Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 206 آیات ) Al-Araf Al-Araf
Go
  • الاعراف (The Heights)

    206 آیات | مکی

    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    سورۂ انعام میں، جیسا کہ تفصیل سے واضح ہوا، قریش کو اسلام کی دعوت دی گئی ہے۔ یہ دعوت اس بنیاد پر دی گئی ہے کہ یہی اصل ملت ابراہیمؑ ہے جس کی ابراہیمؑ نے اپنی ذریت کو تلقین کی نہ کہ وہ مجموعۂ بدعات و اوہام ہے جو تم لیے بیٹھے ہو۔ اللہ نے تم پر بڑا فضل فرمایا ہے کہ اس نے تمہی میں سے ایک رسول بھیجا ہے جس نے اللہ کی حجت تم پر پوری کر دی ہے اب تمھارے لیے گمراہی پر جمے رہنے کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہ گیا ہے۔ اس اتمام حجت کے بعد بھی اگر تم اپنی ضد پر اڑے رہ گئے تو یاد رکھو کہ رسولوں کی تکذیب کرنے والوں کو خدا نے ہمیشہ تباہ کر دیا ہے۔ یہ تاریخ کی ایک معروف حقیقت ہے جس کی دلیل ڈھونڈنے کے لیے تمھیں کہیں باہر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ جس ملک میں تم آج بااقتدار ہو خود اسی کی تاریخ میں تمھارے لیے کافی سامان عبرت موجود ہے۔ تم اس سرزمین پر پہلے آنے والے نہیں ہو بلکہ تم سے پہلے بہت سی قومیں گزر چکی ہیں جو اسی طرح اقتدار کی مالک ہوئیں جس طرح تم۔ بلکہ بعض اپنے اقتدار و سطوت کے اعتبار سے تم سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھیں۔ انہی کے وارث تم ہوئے ہو۔ پھر کوئی وجہ نہیں ہے کہ قدرت کا قانون تمھارے ساتھ اس سے مختلف معاملہ کرے جو اس نے ان کے ساتھ کیا۔ ان کے جرائم کی بنا پر خدا نے ان کو ہلاک کر کے ان کی جگہ تم کو بخشی، انہی جرائم کے مرتکب تم ہوئے تو خدا تم کو دندناتے پھرنے کے لیے کیوں چھوڑے رکھے گا، خدا کا قانون تو سب کے لیے ایک ہی ہے۔

    انعام کے بعد اعراف، انعام کی مثنیٰ سورہ ہے۔ اس میں دعوت کے بجائے انذار کا پہلو غالب ہے۔ اس میں صاف صاف قریش کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگر تم نے اپنی روش نہ بدلی تو بس سمجھ لو کہ اب تم خدا کے عذاب کی زد میں ہو۔ اس میں پہلے ان کی فرد قرارداد جرم کی طرف اجمالاً اشارہ کیا، اس کے بعد تفصیل کے ساتھ ان تمام پچھلی قوموں کی تاریخ سنائی جو اس ملک میں اقتدار پر آئیں اور پھر یکے بعد دیگرے اسی جرم میں کیفر کردار کو پہنچیں جس کے مرتکب قریش ہوئے۔ یہ تفصیل گویا انعام کی آخری آیت کے اجمال کی تفصیل ہے۔ اسی کے ساتھ یہود کو بھی لے لیا ہے اور ان کو بھی بالکل آخر تنبیہ فرمائی ہے۔ آخر میں عہد فطرت کو، جو تمام ذریت آدم سے لیا گیا ہے، بنیاد قرار دے کر انذار کے مضمون کو اس کے آخری نتائج تک پہنچا دیا ہے جس کے بعد برأت، ہجرت اور اعلان جنگ یا نزول عذاب کے مراحل سامنے آ جاتے ہیں۔ اب ہم سورہ کے مطالب کا تجزیہ پیش کرتے ہیں تاکہ پوری سورہ بیک نظر نگاہ کے سامنے آ جائے۔

  • الاعراف (The Heights)

    206 آیات | مکی
    الانعام ——- الاعراف

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں جو حقائق عقل و فطرت اور انفس و آفاق کے دلائل سے ثابت کیے گئے ہیں، دوسری میں اُنھی کا اثبات تاریخی دلائل کے ساتھ اور اتمام حجت کے اسلوب میں ہوا ہے۔ پہلی سورہ میں دعوت اور دوسری میں انذار کا پہلو غالب ہے۔ دونوں کے مخاطب قریش ہیں اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ دونوں سورتیں بالترتیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذارعام اور مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔ پہلی سورہ الانعام کا موضوع قریش کے لیے توحید، رسالت اور معاد کے بنیادی مسائل کی وضاحت، اِن مسائل کے بارے میں اُن کی غلط فہمیوں پر تنبیہ اور اُنھیں توحید خالص پر ایمان کی دعوت ہے۔

    دوسری سورہ الاعراف کا موضوع قریش کو انذار اور اُن کے لیے اِس حقیقت کی وضاحت ہے کہ کسی قوم کے اندر رسول کی بعثت کے مقتضیات و تضمنات کیا ہیں اور اگر کوئی قوم اپنے رسول کی تکذیب پر اصرار کرے تو اُس کے کیا نتائج اُسے لازماً بھگتنا پڑتے ہیں۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی یہ الٓمّٓصٓ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’الٓمّٓصٓ‘۔ حروف مقطعات پر تفصیلی بحث بقرہ میں ’الم‘ کے تحت گزرچکی ہے۔ یہاں الف، لام، میم پر حرف ص کا اضافہ ہے۔ ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں کہ جن سورتوں کے نام کچھ مشترک سے ہیں ان کے مطالب میں بھی فی الجملہ اشتراک پایا جاتا ہے۔ چنانچہ اس سورہ کو غور سے پڑھیے تو معلوم ہو گا کہ اس کی بہت سی باتیں بقرہ سے ملتی جلتی ہیں اگرچہ دونوں میں مکی و مدنی کا فرق بھی ہے اور دونوں کے مخاطب بھی الگ الگ ہیں۔
      یہاں تالیف کلام کی دو صورتیں ممکن ہیں۔ ’الٓمّٓصٓ‘ کو بحذف مبتدا مستقل جملہ بھی قرار دے سکتے ہیں اور اس کو آگے سے ملانا چاہیں تو اس کو مبتدا اور ’کِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْکَ‘ کو اس کی خبر بھی مان سکتے ہیں۔ ہم نے پہلی شکل اختیار کی ہے اور ’کِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْکَ‘ میں بھی مبتدا کو محذوف مانا ہے۔ ویسے دونوں شکلوں میں باعتبار مفہوم کوئی فرق نہیں ہے۔

      جاوید احمد غامدی یہ’الٓمّٓصٓ‘ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس جملے میں مبتدا عربیت کی رو سے محذوف ہے۔ اِسے کھول دیجیے تو پوری بات یوں ہو گی:’ھٰذِہِ الٓمّٓصٓ‘۔ اصطلاح میں اِنھیں حروف مقطعات کہا جاتا ہے اور سورتوں کے شروع میں یہ اُن کے نام کی حیثیت سے آئے ہیں۔ اِن کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر ہم نے سورۂ بقرہ (۲) کی ابتدا میں تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی یہ کتاب ہے جو تمھاری طرف اتاری گئی ہے تو اس کے باعث تمھارے دل میں کوئی پریشانی نہ ہو تا کہ تم اس کے ذریعہ سے لوگوں کو ہوشیار کر دو اور اہل ایمان کے لیے یاددہانی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قریش کی مخالفت کے دور شباب میں آنحضرت صلعم کو تسلی اور آپ کی ذمہ داری کی حد: ’کِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْکَ فَلَا یَکُنْ فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ مِّنْہُ‘ ’حرج‘ کے معنی تنگی، ضیق اور پریشانی کے ہیں۔ یہ آیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسکین و تسلی کے طور پر نازل ہوئی ہے۔ یہ دور، جیسا کہ سورہ کے مطالب کی فہرست سے واضح ہے، قریش کی مخالفت کے شباب کا دور تھا۔ وہ ہر قسم کے اوچھے سے اوچھے ہتھیار استعمال کرنے پر اتر آئے تھے۔ آپؐ کو زچ کرنے کے لیے روز نت نئے مطالبے وہ پیش کرتے۔ ایک مخالفت کی یہ شدت تھی دوسری طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے فرض دعوت کا احساس اتنا شدید تھا کہ سارے جتن کرنے کے باوجود آپ کو یہ فکر دامن گیر ہی رہتی کہ مبادا میری ہی کوئی کوتاہی ہو جس کے سبب سے یہ لوگ اتنی صاف اور واضح حقیقت کے قائل نہ ہو رہے ہوں۔ یہ دونوں چیزیں مل کر آپ کے دل پر ایک بھاری بوجھ بنی ہوئی تھیں۔ قرآن نے یہاں یہ دونوں بوجھ ہلکے کیے ہیں۔ قریش کی مخالفت سے بے پروا ہونے کی یوں تلقین فرمائی کہ یہ کتاب نہ تمھاری اپنی پیش کردہ ہے نہ خدا سے درخواست کر کے تم نے اپنے اوپر اتروائی ہے بلکہ یہ تمھاری طلب و تمنا کے بغیر خدا کی طرف سے تم پر اتاری گئی ہے تو تم اس کے مخالفوں کی مخالفت سے اپنے آپ کو ضیق و پریشانی میں کیوں مبتلا کرو؟ جس خدا نے یہ اتاری ہے وہی اس کی تائید و نصرت کے لیے کمک اور بدرقہ بھی فراہم کرے گا۔ نہ وہ کوئی کمزور ہستی ہے نہ حالات سے بے تعلق یا بے خبر ہے۔ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ جو ذمہ داری اس نے تم پر ڈالی ہے اس کو کما حقہٗ ادا کرنے کے لیے تم کن چیزوں کے محتاج ہو اور راہ کے پتھروں کو ہٹانے کے لیے تمھیں کتنی قوت درکار ہے۔ وہ یہ ساری چیزیں فراہم کرے گا تو تم خاطر جمع رکھو، اپنے آپ کو پریشانی میں مبتلا نہ کرو۔
      ’لِتُنْذِرَ بِہٖ وَذِکْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ‘ یہ اس کتاب سے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری کی حد بتا دی گئی ہے کہ آپ کا فرض صرف یہ ہے کہ اس کے ذریعہ سے لوگوں کو تکذیب رسول کے نتائج اور قیامت کے احوال سے اچھی طرح ہوشیار کر دیں۔ یہ مانتے ہیں یا نہیں، یہ سوال آپ سے متعلق نہیں ہے۔ آپ پر ذمہ داری صرف انذار و بلاغ کی ہے۔ ’وَذِکْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ‘ کا ٹکڑا معناً عطف تو ’لِتُنْذِرَ‘ ہی پر ہے لیکن یہ فعل کے بجائے اسم کی شکل میں ہے۔ اس کے اسم کی شکل میں لانے سے ایک امر واقعہ کا اظہار مقصود ہے۔ وہ یہ کہ جہاں تک انذار کا تعلق ہے وہ تو تم ان کفار کو کر دو لیکن اس سے یاددہانی کا فائدہ صرف اہل ایمان ہی اٹھائیں گے۔ یہ مضمون جگہ جگہ، قرآن میں مختلف سورتوں میں، بیان ہوا ہے۔ ہم ایک مثال پیش کرتے ہیں:

      ’طٰہٰ ہ مَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقآی اِلَّا تَذْکِرَۃً لِّمَنْ یَّخْشٰی تَنْزِیْلًا مِّمَّنْ خَلَقَ الْاَرْضَ وَالسَّمٰوٰتِ الْعُلٰی‘۔ (طٰہٰ ۱۔۴)
      (یہ سورہ طٰہٰ ہے، ہم نے تم پر قرآن اس لیے نہیں اتارا کہ تمھاری زندگی تمھارے لیے اجیرن ہو کے رہ جائے، یہ تو بس یاددہانی ہے ان لوگوں کے لیے جو ڈریں، یہ تو نہایت اہتمام سے اتارا گیا ہے اس ذات کی طرف سے جس نے زمین اور ان بلند آسمانوں کو پیدا کیا)۔

       

      جاوید احمد غامدی یہ کتاب ہے جو تمھاری طرف نازل کی گئی ہے۔ سو اِس سے، (اے پیغمبر)، تمھارے دل میں کوئی پریشانی نہ ہو۔ اِس لیے نازل کی گئی ہے کہ اِس کے ذریعے سے (لوگوں کو) خبردار کرو اور ایمان والوں کو (اِس سے) یاددہانی ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      آیت کی ابتدا ’کِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْکَ‘ کے الفاظ سے ہوئی ہے۔ یہاں بھی مبتدا محذوف ہے۔ مدعا یہ ہے کہ تم نے یہ کتاب خدا سے درخواست کرکے اپنے اوپر نہیں اتروائی، بلکہ خدا نے اپنے فیصلے سے اور تمھاری کسی خواہش اور تمنا کے بغیر تم پر نازل کی ہے، اِس لیے لوگ نہیں مانتے تو اِس کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے، سو تمھیں کوئی پریشانی بھی نہیں ہونی چاہیے۔ جس نے اِسے نازل کیا ہے، وہی اِس کی دعوت کو اتمام تک پہنچائے گا اور وہ سب کچھ فراہم کرے گا جو اِس دعوت کو اتمام تک پہنچانے کے لیے ضروری ہے۔ یہ وہی مضمون ہے جو سورۂ طٰہٰ (۲۰) کی آیت ’مَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْقُرْاٰنَ لِتَشْقٰی‘ میں ہے۔
      یعنی اِس بات سے خبردار کرو کہ خدا کے پیغمبر کو جھٹلانے کے نتائج دنیا اور آخرت میں اُن کے لیے کیا ہو سکتے ہیں۔
      اصل الفاظ ہیں: ’وَذِکْرٰی لِلْمُؤْمِنِیْنَ‘۔ اِس کا عطف ’لِتُنْذِرَ بِہٖ‘ پر ہے۔ یہ اضمار فعل سے منصوب اور ’تذکیر‘ کے معنی میں اسم ہے، یعنی ’لتنذر بہ وتذکرتذکیرًا‘۔

    • امین احسن اصلاحی لوگو، جو چیز تمھاری طرف تمھارے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے ماسوا سرپرستوں کی پیروی نہ کرو۔ بہت کم ہی تم لوگ یاددہانی حاصل کرتے ہو! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      کفار قریش کو عذاب کی دھمکی: عام طور پر لوگوں نے اس آیت کا مخاطب مسلمانوں کو مانا ہے لیکن سیاق و سباق اور آیت کے الفاظ دلیل ہیں کہ خطاب قریش سے ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اوپر والی آیت میں تسلی دینے کے بعد اب یہ قریش کو دھمکی دی گئی ہے کہ یہ چیز جو تم پر تمھارے رب کی جانب سے اتاری گئی ہے اس کی پیروی کرو اور خدا کے ماسوا دوسرے معبودوں اور شریکوں کی پیروی نہ کرو، یہ خیالی اولیاء اصنام تمھارے کچھ کام آنے والے نہیں ہیں۔ اس کے بعد بانداز حسرت و افسوس فرمایا کہ ’قَلِیْلًا مَّا تَذَکَّرُوْنَ‘ کہ تم ایسے شامت زدہ لوگ ہو کہ مشکل ہی سے یاددہانی حاصل کرتے ہو۔

      جاوید احمد غامدی (لوگو)، تمھارے پروردگار کی طرف سے جو کچھ تمھاری جانب اتارا گیا ہے، اُس کی پیروی کرو اور اپنے پروردگار کو چھوڑ کر دوسرے سرپرستوں کے پیچھے نہ چلو۔ (افسوس)، تم کم ہی یاددہانی حاصل کرتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور کتنی ہی بستیاں ہوئی ہیں جن کو ہم نے ہلاک کر دیا تو آیا ان پر ہمارا عذاب رات میں اچانک یا دن دہاڑے جب وہ دوپہر کے آرام میں تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’قریہ‘ کا مفہوم: ’قَرْیَۃ‘ کا لفظ قریہ اور اہل قریہ دونوں پر حاوی ہوتا ہے۔ اس وجہ سے اس کے لیے ضمیر میں، اشارات اور فعل وغیرہ استعمال کرتے ہیں، کبھی لفظ کا اعتبار کرتے ہیں، کبھی مفہوم کا۔ یہ اسلوب ہر زبان میں عام ہے۔
      ’قَآءِلُوْنَ‘ قیلولہ سے ہے۔ ’قیلولہ‘ کے معنی دوپہر منانے کے ہیں، سونا اس کے لوازم میں سے نہیں ہے۔ عرب کا ملک، گرم ملک ہے اس وجہ سے وہاں دوپہر میں لوگ مجبور ہوتے ہیں کہ اپنے اپنے مکانوں، ڈیروں، خیموں اور باغوں میں آرام کریں۔
      اہل تاویل کی ایک غلط فہمی: بعض اہل تاویل کو ’فَجَآءَ ھَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْھُمْ قَآءِلُوْنَ‘ کے الفاظ سے یہ خیال ہوا ہے کہ اللہ کا عذاب اس وقت آتا ہے جب لوگ رات میں یا دن میں سوئے ہوئے ہوتے ہیں لیکن یہ بات تاریخ کے بھی خلاف ہے اور قرآن کے بیان کے بھی۔ سورۂ انعام میں ہے:

      ’قُلْ اَرَءَیْتَکُمْ اِنْ اَتٰکُمْ عَذَابُ اللّٰہِ بَغْتَۃً اَوْ جَھْرَۃً ھَلْ یُھْلَکُ اِلَّاالْقَوْمُ الظّٰلِمُوْنَ‘۔(۴۷)
      (کہو، بتاؤ اگر تم پر اللہ کا عذاب اچانک چپکے سے یا کھلم کھلا آ دھمکے تو ظالموں کے سوا اور کون ہلاک ہوگا!)

      اسی سورۂ اعراف میں معذب قوموں کی سرگزشتیں سنانے کے بعد ان الفاظ میں تبصرہ فرمایا ہے:

      ’اَفَاَمِنَ اَھْلُ الْقُرآی اَنْ یَّاْتِیَھُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّھُمْ نَآءِمُوْنَ اَوَاَمِنَ اَھْلُ الْقُرآی اَنْ یَّاْتِیَھُمْ بَاْسُنَا ضُحًی وَّھُمْ یَلْعَبُوْنَ‘۔(۹۷۔۹۸)
      (کیا یہ بستیوں والے مامون ہوئے اس بات سے کہ ہمارا عذاب ان پر رات میں آ دھمکے جب وہ سوئے ہوئے ہوں! کیا یہ بستیوں والے مامون رہے کہ ہمارا عذاب ان پر چاشت کے وقت آ دھمکے جب کہ وہ لہو و لعب میں مشغول ہوں)

      ہمارے نزدیک ’فَجَآءَ ھَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْھُمْ قَآءِلُوْنَ‘ سے یہ ظاہر کرنا مقصود نہیں ہے کہ خدا کا عذاب اس وقت آیا کرتا ہے جب لوگ سوئے ہوتے ہیں بلکہ یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ خدا کا عذاب شب کی تاریکیوں میں چپ چپاتے بھی آیا اور ڈنکے کی چوٹ دن دہاڑے بھی۔ جس وقت بھی آیا آ گیا، نہ کوئی اس کو روک سکا اور نہ کوئی اس سے اپنے آپ کو بچا سکا۔ صرف وہ لوگ اس سے بچ سکے جن کو اللہ کی امان حاصل ہوئی۔
      اصل انذار: یہ وہ انذار ہے جس کا ’لِتُنْذِرَ بِہٖ‘ میں اشارہ ہے۔ قریش کو دھمکی دی گئی ہے کہ کتنی قومیں اور بستیاں ہیں جن پر رات میں یا دن میں جب خدا نے چاہا اپنا عذاب بھیج دیا اور وہ تباہ کر دی گئیں، ان میں سے کوئی بھی خدا کے مقابل میں کھڑی نہ ہوسکی بلکہ ہر قوم نے اپنے جرم کا اقرار کرتے ہوئے اپنے آپ کو عذاب الٰہی کے حوالہ کیا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے بھی اس چیز کی پیروی نہ کی جو خدا نے تم پر اتاری ہے تو یہی حشر تمھارا بھی ہونا ہے۔ آج اکڑتے ہو لیکن اس وقت سارے کس بل نکل جائیں گے اور تم خود اپنے منہ سے اپنے جرم کا اقرار کرو گے لیکن اس وقت یہ اقرار تمھارے لیے کچھ نافع نہیں ہو گا۔

      جاوید احمد غامدی (اِس سے پہلے) کتنی ہی بستیاں ہیں جنھیں ہم نے ہلاک کر دیا تو ہمارا عذاب اُن پر رات میں اچانک ٹوٹ پڑا یا دن دہاڑے آ گیا، جب وہ آرام کر رہے تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ رات کی تاریکیوں میں اور دن دہاڑے، جس وقت خدا نے چاہا، آگیا۔ اُسے نہ کوئی روک سکا اور نہ اپنے آپ کو اُس سے بچانے میں کامیاب ہوا۔

    • امین احسن اصلاحی تو جب ہمارا عذاب ان پر آیا اس کے سوا وہ کچھ نہ کہہ سکے کہ بلاشبہ ہم ہی ظالم تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اصل انذار: یہ وہ انذار ہے جس کا ’لِتُنْذِرَ بِہٖ‘ میں اشارہ ہے۔ قریش کو دھمکی دی گئی ہے کہ کتنی قومیں اور بستیاں ہیں جن پر رات میں یا دن میں جب خدا نے چاہا اپنا عذاب بھیج دیا اور وہ تباہ کر دی گئیں، ان میں سے کوئی بھی خدا کے مقابل میں کھڑی نہ ہوسکی بلکہ ہر قوم نے اپنے جرم کا اقرار کرتے ہوئے اپنے آپ کو عذاب الٰہی کے حوالہ کیا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے بھی اس چیز کی پیروی نہ کی جو خدا نے تم پر اتاری ہے تو یہی حشر تمھارا بھی ہونا ہے۔ آج اکڑتے ہو لیکن اس وقت سارے کس بل نکل جائیں گے اور تم خود اپنے منہ سے اپنے جرم کا اقرار کرو گے لیکن اس وقت یہ اقرار تمھارے لیے کچھ نافع نہیں ہو گا۔

      جاوید احمد غامدی پھر جب ہمارا عذاب اُن پر ٹوٹ پڑا تو اِس کے سوا کچھ کہتے نہ بن پڑا کہ پکار اٹھے :بے شک، ہم ہی ظالم تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی سو، یاد رکھو، ہم ان لوگوں سے پرسش کریں گے جن کی طرف رسول بھیجے گئے اور خود رسولوں سے بھی ہم استفسار کریں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      انذار کی تفصیل: ’فَلَنَسْءَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْہِمْ وَلَنَسْءَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ‘۔ ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں کہ اللہ کے رسول دو چیزوں سے لوگوں کو ڈراتے ہیں۔ ایک اس عذاب سے جو رسول کی تکذیب کرنے والی قوم پر لازماً آتا ہے۔ دوسرے اس جزا و سزا سے جس سے آخرت میں ہر شخص کو لازماً دوچار ہونا ہے۔ اوپر والی آیت میں پہلی چیز سے ڈرایا ہے۔ اب آگے اس دوسری چیز سے آگاہ کیا جا رہا ہے۔ فرمایا کہ ایک دن آنے والا ہے جب ہم ان امتوں سے بھی پرسش کریں گے جن کی طرف ہم نے اپنے رسول بھیجے اور خود رسولوں سے بھی سوال کریں گے۔
      امتوں سے جو پرسش ہونی ہے اس کی تفصیل قرآن میں یوں بیان ہوئی ہے:

      کُلَّمَآ اُلْقِیَ فِیْھَا فَوْجٌ سَاَلَھُمْ خَزَنَتُھَآ اَلَمْ یَاْتِکُمْ نَذِیْرٌ قَالُوْا بَلٰی قَدْ جَآءَ نَا نَذِیْرٌ فَکَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰہُ مِنْ شَیْءٍ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ کَبِیْرٍ ہ وَقَالُوْا لَوْکُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا کُنَّا فِیْٓ اَصْحٰبِ السَّعِیْرِ فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْبِھِمْ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ (ملک ۸۔۱۱)
      ’’جب جب ان کی کوئی بھیڑ دوزخ میں جھونکی جائے گی اس کے داروغے ان سے پوچھیں گے، کیا تمھارے پاس کوئی ہوشیار کرنے والا نہیں آیا تھا؟ وہ کہیں گے، ہاں ہمارے پاس ایک ہوشیار کرنے والا آیا تو تھا پر ہم نے اس کو جھٹلا دیا اور کہہ دیا کہ خدا نے کوئی چیز بھی نہیں اتاری ہے، تم لوگ ایک بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔ وہ اعتراف کریں گے کہ اگر ہم سنتے سمجھتے ہوتے تو جہنم میں پڑنے والے نہ بنتے۔ پس وہ اپنے جرم کا اقرار کریں گے تو لعنت ہو ان دوزخیوں پر۔‘‘

      رسولوں سے جو سوال ہو گا اس کا حوالہ سورۂ مائدہ میں یوں دیا گیا ہے:

      یَوْمَ یَجْمَعُ اللّٰہُ الرُّسُلَ فَیَقُوْلُ مَا ذَآ اُجِبْتُمْ (۱۰۹۔ مائدہ)
      ’’جس دن اللہ تمام رسولوں کو جمع کرے گا پھر پوچھے گا تمھیں کیا جواب ملا؟‘‘

       

      جاوید احمد غامدی سو یہ ہو کر رہنا ہے کہ ہم اُن لوگوں سے پوچھیں جن کی طرف رسول بھیجے گئے اور خود رسولوں سے بھی پوچھیں (کہ اُنھوں نے ہمارا پیغام پہنچایا تو اُنھیں کیا جواب ملا)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      پیچھے اُس عذاب کا ذکرتھا جو رسولوں کی طرف سے اتمام حجت کے بعد دنیا میں خدا کی دینونت کے ظہور سے آتا ہے۔ اُس سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جس طرح وہ آیا تو مجرموں کے پاس اپنے جرم کا اقرار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا، اِسی طرح جزا و سزا کا دن بھی آ کر رہے گا، جب لوگوں سے پرسش ہو گی اور رسولوں سے بھی پوچھا جائے گا کہ اُن کی دعوت کے جواب میں اُن کے ساتھ کیا رویہ اختیار کیا گیا۔

    • امین احسن اصلاحی پھر ہم ان کے سامنے سب بیان کریں گے پورے علم کے ساتھ اور ہم کہیں غائب نہیں رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْھِمْ بِعِلْمٍ وَّمَا کُنَّا غَآءِبِیْنَ‘ مطلب یہ ہے کہ اس دن ہم رسولوں اور ان کی قوموں کو ساری گزری ہوئی روداد، پورے علم و خبر کے ساتھ سنا دیں گے کہ ہمارے رسولوں نے کس طرح حق بلاغ ادا کیا اور ان کی تکذیب کرنے والوں نے کس طرح جان بوجھ کر ان کی تکذیب کی۔ فرمایا کہ ہم ایک لمحہ کے لیے بھی ان حالات و واقعات سے بے تعلق یا بے خبر نہیں رہے ہیں۔ جو کچھ ہوا ہے ہمارے سامنے ہوا ہے۔ یہ واضح رہے کہ یہ سنانا قطع عذر کے لیے ہو گا تاکہ کسی کے لیے بھی لب کشائی کی کوئی گنجائش باقی نہ رہ جائے۔

      جاوید احمد غامدی پھر پورے علم کے ساتھ ہم تمام سرگذشت اُنھیں سنا دیں گے، آخر ہم کہیں غائب تو نہیں تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اس دن وزن دار صرف حق ہو گا تو جن کے پلڑے بھاری ٹھہریں گے وہی لوگ فلاح پانے والے بنیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      میزان قیامت میں وزن دار صرف حق ہو گا: ’وَالْوَزْنُ یَوْمَءِذِنِ الْحَقُّ‘ مطلب یہ ہے کہ اس دن وزن رکھنے والی شے صرف حق ہو گا۔ باطل میں سرے سے کوئی وزن ہی نہیں ہو گا۔ قیامت میں اللہ تعالیٰ جو ترازو نصب فرمائے گا وہ ہر ایک کے اعمال تول کر بتا دے گی کہ اس میں حق کا حصہ کتنا ہے۔ پھر جس کے پلڑے بھاری ہوں گے؟ یعنی حق کی مقدار ان کے ساتھ زیادہ ہو گی، وہ فلاح پانے والے بنیں گے اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے وہ خائب و خاسر ہوں گے۔ اعمال کے باوزن اور بے وزن ہونے کے باب میں قرآن نے یہ اصول بھی بیان فرمایا ہے:

      ’ھَلْ نُنَبِّءُکُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًا ہ اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُھُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَھُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّھُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا ہ اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ وَلِقَآءِہٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُہُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزْنًا‘(۱۰۳۔۱۰۵ کہف)
      (ہم تمھیں بتائیں گے کہ اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ خسارے میں رہنے والے کون ہوں گے؟ وہ جن کی ساری سرگرمیاں طلب دنیا میں برباد ہوئیں اور وہ اس خوش گمانی میں رہے کہ وہ بہت اچھے کام کر رہے ہیں، وہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے رب کی آیات اور ملاقات کا انکار کیا تو ان کے اعمال ڈھے گئے، تو ہم قیامت کے دن ان کے لیے کوئی وزن نہیں قائم کریں گے)

      اس سے معلوم ہوا کہ میزان قیامت میں وزن دار اعمال وہی ہوں گے جو خدا کی رضا اور آخرت کے لیے انجام دیے جائیں۔ جو اعمال اس وصف سے خالی ہوں گے نہ وہ اعمال حق ہیں، نہ میزان الٰہی میں ان کا کوئی وزن ہو گا۔

       

      جاوید احمد غامدی اور وزن کی چیز اُس روز صرف حق ہو گا۔ پھر جن کے پلڑے بھاری ہوں گے، وہی فلاح پائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی باطل کے لیے اُس روز سرے سے کوئی وزن نہیں ہو گا۔ دوسرے مقامات میں یہ صراحت بھی ہے کہ قیامت میں وزن رکھنے والی چیز صرف وہ اعمال ہوں گے جو خدا کے لیے اور آخرت میں اُس کی رضامندی حاصل کرنے کی خواہش اور ارادے کے ساتھ کیے گئے ۔ اُن کے سوا تمام اعمال وہاں بے وزن ہوجائیں گے۔

    • امین احسن اصلاحی اور جن کے پلڑے ہلکے ہوئے وہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا بوجہ اس کے کہ وہ ہماری آیتوں کا انکار اور اپنے اوپر ظلم کرتے رہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      زبان کا ایک اسلوب: ’وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہٗ ....... بِمَا کَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ‘ ہم ایک سے زیادہ مقامات میں زبان کے اس اسلوب کی طرف اشارہ کر چکے ہیں کہ جب صلہ اور فعل میں مناسبت نہ ہو تو وہاں تضمین ہوتی ہے یعنی کوئی ایسا فعل وہاں محذوف مانیں گے جو موجود خلا کو بھر سکے۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ لفظ کم استعمال ہو تے ہیں، لیکن معنی میں بہت وسعت ہو جاتی ہے۔ یہاں تضمین کھول دی جائے تو پوری بات یوں ہو گی ’بِمَا کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِنَا وَیَظْلِمُوْنَ اَنْفُسَھُمْ‘ بوجہ اس کے وہ ہماری آیات کا انکار کرتے اور اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے۔

      جاوید احمد غامدی اور جن کے پلڑے ہلکے رہیں گے،وہی ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا، اِس لیے کہ وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے اور اپنے اوپر ظلم ڈھاتے رہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’بِمَا کَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ‘۔ اِن میں تضمین ہے، اِس لیے کہ صلے اور فعل میں مناسبت نہیں ہے۔ اِسے کھول دیجیے تو پوری بات اِس طرح ہے: ’بِمَا کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِنَا وَیَظْلِمُوْنَ أَنْفُسَھُمْ‘۔ اِس کا فائدہ یہ ہے کہ تھوڑے الفاظ نے ایک وسیع مفہوم کو اپنے اندر سمیٹ لیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور ہم نے تمھیں اس ملک میں اقتدرا بخشا اور تمھارے لیے معاش کی راہیں کھولیں، پر تم بہت ہی کم شکر گزار ہوتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’ارض‘ سے مراد سرزمین حرم ہے۔۔۔ قریش کا اختیار و قتدار سرزمین حرم میں: ’تمکین فی الارض‘ سے مراد زمین میں اختیار و اقتدرا بخشنا ہے۔ مثلاً:

      ’وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ‘(۲۱۔ یوسف)
      (اور ہم نے یوسف کو ملک مصر میں اختیار و اقتدار بخشا)


      ’ارض‘ اگرچہ لفظاً عام ہے لیکن خطاب چونکہ قریش سے ہے اس وجہ سے اس سے مراد یہاں سرزمین حرم ہے جس میں قریش کو اختیار و اقتدار حاصل تھا۔ ’معایش‘ سے اشارہ ان معاشی سہولتوں اور برکتوں کی طرف ہے جو ایک وادی غیر ذی زرع میں حضرت ابراہیمؑ کی دعا اور بیت اللہ کی برکت سے اہل عرب کو عموماً اور قریش کو خصوصاً حاصل ہوئیں۔ قرآن میں ان برکتوں اور نعمتوں کا جگہ جگہ ذکر ہوا ہے اور ہم تفصیل کے ساتھ بقرہ میں ان کا حوالہ دے چکے ہیں۔ سورہ قصص میں بھی اس کی طرف اشارہ ہے:

      ’اَوَلَمْ نُمَکِّنْ لَّھُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰیٓ اِلَیْہِ ثَمَرٰتُ کُلِّ شَیْءٍ‘(۵۷ ۔ قصص)
      (کیا ہم نے ان کو ایک پر امن حرم میں اقتدار نہیں بخشا جس کی طرف ہر چیز کے پھل کھنچے چلے آتے ہیں)

      ’قَلِیْلاً مَّا تَشْکُرُوْنَ‘ یہ وہ اصل بات ارشاد ہوئی ہے جس کے کہنے ہی کے لیے اوپر والی باتیں بطور تمہید بیان ہوئیں۔ مطلب یہ ہے کہ حضرت ابراہیمؑ و اسمٰعیلؑ کی دعاؤں اور بیت اللہ کے طفیل تمھیں اللہ تعالیٰ نے اس ملک میں اختیار و اقتدار کی نعمت بھی بخشی اور معاش و معیشت کی نہایت فراخ راہیں بھی کھولیں لیکن تم سخت ناشکرے نکلے کہ تم نے اپنے پروردگار کے بجائے شیطان کی، جیسا کہ آگے تفصیل آ رہی ہے، پیروی کی اور اس نے جن جن فتنوں میں تم کو مبتلا کرنا چاہا ہے تم ان سب میں مبتلا ہو گئے۔

       

      جاوید احمد غامدی (لوگو) ، ہم نے اِس سرزمین میں تمھیں اقتدار عطا فرمایا اور تمھارے لیے اِس میں معاش کی راہیں کھول دی ہیں، پر تم کم ہی شکر گزار ہوتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی سرزمین حرم میں، جہاں قریش کو اختیار و اقتدار حاصل تھا۔ سورہ کے مخاطب چونکہ وہی ہیں، اِس لیے یہاں سے تمہید اٹھائی ہے۔
      یہ اُن راہوں کی طرف اشارہ ہے جو ابراہیم و اسمٰعیل علیہما السلام کی دعاؤں اور بیت اللہ کے طفیل اُن کے لیے کھولی گئیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور ہم نے تمھارا خاکہ بنایا، پھر تمھاری صورت گری کی، پھر فرشتوں کو فرمایا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے، وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آدمؑ و ابلیس کا ماجرا اور اس کے مضمرات: اب یہ آدمؑ اور ابلیس کا وہ ماجرا سنایا جا رہا ہے جس سے آدم اور ان کی ذریت کے ساتھ ابلیس اور اس کے ساتھیوں کی تاریخ بھی سامنے آتی ہے، اس کا اصل سبب بھی واضح ہوتا ہے اور قیامت تک کے لیے اس کو باقی رکھنے اور اولاد آدمؑ سے انتقام لینے کا شیطان نے جو عہد کر رکھا ہے، اس کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ اس قصے کو پڑھتے ہوئے وہ مقصد نگاہ سے اوجھل نہ ہو جس کے لیے یہ سنایا گیا ہے۔
      شیطان کو آدمؑ اور ان کی ذریت سے دشمنی اس حسد کی بنا پر ہے جو آدمؑ کی تکریم کے حکم سے اس کو لاحق ہوا۔ اس حکم کی تعمیل سے اس نے نہایت تکبر کے ساتھ انکار کیا جس کے نتیجہ میں وہ نہایت ذلت کے ساتھ جنت سے نکالا گیا۔ بالآخر اس نے اس غصہ میں اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کی کہ اسے اٹھانے جانے کے دن تک کے لیے یہ مہلت دی جائے کہ وہ آدمؑ اور اولاد آدمؑ پر اپنے چرتّر آزمائے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی یہ درخواست منظور کر لی۔ یہ درخواست منظور ہو جانے کے بعد شیطان نے اللہ تعالیٰ کو چیلنج کیا کہ میں ان کو توحید کی راہ سے برگشتہ کرنے کے لیے اپنا ایڑی چوٹی کا زور صرف کر ڈالوں گا اور ان کو اپنی تدبیروں، چالوں اور اپنے پروپیگنڈوں سے اس طرح بدحواس کر دوں گا کہ ان کی اکثریت تیری توحید کی راہ سے ہٹ جائے گی اور یہ ثابت ہو جائے گا کہ یہ، جس کو تو نے میرے اوپر فضیلت بخشی، ہرگز کسی فضیلت کا سزاوار نہیں ہے۔
      اس کے بین السطور پر غور کیجیے تو چند باتیں بالکل واضح طور پر سامنے آئیں گی۔
      ایک یہ کہ شیطان کو اصلی کد انسان سے یہ ہے کہ خدا نے انسان کو اس پر ترجیح کیوں دی؟ اس نے اسی ترجیح کو غلط ثابت کرنے کے لیے خدا سے مہلت مانگی ہے۔ اب یہ انسان کی کیسی بدبختی ہے کہ وہ اس معرکے میں، جو خود اسی کے خلاف شیطان نے برپا کیا ہے، شیطان کا دست و بازو بن جائے اور خود اپنے عمل سے شیطان کے حق میں گواہ بن کر یہ ثابت کرا دے کہ خدا نے اس کو جس عزت کا اہل سمجھا درحقیقت وہ اس کا اہل نہیں تھا بلکہ اس کے باب میں شیطان ہی کا گمان صحیح تھا۔
      دوسری یہ کہ انسان اس دنیا میں ایک کارزار امتحان میں ہے جہاں شیطان سے ہر قدم پر اس کا مقابلہ ہے۔ شیطان اپنے سارے داؤں، سارے فریب، سارے چرتر انسان پر استعمال کرنے کے لیے خدا سے مہلت لے چکا ہے۔ خدا نے اس کو، جہاں تک ورغلانے کا تعلق ہے، مہلت دے دی ہے اور یہ مہلت اس کو قیامت کے دن تک کے لیے حاصل ہے۔ قیامت کے دن یہ فیصلہ ہو گا کہ کون جیتا اور کون ہارا؟
      تیسری یہ کہ شیطان کی اس ساری سعئ اِغوا و اِضلال میں اصل ہدف عقیدۂ توحید ہے۔ یہی وہ صراط مستقیم ہے جس پر گھات لگانے اور شب خون مارنے کا اس نے الٹی میٹم دیا ہے کہ میں اس راہ سے انسان کو ہٹا کر چھوڑوں گا اور انسانوں کی اکثریت اس سے منحرف ہو کر خدا کی ناشکری کرنے والی بن جائے گی۔ اوپر قریش کو ’قَلِیْلاً مَّا تَشْکُرُوْنَ‘ کے الفاظ سے اسی امر واقعی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ شیطان نے انسان کے بارے میں جو گمان ظاہر کیا تھا تم نے اس کو اپنی نالائقی سے حرف حرف سچ ثابت کر دکھایا ہے۔ اس وجہ سے تم خود اسی انجام بد کے مستوجب بن چکے ہو جس کی خبر شیطان کے الٹی میٹم کے جواب میں خدا نے سنا دی تھی کہ ’میں تجھ کو اور تیری پیروی کرنے والوں کو جہنم میں بھر دوں گا‘۔
      نظم کلام کے واضح ہو جانے کے بعد الفاظ اور اجزائے کلام کی وضاحت کی چنداں ضرورت باقی نہیں رہی۔ ان میں سے اکثر چیزیں سورۂ بقرہ کی تفسیر میں پوری وضاحت سے زیر بحث آچکی ہیں۔ ان کے دُہرانے میں طوالت ہو گی۔ البتہ جو چیزیں وہاں زیر بحث نہیں آئی ہیں ان کی وضاحت ہم یہاں کیے دیتے ہیں۔
      لفظ ’خلق‘ کا مفہوم: ’وَلَقَدْ خَلَقْنٰکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰکُمْ‘ الایۃ۔ ’خلق‘ کا صحیح لغوی مفہوم، ہم دوسرے مقام میں واضح کر چکے ہیں، کسی چیز کا خاکہ (DESIGN) بنانا ہے۔ یہ لفظ قرآن میں تنہا بھی استعمال ہوا ہے اور بعض جگہ اپنے دوسرے لوازم و متعلقات مثلاً ’برء‘، ’تسویہ‘، ’ترکیب‘ اور ’تصویر‘ کے ساتھ بھی استعمال ہوا ہے۔ جہاں یہ تنہا استعمال ہوا ہے وہاں یہ اپنے تمام لوازم و متعلقات پر مشتمل ہے۔ لیکن جہاں اپنے دوسرے متعلقات کے ساتھ آیا ہے جیسے یہاں ’خَلَقْنٰکُمْ‘ کے بعد ’صَوَّرْنٰکُمْ‘ بھی ہے تو ایسے مواقع میں یہ اپنے اصل لغوی مفہوم ہی میں استعمال ہوا ہے۔ یہاں ’خلق‘ اور ’تصویر‘ کے دو لفظوں نے تخلیق کی ابتدائی اور انتہائی دونوں حدیں واضح کر دیں۔ ہر مخلوق کا مرحلۂ ابتدائی تو یہ ہے کہ اس کا خاکہ بنا اور اس کا آخری و تکمیلی مرحلہ یہ ہے کہ اس کی صورت گری ہوئی اور اس کے ناک نقشے اور نوک پلک درست ہوئے۔
      یہاں مخاطب، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، قریش ہیں، اور بیان ان کے سامنے نوع انسانی کی تخلیق اور ان آزمائشوں کا ہو رہا ہے جو انسان کے لیے مقدر کی گئی ہیں۔ حضرت آدمؑ تمام نسل انسانی کے باپ ہیں اس وجہ سے ان کی سرگزشت تنہا انہی کی سرگزشت نہیں ہے بلکہ پوری نسل انسانی کی سرگزشت ہے۔
      شیطان کوئی مستقل مخلوق نہیں ہے: ’ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَآٰءِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِیْسَ‘ سجدہ کے مفہوم، اس حکم کی مصلحت، جنات کے اس حکم میں شامل ہونے کی وجہ اور اس ذیل کے دوسرے اہم مسائل پر ہم بقرہ کی تفسیر میں گفتگو کر چکے ہیں۔ وہاں ہم نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ’ابلیس‘ اس جن کا لقب ہے جس نے باوا آدمؑ کو دھوکا دیا۔ یہ جنات میں سے تھا اور خدا کی نافرمانی کر کے سرکش بن گیا۔ جنوں اور انسانوں میں سے جو لوگ اس کے پیرو بن جاتے ہیں وہ سب اس کی معنوی ذریت ہیں۔ ایسے ہی جنوں اور انسانوں کے لیے قرآن میں شیطان کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ شیطان، جیسا کہ بقرہ کی تفسیر میں ہم نے واضح کیا، کوئی مستقل بالذات مخلوق نہیں ہے۔

      جاوید احمد غامدی (تمھاری سرگذشت یہ ہے کہ) ہم نے تمھیں پیدا کیاتھا، پھر تمھاری صورتیں بنائی تھیں، پھر فرشتوں سے کہاتھا: آدم کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤ۔ سو ابلیس کے سوا سب سجدہ ریز ہو گئے۔ وہ سجدہ کرنے والوں میں شامل نہیں ہوا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس کی تفصیل قرآن کے دوسرے مقامات سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ پہلے زمین کے پیٹ میں انسان کا حیوانی وجود تخلیق ہوا، پھر اُس میں اپنی نسل آپ پیدا کر لینے کی صلاحیت ودیعت ہوئی، پھر اُس کا تسویہ کیا گیا، اِس طریقے سے جو مخلوق وجود میں آئی، اُس میں سے دو کا انتخاب کرکے پھر اُن میں روح پھونکی گئی جس سے آدم و حوا کی صورت میں نطق و بیان کی صلاحیت اور عقل و شعور سے بہرہ یاب ایک نئی مخلوق، یعنی انسان کی ابتدا ہوگئی۔ یہ نوع انسانی پر گزرنے والے مختلف مراحل کی تفصیل ہے جن میں سے ہر مرحلے کی مدت ہزاروں سال ہو سکتی ہے۔ ہڈیوں، کھوپڑیوں اور ڈھانچوں کے اوراق میں سائنس دان جو کچھ پڑھ رہے ہیں، وہ یہی سرگذشت ہے، اِس کا ارتقا کے اُس تصور سے کوئی تعلق نہیں ہے جو ڈارون نے پیش کیا تھا۔
      یہ سجدہ تعظیم کے لیے تھا اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوا، اِس لیے اِس میں شرک کا کوئی پہلو نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی اطاعت کا یہ امتحان جس وجہ سے لیا، وہ یہ تھی کہ اولاً، آدم پر واضح ہو جائے کہ اصلی سرفرازی نور یا نار سے پیدا ہونے میں نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرماں برداری میں ہے۔ لہٰذا اُسے بھی اپنی انانیت کو ایک طرف رکھ کر ہمیشہ حق کے سامنے سرتسلیم خم کر دینا چاہیے۔ ثانیاً، وہ یہ سمجھ لے کہ اُسے جب اللہ تعالیٰ نے یہ درجہ دیا ہے کہ فرشتوں نے اُس کو سجدہ کیا تو یہ بات کسی طرح اُس کے شایانِ شان نہیں ہے کہ وہ کسی برتر سے برتر مخلوق کو بھی خدا کا شریک سمجھ کر اُس کی پرستش کرے۔ بندگی اور پرستش اللہ تعالیٰ ہی کا حق ہے۔ وہ اگر اِس حق میں کسی کو شریک کرتا ہے تو صرف اللہ تعالیٰ کی اہانت نہیں کرتا، بلکہ خود اپنی بھی اہانت کرتا ہے۔
      یہ ’أبلس‘ سے ’إفعیل‘ کے وزن پر اُس جن کا لقب ہے جس نے آدم کو سجدہ کرنے سے انکار کیا۔ ’أبلس‘ کے معنی مایوس اور غم زدہ ہونے کے ہیں۔ بعض لوگ اِسے فرشتہ سمجھتے ہیں، لیکن قرآن میں صراحت ہے کہ یہ جنات میں سے تھا۔
      اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنات چونکہ اپنی خلقت کے لحاظ سے فرشتوں سے زیادہ دور نہیں ہیں، اِس لیے اُنھیں جب سجدہ کا حکم دیا گیا تو علیٰ سبیل التغلیب جنات بھی اِس حکم میں شامل تھے۔

    • امین احسن اصلاحی فرمایا کہ جب میں نے تجھے حکم دیا تو تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا؟ بولا میں اس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی سے پیدا کیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      عربیت کا ایک اسلوب: ’قَالَ مَا مَنَعَکَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُکَ‘ قرآن میں، دوسرے مقام میں، یہی بات یوں فرمائی گئی ہے:

      ’قَالَ یٰٓاِبْلِیْسُ مَا مَنَعَکَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ‘(۷۵۔ ص)
      (فرمایا، اے ابلیس تجھے اس چیز کو سجدہ کرنے سے کس چیز نے روکا جس کو میں نے اپنے ہاتھ سے بنایا)

      دونوں آیتوں پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ ایک جگہ ’مَا مَنَعَکَ‘ کے بعد ’لا‘ ہے دوسری جگہ نہیں ہے۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ ’مَا مَنَعَکَ‘ میں چونکہ خود ’لَا‘ کا مضمون موجود ہے اس وجہ سے اس کے بعد اس کا لانا ضروری نہیں ہے لیکن لائیں تو اس شدت نکیر کا مضمون پیدا ہو گا۔ چنانچہ اس فقرے میں شیطان کے عدم سجدہ کی شناعت پوری طرح نمایاں ہے۔ یہ اسلوب ہماری اپنی زبان میں بھی ہے۔
      آدمؑ بجائے خود سزاوار سجدہ نہیں تھے: ’اِذْ اَمَرْتُکَ‘ کے لفظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ آدمؑ بجائے خود سزاوار سجدہ نہیں تھے بلکہ خدا کے حکم کی بنا پر اس کے سزوار ہوئے تھے اور ان کو سجدہ اصلاً و حقیقۃً ان کو سجدہ نہیں تھا، بلکہ خود خدا کو سجدہ تھا اس لیے کہ یہ سجدہ اسی کی امتثال امر میں تھا۔
      نسل و نسب کو بنائے شرف سمجھنا ابلیس کی وراثت ہے: ’قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْہُ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّاٍر وَّخَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْنٍ‘۔ اس سے معلوم ہوا کہ شیطان کی سرکشی کی بنیاد اس گھمنڈ پر تھی کہ شرف و عزت کا تعلق نسل و نسب سے ہے اور اس اعتبار سے وہ انسان سے اشرف ہے۔ وہ آگ سے پیدا ہوا ہے، آدمؑ مٹی سے پیدا ہوئے ہیں۔ قرآن نے یہاں یہ رہنمائی دی کہ شرف و عزت کو نسل و نسب سے متعلق سمجھنے کا فلسفہ ابلیس کی ایجادات میں سے ہے اور جہاں کہیں بھی یہ موجود ہے اسی کی وراثت کی حیثیت سے موجود ہے۔ اللہ کے ہاں جو چیز سبب عزت و سرخروئی ہے وہ صرف اللہ کے حکم کی اطاعت ہے اس کے سوا کوئی چیز بھی خدا کے ہاں عزت پانے کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔

       

      جاوید احمد غامدی فرمایا: تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روک دیا، جبکہ میں نے تجھے حکم دیا تھا؟ بولا:میں اُس سے بہتر ہوں، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اُس کو مٹی سے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں ’مَا مَنَعَکَ اَلَّا تَسْجُدَ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ ’مَا مَنَعَکَ‘ کے بعد ’لَا‘ کا لانا ضروری نہیں تھا، اِس لیے کہ اُس میں خود ’لاَ‘ کا مضمون موجود ہے، لیکن لایا گیا ہے تو اِس سے شدت نکیر کا مضمون پیدا ہو گیا ہے۔ یہ اسلوب ہماری اپنی زبان میں بھی موجود ہے۔
      مطلب یہ ہے کہ اِس سجدے کا حکم چونکہ میں نے دیا تھا، اِس لیے یہ سجدہ آدم کو نہیں، بلکہ درحقیقت مجھے تھا۔ لیکن اِس کے باوجود امتثال امر کے بجاے تو نے سرکشی اختیار کی، آخر کیوں؟
      اِس سے واضح ہے کہ عز و شرف کو نسل و نسب پر مبنی سمجھنے کا فلسفہ ابلیس کی ایجادات میں سے ہے۔ جو لوگ اِس بنیاد پر اکڑتے اور دوسروں کو حقیر سمجھتے ہیں، وہ درحقیقت اُسی کے پیرو ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی فرمایا، پھر تو یہاں سے اُتر، تجھے یہ حق نہیں ہے کہ تو اس میں گھمنڈ کرے، تو نکل، یقیناً تو ذلیلوں میں سے ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      تکبر شرک ہے: ’قَالَ فَاھْبِطْ مِنْھَا فَمَا یَکُوْنُ لَکَ اَنْ تَتَکَبَّرَ فِیْھَا الایہ‘۔ جانتے بوجھتے خدا کے حکم سے سرکشی تکبر ہے۔ جو اس تکبر میں مبتلا ہوتا ہے وہ اپنے آپ کو خدا سے بڑا یا اس کا ہم سر ٹھہراتا ہے جو صریحاً شرک ہے۔ کبریائی صرف خدا کے لیے زیبا ہے۔ جو اس میں حصہ بٹانے کے مدعی بنتے ہیں ان پر خدا کی طرف سے ذلت کی مار پڑتی ہے۔ متکبر کے لیے خدا کی بہشت میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ بہشت صرف خاشعین و عابدین کی جگہ ہے اس وجہ سے ابلیس کو وہاں سے نکلنے کا حکم ہوا اور اس کے تکبر کے جرم میں اس کو دائمی ذلت کی سزا دی گئی۔ آگے اسی طرح کے متکبرین کے بارے میں فرمایا ہے کہ جس طرح اونٹ سوئی کے ناکے میں نہیں جا سکتا اسی طرح متکبرین خدا کی بہشت میں نہیں جا سکتے:

      ’اِنَّ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَاسْتَکْبَرُوْا عَنْھَا لَا تُفَتَّحُ لَھُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَلَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ‘(۴۰)
      (بے شک جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور تکبر کر کے ان سے اعراض کیا ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے جب تک اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل نہ ہو جائے)

      بعینہٖ یہی بات سیدنا مسیح ؑ نے فرمائی ہے کہ ’جس طرح اونٹ سوئی کے ناکے میں نہیں جا سکتا اسی طرح دولت مند خدا کی بہشت میں نہیں جا سکتا۔ دونوں تعبیروں میں صرف یہ فرق ہے کہ قرآن نے اصل جرم، استکبار کا حوالہ دیا ہے اور سیدنا مسیح ؑ نے علت جرم یعنی دولت کا، جو بالعموم استکبار کا سبب بن جاتی ہے۔ اس تفصیل سے واضح ہوا کہ شیطان کا اصل جرم استکبار تھا جس کے سبب سے وہ جنت سے نکالا گیا۔ اس وجہ سے جو لوگ اس جرم میں اس کے ساتھی بنیں گے ان کے لیے خدا کی بہشت میں کوئی مقام نہیں ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی فرمایا: اچھا تو یہاں سے اتر، تجھے یہ حق نہیں ہے کہ یہاں بڑائی کا گھمنڈ کرے، سو نکل جا، یقیناتو ذلیل ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ خدا کی بارگاہ سے اترنے کا حکم ہے، جہاں جنات اور فرشتے ، سب اُس کے حضور میں اُس سے ہم کلام تھے۔
      مطلب یہ ہے کہ ہماری بارگاہ میں سرکشی اور تکبر کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ اِس جرم کا ارتکاب کر رہے ہو تو اِس کی سزا دائمی ذلت ہے۔ یہاں سے نکل جاؤ، اب اِسی ذلت میں رہو گے۔ ہماری بارگاہ کے دروازے تم پر ہمیشہ کے لیے بند ہو گئے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی بولا، اس دن تک کے لیے تو مجھے مہلت دے دے جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      انسان کے لیے اصل معرکۂ امتحان: ’قَالَ اَنْظِرْنِیْٓ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ o قَالَ اِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ‘ ابلیس کو چونکہ ذلت کے ساتھ جنت سے نکل جانے کا حکم ہوا اس وجہ سے اس کو گمان ہوا کہ اب اس کے لیے سعی و عمل کی کوئی مہلت باقی نہیں رہی ہے۔ اس پر اس نے خدا سے درخواست کی کہ اسے مہلت عطا کی جائے کہ وہ ثابت کر سکے کہ انسان فی الواقع اس شرف کا سزاوار نہیں ہے جو اسے بخشا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو یہ مہلت دے دی۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں سے انسان کی زندگی کارزار امتحان میں داخل ہوتی ہے۔ شیطان نے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے، اپنا پورا زور اس بات کے لیے لگانے کا منصوبہ بنایا کہ وہ انسان کو نا اہل و نالائق ثابت کر دے اور انسان کی سعادت و کامرانی اس بات میں ٹھہری کہ وہ یہ ثابت کرے کہ فی الواقع وہ اس کا اہل ہے۔
      کامیابی و ناکامی کا فیصلہ قیامت پر: یہ مہلت سعی و عمل چونکہ انسان کو موت ہی تک حاصل ہے اس وجہ سے شیطان کو بھی ورغلانے اور بہکانے کا موقع صرف انسان کی موت ہی تک ہے۔ مر جانے کے بعد جس طرح انسان پر سعی و عمل کا دروازہ بند ہو جاتا ہے اسی طرح شیطان کے لیے اس پر زور آزمائی کی راہ بھی مسدود ہو جاتی ہے لیکن یہ فیصلہ کہ کون جیتا کون ہارا، قیامت کے دن ہی ہونا ہے اس وجہ سے ابلیس نے مہلت ’اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ‘ مانگی۔ جس کے معنی یہ ہوئے کہ اس نے اپنی یہ درخواست منظور کرا کے انسان کے شرف و مزیّت کے معاملہ کا فیصلہ قیامت پر ملتوی کرا دیا۔ اب وہیں فیصلہ ہو گا کہ انسان اس تاج زریں کا سزاوار ہے یا نہیں؟ اگر وہ سزاوار ٹھہرا تو اس کے لیے جنت کی ابدی نعمتیں ہیں ورنہ جس طرح شیطان دوزخ میں ہو گا اسی طرح انسان بھی دوزخ میں اپنا ٹھکانا بنائے گا۔

      جاوید احمد غامدی بولا: مجھے اُس دن تک مہلت دے، جب لوگ اٹھائے جائیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اِس بات کی مہلت کہ میں یہ ثابت کر سکوں کہ انسان کو جو شرف بخشا گیا ہے، وہ فی الواقع اُس کا اہل نہیں ہے۔

    • امین احسن اصلاحی فرمایا، تو مہلت دے دیا گیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      انسان کے لیے اصل معرکۂ امتحان: ’قَالَ اَنْظِرْنِیْٓ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ o قَالَ اِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ‘ ابلیس کو چونکہ ذلت کے ساتھ جنت سے نکل جانے کا حکم ہوا اس وجہ سے اس کو گمان ہوا کہ اب اس کے لیے سعی و عمل کی کوئی مہلت باقی نہیں رہی ہے۔ اس پر اس نے خدا سے درخواست کی کہ اسے مہلت عطا کی جائے کہ وہ ثابت کر سکے کہ انسان فی الواقع اس شرف کا سزاوار نہیں ہے جو اسے بخشا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو یہ مہلت دے دی۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں سے انسان کی زندگی کارزار امتحان میں داخل ہوتی ہے۔ شیطان نے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے، اپنا پورا زور اس بات کے لیے لگانے کا منصوبہ بنایا کہ وہ انسان کو نا اہل و نالائق ثابت کر دے اور انسان کی سعادت و کامرانی اس بات میں ٹھہری کہ وہ یہ ثابت کرے کہ فی الواقع وہ اس کا اہل ہے۔
      کامیابی و ناکامی کا فیصلہ قیامت پر: یہ مہلت سعی و عمل چونکہ انسان کو موت ہی تک حاصل ہے اس وجہ سے شیطان کو بھی ورغلانے اور بہکانے کا موقع صرف انسان کی موت ہی تک ہے۔ مر جانے کے بعد جس طرح انسان پر سعی و عمل کا دروازہ بند ہو جاتا ہے اسی طرح شیطان کے لیے اس پر زور آزمائی کی راہ بھی مسدود ہو جاتی ہے لیکن یہ فیصلہ کہ کون جیتا کون ہارا، قیامت کے دن ہی ہونا ہے اس وجہ سے ابلیس نے مہلت ’اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ‘ مانگی۔ جس کے معنی یہ ہوئے کہ اس نے اپنی یہ درخواست منظور کرا کے انسان کے شرف و مزیّت کے معاملہ کا فیصلہ قیامت پر ملتوی کرا دیا۔ اب وہیں فیصلہ ہو گا کہ انسان اس تاج زریں کا سزاوار ہے یا نہیں؟ اگر وہ سزاوار ٹھہرا تو اس کے لیے جنت کی ابدی نعمتیں ہیں ورنہ جس طرح شیطان دوزخ میں ہو گا اسی طرح انسان بھی دوزخ میں اپنا ٹھکانا بنائے گا۔

      جاوید احمد غامدی فرمایا: تجھے مہلت ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس کے معنی یہ ہیں کہ ابلیس اور اُس کی ذریت کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے یہ مہلت دے دی ہے کہ وہ انسان کو بہکانے اور ورغلانے کے لیے جو کچھ کر سکتا ہے، کر لے۔ انسان کے شرف و مزیت کے معاملے کا فیصلہ اِس کے نتیجے میں قیامت پر ملتوی ہو گیا ہے۔ اب وہیں معلوم ہو گا کہ اِس جنگ میں کون جیتتا اور کون ہارتا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...یہی وہ موڑ ہے ، جہاں سے انسان کی زندگی کا رزار امتحان میں داخل ہوتی ہے۔ شیطان نے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے، اپنا پورا زور اِس بات کے لیے لگانے کا منصوبہ بنایا کہ وہ انسان کو نااہل و نالائق ثابت کر دے اور انسان کی سعادت و کامرانی اِس بات میں ٹھیری کہ وہ یہ ثابت کرے کہ فی الواقع وہ اِس کا اہل ہے۔‘‘(تدبرقرآن۳/ ۲۳۲)

       

    • امین احسن اصلاحی بولا، چونکہ تو نے مجھے گمراہی میں ڈالا ہے اس وجہ سے میں تیری سیدھی راہ پر ان کے لیے گھات میں بیٹھوں گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ابلیس کا چیلنج اللہ تعالیٰ کو: ’قَالَ فَبِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ لَاَقْعُدَنَّ لَھُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ‘ اپنی درخواست منظور کرا لینے کے بعد یہ چیلنج ابلیس نے اللہ تعالیٰ کو دیا۔ اس نے اپنا اصل حریف اللہ تعالیٰ ہی کو سمجھا اس وجہ سے چیلنج بھی اللہ تعالیٰ ہی کو دیا۔ گویا اس کارزار میں شیطان کے نقطۂ نظر سے، اصل مقابلہ شیطان اور انسان کے درمیان نہیں بلکہ خدا اور شیطان کے درمیان ہے:

      ’فَبِمَآ اَغْوَیْتَنِیْ‘
      (بوجہ اس کے کہ تو نے مجھے گمراہ کیا)

      کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان نے سجدہ نہ کرنے کے معاملہ میں اپنے رویہ کو بالکل صحیح سمجھا۔ اس کے نزدیک اس کی گمراہی خود کردہ نہیں بلکہ (نعوذ باللہ) خدا کردہ ہے۔ گویا خدا نے اسے ڈالا ہی تھا ایسے امتحان میں جس سے وہ عہدہ برآ نہیں ہو سکتا تھا اس وجہ سے وہ گمراہ ہوا تو اس گمراہی پر نعوذ باللہ خدا ہی نے اس کو مجبور کیا۔
      شیطان کی اصل گھات: ’صِرَاطِ الْمُسْتَقِیْمَ‘ سے مراد توحید کی راہ ہے۔ انسان کی فطرت اور خدا میں براہ راست ربط ہے۔ فطرت کی راہ میں غیر فطری کج پیچ نہ پیدا کر دیے جائیں تو انسان توحید کے سوا کوئی اور راہ نہیں اختیار کر سکتا۔ اس وجہ سے توحید کو قرآن میں بھی اور دوسرے آسمانی صحیفوں میں بھی ’صِرَاطِ الْمُسْتَقِیْمَ‘ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ جب تک انسان اس راہ پر قائم رہتا ہے اس وقت تک، وہ سست رَو اور آبلہ پا ہو کر بھی روبمنزل رہتا ہے اس وجہ سے دیرسویر منزل پر پہنچ ہی جاتا ہے۔ برعکس اس کے، اگر وہ شرک کے کسی موڑ کی طرف مڑ جائے تو اصل منزل سے روگردان ہو جاتا ہے اور پھر جتنے قدم بھی وہ آگے بڑھتا ہے اس کا سفر کسی ’’ضَلَالِ بَعِیْد‘‘ ہی کی راہ میں ہوتا ہے۔ یہ رمز ہے جس کے سبب سے شیطان کو انسان پر پوری فتح حاصل کرنے کا اس وقت تک موقع نہیں ملتا جب تک وہ اس کو توحید کی شاہراہ سے ہٹا کر شرک کی کسی پگڈنڈی پر نہ ڈال دے۔ چنانچہ اس نے اپنے چیلنج میں آشکارا الفاظ میں بتا دیا کہ وہ انسان کی گھات میں توحید کی راہ پر بیٹھے گا اور اس راہ سے اس کو بے راہ کرنے کی کوشش کرے گا۔

      جاوید احمد غامدی بولا: تو مجھے تو نے گمراہی میں ڈالا ہے، اِس لیے اب میں بھی اولاد آدم کے لیے ضرور تیری سیدھی راہ پر گھات میں بیٹھوں گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی میں خود گمراہ نہیں ہوا، بلکہ تو نے حکم ہی ایسا دیا تھا جس کا امتثال میرے لیے ممکن نہیں تھا۔ چنانچہ میں اگر گمراہ ہوا ہوں تو اِس گمراہی پر ، معاذ اللہ، تو نے مجھے مجبور کیا ہے۔ آگے کی آیات سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی اِس بات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایک کھلی ہوئی سفیہانہ بات تھی جس کا جواب دینے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔
      اِس سے توحید کی راہ مراد ہے اور ابلیس نے یہ چیلنج اللہ تعالیٰ کو دیا ہے کہ وہ جنت الفردوس کے لیے صالحین کے انتخاب کی اُس اسکیم کو ناکام بنا دے گا جو انسان کی تخلیق سے اللہ کے پیش نظر ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...انسان کی فطرت اور خدا میں براہ راست ربط ہے۔ فطرت کی راہ میں غیر فطری کج پیچ نہ پیدا کر دیے جائیں تو انسان توحید کے سوا کوئی اور راہ نہیں اختیار کر سکتا۔ اِس وجہ سے توحید کو قرآن میں بھی اور دوسرے آسمانی صحیفوں میں بھی ’صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْم‘ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ جب تک انسان اِس راہ پر قائم رہتا ہے، اُس وقت تک وہ سست رو اور آبلہ پا ہو کر بھی روبمنزل رہتا ہے، اِس وجہ سے دیر سویر منزل پر پہنچ ہی جاتا ہے۔ برعکس اِس کے، اگر وہ شرک کے کسی موڑ کی طرف مڑ جائے تو اصل منزل سے روگرداں ہو جاتا ہے اور پھر جتنے قدم بھی وہ آگے بڑھتا ہے، اُس کا سفر کسی ’ضَلَالٌ بَعِیْد‘ ہی کی راہ میں ہوتا ہے۔یہ رمز ہے جس کے سبب سے شیطان کو انسان پر پوری فتح حاصل کرنے کا اُس وقت تک موقع نہیں ملتا، جب تک وہ اُس کو توحید کی شاہراہ سے ہٹا کر شرک کی کسی پگ ڈنڈی پر نہ ڈال دے۔ چنانچہ اُس نے اپنے چیلنج میں آشکارا الفاظ میں بتا دیا کہ وہ انسان کی گھات میں توحید کی راہ پر بیٹھے گا اور اِس راہ سے اُس کو بے راہ کرنے کی کوشش کرے گا۔‘‘ (تدبرقرآن۳/ ۲۳۲)

       

    • امین احسن اصلاحی پھر میں ان کے آگے، ان کے پیچھے، ان کے داہنے اور ان کے بائیں سے ان پر تاخت کروں گا اور تو ان میں سے اکثر کو اپنا شکر گزار نہ پائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      شیطان کے ہمہ جہت حملے کا بیان: ’ثُمَّ لَاٰتِیَنَّھُمْ مِنْ بَیْنِ اَیْدِیْھِمْ وَمِنْ خَلْفِھِمْ‘ یہ بیان ہے شیطان کے حملہ کی قوت، وسعت اور ہمہ گیری کا خود اس کی زبان سے۔ وہ ہر جہت، ہر سمت ہر پہلو سے انسان پر حملہ کرے گا۔ وہ اس کے مشاہدات، احساسات، جذبات، خواہشات ہر منفذ سے اس کے اندر گھسنے کی کوشش کرے گا۔ وہ اس کے فکر، فلسفہ، علم، ادراک ہر چیز کو مسموم کرے گا۔ وہ اس کی تحقیق، تنقید، تصنیف، تالیف، ادب، آرٹ، لٹریچر ہر چیز میں اپنا زہر گھولے گا، وہ اس کے تہذیب، تمدن، معیشت، معاشرت، فیشن، کلچر، سیاست اور مذہب ہر چیز کے اندر فساد برپا کرے گا۔ شیطان کا یہی چیلنج سورۂ بنی اسرائیل میں بدیں الفاظ نقل ہوا ہے:

      ’قَالَ اَرَءَ یْتَکَ ھٰذَا الَّذِیْ کَرَّمْتَ عَلَیَّ، لَءِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لَاَحْتَنِکَنَّ ذُرِّیَّتَہٗٓ اِلَّا قَلِیْلًاo قَالَ اذْھَبْ فَمَنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ فَاِنَّ جَھَنَّمَ جَزَآؤُکُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًاo وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْھُمْ بِصَوْتِکَ وَاَجْلِبْ عَلَیْہِمْ بِخَیْلِکَ وَرَجِلِکَ وَشَارِکْھُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ وَعِدْھُمْط وَمَا یَعِدُھُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًاo اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطٰنٌ وَکَفٰی بِرَبِّکَ وَکِیْلًا‘(۶۲۔۶۵)
      (ذرا دیکھ تو، یہی ہے وہ جس کو تو نے مجھ پر فضیلت بخشی ہے! اگر تو نے قیامت تک کے لیے مجھے مہلت بخشی تو قدر قلیل کے سوا میں اس کی ساری ذریت کو چٹ کر جاؤں گا۔ خدا نے فرمایا، چل دور ہو، جو ان میں سے تیری پیروی کریں گے تو تمھارا بھرپور بدلہ جہنم ہے۔ تو ان میں سے جن کو اپنے شور و شغب سے اکھاڑ سکے اکھاڑ لے اور ان کو اپنے پر فریب وعدوں کے سبز باغ دکھا۔ شیطان کے سارے وعدے ان سے محض دھوکے کی ٹٹی ہیں ۔۔۔ بے شک تجھ کو میرے خاص بندوں پر کوئی اختیار حاصل نہیں ہو گا اور تیرا رب اعتماد کے لیے کافی ہے)

      اس آیت سے شیطان کے پروپیگنڈے کے زور اور اس کی وسعت کا بھی اظہار ہو رہا ہے اور یہ بات بھی نکلتی ہے کہ وہ اپنے منصوبے کو بروئے کار لانے کے لیے سیاسی ہتھکنڈے بھی استعمال کرے گا۔ البتہ ایک پہلو اس میں تسلی کا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو انسان پر یہ اختیار نہیں بخشا کہ وہ اس کے ارادے اور اختیار کو سلب کر سکے۔ انسان کا ارادہ و اختیار بہرحال باقی رہے گا۔ اس وجہ سے اللہ کے جو بندے صراط مستقیم پر قائم رہنے کا عزم کر لیں گے وہ شیطان کی تمام غوغا آرائیوں کے علی الرغم اس پر قائم رہیں گے، اگرچہ اس کے لیے انھیں جان کی بازی کھیلنی پڑے۔
      توحید کی اصل روح: ’وَلَا تَجِدُ اَکْثَرَھُمْ شٰکِرِیْنَ‘ کا ٹھیک ٹھیک مطلب یہ ہے کہ تو ان کی اکثریت کو اپنا موحّد نہیں پائے گا۔ اس لیے کہ توحید کی اصل حقیقت یہی ہے کہ بندہ اپنی ہر نعمت کو اللہ ہی کا عطیہ، اسی کا فضل جانے اور اسی کا شکرگزار رہے۔ اگر وہ اس کو غیر اللہ کی طرف منسوب کر دے تو یہ شرک ہے۔ اس مسئلہ پر پیچھے بھی بحثیں گزر چکی ہیں اور آگے بھی اسی سورہ میں اس کے بعض نہایت اہم پہلو سامنے آئیں گے۔ اوپر آیت ۱۰ پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔

       

      جاوید احمد غامدی پھر اِن کے آگے اور پیچھے، دائیں اور بائیں ، ہر طرف سے اِن پر تاخت کروں گا اور تو اِن میں سے اکثرکو اپنا شکرگزار نہ پائے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ شیطان نے یہ چیلنج کس عزم و ارادے سے اور کس زور اور طنطنے کے ساتھ دیا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...یہ بیان ہے شیطان کے حملے کی قوت، وسعت اور ہمہ گیری کا خود اُس کی زبان سے۔ وہ ہر جہت، ہر سمت، ہر پہلو سے انسان پر حملہ کرے گا۔ وہ اُس کے مشاہدات، احساسات، جذبات، خواہشات ہر منفذ سے اُس کے اندر گھسنے کی کوشش کرے گا۔ وہ اُس کے فکر، فلسفہ، علم، ادراک ہر چیز کو مسموم کرے گا۔ وہ اُس کی تحقیق، تنقید، تصنیف، تالیف، ادب، آرٹ، لٹریچر ہر چیز میں اپنا زہر گھولے گا، وہ اُس کے تہذیب، تمدن، معیشت، معاشرت، فیشن، کلچر، سیاست اور مذہب ہرچیز کے اندر فساد برپا کرے گا۔‘‘(تدبرقرآن۳/ ۲۳۳)

      اِس جملے کا ٹھیک ٹھیک مطلب یہ ہے کہ تو اُن کی اکثریت کو توحید پر قائم نہیں پائے گا۔ اِس لیے کہ وہ جب خدا کی نعمتوں اور اُس کے افضال و عنایات کے لیے اُس کے شکر گزار نہیں ہوں گے تو دوسروں کے ہوں گے اور اُنھیں معبود بنا کر اُن کی پرستش کرنے لگیں گے۔

       

    • امین احسن اصلاحی فرمایا، تو یہاں سے نکل خوار اور راندہ۔ ان میں سے جو تیری پیروی کریں گے تو میں تم سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      خدا کا دوٹوک فیصلہ: ’قَالَ اخْرُجْ مِنْھَا مَذْءُ وْمًا مَّدْحُوْرًا ط لَمَنْ تَبِعَکَ مِنْھُمْ الایۃ‘ اللہ تعالیٰ نے شیطان کو وہ مہلت تو دے دی جو اس نے مانگی لیکن ساتھ ہی اس نے اس کو ذلیل و خوار کر کے جنت سے نکال بھی دیا اس لیے کہ جنت میں متمردین و مستکبرین کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ علاوہ ازیں ان لوگوں کا انجام بھی واضح فرما دیا جو انسانوں اور جنوں میں سے اس کی پیروی کریں گے۔ فرمایا کہ میں ان سب کو تیرے سمیت جہنم میں بھر دوں گا۔ الفاظ پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ جس طنطنہ اور زور کے ساتھ شیطان نے انسان کو گمراہ کرنے اور ان کی اکثریت کو جیت لینے کے عزم کا اظہار کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب بھی پوری شان بے نیازی اور جبروت کے ساتھ دیا ہے جس سے واضح ہے کہ خدا کا یہ فیصلہ دوٹوک ہے، اس میں کسی رو رعایت کی گنجائش نہیں ہے۔

      جاوید احمد غامدی فرمایا: نکل جا یہاں سے، ذلیل اور راندہ ۔ (یاد رکھ کہ) اِن میں سے جو تیری پیروی کریں گے، میں تم سب سے اکٹھے جہنم کو بھر دوں گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ پوری بے نیازی اور شان کبریائی کے ساتھ شیطان کے چیلنج کا جواب بھی ہے اور اُس فیصلے کا دوٹوک اظہار بھی جس میں کسی رو رعایت کی گنجایش نہیں ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور اے آدم، تم اور تمھاری بیوی رہو جنت میں اور کھاؤ پیو جہاں سے چاہو۔ بس اس درخت کے پاس نہ پھٹکیو کہ اپنے اوپر ظلم کرنے والوں میں سے بن جاؤ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      سرگزشت آدمؑ و ابلیس کے چند مضمرات: یہ اسی سرگزشت کا آگے کا حصہ بیان ہو رہا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ شیطان کو جنت سے نکالنے کے بعد آدمؑ و حوا کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت فرمائی کہ تم چین سے جنت میں رہو، اس کی تمام نعمتوں سے آزادی کے ساتھ فائدہ اٹھاؤ، بس اتنا خیال رکھنا کہ فلاں درخت کے پاس نہ پھٹکنا ورنہ تم خود اپنی جان پر ظلم ڈھاؤ گے اور اس جنت سے محروم ہو جاؤ گے۔ شیطان نے یہیں سے آدمؑ پر حملہ کرنے کی راہ نکال لی۔ اس نے آدمؑ و حوا کو یہ پٹی پڑھائی کہ اس باغ میں کوئی درخت فائدہ اٹھانے کا ہے تو وہی ہے جس سے تمھیں تمھارے رب نے روک رکھا ہے۔ اس سے تمھیں محض اس وجہ سے روکا گیا ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ یا تمھاری زندگی ابدی نہ ہو جائے۔ شیطان نے قسمیں کھا کھا کے آدمؑ و حوا کو اپنی خیر خواہی کا یقین دلا دیا۔ بالآخر انھیں اس درخت کا پھل کھا لینے پر آمادہ کر لیا۔ اس کا پھل چکھتے ہی وہ حلّہ جنت سے محروم ہو گئے اور اپنے آپ کو ڈھانکنے کے لیے انھوں نے اپنے اوپر پتے سینے شروع کر دیے۔ اس وقت خدا نے ان کو آواز دی کہ میں نے تو تمھیں آگاہ کر دیا تھا کہ شیطان تمھارا کھلا ہوا دشمن ہے۔ وہ اپنی دشمنی کا کھلے بندوں اعلان کر چکا ہے۔ اس پر آدمؑ و حوا کو تنبہ ہوا۔ انھوں نے فوراً توبہ و استغفار کی جو اللہ تعالیٰ نے قبول بھی فرما لی لیکن ساتھ ہی آدم و حوا اور ابلیس سب کو وہاں سے نکلنے کی ہدایت ہوئی کہ اب تمھارا مستقر زمین ہے، اس میں تم ایک دوسرے سے آزمائے جاؤ گے، پھر جو اس جنت کا اپنے آپ کو حق دار ثابت کرے گا وہ جنت پائے گا اور جو دوزخ کا سزاوار ٹھہرے گا وہ دوزخ میں جھونک دیا جائے گا۔
      اس سرگزشت کے سنانے سے جن حقائق کا سراغ مقصود ہے ان پر تفصیل سے سورۂ بقرہ کی تفسیر میں ہم روشنی ڈال چکے ہیں۔ البتہ جو باتیں وہاں زیربحث نہیں آئی ہیں ان کی وضاحت ہم یہاں کریں گے۔
      ’یٰٓاٰدَمُ اسْکُنْ‘ الایۃ، ’شجرہ‘ پر بقرہ کی تفسیر میں بحث گزر چکی ہے ’فَکُلَا مِنْ حَیْثُ شِءْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا ھٰذِہِ الشَّجَرَۃَ‘ سے یہ بات نکلتی ہے کہ پوری جنت کی ہر چیز سے آدمؑ و حوا کو فائدہ اٹھانے کی آزادی حاصل تھی، صرف ایک درخت سے ان کو روکا گیا تھا لیکن وہی درخت ان کے لیے آزمائش بن گیا۔ شیطان نے اسی شجر ممنوعہ کے فوائد و برکات پر ایسی دلفریب تقریر کی کہ آدمؑ اللہ کے عہد پر قائم نہ رہ سکے۔ شیطان کی یہی تکنیک اولاد آدمؑ کے ساتھ اس دنیا میں بھی ہے۔ اس دنیا کی ہر چیز انسان کے لیے مباح ہے صرف گنتی کی چند چیزیں ہیں جو ممنوع ہیں۔ شیطان بس انہی چیزوں کو لے کر اپنی اور اپنے کارندوں کی وسوسہ اندازیوں سے لوگوں کو باور کراتا ہے کہ تمھاری ساری کامیابی و ترقی کا راز بس انہی چیزوں کے اندر مضمر ہے جن سے روک دیا گیا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اے آدم، تم اور تمھاری بیوی ، دونوں اِس باغ میں رہو اور اِس میں سے جہاں سے چاہو، کھاؤ۔ ہاں، البتہ تم دونوں اِس درخت کے پاس نہ جانا، ورنہ ظالم ٹھیرو گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ غالباً اِسی دنیا کا کوئی باغ تھا جسے آدم و حوا کا مستقر قرار دیا گیا۔ اِس میں جو امتحان اُنھیں پیش آیا، اُس سے دونوں پر یہ بات واضح ہو گئی کہ شیطان اُن پر حملہ کرے گا تو کہاں سے کرے گا۔
      سورۂ طہٰ (۲۰) کی آیت ۱۲۰ میں اِسے ’شَجَرَۃُ الْخُلْدِ‘ کہا گیا ہے۔ اِس سے واضح ہے کہ لفظ ’الشَّجَرَۃ‘ یہاں مجازی مفہوم میں ہے۔ ’شَجَرَۃُ الْخُلْدِ‘ کے لفظ سے جو معنی ظاہر ہوتے ہیں اور اِس درخت کا پھل کھانے کے جو اثرات آگے بیان ہوئے ہیں، دونوں اِس بات کی طرف صاف اشارہ کرتے ہیں کہ اِس سے مراد وہی شجرۂ تناسل ہے جس کا پھل کھانے کے باعث انسان اِس دنیا میں اپنے آپ کو باقی رکھے ہوئے ہے، لیکن آج بھی دنیا میں اُس کے لیے سب سے بڑی آزمایش اگر کوئی ہے تو یہی درخت ہے۔ آگے کی آیتوں سے مزید واضح ہو جائے گا کہ شیطان سب سے بڑھ کر اِسی کو فتنے کا ذریعہ بناتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا اور اُنھیں اجاز ت دی کہ وہ یہ لباس پہن کر اِس درخت کا پھل کھائیں، لیکن شیطان ہمیشہ اُنھیں اِس لباس کے بغیر ہی اِس کا پھل کھانے کی ترغیب دیتا رہتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی پس شیطان نے ان کے اندر وسوسہ اندازی کی کہ عریاں کر دے ان کی وہ شرم کی جگہیں جو ان سے چھپائی گئی تھیں۔ اس نے ان سے کہا کہ تمھارے خداوند نے تو تمھیں اس درخت سے صرف اس وجہ سے روکا کہ تم کہیں فرشتے یا ہمیشہ زندہ رہنے والے نہ بن جاؤ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ابلیس کو جنت سے نکلنے کے بعد بھی آدمؑ تک رسائی حاصل تھی: ’فَوَسْوَسَ لَھُمَا الشَّیْطٰنُ لِیُبْدِیَ لَھُمَا الایۃ‘ ہر چند شیطان مردود قرار پا کر جنت سے نکالا جا چکا تھا لیکن اوپر گزر چکا ہے کہ اس نے آدمؑ اور اولاد آدمؑ کو ورغلانے اور بہکانے کے لیے مہلت حاصل کر لی تھی۔ اس مہلت کے سبب سے معلوم ہوتا ہے، اس کو آدمؑ و حوا تک پہنچنے میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی چنانچہ اس سے اس نے فائدہ اٹھایا اور وسوسہ اندازی کے لیے آدم کے پاس پہنچ گیا۔
      ’لِیُبْدِیَ لَھُمَا مَا وٗرِیَ عَنْھُمَا‘ میں ’ل‘ عاقبت کا ہے۔ شیطان کی کوشش تو، جیسا کہ اس نے اپنے چیلنج میں ظاہر کیا ہے آدمؑ کو کفران نعمت اور خدا کی نافرمانی میں مبتلا کرنے کی تھی لیکن اس کا انجام چونکہ اس شکل میں ظاہر ہوا کہ آدمؑ و حوا حلّہ جنت سے محروم ہو گئے، اس وجہ سے اس کو اس طرح فرمایا گیا ہے گویا شیطان کی کوشش تھی ہی اسی مقصد کو سامنے رکھ کر۔ حلّہ جنت سے یہ محرومی اشارہ تھی اس بات کی طرف کہ اب آدمؑ کو اپنی ساری ضروریات اپنی سعی و محنت سے فراہم کرنی ہیں۔ اب تک ان کے لیے ہر چیز کا جو خدا ساز انتظام تھا وہ اس نافرمانی کے بعد ختم ہو گیا۔
      آدمؑ کا تصور فرشتوں اور زندگی سے متعلق: ’مَا نَھٰکُمَا رَبُّکُمَا عَنْ ھٰذِہِ الشَّجَرَۃِ اِلَّآ اَنْ تَکُوْنَا مَلَکَیْنِ‘ ابلیس نے آدم کو لالچ دیا کہ اس درخت کا پھل کھانے سے یا تو وہ فرشتوں کے مرتبے میں آ جائیں گے یا انھیں ابدی زندگی حاصل ہو جائے گی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں کے سجدہ سے مشرف ہونے کے باوجود آدمؑ فرشتوں کے مرتبہ کو اپنے سے اونچا سمجھتے تھے نیز وہ یہ جانتے تھے کہ یہ زندگی جو ان کو حاصل ہوئی ہے ابدی زندگی نہیں ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو شیطان ان کو ان دونوں چیزوں کے نام پر ورغلانے کی کوشش میں کامیاب نہ ہوتا۔

      جاوید احمد غامدی پھر شیطان نے اُنھیں بہکایا کہ اُن کی شرم گاہوں میں سے جو چیز اُن سے چھپائی گئی تھی، وہ اُن کے لیے کھول دے۔ اُس نے اُن سے کہا: تمھارے رب نے تمھیں اِس درخت سے صرف اِس وجہ سے روکا ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاؤ یا تمھیں ہمیشہ کی زندگی حاصل نہ ہو جائے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی جنسی تلذذ جس سے آدم و حوا ابھی واقف نہیں ہوئے تھے۔
      ابلیس نے یہ لالچ دے کر آدم و حوا کو اُس درخت کا پھل کھانے کی ترغیب دی۔چنانچہ اِس پھل کی خواہش میں جو غیر معمولی کیفیت انسان پر طاری ہو جاتی ہے، اُس سے مغلوب ہو کر وہ شیطان کے فریب میں آ گئے اور یہ پھل کھا بیٹھے۔ شیطان کی اِس بات میں، اگر غور کیجیے تو اتنی سچائی بھی ہے کہ یہ اُسی درخت کا پھل ہے جس کے کھانے سے دنیا میں انسان کی زندگی کا تسلسل قائم ہے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اِس کے ایک اور پہلو کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’...اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں کے سجدے سے مشرف ہونے کے باوجود آدم علیہ السلام فرشتوں کے مرتبے کو اپنے سے اونچا سمجھتے تھے۔ نیز وہ یہ جانتے تھے کہ یہ زندگی جو اُن کو حاصل ہوئی ہے، ابدی زندگی نہیں ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو شیطان اُن کو اِن دونوں چیزوں کے نام پر ورغلانے کی کوشش میں کامیاب نہ ہوتا۔‘‘(تدبرقرآن۳/ ۲۳۵)

       

    Join our Mailing List