Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 165 آیات ) Al-Anam Al-Anam
Go
  • الانعام (The Cattle)

    165 آیات | مکی
    سورہ کا عمود

    سورۂ انعام میں، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، مخاطب قریش ہیں۔ ان کے سامنے توحید، معاد اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کے دلائل واضح کرتے ہوئے ان کو ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے اور ساتھ ہی یہ تنبیہ ہے کہ اگر اُنھوں نے یہ دعوت قبول نہ کی تو اس انجام سے دوچار ہونے کے لیے ان کو تیار رہنا چاہیے جس سے رسولوں کی تکذیب کرنے والی قوموں کو دوچار ہونا پڑا۔ اہل عرب چونکہ حضرت ابراہیم ؑ کی اولاد تھے اور ان کا دعویٰ یہ تھا کہ جس مذہب پر وہ ہیں یہ ان کو حضرت ابراہیم ؑ ہی سے وراثت میں ملا ہے اس وجہ سے اس سورہ میں اس حجت کو خاص طور پر نمایاں کیا گیا ہے جو حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم کے سامنے پیش کی تاکہ قریش پر یہ واضح ہو جائے کہ اصل ملتِ ابراہیم ؑ کیا ہے اور اس کے حقیقی پیرو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ ہیں یا قریش۔

  • الانعام (The Cattle)

    165 آیات | مکی
    الانعام ——- الاعراف

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں جو حقائق عقل و فطرت اور انفس و آفاق کے دلائل سے ثابت کیے گئے ہیں، دوسری میں اُنھی کا اثبات تاریخی دلائل کے ساتھ اور اتمام حجت کے اسلوب میں ہوا ہے۔ پہلی سورہ میں دعوت اور دوسری میں انذار کا پہلو غالب ہے۔ دونوں کے مخاطب قریش ہیں اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ام القریٰ مکہ میں یہ دونوں سورتیں بالترتیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے مرحلۂ انذارعام اور مرحلۂ اتمام حجت میں نازل ہوئی ہیں۔

    پہلی سورہ الانعام کا موضوع قریش کے لیے توحید، رسالت اور معاد کے بنیادی مسائل کی وضاحت، اِن مسائل کے بارے میں اُن کی غلط فہمیوں پر تنبیہ اور اُنھیں توحید خالص پر ایمان کی دعوت ہے۔

    دوسری سورہ الاعراف کا موضوع قریش کو انذار اور اُن کے لیے اِس حقیقت کی وضاحت ہے کہ کسی قوم کے اندر رسول کی بعثت کے مقتضیات و تضمنات کیا ہیں اور اگر کوئی قوم اپنے رسول کی تکذیب پر اصرار کرے تو اُس کے کیا نتائج اُسے لازماً بھگتنا پڑتے ہیں۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی شکر کا سزاوار اللہ ہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور بنایا تاریکیوں اور روشنی کو، پھر تعجب ہے کہ جن لوگوں نے کفر کیا وہ اپنے رب کے ہم سر ٹھہراتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      توحید کی دلیل عرب کے مسلمات سے: لفظ ’حمد‘ کی تحقیق تفسیر سورۂ فاتحہ میں گزر چکی ہے اور یہ بات بھی اس کتاب میں بار بار بیان ہو چکی ہے کہ مشرکین عرب آسمان و زمین اور نور و ظلمت سب کا خالق اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے تھے۔ یہاں قرآن نے ان کے اسی مسلمہ پر توحید کی دلیل قائم کی ہے کہ جب یہ تسلیم ہے کہ آسمانوں اور زمین اور نور و ظلمت کا خالق اللہ ہی ہے تو پھر یہ کیسی عجیب بات ہے کہ یہ کفار دوسروں کو خدا کا ہم سر اور شریک ٹھہراتے ہیں۔ ’ثُمَّ‘ اظہار تعجب کے لیے بھی آتا ہے۔ یہاں اور آگے والی آیت میں بھی، اظہار تعجب ہی کے مفہوم میں ہے۔ شرک پر اظہار تعجب کا ایک پہلو تو یہی ہے کہ جب ساری چیزوں کا خالق خدا ہی ہے تو پھر شرک کی گنجائش کہاں سے نکلی؟ دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس کائنات کی چیزوں میں بظاہر جو تضاد نظرآتا ہے مثلاً زمین اور آسمان، روشنی اور تاریکی، سردی اور گرمی، تو اس تضاد کے اندر اس کائنات کے مجموعی مقصد کے لیے ایسی حیرت انگیز سازگاری بھی ہے کہ کوئی عاقل تصور نہیں کر سکتا کہ ان میں سے ہر ایک کے خالق و مالک الگ الگ ہیں۔ بلکہ ہر صاحب نظر یہ ماننے پر مجبور ہے کہ پوری کائنات ایک ہی کارفرما کے ارادے اور مشیت کے تحت حرکت کر رہی ہے۔

      جاوید احمد غامدی شکر اللہ ہی کے لیے ہے جس نے زمین و آسمان بنائے، روشنی اور تاریکیاں پیدا کیں۔ پھر تعجب ہے کہ یہ منکرین اپنے پروردگار کے ہم سر ٹھیراتے ہیں! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’اَلْحَمْدُ‘ استعمال ہوا ہے۔ عربی زبان میں یہ کسی کی خوبیوں اور کمالات کے اعتراف کے لیے بولا جاتا ہے۔ پھر اِن خوبیوں اور کمالات کا فیض اگر حمد کرنے والے کو بھی پہنچ رہا ہو تو اِس میں شکر کا مفہوم آپ سے آپ شامل ہو جاتا ہے۔ چنانچہ سورۂ اعراف (۷) آیت ۴۳، سورۂ یونس (۱۰) آیت ۱۰ اور سورۂ ابراہیم (۱۴) آیت ۳۹ میں اِس کے نظائرسے واضح ہوتا ہے کہ ’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘ کی ترکیب میں یہ بالعموم اُسی مفہوم کو ادا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے جسے ہم لفظ شکر سے ادا کرتے ہیں۔
      یہ مشرکین عرب کے مسلمہ سے استدلال فرمایا ہے کہ جب وہ زمین و آسمان اور نور و ظلمت سب کا خالق اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے ہیں تو پھر کیسی عجیب بات ہے کہ اُسی کے شریک ٹھیرانے کی جسارت کرتے ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...شرک پر اظہار تعجب کا ایک پہلو تو یہی ہے کہ جب ساری چیزوں کا خالق خدا ہی ہے تو پھر شرک کی گنجایش کہاں سے نکلی؟ دوسرا پہلو یہ ہے کہ اِس کائنات کی چیزوں میں بظاہر جو تضاد نظر آتا ہے، مثلاً زمین اور آسمان، روشنی اور تاریکی، سردی اور گرمی ، تو اِس تضاد کے اندر اِس کائنات کے مجموعی مقصد کے لیے ایسی حیرت انگیز سازگاری بھی ہے کہ کوئی عاقل تصور بھی نہیں کر سکتا کہ اِن میں سے ہر ایک کے خالق و مالک الگ الگ ہیں۔ بلکہ ہر صاحب نظر یہ ماننے پر مجبور ہے کہ پوری کائنات ایک ہی کارفرما کے ارادے اور مشیت کے تحت حرکت کر رہی ہے۔‘‘(تدبرقرآن۳/ ۱۷)

       

    • امین احسن اصلاحی وہی ہے جس نے تمھیں مٹی سے پیدا کیا، پھر ایک مدّت ٹھہرائی اور مدت مقررہ اسی کے علم میں ہے، پھر تعجب ہے کہ تم کج بحثیاں کرتے ہو! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’خَلَقَکُمْ مِّنْ طِیْنٍ‘ سے مقصود انسان کی ابتدائی خلقت کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ فرمایا:

      وَبَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍ.(۷۔ السجدہ)
      (اور انسان کی خلقت کا آغاز مٹی سے کیا)

      تمام ارضی مخلوقات کی زندگی کا آغاز مٹی ہی سے ہوا ہے۔ اس مضمون کو قرآن نے باربار مختلف شکلوں سے بیان کیا ہے اور اس سے عام طور پر دو حقیقتوں کی طرف توجہ دلائی ہے، ایک تو انسان کی بے حقیقتی کی طرف کہ مٹی سے پیدا ہونے والی مخلوق کو اپنی ہستی پر زیادہ مغرور نہیں ہونا چاہیے، دوسرے مرنے کے بعد پیدا کیے جانے پر کہ جب انسان کو خدا نے مٹی سے پیدا کیا اور اس پیدا کرنے میں اس کو کوئی دشواری پیش نہیں آئی تو اب دوبارہ اس کے پیدا کرنے سے وہ کیوں عاجز رہے گا۔ یہاں اسی دوسری حقیقت کو واضح کرنے کے لیے اس کا ذکر ہوا ہے۔ دوسری جگہ فرمایا ہے:

      وَاِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُہُمْ ءَ اِذَا کُنَّا تُرَابًا ءَ اِنَّا لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ۔(۵۔ الرعد)
      (اور اگر تم تعجب کرنا چاہو تو نہایت ہی عجیب ہے ان کی یہ بات کہ جب ہم مٹی ہو جائیں گے تو کیا دوبارہ نئی خلقت میں آئیں گے!)

      کَمَا بَدَاْنَآ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِیْدُہٗط وَعْدًا عَلَیْنَا اِنَّا کُنَّا فٰعِلِیْنَ۔(۱۰۴۔ انبیا)
      (جس طرح ہم نے پہلی بار مٹی سے بنایا اسی طرح مٹی ہو جانے کے بعد دوبارہ اس کو پیدا کر دیں گے، یہ ہمارے ذمہ وعدہ ہے، یہ ہم کر کے رہیں گے)

      وَھُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ وَھُوَ اَھْوَنُ عَلَیْہِ۔(۲۷۔ روم)
      (اور وہی ہے جو خلق کا آغاز کرتا ہے پھر وہ اس کا اعادہ کرے گا اور یہ اعادہ اس کے لیے سہل ہے)

      ’اجل‘ کے مختلف مفہوم: ثُمَّ قَضٰٓی اَجَلاً، ’اجل‘ کے معنی مدت مقررہ کے ہیں۔ ’اجل‘ یا ’اَجَلٌ مُّسَمَّی‘ کا لفظ فرد یا اقوام کے تعلق سے مختلف معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ ایک تو اس مدت حیات کے لیے جو ہر فرد کو تقدیر کی طرف سے ملی ہے، دوسرے اس روز بعث کے لیے استعمال ہوا ہے جو کسی قوم کی ہلاکت کے لیے مقرر ہے۔ پہلے معنی کے لیے نظیر آیت زیربحث میں بھی ہے اور اسی سورہ کی آیت ۶۰ میں بھی۔ فرمایا ہے:

      وَھُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰکُمْ بِاللَّیْلِ وَیَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّھَارِ ثُمَّ یَبْعَثُکُمْ فِیْہِ لِیُقْضٰٓی اَجَلٌ مُّسَمًّی ثُمَّ اِلَیْہِ مَرْجِعُکُمْ ثُمَّ یُنَبِّءُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔(۶۰)
      (اور وہی خدا ہے جو تمھیں وفات دیتا ہے شب میں اور وہ جاتنا ہوتا ہے جو کچھ تم نے دن میں کیا ہوتا ہے، پھر وہ تم کو دوسرے دن اٹھاتا ہے تاکہ تمھاری مقررہ مدت پوری کی جائے، پھر اسی کی طرف تمھارا لوٹنا ہوگا، پھر وہ تم کو آگاہ کرے گا ان سارے کاموں سے جو تم کرتے رہے ہو)

      دوسرے معنی کے لیے نظیر آیت زیر بحث میں ہے۔ اس میں ’اجل‘ کا ذکر دو مرتبہ ہے۔ ایک اجل تو ظاہر ہے کہ وہی ہے جو ہر فرد کی مدت حیات کے طور پر مقرر ہے، دوسری ’اجل‘ جس کے ساتھ ’مُسَمَّی‘ کی صفت لگی ہوئی ہے قرینہ دلیل ہے کہ اس سے وہ مدت مقررہ مراد ہے جو خلق کے اُٹھائے جانے کے لیے مقرر ہے۔ تیسرے معنی کے لیے نظیر آیت لِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌج فَاِذَا جَآءَ اَجَلُھُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَۃً وَّلَا یَسْتَقْدِمُوْنَ۔ (۳۴۔ اعراف)، اور اس مضمون کی دوسری آیات میں ہے۔ اس ’اجل‘ سے، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، وہ مقررہ پیمانہ مراد ہے جو کسی قوم کے اخلاقی زوال کی اس آخری حد کی خبر دیتا ہے جب قانون الٰہی اس کو تباہ کر دیتا ہے۔ یہ پیمانہ افراد کی مدت حیات کی طرح نہیں ہے کہ کوئی نیک ہو یا بد، جو مدت حیات اس کے لیے مقرر ہے اس کے ختم ہو جانے پر وہ لازماً مر جاتا ہے بلکہ یہ اخلاقی قوانین کے تابع ہے، جب تک کوئی قوم اپنے ایمان و کردار کو محفوظ رکھے گی خدا اس کو قائم رکھے گا، یہاں تک کہ وہ اجل مسمّی آجائے جو اس پوری کائنات کے لیے خدا کی طرف سے مقرر ہے۔ اس پیمانہ کے اخلاقی ہونے کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ یہ عین ممکن ہے کہ ایک قوم کا پیمانہ لبریز ہونے کی آخری حد پر پہنچ رہا ہو اور اس کی اجل مسمّی آئی کھڑی ہو لیکن سوئی کے آخری نقطہ پر پہنچنے سے پہلے ہی وہ قوم توبہ اور اصلاح کے ذریعہ سے اپنے زندہ رہنے کا حق پھر بحال کر لے۔ یہاں ہم اشارے پر کفایت کرتے ہیں انشاء اللہ سورۂ نوح کی تفسیر میں اس نکتہ پر تفصیل کے ساتھ بحث کریں گے۔
      ’امتراء‘، ’مری‘ سے ہے جس کے معنی متھنے، مسلنے، نچوڑنے کے ہیں ’امتری اللبن‘ کے معنی ہوں گے اس نے تھن سے دودھ نچوڑا۔ یہیں سے یہ لفظ اس بحث و جدال کے لیے استعمال ہوا جس میں کوئی کٹ حجتی کرنے والا مناظر اس بات میں سے بھی شک و اعتراض کا کوئی پہلو نکال ہی لے جس میں اعتراض و بحث کی کوئی گنجائش نہ ہو۔
      آیت کا مطلب یہ ہے کہ وہی خدا ہے جس نے تمھیں مٹی سے پیدا کیا اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے تمھیں بھی انکار نہیں۔ پھر ہر ایک کے لیے اس نے زندگی کی ایک مدت ٹھہرا دی۔ یہ نہیں ہے کہ جو پیدا ہوتا ہو وہ غیرفانی ہو کر پیدا ہوتا ہو، پھر اس میں کیا شک کی گنجائش ہے کہ جس خدا نے تمھیں مٹی سے بنایا وہ تمھیں دوبارہ اسی مٹی سے اٹھا کھڑا کرے گا۔ اس کے لیے اس نے ایک مدت مقرر کر رکھی ہے جس کا علم صرف اسی کو ہے۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے جس میں کسی بحث و جدال کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن تم ہر بات میں کٹ حجتی کی کوئی نہ کوئی راہ نکال لیتے ہو۔

       

      جاوید احمد غامدی وہی ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر (تمھارے لیے) ایک مدت ٹھیرا دی اور ایک دوسری مدت بھی ہے جو اُس کے ہاں مقرر ہے۔ تعجب ہے کہ اِس کے بعد بھی کج بحثیاں کرتے ہو! (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ وہی خدا ہے جس نے تمھیں مٹی سے پیدا کیا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا تم انکار نہیں کر سکتے۔ پھر یہ بھی جانتے ہو کہ ہر ایک کے لیے جینے کی ایک مدت مقرر کر دی گئی ہے۔ اِن حقائق کو سمجھتے ہو تو اِس بات میں شک کی گنجایش کہاں سے پیدا ہو جاتی ہے کہ جس خدا کو پہلی مرتبہ تمھیں مٹی سے پیدا کر دینے میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی، وہ مرنے کے بعد اِسی مٹی سے تمھیں دوبارہ اٹھا کھڑا کرے گا؟ تم میں سے ہر ایک کے لیے موت ہے تو اِس بعث و نشر کے لیے بھی ایک دوسری مدت ہے جو اُسی نے مقرر کر رکھی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور وہی اللہ آسمانوں میں بھی ہے اور وہی زمین میں بھی۔ وہ تمھارے خفیہ اور علانیہ کو جانتا ہے اور جو کمائی تم کر رہے ہو اسے بھی جانتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَہُوَ اللّٰہُ فِی السَّمٰوٰتِ وِفِی الْاَرْضِ الایۃ‘ یعنی زمین و آسمان میں الگ الگ الٰہ نہیں ہیں بلکہ وہی اللہ آسمان و زمین دونوں کا مالک ہے اور دونوں میں اسی کا حکم چل رہا ہے۔ دوسری جگہ فرمایا ہے:

      وَھُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآءِ اِلٰہٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِلٰہٌ وَھُوَ الْحَکِیْمُ الْعَلِیْمُ۔ (۸۴۔ زخرف)
      (وہی ہے جو آسمان کا بھی معبود ہے اور وہی زمین کا بھی معبود ہے اور وہ علیم و حکیم ہے)

      آسمان و زمین دونوں کا قیام و بقا ہی اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ ان دونوں کے اندر ایک ہی خدا کا ارادہ کارفرما ہے۔ اگر ان کے اندر الگ الگ ارادے کارفرما ہوتے تو، جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے، دونوں درہم برہم ہو جاتے۔ یہ مشرکین کے اس خیال کی تردید ہے کہ آسمان و زمین کا خالق تو خدا ہی ہے لیکن چونکہ زمین اس کی مملکت کا دور دراز حصہ ہے اس وجہ سے اس نے اس کا انتظام و انصرام اپنے دوسرے کارندوں کے سپرد کررکھا ہے۔ فرمایا کہ یہ بات نہیں ہے۔ آسمان و زمین سب براہ راست اسی کے کنٹرول میں ہیں اور اس کا علم تمھارے ظاہر و باطن اور تمھارے قول و فعل ہر چیز پر محیط ہے اس وجہ سے اس کو اپنی اس مملکت میں کسی مددگار کی احتیاج بھی نہیں ہے۔
      توحید اور معاد کا باہمی تعلق: توحید کا یہ مضمون اوپر قیامت والے مضمون کی تاکید ہے۔ یہ حقیقت قرآن میں بار بار واضح کی گئی ہے کہ قیامت کا ماننا اس لیے ضروری ہے کہ قیامت کو مانے بغیر یہ سارا کارخانہ ایک کھلنڈرے کا کھیل بن کے رہ جاتا ہے اور یہی بات اس صورت میں بھی لازم آتی ہے جب قیامت کے ساتھ شرک اور شفاعت باطل کی گنجائش تسلیم کر لی جائے۔ اس لیے کہ جب شرکا اپنے پرستاروں کو بہر صورت بخشوا لیں گے، جیسا کہ مشرکین کا دعویٰ ہے، خواہ ان کے اعمال کچھ ہی ہوں تو پھر قیامت کا آنا نہ آنا دونوں یکساں ہی رہا۔

       

      جاوید احمد غامدی وہی اللہ آسمانوں میں بھی ہے اور زمین میں بھی۔ وہ تمھارے کھلے اور چھپے سے واقف ہے اور جو کمائی تم کر رہے ہو، اُسے بھی جانتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی تمھارا یہ رویہ اگر اِس بھروسے پر ہے کہ زمین کا نظم و نسق کچھ دوسرے خداؤں کے سپرد ہے، تم اُن کے پرستار ہو، اِس لیے وہ تمھیں بخشوا لیں گے تو یہ غلط فہمی دور کر لو۔ زمین و آسمان دونوں کا خدا ایک ہی ہے اور دونوں میں اُسی کا حکم چل رہا ہے۔ تمھارے کھلے اور چھپے، سب احوال بھی اُس کے علم میں ہیں اور تمھارے اعمال سے بھی وہ پوری طرح واقف ہے۔ کسی میں یارا نہیں کہ اُس کے علم میں کوئی اضافہ کرسکے۔ متنبہ ہو جاؤ، اُس کی بارگاہ میں کسی شفاعت باطل کی کوئی گنجایش نہیں ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور نہیں آتی ان کے پاس ان کے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی مگر یہ اس سے اعراض کرنے والے بنے ہوئے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      تکذیبِ حق کا انجام اور تاریخ کی شہادت: یعنی توحید اور قیامت کی ان باتوں کی تکذیب کی کوئی گنجائش تو نہیں ہے لیکن یہ لوگ اللہ کی آیات سے اعراض کر رہے ہیں اور اس طرح انھوں نے اس حق کو جھٹلا دیا ہے جو اللہ کی طرف سے ان کے پاس آیا ہے، تو عنقریب اس چیز کی خبریں ان کے پاس آئیں گی جس کا وہ مذاق اڑا رہے ہیں۔ یہاں ’حق‘ سے مراد قرآن مجید ہے۔ قرآن، پیغمبر کی تکذیب کی صورت میں جس عذاب سے ڈرا رہا تھا لوگ اس کا مذاق اڑا رہے تھے۔ فرمایا کہ جس عذاب کا مذاق اڑا رہے ہیں اس کے آثار کے ظہور میں زیادہ دیر نہیں ہے۔

      جاوید احمد غامدی لوگوں کا حال یہ ہے کہ اُن کے پاس اُن کے پروردگار کی نشانیوں میں سے جو نشانی بھی آتی ہے، وہ اُس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی سو انھوں نے واضح حق کو بھی جُھٹلا دیا جب کہ وہ اُن کے پاس آیا تو عنقریب اس چیز کی خبریں ان کے پاس آئیں گی جس کا وہ مذاق اُڑاتے رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      تکذیبِ حق کا انجام اور تاریخ کی شہادت: یعنی توحید اور قیامت کی ان باتوں کی تکذیب کی کوئی گنجائش تو نہیں ہے لیکن یہ لوگ اللہ کی آیات سے اعراض کر رہے ہیں اور اس طرح انھوں نے اس حق کو جھٹلا دیا ہے جو اللہ کی طرف سے ان کے پاس آیا ہے، تو عنقریب اس چیز کی خبریں ان کے پاس آئیں گی جس کا وہ مذاق اڑا رہے ہیں۔ یہاں ’حق‘ سے مراد قرآن مجید ہے۔ قرآن، پیغمبر کی تکذیب کی صورت میں جس عذاب سے ڈرا رہا تھا لوگ اس کا مذاق اڑا رہے تھے۔ فرمایا کہ جس عذاب کا مذاق اڑا رہے ہیں اس کے آثار کے ظہور میں زیادہ دیر نہیں ہے۔

      جاوید احمد غامدی سو اُنھوں نے (اِس وقت بھی) حق کو جھٹلادیا ہے، جب کہ وہ اُن کے پاس آگیا ہے۔ اِس لیے عنقریب اُس چیز کی خبریں اُن کے پاس آجائیں گی جس کا وہ مذاق اڑاتے رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہاں ’حق‘ سے قرآن مجید مراد ہے۔
      یعنی خدا کا عذاب جس کی وعید تمام رسولوں نے اپنی قوموں کو سنائی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کر دیا جن کو ہم نے ملک میں وہ قوت و سطوت دے رکھی تھی جو تم کو نہیں دی اور ہم نے اُن پر خوب مینہ برسائے اور نہریں جاری کیں جو ان کے نیچے بہتی تھیں، پھر ہم نے ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کر دیا اور ان کے بعد ہم نے دوسری قومیں اُٹھا کھڑی کیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ تاریخ کی شہادت پیش کی گئی ہے اوپر والے دعوے پر۔ مطلب یہ ہے کہ قریش کو یہ غرہ نہیں ہونا چاہیے کہ ان کو بڑی قوت و شوکت حاصل ہے، ان کو ہلایا نہیں جا سکتا۔ ان سے پہلے کتنی قومیں گزری ہیں جن کو ان سے زیادہ اقتدار حاصل ہوا، ان کو رزق و فضل میں سے بھی ان سے کہیں زیادہ حصہ ملا لیکن جب اُنھوں نے رسولوں کی تکذیب کی تو خدا نے ان کو ہلاک کر دیا اور ان کے بعد ان کی جگہ دوسری قومیں اٹھا کھڑی کیں۔ یہاں تاریخ کا یہ حوالہ اجمال کے ساتھ آیا ہے۔ اس کی پوری تفصیل اعراف میں آئے گی جو اس سورہ کے مثنیٰ کی حیثیت رکھتی ہے۔
      ہم دوسرے مقام میں واضح کر چکے ہیں کہ ’سما‘ کا لفظ بادلوں کے لیے بھی آتا ہے۔ ’مِدْرَارًا‘ کے اندر مبالغہ کا مفہوم پایا جاتا ہے اور بارش کی کثرت رزق و فضل کی کثرت کی تعبیر ہے۔ ملاحظہ ہو سورۂ ہود آیت ۵۲ اور سورۂ نوح آیت ۱۱۔

      جاوید احمد غامدی کیا اُنھوں نے دیکھا نہیں کہ اُن سے پہلے کتنی قومیں ہم نے ہلاک کر دیں جنھیں زمین پر ہم نے وہ اقتدار بخشا تھا جو تمھیں نہیں بخشا ہے، اُن پر ہم نے خوب مینہ برسائے اور اُن کے نیچے نہریں بہا دیں، (مگر وہ جھٹلانے پر مصر رہے) تو اُن کے گناہوں کی پاداش میں بالآخر ہم نے اُنھیں ہلاک کر دیا اور اُن کے بعد اُن کی جگہ دوسری قوموں کو اٹھا کھڑا کیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اوپر جو دعویٰ کیا گیا ہے، یہ اُس پر تاریخ کی شہادت پیش کر دی ہے۔ سورۂ اعراف میں اِس کی تفصیلات آئیں گی جو اِس سورہ کے مثنیٰ کی حیثیت رکھتی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور اگر ہم تم پر کوئی ایسی کتاب اتارتے جو کاغذ میں لکھی ہوئی ہوتی اور یہ اس کو اپنے ہاتھوں سے چھو بھی لیتے جب بھی یہ کفر کرنے والے یہی کہتے کہ یہ تو بس ایک کھلا ہوا جادو ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      خُوئے بدرا بہانہ بسیار: اوپر آیت ۴ میں قرآن سے ان کے اعراض کا جو ذکر فرمایا تو یہ ان کے ان مطالبات و اعتراضات کا جواب بھی دے دیا جو وہ اس اعراض کے لیے بطور بہانہ کے پیش کرتے تھے۔ مقصود اس سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا ہے کہ یہ نہ خیال کرو کہ ان کے اعراض کے لیے فی الواقع کوئی عذر ہے، جو دور ہو جائے تو یہ قرآن کو مان لیں گے۔ نہیں، بات وہیں رہے گی جہاں اب ہے۔ یہ کوئی نہ کوئی نیا بہانہ تراش لیں گے اس لیے کہ نہ ماننے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ انھیں معجزے نہیں دکھائے گئے بلکہ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ اپنی خواہشوں کے خلاف کوئی بات ماننے کے لیے یہ تیار نہیں ہیں۔
      لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ کِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ الایۃ۔ یہ اس مطالبے کا جواب ہے جو اہل کتاب کی زبانی سورۂ نساء آیت ۱۵۴ میں نقل ہوا ہے۔ وہاں اس کا وہ جواب دیا ہے جو اہل کتاب کے لیے موزوں تھا۔ یہاں فرمایا کہ ان کے مطالبہ کے مطابق اگر فی الواقع ان پر لکھی لکھائی مابین الدفتین کتاب بھی اتار دی جاتی جب بھی یہ ایمان نہ لاتے بلکہ کہتے کہ یہ تو کھلا ہوا جادو ہے۔

      جاوید احمد غامدی تم پر، (اے پیغمبر)، اگر ہم کوئی ایسی کتاب اتار دیتے جو کاغذ پر لکھی ہوئی ہوتی اور یہ اُس کو اپنے ہاتھوں سے چھو کر دیکھ بھی لیتے، تب بھی یہ منکرین یہی کہتے کہ یہ کھلے ہوئے جادو کے سوا کچھ نہیں ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہاں سے آگے اُن اعتراضات اور مطالبات کا جواب دیا ہے جو منکرین اپنے اعراض کے لیے بہانے کے طور پر پیش کر رہے تھے۔
      یعنی اعراض کا سبب چونکہ وہ نہیں جو بیان کر رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اپنی خواہشوں کے خلاف کوئی بات ماننا نہیں چاہتے، اِس لیے اِن کا یہ مطالبہ پورا بھی کر دیا جائے تو اِسی طرح کی باتیں کریں گے۔ یاد رہے کہ یہ اُسی طرح کے مطالبے کاجواب ہے جو اہل کتاب کی زبان سے سورۂ نساء (۴) کی آیت ۱۵۴ میں نقل ہو چکا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور یہ کہتے ہیں کہ اس پر علانیہ کوئی فرشتہ کیوں نہیں اترتا اور اگر ہم کوئی فرشتہ اتارتے تو بس معاملے کا فیصلہ ہی ہو جاتا۔ پھر ان کو ذرا مہلت نہ ملتی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      معتبر ایمان کی شرط: وَقَالُوْا لَوْلَآاُنْزِلَ عَلَیْہِ مَلَکٌ الآیۃ۔ یہ ان کا ایک دوسرا مطالبہ اور اس کا جواب ہے۔ یہ مطالبہ بھی قرآن میں دوسری جگہ نقل ہوا ہے۔ یہ مطالبہ یہ تھا کہ اگر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر فرشتہ آتا ہے، جیسا کہ ان کا دعویٰ ہے تو وہ فرشتہ یوں کیوں آتا ہے کہ صرف انھی کو نظر آتا ہے، کھلم کھلا ان کی نبوت کی منادی کرتا ہوا کیوں نظر نہیں آتا کہ سب دیکھیں اور سب سنیں۔ اس کا جواب یہ دیا کہ جب بات یہاں تک پہنچ جائے گی کہ فرشتے علانیہ اترنے لگیں تو پھر اللہ کا عذاب آ دھمکے گا۔ پھر ان کو مہلت نہیں دی جائے گی۔ یہ اس سنت اللہ کی طرف اشارہ ہے جو قرآن میں جگہ جگہ بیان ہوئی ہے کہ ایمان وہ معتبر ہے جو غیب میں رہتے، آفاق و انفس اور عقل و فطرت کے ان دلائل کی بنیاد پر لایا جائے، جن کی انبیاء دعوت دیتے ہیں نہ کہ وہ جو کشفِ حجاب اور حقائق کا بچشم سر مشاہدہ کر لینے کے بعد لایا جائے۔

      جاوید احمد غامدی کہتے ہیں کہ اِس نبی پر (علانیہ) کوئی فرشتہ کیوں نہیں اتارا گیا؟ (یہ احمق نہیں سمجھتے کہ) اگر ہم نے کوئی فرشتہ اتار دیا ہوتا تو اب تک فیصلہ ہو جاتا، پھر اِن کو کوئی مہلت نہ ملتی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اِس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے کہ دنیا علم و عقل اور ارادہ و اختیار کے امتحان کے لیے بنائی گئی ہے۔ جب پردے اٹھا دیے جائیں گے اور لوگ حقائق کو بچشم سر دیکھ لیں گے تو کسی کا ایمان اُس کے لیے نافع نہ ہو گا۔ ایمان وہی معتبر ہے جو غیب میں رہتے ہوئے اور عقل و فطرت کے اُن دلائل کی بنیاد پر لایا جائے جس کی دعوت انبیا علیہم السلام نے دی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور اگر ہم اس کو کوئی فرشتہ بناتے جب بھی آدمی ہی کی شکل میں بناتے تو جو گھپلا وہ پیدا کر رہے ہیں ہم اسی میں ان کو ڈال دیتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      فرشتوں کو رسول بنا کر نہ بھیجنے کی مصالحت: وَلَوْ جَعَلْنٰہُ مَلَکًا لَّجَعَلْنٰہُ رَجُلًا الایۃ یہ تیسرے مطالبے کا جواب ہے اور یہ بھی قرآن میں دوسری جگہ نقل ہوا ہے۔ مثلاً

      وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْٓا اِذْ جَآءَ ھُمُُ الْھُآٰی اِلَّآ اَنْ قَالُوْٓا اَبَعَثَ اللّٰہُ بَشَرًا رَّسُوْلًا۔(۹۴۔ اسراء)
      (اور ہدایت الٰہی کے آ جانے کے بعد لوگوں کو ایمان سے نہیں روکا مگر اس چیز نے کہ انھوں نے اعتراض کیا کہ کیا اللہ نے ایک بشر کو رسول بنا کر بھیجا)

      فَقَالُوْٓا اَبَشَرٌ یَّھْدُوْنَنَا فَکَفَرُوْا وَتَوَلَّوْا وَّاسْتَغْنَی اللّٰہُ۔(۶۔ تغابن)
      (پس وہ بولے کہ کیا انسان ہمیں ہدایت دیں گے، پس انھوں نے انکار کر دیا اور پیٹھ پھیر لی اور اللہ بھی ان سے بے نیاز ہو گیا)

      اس کا جواب یہ دیا کہ اگر رسول بالفرض فرشتہ ہی بھیجا جاتا جب بھی لازماً وہ آدمی ہی کی شکل و صورت میں ہوتا تو پھر وہی گھپلا پیش آ جاتا جو اب پیش آیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کسی فرشتے کو رسول بنا کر نہ بھیجنا اس بنا پر نہیں ہے کہ خدا کے لیے یہ ناممکن تھا بلکہ اس بنا پر ہے کہ انسان فرشتوں کو فرشتوں کی شکل میں نہیں انسانوں ہی کی شکل میں دیکھ سکتے اور اسی صورت میں ان سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں تو جب وہ انسان ہی کے روپ میں آتا تو یہ پھر وہی اعتراض اٹھاتے جو اب اُٹھا رہے ہیں۔ مَا یَلْبِسُوْنَ سے یہاں یہ اشارہ نکلتا ہے کہ یہ بات نہیں ہے کہ فی الواقع یہ شبہ پیدا ہوتا ہے بلکہ یہ لوگ یہ شبہ پیدا کر رہے ہیں تاکہ اس طرح اپنے سادہ لوح پیرووں کو گھپلے میں ڈالیں۔ لَبَسْنَا میں فعل کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف جو منسوب فرمایا ہے تو یہ نسبت اسی طرح کی ہے جس طرح کی نسبت فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغَ اللّٰہُ میں ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی اور (نہیں سمجھتے کہ) اگر ہم اُس کو کوئی فرشتہ بنا کر بھیجتے تو اُسے بھی انسان کی صورت ہی میں بھیجتے۔ اور (اِس طرح) اِن کو اُسی شبہے میں ڈال دیتے جس میں یہ اب پڑے ہوئے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس لیے کہ انسان اُسے انسانوں کی شکل ہی میں دیکھ سکتے اور اُس سے فائدہ اٹھا سکتے تھے۔
      شبے میں ڈالنے کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف فرمائی ہے۔ یہ اُس ضابطے اور قانون کی نسبت ہے جو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت و ضلالت کے لیے مقرر کر رکھا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور تم سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا تو جن لوگوں نے ان میں سے مذاق اڑایا ان کو اس چیز نے آ گھیرا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’حَاق یَحیْقُ حِیْقًا بِہٖ‘ کے معنی ہیں احاطہ کر لینا، گھیر لینا اور چھا جانا۔
      اوپر آیت ۵ میں قریش کو یہ دھمکی جو دی ہے کہ وہ ایک امر حق کا مذاق اڑا رہے ہیں جو شدنی اور اٹل ہے، وہ عنقریب اس عذاب کے آثار دیکھ لیں گے جس کی ہنسی اڑا رہے ہیں۔ اب یہ اس امر واقعی کی ان شہادتوں اور مثالوں کی طرف اشارہ فرمایا جو خود ان کی تاریخ اور ان کے ملک کے آثار میں موجود ہیں کہ تم سے پہلے جو رسول آئے انھوں نے بھی اپنی اپنی قوموں کو عذاب الٰہی سے ڈرایا تو ان کا بھی اسی طرح مذاق اڑایا گیا۔ بالآخر اس عذاب نے ان کو اپنے گھیرے میں لے لیا اور وہ تباہ ہو گئیں۔

      جاوید احمد غامدی حقیقت یہ ہے کہ تم سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا گیا تو اُن کا مذاق اڑانے والوں کو اُسی چیز نے آ گھیرا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی کہو، ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ الایۃ یہ اشارہ ہے خود ملک عرب کی طرف کہ اگر اس نگاہ سے اپنے ملک کے حالات و آثار کا مشاہدہ کرو تو تمھیں اس میں رسولوں کی تکذیب کرنے والی قوموں کی تباہی کے بہت سے آثار ملیں گے۔ یہاں صرف اجمالی اشارہ فرمایا ہے۔ بعد والی سورہ میں اس اجمال کی تفصیل آئے گی۔ وہاں قوم نوح، عاد، ثمود، مدین، قوم لوط وغیرہ کی سرگزشتیں سنائی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان قوموں نے بھی اپنے اپنے رسولوں کے انذار کا مذاق اڑایا اور اس عذاب کو انھوں نے محض خالی خولی دھمکی سمجھا جس کی رسول نے خبر دی۔ بالآخر وہ واقعہ کی شکل میں نمودار ہو گیا اور مذاق اڑانے والوں کا بیڑا غرق ہوگیا۔

      جاوید احمد غامدی اِن سے کہو، ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ صرف اجمالی اشارہ ہے۔ اِ س کی تفصیل آگے سورۂ اعراف (۷) میں آئے گی۔

    • امین احسن اصلاحی ان سے پوچھو، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کا ہے؟ کہہ دو اللہ ہی کا ہے۔ اس نے اپنے اوپر رحمت واجب کر رکھی ہے۔ وہ تم کو جمع کر کے ضرور لے جائے گا قیامت کے دن کی طرف جس میں ذرا شبہ نہیں۔ جنھوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا وہی ہیں جو اس پر ایمان نہیں لاتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      سوال و جواب کا ایک خاص اسلوب: قُلْ لِّمَنْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ، قُلْ لِّلّٰہِ، قرآن میں جہاں جہاں سوال کر کے مخاطب کے جواب کا انتظار کیے بغیر خود اس کا جواب دیا ہے، غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان مواقع میں اصل جواب سے مخاطب کے لیے انکار کی گنجائش نہیں ہے، اگر اس کا کوئی عقیدہ یا عمل اس کے خلاف ہے تو وہ خود اس کے اپنے مسلّمہ کے خلاف ہے۔ جواب میں سبقت سے اس امر کا بھی اظہار ہو جاتا ہے کہ بہرحال اصل حقیقت کا اظہار کر دیا جائے قطع نظر اس سے کہ مخاطب اس کے جواب میں کیا ہٹ دھرمی اختیار کرتا ہے۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ اہل عرب مشرک ہونے کے باوجود آسمان و زمین کا خالق و مالک خدا ہی کو مانتے تھے۔ اس کی وضاحت دلائل کے ساتھ ہم دوسرے مقام میں کر چکے ہیں۔
      قیامت خدا کی صفتِ رحمت کا لازمی تقاضا ہے: ’کَتَبَ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ‘ یہ اللہ تعالیٰ کے صفت رحمت سے کمال درجہ متصف ہونے کی تعبیر بھی ہے اور اس امر کا اظہار بھی کہ ہر وہ بات جو اس صفت کا مقتضیٰ ہے اس کا ظہور میں آنا قطعی اور اٹل ہے، کوئی چیز اس کی راہ میں مزاحم نہیں ہو سکے گی۔
      ’لَیَجْمَعَنَّکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لَا رَیْبَ فِیْہِ‘ میں عربیت کا جو اسلوب ہے اس پر سورۂ نساء کی آیت ۸۷ کے تحت بحث گزر چکی ہے۔ یہاں جو بات نگاہ میں رکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ قیامت کا آنا خدا کی صفت رحمت کا لازمی تقاضا ہے۔ اگر قیامت نہ آئے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کائنات کا خالق رحمان و رحیم نہیں ہے۔ اس کے نزدیک نعوذ باللہ عدل و ظلم، نیکی اور بدی، خیر اور شر دونوں یکساں ہیں، یہ ایک کھلنڈرے کا کھیل اور ایک اندھیر نگری ہے۔ یہ باتیں چونکہ بالبداہت باطل ہیں، رحمان و رحیم خدا کی شان کے بالکل منافی ہے کہ وہ کوئی بے غایت و بے مقصد کام کرے، اس وجہ سے لازمی ہے کہ ایک ایسا دن وہ لائے جس میں اس کی رحمت کامل کا ظہور ہو، اپنے نیک بندوں کو وہ اپنی بے پایاں رحمتوں سے نوازے اور جو بدکار و نابکار ہیں وہ اپنے کیفر کردار کو پہنچیں۔ اس سے یہ بات آپ سے آپ نکلی کہ قیامت کا اصل مقصود مجرموں کو سزا دینا نہیں بلکہ نیکو کاروں کو جزا دینا ہے۔ مجرموں کی سزا درحقیقت نیکو کاروں کی جزا کا ایک لازمی نتیجہ ہے۔ آگے آیت ۵۳ کے تحت اس کی مزید وضاحت آئے گی۔
      اصل خسران: ’اَلَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَھُمْ فَھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ‘ کے مضمون کی وضاحت آگے آیت ۳۱ میں فرما دی ہے۔

      قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِلِقَآءِ اللّٰہِط حَتّٰٓی اِذَا جَآءَتْھُمُ السَّاعَۃُ بَغْتَۃً قَالُوْا یَاحَسْرَتَنَا عَلٰی مَا فَرَّطْنَا فِیْھَا وَھُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَھُمْ عَلٰی ظُھُوْرِھِمْ اَلَا سَآءَ مَا یَزِرُوْنَ
      (گھاٹے میں پڑے وہ لوگ جنھوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا۔ یہاں تک کہ جب وہ گھڑی اچانک آ دھمکے گی تو کہیں گے ہائے افسوس ہماری اس کوتاہی پر جو ہم سے اس بارے میں ہوئی اور وہ اس دن اپنے بوجھ اپنی پیٹھوں پر اٹھائے ہوئے ہوں گے اور آگاہ، نہایت برا بوجھ ہو گا جو وہ اٹھائے ہوئے ہوں گے)

       

      جاوید احمد غامدی اِن سے پوچھو، زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے، وہ کس کا ہے؟ کہہ دو، اللہ ہی کا ہے۔ اُس نے اپنے اوپر رحمت لازم کر رکھی ہے۔ وہ تم سب کو جمع کر کے ضرور روز قیامت کی طرف لے جائے گا جس میں کوئی شبہ نہیں۔ اِس کو وہی لوگ نہیں مانتے جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کر لیا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      سوال کے بعد مخاطب کی طرف سے جواب کا انتظار کیے بغیر خود ہی جواب دینے کا یہ اسلوب اُس وقت اختیار کیا جاتا ہے، جب مخاطب کے لیے انکار کی گنجایش نہیں ہوتی اور سوال سے مقصود بھی اصلاً اُس کے کسی مسلمہ کی طرف توجہ دلانا ہو تا ہے۔
      یعنی صفت رحمت سے کمال درجہ متصف ہے، لہٰذا اپنی اِس صفت کے تقاضے بھی لازماً پورے کرے گا۔
      اصل الفاظ ہیں: ’لَیَجْمَعَنَّکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ‘۔ اِن میں ’اِلٰی‘ کا صلہ دلیل ہے کہ یہاں کوئی لفظ ہانکنے اور لے جانے کے معنی میں محذوف ہے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اِس کی تفسیر میں لکھا ہے:

      ’’...قیامت کا آنا خدا کی صفت رحمت کا لازمی تقاضا ہے۔ اگر قیامت نہ آئے تو اِس کے معنی یہ ہیں کہ اِس کائنات کا خالق رحمان و رحیم نہیں ہے۔ اُس کے نزدیک، نعوذ باللہ، عدل و ظلم، نیکی اور بدی، خیر اور شر دونوں یکساں ہیں۔ یہ ایک کھلنڈرے کا کھیل اور ایک اندھیر نگری ہے۔ یہ باتیں چونکہ بالبداہت باطل ہیں، رحمان و رحیم خدا کی شان کے بالکل منافی ہے کہ وہ کوئی بے غایت و بے مقصد کام کرے، اِس وجہ سے لازمی ہے کہ ایک ایسا دن وہ لائے جس میں اُس کی رحمت کامل کا ظہور ہو ، اپنے نیک بندوں کو وہ اپنی بے پایاں رحمتوں سے نوازے اور جو بدکار و نابکار ہیں، وہ اپنے کیفر کردار کو پہنچیں۔‘‘ (تدبرقرآن ۳/ ۲۷)

      اِس مضمون کی وضاحت آگے آیت ۳۱ میں فرما دی ہے کہ قیامت کے دن یہ خسارے میں مبتلا لوگ کس طرح حسرت سے اپنے سر پیٹیں گے اور گناہوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے کس بے بسی کے ساتھ جہنم کی طرف دھکیل دیے جائیں گے۔

       

    • امین احسن اصلاحی اور اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے جو چیز شب میں ساکن ہوتی ہے اور جو دن میں متحرک ہوتی ہے اور وہ سمیع و علیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حذف کا ایک اسلوب: ’وَلَہٗ مَا سَکَنَ فِی الَّیْلِ وَالنَّھَارِ‘ یہاں لیل و نہار دونوں کے ذکر کا تقاضا یہ ہے کہ ’سکن‘ کے بالمقابل کوئی ایسا فعل محذوف مانا جائے جو لفظ ’نہار‘ کے ساتھ مناسبت رکھنے والا ہو۔ چنانچہ ہم نے ’تحرّک‘ محذوف مانا ہے اور ترجمہ میں اس کو کھول دیا ہے۔ اس اسلوب کی وضاحت دوسرے مقامات میں ہو چکی ہے اور آگے اسی سورہ میں اس کی نہایت عمدہ مثالیں آ رہی ہیں۔
      آیات کا مطلب یہ ہوا کہ اگر یہ اپنی موجودہ دنیوی کامیابیوں کے غرّے میں آخرت اور جزا و سزا کو جھٹلا رہے اور تمھارا اور قرآن کا مذاق اڑا رہے ہیں تو ان سے پوچھو کہ یہ آسمان و زمین کس کے ہیں؟ ظاہر ہے کہ خدا ہی کے ہیں اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے انھیں بھی مجال انکار نہیں۔ پھر انھیں بتاؤ کہ خدا نے اپنے اوپر رحمت لازم کر لی ہے جس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ تمھیں پیدا کر کے اور پرورش کے تمام اسباب فراہم کر کے یونہی شتر بے مہار بنا کے نہ چھوڑ دے بلکہ ضروری ہے کہ وہ تم سب کو کشاں کشاں روز قیامت کی طرف لے جائے جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں ہے تو آج جو لوگ اکڑتے اور اس کا مذاق اڑاتے اور اپنی دنیوی خود فراموشیوں میں مگن ہیں اس دن اپنی بدبختی پر اپنے سر پیٹیں گے کہ ہائے ہم نے چند روزہ عیش دنیا کی خاطر اس زندگی کو فراموش رکھا اور اپنے لیے ابدی نامرادی کا سامان کیا۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ یاد رکھیں کہ شب کی تاریکیوں میں جو چیز ساکن ہوتی ہے اور دن کی روشنی میں جو چیز بھی متحرک ہوتی ہے سب خدا ہی کے اختیار، اسی کے قبضۂ قدرت اور اسی کے کنٹرول میں ہے۔ مجال نہیں ہے کہ کوئی چیز اس کی نگاہوں سے اوجھل ہو سکے اور اس کے اذن کے بغیر اپنی جگہ سے سرک سکے۔ رات کی تاریکی اور دن کی روشنی دونوں اس کے لیے یکساں ہے اور وہ ہر جگہ سے سب کو اکٹھا کر لے گا اور جس طرح اس کی قدرت سب کو محیط ہے اسی طرح اس کا علم بھی ہر چیز پر حاوی ہے اس لیے کہ وہ سمیع و علیم ہے۔ آگے یہی مضمون بڑی تفصیل کے ساتھ آیات ۵۹۔۶۲ میں آ رہا ہے۔

      جاوید احمد غامدی (حقیقت یہ ہے کہ) جو کچھ رات میں ٹھیر جاتا اور دن میں (رواں ہوتا ہے)، وہ اُسی کے قبضۂ قدرت میں ہے اور وہ سمیع و علیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’لَہٗ مَا سَکَنَ فِی الَّیْلِ وَالنَّھَارِ‘۔ ’سَکَنَ‘ کے بالمقابل ’ما تحرک‘ یا اِس کے ہم معنی کوئی لفظ یہاں عربیت کے اسلوب پر حذف کر دیا ہے۔ ہم نے ترجمے میں اُسے کھول دیا ہے۔
      مطلب یہ ہے کہ خدا کی قدرت سب کو محیط اور اُس کا علم سب کو حاوی ہے۔ شب و روز میں کوئی چیز اُس کے حکم سے سرتابی نہیں کر سکتی۔ وہ جب چاہے گا، ہرجگہ سے سب کو بلائے گا اور اپنے حضور میں اکٹھا کر لے گا۔

    • امین احسن اصلاحی کہو کیا میں اللہ کے سوا، جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے، کسی اور کو اپنا کارساز بناؤں اور وہ کھلاتا ہے کھاتا نہیں، کہہ دو مجھے تو حکم ملا ہے کہ میں سب سے پہلے اسلام لانے والا بنوں اور تم ہرگز مشرکوں میں سے نہ بنو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’قُلْ اَغَیْرَ اللّٰہِ اَتَّخِذُ وَلِیًّا فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ‘ یہ اس مسلمہ حقیقت کا، جو اوپر مذکور ہوئی، دوسرا لازمی نتیجہ بیان کیا جا رہا ہے کہ جب سب کچھ خدا ہی کا ہے، آسمان و زمین سب کا خالق وہی ہے تو تم خواہ کتنا ہی زور لگاؤ، لیکن میرے لیے یہ کس طرح روا ہے کہ خدائے فاطر السموٰت والارض کے سوا کسی اور کو اپنا مولیٰ و مرجع بناؤں۔
      بتوں پر ایک لطیف تعریض: ’ھُوَ یُطْعِمُ وَلَا یُطْعَمُ‘ یہ خدا کی ربوبیت اور پروردگاری کی طرف اشارہ بھی ہے اور مشرکین کے بتوں پر ایک نہایت لطیف تعریض بھی۔ مطلب یہ ہے کہ مولیٰ و مرجع بنائے جانے کا سزاوار تو وہ ہے جو آسمان و زمین کا عدم سے وجود میں لانے والا بھی ہے اور جس کے فضل و کرم سے سب کو روزی بھی مل رہی ہے نہ کہ تمھارے وہ اصنام خیالی جن کے متعلق تمھیں خود یہ تسلیم ہے کہ وہ خالق و موجد کسی چیز کے بھی نہیں، رہی ان کی پروردگاری تو اس کا بھانڈا پھوڑ دینے کے لیے یہی بات کافی ہے کہ ان کے آگے حلوے مانڈے تم پیش کرتے ہو تب وہ راضی و آسودہ ہوتے ہیں۔ یہاں یہ امر پیش نظر رہے کہ مشرکین اپنے بتوں کے آگے جو کچھ پیش کرتے ہیں اس تصور کے ساتھ پیش کرتے ہیں کہ یہ ان کی پسندیدہ اور مرغوب غذائیں ہیں جن کو وہ نوش کرتے اور جن کی خوشبو سے محظوظ ہوتے ہیں۔ برعکس اس کے ایک خدا پرست خدا کے نام پر جو کچھ پیش کرتا ہے اس کا کوئی حصہ، جیسا کہ قرآن میں تصریح ہے، خدا کو نہیں پہنچتا بلکہ سب کا سب خدا کے حق دار بندوں کو پہنچتا ہے۔
      نبی کا عزم دوسروں سے بے نیاز ہوتا ہے: ’قُلْ اِنِّیْٓ اُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ‘ یعنی اگر تم مدعی ہو کہ خدا نے تمھارے ان مزعومہ بتوں کو اپنی خدائی میں شریک بنایا ہے اور تمھیں ان کی عبادت کا حکم دیا ہے تو تم جانو، مجھے تو جو حکم ملا ہے وہ یہ ہے کہ میں سب سے پہلا اسلام لانے والا اور اپنے آپ کو بالکلیہ اپنے رب کے حوالے کر دینے والا بنوں۔ سو میں تو اسی حکم کی تعمیل کرنے والا ہوں، تم میں سے کوئی میرا ساتھ دے یا نہ دے۔ اس اسلوب بیان سے، جیسا کہ ہم دوسری جگہ تصریح کر چکے ہیں، جہاں یہ بات نکلتی ہے کہ نبی جس بات کی تعلیم دنیا کو دیتا ہے اس پر پہلا عمل کرنے والا وہ خود بنتا ہے، وہیں یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اس امر سے اس کی اس یکسوئی اور اس کے عزم میں کوئی فرق نہیں پیدا ہوتا کہ جن کو اس نے پکارا ان میں سے کسی نے اس کا ساتھ دیا یا نہیں دیا۔
      وَلَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ، کا عطف اَنْ اَکُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَسْلَمَ، پر نہیں ہے بلکہ یہ مستقل بات ہے یعنی تم ان کو بتا دو کہ مجھے یہ حکم ملا ہے اور تم مشرکین میں سے نہ بنو۔ اس طرح کی نہی میں اگرچہ ظاہر خطاب آنحضرت صلعم سے ہوتا ہے لیکن اس میں زجر کا جو پہلو نکلتا ہے اس کا رخ ان لوگوں کی طرف ہوتا ہے جن کا رویہ زیر بحث ہوتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی کہہ دو، اللہ کے سوا کیا میں کسی اور کو اپنا کارساز بنا لوں جو زمین اور آسمانوں کا خالق ہے اور کھاتا نہیں کھلاتا ہے؟ کہہ دو، مجھے تو حکم ملا ہے کہ سب سے پہلے میں اُس کے سامنے سراطاعت جھکا دوں اور (تاکید کی گئی ہے کہ) تم ہرگز مشرکوں میں شامل نہ ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اوپر کی بات کا لازمی نتیجہ بھی ہے اور مشرکین پر ایک نہایت لطیف تعریض بھی۔ مطلب یہ ہے کہ زمین و آسمان کے خالق اور پوری کائنات کے رازق کو چھوڑ دوں اور تمھارے اُن بتوں کو معبود بنا لوں جو اپنے وجود کے لیے بھی تمھارے محتاج ہیں اور اُن کے سامنے تم حلوے مانڈے پیش کرتے ہو تو راضی اور آسودہ ہوتے ہیں؟ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...یہاں یہ امر پیش نظر رہے کہ مشرکین اپنے بتوں کے آگے جو کچھ پیش کرتے ہیں، اِس تصور کے ساتھ پیش کرتے ہیں کہ یہ اُن کی پسندیدہ اور مرغوب غذائیں ہیں جن کو وہ نوش کرتے اور جن کی خوشبو سے محظوظ ہوتے ہیں۔ برعکس اِس کے ایک خداپرست خدا کے نام پر جو کچھ پیش کرتا ہے، اُس کا کوئی حصہ، جیسا کہ قرآن میں تصریح ہے، خدا کو نہیں پہنچتا، بلکہ سب کا سب خدا کے حق دار بندوں کو پہنچتا ہے۔‘‘ (تدبرقرآن ۳/ ۲۹)

      یعنی تم شرک کرتے ہو تو کرو، اِس کی ذمہ داری تم پر ہے۔ مجھے تو اِسی بات کا حکم دیا گیا ہے کہ خدا کے سامنے سرنگوں رہوں اور کسی کو اُس کا شریک نہ ٹھیراؤں۔ اِس مضمون کے لیے اصل میں ’لَا تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن میں تاکید کے ساتھ ایک نوعیت کا زجر بھی ہے، لیکن اِس کا رخ اُنھی لوگوں کی طرف ہے جن کا رویہ زیربحث ہے۔

       

    • امین احسن اصلاحی کہہ دو کہ اگر میں نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی تو میں ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قُلْ اِنِّیٓ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ الایۃ یعنی جب مجھے حکم یہ ملا ہے کہ میں سب سے پہلا اسلام لانے والا بنوں تو میرے لیے یہ کس طرح ممکن ہے کہ میں اپنے رب کے اس حکم کی نافرمانی کروں؟ اگر میں نافرمانی کروں تو میں اس ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں جس سے ہر نافرمانی کرنے والے کو سابقہ پیش آنا ہے۔

      جاوید احمد غامدی کہہ دو کہ اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو ڈرتا ہوں کہ ایک ہولناک دن کے عذاب سے دوچار ہو جاؤں گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی جو شخص اس دن اس سے دور رکھا گیا درحقیقت وہی ہے جس پر خدا نے رحم فرمایا اور یہی کھلی کامیابی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ڈرنے کی اصل چیز اور چاہنے کی اصل چیز: مَنْ یُّصْرَفْ عَنْہُ یَوْمَءِذٍ فَقَدْ رَحِمَہٗ، یعنی ڈرنے کی اصل چیز یہ خوفناک دن اور اس کا عذاب ہی ہے، جو اس سے محفوظ رہا، درحقیقت وہی ہے جس پر خدا کا رحم ہوا اور چاہنے کی اصل چیز اس دن کی رحمت ہی ہے اس لیے کہ جو اس رحمت کا سزاوار قرار پایا درحقیقت وہی ہے جس نے اصل کامیابی حاصل کی۔ اس میں اس بات کی طرف لطیف اشارہ بھی ہے کہ جو لوگ اس دنیا کی کامیابیوں ہی کو بڑی چیز سمجھتے ہیں اور ان کے پیچھے آخرت کی ’فوز مبین‘ کو بھول بیٹھے ہیں انھیں اپنی بدبختی اور محرومی کا اندازہ کل ہو گا۔

      جاوید احمد غامدی حقیقت یہ ہے کہ جو اُس دن عذاب سے دور رکھا گیا، وہی ہے جس پر خدا نے رحم فرمایا اور یہی کھلی کامیابی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس میں یہ لطیف اشارہ ہے کہ جو لوگ اِس کامیابی کو بھولے ہوئے ہیں، اُس دن اُنھیں اندازہ ہو جائے گا کہ کس بدبختی اور محرومی کا سامان کر کے دنیا سے آئے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور اگر اللہ تجھ کو کسی دکھ میں مبتلا کرے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو اس کا دور کرنے والا بن سکے اور اگر کسی خیر سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      نفع و ضرر صرف خدا کے اختیار میں ہے: ’وَاِنْ یَّمْسَسْکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ‘ میں خطاب اگرچہ لفظاً بصیغہ واحد ہے لیکن مراد عام ہے اور یہ بات اوپر والی بات ہی کی توضیح مزید کی حیثیت رکھتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نفع و ضرر دونوں خدا ہی کے اختیار میں ہیں۔ اگر وہ کسی کو کسی دکھ میں مبتلا کرے تو کوئی نہیں ہے جو اس کو دور کر سکے۔ اسی طرح اگر وہ کسی کو کسی خیر سے بہرہ مند کرے تو جس خیرسے چاہے بہرہ مند کر دے، کسی کی طاقت نہیں ہے کہ اس کے ارادے میں مزاحم ہو سکے۔ پھر کسی اور کو مولیٰ و مرجع بنانے اور کسی اور سے دعا و استرحام کی ضرورت کیا باقی رہی؟

      جاوید احمد غامدی (یقین رکھو کہ) اگر اللہ تمھیں کسی رنج میں مبتلا کر دے تو اُس کے سوا کوئی نہیں جو اُسے دور کر سکے اور اگر بھلائی سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اوپر والی بات کی توضیح مزید ہے کہ جب نفع و ضرر سب خدا کے اختیار میں ہے تو کسی دوسرے کو مولیٰ و مرجع کیوں بنایا جائے؟ اور اُس کے حضور میں دعا و مناجات کے لیے ہاتھ کیوں اٹھائے جائیں؟

    • امین احسن اصلاحی اور وہ اپنے بندوں پر پوری طرح حاوی ہے اور وہ حکیم و خبیر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      لفظ ’قہر‘ کا مفہوم: ’وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ‘ قہر، کا لفظ عربی میں اس معنی میں بالکل نہیں آتا جس معنی میں اردو میں آتا ہے بلکہ اس کے معنی اختیار اور قابو، حکومت اور تسلط میں رکھنے کے آتے ہیں۔ انگریزی میں لفظ (Control) کا جو مفہوم ہے وہی مفہوم عربی میں اس لفظ کا ہے۔ اسی سے لفظ ’قہار‘ مبالغہ کا صیغہ ہے جو اسمائے حُسنٰی میں سے ہے جس کے معنی (Controller) کے ہیں۔ یعنی تمام جہان اور اس کے تمام بندے ہر آن اس کی مٹھی اور اس کے قابو میں ہیں۔ وہ ان کو قابو میں رکھنے کے لیے نہ کسی مددگار کا محتاج ہے اور نہ اس امر کا اندیشہ ہے کہ جب وہ ان کو پکڑنا چاہے یا اکٹھا کرنا چاہے تو کوئی اس کی گرفت سے باہر نکل سکے۔ آگے اس مضمون کی وضاحت بھی ہو گئی ہے۔

      وَھُوَ الْقَاھِرُ فَوْقَ عِبَادِہٖ وَیُرْسِلُ عَلَیْکُمْ حَفَظَۃًط حَتّٰٓی اِذَا جَآءَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْہُ رُسُلُنَا وَھُمْ لَا یُفَرِّطُوْنَ۔(۶۱)
      (اور وہ اپنے تمام بندوں پر اپنا قابو جمائے ہوئے ہے اور وہ تم پر اپنے نگران بھیجتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو اس کو ہمارے فرستادے ہی قبض کرتے ہیں اور وہ اس کام میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے)

      صفات ’حکیم‘ و ’خبیر‘ کے لوازم: ’وَھُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ‘ خدا کا حکیم و خبیر ہونا ہم دوسرے مقامات میں واضح کرچکے ہیں کہ کئی باتوں کو مستلزم ہے۔ مثلاً یہ کہ وہ ایک روز جزا و سزا کو لائے اس لیے کہ اس کے بغیر یہ دنیا بالکل بے مقصد ہو کے رہ جاتی ہے۔ اس کے ہاں کسی ایسی شفاعت کی گنجائش نہ ہو جو حق کو باطل اور باطل کو حق بنا سکے اس لیے کہ یہ اس کی حکمت کے بھی منافی ہے اور اس کے خبیر ہونے کے بھی۔

       

      جاوید احمد غامدی اپنے بندوں پر وہ ہر لحاظ سے حاوی ہے اور حکیم و خبیر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      لہٰذا یہ نہیں ہو سکتا کہ دنیا کو کسی انجام اور غایت تک پہنچائے بغیر چھوڑ دے۔ اُس کے علم و حکمت کا تقاضا ہے کہ ایک روز جزا برپا ہو جس میں حق و باطل کے فیصلے کیے جائیں۔

    • امین احسن اصلاحی پوچھو شہادت کے لیے سب سے بڑا کون ہے؟ کہو، اللہ، وہ میرے اور تمھارے درمیان گواہ ہے اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے کہ میں بھی اس کے ذریعہ سے تم کو ڈراؤں اور وہ بھی جن کو یہ پہنچے۔ کیا تم اس بات کے گواہ بنتے ہو کہ خدا کے ساتھ کچھ اور معبود بھی ہیں؟ کہہ دو، میں اس کی گواہی نہیں دیتا۔ کہہ دو وہ تو بس ایک ہی معبود ہے اور میں ان سے بری ہوں جن کو تم شریک ٹھہراتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’وَمَنْ بَلَغَ‘ کا عطف: ’لِاُنْذِرَکُمْ بِہٖ وَ مَنْ بَلَغَ‘ عام طور پر مفسرین نے وَ مَنْ بَلَغَ کو ضمیر منصوب پر معطوف مانا ہے یعنی یہ قرآن اس لیے مجھ پر وحی کیا گیا ہے کہ میں اس کے ذریعے سے تم کو اور ان سب کو بیدار و ہوشیار کروں جن تک یہ پہنچے۔ لیکن ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ ضمیر متکلم پر معطوف ہے یعنی میں اس کے ذریعے سے تم کو خبردار کروں اور جن کو یہ پہنچے وہ بھی اپنی اپنی جگہ پر دوسروں کو اس کے ذریعے سے خبردار کریں۔ یہ گویا اس ذمہ داری کی یاددہانی ہے جس کا ذکر دوسرے مقام میں یوں ہوا ہے

      فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْھُمْ طَآءِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّھُوْا فِی الدِّیْنِ وَلِیُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَیْھِمْ۔(۱۳۲توبہ)
      (پس ایسا کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت دین کا علم حاصل کرنے کے لیے اُٹھتی اور تاکہ وہ اپنی قوم کو خبردار کرتی جبکہ ان کی طرف واپس آتی)

      یہی حقیقت احادیث میں بھی واضح کی گئی ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تمام صحابہ پر انذار و تبلیغ کی ذمہ داری ڈالی اور فرمایا فلیبلغ الشاہد الغائب پس چاہیے کہ جو لوگ موجود ہیں وہ ان لوگوں کو پہنچا دیں جو موجود نہیں ہیں۔ تَکُوْنُوْا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا میں اس امت کا جو فریضۂ منصبی بیان ہوا ہے اور جس کی وضاحت ہم اس کے مقام میں کر چکے ہیں، اس سے بھی اسی مفہوم کی تائید نکلتی ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے۔
      توحید اور شرک کے معاملے میں فیصلہ کن گواہی خدا کی ہے: آیت کا مطلب یہ ہوا کہ خدا کا کوئی شریک ہے یا نہیں، اس معاملے میں فیصلہ کن گواہی خود خدا ہی کی ہو سکتی ہے۔ وہی بتا سکتا ہے کہ اس نے اپنی خدائی میں کسی کو شریک بنایا ہے یا نہیں اور بنایا ہے تو وہ کون کون ہیں اور وہ کس نوعیت کے شریک ہیں۔ اگراس نے کسی کا شریک ہونا تسلیم نہیں کیا ہے تو تم کو یا کسی کو کیا حق ہے کہ کسی کو اس کی خدائی میں حصہ دار بنائے۔ اب آؤ، میں اس نزاع کے فیصلے کے لیے اپنے اور تمھارے درمیان خدا ہی کو گواہ مانتا ہوں۔ اس نے میرے اوپر یہ قرآن اسی گواہی کے لیے نازل کیا ہے کہ میں تم کو خبردار کر دوں کہ کوئی اس کا شریک نہیں ہے اور جن جن کو یہ پہنچے وہ بھی دوسروں کو خبردار کریں کہ وہ وحدہٗ لاشریک ہے۔ کوئی اس کا شریک و سہیم نہیں ہے۔ اب اس کے بعد بھی اگر تم مدعی ہو کہ دوسرے معبود خدا کے شریک ہیں تو میں اس بے دلیل گواہی کے لیے تیار نہیں۔ مجھے خدا کا حکم یہی ہے کہ میں اعلان کروں کہ وہ ایک ہی معبود ہے اور میں ان تمام چیزوں سے اپنی برأت کا اعلان کرتا ہوں جن کو تم خدا کا شریک گردانتے ہو۔

       

      جاوید احمد غامدی اِن سے پوچھو، کس کی گواہی سب سے بڑھ کر ہے؟ کہہ دو، اللہ کی، وہ میرے اور تمھارے درمیان گواہ ہے اور میری طرف یہ قرآن اِس لیے وحی کیا گیا ہے کہ اِس کے ذریعے سے میں تمھیں خبردار کردوں اور اُنھیں بھی جنھیں یہ پہنچے۔ کیا تم اِس بات کے گواہ بنتے ہو کہ خدا کے ساتھ کچھ دوسرے معبود بھی ہیں؟ کہہ دو، میں اِس کی گواہی نہیں دے سکتا۔ کہہ دو وہ ایک ہی معبود ہے اور میں اُن سے یقیناًبری ہوں جنھیں تم شریک ٹھیراتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ وہی بات ہے جو سورۂ فرقان (۲۵) آیت ۱ میں ’لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا‘ کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ اِس سے واضح ہے کہ قرآن روز قیامت تک ذریعۂ انذار ہے۔ علما جب اِس کی دعوت لے کر اُٹھیں تو اُنھیں اپنی طرف سے کچھ کہنے کے بجاے اِسی کو ذریعۂ انذار بنانا چاہیے۔ خدا کی معرفت اور عقبیٰ شناسی کے لیے اِس سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے جو لوگوں کو بیدار کر سکے۔

    • امین احسن اصلاحی جن کو ہم نے کتاب عطا کی وہ اس کو پہچانتے ہیں جیسا اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ جنھوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا وہی ہیں جو اس پر ایمان نہیں لاتے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ یَعْرِفُوْنَہٗ کَمَا یَعْرِفُوْنَ اَبْنَآءَھُمْ‘ اس ٹکڑے پر تفصیلی بحث بقرہ کی تفسیر میں آیت ۱۴۶ کے تحت گزر چکی ہے۔ وہاں ہم نے بتایا ہے کہ اس سے مراد صالحین اہل کتاب ہیں۔ قرآن میں اچھے اہل کتاب کا ذکر بالعموم بصیغۂ معروف ہی ہوا ہے۔ ’یَعْرِفُوْنَہٗ‘ میں ضمیر منصوب کا مرجع قرآن ہے جس کا ذکر اوپر ’واُوْحِیَ اِلَیَّ ھٰذَا الْقُراٰن‘ میں گزر چکا ہے۔ اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی مراد لیا گیا ہے لیکن چونکہ یہاں سیاق کلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب کا ہے اس وجہ سے آپ کے لیے ضمیر غائب موزوں نہیں ہے۔ ویسے باعتبار مدعا کوئی فرق واقع نہیں ہو گا اس لیے کہ نبی اور قرآن دونوں لازم و ملزوم ہیں اور ایسے لازم و ملزوم کہ قرآن میں، جیسا کہ ہم دسرے مقام میں واضح کریں گے، ایک دوسرے سے بدل پڑے ہوئے ہیں۔ بقرہ میں ہم ’اَبْنَآءَ ہُمْ‘ کی تشبیہ پر بھی بحث کر چکے ہیں کہ جس طرح ایک مہجور باپ کو اپنے موعود و منتظر بیٹے کا انتظار ہوتا ہے اور جب وہ آتا ہے تو دور سے اس کے پیراہن کی خوشبو اس کے لیے نوید مسرت لاتی ہے اسی طرح صالحین اہل کتا ب کو قرآن اور پیغمبرؐ کا انتظار تھا اور اسی جذبے کے ساتھ، جیسا کہ ’وَاِذَا سَمِعُوْا مَآ اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ‘ الایۃ کے تحت گزر چکا ہے، انھوں نے اس کا خیر مقدم کیا۔
      صالحین اہل کتاب کی گواہی: اب یہ قرآن کی گواہی کو مزید موثق کرنے کے لیے فرمایا کہ یہ کوئی غیرمعروف گواہی نہیں ہے بلکہ جانی پہچانی ہوئی گواہی ہے۔ اس کا ذکر پچھلے آسمانی صحیفوں میں بھی موجود ہے۔ تم سے پہلے جن کو کتاب عطا ہوئی وہ اس کو پہچانتے ہیں اور جو ان میں اہل ایمان ہیں وہ اس کے منتظر و مشتاق رہے ہیں۔ اس پر ایمان لانے سے محروم تو صرف وہ رہیں گے جنھوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈالا۔ فرمایا جب خدا کی گواہی یہ ہے تو ان سے بڑھ کر بدقسمت، ظالم اور نامراد کون ہو سکتا ہے جو اس گواہی کے خلاف خدا پر یہ جھوٹ باندھیں کہ اس نے فلاں اور فلاں کو اپنا شریک بنایا ہے یا اس کی آیات کی تکذیب کریں جب کہ وہ توحید کی واضح تعلیم کے ساتھ ان کے پاس آ گئی۔ ایسے ظالم کبھی فلاح پانے والے نہیں بن سکتے۔

      جاوید احمد غامدی جنھیں ہم نے کتاب عطا فرمائی ہے، وہ اِس (قرآن) کو پہچانتے ہیں، جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔ جن لوگوں نے، البتہ اپنے آپ کو خسارے میں ڈال رکھا ہے، وہ اِسے نہیں مانتے (اور شرک پر اصرار کرتے ہیں)۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اوپر قرآن کا ذکر جس مقصد سے ہوا ہے، اُس کی توثیق مزید کے لیے یہ صالحین اہل کتاب کی گواہی پیش کی ہے۔ فرمایا ہے کہ قرآن کے انذار پر ایمان لانے سے وہی محروم ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈال رکھا ہے، ورنہ صالحین اہل کتاب تو اُس کو اور اُس کے پیش کردہ حقائق کو اپنے صحیفوں کی روشنی میں اُسی طرح جانتے، پہچانتے اور اُن کا خیر مقدم کرتے ہیں، جس طرح ایک مہجور باپ اپنے یوسف گم گشتہ کو پہچانتا ہے اور اُس کے پیرہن کی خوشبو دور ہی سے محسوس کر لیتا ہے۔

    Join our Mailing List