہ کو بے نقاب کرنے کے لیے حضور نے اپنی بات مبہم انداز میں پیش کی تھی تاکہ جن لوگوں کے اندر کوئی کمزوری چھپی ہوئی ہے وہ اپنی کمزوری ظاہر کر دیں اور مخلص و منافق میں مرحلۂ جنگ پیش آنے سے پہلے ہی امتیاز ہو جائے۔
      آگے اسی سورہ کی بعض آیات کی روشنی میں ہم انشاء اللہ یہ بھی دکھائیں گے کہ اس جنگ کے لیے یہود نے بھی قریش کی پیٹھ ٹھونکی تھی لیکن میدان جنگ کا نقشہ دیکھ کر وہ اپنی عادت کے مطابق دبک گئے۔

      جاوید احمد غامدی تاکہ حق کو حق اور باطل کو باطل کر دکھائے، خواہ اِن مجرموں کو وہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِن آیتوں میں جو کچھ فرمایا گیا ہے، اُس کی روشنی میں غزوئہ بدر کی جو تصویر سامنے آتی ہے، وہ اُس سے بالکل مختلف ہے جو سیرت و مغازی کی کتابوں میں پیش کی گئی ہے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ‘’قرآن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا مسلمانوں کے ذہن میں قریش کے قافلۂ تجارت سے تعرض کرنے کا کوئی خیال موجود نہیں تھا۔ مدینہ پر حملے کی ساری اسکیم قریش نے بنائی اور اُس کے لیے قافلۂ تجارت کی حفاظت کا بہانہ تراشا۔ قریش مدینہ میں مسلمانوں کے جڑ پکڑنے سے بہت خائف تھے۔ مذہبی عناد کے علاوہ اُنھیں یہ بھی اندیشہ تھاکہ اب مکہ اور شام کی تجارتی شاہ راہ اُن کے لیے محفوظ نہیں رہ گئی ہے۔ اِس وجہ سے آںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد ہی وہ اِس فکر میں تھے کہ کوئی عذر تلاش کر کے مسلمانوں کو ایک قوت بننے سے پہلے ہی ختم کر دیں۔ اب یا تو قافلہئ تجارت کے سالار ابوسفیان نے واپسی کے موقع پر کوئی وہمی خطرہ مسلمانوں کے حملے کا محسوس کیا ہو کہ آدمی بھیج کر قریش کو حملے کی خبر بھیج دی یا اِس کے لیے بھی پہلے سے قریش کے لیڈروں میں کوئی سازش رہی ہو، بہرحال ابوسفیان کی اطلاع پر مکہ سے ایک بھاری بھرکم لشکر مدینہ کے لیے روانہ ہو گیا۔ یہ مرحلہ ہے جس میں آںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رویا کے ذریعے سے یہ اطلاع ہوتی ہے کہ قریش کی دو جماعتیں آرہی ہیں جن میں سے ایک سے مسلمانوں کا مقابلہ ہونا ہے۔
      آںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کے بعد مدینہ سے بدر کے لیے نکلنے کاارادہ فرمایا اور مسلمانوں کے حوصلے کااندازہ کرنے کے لیے صورت حال مبہم انداز میں اُن کے سامنے رکھی کہ کفار کی دو جماعتیں آرہی ہیں جن میں سے ایک سے ہمارا مقابلہ ہو گا اور وہ ہم سے شکست کھائے گی۔ مسئلہ کے سامنے آتے ہی مہاجرین و انصار سب سمجھ گئے کہ قریش کی فوج آرہی ہے اور اُس سے معاملہ درپیش ہے۔ چنانچہ اُن کے لیڈروں نے پورے جوش و خروش کے ساتھ آںحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی وفاداری اور اسلام کے لیے اپنی جاں نثاری کا یقین دلایا۔ البتہ ایک مختصر سی ٹولی اُن میں ایسی بھی تھی جس نے اپنا زور اِس بات کے لیے لگایا کہ قریش کی فوج کے بجاے قافلہئ تجارت کا رخ کیا جائے تاکہ بغیر ایک قطرہئ خون بہائے بھاری غنیمت ہاتھ آئے۔ اِسی گروہ کو بے نقاب کرنے کے لیے حضور نے اپنی بات مبہم انداز میں پیش کی تھی تاکہ جن لوگوں کے اندر کوئی کمزوری چھپی ہوئی ہے، وہ اپنی کمزوری ظاہر کر دیں اور مخلص و منافق میں مرحلہئ جنگ پیش آنے سے پہلے ہی امتیاز ہوجائے۔’‘(تدبرقرآن٣/ ٤٣٩)

       

    • امین احسن اصلاحی اور یاد کرو جب کہ تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے تو اس نے تمہاری فریاد سنی کہ میں ایک ہزار فرشتے تمہاری کمک پر بھیجنے والا ہوں جن کے پرے کے بعد پرے نمودار ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      غزوۂ بدر میں تائیدات الٰہی اس سلسلہ کی پہلی تائید الٰہی: ’اَنِّیْ مُمِدُّکُمْ‘ ’فَاسْتَجَابَ لَکُمْ‘ کی تفصیل ہے اور فاعل کا صیغہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کی قطعیت کے اظہار کے لیے ہے۔ ’اِردَاف‘ کے معنی ’توالی‘ یعنی یکے بعد دیگرے ظاہر ہونے کے ہیں۔ یہ اس سب سے پہلی تائید الٰہی کا بیان ہے جو اس موقع پر ظاہر ہوئی۔ مسلمانوں کی تعداد اس جنگ میں بہت تھوڑی تھی یعنی کل ۳۱۳ اور وہ بے سروسامان بھی تھے۔ ادھر کفار ایک ہزار کے قریب تھے اور ہر قسم کے اسلحہ سے لیس اور سروسامان سے بھرپور۔ ایسے حالات میں مسلمانوں کو واحد سہارا خدا کی تائید ہی کا ہو سکتا تھا چنانچہ ایک ایک شخص سراپا عجز و نیاز اور یکسر دعا و فریاد بنا ہوا تھا۔ ان دعاؤں کی نوعیت کاا ندازہ کرنے کے لیے خود سرور عالم کی اس دعا کو پڑھ لینا کافی ہے جس کے الفاظ احادیث میں وارد ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب نہتے مسلمانوں نے اپنے دل نکال کر اپنے رب کے سامنے رکھ دیے ہوں گے تو یہ دعائیں قبولیت سے کیسے محروم رہ سکتی تھیں۔ چنانچہ یہ قبول ہوئیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بشارت نازل ہوئی کہ تم ہراساں نہ ہو، میں تمہاری کمک کے لیے ہزار فرشتے نازل کرنے والا ہوں۔ مطلب یہ کہ تم ہزار کافروں کی کیا پروا کرتے ہو، تمہارے جلو میں تو ہزار فرشتے ہوں گے۔ ان فرشتوں کے ظہور کی شکل یہ بتائی کہ ان کے دستے کے بعد دستے اور پرے کے بعد پرے نمایاں ہوں گے۔ میدان جنگ میں لڑنے والوں کی یہ سائیکالوجی ملحوظ رہے کہ جن کی حمایت میں کمک کے بعد کمک آ رہی ہو ان کا حوصلہ ہر کمک پر دونا ہوتا ہے اور اسی اعتبار سے حریف کے اعصاب ڈھیلے پڑتے جاتے ہیں۔ یہ مضمون آل عمران کی آیات ۱۲۵۔۱۲۶ میں بھی گزر چکا ہے۔ ایک نظر اس پر بھی ڈال لیجیے۔

      جاوید احمد غامدی یاد کرو، جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کر رہے تھے تو اُس نے تمھاری فریادسن لی (اور فرمایا کہ) میں ایک ہزار فرشتے تمھاری مدد کے لیے بھیج رہا ہوں جو لگاتار پہنچتے رہیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مسلمانوں کی تعداد چونکہ اِس جنگ میں بہت تھوڑی تھی اور وہ بے سروسامان بھی تھے، اِس لیے استاذ امام کے الفاظ میں، ہر شخص سراپا عجز و نیاز اور یک سر دعا و فریاد بنا ہوا تھا۔ اِن دعاؤں میں لوگوں نے کس طرح اپنے دل نکال کر اپنے رب کے سامنے رکھ دیے تھے، اُس کا اندازہ کسی حد تک اُس دعا سے کیا جا سکتا ہے جو اُس موقع پر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے۔آپ نے عرض کیا تھا : ‘’خدایا، یہ ہیں قریش، اپنے سامان غرور کے ساتھ آئے ہیں تاکہ تیرے رسول کو جھوٹا ثابت کر دیں۔ خدایا، اب تیری وہ مدد آجائے جس کا تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا۔ خدایا، اگر آج یہ مٹھی بھر جماعت ہلاک ہو گئی تو روے زمین پر پھر کوئی تیری عبادت نہ کرے گا۔’‘*
      یہ اِس لیے فرمایا ہے کہ میدان جنگ میں حوصلے کو برقرار رکھنے کے لیے سب سے زیادہ دخل اِسی چیز کو ہوتا ہے کہ لڑنے والوں کو اِس بات کا اطمینان رہے کہ جب ذرا کمزور ہوں گے تو پیچھے سے کمک لازماً پہنچ جائے گی۔
      _____
      * السیرۃ النبویہ، ابن ہشام ٢/ ٢٣٩۔ تفسیر القرآن العظیم، ابن کثیر٢/ ٣٨٣۔

    • امین احسن اصلاحی اور یہ صرف اس لیے کیا کہ تمہارے لیے خوش خبری ہو اور اس سے تمہارے دل مطمئن ہوں اور مدد تو خدا ہی کے پاس سے آتی ہے۔ بے شک اللہ عزیز و حکیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اہل ایمان کے لیے ابدی بشارت: ’وَمَا جَعَلَہُ اللّٰہُ اِلَّا بُشْرٰی وَلِتَطْمَءِنَّ بِہ قُلُوْبُکُمْ‘۔ ضمیر مفعول کا مرجع وہی وعدۂ نصرت ہے جو اوپر مذکور ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ اس موقع پر تمہارے رب نے یہ صریح الفاظ میں تمہاری مدد کا پہلے سے جو وعدہ فرمایا تو محض اس لیے کہ تم ہراساں تھے، تمہاری ڈھارس بندھ جائے اور تمہارے دل مطمئن ہو جائیں۔ اس سے یہ نہ سمجھنا کہ خدا کی یہ مدد اسی موقع کے ساتھ مخصوص ہے بلکہ جب بھی اللہ کے مومن بندے اس کی راہ میں جہاد کے لیے نکلیں گے اور ایمان و اخلاص کے ساتھ اس سے طالب مدد ہوں گے، وہ ان کی مدد فرمائے گا خواہ اس مدد کے لیے پہلے سے ان کو بشارت ملی ہو یا نہ ملی ہو۔ اس وضاحت کی ضرورت اس وجہ سے تھی کہ صریح الفاظ میں برسرموقع وعدۂ نصرت تو نبی کے ذریعہ ہی سے اور اس کی موجودگی ہی میں ہو سکتا ہے تو نبی کی غیرموجودگی میں یا اس کے زمانہ کے بعد کے لوگ کس طرح اطمینان قلب حاصل کر سکتے تھے۔ اس شبہ کے ازالے کے لیے یہ فرما دیا کہ یہ وعدہ اسی موقع کے لیے نہیں تھا بلکہ اہل ایمان کے لیے ابدی ہے۔
      کم سوادوں کی بے بصیرتی: ’وَمَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ‘ اس لیے کہ مدد تو جب بھی آتی ہے یا آئے گی اللہ ہی کے پاس سے آتی ہے یا آئے گی۔ پس خدا پر بھروسہ کرنے والے ہمیشہ خدا پر بھروسہ کریں، وہ ہمیشہ ان کی مدد فرمائے گا۔ خدا عزیز اور غالب ہے، کسی کی مجال نہیں کہ اس کے ہاتھ پکڑ سکے لیکن ساتھ ہی وہ حکیم بھی ہے اس وجہ سے اگر کبھی اہل ایمان کو کوئی افتاد پیش آ جائے تو اس میں بھی کوئی حکمت کارفرما اور اس کی تہ میں بھی بندوں ہی کی کوئی مصلحت مضمر ہوتی ہے۔ یہ مضمون سورۂ آل عمران میں احد کی شکست کے اسباب کے ذیل میں تفصیل سے بیان ہو چکا ہے۔
      اس زمانے کے بعض کم سوادوں نے اس آیت سے یہ نتیجہ نکالا کہ فرشتوں کی فوج اتارنے کا وعدہ محض مسلمانوں کو ذرا بڑھاوا دینے کے لیے تھا تاکہ وہ ہمت کر کے کفار سے بھڑ جائیں۔ ان کے خیال میں قرآن نے جنگ کے بعد خود یہ راز کھول دیا کہ یہ بات محض تمہاری تسلی کے لیے کہہ دی گئی تھی، اس کی حقیقت کچھ نہیں تھی۔ گویا نعوذ باللہ پہلے تو اللہ میاں نے مسلمانوں کو چکمہ دیا اور پھر خود ہی اپنا بھانڈا پھوڑ دیا کہ اب کے تو میں نے تم کو چکمہ دے کر لڑا دیا، آئندہ میرے بھرے میں نہ آنا، فرشتوں ورشتوں کی بات محض ایک بھڑ ہی تھی۔ شاید یہ حضرات اللہ میاں کو اپنے برابر بھی عقل مند نہیں سمجھتے۔

      جاوید احمد غامدی یہ اللہ نے صرف اِس لیے کیا کہ تمھارے لیے خوش خبری ہو اور اِس لیے کہ تمھارے دل اِس سے مطمئن ہوں۔(ورنہ حقیقت یہ ہے کہ) مدد تو اللہ ہی کے پاس سے آتی ہے۔ یقینا اللہ زبردست ہے،بڑی حکمت والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ خدا کی راہ میں جہاد کیا جائے تو جو کچھ بھی مدد حاصل ہوتی ہے، خدا ہی سے حاصل ہوتی ہے اور تمھیں بھی لازماً حاصل ہوتی ، مگر پہلے اِس لیے بتا دیا گیا کہ یہ چیز تمھارے لیے خوش خبری ہو اور تمھارے حوصلے کو برقرار رکھنے کا ذریعہ بن جائے۔

    • امین احسن اصلاحی یاد کرو جب کہ وہ تم کو چین دینے کے لیے اپنی طرف سے تم پر نیند طاری کر دیتا ہے اور تم پر آسمان سے پانی برسا دیتا ہے تاکہ اس سے تم کو پاکیزگی بخشے اور تم سے شیطان کے وسوسے کو دفع کرے اور تاکہ اس سے تمہارے دلوں کو مضبوط کرے اور قدموں کو جمائے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اس سلسلہ کی دوسری تائید الٰہی ۔۔۔ نیند کے ذریعے تائید: ’اِذْ یُغَشِّیْکُمُ النُّعَاسَ اَمَنَۃً مِّنْہُ‘ یہ اس جنگ کے سلسلہ کی دوسری تائید الٰہی کا بیان ہے اور ذکر اس شب کا ہے جس کی صبح کو جنگ واقع ہوئی۔ تصویر حال کے مقصد سے صیغہ مضارع کا استعمال ہوا ہے جس کا استعمال تصویر حال کے لیے معروف ہے۔ فرمایا کہ یہ بات بھی خاص اللہ کی طرف سے ہوئی کہ شب میں اس نے تم پر نیند طاری کر دی کہ تمہارے اعصاب و دماغ کو سکون مل گیا اور تم صبح کو جنگ کے لیے چاق و چوبند ہو گئے۔ اس نیند کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے اس لیے کہ عین میدان جنگ میں ان لوگوں کا جن کی مٹھی بھر جماعت کو صبح ایک دل بادل فوج سے لڑنا ہے تھوڑا سا سو لینا بھی فی الواقع خدا کی تائید ہی کا مظہر ہے۔ نیند تو تھوڑی سی پریشانی سے بھی اچاٹ ہو جاتی ہے چہ جائیکہ ایک ایسی پریشانی میں جیسی کہ اس موقع پر مسلمانوں کو لاحق رہی ہو گی لیکن جن کو خدا کی طمانیت بخشیوں کی تھپکیاں حاصل ہوں وہ تختہ دار پر بھی سو سکتے ہیں۔ چنانچہ شب میں مسلمان سو لیے اور اس سے ان کے اعصاب اور دل و دماغ کو اتنا سکون حاصل ہو گیا کہ وہ جنگ کے لیے تازہ دم ہو گئے۔ سورۂ آل عمران کی آیت ۱۵۴ کے تحت ہم لکھ آئے ہیں کہ میدان جنگ میں فوج کے لیے سو لینے کا موقع مل جانا ہی اول تو بڑی نعمت ہے لیکن اس سے بڑی نعمت اس موقع سے صحیح فائدہ اٹھا سکنا ہے اس لیے کہ نیند کے لیے موقع مل جانا ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس کا اصلی انحصار دل و دماغ کی حالت پر ہے اور یہ چیز ہر ایک کو حاصل نہیں ہوتی، انہی ہی کو حاصل ہوتی ہے جن پر خدائے مقلب القلوب اپنے فضل خاص سے یہ سکینت طاری کر دے۔
      ایک غلط فہمی کا ازالہ: عام طور پر لوگوں نے یہ سمجھا ہے کہ اونگھ کی یہ حالت مسلمانوں پر عین اس وقت طاری ہوئی جب زور و شور کا معرکہ گرم تھا اور حالت یہ ہوئی کہ لوگوں کے ہاتھوں سے تلواریں چھوٹ کر گری پڑتی تھیں۔ لیکن یہ بات کسی طرح سمجھ میں نہیں آتی۔ اول تو یہی بات بڑی عجیب سی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ایسی حالت کو اپنے انعام کے طور پر گنائے جس کا فائدہ سرتاسر کفار کے حق میں جاتا ہے۔ ان کے لیے اس سے بڑھ کر اور کیا تائید ہو سکتی تھی کہ مسلمان عین لڑائی کے وقت اونگھنے لگ جائیں خواہ وہ کتنے ہی قلیل وقت کے لیے ہو۔ دوسرے یہ بات قرآن کے صریح الفاظ کے بھی بالکل خلاف ہے۔ اس طرح کی نیند کا ذکر قرآن میں دو جگہ آیا ہے۔ ایک آل عمران آیت ۱۵۴ میں، دوسرے یہاں۔ آل عمران کے الفاظ یہ ہیں۔

      ’ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْکُمْ مِّنْم بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَۃً نُّعَاسًا یَّغْشٰی طَآءِفَۃً مِّنْکُمْ وَطَآءِفَۃٌ قَدْ اَھَمَّتْھُمْ اَنْفُسُھُمْ‘
      (پھر اللہ نے تم پر غم کے بعد سکون اتارا یعنی نیند جس نے تم میں سے ایک گروہ کو ڈھانک لیا اور ایک گروہ کو اپنی جانوں کی پڑی رہی)

      اس آیت میں ظاہر ہے کہ غم سے وہی غم مراد ہے جو مسلمانوں کو احد کی شکست سے پیش آیا تو جب نیند کے اتارے جانے کا واقعہ اس غم کے پیش آنے کے بعد پیش آیا تو اس کا تعلق وقت جنگ سے کیسے ہو سکتا ہے، یہ تو لازماً جنگ کے ختم ہو جانے کے بعد ہی کا واقعہ ہو سکتا ہے۔ اس نیند کے موقع اور اس کی اہمیت کی تفصیل ہم آل عمران کی تفسیر میں کر چکے ہیں۔
      انفال کی زیربحث آیت میں اس نیند کا ذکر ان تائیدات کے بیان کے ذیل میں ہوا ہے جو بالفعل جنگ شروع ہونے سے پہلے ظہور میں آئی ہیں۔ اس کے اوپر آپ نے دیکھا کہ فرشتوں کی فوج اتارے جانے کی بشارت کا حوالہ ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ بشارت جنگ سے پہلے دی گئی ہے۔ بعد کی آیت میں بارش کے نزول کا ذکر ہے، ہر شخص جانتا ہے کہ یہ واقعہ بھی جنگ سے پہلے ہوا ہے۔ پھر ان دونوں کے بیچ میں ایک ایسی بات کیسے آ سکتی ہے جس کا تعلق معرکۂ کارزار سے ہو؟ قرآن نے اپنی ترتیب بیان ہی سے واقعہ کا موقع و محل نہایت خوبی سے واضح کر دیا ہے لیکن آفت یہ ہے کہ لوگ قرآن پر غور ہی نہیں کرتے۔
      ممکن ہے یہاں کسی کو یہ شبہ پیدا ہو کہ قرآن نے یہاں ’نُعَاس‘ کا لفظ استعمال کیا ہے جو عربی میں ابتدائی نیند یعنی اونگھ اور جھپکی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اگر مقصود اطمینان کی نیند کا بیان کرنا ہوتا تو ’نوم‘ یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ استعمال ہوتا۔ ہمارے نزدیک یہ شبہ کچھ وزن نہیں رکھتا۔ اول تو یہ خیال کیجیے کہ شدید پریشانی میں آدمی جس چیز سے محروم ہو جاتا ہے وہ ابتدائی نیند ہی ہے، وہ اگر کسی طرح آ جائے اور ذرا آنکھ لگ جائے تو آدمی کچھ سو ہی لیتا ہے۔ خدا نے اپنے فضل خاص سے یہ چیز مسلمانوں پر اڑھا دی، جیسا کہ ’یُغَشِّیْکُمُ‘ کے لفظ سے عیاں ہے اسی وجہ سے مسلمان سو لیے۔ دوسری بات یہ کہ سفر یا میدان جنگ میں گھوڑے بیچ کر اور مردوں سے شرط باندھ کر تو کوئی ذی ہوش بھی نہیں سوتا، جو بھی سوتا ہے وہ جھپکی والی نیند ہی سوتا ہے۔ اس وجہ سے ہمارے نزدیک قرآن نے یہ لفظ نہایت برمحل اور بلیغ استعمال کیا ہے۔
      اس سلسلہ کی تیسری تائید الٰہی بارش کے ذریعے تائید: ’وَیُنَزِّلُ عَلَیْکُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَھِّرَکُمْ بِہ وَیُذْھِبَ عَنْکُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ‘ یہ تیسری تائید الٰہی کا حوالہ ہے کہ عین موقع پر اللہ تعالیٰ تمہارے لیے آسمان سے پانی برسا دیتا ہے۔ یہاں ’مِنَ السَّمَآءِ‘ کے الفاظ بڑے بامعنی ہیں۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار نے پہلے پہنچ کر پانی کے چشمہ پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس وجہ سے پانی کے باب میں مسلمانوں کو بڑی تشویش تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ’مِنَ السَّمَآءِ‘ کے الفاظ سے گویا اپنے اس التفات خاص کی طرف مسلمانوں کی توجہ دلائی کہ کفار نے جب تمہیں زمین کے پانی سے محروم کرنے کی تدبیر کی تو وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ تمہارے رب نے تمہارے لیے آسمان سے پانی بھیج دیا۔
      ’لِّیُطَھِّرَکُمْ‘ میں پانی کا جو فائدہ بتایا ہے اس سے صحابہ کے ذوق و رجحان پر روشنی پڑتی ہے کہ ایمان و اسلام نے ان کے اقدار اور پیمانے کس قدر بدل دیے تھے۔ پانی کا یہ فائدہ کہ پیا جاتا ہے ہر آدمی کو معلوم ہے بلکہ بیل اور گدھے بھی اس سے واقف ہیں۔ مومن کی نگاہ میں پانی کا اصلی فائدہ اور اس کی حقیقی قدر و قیمت اس بات میں ہے کہ وہ پاکیزگی اور طہارت کا ذریعہ اور شیطانی وسوسوں کے دور کرنے کا واسطہ ہے اور یہ چیز اللہ کو بہت محبوب ہے۔ صحابہ نے اس موقع پر پانی کے مسئلہ پر غور کیا ہو گا تو ان کے سامنے پینے کی ضرورت سے زیادہ اہمیت کے ساتھ یہ بات آئی ہو گی کہ وضو کیسے ہو گا، طہارت کے لیے کیا بنے گا، غسل کی ضرورت پیش آئی تو کیا صورت ہو گی؟ ان کی اس مخصوص پریشانی کی وجہ سے، جو ان کے جوش ایمان کا مظہر تھی، اللہ تعالیٰ نے پانی کی ان روحانی برکات کا خاص طور پر ذکر فرمایا اور اس کے عام حیوانی فوائد سے صرف نظر فرمایا کہ وہ تو سبھی کے علم میں ہیں۔
      ’رِجْزَ الشَّیْطٰنِ‘ سے مراد: ’رِجْزَ الشَّیْطٰنِ‘ سے مراد شیطانی وساوس ہیں۔ اس کے ذکر کا بھی ایک خاص محل ہے، آدمی جب ناپاکی کی حالت میں ہو تو جس طرح گندی چیزوں پر مکھیوں کا زیادہ ہجوم ہوتا ہے، اسی طرح گندگی کی حالت میں شیطانی وساوس کا بھی آدمی پر زیادہ غلبہ ہوتا ہے۔ یہ حقیقت بعض احادیث میں بھی بیان ہوئی ہے۔ علاوہ بریں یہ بات بھی ہے کہ اگر پانی جیسی ناگزیر شے کی نایابی کا سوال پیدا ہو جائے اور وہ بھی عین جنگ کی حالت میں تو شیطان اس کی آڑ میں ایسی بددلی اور مایوسی پھیلا سکتا ہے کہ بہتوں کا ایمان متزلزل ہو جائے۔
      نیند کے فوائد کی تفصیل: ’وَلِیَرْبِطَ عَلٰی قُلُوْبِکُمْ وَیُثَبِّتَ بِہِ الْاَقْدَامَ‘ (۱۱) ’ربط اللّٰہ علی قلبہ: قَوَّاہُ وصبَّرَہ‘ خدا نے اس کے دل کو مضبوط کر دیا، اس کو اثبات قلب بخشا، اس کو تھام لیا۔ عام طور پر لوگوں نے اس اثبات قلب اور ثبات قدم کو بھی مذکورہ بارش ہی کے تحت شمار کیا اور اس پہلو سے اس ٹکڑے کی تاویل کی ہے لیکن میرا رجحان یہ ہے کہ یہ اس نیند کے فوائد کی تفصیل ہے جس کا اوپر ذکر ہے۔ میرے رجحان کے وجوہ حسب ذیل ہیں۔
      اول یہ کہ ’لِیَرْبِطَ‘ میں ’ل‘ کا اعادہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ بعینہ ’لِّیُطَھِّرَکُمْ بِہ وَیُذْھِبَ عَنْکُمْ رِجْزَ الشَّیْطٰنِ‘ کے تحت نہیں ہے۔ ایسا ہوتا تو بغیر اعادہ ’ل‘ کے آتا جس طرح ’وَیُذْھِبَ‘ ہے۔ فصیح عربی میں اسلوب بیان یہی ہے۔ کلام عرب اور قرآن کے نظائر سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ اس کتاب میں اس کی ایک سے زیادہ مثالیں گزر چکی ہیں۔ بقرہ میں ہے:

      ’یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَلَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ وَلِتُکْمِلُوا الْعِدَّۃَ وَلِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ھَدٰکُمْ وَلَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ‘ (۱۸۵ بقرہ)
      (اور اللہ تمہارے لیے سہولت چاہتا ہے، تنگی نہیں چاہتا اور تاکہ تم تعداد پوری کرو اور تاکہ تم اس ہدایت پر جو اس نے تم کو بخشی ہے اس کی بڑائی کرو اور تاکہ تم شکرگزار رہو)

      ہم نے اس آیت کے تحت وضاحت کی ہے کہ یہ اوپر کے بیان کردہ احکام کی الگ الگ علتیں واضح کی گئی ہیں اس وجہ سے ہر ایک کے ساتھ ’ل‘ کا اعادہ کیا گیا اور ترتیب بیان نزولی نہیں بلکہ صعودی ہے یعنی نیچے سے اوپر کو چڑھتے ہوئے ایک ایک حکم کی غایت واضح کی گئی ہے۔ بالکل اسی اصول پر یہاں بھی ترتیب صعودی ہے۔ پانی کا ذکر سب سے آخر میں ہے، پہلے اس کا فائدہ بیان کیا گیا ہے۔ پھر نیند کا فائدہ بیان ہوا جس کا ذکر اوپر تھا اور ’ل‘ کا اعادہ کر کے یہ اشارہ فرما دیا کہ اس کا تعلق قریبی شے سے نہیں ہے بلکہ دوسری چیز سے ہے۔
      دوم یہ کہ ثبات قلب، سکون دماغ اور ثبات قدم کا واضح تعلق نیند ہی سے ہے اسی وجہ سے قرآن نے اس کو ’امنۃ‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اگر رات بے خوابی اور پریشانی میں گزر رہی ہو تو دماغ اڑا اڑا پھرتا ہے، دل پراگندہ اور پریشان رہتا ہے۔ آدمی قدم رکھتا کہیں ہے، پڑتے کہیں ہیں۔ ایسی ذہنی اور قلبی پریشانی میں آدمی کوئی چھوٹے سے چھوٹا کام بھی سلیقہ سے نہیں کر پاتا چہ چائیکہ دشمن سے مقابلہ اور وہ بھی اس دور کی جنگ میں جس میں کامیابی کا انحصار مشینوں کی قوت پر نہیں بلکہ لڑنے والوں کے اعصاب کی چستی اور قوت پر تھا۔ یہ بات بھی یہاں ملحوظ رہے کہ متعدد عرب شعراء نے اپنے جنگی کارناموں کی تفصیل کرتے ہوئے یہ بات بیان کی ہے کہ ہم نے رات میں اپنے دشمن کو سونے نہیں دیا جس کے سبب سے صبح کو ان کے دل ایسے اڑے ہوئے تھے کہ ہمارے سامنے ان کے قدم نہ جم سکے۔

       

      جاوید احمد غامدی یاد کرو ، جب اللہ اپنی طرف سے تمھاری تسکین کے لیے تم پر اونگھ طاری کر رہا تھا اور آسمان سے تم پر پانی برسا رہا تھا کہ اُس کے ذریعے سے تمھیں پاک کرے اور تم سے شیطان کی نجاست دور کرے اور (تمھیں کچھ دیر کے لیے سلا کر) تمھارے دلوں کو اِس سے مضبوط کرے اور تمھارے قدم جما دے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      آیت میں مضارع کا صیغہ ہے۔ اِس کے ساتھ حرف’إذ‘ہو تو فعل ناقص کی ضرورت نہیں ہوتی، اُس کا مفہوم آپ سے آپ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہی صورت اِس سے پیچھے ’یَعِدُکُمْ‘ اور ’تَسْتَغِیْثُوْنَ‘ میں بھی ہے۔ آیت میں نیند کے بجاے اونگھ کا ذکر ہوا ہے، اُس کی وجہ یہ ہے کہ اِس طرح کی صورت حال میں اونگھ آجائے تو آدمی کچھ سو ہی لیتا ہے۔ چنانچہ یہ لفظ نہایت برمحل استعمال ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل خاص سے یہ چیز مسلمانوں پر اڑھا دی، جیسا کہ ’یُغَشِّیْکُمْ‘ کے لفظ سے واضح ہے اور وہ جنگ سے پہلے رات میں سو لیے۔ اِس سے اُن کے اعصاب اور دل و دماغ کو اتنا سکون حاصل ہو گیا کہ وہ تازہ دم ہو کر میدان میں اتر سکیں۔ یہ فی الواقع خدا کی تائید کا ظہور تھا، اِس لیے کہ جہاں صبح ایک دل بادل فوج کا سامنا کرنا ہو، وہاں رات میں سو لینا آسان نہیں ہوتا۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... میدان جنگ میں فوج کے لیے سو لینے کا موقع مل جانا ہی اول تو بڑی نعمت ہے، لیکن اِس سے بڑی نعمت اِس موقع سے صحیح فائدہ اٹھا سکنا ہے۔ اِس لیے کہ نیند کے لیے موقع مل جانا ہی کافی نہیں ہے، بلکہ اِس کا اصلی انحصار دل و دماغ کی حالت پر ہے اور یہ چیز ہر ایک کو حاصل نہیں ہوتی، اُنھی کو حاصل ہو تی ہے جن پر خداے مقلب القلوب اپنے فضل خاص سے یہ سکینت طاری کر دے۔‘‘(تدبرقرآن ۳/ ۴۴۵)

      یعنی زمین کا پانی اگر میسر نہیں تھا تو اپنی عنایت خاص سے اُس نے آسمان کو حکم دیا کہ وہ اپنا پانی برسا دے۔ رات کی نیند اور اِس سے پہلے فرشتوں کے اترنے کی بشارت کے بعد یہ تیسری تائید الٰہی ہے جو بدر کے موقع پر ظاہر ہوئی۔
      یہ اُن وساوس کی طرف اشارہ ہے جو ناپاکی کی حالت میں ہجوم کر سکتے اور عین میدان جنگ میں لوگوں کو خدا کی یاد اور اُس کی تائید و نصرت پر اعتماد سے محروم کر سکتے تھے۔ یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ پانی کے حیوانی فوائدچونکہ ہر شخص کے علم میں ہیں ، اِس لیے اللہ نے اُن سے صرف نظر فرمایا اور اُن کے بجاے پانی کی روحانی برکات کا ذکر کیا ہے۔ بندۂ مومن کے لیے زیادہ اہمیت اِنھی کی ہوتی ہے۔ اِس موقع پر بھی صحابۂ کرام کو زیادہ پریشانی یہی ہو سکتی تھی کہ نماز کے لیے وضو کیسے ہو گا، طہارت کے لیے کیا کریں گے اور غسل کی ضرورت پیش آگئی تو اُس کے لیے کیا صورت اختیار کی جائے گی؟
      اصل الفاظ ہیں: ’وَلِیَرْبِطَ عَلٰی قُلُوْبِکُمْ وَیُثَبِّتَ بِہِ الْاَقْدَامَ‘۔ یہ دونوں باتیں پانی سے نہیں، بلکہ نیند سے متعلق ہیں۔ اپنی نوعیت کے لحاظ سے یہ نیند ہی سے متعلق ہو سکتی ہیں۔ قرآن نے یہاں ترتیب صعودی کا طریقہ اختیار کیا ہے، یعنی پہلے پانی اور اُس کے بعد نیند کے فوائد بیان کیے ہیں۔ یہی اسلوب سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۱۸۵ میں بھی ہے۔ ’وَلِیَرْبِطَ‘ میں حرف ’ل‘ کا اعادہ اِسی لیے کیا گیا ہے۔

       

    • امین احسن اصلاحی یاد کرو جب تمہارا رب فرشتوں کو وحی کرتا ہے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تو تم ایمان والوں کو جمائے رکھو۔ میں کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا تو مارو ان کی گردنوں پر اور مارو ان کے پور پور پر۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’اِذْ یُوْحِیْ رَبُّکَ اِلَی الْمَآٰءِکَۃِ‘ یہاں ملائکہ سے مراد ملائکہ کی وہی فوج ہے جس کی اوپر بشارت دی گئی۔ یہ فوج براہ راست رب الافواج کی کمان میں تھی اس وجہ سے اس کو احکام بھی براہ است اسی کی طرف سے ملتے تھے اور ان احکام کا ذریعہ وحی الٰہی تھی اس لیے کہ فرشتے بھی بایں علوِ مرتبت خدا تک براہ راست رسائی نہیں رکھتے۔
      خدا کی شان اسباب کے پردے سے ظاہر ہوتی ہے: ’اَنِّیْ مَعَکُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا‘ یہ پہلا حکم ہے جو اس فوج کو ملا۔ ارشاد ہوا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تو تم مسلمانوں کو ثابت قدم رکھو۔ اس سے ایک بات تو یہ نکلی کہ خدا کی معیت کے بغیر فرشتے بھی کچھ نہیں کر سکتے۔ دوسری یہ کہ فرشتوں کا کام بھی بہرحال یہ نہیں تھا کہ وہ مسلمانوں سے یہ کہہ دیں کہ تم الگ ہو کر بیٹھو، ہم لڑ کر تمہارے لیے میدان جیتے دیتے ہیں بلکہ ان کا فریضۂ منصبی مسلمانوں کو ثابت قدم رکھنا تھا۔ گویا اصلی چیز مسلمانوں کی خود اپنی شجاعت اور ثابت قدمی تھی۔ مسلمان اپنا یہ جوہر دکھائیں تو خدا کی مدد ان کے ساتھ ہے۔ سنت الٰہی یہی ہے کہ خدا کے ہاتھ ہمیشہ اسباب کے اوٹ سے کام کرتے ہیں۔
      اصل طاقت حوصلہ ہے: ’سَاُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوا الرُّعْبَ‘ مطلب یہ کہ اہل ایمان اپنی ثابت قدمی کا ثبوت دے دیں۔ پھر زیادہ دیر نہیں گزرے گی کہ میں کافروں کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈال دوں گا۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھنے کی ہے کہ فوج کی اصلی قوت اس کے حوصلہ (MORALE) میں ہوتی ہے۔ اگر حوصلہ بحال رہے تو سپاہی بے تیغ و تفنگ بھی لڑتا ہے اور اگر حوصلہ ٹوٹ جائے تو اسلحہ کے بڑے بڑے ذخیرے غنیم کے لیے چھوڑ کر فوج بھاگ کھڑی ہوتی ہے تو یہ جو فرمایا کہ میں ان کے دلوں میں رعب ڈال دوں گا، یہ کوئی معمولی بات نہیں ہوئی بلکہ یہ تعبیر ہوئی ان کی کمر توڑ دینے کی۔
      ’فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْاَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْا مِنْھُمْ کُلَّ بَنَانٍ‘ یہ ان کی مرعوبیت کے نتیجہ کی نہایت حقیقت افروز تعبیر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب ان کا حوصلہ ٹوٹ جائے گا تو ان کو بھیڑوں بکریوں بلکہ گاجر مولی کی طرح کاٹ کر ڈال دو۔ ان کی گردنوں کے اوپر مارو، ان کے ایک ایک پور پر مارو، یہ تصویر ہے مرعوبیت کے باعث ان کی بے بسی کی۔ حریف میں جب تک دم خم ہوتا ہے ظاہر ہے کہ اس بات کا موقع وہ مشکل ہی سے دیتا ہے کہ آپ جہاں چاہیں اس کے مار دیں لیکن جب اعصاب ڈھیلے پڑ گئے تو پکڑ کر اس کی چندیا پر جوتے لگا دیجیے وہ چوں بھی نہ کر سکے گا۔ تعیین محل کے ساتھ جب کسی کو مارنے کے لیے کہا جائے تو اس میں اس کی تحقیر و تذلیل بھی مدنظر ہوتی ہے اور اس سے اس کی بے بسی کی طرف بھی اشارہ ہوتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی یاد کرو، جب تمھارا پروردگار فرشتوں کو وحی کر رہا تھا کہ میں تمھارے ساتھ ہوں تو ایمان والوں کو ثابت قدم رکھو۔ میں اِن منکروں کے دلوں میں رعب ڈالے دیتا ہوں، سو تم اِن کی گردنوں پر مارو اور اِن کے پور پور پر چوٹ لگاؤ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے معلوم ہوا کہ فرشتے بھی اپنے علو مرتبت کے باوجود خدا تک براہ راست رسائی نہیں رکھتے۔ اُس کے احکام اُنھیں بھی وحی کے ذریعے سے ہی ملتے ہیں۔
      اِس سے دو باتیں معلوم ہوئیں: ایک یہ کہ فرشتے بھی خدا کی معیت کے بغیر کچھ نہیں کر سکتے۔دوسری یہ کہ بدر کی جنگ میں بھی اصلی چیز مسلمانوں کی اپنی شجاعت اور ثابت قدمی تھی۔ فرشتوں کا کام اُنھیں ایک طرف بٹھا کر خود لڑنا نہیں تھا، بلکہ منکروں کو ٹھیک اُن کے سامنے کر دینا اور اُنھیں ثابت قدم رکھنا تھا۔
      لڑنے والوں کی اصلی طاقت اُن کے حوصلے میں ہوتی ہے، اِس لیے یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ اِس کے معنی یہ تھے کہ منکرین جو کچھ کر سکتے ہیں، وہ بھی نہیں کر سکیں گے۔
      یعنی مسلمانوں کی تلواروں سے۔ یہ اُس بے بسی کی تصویر ہے جو مرعوبیت کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... حریف میں جب تک دم خم ہوتا ہے، ظاہر ہے کہ اِس بات کا موقع وہ مشکل ہی سے دیتا ہے کہ آپ جہاں چاہیں، اُس کے مار دیں، لیکن جب اعصاب ڈھیلے پڑ گئے تو پکڑ کر اُس کی چندیا پر جوتے لگا دیجیے، وہ چوں بھی نہ کر سکے گا۔ تعیین محل کے ساتھ جب کسی کو مارنے کے لیے کہا جائے تواِ س میں اُس کی تحقیر و تذلیل بھی مدنظر ہوتی ہے اور اِس سے اُس کی بے بسی کی طرف بھی اشارہ ہوتا ہے۔‘‘ (تدبر قرآن ۳/ ۴۴۹)

       

    • امین احسن اصلاحی یہ اس سبب سے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے مقابلہ کو اٹھے ہیں اور جو اللہ و رسول کے مقابلہ کو اٹھتے ہیں تو اللہ ان کے لیے سخت پاداش والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ شَآقُّوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ وَمَنْ یُّشَاقِقِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ‘ یہ وجہ بیان ہوئی اس بات کی کہ کیوں خدا ان کے دلوں میں رعب ڈال دے اور کیوں یہ مسلمانوں کے ہاتھوں گاجر مولی کی طرح کاٹے جائیں گے؟ فرمایا کہ اس لیے کہ یہ اللہ و رسول کے مقابلہ کے لیے اٹھے ہیں اور جو لوگ اللہ و رسول سے مقابلہ کے لیے اٹھتے ہیں اللہ ان کو شدید پاداش سے دوچار کرتا ہے۔ انسانی فطرت کے اندر خدا اور خدا کے رسول سے لڑنے کے لیے کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ لڑائی کا جواز وہاں ہوتا ہے جہاں کسی حق کی حفاظت مدنظر ہو اور اسی صورت میں لڑائی کا حوصلہ بھی ابھرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ خدا کے مقابل میں کسی حق کا سوال پیدا نہیں ہوتا اس وجہ سے اس قسم کی جہالت کے لیے جو لوگ اٹھتے ہیں وہ اٹھیں چاہے طوفان کی طرح لیکن مقابلہ پیش آ جائے تو بیٹھ جاتے ہیں بلبلے کی طرح۔ اس لیے کہ ان کے حوصلہ کی بنیاد کسی حق پر نہیں ہوتی۔

      جاوید احمد غامدی یہ اِس لیے کہ یہ اللہ اور اُس کے رسول کے مقابلے کو اُٹھے ہیں اور جو اللہ اور اُس کے رسول کے مقابلے کو اٹھتے ہیں تو اللہ (اُن کے لیے) سخت سزا دینے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی سو یہ تو نقد چکھو اور کافروں کے لیے دوزخ کا عذاب ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’ذٰلِکُمْ فَذُوْقُوْہُ وَاَنَّ لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ‘۔ اوپر خطاب مسلمانوں سے تھا۔ یہ اثنائے کلام میں ایک بات قریش کو مخاطب کر کے فرما دی کہ یہ جو کچھ بدر میں تمہارے سامنے پیش آیا ہے یہ نقد عاجل ہے اس کو چکھ لو اور دوزخ کے عذاب کا انتظار کرو۔ یہ گویا ’اِنَّ اللّٰہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ‘ کی وضاحت ہوئی کہ خدا کی طرف سے جو پاداش تمہارے لیے مقرر ہے اس کو اسی پر ختم نہ سمجھو، اصل پاداش کی جگہ دوزخ ہے۔ اس کا انتظار کرو۔

      جاوید احمد غامدی یہ ہے (تمھاری سزا)، سو اِسے ابھی چکھو اور جان لو کہ( آگے) منکروں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      قرآن کے عام اسلوب کے مطابق اثناے کلام میں خطاب کا رخ پھر گیا ہے اور یہ بات قریش کو مخاطب کرکے فرما دی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اے ایمان والو، جب تمہارا کفار سے مقابلہ ہو فوج کشی کی صورت میں تو ان کو پیٹھ نہ دکھائیو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’زحف‘ کا مفہوم: ’اِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا زَحْفًا‘ ’زحف‘ کے اصل معنی گھسل گھسل کر یا گھٹنوں پر چلنے کے ہیں۔ یہیں سے یہ کسی بھاری بھرکم، ساز و سامان سے لدے پھندے لشکر کے جنگ کے لیے نکلنے کے معنی میں استعمال ہوا اس لیے کہ وہ بھی آہستہ آہستہ ہی مارچ کرتا ہے۔ یہ ملحوظ رہے کہ لفظ کا یہ استعمال اس مشینی دور کا نہیں بلکہ اس دور کا ہے جب فوج کی نقل و حرکت گھوڑوں، گدھوں اور اونٹ وغیرہ کے ذریعہ ہوتی تھی۔
      عرب میں جنگ کے دو معروف طریقے: عرب میں جنگ کے دو طریقے معروف تھے۔ ایک منظم فوج کشی کا، دوسرا وہ جس کو اس زمانے میں گوریلا وارفیر کہتے تھے۔ گوریلا وارفیر کا اصول یہ تھا کہ حملہ کرو، لوٹو اور بھاگ جاؤ۔ اس کو کہتے بھی کروفر کی جنگ تھے۔ اس کے لیے چھوٹے چھوٹے دستے نکلتے اور چھاپہ مار کر اپنی جاپناہوں میں چھپ جاتے تھے۔ اس کا کوئی مخصوص ضابطہ نہیں تھا بس جس طرح کامیاب چھاپہ مارا جا سکے اور اپنے آپ کو بچایا جا سکے وہی اس کا اصلی ہنر تھا۔
      منظم فوج کشی کا معاملہ اس سے بالکل مختلف تھا۔ اس کے لیے ایک ضابطہ تھا جس کی پابندی اہل لشکر کو بھی کرنی پڑتی تھی اور فریقین جنگ بھی، جو آپس میں لڑتے تھے، اس کا احترام ملحوظ رکھتے تھے۔ یہاں آیت میں زیربحث وہی منظم فوج کشی والی صورت ہے چنانچہ اس بات کو ظاہر کرنے کے لیے ’زَحْفًا‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ اس حکم کا تعلق گوریلا وارفیر کی صورت سے نہیں ہے۔
      آئندہ کی جنگوں سے متعلق ضروری ہدایت: اب یہ مسلمانوں کو آیندہ پیش آنے والی جنگوں سے متعلق ہدایت دی جا رہی ہے کہ جب منظم فوج کشی کی شکل میں دشمن سے تمہارا مقابلہ ہو تو پیٹھ نہ دکھانا۔ یہ ہدایت اللہ تعالیٰ کی انہی تائیدات پر مبنی ہے جو اوپر مذکور ہوئی ہیں کہ جن کی پشت پر خدا اور اس کے فرشتے یوں مدد و نصرت کے لیے کھڑے ہوں ان کے لیے حرام ہے کہ وہ اپنی پیٹھ دشمن کو دکھائیں۔

      جاوید احمد غامدی ایمان والو،جب اِن منکروں سے تمھارا مقابلہ باقاعدہ فوج کشی کی صورت میں ہو تو اِنھیں پیٹھ نہ دکھاؤ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی گوریلا وارفیر یا کروفر کی جنگ کی صورت میں نہیں، جس میں حملہ کرو، لوٹو اور بھاگ جاؤ کے اصول پر جنگ کی جاتی ہے، بلکہ جب منظم فوج کشی کے طریقے پر مقابلہ ہو۔

    • امین احسن اصلاحی اور جو ان کو اس وقت پیٹھ دکھائے گا، بجز اس کے کہ جنگ کے لیے پینترا بدلنا چاہتا ہو یا کسی جماعت کی طرف سمٹ رہا ہو، تو وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹا، اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ نہایت ہی برا ٹھکانا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      جنگ میں پیٹھ دکھانے کے جرم کی شدت: ’وَمَنْ یُّوَلِّھِمْ یَوْمَءِذٍ دُبُرَہ‘ الایہ ایسی صورت میں جو لوگ دشمن کو پیٹھ دکھائیں گے فرمایا کہ وہ خدا کا غضب لے کر لوٹیں گے اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ جرم کفر و ارتداد کے برابر ہے۔ اس جرم کی یہ شدت ظاہر ہے کہ اسی بنیاد پر ہے کہ جو شخص میدان جنگ سے بھاگتا ہے وہ اپنی اس بزدلی سے بسا اوقات پوری فوج بلکہ پوری ملت کے لیے ایک شدید خطرہ پیدا کر دیتا ہے۔
      ’اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰی فِءَۃٍ‘ یعنی اس سے مستثنیٰ وہ شکلیں ہیں جو کوئی سپاہی کسی جنگی تدبیر کے لیے اختیار کرتا ہے یا کوئی ایسی صورت اس کے سامنے آ گئی ہے کہ وہ اپنے ایک مورچہ سے ہٹ کر اپنے ہی کسی دوسرے مورچے کی طرف سمٹنا چاہتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حرام جو چیز ہے وہ فرار کی نوعیت کا پیٹھ دکھانا ہے، وہ پیچھے ہٹنا اس سے مستثنیٰ ہے جو تدبیر جنگ کی نوعیت کا ہو۔

      جاوید احمد غامدی اور (خوب سمجھ لو کہ) جو اُس وقت اِن کو پیٹھ دکھائے گا، الاّ یہ کہ جنگ کے لیے پینترا بدلنا چاہتا ہو یا اپنی فوج کے کسی دوسرے حصے سے ملنا چاہتا ہو تو وہ خدا کا غضب لے کر لوٹا۔ اُس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ نہایت برا ٹھکانا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے معلوم ہوا کہ خدا کے حکم پر اورقتال فی سبیل اللہ کے لیے میدان میں اترنے کے بعد بزدلی اور فرار کی نوعیت کا پیٹھ دکھانا حرام ہے۔ کسی صاحب ایمان کو ہرگز اِس کا ارتکاب نہیں کرنا چاہیے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی نصرت پر بے اعتمادی، دنیا کی آخرت پر ترجیح اور موت و حیات کو اپنی تدبیر پر منحصر قرار دینے کا جرم ہے جس کی ایمان کے ساتھ کوئی گنجایش نہیں مانی جا سکتی۔

    • امین احسن اصلاحی پس تم لوگوں نے ان کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا اور جب تو نے ان پر خاک پھینکی تو تم نے نہیں پھینکی بلکہ اللہ نے پھینکی کہ اللہ اپنی شانیں دکھائے اور اپنی طرف سے اہل ایمان کے جوہر نمایاں کرے۔ بے شک اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      پیغمبر صلعم کی آستین سے دست غیب کے کارنامے: ’فَلَمْ تَقْتُلُوْھُمْ‘ میں خطاب عام مسلمانوں سے ہے اور ’وَمَا رَمَیْتَ‘ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ اس وجہ سے دونوں میں جمع اور واحد کا فرق ہے۔ ’رمی‘ تیر مارنے، کنکر پتھر پھینکنے، خاک اور راکھ جھونکنے، سبھی کے لیے آتا ہے۔ روایات میں ہے کہ جب کفار کی فوجیں سامنے ہوئیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹھی بھر خاک زمین سے اٹھائی اور ’شاھت الوجوہ‘ کہہ کر کفار کی طرف پھینکی۔ ’شاھت الوجوہ‘ عربی میں لعنت کا فقرہ ہے اور کسی کے اوپر خاک جھونکنا نہایت قدیم زمانہ سے لعنت کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ تورات میں بھی اس کا ذکر آتا ہے اور عرب کی روایات سے بھی اس کا پتہ چلتا ہے۔ سورۂ فیل کی تفسیر میں مولانا فراہی نے اس کے حوالے دیے ہیں۔
      یہاں زبان کا یہ اسلوب بھی نگاہ میں رہے کہ بعض مرتبہ فعل کی نفی سے مقصود نفس فعل کی نفی نہیں ہوتی بلکہ اس فعل کے ساتھ ان شان دار نتائج کی نسبت کی نفی ہوتی ہے جو اس فعل کے پردے میں ظاہر ہوئے۔ مٹھی بھر نہتے مسلمانوں کا قریش کی دل بادل غرق آہن فوج کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر ڈال دینا یا آنحضرت کے دست مبارک سے پھینکی ہوئی چٹکی بھر خاک کا ایک ایسا طوفان بن جانا کہ تمام کفار کو اپنی اپنی آنکھوں کی پڑ جائے، یہ مسلمانوں کی چیتھڑوں میں لپٹی ہوئی تلواروں یا پیغمبر کی ’رمی‘ کے کارنامے نہیں تھے بلکہ اس دست غیب کے کارنامے تھے جو مسلمانوں کی میانوں اور پیغمبر عالم کی آستینوں میں چھپا ہوا تھا۔ ’اَبْلٰی فُلَانٌ فِی الْحَرْبِ بَلَآءً حَسَنًا‘ کے معنی ہوں گے اس نے میدان جنگ میں خوب خوب اپنی بہادری کے جوہر دکھائے یہاں تک کہ سب نے اس کا لوہا مان لیا۔ ’اَبْلٰی اللّٰہُ عِبَادَہٗ بَلَآءً حَسَنًا‘ کے معنی ہوں گے کہ اللہ نے اپنے بندوں کے اچھے جوہر نمایاں کیے۔ ’وَلِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ‘ کا معطوف علیہ یہاں عربیت کے معروف قاعدے کے مطابق محذوف ہے۔ اس لیے کہ اوپر کے الفاظ سے وہ خود بخود واضح ہے۔ اس محذوف کو کھول دیجیے تو گویا پوری بات یوں ہو گی تاکہ اللہ اپنی نصرت کی شانیں دکھائے اور مسلمانوں کے جوہر اچھی طرح نمایاں کر دے۔
      ’اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ‘ اللہ تعالیٰ کی صفات سمع و علم کے حوالے سے یہاں مقصود مسلمانوں کو یہ اطمینان دلانا ہے کہ خدا کسی بات سے بھی بے خبر نہیں۔ وہ اپنے بندوں کی دعائیں اور فریادیں ہر وقت سنتا اور ان کی ضرورتیں اور حاجتیں ہر لمحہ جانتا ہے۔ بدر میں اس کی تائیدات کا بروقت ظہور اس کی تازہ شہادت ہے۔

      جاوید احمد غامدی (ایمان والو، تم کیوں جان چراؤ، جبکہ تمھاری طرف سے خدا لڑتا ہے)؟ سو (حقیقت یہ ہے کہ اِس جنگ میں) تم نے اِن کو قتل نہیں کیا، بلکہ اللہ نے اِن کو قتل کیا ہے اور، (اے پیغمبر)، جب تو نے اِن پر (خاک) پھینکی تو تو نے نہیں پھینکی، بلکہ اللہ نے پھینکی ہے، (اِس لیے کہ منکروں کو اپنی شانیں دکھائے) اور اِس لیے کہ مسلمانوں پر اللہ اپنی طرف سے خوب عنایت فرمائے۔ بے شک، اللہ سمیع و علیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      روایتوں میں بیان ہوا ہے کہ جب مسلمانوں اور کفار کے لشکر آمنے سامنے ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹھی بھر خاک زمین سے اٹھائی اور ’شاھت الوجوہ‘ کہہ کر کفار کی طرف پھینک دی۔* یہ لعنت کا جملہ اور قدیم ترین زمانے سے لعنت کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ مسلمان اِس کے ساتھ ہی یک بارگی حملہ آور ہوگئے۔ قرآن میں یہ اِسی واقعے کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’یہاں زبان کا یہ اسلوب بھی نگاہ میں رہے کہ بعض مرتبہ فعل کی نفی سے مقصود نفس فعل کی نفی نہیں ہوتی، بلکہ اِس فعل کے ساتھ اُن شان دار نتائج کی نسبت کی نفی ہوتی ہے جواِ س فعل کے پردے میں ظاہر ہوئے۔ مٹھی بھر نہتے مسلمانوں کا قریش کی دل بادل غرق آہن فوج کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر ڈال دینا یا آں حضرت کے دست مبارک سے پھینکی ہوئی چٹکی بھر خاک کا ایک ایسا طوفان بن جانا کہ تمام کفار کو اپنی اپنی آنکھوں کی پڑ جائے، یہ مسلمانوں کی چیتھڑوں میں لپٹی ہوئی تلواروں یا پیغمبرکی ’رمی‘ کے کارنامے نہیں تھے، بلکہ اُس دست غیب کے کارنامے تھے جو مسلمانوں کی میانوں اور پیغمبر عالم کی آستینوں میں چھپا ہوا تھا۔‘‘(تدبرقرآن۳/ ۴۵۱)

      اصل الفاظ ہیں: ’وَلِیُبْلِیَ الْمُؤْمِنِیْنَ مِنْہُ بَلَآءً حَسَنًا‘۔ اِس کا معطوف علیہ یہاں عربیت کے معروف قاعدے کے مطابق حذف کر دیا ہے، اِس لیے کہ اوپر کے الفاظ سے وہ خودبخود واضح ہو رہا ہے۔
      _____
      * السیرۃ النبویہ، ابن ہشام ۲/ ۲۴۵۔

       

    • امین احسن اصلاحی یہ جو کچھ ہوا سامنے ہے اور اللہ کافروں کے سارے داؤں بے کار کر کے رہے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’ذٰلِکُمْ وَاَنَّ اللّٰہَ مُوْھِنُ کَیْدِ الْکٰفِرِیْنَ‘ ’ذٰلِکُمْ‘ جب اس طرح آتا ہے تو یہ پورے جملے کا قائم مقام ہوتا ہے اور اس کے بعد جو حرف ربط آتا ہے اس کا تعلق مخفی مضمون سے ہوتا ہے جو اس کے اندر مضمر ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ خدا کی تائید و نصرت کی یہ شانیں جو ظاہر ہوئیں یہ تمہارے لیے نقد ہیں اور مزید براں یہ ہے کہ خدا کفار کی ساری چالیں جو وہ تمہارے خلاف چلیں گے بودی ثابت کرتا رہے گا۔ غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ یہ جملہ ٹھیک ٹھیک اوپر کے جملہ ’ذٰلِکُمْ فَذُوْقُوْہُ وَاَنَّ لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ‘ کا مدمقابل جملہ ہے یعنی کفار کے لیے یہ چپت نقد ہے جو ان کو بدر میں لگی اور تمہارے لیے یہ فتح عظیم نقد ہے جو تمہیں حاصل ہوئی اب آگے ان کے لیے دوزخ ہے اور تمہارے لیے یہ بشارت کہ کفار کی سازشوں کے تمام تار و پود بکھر جائیں گے اور دین حق کا بول بالا ہو گا۔
      جنگ بدر کفار کی ایک سازش تھی: ’کَیْدِ الْکٰفِرِیْنَ‘ کے الفاظ سے وہ بات صاف نکلتی ہے جس کی طرف ہم نے پیچھے اشارہ کیا ہے کہ یہ جنگ قریش کے لیڈروں کی سازش کا نتیجہ تھی۔ انھوں نے قافلۂ تجارت کی حفاظت کا بہانہ تراش کر مسلمانوں پر حملہ کر دیا لیکن اللہ تعالیٰ نے، جیسا کہ آگے آیت ۴۲ کے تحت واضح ہو گا، بروقت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سازش سے باخبر کر دیا اور مسلمان مدافعت کے لیے تیار ہو گئے۔ اس وجہ سے قرآن نے اس کو ’کید‘ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے جس کے معنی چال اور سازش کے ہیں۔ آگے آیت ۴۸ سے انشاء اللہ یہ بات بھی ثابت ہو جائے گی کہ اس شازش میں یہود بھی شریک تھے۔
      اجزا کی وضاحت کے بعد آیت کے سیاق و سباق پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ اوپر کی آیات میں مسلمانوں کو جس جان بازی و سرفروشی کی دعوت دی گئی ہے یہ اسی کی دلیل بیان ہوئی ہے کہ تم کیوں جان چراؤ اور کیوں پیٹھ دکھاؤ جب کہ تم نہیں لڑتے بلکہ تمہاری طرف سے خدا لڑتا ہے۔ لڑتا دراصل خدا ہے البتہ وہ تمہارے لیے میدان فراہم کرتا ہے کہ تمہارے جوہر نمایاں ہوں اور تم دین و دنیا دونوں کی سرفرازی حاصل کرو۔

      جاوید احمد غامدی یہ جو کچھ ہوا، تمھارے سامنے ہے اور(اِس کے ساتھ) یہ ( بشارت) بھی کہ اللہ اِن منکروں کی تمام تدبیریں بے کار کر کے رہے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں ’ذٰلِکُمْ‘ کا لفظ آیا ہے۔ یہ جب اِس طرح آتا ہے تو پورے جملے کا قائم مقام ہوتا ہے۔ ہم نے ترجمے میں اُسے کھول دیا ہے۔آگے حرف ربط ’و‘ کا تعلق اِسی جملے کے مفہوم سے ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... یہ جملہ ٹھیک ٹھیک اوپر کے جملہ ’ذٰلِکُمْ فَذُوْقُوْہُ، وَاَنَّ لِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابَ النَّارِ‘ کا مدمقابل جملہ ہے، یعنی کفار کے لیے یہ چپت نقد ہے جو اُن کو بدر میں لگی اور تمھارے لیے یہ فتح عظیم نقد ہے جو تمھیں حاصل ہوئی۔ اب آگے اُن کے لیے دوزخ ہے اور تمھارے لیے یہ بشارت کہ کفار کی سازشوں کے تمام تار و پود بکھر جائیں گے اور دین حق کا بول بالا ہو گا۔‘‘(تدبرقرآن۳/ ۴۵۲)

      اصل میں لفظ ’کَیْد‘ آیا ہے ۔ اِس سے صاف واضح ہوتا ہے کہ بدر کی جنگ مسلمانوں کے کسی اقدام کے نتیجے میں نہیں ہوئی، بلکہ قریش کے لیڈروں کی سازش کے نتیجے میں ہوئی۔ اُنھوں نے قافلۂ تجارت کی حفاظت کا بہانہ تراشا اور ایک لشکر جرار لے کر مسلمانوں کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینے کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے اِسی بنا پر اِس کو اور اِس کے بعد بھی جو کچھ وہ کریں گے، اُسے ’کَیْد‘ کے لفظ سے تعبیر فرمایا ہے، جس کے معنی چال اور سازش کے ہیں۔

       

    • امین احسن اصلاحی اگر تم فیصلہ چاہتے ہو تو تمہارے سامنے فیصلہ آ گیا اور اگر تم باز آ جاؤ تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر تم پھر یہی کرو گے تو ہم بھی یہی کریں گے اور تمہاری جمعیت تمہارے کچھ کام نہ آئے گی خواہ کتنی ہی زیادہ ہو اور بے شک اللہ مومنین کے ساتھ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      جنگ بدر فیصلہ کی میزان: اس آیت میں براہ راست قریش کو مخاطب کر لیا گیا ہے کہ بولو، اب کیا کہتے ہو؟ تم یہی تو کہتے تھے کہ اس جنگ میں جو جیتا وہ حق پر سمجھا جائے گا تو فتح تو تمہارے سامنے آ گئی۔ یہ بات بھی یہاں ملحوظ رہے کہ قریش کے لیڈروں نے اپنی کثرت تعداد کے نشہ میں اس موقع پر خوب بڑھ بڑھ کر تقریریں کیں۔ چونکہ ان کو اپنی فتح کا سو فی صدی یقین تھا اس وجہ سے انھوں نے اس جنگ کو فیصلہ کی میزان ٹھہرا لیا کہ یہ میزان جو فیصلہ کر دے گی وہ اس کو بے چون و چرا تسلیم کر لیں گے۔ ابوجہل اس جنگ کے برپا کرنے میں سب سے زیادہ سرگرم تھا۔ اس کی یہ دعا کتابوں میں مذکور ہے کہ

      ’اللھم اقطعا للرحم فاحنہ الغداۃ‘
      (اے اللہ فریقین میں سے جو سب سے زیادہ قطع رحم کا مجرم ہوا ہے تو کل اس کو کچل دیجیو)

      قرآن نے قریش کی انھی لن ترانیوں کو سامنے رکھ کر کہا کہ اگر اس جنگ کی فتح پر فیصلہ کا انحصار تھا تو اس قاضی کا فیصلہ تو صادر ہو گیا۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ غزوۂ بدر کی اسی خاص نوعیت کی بنا پر قرآن نے اس کو یوم الفرقان سے تعبیر فرمایا ہے یعنی حق و باطل کے درمیان فیصلہ کر دینے والی جنگ۔ آگے آیت ۳۲ کے تحت یہ بات بھی واضح ہو جائے گی کہ قریش علانیہ بڑی ڈھٹائی سے یہ کہتے تھے کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی دعوت حق ہے تو خدا ہم پر پتھر برسا دے یا کوئی اور عذاب ہم پر آ جائے تب ہم مان لیں گے۔
      نصیحت اور فضیحت، دونوں: ’اِنْ تَنْتَھُوْا فَھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ‘ میں نصیحت بھی ہے، فضیحت بھی۔ مطلب یہ ہے کہ بہتر ہے کہ اس سے سبق لو اور اگر سبق نہ لیا تو یاد رکھو کہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑو گے اپنی ہی شامت بلاؤ گے۔ ’وَاِنْ تَعُوْدُوْا نَعُدْ‘ میں کھلی ہوئی دھمکی ہے کہ اگر تم نے اس قسم کی شرارت پھر کی تو یاد رکھو کہ ہم کہیں چلے نہیں جائیں گے، تمہارا سر کچلنے کے لیے اسی طرح ہم پھر آ موجود ہوں گے ’وَلَنْ تُغْنِیَ عَنْکُمْ فِءَتُکُمْ شَیْءًا وَّلَوْ کَثُرَتْ‘ اور تمہاری جمعیت تمہارے کچھ کام نہ آ سکے گی، خواہ کتنی ہی زیادہ ہو، مطلب یہ ہوا کہ واحد چیز جو تم سوچ سکتے ہو یہی ہے کہ آیندہ مزید قوت و شوکت کے ساتھ حملہ کرو، سو یہ چیز بھی تمہارے کچھ کام آنے والی نہیں۔ بس یہ ہوگا کہ ہماری بھٹی کے لیے کچھ اور ایندھن فراہم کر کے لاؤ گے ’وَاَنَّ اللّٰہَ مَعَ الْمُؤْمِنِیْنَ‘ یہ ٹکڑا ساری آیت کی جان ہے اور اس کے دو لفظوں میں کفار کے لیے دھمکیوں کا اور اہل ایمان کے لیے بشارتوں کا ایک جہان ہے۔ فرمایا کہ اب آئے جس کو آنا ہو اور لڑے جس کو لڑنا ہو اور جمع کرے وہ جتنی جمعیت جمع کر سکتا ہو، اہل ایمان کے ساتھ ہم ہیں ہم!! سبحان اللہ

      کیا غم ہے جو ہو ساری خدائی بھی مخالف
      کافی ہے اگر ایک خدا میرے لیے ہے

       

      جاوید احمد غامدی اگر تم فیصلہ چاہتے تھے تو (قریش کے لوگو)، یہ فیصلہ آگیا ہے۔ اگر (اب بھی) باز آجاؤ تو یہ تمھارے لیے بہتر ہے اور اگر پھر یہی کرو گے تو ہم بھی یہی کریں گے اور تمھاری جمعیت، خواہ کتنی ہی زیادہ ہو، تمھارے کچھ کام نہ آئے گی۔ اورخوب سمجھ لو کہ اللہ مومنوں کے ساتھ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ قریش کو اِس جنگ میں اپنی فتح کا کامل یقین تھا۔ بدر کے لیے روانگی سے پہلے اُنھوں نے کعبے کے پردے پکڑ کر دعا مانگی تھی کہ خدایا، اُس کی مدد کر جو دونوں لشکروں میں سب سے اعلیٰ ہو، جو دونوں گروہوں میں سب سے اشرف ہو، جو دونوں قبیلوں میں سب سے بہتر ہو۔* اِس طرح خود اُنھوں نے اِس جنگ کو حق و باطل میں فیصلے کی میزان ٹھیرا لیا تھا، چنانچہ یہ فیصلہ آگیا۔ آگے آیت ۴۱ میں غزوۂ بدر کو قرآن نے ’یَوْمَ الْفُرْقَان‘ کہا ہے۔ اُس کی وجہ یہی ہے۔
      یہ پوری آیت نصیحت بھی ہے اور فضیحت بھی۔ مطلب یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ یہی سوچ سکتے ہو کہ آیندہ مزید تیاری اور قوت و شوکت کے ساتھ حملہ آور ہو گے۔ سو جان لو کہ یہ چیز بھی تمھارے کچھ کام نہ آئے گی، اِس لیے کہ اللہ مومنوں کے ساتھ ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...یہ (آخری ) ٹکڑاساری آیت کی جان ہے اور اِس کے دو لفظوں میں کفار کے لیے دھمکیوں کا اور اہل ایمان کے لیے بشارتوں کا ایک جہان ہے۔ فرمایا کہ اب آئے جس کو آنا ہو اور لڑے جس کو لڑنا ہو اور جمع کرے وہ جتنی جمعیت جمع کر سکتا ہو، اہل ایمان کے ساتھ ہم ہیں ہم!! سبحان اللہ۔‘‘ (تدبر قرآن ۳/ ۴۵۳)

      _____
      * تفسیر القرآن العظیم ۲/ ۳۹۲۔

    • امین احسن اصلاحی اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اس سے روگردانی نہ کرو جب کہ تم سن رہے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      خطاب عام، لیکن روئے سخن خاص لوگوں کی طرف: ’یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا‘ خطاب اگرچہ لفظاً عام ہے لیکن روئے سخن انہی کمزور اور منافق لوگوں کی طرف ہے جن کا ذکر شروع سے چلا آ رہا ہے۔ قرآن کا عام انداز یہی ہے کہ کمزوروں اور منافقوں کی غلطیوں پر گرفت بھی فرماتا ہے تو ان کا ذکر بصیغۂ عام ہی کرتا ہے کہ ان کا فضیحتا نہ ہو اور اگر وہ اصلاح قبول کرنا چاہیں تو قبول کر لیں۔ رہے اچھے لوگ تو وہ بہرحال اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ گویا دوسروں کی غلطیاں ان کے اپنے علم و عمل کو پختہ کرنے کے لیے مزید اسباب فراہم کر دیتی ہیں۔
      رسول سے اعراض اللہ سے اعراض کے ہم معنی ہے: ’اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ‘ میں فعل اپنے کامل معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی اللہ و رسول کی اطاعت اس طرح کرو جس طرح ایمان کا تقاضا ہے۔ ’وَلَا تَوَلَّوْا عَنْہُ وَاَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ‘ یعنی نہ کرو۔ ’وَاَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ‘ کے الفاظ ان کے رویہ کی شناعت کو ظاہر کر رہے ہیں کہ جب تم رسول کی موجودگی میں ٹھوکر کھاؤ گے تو کل کو تمہارا کیا حال ہو گا؟ جو لوگ پورے دن کی روشنی میں گرتے ہیں ان کے پاس ان کے گرنے کے لیے کوئی عذر نہیں ہو سکتا۔ ’عنْہ‘ کی ضمیر رسول کی طرف لوٹتی ہے حالانکہ اوپر ذکر اللہ و رسول دونوں کا ہے۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ رسول سے اعراض اللہ سے اعراض کے ہم معنی ہے۔ جس نے رسول سے منہ موڑ لیا اس نے خدا سے منہ موڑ لیا۔ خدا سے تعلق اور اس کی اطاعت کا واحد ذریعہ اس کا رسول ہی ہے۔

      جاوید احمد غامدی ایمان والو، اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرو، (جس طرح کہ اطاعت کا حق ہے) اور رسول (کی دعوت) سے روگردانی نہ کرو، جبکہ تم (اُس کو) سن رہے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ خطاب اگرچہ عام ہے، لیکن روے سخن اُنھی لوگوں کی طرف ہے جن کی کمزوری اور منافقت ابتدا سے زیربحث ہے۔
      آیت میں لفظ ’اَطِیْعُوْا‘ آیا ہے۔ یہ اپنے کامل معنی میں ہے۔ ہم نے ترجمہ اِسی کے لحاظ سے کیا ہے۔
      پیچھے اللہ و رسول، دونوں کا ذکر ہے، لیکن یہاں ضمیر واحد آگئی ہے۔ اِس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ رسول کی دعوت سے روگردانی اللہ سے روگردانی کے ہم معنی ہے، اِس لیے کہ خدا سے تعلق اور اُس کی اطاعت کا واحد ذریعہ اُس کا رسول ہی ہے۔
      یہ الفاظ اُن کے رویے کی شناعت کو ظاہر کرنے کے لیے آئے ہیں کہ جب رسول کی موجودگی میں اور اُس کی زبان سے براہ راست سن کر تمھارا یہ حال ہے تو آگے کیا کرو گے؟

    Join our Mailing List