Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 120 آیات ) Al-Maidah Al-Maidah
Go
  • المائدہ (The Table Spread, The Table)

    120 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود

    یہ سورہ، جیسا کہ مقدمۂ کتاب میں واضح ہو چکا ہے، پہلے گروپ کی آخری سورہ ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ سے، آخری امت کی حیثیت سے، اپنی آخری اور کامل شریعت پر پوری پابندی کے ساتھ قائم رہنے اور اس کو قائم کرنے کا عہد و پیمان لیا ہے۔ اس سے پہلے یہ عہد و پیمان اہل کتاب سے لیا گیا تھا لیکن وہ، جیسا کہ پچھلی سورتوں سے واضح ہوا، اس کے اہل ثابت نہ ہوئے اس وجہ سے معزول کیے گئے اور ان کی جگہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو دی اور اس کو اپنی آخری اور مکمل شریعت کا حامل اور امین بنایا۔ اب اس سورہ (مائدہ) میں عہد و پیمان لیا جا رہا ہے کہ تم پچھلی امتوں کی طرح خدا کی شریعت کے معاملے میں خائن اور غدار نہ بن جانا بلکہ پوری وفاداری اور کامل استواری کے ساتھ اس عہد کو نباہنا، اس پر خود بھی قائم رہنا ، دوسروں کو بھی قائم رکھنے کی کوشش کرنا اور اس راہ میں پوری عزیمت و پا مردی کے ساتھ تمام آزمائشوں اور تمام خطرات کا مقابلہ کرنا۔

  • المائدہ (The Table Spread, The Table)

    120 آیات | مدنی
    النساء ——- المائدہ
    ۴ ——- ۵

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں جس امت کے لیے صالح معاشرت کی اساسات واضح کی گئی ہیں، دوسری سورہ میں اُسی پر اتمام نعمت اور اُس کے ساتھ اللہ کے آخری عہدوپیمان کا بیان ہے۔ اِن میں خطاب اگرچہ اہل کتاب سے بھی ہوا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی، لیکن دونوں سورتوں کے مخاطب اصلاً مسلمان ہی ہیں۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ بقرہ و آل عمران کی طرح یہ بھی ہجرت کے بعد مدینہ میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب مسلمانوں کی ایک باقاعدہ ریاست وہاں قائم ہوچکی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب پر اتمام حجت اور مسلمانوں کا تزکیہ وتطہیر کر رہے تھے۔

    پہلی سورہ —- النساء کا موضوع امت مسلمہ کے لیے صالح معاشرت کی اساسات اور اُس کا تزکیہ و تطہیر ہے۔

    دوسری سورہ —- المائدۃ کا موضوع اِس امت پر اتمام نعمت اور اِس کے ساتھ اللہ، پروردگار عالم کے آخری عہدوپیمان کا بیان ہے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی اے ایمان والو! اپنے عہد و پیمان پورے کرو۔ تمھارے لیے انعام کی قسم کے تمام چوپائے حلال ٹھہرائے گئے بجز ان کے جن کا حکم تم کو پڑھ کر سنایا جا رہا ہے۔ نہ جائز کرتے ہوئے شکار کو حالت احرام میں۔ اللہ حکم دیتا ہے جو چاہتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      لفظ ’عقد‘ کا مفہوم اور اس کی وسعت: ’اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ‘۔ عقد کا لفظ عہد و میثاق کے الفاظ کے مقابل میں عام ہے۔ اس میں قول قرار، قسم اور کسی معاملے میں گواہی کی ذمہ داری سے لے کر اس عہد و میثاق تک، جو خدا اور اس کے بندوں کے درمیان ہوا ہے، سب آ گیا۔ چنانچہ اس سورہ میں میثاق شریعت کی پوری تاریخ بھی اس کے تمام نتائج و عواقب کے ساتھ بیان ہوئی ہے، قسم اور شہادت کی ذمہ داریاں بھی واضح کی گئی ہیں۔
      ’انعام‘ اور ’بہیمۃ‘ میں فرق: اُحِلَّتْ لَکُمْ بَھِیْمَۃُ الْاَنْعَامِ، ’اَنْعَام‘ کا لفظ عربی میں بھیڑ بکری، اونٹ اور گائے بیل کے لیے معروف ہے۔ اس کی تصریح خود قرآن نے سورۂ انعام کی آیات ۱۴۳، ۱۴۴میں فرما دی ہے۔ ’بہیمہ‘ کا لفظ اس سے عام ہے۔ اس میں انعام کی نوع کے دوسرے چوپائے بھی داخل ہیں۔ ’انعام‘ کی طرف اس کی اضافت سے یہ مفہوم پیدا ہوتا ہے کہ اونٹ، گائے، بکری اور اس قبیل کے سارے ہی چوپائے، خواہ گھریلو ہوں یا وحشی، تمھارے لیے جائز ٹھہرائے گئے۔ ’’جائز ٹھہرائے گئے‘‘ سے مطلب یہ ہے کہ وہ پابندیاں جو تم نے اپنے اوہام کی بنا پر عائد کی ہیں وہ بھی ختم اور جو پچھلے صحیفوں کی روایات کی بنا پر تھیں وہ بھی کالعدم۔
      ’اِلَّا مَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ‘ یہ اشارہ ہے آگے آیت ۳ میں بیان کردہ حرمتوں کی طرف۔
      حالت احرام میں شکار کی ممانعت اور اس کی اہمیت: ’غَیْرَ مُحِلِّی الصَّیْدِ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ‘ یہ ان حرمتوں میں سب سے پہلی حرمت کا ذکر ہے۔ یعنی تمھارے لیے انعام کے قسم کے تمام چوپائے خواہ پالتو ہوں یا وحشی جائز ہیں بایں پابندی کہ حالتِ احرام میں شکار کو جائز کر لینے والے نہ بن جانا۔ اس کے حالیہ اسلوب بیان اور اس کے سب سے پہلے ذکر کرنے سے اس کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے جس کو اچھی طرح سمجھنے کے لیے تھوڑی سی تفصیل کی ضرورت ہے۔
      ہم اوپر تمہیدی گفتگو میں اشارہ کر چکے ہیں کہ اس سورہ میں جو احکام بیان ہوئے ہیں وہ تکمیلی و اتمامی نوعیت کے بھی ہیں اور ان میں امتحان و آزمائش کا پہلو بھی نمایاں ہے۔ اپنے اسی پہلو سے وہ اس سورہ کے لیے، جو سورۃ المیثاق ہے، موزوں قرار پائے ہیں۔ ان پر عہد لینے کے معنی ایک طرف تو یہ ہیں کہ پوری شریعت کی پابندی کا عہد لیا گیا، دوسری طرف یہ کہ ان چیزوں پر عہد لے لیا گیا جو دوسری ملتوں کے لیے مزلۂ قدم ثابت ہو چکی تھیں۔ چنانچہ یہاں غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ یہ دونوں ہی پہلو ملحوظ ہیں۔
      کھانے پینے کے باب میں یہاں جو حرمتیں اور حلتیں بیان ہوئیں ہیں وہ بالکل آخری نوعیت کی ہیں۔ اس سے پہلے اس باب کے بہت سے احکام بقرہ میں گزر چکے ہیں۔ بلکہ بقرہ سے بھی زیادہ تفصیل کے ساتھ سو رۂ انعام میں بیان ہوئے ہیں جو ایک مکی سورہ ہے۔ ۱؂ صرف کچھ جزئیات و تفصیلات باقی رہ گئی تھیں جو اس سورہ میں بیان ہو گئی ہیں اور ان کے بعد یہ باب گویا بالکل مکمل ہو گیا ہے۔ یہ حقیقت آگے کی آیات سے خود اس قدر واضح ہو جائے گی کہ دلیل کی محتاج نہیں رہے گی۔
      ابتلا و امتحان کے زاویہ سے دیکھیے تو معلوم ہو گا کہ حالتِ احرام میں شکار کی ممانعت کا معاملہ بالکل اس حکم سے مشابہ ہے جو یہود کو سبت کے احترام سے متعلق دیا گیا تھا۔ ان کو سبت کے دن شکار کی ممانعت تھی لیکن وہ اس عہد کو نباہ نہ سکے بلکہ مختلف حیلے ایجاد کر کے انہوں نے اس کو جائز بنا لیا جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کر دی۔ سبت کے حکم سے اس کی مشابہت خود قرآن نے اسی سورہ میں آگے آیات ۹۳۔۹۶ میں واضح کر دی ہے۔
      آیت کا مطلب یہ ہوا کہ اے ایمان والو، اپنے رب سے اس کی شریعت کی پابندی کا جو عہد و میثاق تم نے کیا ہے وہ پورا کرنا۔ تمھارے لیے انعام کی قسم کے تمام چوپائے، بجز ان کے جو آگے بیان کیے جا رہے ہیں، اس پابندی کے ساتھ حلال ٹھہرائے گئے کہ احرام کی حالت میں شکار نہ کرنا۔ آخر میں ’اِنَّ اللهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيدُ‘ فرما کر اس حکم کے امتحانی پہلو کی طرف اشارہ فرما دیا کہ یہ حکم تمہاری وفاداری کی جانچ کے لیے ہے، اس میں مین میکھ نکالنے اور اس سے گریز و فرار کی راہیں نہ ڈھونڈنا۔ خدا جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے اور اس کے احکام کی بے چون و چرا اطاعت ہی میں اس کے بندوں کے لیے مصلحت کا پہلو مخفی ہوتا ہے اس وجہ سے جب تک یہ عقیدہ دل میں مضبوط نہ ہو کہ خدا کو حکم دینے کا اختیار مطلق حاصل ہے اور اس کا ہر حکم بندوں ہی کی مصلحت کے لیے ہوتا ہے اس وقت تک سچی وفاداری کے ساتھ ان کی تعمیل نہیں ہو سکتی۔

      ________
      ۱؂ ملاحظہ ہو سورۂ بقرہ آیت ۱۷۳ اور سورۂ انعام آیات۱۴۳۔۱۴۴۔

      جاوید احمد غامدی ایمان والو، (اپنے پروردگار سے باندھے ہوئے سب) عہد و پیمان پورے کرو۔ تمھارے لیے مویشی کی قسم کے تمام چوپائے حلال ٹھیرائے گئے ہیں، سواے اُن کے جو تمھیں بتائے جا رہے ہیں۔ لیکن احرام کی حالت میں شکار کو حلال نہ کر لو۔ (یہ اللہ کا حکم ہے اور) اللہ جو چاہتا ہے، حکم دیتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے مراد وہ عہد و پیمان ہیں جو ایمان و اسلام کی دعوت قبول کر لینے کے بعدہر بندۂ مومن اپنے پروردگار سے اُس کی شریعت کی پابندی کے لیے باندھ لیتا ہے۔
      اصل میں ’بَھِیْمَۃُ الْاَنْعَامِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ ’اَنْعَام‘ کا لفظ عربی زبان میں بھیڑ بکری، اونٹ اور گاے بیل کے لیے معروف ہے۔ اِس کی طرف ’بَھِیْمَۃ‘ کی اضافت سے اِس میں انعام کی قسم کے وحشی چوپائے، یعنی ہرن وغیرہ بھی شامل ہو گئے ہیں۔
      یعنی اُن کا حلال ہونا واضح کر دیا گیا ہے اور وہ تمام پابندیاں جو لوگوں نے اپنے اوہام کی بنا پر یا پچھلے صحیفوں کی کسی روایت کی بنا پر اپنے اوپر عائد کر رکھی تھیں، ختم ہو گئی ہیں۔
      اصل الفاظ ہیں: ’غَیْْرَ مُحِلِّی الصَّیْْدِ وَاَنْتُمْ حُرُمٌ‘۔ مطلب یہ ہے کہ تمام چوپائے حلال ہیں، مگر اِس پابندی کے ساتھ کہ حالت احرام میں شکار کو جائز کر لینے والے نہ بن جانا۔ یہ بالکل اُسی نوعیت کا حکم ہے جو یہود کو سبت سے متعلق دیا گیا تھا۔
      اِس طرح کے احکام ابتلا اور امتحان کے لیے دیے جاتے ہیں۔ اِن میں بندوں کی مصلحت واضح نہیں ہوتی، اِس لیے جب تک یہ عقیدہ محکم نہ ہو کہ خدا حاکم مطلق ہے اور اُس کا کوئی حکم مصلحت سے خالی نہیں ہوتا، اُس وقت تک پوری وفاداری کے ساتھ کوئی شخص اِن کی تعمیل نہیں کر سکتا۔

    • امین احسن اصلاحی اے ایمان والو! شعائر الٰہی کی بے حرمتی نہ کیجیو، نہ محترم مہینوں کی، نہ قربانیوں کی، نہ پٹے بندھے ہوئے نیاز کے جانوروں کی، نہ بیت اللہ کے عازمین کی، جو اپنے رب کے فضل اور اس کی خوش نودی کے طالب بن کر نکلتے ہیں۔ اور جب تم حالت احرام سے باہر آ جاؤ تو شکار کرو۔ اور کسی قوم کی دشمنی، کہ اس نے تمھیں مسجد حرام سے روکا ہے تمھیں اس بات پر نہ ابھارے کہ تم حدود سے تجاوز کرو۔ تم نیکی اور تقویٰ میں تعاون کرو، گناہ اور تعدی میں تعاون نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ سخت پاداش والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      شعائر کا احترام ظاہر و باطن دونوں پہلوؤں سے مطلوب ہے: ’لَا تُحِلُّوْا شَعَآءِرَ اللّٰہِ‘ بقرہ آیت ۱۵۸ کے تحت ’شَعَآءِرَ اللّٰہِ‘ پر تفصیل کے ساتھ بحث ہو چکی ہے۔ شعائر کسی اہم دینی و روحانی حقیقت کے مظہر اور پیکر ہیں۔ ان میں اصل مقصود کی حیثیت تو ان روحانی و معنوی حقائق کی ہے جو ان مظاہر کے اندر مضمر ہیں اس لیے کہ ان حقائق ہی کا احساس دلانے کے لیے ان کو بطور نشان اور علامت کے مقرر کیا گیا ہے لیکن یہ مقرر کردہ خدا کے ہیں اس وجہ سے ان کے ظاہر و باطن دونوں کا یکساں احترام مطلوب ہے۔ کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ ان کے احترام کے جو آداب و شرائط مقرر ہیں ان کی خلاف ورزی کرے یا جو چیزیں یا جو باتیں ان کے تعلق سے حرام ہیں ان کو جائز کرے۔ مثلاً چار مہینوں ۔۔۔ ذی قعدہ، ذی الحجہ، محرم اور رجب جو حج و عمرہ کے تعلق سے محترم مہینے قرار دیے گئے ہیں، ان میں لڑائی بھڑائی ممنوع ہے، اگر کوئی گروہ ان میں لڑائی چھیڑ دے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس نے ان حرام مہینوں کو اپنے لیے جائز کر لیا اور ان کی بے حرمتی کی۔
      ’ہدی‘ اور ’قلائد‘ کا مفہوم: ’ھَدی‘ قربانی کے جانوروں کو کہتے ہیں جو بطور ہدیہ خدا کے حضور پیش کرنے کے لیے بیت اللہ لے جائے جاتے ہیں۔ ’قَلَاءِد‘ یعنی قربانی اور نذر و نیاز کے وہ جانور جن کو تخصیص کے طور پر پٹے باندھ دیے گئے ہیں کہ پہچانے جائیں، کوئی ان سے تعرض نہ کرے۔ ہدی کے بعد قلائد کا ذکر عام کے بعد خاص کے ذکر کی نوعیت رکھتا ہے اور مقصود اس سے تعرض کی سنگینی کو واضح کرنا ہے کہ جن جانوروں کے گلے میں خدا کی تخصیص کے پٹے بندھ گئے ان پر حملہ خاض خدا کے گلے پر حملہ کرنا ہے۔ اسی طرح آمِّیْنَ الْبَیْتَ الْحَرَام کے ساتھ ’یَبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِّنْ رَبِّھِمْ وَرِضْوَانًا‘ کی صفت کا ذکر اس نہی کو موثر بنانے کے لیے ہے کہ جو اللہ کے بندے، خدا کے فضل اور اس کی خوش نودی کی تلاش میں گھر سے نکلے ہوں ان کو نقصان پہنچانے کے درپے ہونا خود خدا کے تعرض کرنے کے مترادف ہے۔
      دشمن کی دشمنی بھی توہین شعائر کے لیے دلیل جواز نہیں ہے: ’وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْکُمْ‘ الایۃ ، ’شَنَاٰنُ‘ کے معنی بغض و عداوت کے ہیں اور ’لَا یَجْرِمَنَّکُمْ‘ کے معنی ہیں، تمھارے لیے سبب و محرک نہ بنے، تمھیں آمادہ نہ کرے۔ قوم سے مراد یہاں قریش ہیں اور اَنْ صَدُّوْکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، اس بغض و عداوت کے سبب کی تفصیل ہے۔ یعنی قریش نے تمھیں بیت اللہ سے روک کر ہر چند تمھارے ساتھ بڑی زیادتی کی ہے لیکن اس چیز کا غم و غصہ بھی تمھیں اس بات پر نہ ابھارے کہ تم شعائر الٰہی کے معاملے میں حدودِ الٰہی سے تجاوز کرو۔ ان کے عازمین حج کے قافلوں کو یا ان کے نذر و نیاز کے جانوروں کو کوئی گزند نہ پہنچاؤ۔
      دوسروں کی انگیخت پر حدودِ الٰہی سے تجاوز تعاون علی الاثم ہے: ’وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی الایۃ‘ یہ اوپر والی بات ہی کی ایک دوسرے پہلو سے تاکید ہے یعنی جس گروہ کو اللہ نے دنیا میں نیکی اور تقویٰ قائم کرنے کے لیے پیدا کیا ہے اس کے لیے پسندیدہ روش یہ نہیں ہے کہ وہ دوسروں کی زیادتیوں سے مشتعل ہو کر خود اسی طرح کی زیادتیاں کرنے لگے، وہ ایسا کرے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس نے گناہ اور زیادتی کے کام میں تعاون کیا اور شریروں نے برائی کی جو نیو جمائی اس پر اس نے بھی چند ردّے رکھ دیے، حالانکہ اس کا کام نیکی اور تقویٰ میں تعاون کرنا تھا۔ ۱؂
      اجزا کو سمجھ لینے کے بعد آیت کے مجموعی نظام پر ایک بار پھر نظر ڈال لیجیے۔
      اوپر والی آیت میں حالت احرام میں شکار کی ممانعت فرمائی تھی کہ یہ چیز احرام کے تقدس اور اس کے درویشانہ مزاج کے خلاف نیز شعار الٰہی میں سے ایک شعیرہ کی توہین ہے۔ اب اسی تعلق سے تمام شعائر الٰہی کے احترام کی پہلے بحیثیت مجموعی تاکید فرمائی پھر چند مخصوص شعائر کا حوالہ دیا۔ پھر شکار کی ممانعت سے متعلق یہ واضح فرما دیا کہ اس کا تعلق صرف حالتِ احرام سے ہے۔ احرام سے باہر آ جانے کے بعد یہ ممانعت اٹھ جائے گی۔
      پھر اس اشتعال انگیز سبب کا ذکر فرمایا جو اس وقت تازہ بتازہ موجود تھا۔ اندیشہ تھا کہ مسلمان اس سے مغلوب ہو کر کوئی ایسی بات کر گزریں جو احترامِ شعائر کے منافی ہو۔ قریش نے ان کو بیت اللہ کے حج و زیارت سے محروم کر رکھا تھا۔ یہ معاملہ نہایت نازک اور صبر آزما تھا اور اب کہ مسلمانوں نے سیاسی قوت حاصل کر لی تھی خاصا اندیشہ اس بات کا تھا کہ اس عہد کے احترام میں ان سے کوئی بے اعتدالی صادر ہو جائے۔ یہ صورت حال مقتضی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ ان کو مزلۂ قدم سے ہوشیار کر دے کہ دوسروں کی زیادتیاں بھی ان کے لیے کسی زیادتی کا جواز فراہم نہیں کر سکتیں۔ وہ دنیا میں شعائر الٰہی کا احترام قائم کرنے اور نیکی اور تقویٰ کے علم بردار بن کر اٹھے ہیں۔ اس وجہ سے جب تک اپنے بچاؤ کی ضرورت مجبور نہ کر دے ان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی قدم نیکی اور تقویٰ کے خلاف اٹھائیں۔ اس کے بعد نکتے کی بات یہ ارشاد ہوئی کہ دوسروں کے غلط رویے سے متاثر ہو کر انہی کی سی روش اختیار کر لینا درحقیقت ان کی برپا کی ہوئی بدی میں ان کے ساتھ تعاون کرنا ہے، اور یہ چیز اہل ایمان کے شایان شان نہیں ہے اہل ایمان کے شایان شان بات یہ ہے کہ وہ نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں تعاون کریں۔ دشمن کے ہاتھوں بھی کوئی کام نیکی کا ہو رہا ہو تو اس میں مزاحم ہونے کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی کریں۔ آخر میں شَدِیْدُ الْعِقَاب کا حوالہ دینے سے مقصود مسلمانوں کو سخت الفاظ میں تنبیہ ہے کہ عہد الٰہی کی حرمت سخت سے سخت حالات میں بھی قائم رکھنی ہے۔ ورنہ یاد رکھو کہ جس خدا نے تم کو اپنے عہد و میثاق سے دنیا کی امامت کی سرفرازی بخشی ہے، اس کے ہاں نقض میثاق کی پاداش بھی بڑی ہی سخت ہے۔

      ________
      ۱؂ یہ ملحوظ رہے کہ یہاں جس چیز سے روکا جا رہا ہے وہ یہ ہے کہ دوسرے کے طرزِ عمل سے مشتعل ہو کر کوئی کام جارحانہ طور پر خود مسلمان بھی ایسا کر گزریں جو شعائر الٰہی کے احترام کے منافی ہو۔ اگر مسلمانوں کو اپنے تحفظ اور دفاع کے لیے مجبوراً کوئی قدم اٹھانا پڑے تو وہ اس سے مستثنیٰ ہے۔ دفاعی جنگ اشہر حرم بلکہ عین حرم میں بھی لڑی جا سکتی ہے۔ بقرہ میں یہ بحث گزر چکی ہے۔

      جاوید احمد غامدی ایمان والو، اللہ کے شعائر کی بے حرمتی نہ کرو، نہ حرام مہینوں کی، نہ ہدی کے جانوروں کی، نہ (اُن میں سے بالخصوص) اُن جانوروں کی جن کے گلے میں نذر کے پٹے بندھے ہوئے ہوں، اور نہ بیت الحرام کے عازمین کی جو اپنے پروردگار کی عنایتوں اور اُس کی خوشنودی کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ ہاں، جب احرام کی حالت ختم ہو جائے تو شکار کر سکتے ہو۔ تمھارے لیے مسجد حرام کا راستہ کچھ لوگوں نے بند کر دیا تھا تواُن کے ساتھ اِس بنا پر تمھاری دشمنی بھی تمھیں ایسا مشتعل نہ کر دے کہ تم حدود سے تجاوز کرو۔ (نہیں، ہر حال میں حدود الٰہی کے پابند رہو) اور نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں تعاون کرو، مگر گناہ اور زیادتی میں تعاون نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو، اِس لیے کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ ’شَعِیْرَۃ‘ کی جمع ہے جس کے معنی علامت کے ہیں۔ اصطلاح میں اِس سے مراد وہ مظاہر ہیں جو اللہ اور رسول کی طرف سے کسی حقیقت کا شعور قائم رکھنے کے لیے بطور ایک نشان کے مقرر کیے گئے ہوں، مثلاً حجراسود، استلام اور رمی وغیرہ۔
      یہ لفظ قربانی کے اُن جانوروں کے لیے آتا ہے جو ہدیے کے طور پر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرنے کے لیے بیت الحرام لے جائے جاتے ہیں۔
      مدعا یہ ہے کہ یہ اللہ کی حرمتیں ہیں، اِن کے توڑنے میں پہل ایک بدترین جرم ہے۔ اِس کا ارتکاب کسی حال میں بھی نہیں ہونا چاہیے۔ بیت الحرام پر حملہ خدا کے گھر پر حملہ ہے، جن جانوروں کے گلے میں خدا کی تخصیص کے پٹے بندھ گئے ہیں اور جو اللہ کے بندے اُس کے فضل اور اُس کی خوشنودی کی تلاش میں رخت سفر باندھ کر نکلے ہیں، اُن کو نقصان پہنچانے کے درپے ہونا خود اللہ، پروردگار عالم سے تعرض کرنے کے مترادف ہے۔ اِس وجہ سے کسی قوم کی دشمنی بھی مسلمانوں کو اِس پر آمادہ نہ کرے کہ وہ اِس معاملے میں حدود سے تجاوز کریں۔ اُن پر واضح رہنا چاہیے کہ جو پروردگار اپنے عہد و میثاق سے قوموں پر کرم فرماتا اور اُنھیں سرفرازی بخشتا ہے، اُس کے ہاں اِس عہد و میثاق کے توڑنے کی پاداش بھی بڑی ہی سخت ہے۔
      یہ ایک دوسرے پہلو سے اُسی بات کی تاکید ہے جو اوپر بیان ہوئی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...یعنی جس گروہ کو اللہ نے دنیا میں نیکی اور تقویٰ قائم کرنے کے لیے پیدا کیا ہے، اُس کے لیے پسندیدہ روش یہ نہیں ہے کہ وہ دوسروں کی زیادتیوں سے مشتعل ہو کر خود اُسی طرح کی زیادتیاں کرنے لگے۔ وہ ایسا کرے تو اِس کے معنی یہ ہوئے کہ اُس نے گناہ اور زیادتی کے کام میں تعاون کیا اور شریروں نے برائی کی جو نیو جمائی، اُس پر اُس نے بھی چند ردّے رکھ دیے، حالاں کہ اُس کا کام نیکی اور تقویٰ میں تعاون کرنا تھا۔‘‘ (تدبرقرآن۲/ ۴۵۵)

       

    • امین احسن اصلاحی تم پر مردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور وہ جانور حرام کیا گیا جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو، اور وہ جو گلا گھٹنے سے مرا ہو، جو چوٹ سے مرا ہو، جو اوپر سے گر کر مرا ہو، جو سینگ لگ کر مرا ہو، جس کو کسی درندے نے کھایا ہو بجز اس کے جس کو تم نے ذبح کر لیا ہو اور وہ جو کسی تھان پر ذبح کیا گیا ہو اور یہ کہ تقسیم کرو تیروں کے ذریعے سے۔ یہ سب باتیں فسق ہیں۔ اب یہ کافر تمھارے دین کی طرف سے مایوس ہو گئے تو ان سے نہ ڈرو، مجھی سے ڈرو، اب میں نے تمھارے لیے تمھارے دین کو کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی اور تمھارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند فرمایا۔ پس جو بھوک میں مضطر ہو کر، بغیر گناہ کی طرف مائل ہوئے، کوئی حرام چیز کھا لے تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’میتۃ‘ کی تفصیل: مَیْتَۃ، دَم، لَحْمَ خِنْزِیْر اور ’مَآ اُھِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ‘ کا ذکر سورۂ بقرہ کی آیت ۱۷۳ کے تحت گزر چکا ہے۔
      مُنْخَنِقَۃُ اس جانور کو کہتے ہیں جو گلا گھٹ کر مر جائے۔
      مَوْقُوْذَۃُ جو چوٹ سے مر جائے۔ مثلاً کسی جانور پر دیوار گر پڑی یا وہ کسی ٹرک کے نیچے آ گیا۔
      مُتَرَدِّیَۃُ جو اوپر سے نیچے گر کر مر جائے۔
      نَطِیْحَۃ جو کسی جانور کی سینگ سے زخمی ہو کر مر جائے۔
      مَآ اَکَلَ السَّبُعُ جس کو کسی درندے نے پھاڑ کھایا ہو۔
      مذکورہ پانچوں چیزوں کا ذکر درحقیقت میتہ کی تفصیل کے طور پر ہوا ہے اور اس تفصیل سے گویا اس حکم کی تکمیل ہو گئی جو بقرہ اور اس سے پہلے انعام میں بیان ہو چکا ہے۔ اس تفصیل کی ضرورت اس لیے تھی کہ بعض ذہنوں میں یہ شبہ پیدا ہو سکتا تھا کہ ایک مردار میں جو طبعی موت مرا ہو اور اس جانور میں جو کسی چوٹ یا کسی حادثہ کا شکار ہو کر اچانک مر گیا ہو، کچھ فرق ہونا چاہیے۔ چنانچہ یہ شبہ اس زمانے میں بھی بعض لوگ پیش کرتے ہیں بلکہ بہت سے لوگ تو اسی کو بہانہ بنا کر گردن مروڑی ہوئی مرغی بھی جائز کر بیٹھے۔ قران کی اس تفصیل نے اس شبہے کو صاف کر دیا۔
      تھان، استھان اور مزار پر قربانی کی ممانعت: وَمَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ، نُصب تھان اور استھان کو کہتے ہیں۔ عرب میں ایسے تھان اور استھان بے شمار تھے جہاں دیویوں، دیوتاؤں، بھوتوں، جنوں کی خوش نودی کے لیے قربانیاں کی جاتی تھیں۔ قرآن نے اس قسم کے ذبیحے بھی حرام قرار دیے۔ قرآن کے الفاظ سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ ان کے اندر حرمت مجرد با ارادۂ تقرب و خوش نودی، استھانوں پر ذبح کیے جانے ہی سے پیدا ہو جاتی ہے، اس سے بحث نہیں کہ ان پر نام اللہ کا لیا گیا ہے یا کسی غیر اللہ کا۔ اگر غیر اللہ کا نام لینے کے سبب سے ان کو حرمت لاحق ہوتی تو ان کے علیحدہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی، اوپر ’وَمَآ اُھِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ‘ کا ذکر گزر چکا ہے، وہ کافی تھا۔ ہمارے نزدیک اسی حکم میں وہ قربانیاں بھی داخل ہیں جو مزاروں اور قبروں پر پیش کی جاتی ہیں۔ ان میں بھی صاحب مزار اور صاحب قبر کی خوش نودی مدنظر ہوتی ہے۔ ذبح کے وقت نام چاہے اللہ کا لیا جائے یا صاحب قبر و مزار کا، ان کی حرمت میں دخل نام کو نہیں بلکہ مقام کو حاصل ہے۔
      ’استقسام بالازلام‘ کی نوعیت: ’وَاَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ، ’اِسْتِقْسَام‘ کے معنی ہیں حصہ یا قسمت یا تقدیر معلوم کرنا۔ ’ازلام‘ جوئے یا فال کے تیروں کو کہتے ہیں۔ عرب میں فال کے تیروں کا بھی رواج تھا جن کے ذریعے سے وہ گوشت یا کسی چیز کے حصے حاصل کرتے تھے۔ ہم سورۂ بقرہ کی تفسیر میں ’خمر و میسر‘ کے تحت بیان کر آئے ہیں کہ عرب شراب نوشی کی مجلسیں منعقد کرتے، شراب کے نشے میں جس کا اونٹ چاہتے ذبح کر دیتے، مالک کو منہ مانگے دام دے کر راضی کر لیتے پھر اس کے گوشت پر جوا کھیلتے۔ گوشت کی جو ڈھیریاں جیتتے جاتے ان کو بھونتے، کھاتے، کھلاتے اور شرابیں پیتے اور بسا اوقات اسی شغل بد مستی میں ایسے ایسے جھگڑے کھڑے کر لیتے کہ قبیلے کے قبیلے برسوں کے لیے آپس میں گتھم گتھا ہو جاتے اور سینکڑوں جانیں اس کی نذرہوجاتیں ۔۔۔ مجھے خیال ہوتا ہے کہ یہاں ’اِسْتِقْسَام بِالْاَزْلَامِ‘ سے یہی دوسری صورت مراد ہے۔
      ذٰلِکُمْ فِسْقٌ، ذٰلِکُمْ کا اشارہ اوپر ذکر کی ہوئی تمام چیزوں کی طرف ہے اور ’فسق‘ کا لفظ یہاں عام فقہی مفہوم میں نہیں ہے بلکہ قرآنی مفہوم میں ہے۔ قرآن میں یہ لفظ کھلی ہوئی نا فرمانی، سرکشی، کفر اور شرک سب کی تعبیر کے لیے آیا ہے۔ ابلیس کے متعلق ہے۔ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّہٖ۔
      کفار سے معاشرتی انقطاع کا اعلان: اَلْیَوْمَ یَءِسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ دِیْنِکُمْ الایۃ، ’الیوم‘ سے مراد کوئی معین دن نہیں ہے بلکہ وہ زمانہ ہے جس میں یہ آیتیں نازل ہوئی ہیں۔ ہم تمہید میں اشارہ کر آئے ہیں کہ یہ سورہ تمام تر اسلام کے تکمیلی دور کے احکام و ہدایات پر مشتمل ہے۔ کفار کے اس دین سے مایوس ہو جانے کا مطلب یہ ہے کہ اب تک تو وہ اس طمع خام میں مبتلا رہے ہیں کہ وہ اس کو یا تو مغلوب کر لیں گے یا ’کچھ لو اور کچھ دو‘ کے اصول پر کوئی ایسا سمجھوتہ کرلیں گے کہ دونوں کا نباہ ہو سکے۔ لیکن اب ان کی اس طمع خام کا خاتمہ ہو گیا۔ اب انھوں نے کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ دونوں راہیں ایک دوسری سے اس طرح الگ الگ ہو گئی ہیں کہ اب ان کا کسی نقطۂ اتصال پر جمع ہونا بالکل ناممکن ہے۔ یہ امر ملحوظ رہے کہ کھانے پینے کی چیزوں کے اشتراک کو معاشرتی ارتباط میں بڑا دخل ہوتا ہے۔ اگر صورت یہ پیدا ہو جائے کہ ایک کے ہاں جو چیزیں حلال و طیب ہوں دوسرے کے ہاں وہ خبیث و حرام قرار دے دی جائیں تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ دونوں میں مکمل معاشرتی انقطاع کا اعلان ہو گیا اور اب ان دونوں کے مل بیٹھنے کی کوئی صورت باقی نہیں رہی ہے۔ قدرتی طور پر اس چیز نے ان کو اسلام اور مسلمانوں سے آخری درجے میں مایوس کر دیا۔ آخری مایوسی سے بعض مرتبہ آخری جھلاہٹ بھی پیدا ہوتی ہے لیکن یہ مریض کا آخری سنبھالا ہوتی ہے جس کے بعد آخری ہچکی کے سوا کوئی اور چیز باقی نہیں رہ جاتی۔ اس وجہ سے قرآن نے فرمایا کہ اب ان سے اندیشہ ناک ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اب وہ زور لگائیں بھی تو ان میں دم کیا ہے۔ اب تم صرف مجھی سے ڈرو۔ ان کی کوئی پروا نہ کرو۔
      تکمیل دین اور اتمامِ نعمت: ’اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ‘ الایۃ۔ تکمیل دین سے مراد اصل دین کی تکمیل ہے اور اتمامِ نعمت سے مراد اس آخری شریعت کا اتمام ہے۔ جہاں تک اصل دین کا تعلق ہے اس کا آغاز تو حضرت آدمؑ سے ہوا ہے۔ زمانہ کی رفتار کے ساتھ ساتھ ، حالات اور حکمت الٰہی کے تقاضوں کے مطابق، مختلف انبیا و رسل پر یہ اترتا رہا یہاں تک کہ خاتم الانبیاء محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ کامل ہو گیا۔ اس سے پہلے جو دین آئے وہ اسی دین کے اجزا تھے۔ ان کی حیثیت پورے دین کی نہیں تھی۔ پورے دین کی حیثیت صرف اسی دین کو حاصل ہے۔ اس حقیقت کے اشارات پچھلے آسمانی صحیفوں میں بھی موجود ہیں جن کے حوالے اس کتاب میں بھی گزر چکے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سلسلۂ نبوت کی آخری کڑی اور اس قصر دین کے کونے کی آخری اینٹ ہیں۔
      جہاں تک اس آخری امت پر اللہ کی نعمت کا تعلق ہے اس کا آغاز غارِ حرا کی پہلی وحی سے ہوا اور درجہ بدرجہ ۲۳ سال کی مدت میں اللہ تعالیٰ نے اس نعمت کا اتمام فرمایا۔ چنانچہ اس مرحلے میں آ کر ایک طرف اللہ کا دین بھی اپنے کمال کو پہنچ گیا، دوسری طرف اس امت پر اللہ تعالیٰ کی نعمت بھی پوری ہو گئی۔ اسی کا مجموعی نام اسلام ہے جو ہمیشہ سے اللہ کا دین ہے اور جو حضرت ابراہیم ؑ و حضرت اسمٰعیل ؑ کی وراثت کی حیثیت سے نبی امی اور ان کی امت کو منتقل ہوا، وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا میں اس دین کے لیے اللہ تعالیٰ کی اس پسندیدگی اور انتخاب کے اظہار سے بالواسطہ یہودیت اور نصرانیت کے لیے نا پسندیدگی کا اظہار بھی ہو گیا کہ وہ اللہ کے دین نہیں بلکہ دین سے انحراف کی مختلف شکلیں ہیں۔
      اضطرار کی شرعی حد: ’فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَۃٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ‘، مَخْمَصَۃ، کے معنی بھوک کے ہیں۔ بھوک سے مضطر ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی بھوک کی ایسی مصیبت میں گرفتار ہو جائے کہ موت یا حرام میں سے کسی ایک کے اختیار کرنے کے سوا کوئی اور راہ بظاہر کھلی ہوئی باقی ہی نہ رہ جائے۔ ایسی حالت میں اس کو اجازت ہے کہ حرام چیزوں میں سے بھی کسی چیز سے فائدہ اٹھا کر اپنی جان بچا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ’غَیْرَ مُتَجَانِفٍ‘ کی قید اسی مضمون کو ظاہر کر رہی ہے جو دوسرے مقام میں ’غَیْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ‘ سے ادا ہوا ہے۔ یعنی نہ تو دل سے چاہنے والا بنے اور نہ سدرمق کی حد سے آگے بڑھنے والا۔ ’مَخْمَصَۃ ‘کی قید سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ جہاں دوسرے غذائی بدل موجود ہوں وہاں مجرد اس عذر پر کہ شرعی ذبیحہ کا گوشت میسر نہیں آتا، جیسا کہ یورپ اور امریکہ کے اکثر ملکوں کا حال ہے، ناجائز کو جائز بنا لینے کا حق کسی کو نہیں ہے۔ گوشت زندگی کے بقا کے لیے ناگزیر نہیں ہے۔ دوسری غذاؤں سے نہ صرف زندگی بلکہ صحت بھی نہایت اعلیٰ معیار پر قائم رکھی جا سکتی ہے۔ ’غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ‘ کی قید اس حقیقت کو ظاہر کر رہی ہے کہ رخصت بہرحال رخصت ہے اور حرام بہرشکل حرام ہے۔ نہ کوئی حرام چیز شیر مادر بن سکتی نہ رخصت کوئی ابدی پروانہ ہے۔ اس وجہ سے یہ بات کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ رفع اضطرار کی حد سے آگے بڑھے۔ اگر ان پابندیوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے کوئی شخص کسی حرام سے اپنی زندگی بچا لے گا تو اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ اگر اس اجازت سے فائدہ اٹھا کر اپنے حظ نفس کی راہیں کھولے گا تو اس کی ذمہ داری خود اس پر ہے، یہ اجازت اس کے لیے قیامت کے دن عذر خواہ نہیں بنے گی۔
      اجزاء کی وضاحت کے بعد آیت کے مجموعی نظام پر بھی ایک نظر ڈال لیجیے۔ یہ ان حرمتوں کی تفصیل بیان ہو رہی ہے جن کا پہلی آیت میں ’اِلَّا مَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ‘ کے الفاظ سے حوالہ دیا گیا تھا۔ اس میں پہلے ان چیزوں کا ذکر ہوا جن کی حرمت پہلے بیان ہو چکی تھی، مزید تاکید اور تکمیل بحث کے طور پر ان کا یہاں بھی اعادہ کر دیا گیا ہے۔ اس کے بعد ’میتہ‘ کی تفصیل فرمائی کہ جس طرح طبعی موت سے مرا ہوا جانور مردار ہے اسی طرح نا گہانی اور اتفاقی حوادث سے مرے ہوئے جانور بھی مردار ہیں۔ دونوں کا حکم ایک ہی ہے۔ اسی طرح کسی درندے کا پھاڑا ہوا جانور بھی مردار ہے الا آنکہ تم نے اس کو زندہ پایا ہو اور ذبح کر لیا ہو۔ اسی طرح کسی استھان پر پیش کی ہوئی قربانی اور جوئے کے ذریعے سے تقسیم کیا ہوا گوشت بھی حرام ہے۔ جس طرح غیر اللہ کے نام پر ذبح کیے ہوئے جانور کو شرک کی آلودگی سے حرمت لاحق ہو جاتی ہے اسی طرح غیر اللہ کے نام پر ذبح کیے ہوئے جانور کو شرک کی آلودگی سے حرمت لاحق ہو جاتی ہے اسی طرح غیر اللہ کی خوش نودی اور جوئے سے تعلق سے ان چیزوں کو حرمت لاحق ہو جاتی ہے۔ حرمتوں کا یہ اعلان چونکہ کفار سے کامل معاشرتی انقطاع کے اعلان کے مترادف تھا، اس وجہ سے فرمایا کہ اب کفار تم سے اور تمھارے دین سے مایوس ہو چکے ہیں۔ اب ان کے اندر یہ خم باقی نہیں رہا کہ تمھارے دین کو مغلوب کرنے یا اس کو کچھ نرم بنانے کا حوصلہ کریں۔ اب اگر وہ کچھ کریں گے بھی تو وہ بس مایوسی کا مظاہرہ ہو گا تو تم اس کی پروا نہ کرنا۔ صرف میری ہی پروا کرنا۔ اس کے بعد مسلمانوں کو بشارت دی کہ اب اللہ کا دین بھی تکمیل کی حد کو پہنچا اور تمھاری شریعت بھی اتمام کی منزل کو پہنچی اور اسلام کو خدا نے تمھارے لیے دین کی حیثیت سے پسند فرمایا۔ آخر میں اضطرار کی حالت میں، حرام سے فائدہ اٹھا لینے کی جو رخصت ہے اس کا ذکر فرمایا۔
      بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے ’اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ الایۃ‘ حجتہ الوداع کے موقع پر نازل ہوئی ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ نازل تو اسی سلسلے میں حجتہ الوداع سے پہلے ہوئی ہے لیکن اس بشارت کا اعلان عام چونکہ حجتہ الوداع ہی کے موقع پر ہوا اس وجہ سے بعض لوگوں کو خیال ہوا کہ اس کا نزول اسی موقع پر ہوا ہے۔

      جاوید احمد غامدی تم پر مردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور خدا کے سوا کسی اور کے نام کا ذبیحہ حرام ٹھیرایا گیا ہے اور (اِسی کے تحت) وہ جانور بھی جو گلا گھٹنے سے مرا ہو، جو چوٹ سے مرا ہو، جو اوپر سے گر کر مرا ہو، جو سینگ لگ کر مرا ہو، جسے کسی درندے نے پھاڑ کھایا ہو، سواے اُس کے جسے تم نے (زندہ پا کر) ذبح کر لیا۔ (اِسی طرح) وہ (جانور بھی حرام ہیں) جو کسی آستانے پر ذبح کیے گئے ہوں اور یہ بھی کہ تم (اُن کا گوشت) جوے کے تیروں سے تقسیم کرو۔ (تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ) یہ سب خدا کی نافرمانی کے کام ہیں۔ یہ منکر اب تمھارے دین کی طرف سے مایوس ہو گئے ہیں، اِس لیے (اِن حرمتوں کے معاملے میں) اِن سے نہ ڈرو، مجھی سے ڈرو۔ تمھارے دین کو آج میں نے تمھارے لیے پورا کر دیا ہے اور تم پر اپنی نعمت تمام کر دی ہے اور تمھارے لیے دین کی حیثیت سے اسلام کو پسند فرمایا ہے۔ (سو میرے اِن احکام کی پابندی کرو)، پھر جو بھوک سے مجبور ہو کر اِن میں سے کوئی چیز کھا لے، بغیر اِس کے کہ وہ گناہ کا میلان رکھتا ہو تو اللہ بخشنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہاں سے آگے اب اُنھی حرمتوں کی تفصیل ہے جن کا حوالہ اوپر ’اِلاَّ مَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ‘ کے الفاظ میں دیا گیا ہے۔
      اصل میں لفظ ’مَیْتَۃ‘ آیا ہے۔ یہ اِن احکام میں عرف و عادت کی رعایت سے استعمال ہوا ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ عربی زبان میں اِس کا ایک لغوی مفہوم بھی ہے، لیکن یہ جب اِس رعایت سے بولا جائے تو اردو کے لفظ مردار کی طرح اِس کے معنی ہر مردہ چیز کے نہیں ہوتے۔ اِس صورت میں ایک نوعیت کی تخصیص اِس لفظ کے مفہوم میں پیدا ہو جاتی ہے اور زبان کے اسالیب سے واقف کوئی شخص، مثال کے طور پر، مردہ ٹڈی اور مردہ مچھلی کو اِس میں شامل نہیں سمجھتا۔
      سورۂ انعام (۶) کی آیت ۱۴۵ میں اِس کے لیے ’دَمًا مَّسْفُوْحًا‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن کا مفہوم وہی ہے جو عام بول چال میں اِن الفاظ سے سمجھا جاتا ہے۔ تلی اور جگر کے متعلق یہ بات اگرچہ کہی جا سکتی ہے کہ یہ بھی درحقیقت خون ہیں، لیکن عرف استعمال کا تقاضا ہے کہ اِن پر اِس کا اطلاق نہ کیا جائے۔ اِسی طرح ’مَسْفُوْحًا‘ کی قید سے معلوم ہوتا ہے کہ رگوں اور شریانوں میں رکا ہوا خون بھی حرمت کے اِس حکم سے مستثنیٰ ہے۔
      یہ انعام کی قسم کے بہائم میں سے ہے، لیکن درندوں کی طرح گوشت بھی کھاتا ہے۔ اِس لیے یہ سوال پیدا ہوا کہ اِسے کھانے کا جانور سمجھا جائے یا نہ کھانے کا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کے ذریعے سے وضاحت فرمائی ہے کہ اِس کا الحاق درندوں سے ہوگا اور اِسے حرام سمجھا جائے گا۔
      اِس سے پہلے ’مَیْتَۃ‘ کی حرمت کا جو حکم بیان ہوا ہے، اُس کے بارے میں یہ شبہ بعض ذہنوں میں پیدا ہو سکتا تھا کہ طبعی موت سے مرے ہوئے اور ناگہانی حوادث سے مرے ہوئے جانور میں کیا کچھ فرق کیا جائے گا یا دونوں یکساں مردار قرار پائیں گے؟ قرآن نے جواب دیا ہے کہ دونوں کا حکم ایک ہی ہے۔
      اصل میں ’اِلَّا مَا ذَکَّیْتُمْ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ ’مَیْتَۃ‘ کی تفصیل کے بعد اِن الفاظ سے واضح ہے کہ یہ صرف تذکیہ ہی ہے جس سے کسی جانور کی موت اگر واقع ہو تو وہ مردار نہیں ہوتا۔ تذکیہ انبیا علیہم السلام کی قائم کردہ سنت ہے اور بطور اصطلاح جس مفہوم کے لیے بولا جاتا ہے، وہ یہ ہے کہ کسی تیز چیز سے جانور کو زخمی کر کے اُس کا خون اِس طرح بہا دیا جائے کہ اُس کی موت خون بہ جانے کے باعث ہی واقع ہو۔ جانور کو مارنے کی یہی صورت ہے جس میں اُس کا گوشت خون کی نجاست سے پوری طرح پاک ہو جاتا ہے۔ اِس کا اصل طریقہ ذبح یا نحر ہے۔ ذبح گائے، بکری اور اُن کے مانند جانوروں کے لیے خاص ہے اور نحر اونٹ اور اُس کے مانند جانوروں کے لیے۔ ذبح سے مراد یہ ہے کہ کسی تیز چیز سے حلقوم اور مری (غذا کی نالی) یا حلقوم اور ودجین (گردن کی رگوں) کو کاٹ دیا جائے اور نحر یہ ہے کہ جانور کے حلقوم میں نیزے جیسی کوئی تیز چیز اِس طرح چبھوئی جائے کہ اُس سے خون کا فوارہ چھوٹے اور خون بہ کر جانور بالآخر بے دم ہو کر گر جائے۔
      اوپر خدا کے سوا کسی اور کے نام کا ذبیحہ حرام ٹھیرایا گیا ہے۔ سورۂ انعام (۶) کی آیت ۱۴۵ میں قرآن نے واضح فرمایا ہے کہ اُس کی حرمت کا باعث خود جانور کا ’رِجْس‘، یعنی ظاہری نجاست نہیں، بلکہ ذبح کرنے والے کا ’فِسْق‘ ہے۔ خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کرنا چونکہ ایک مشرکانہ فعل ہے، اِس لیے اُسے ’فِسْق‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ علم و عقیدہ کی نجاست ہے۔ اِس طرح کی نجاست جس چیز کو بھی لاحق ہو جائے، عقل کا تقاضا ہے کہ اُس کا حکم یہی سمجھا جائے۔ قرآن نے یہ دونوں چیزیں اِسی اصول کے تحت ممنوع قرار دی ہیں۔ اِن کے لیے اصل میں ’مَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ‘ اور ’اَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی اِن کی تفسیر لکھتے ہیں:

      ’’’وَمَا ذُبِحَ عَلَی النُّصُبِ‘، ’نُصُب‘ تھان اور استھان کو کہتے ہیں۔ عرب میں ایسے تھان اور استھان بے شمار تھے جہاں دیویوں، دیوتاؤں، بھوتوں، جنوں کی خوشنودی کے لیے قربانیاں کی جاتی تھیں۔ قرآن نے اِس قسم کے ذبیحے بھی حرام قرار دیے۔ قرآن کے الفاظ سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ اِن کے اندر حرمت مجرد بارادۂ تقرب و خوشنودی استھانوں پر ذبح کیے جانے ہی سے پیدا ہو جاتی ہے، اِس سے بحث نہیں کہ اِن پر نام اللہ کا لیا گیا ہے یا کسی غیراللہ کا۔ اگر غیراللہ کا نام لینے کے سبب سے اِن کو حرمت لاحق ہوتی تو اِن کے علیحدہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ اوپر ’وَمَآ اُہِلَّ لِغَیْرِ اللّٰہِ بِہٖ‘ کا ذکر گزر چکا ہے، وہ کافی تھا۔ ہمارے نزدیک اِسی حکم میں وہ قربانیاں بھی داخل ہیں جو مزاروں اور قبروں پر پیش کی جاتی ہیں۔ اُن میں بھی صاحب مزار اور صاحب قبر کی خوشنودی مدنظر ہوتی ہے۔ ذبح کے وقت نام چاہے اللہ کا لیا جائے یا صاحب قبر و مزار کا، اُن کی حرمت میں دخل نام کو نہیں، بلکہ مقام کو حاصل ہے۔
      ’وَاَنْ تَسْتَقْسِمُوْا بِالْاَزْلَامِ‘، ’اِسْتِقْسَام‘ کے معنی ہیں حصہ یا قسمت یا تقدیر معلوم کرنا۔ ’اَزْلَام‘ جوے یا فال کے تیروں کو کہتے ہیں۔ عرب میں فال کے تیروں کا بھی رواج تھا جن کے ذریعے سے وہ اپنے زعم کے مطابق غیب کے فیصلے معلوم کرتے تھے اور جوے کے تیروں کا بھی رواج تھا جن کے ذریعے سے وہ گوشت یا کسی چیز کے حصے حاصل کرتے تھے۔ ہم سورۂ بقرہ کی تفسیر میں ’خمر و میسر‘ کے تحت بیان کر آئے ہیں کہ عرب شراب نوشی کی مجلسیں منعقد کرتے، شراب کے نشے میں جس کا اونٹ چاہتے ذبح کر دیتے، مالک کو منہ مانگے دام دے کر راضی کر لیتے، پھر اُس کے گوشت پر جوا کھیلتے۔ گوشت کی جو ڈھیریاں جیتتے جاتے، اُن کو بھونتے، کھاتے، کھلاتے اور شرابیں پیتے اور بسااوقات اِسی شغل بدمستی میں ایسے ایسے جھگڑے کھڑے کر لیتے کہ قبیلے کے قبیلے برسوں کے لیے آپس میں گتھم گتھا ہو جاتے اور سینکڑوں جانیں اِس کی نذر ہو جاتیں ۔۔۔ مجھے خیال ہوتا ہے کہ یہاں ’اِسْتِقْسَام بِالْاَزْلَام‘ سے یہی دوسری صورت مراد ہے۔‘‘ (تدبرقرآن۲/ ۴۵۶)

      یعنی اِس بات سے مایوس ہو گئے ہیں کہ وہ اِس دین کو کوئی نقصان پہنچا سکیں گے۔
      اِس ’آج‘ سے مراد کوئی معین دن نہیں ہے، بلکہ وہ زمانہ ہے جس میں یہ سورہ نازل ہوئی ہے۔
      یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پہلی وحی سے جو دین تمھیں دینا شروع کیا تھا، اُسے آج پورا کر دیا ہے۔
      یعنی یہودیت اور نصرانیت کو نہیں، بلکہ اسلام کو پسند فرمایا ہے۔ اِس لیے کہ وہ اللہ کا دین نہیں، بلکہ دین سے انحراف کی مختلف صورتیں ہیں۔
      مطلب یہ ہے کہ اِن محرمات سے استثنا صرف حالت اضطرار کا ہے اور وہ بھی اِس طرح کہ آدمی نہ خواہش مند ہو اور نہ ضرورت کی حد سے آگے بڑھنے والا۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...’مَخْمَصَۃ‘ کی قید سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ جہاں دوسرے غذائی بدل موجود ہوں وہاں مجرد اِس عذر پر کہ شرعی ذبیحہ کا گوشت میسر نہیں آتا، جیسا کہ یورپ اور امریکہ کے اکثر ملکوں کا حال ہے، ناجائز کو جائز بنا لینے کا حق کسی کو نہیں ہے۔ گوشت زندگی کے بقا کے لیے ناگزیر نہیں ہے۔ دوسری غذاؤں سے نہ صرف زندگی، بلکہ صحت بھی نہایت اعلیٰ معیار پر قائم رکھی جا سکتی ہے۔ ’غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ‘ کی قید اِس حقیقت کو ظاہر کر رہی ہے کہ رخصت بہرحال رخصت ہے اور حرام بہرشکل حرام ہے۔ نہ کوئی حرام چیز شیر مادر بن سکتی، نہ رخصت کوئی ابدی پروانہ ہے۔ اِس وجہ سے یہ بات کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ رفع اضطرار کی حد سے آگے بڑھے۔ اگر اِن پابندیوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے کوئی شخص کسی حرام سے اپنی زندگی بچالے گا تو اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ اگر اِس اجازت سے فائدہ اٹھا کر اپنے حظ نفس کی راہیں کھولے گا تو اِس کی ذمہ داری خود اُس پر ہے۔ یہ اجازت اُس کے لیے قیامت کے دن عذر خواہ نہیں بنے گی۔‘‘ (تدبرقرآن۲/ ۴۵۸)

       

    • امین احسن اصلاحی وہ پوچھتے ہیں ان کے لیے کیا چیز حلال ٹھہرائی گئی ہے۔ کہو تمھارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال ٹھہرائی گئی ہیں۔ اور شکاری جانوروں میں سے جن کو تم نے سدھایا ہے اس علم میں سے کچھ سکھا کر جو خدا نے تم کو سکھایا تو تم ان کے اس شکار میں سے کھاؤ جو وہ تمھارے لیے روک رکھیں اور ان پر اللہ کا نام لے لیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ بہت جلد حساب چکانے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      سدھائے ہوئے جانوروں کے پکڑے ہوئے شکار کا حکم: ’یَسْءَلُوْنَکَ مَا ذَآ اُحِلَّ لَھُمْ‘۔ سوال قرآن کے معروف اسلوب بیان کے مطابق اختصار کے ساتھ نقل ہوا ہے لیکن جواب بتا رہا ہے کہ سوال، سدھائے اور سکھلائے ہوئے جانوروں کے پکڑے ہوئے شکار سے متعلق ہے کہ اگر وہ شکار پکڑیں اور شکار ذبح کی نوبت آنے سے پہلے ہی دم توڑ دے تو اس کا کیا حکم ہے؟ یہ سوال اس وجہ سے پیدا ہوا ہو گا کہ اوپر والی آیت میں درندے کے پھاڑے ہوئے جانور کو صرف اس صورت میں جائز بتایا ہے جب اس کو زندہ حالت میں ذبح کر لیا جائے۔
      تحریم و تحلیل کے باب میں ایک کلیہ: ’قُلْ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ‘۔ یہ جواب کا صرف ایک حصہ ہے جو ایک کلیہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن کا یہ بھی ایک اسلوب ہے کہ وہ کسی سوال کا جواب دیتا ہے تو اس کا آغاز بالعموم جامع بات سے کرتا ہے کہ جواب صرف سوال ہی تک محدود نہ رہ جائے بلکہ ایک وسیع دائرے میں سائل کی رہنمائی کرے۔ چنانچہ پہلے فرمایا کہ تمھارے لیے ’طیبات‘ حلال ہیں۔ ’طیبات‘ کا لفظ خبائث کا ضد ہے۔ ’طیبات‘ اچھی، ستھری اور پاکیزہ چیزوں کو کہتے ہیں۔ سوال چونکہ جانوروں سے متعلق ہے اس وجہ سے اس سے مراد وہ جانور ہوں گے جو اول تو خود اپنے مزاج، اپنی سرشت اور انسان کے لیے اپنی افادیت اور اپنے اثرات کے لحاظ سے اچھے اور پاکیزہ ہوں۔ ثانیاً ان کو اللہ کے نام پر ذبح کر لیا گیا ہو۔ اس طرح اس سے وہ تمام جانور نکل جائیں گے جو اپنے مزاج اور سرشت کے اعتبار سے انسان کے صالح مزاج سے مناسبت رکھنے والے نہ ہوں۔ مثلاً خنزیر، کتے، بندر، درندے اور شکاری پرندے وغیرہ۔ یا مزاج سے مناسبت رکھنے والے تو ہوں لیکن کسی خارجی سبب سے ان کے اندر خبیث و فساد پیدا ہو گیا ہو۔ مثلاً جانور مر گیا یا غیر اللہ کے نام پر یا کسی استھان پر اس کو ذبح کیا گیا ہو۔ یہ خبائث میں داخل ہیں۔ قرآن کے اس جواب سے یہ رہنمائی ملی کہ شکار کیے ہوئے جانوروں میں بھی حلال صرف طیبات ہیں۔ خبائث اس حلت سے خارج ہیں۔
      ’وَمَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُکَلِّبِیْنَ تُعَلِّمُوْنَھُنَّ مِمَّا عَلَّمَکُمُ اللّٰہُ‘۔ جوارح، شکاری یا جانوروں کو کہتے ہیں، عام اس سے کہ وہ درندوں میں سے ہوں مثلاً کتے، شیر، چیتے وغیرہ یا پرندوں میں سے مثلاً باز اور شکرے وغیرہ۔
      ’کلب‘ کتے کو کہتے ہیں۔ اسی سے ’تکلیب‘ بنا لیا ہے جس کے معنی کتے کو شکار کی ٹریننگ دینے کے ہیں۔ ابتداءً تو یہ لفظ اسی معنی کے لیے استعمال ہوا لیکن پھر اس کا استعمال شکاری جانوروں کی تربیت کے لیے عام ہو گیا، خواہ کتا ہو یا شکاری درندوں اور پرندوں میں سے کوئی اور جانور۔ تُعَلِّمُوْنَھُنَّ مِمَّا عَلَّمَکُمُ اللّٰہُ سے اس تربیت اور ٹریننگ کی نوعیت کا اظہار ہو رہا ہے کہ تم نے اس سلیقہ سے ان کو کچھ بتایا اور سکھایا ہو جو اللہ نے تم کو سکھایا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر تربیت میں مربی کے ذوق، اس کے پسند و نا پسند اور اس کے مقصد تربیت کی جھلک ہوتی ہے اور اس چیز کو جس طرح زیر تربیت انسان اپناتا ہے اسی طرح اپنی جبلی استعداد کے حد تک حیوانات بھی اپناتے ہیں۔ یہ چیز سدھائے ہوئے جانوروں کو دوسرے جانوروں سے بالکل الگ کر دیتی ہے اس وجہ سے ایک عام کتے کے شکار اور ایک سدھائے ہوئے کتے کے شکار میں فرق ایک امر فطری ہے۔ بلکہ ایک مسلمان کے تربیت کردہ کتے اور ایک عیسائی کے تربیت کردہ کتے کے میلان اور سلیقہ میں بھی فرق ہو جائے گا۔ میرے نزدیک ’تُعَلِّمُوْنَھُنَّ مِمَّا عَلَّمَکُمُ اللّٰہُ‘ کے الفاظ سے اسی خاص سلیقہ کی طرف اشارہ ہو رہا ہے جو کسی سدھائے ہوئے جانور کو اس کے مسلمان مربی سے ملتا ہے۔ اپنے اس سلیقہ کی وجہ سے یہ جانور اپنے مربی کا آلہ اور جارحہ بن جاتا ہے اور اس کا کیا ہوا شکار اس کے لیے اسی طرح طیب بن جاتا ہے جس طرح اس کے اپنے ہاتھ کا ذبیحہ۔
      تربیت یافتہ جانور کی علامت: ’فَکُلُوْا مِمَّآ اَمْسَکْنَ عَلَیْکُمْ‘، اِمْسَاک کے معنی روکنے اور تھامنے کے ہیں۔ جب اس کے ساتھ علیٰ آئے جیسا کہ ’اَمْسِکُ عَلَیْکَ زوجک‘ میں ہے تو اس کے اندر اختصاص کا مضمون بھی پیدا ہو جاتا ہے یعنی کسی شے کو کسی خاص کے لیے روک یا سینت رکھنا۔ اب یہ سوال کا اصل جواب ہے۔ فرمایا کہ اگر مذکورہ شرائط کے مطابق تربیت کیا ہوا جانور ہو تو اس کے کیے ہوئے شکاروں میں سے وہ شکار تمھارے لیے جائز ہو گا جو وہ خاص تمھارے لیے روک رکھے۔ چونکہ یہاں اختصاص کا مضمون پایا جاتا ہے اس وجہ سے میں ان لوگوں کے مذہب کو زیادہ قوی سمجھتا ہوں جو کہتے ہیں کہ شکاری جانور شکار میں سے کچھ کھا لے تو وہ شکار جائز نہ ہو گا۔ یہی بات بعض احادیث سے بھی ثابت ہوتی ہے۔ میرے نزدیک اس معاملے میں درندے اور پرندے کے شکار کے درمیان فرق کرنے کی بھی کوئی قوی بنیاد نہیں ہے۔ اس حد تک تربیت جس طرح درندے قبول کر لیتے ہیں، تجربہ کار بتاتے ہیں کہ باز، عقاب، شاہین بھی قبول کر لیتے ہیں۔
      ’وَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہِ‘ کا مفہوم: ’وَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہِ‘ میں ضمیر مجرور کے مرجع سے متعلق سلف سے تین قول منقول ہیں۔ ایک یہ کہ شکاری جانور کو چھوڑتے وقت اس پر بسم اللہ پڑھ لیا کرو، اس قول کے قائلین کے نزدیک مرجع وَمَا عَلَّمْتُمْ ہے۔ دوسرا یہ کہ اگر شکار زندہ ہاتھ آ گیا ہو تو اس کو بسم اللہ پڑھ کر ذبح کر لو۔ اس گروہ کے نزدیک مرجع ’مَآ اَمْسَکْن‘ ہے۔ تیسرایہ کہ اس شکار کو کھاتے وقت اس پر بسم اللہ پڑھ لیا کرو۔ ان لوگوں کے نزدیک اس کا تعلق ’فَکُلُوْا‘ سے ہے۔ ان میں سے پہلے قول کی تائید میں ایک حدیث ہے جو بخاری میں عدی بن حاتم سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں اپنے سدھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑوں اور کوئی دوسرا کتا بھی اس میں شریک بن جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ایسا شکار نہ کھاؤ کیونکہ تم نے اللہ کا نام اپنے کتے پر لیا ہے، دوسرے کتے پر نہیں لیا ہے۔
      دوسرے قول میں یہ ضعف ہے کہ جب اوپر یہ بات بیان ہو چکی ہے کہ درندے کا کھایا ہوا شکار اگر زندہ ہاتھ آ جائے تو اس کو ذبح کر کے کھا سکتے ہو تو تربیت یافتہ جانور کے شکار سے متعلق بعینہٖ اسی حکم کا اعادہ ایک بالکل غیر ضروری بات کا اعادہ ہے۔
      تیسرے قول میں اس طرح کا کوئی ضعف یا اشکال اگرچہ نہیں ہے لیکن یہ بات عام آداب طعام سے تعلق رکھنے والی بات ہے، یہاں اس کا محل سمجھ میں نہیں آتا۔
      شکار بادیہ نشین قوموں کی ایک معاشی ضرورت ہے: اس سوال اور اس کے جواب کی یہ اہمیت ملحوظ رہے کہ شکار عرب میں محض ایک شوقیہ تفریح نہیں تھا بلکہ ان کے ہاں اس کو معاش کے ایک اہم ذریعے کی حیثیت حاصل تھی۔ ان کی معاش کا انحصار تین چیزوں پر تھا۔ گلہ بانی، تجارت، شکار۔ اس معاشی اہمیت کے سبب سے ان کے ہاں شکاری جانوروں کی تربیت کا فن بھی کافی ترقی کر گیا تھا۔ امراء القیس جب اپنے شعروں میں اپنی کتیا کا ذکر کرتا ہے تو آدمی حیران رہ جاتا ہے کہ یہ کسی کتیا کا ذکر ہے یا کسی شعلہ صفت پُر فن قتالہ کا۔ اور یہ چیز کچھ عربوں ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ دنیا کی تمام بادیہ نشین قوموں کی یہ مشترک خصوصیت ہے۔ اس وجہ سے حلت و حرمت کی اس بحث میں یہ سوال پیدا ہوا اور قرآن نے اس کا جواب دیا اور اس جواب سے یہ حقیقت نہایت واضح طور پر سامنے آ جاتی ہے کہ حلت و حرمت اور پاکی و ناپاکی کے حدود کو ملحوظ رکھتے ہوئے شکار، فن شکار اور شکاری جانور ہر چیز کی اسلام نے عزت بڑھائی ہے۔ ایک تربیت پائے ہوئے درندے کی یہ عزت بڑھائی کہ اس کا پکڑا ہوا شکار اگر ذبح سے پہلے ہی دم توڑ دے جب بھی طیب ہے، اس فن تربیت کی عزت یہ بڑھائی کہ اس کو تعلیم الٰہی کا ایک جزو قرار دیا، اور یہ رہنمائی دی کہ کتوں اور درندوں کی تربیت کے معاملے میں بھی ایک مسلمان کو اپنے مخصوص اسلامی نقطۂ نظر کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ گویا اسلام میں فن شکار بھی دوسروں کے فن شکار سے مختلف مزاج رکھتا ہے۔
      آخر میں ’وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ‘ فرما کر اللہ کے مقرر کردہ حدود اور اس کے عہد و پیمان کے احترام کی یاد دہانی یہاں بھی فرما دی کہ شکار کی حرص و ہوس میں خدا کے حدود حلت و حرمت کو نہ بھول جانا ورنہ روز حساب بہت دور نہیں ہے۔ یہ یاد دہانی اس پہلو سے بھی بہت ضروری تھی کہ جب شکار معاشی ضرورت ہو تو اس میں بے احتیاطی کے بڑے امکانات ہیں۔

      جاوید احمد غامدی وہ تم سے پوچھتے ہیں کہ اُن کے لیے کیا چیز حلال ٹھیرائی گئی ہے؟ کہہ دو: تمام پاکیزہ چیزیں تمھارے لیے حلال ہیں اور شکاری جانوروں میں سے جن کو اُس علم میں سے کچھ سکھا کر تم نے سدھا لیا ہے جو اللہ نے تمھیں سکھایا ہے، (اُن کا کیا ہوا شکار بھی حلال ہے)۔ اِس لیے جو وہ تمھارے لیے روک رکھیں، اُس میں سے کھاؤ اور (جانور کو شکار پر چھوڑنے سے پہلے) اُس پر اللہ کا نام لے لیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بے شک، اللہ بہت جلد حساب چکانے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ سوال اِس وجہ سے پیدا ہوا ہے کہ اوپر کی آیتوں میں بعض ایسی چیزوں کی حرمت بیان ہوئی ہے جن کے حلال ہونے کا گمان ہو سکتا تھا۔ اِس کی ایک مثال درندے کے پھاڑے ہوئے جانور ہیں۔ اُن کے بارے میں جب یہ وضاحت کی گئی کہ وہ صرف اُسی صورت میں حلال ہیں جب اُن کو زندہ حالت میں ذبح کر لیا جائے تو سدھائے ہوئے جانوروں کے شکار سے متعلق بھی بعض سوالات پیدا ہو گئے۔ اِس صورت حال میں لوگوں نے پوچھا ہے کہ پھر کیا مناسب نہیں کہ اُنھیں یہ بتا دیا جائے کہ اُن کے لیے حلال کیا کیا چیزیں ہیں؟
      اصل میں لفظ ’اَلْطَیِّبٰتُ‘ آیا ہے۔ یہ ’خبائث‘ کا ضد ہے۔ مدعا یہ ہے کہ وہ تمام چیزیں حلال ہیں جو اپنے مزاج اور اپنی سرشت کے لحاظ سے انسانیت کے ساتھ مناسبت رکھتی ہیں اور انسان کا ذوق سلیم جن کو کھانے کے لیے موزوں سمجھتا ہے، الاّ یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے اُس کی کسی غلطی کی اصلاح کر دے۔
      اصل میں لفظ ’الجَوَارِح‘ استعمال ہوا ہے۔ اِس سے مراد شکاری جانور ہیں، عام اِس سے کہ وہ درندوں میں سے ہوں یا پرندوں میں سے۔
      یعنی اپنی جبلتوں کو قواعد و ضوابط کا پابند بنا لینے کا جو سلیقہ اللہ نے تمھیں سکھایا ہے، وہی سلیقہ جن جانوروں کو سدھا کر تم نے اُن کے اندر بھی پیدا کر دیا ہے۔
      یہ اُس سوال کا جواب ہے جو اوپر کی آیتوں میں ’اِلَّا مَا ذَکَّیْتُمْ‘ کی شرط سے پیدا ہوتا ہے۔ فرمایا ہے کہ سدھائے ہوئے جانور کا پھاڑنا ہی تذکیہ ہے۔ لہٰذا اُس کے شکار کو ذبح کیے بغیر کھایا جا سکتا ہے، تاہم اِس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اُسے اپنے مالک کے لیے روک رکھے۔ اُس میں سے اُس نے اگر کچھ کھا لیا ہے تو اُس کا کیا ہوا شکار جائز نہ ہو گا۔ اِس کے لیے اصل میں ’مِمَّآ اَمْسَکْنَ عَلَیْکُمْ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ ’اَمْسَکَ‘ کے معنی روکنے اور تھامنے کے ہیں۔ اِس کے ساتھ ’عَلٰی‘ آئے تو اِس کے اندر اختصاص کا مضمون پیدا ہو جاتا ہے۔ چنانچہ یہاں بھی یہی مضمون ہے کہ شکار میں سے جو وہ خاص تمھارے لیے روک رکھیں۔
      اصل الفاظ ہیں: ’وَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہِ‘۔ اِن میں ضمیر کا مرجع ہمارے نزدیک ’مَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ‘ ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِس کا مرجع اگر ’مِمَّآ اَمْسَکْنَ‘ کو مانا جائے تو یہ محض اُس بات کا اعادہ ہوگا جو اوپر ’اِلَّا مَا ذَکَّیْتُمْ‘ کے الفاظ میں بیان ہو چکی ہے اور اِسے اگر ’فَکُلُوْا‘ سے متعلق مانا جائے تو عام آداب طعام سے متعلق ایک بات کا محل یہاں واضح نہیں ہوتا۔

    • امین احسن اصلاحی اب تمھارے لیے پاکیزہ چیزیں حلال کر دی گئیں اور اہل کتاب کا کھانا تمھارے لیے حلال ہے اور تمھارا کھانا ان کے لیے حلال ہے اور شریف عورتیں مسلمان عورتوں میں سے اور شریف عورتیں ان اہل کتاب میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب ملی تمھارے لیے حلال ہیں بشرطیکہ ان کو قید نکاح میں لا کر ان کے مہر ان کو دو، نہ کہ بدکاری کرتے ہوئے اور آشنائی گانٹھتے ہوئے۔ اور جو ایمان کے ساتھ کفر کرے گا تو اس کا عمل ڈھے جائے گا اور وہ آخرت میں نامرادوں میں ہو گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اس آیت میں کوئی مشکل لفظ یا مشکل ترکیب نہیں ہے۔ اس کے لیے تمام اجزاء پچھلی سورتوں میں زیر بحث آ چکے ہیں۔ البتہ اس کا موقع محل اچھی طرح سمجھ لینے کا ہے۔
      بریں خوان یغما چہ دشمن چہ دوست: یہ آیت اس انعام عام کا اعلان ہے جو خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ذریعے سے تمام دنیا پر عموماً اور اہل کتاب پر خصوصا ہونے والا تھا۔ پچھلے صحیفوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے متعلق جو پیشین گوئیاں وارد ہیں اور جن میں سے بعض کا حوالہ بقرہ اور آل عمران کی تفسیر میں ہم دے چکے ہیں، ان میں یہ تصریح موجود ہے کہ جب آخری نبی آئیں گے تو اہل کتاب کو طیبات و خبائث سے متعلق خدا کے امر و نہی سے آگاہ کریں گے اور حلا ل و حرام کے باب میں ان تمام پابندیوں اور بیڑیوں سے ان کو آزاد کریں گے جو انھوں نے اپنے اوپر یا تو از خود عائد کر رکھی ہیں یا ان کی سرکشی کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر عائد کر دی ہیں۔ قرآن مجید نے ان تمام پیشین گوئیوں کا حوالہ سورۂ اعراف میں ان الفاظ میں دیا ہے:

      اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسَوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَہٗ مَکْتُوْبًا عِنْدَھُمْ فِی التَّوْرٰۃِ وَالْاِنْجِیْلِ ز یَاْمُرُھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھٰھُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَیُحِلُّ لَھُمُ الطَّیِّبٰتِ وَیُحَرِّمُ عَلَیْھِمُ الْخَبآءِثَ وَیَضَعُ عَنْھُمْ اِصْرَھُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِیْ کَانَتْ عَلَیْھِمْ ط فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِہٖ وَعَزَّرُوْہُ وَنَصَرُوْہُ وَاتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ مَعَہٗٓ لا اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (الاعراف ۱۵۷:۷)
      ’’جو لوگ اس رسول، نبی امی کی پیروی کریں گے جس کو اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں، جو انھیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے اور ان کے لیے پاکیزہ چیزوں کو جائز کرتا ہے اور ناپاک چیزوں کو حرام ٹھہراتا ہے اور ان سے ان کے اس بوجھ اور پابندیوں کو دور کرتا ہے جو ان پر تھیں تو جو لوگ اس پر ایمان لائیں گے، اس کی تائید و نصرت کریں گے اور اس روشنی کی پیروی کریں گے جو اس کے ساتھ اتاری گئی، وہی لوگ فلاح پانے والے بنیں گے۔‘‘

      یہ انہی باتوں کا حوالہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے ظہور میں آنے والی تھیں۔ چنانچہ آپ کے وجود باجود نے ان میں سے ایک ایک بات کی عملاً تصدیق فرما دی۔ آپ نے تمام طیب اور پاکیزہ چیزیں جائز کر دیں جن میں بعض یہود کے ہاں حرام تھیں، تمام خبیث چیزیں حرام ٹھہرائیں جن میں سے بعض یہود و نصاریٰ نے جائز بنا لی تھیں اور وہ تمام پابندیاں اور بیڑیاں ختم کر دیں جو انھوں نے یا تو از خود اپنے اوپر لادی تھیں یا ان کی ضد، سرکشی، کرپزی اور کٹ حجتی کے باعث اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر عائد کی گئی تھیں۔ ۱؂  اس مرحلے میں آ کر چونکہ یہ کام مکمل ہو چکا تھا اور یہ بات بالکل واضح ہو چکی تھی کہ اہل کتاب نے جو خبیث چیزیں جائز بنائی ہیں محض اپنی بدعت سے جائز بنائی ہیں اور جو طیب چیزیں ان پر حرام ہیں وہ محض ان کی سرکشی کی سزا کے طور پر حرام ہیں، نبی امی کی بعثت کے بعد یہ پابندیاں ختم ہو گئیں تو مسلمانوں کو اجازت دے دی گئی کہ حرام و حلال اور خبیث و طیب کی اس وضاحت کے بعد اب تم اہل کتاب کا کھانا کھا سکتے ہو اس لیے کہ اب تمھارے لیے کسی خبیث سے آلودہ ہو جانے کا اندیشہ نہیں رہا اور ساتھ ہی اس بات کا بھی اعلان کر دیا گیا کہ تمھارا کھانا اہل کتاب کے لیے جائز ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق نبی امی کی بعثت کے بعد اب وہ تمام پابندیاں ختم ہو گئیں جو ان پر عائد تھیں۔
      ایک سوال اور اس کا جواب: ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ یہود منتظر کب تھے کہ قرآن ان کے لیے مسلمانوں کے کھانے کے جائز ہونے کا اعلان کرے، پھر اس کا فائدہ کیا، یہ تو مفت کرم داشتن کے قسم کی بات ہوئی، اس کا جواب یہ ہے کہ یہود منتظر تو تھے اور منتظر ہوتے کیوں نہ جب کہ ان کے اپنے صحیفوں میں آخری نبی کی پیشین گوئی اس تصریح کے ساتھ موجود تھی کہ وہ بنی اسرائیل کو تمام اصر و اغلال سے نجات دیں گے، لیکن اس نبی کی بعثت چونکہ ان کے حریفوں یعنی بنی اسمٰعیل کے اندر ہوئی اس وجہ سے جان بوجھ کر، جیسا کہ بقرہ اور آل عمران میں وضاحت ہو چکی ہے، وہ اس کی مخالفت کے درپے ہو گئے اور حسد میں انھوں نے اپنے آپ کو ان تمام رحمتوں اور برکتوں سے محروم کر لیا جن کے سب سے پہلے حق دار وہی تھے۔ اگر وہ نبی امی پرایمان لاتے۔
      پھر فرض کیجیے، بنی اسرائیل اس کے منتظرنہیں تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے جو وعدہ ان سے فرمایا تھا اس کو تو پورا ہونا تھا۔ ان سے جب یہ وعدہ تھا کہ آخری نبی کے ذریعے سے کھانے پینے کے معاملے میں وہ تمام پابندیاں ان سے اٹھا لی جائیں گی جو ان کی سرکشی کے سبب سے عائد ہوئی ہیں تو جب اس وعدے کے پورا کرنے کا وقت آیا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کا کھانا ان کے لیے جائز کر کے یہ وعدہ پورا کر دیا۔ رہی یہ بات کہ انھوں نے اس کی قدر نہیں کی تو یہ ان کی اپنی محرومی و بد قسمتی ہے۔ ان کی نالائقی کی وجہ سے آخر خدا اپنے وعدے کو کیوں فراموش کرتا؟ سورج چمکتا ہے خواہ کوئی اپنی آنکھیں بند رکھے یا کھلی رکھے۔ نسیم صبح اپنی عطر بیزیوں سے ہر مشامِ جان کو معطر کرنا چاہتی ہے اور اس کے فیض عام کا تقاضا یہی ہے کہ وہ ہر ایک کو فیض یاب کرے لیکن جو محروم القسمت اپنی ناک اور اپنے منہ بند کر لیتے ہیں وہ اس سے محروم ہی رہتے ہیں۔ اسی طرح رب کریم نے جو سفرۂ نعمت اس امت کے ذریعے سے تمام دنیا کے آگے بچھانا چاہا تھا وہ بچھا دیا اور اس سے متمتع ہونے کی دعوت اہل کتاب کو بھی دے دی۔ انھوں نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا تو یہ ان کی اپنی بد قسمتی ہے۔
      اہل کتاب کا کھانا اسلامی حدودِ حلت و حرمت کی پابندی کے ساتھ جائز ہے: اس تفصیل سے یہ بات واضح ہو گئی کہ مسلمانوں کو اہل کتاب کے کھانے پینے کی چیزوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت جو دی گئی ہے وہ اس وقت دی گئی ہے جب ان کو اس باب کی آخری ہدایات سے آگاہ کیا جا چکا ہے، جب حلال و حرام دونوں اچھی طرح واضح کر دیے گئے ہیں۔ جب اہل کتاب اور مشرکین دونوں کی بدعات کی تفصیل ان کو سنا دی گی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سارے اہتمام کا مقصد مسلمانوں کو یہ بتانا تھا کہ تم دنیا کی دوسری قوموں کے ساتھ معاشرتی تعلقات رکھو لیکن حلت و حرمت کے ان حدود کی پابندی کے ساتھ جو تمھارے لیے قائم کر دیے گئے ہیں۔ اس آیت میں ’الیوم‘ کا لفظ خاص اہمیت کا حامل ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اب تمھیں خبیث اور طیب کا پورا امتیاز حاصل ہو چکا ہے۔ اس وجہ سے تمھیں یہ اجازت دی جا رہی ہے۔ یہ خطرہ نہیں رہا کہ تم ان کے دسترخوان پر بیٹھ کر کسی حرام یا مشتبہ میں مبتلا ہوجاؤ گے۔ ۲؂
      کتابیات سے جوازِ نکاح کی شرط: اس کے بعد فرمایا کہ جس طرح تمھارے لیے شریف اور پاک دامن مسلمان عورتوں سے نکاح جائز ہے اسی طرح شریف اور پاک دامن کتابیات سے بھی نکاح جائز ہے۔ یہاں لفظ ’’مَحْصَنَات‘‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ لفظ قرآن میں تین معنوں میں آیا ہے اور ہم اس کے تینوں معنوں کی وضاحت دوسرے مقام میں کر چکے ہیں۔ یہاں قرینہ دلیل ہے کہ اس سے مراد با عزت، شریف اور اچھے اخلاق کی عورتیں ہیں۔ یعنی یہ اجازت مشروط ہے اس شرط کے ساتھ کہ یہ عورتیں بد چلن، پیشہ ور، آوارہ اور بد قوارہ نہ ہوں۔ جس طرح تمھارے لیے ان کے دسترخوان کی صرف طیبات جائز ہیں اسی طرح ان کی عورتوں میں سے صرف محصنات جائز ہیں۔
      ہمارے سلف صالحین میں سے ایک گروہ نے دارالحرب اور دارالکفر میں کتابیات سے نکاح کو مکروہ قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک اس کے جواز کے لیے دارالاسلام ہونا بھی ایک شرط ہے۔ مجھے یہ قول بہت ہی قوی معلوم ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات انھوں نے فحوائے کلام سے مستنبط کی ہے۔ میں اس کے ماخذ کے لیے لفظ ’الیوم‘ کی طرف پھر توجہ دلاتا ہوں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس اجازت میں وقت کے حالات کو بھی دخل ہے۔ اوپر ’اَلْیَوْمَ یَءِسَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘ اور ’اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ‘ والی آیات بھی گزر چکی ہیں اور ’فَلَا تَخْشَوْھُمْ وَاخْشَوْنِ‘ بھی ارشاد ہو چکا ہے، جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اس دور میں کفار کا دبدبہ ختم ہو چکا تھا اور مسلمان ایک ناقابل شکست طاقت بن چکے تھے۔ یہ اندیشہ نہیں تھا کہ ان کو کتابیات سے نکاح کی اجازت دی گئی تو وہ کسی احساس کمتری میں مبتلا ہو کر تہذیب اور معاشرت اور اعمال و اخلاق میں ان سے متاثر ہوں گے۔ بلکہ توقع تھی کہ مسلمان ان سے نکاح کریں گے تو ان کو متاثر کریں گے اور اس راہ سے ان کتابیات کے عقائد و اعمال میں خوشگوار تبدیلی ہو گی اور عجب نہیں کہ ان میں بہت سی ایمان و اسلام سے مشرف ہو جائیں۔
      علاوہ ازیں یہ پہلو بھی قابل لحاظ ہے کہ کتابیات سے نکاح کی اجازت بہرحال علی سبیل التنزل دی گئی ہے۔ اس میں آدمی کے خود اپنے اور اس کے آل و اولاد اور خاندان کے دین و ایمان کے لیے جو خطرہ ہے، وہ مخفی نہیں ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ مسلمان مردوں کو تو کتابیات سے نکاح کی اجازت دی گئی لیکن مسلمان عورت کو کسی صورت میں بھی کسی غیر مسلم سے نکاح کی اجازت نہیں دی گئی خواہ کتابی ہو یا غیر کتابی۔ یہ چیز اس بات کی دلیل ہے کہ یہ اجازت صرف ایک اجازت ہے۔ یہ کوئی مستحسن چیز نہیں ہے۔ اگر ماحول اسلامی تہذیب و معاشرت کا ہو اور آدمی کسی نیک چال چلن کی کتابیہ سے نکاح کر لے تو اس میں مضائقہ نہیں لیکن کافرانہ ماحول میں جہاں کفر اور اہل کفر کا غلبہ ہو اس قسم کا نکاح چاہے اس آیت کے الفاظ کے خلاف نہ ہو لیکن اس کے فحویٰ، اس کی روح اور اس کے موقع و محل کے خلاف ضرور ہے۔
      یہ بات یہاں چنداں یاد دلانے کی ضرورت نہیں ہے کہ اسلام کے بہت سے قوانین دارالاسلام کی شرط کے ساتھ مشروط ہیں۔ اسی طرح بعض رخصتیں اور اجازتیں بھی خاص ماحول اور خاص حالات کے ساتھ مشروط ہیں۔ آگے اس سلسلے کی بعض اہم باتیں بیان ہوں گی۔
      ’مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ‘ پر ہم تفصیل کے ساتھ سورۂ نساء کی آیات ۲۴-۲۵ کے تحت بحث کر چکے ہیں۔
      ’کفر بالایمان‘ کا مطلب: ’وَمَنْ یَّکْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہٗ‘ کفر بالایمان کا مطلب یہ ہے کہ آدمی خدا اور رسول کو ماننے کا دعویٰ بھی کرے اور ساتھ ہی خدا اور رسول کے احکام کے صریح خلاف محض اپنی خواہشات کی ابتاع میں قانون و شریعت ایجاد کر کے اس پر عمل پیرا بھی ہو۔ یہ وہی ایمان ہے جس کو قرآن نے ’نُوْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَکْفُرُ بِبَعْضٍ‘ سے تعبیر کیا ہے۔ کفر و ایمان دونوں کے اس ملغوبہ کی خدا کے ہاں کوئی پوچھ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایمان صرف وہ معتبر ہے جو اللہ تعالیٰ کے شرائط پر ہے۔ جو لوگ اپنے شرائط پر ایمان لاتے ہیں ان کا ایمان ان مدعیان ایمان کے منہ پر پھینک مارا جائے گا اور اس قسم کے ایمان کے تحت کیے ہوئے سارے اعمال خدا کے ہاں ڈھے جائیں گے۔ اس پر پیچھے بھی بحث گزر چکی ہے۔

      ________
      ۱؂ اس کی تفصیل سورۂ انعام آیت ۱۴۶ کے تحت آ ئے گی۔
      ۲؂ اہل کتاب کے ذبیحہ کے جواز کے لیے بھی کسوٹی یہی ہے جو یہاں بیان ہوئی ہے بلکہ اصلاً تو یہ بحث، جیسا کہ سیاق کلام سے واضح ہے، ذبیحہ ہی سے متعلق ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی تمام پاکیزہ چیزیں اب تمھارے لیے حلال ٹھیرا دی گئی ہیں۔ (چنانچہ) اہل کتاب کا کھانا تمھارے لیے حلال ہے اور تمھارا کھانا اُن کے لیے حلال ہے۔ (اِسی طرح شرک و توحید کے حدود بھی واضح ہو گئے ہیں، لہٰذا) مسلمانوں کی پاک دامن عورتیں تمھارے لیے حلال ہیں اور اُن لوگوں کی پاک دامن عورتیں بھی حلال ہیں جنھیں تم سے پہلے کتاب دی گئی، جب تم اُن کے مہر اُنھیں ادا کر دیتے ہو، اِس شرط کے ساتھ کہ تم بھی پاک دامن رہنے والے ہو نہ بدکاری کرنے والے اور نہ چوری چھپے آشنائی کرنے والے۔ (اپنے ایمان کو، البتہ ہر حال میں خالص رکھو) اور (جانتے رہو کہ) جو ایمان کے منکرہوں گے، اُن کی سب محنت ضائع ہو ئی اور قیامت کے دن وہ نامرادوں میں سے ہوں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی خبائث میں سے جن چیزوں کے بارے میں کوئی شبہ ہو سکتا تھا، اُسے پوری طرح دور کردینے کے بعد اب تمام پاکیزہ چیزیں تمھارے لیے حلال کر دی گئی ہیں اور وہ تمام پابندیاں ختم ہو گئی ہیں جو یہود نے یا تو ازخود اپنے اوپر عائد کر لی تھیں یا اُن کی ضد، ہٹ دھرمی اور سرکشی کے باعث اللہ تعالیٰ نے اُن پر لگا دی تھیں۔
      مطلب یہ ہے کہ حلال و حرام اور خبیث و طیب کے ہر لحاظ سے واضح ہو جانے کے بعد اب کوئی اندیشہ نہیں رہا کہ تم کسی حرام اور خبیث چیز سے آلودہ ہو سکتے ہو، اِس لیے طیبات تمھارے دستر خوان پر ہوں یا اہل کتاب کے، دونوں کے لیے جائز ہیں۔ یہاں تک کہ اللہ کا نام لے کر ذبح کیا جائے تو ایک دوسرے کاذبیحہ بھی تمھارے لیے جائز ہے۔ اہل کتاب اِسے نہ مانیں تو یہ اُن کی بدقسمتی ہے۔ تمھارے پروردگار نے تو جو وعدہ اُن سے کیا تھا، وہ تمھارا کھانا اُن کے لیے جائز کر کے پورا کر دیا ہے اور خورونوش کے معاملے میں وہ تمام پابندیاں اٹھا لی ہیں جو اُن کی سرکشی کے باعث اُن پر عائد کی گئی تھیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... اُنھوں نے اِس کی قدر نہیں کی تو یہ اُن کی اپنی محرومی و بدقسمتی ہے۔ اُن کی نالائقی کی وجہ سے آخر خدا اپنے وعدے کو کیوں فراموش کرتا؟ سورج چمکتا ہے، خواہ کوئی اپنی آنکھیں بند رکھے یا کھلی رکھے۔ نسیم صبح اپنی عطربیزیوں سے ہر مشام جان کو معطر کرنا چاہتی ہے اور اُس کے فیض عام کا تقاضا یہی ہے کہ وہ ہر ایک کو فیض یاب کرے، لیکن جو محروم القسمت اپنی ناک اور اپنے منہ بند کر لیتے ہیں، وہ اُس سے محروم ہی رہتے ہیں۔ اِسی طرح رب کریم نے جو سفرۂ نعمت اِس امت کے ذریعے سے تمام دنیا کے آگے بچھانا چاہا تھا، وہ بچھا دیا اور اُس سے متمتع ہونے کی دعوت اہل کتاب کو بھی دے دی۔ اُنھوں نے اِس سے فائدہ نہیں اٹھایا تو یہ اُن کی اپنی بدقسمتی ہے۔‘‘ (تدبرقرآن ۲ /۴۶۴)

      سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۲۲۱ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مسلمان نہ مشرک عورتوں سے نکاح کر سکتے ہیں اور نہ اپنی عورتیں مشرکین کے نکاح میں دے سکتے ہیں۔ یہ حکم جس طرح مشرکین عرب سے متعلق تھا، اِسی طرح اشتراک علت کی بنا پر یہود و نصاریٰ سے بھی متعلق ہو سکتا تھا، کیونکہ علم و عمل، دونوں میں وہ بھی شرک جیسی نجاست سے پوری طرح آلودہ تھے، تاہم اصلاً چونکہ توحید ہی کے ماننے والے تھے، اِس لیے اللہ تعالیٰ نے رعایت فرمائی اور اُن کی پاک دامن عورتوں سے مسلمانوں کو نکاح کی اجازت دے دی ہے۔ آیت کے سیاق سے واضح ہے کہ یہ اجازت اُس وقت دی گئی، جب حلال و حرام اور شرک و توحید کے معاملے میں کوئی ابہام باقی نہیں رہا۔ اِس کے لیے آیت کے شروع میں لفظ ’اَلْیَوْمَ‘ کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس اجازت میں شرک و توحید کے وضوح اور شرک پر توحید کے غلبے کو بھی یقیناً دخل تھا۔ لہٰذا اِس بات کی پوری توقع تھی کہ مسلمان اِن عورتوں سے نکاح کریں گے تو یہ اُن سے لازماً متاثر ہوں گی اور شرک و توحید کے مابین کوئی تصادم نہ صرف یہ کہ پیدا نہیں ہوگا، بلکہ ہو سکتا ہے کہ اُن میں بہت سی ایمان و اسلام سے مشرف ہو جائیں۔ یہ چیز اِس اجازت سے فائدہ اٹھاتے وقت اِس زمانے میں بھی ملحوظ رہنی چاہیے۔
      یعنی ایمان کا دعویٰ رکھتے ہوئے اپنے علم و عمل میں کفروشرک اختیار کرتے یا اُن کے ساتھ مصالحت روا رکھتے ہیں۔

       

    • امین احسن اصلاحی اے ایمان والو، جب تم تماز کے لیے اٹھو تو اپنے منہ اور اپنے ہاتھ کہنیوں تک دھو لو اور اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں ٹخنوں تک دھوؤ اور اگر حالت جنابت میں ہو تو غسل کر لو، اور اگر تم مریض ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی جائے ضرور سے آیا ہو یا عورتوں سے ملاقات کی ہو، پھر پانی نہ پاؤ تو پاک جگہ دیکھ کر اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں پر اس سے مسح کر لو، اللہ یہ نہیں چاہتا کہ تم پر کوئی تنگی ڈالے بلکہ وہ چاہتا ہے کہ تمھیں پاک کرے اور تم پر اپنی نعمت تمام کرے تاکہ تم اس کے شکر گزار ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      وضو سے طہارت حاصل کرنے کا طریقہ: ’اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْھَکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ، ’قَامَ‘ کے بعد جب ’الٰی‘ آتا ہے تو اس کے معنی قصد کرنے کے ہوتے ہیں۔ یعنی جب تم نماز کا قصد کرو تو اس کے لیے طہارت حاصل کر لو۔ پھر اس طہارت کا طریقہ بتایا ہے جس پر ہم خود بھی پیچھے بحث کر چکے ہیں اور اس کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے بھی ثابت ہے اور عقل و فطرت بھی گواہی دیتی ہے کہ ایک مرتبہ کی حاصل کردہ طہارت اس وقت تک باقی رہتی ہے جب تک کوئی ناقض حالت پیش نہ آ جائے۔ اس وجہ سے یہ ہدایت اس حالت کے لیے ہے جب آدمی کا وضو باقی نہ ہو، اگر باقی ہو توتازہ وضو کی ضرورت نہیں ہے۔ اگرکوئی شخص نشاطِ خاطر حاصل کرنے کے لیے تازہ وضو کر لے تو یہ فضیلت تو ضرور ہے لیکن شریعت کا مطالبہ نہیں ہے۔
      رہے یہ سوالات کہ دھونے کا طریقہ کیا ہے۔ مذکورہ اعضا ایک ایک بار دھوئے جائیں یا دو دو تین تین بار، مل مل کے دھوئے جائیں یا صرف پانی بہا لیا جائے۔ کنپٹی، داڑھی اور کہنیوں کے معاملے میں کیا طریقہ اختیار کیا جائے تو ان کا تعلق احکام سے نہیں بلکہ آداب سے ہے اور آداب سیکھنے کا بہترین ذریعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ آپ کی سنت سے جو باتیں ثابت ہوں خواہ اس کی شکلیں مختلف ہوں، سب میں خیر و برکت ہے۔
      ’وَامْسَحُوْا بِرُءُ وْسِکُمْ‘ مسح، کے معنی ہاتھ پھیرنے کے ہیں اور حرف ’ب‘ اس طرح کے مواقع میں احاطہ کے مفہوم پر دلیل ہوتا ہے۔ اس وجہ سے مجھے ان لوگوں کا مسلک قوی معلوم ہوتا ہے جو پورے سر کے مسح کے قائل ہیں۔ اگرچہ عمامہ وغیرہ کی صورت میں رفع زحمت کے پہلو سے سر کے جزوی حصے کا مسح بھی کافی ہے۔
      ’وَاَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیْن‘ اس کا عطف ’اَیْدِیْکُمْ‘ پر ہے۔ اس وجہ سے یہ ان اعضا کے تحت داخل ہے جن کے لیے دھونے کا حکم ہے۔ وضو میں اعضا کی ترتیب واضح کرنے کے لیے اس کو موخر کر دیا گیا ہے۔ جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ ترتیب فطری بھی ہے اور شرعی بھی۔ بعض لوگوں نے اس کو مسح کے تحت داخل کیا ہے لیکن یہ قول متواتر قراء ت اور متواتر سنت کے بھی خلاف ہے اور عربیت کے بھی۔ اگر پاؤں کا مسح ہوتا تو اس کے ساتھ ’اِلَی الْکَعْبَیْن‘ کی قید بالکل غیر ضروری تھی۔ چنانچہ دیکھ لیجیے، وضو میں ہاتھ دھونے کے لیے ’اِلَی الْمَرَافِقِ‘ کی قید لگائی ہے لیکن تیمم میں جہاں مسح کا حکم دیا گیا ہے ’اِلَی الْمَرَافِقِ‘ کی پابندی اڑا دی اس لیے کہ مسح میں اس قسم کی پابندی ایک بالکل غیر مفید بات تھی۔
      ’وَاِنْ کُنْتُمْ جُنُبًا الایۃ‘ یہ ٹکڑا معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ سورۂ نساء آیت ۴۳ میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں ہم تفصیل کے ساتھ بحث کر چکے ہیں۔
      وضو اور تیمم کے احکام کی علت و حکمت: ’مَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیَجْعَلَ عَلَیْکُمْ مِّنْ حَرَجٍ الایۃ‘ اب یہ اس حکم کی علت و حکمت بیان ہو رہی ہے کہ اگر کچھ لوگوں نے ان پابندیوں کو سخت محسوس کیا ہو تو ان پر ان کی افادیت واضح ہو جائے۔ اس میں شبہ نہیں کہ غیر عادی طبائع پر غسل اور وضو کی یہ پابندی ہے بڑی شاق اور بڑی آزمائش کی چیز لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ پابندی بندوں کو مشقت میں ڈالنے کے لیے نہیں عائد کی ہے۔ اگر مشقت مقصود ہوتی تو بیماری اور سفر وغیرہ کی حالت میں تیمم کی اجازت کیوں مرحمت ہوتی؟ بلکہ یہ بندوں کو پاکیزہ بنانے کے لیے عائد کی گئی ہے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ خدا اور اس کے قدوسیوں کا قرب حاصل کرنے کے اہل ہو سکیں۔ اصلاً تو پاکیزگی باطن کی مطلوب ہے اور نماز باطن ہی کی پاکیزگی کے لیے فرض کی گئی ہے لیکن طاہر اور باطن میں بڑا گہرا رشتہ ہے۔ ظاہر کا اثر باطن پر اور باطن کا اثر ظاہر پر پڑتا ہے۔ اس وجہ سے اسلام نے نماز کے لیے وضو کا حکم دیا ہے اور ناپاکی کی حالت ہو تو غسل کا۔ یہ چیز اس باطنی طہارت کے حصول میں معین ہے جو نماز کا اصل مقصود ہے۔
      ’وَلِیُتِمَّ نِعْمَتَہٗ عَلَیْکُمْ‘ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نماز کے باب میں وضو اور تیمم کے ان احکام کے بعد اللہ کی نعمت تم پر تمام کی گئی۔ سورۂ نساء میں تیمم پر بحث کرتے ہوئے ہم اشارہ کر آئے ہیں کہ یہود کے ہاں طہارت کے معاملے میں بڑی سخت قیدیں اور پابندیاں تھیں۔ اول تو ان کی شریعت کے احکام تھے ہی سخت، پھر ان پر مزید اضافہ ان کے فقہا کے تشددات نے کر دیا تھا۔ تیمم کا ان کے ہاں کوئی تصور ہی نہیں تھا اور یہ بات تو ان کے ہاں انتہائی بد دینی کی تھی کہ کوئی شخص حدث و جنابت کی حالت میں، خواہ کیسی ہی معذوری و مجبوری ہو، مجرد تیمم پر اکتفا کر کے نماز پڑھ لے۔ چنانچہ قرآن میں جب تیمم کی اجازت نازل ہوئی تو اس کا انھوں نے نہ صرف مذاق اڑایا بلکہ اس کو دلیل بنا کر یہاں تک کہنے لگے کہ ان مسلمانوں سے زیادہ ہدایت یافتہ تو مکہ کے مشرکین ہیں۔ یہود کے یہ تشددات بھی منجملہ ان اصر و اغلال کے تھے جو خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے دور ہونے والے تھے چنانچہ تیمم کی اجازت نے طہارت کے باب میں اللہ کی نعمت کا اتمام فرمایا اور اس اتمامِ نعمت سے اس امت کو جو سہولتیں اور برکتیں حاصل ہوئیں ان پر ہر آن شکر واجب ہے۔

      جاوید احمد غامدی ایمان والو، (یہی پاکیزگی خدا کے حضور میں آنے کے لیے بھی چاہیے، لہٰذا) جب نماز کے لیے اٹھو تو اپنے منہ اور ہاتھ کہنیوں تک دھو لو اور سروں کا مسح کرو اور ٹخنوں تک پاؤں بھی دھو لو، اور اگر جنابت کی حالت میں ہو تو نہا کر پاک ہو جاؤ۔ اور اگر (کبھی ایسا ہو کہ) تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی رفع حاجت کر کے آئے یا عورتوں سے مباشرت کی ہو اور تم کوپانی نہ ملے تو کوئی پاک جگہ دیکھو اور اُس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں کا مسح کر لو۔ اللہ تم پرکوئی تنگی نہیں ڈالنا چاہتا، لیکن یہ ضرور چاہتا ہے کہ تمھیں پاکیزہ بنائے (چنانچہ وضو اور غسل کا پابند بناتا ہے) اور (چاہتا ہے کہ) اپنی نعمت تم پر تمام کرے ،(اِس لیے مجبوری کی حالت میں تیمم کی اجازت دیتا ہے) تاکہ تم اُس کے شکرگزار ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ نماز کے لیے وضو کا طریقہ بتایا ہے کہ پہلے منہ دھویا جائے، پھر کہنیوں تک ہاتھ دھوئے جائیں، پھر پورے سر کا مسح کیا جائے اور اِس کے بعد پاؤں دھو لیے جائیں۔ پورے سر کا مسح اِس لیے ضروری ہے کہ اِس حکم کے لیے آیت میں ’وَامْسَحُوْا بِرُءُ وْسِکُمْ‘ کے الفاظ آئے ہیں اور عربیت کے ادا شناس جانتے ہیں کہ ’ب‘ اِس طرح کے مواقع میں احاطے پر دلیل ہوتی ہے۔ اِسی طرح پاؤں کا حکم، اگرچہ بظاہر خیال ہوتا ہے کہ ’وَامْسَحُوْا‘ کے تحت ہے، لیکن ’اَرْجُلَکُمْ‘ منصوب ہے اور اِس کے بعد ’اِلَی الْکَعْبَیْنِ‘ کے الفاظ ہیں جو پوری قطعیت کے ساتھ فیصلہ کر دیتے ہیں کہ اِس کا عطف ’اَیْدِیَکُمْ‘ پر ہے، اِس لیے کہ یہ اگر ’بِرُءُ وْسِکُمْ‘ پر ہوتا تو اِس کے ساتھ ’اِلَی الْکَعْبَیْنِ‘ کی قید غیرضروری تھی۔ تیمم میں دیکھ لیجیے کہ جہاں مسح کا حکم دیا گیا ہے، وہاں ’اِلَی الْمَرَافِقِ‘ کی قید اِسی بنا پر ختم کر دی ہے۔ چنانچہ پاؤں لازماً دھوئے جائیں گے۔ آیت میں اِن کا ذکر محض اِس وجہ سے موخر کر دیا گیا ہے کہ وضو میں اعضا کی ترتیب سے متعلق کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو جائے۔
      اِس سے واضح ہے کہ جنابت کے بعد غسل ضروری ہے، اِس کے بغیر نماز نہیں پڑھی جا سکتی۔ اِس غسل کے لیے یہاں ’فَاطَّھَّرُوْا‘ اور اِس سے پہلے سورۂ نساء (۴) کی آیت ۴۳ میں ’تَغْتَسِلُوْا‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ الفاظ تقاضا کرتے ہیں کہ جنابت کا یہ غسل پورے اہتمام کے ساتھ کیا جائے۔
      اصل الفاظ ہیں: ’اَوْجَآءَ اَحَدٌ مِّنْکُمْ مِّنَ الْغَآءِطِ‘۔ لفظ ’غائط‘ عربی زبان میں نشیبی زمین کے لیے آتا ہے۔ یہاں یہ رفع حاجت سے کنایہ ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ دیہاتی زندگی میں لوگ اِس مقصد کے لیے بالعموم نشیبی زمینوں ہی میں جاتے ہیں۔
      سفر، مرض یا پانی کی نایابی کی صورت میں وضو اور غسل، دونوں مشکل ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ نے اجازت دی ہے کہ آدمی تیمم کر سکتا ہے۔ اِس کا طریقہ اِن آیتوں میں اور اِس سے پہلے سورۂ نساء (۴) کی آیت ۴۳ میں یہ بتایا گیا ہے کہ کوئی پاک جگہ دیکھ کر اُس سے چہرے اور ہاتھوں کا مسح کر لیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے صراحت فرمائی ہے کہ تیمم ہر قسم کی نجاست میں کفایت کرتا ہے۔ وضو کے نواقض میں سے کوئی چیز پیش آجائے تو اُس کے بعد بھی کیا جا سکتا ہے اور مباشرت کے بعد غسل جنابت کی جگہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ اِسی طرح صراحت فرمائی ہے کہ مرض اور سفر کی حالت میں پانی موجود ہوتے ہوئے بھی آدمی تیمم کر سکتا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...مرض میں وضو یا غسل سے ضرر کا اندیشہ ہوتا ہے، اِس وجہ سے یہ رعایت ہوئی ہے۔ اِسی طرح سفر میں مختلف حالتیں ایسی پیش آ سکتی ہیں کہ آدمی کو تیمم ہی پر قناعت کرنی پڑے۔ مثلاً یہ کہ پانی نایاب تو نہ ہو، لیکن کم یاب ہو، اندیشہ ہو کہ اگر غسل وغیرہ کے کام میں لایا گیا تو پینے کے لیے پانی تھڑ جائے گا یا یہ ڈر ہو کہ اگر نہانے کے اہتمام میں لگے تو قافلے کے ساتھیوں سے بچھڑ جائیں گے یا ریل اور جہاز کا ایسا سفر ہو کہ غسل کرنا شدید زحمت کا باعث ہو۔‘‘ (تدبرقرآن ۲/ ۳۰۳)

      اِس میں شبہ نہیں کہ تیمم سے بظاہر کوئی پاکیزگی تو حاصل نہیں ہوتی، لیکن اصل طریقۂ طہارت کی یادداشت ذہن میں قائم رکھنے کے پہلو سے اِس کی بڑی اہمیت ہے۔ شریعت میں یہ چیز بالعموم ملحوظ رکھی گئی ہے کہ جب اصلی صورت میں کسی حکم پر عمل کرنا ممکن نہ ہو تو شبہی صورت میں اُس کی یادگار باقی رکھی جائے۔ اِس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ حالات معمول پر آتے ہی طبیعت اصلی صورت کی طرف پلٹنے کے لیے آمادہ ہو جاتی ہے۔

       

    • امین احسن اصلاحی اور اپنے اوپر اللہ کے فضل کو اور اس کے اس میثاق کو یاد رکھو جو اُس نے تم سے لیا، جب کہ تم نے اقرار کیا کہ ہم نے مانا اور اطاعت کی اور اللہ سے ڈرتے رہو، بے شک اللہ سینوں کے بھیدوں سے بھی باخبر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اب یہ اس اتمامِ نعمت کا حق بتایا ہے کہ اللہ نے اپنی آخری اور کامل شریعت تم پر نازل کر کے جو فضل و انعام فرمایا ہے اور تم کو جو عزت و سرفرازی بخشی ہے، یہود کی طرح اس کو بھول نہ جانا بلکہ اس کو ہمیشہ یاد رکھنا۔ ’یاد رکھنا‘ اپنے حقیقی مفہوم میں ہے۔ یعنی ظاہراً و باطناً ہر پہلو سے اس کا حق ادا کرنا۔ اس کے بعد اس ذمہ داری کی نوعیت واضح فرما دی کہ یہ تمھارے اور تمھارے رب کے درمیان ایک مضبوط میثاق کی ذمہ داری اٹھائی ہے۔ خدا نے تمھارے لیے دنیا و آخرت کی کامرانیوں کے جو وعدے فرمائے ہیں وہ اسی میثاق پر منحصر ہیں۔ اگر تم نے اس کو توڑا تو اس کی سزا بڑی ہی سخت ہے۔ اس لیے اللہ سے ڈرتے رہو اور یہ بات یاد رکھو کہ خدا دلوں کے بھیدوں سے بھی و اقف ہے۔

      جاوید احمد غامدی (اِس رعایت سے فائدہ اٹھاؤ) اور اپنے اوپر اللہ کی اِس نعمت کو یاد رکھو اور اُس کے اُس عہد و میثاق کو بھی جو اُس نے اُس وقت تم سے ٹھیرایا جب تم نے کہا کہ ہم نے سن لیا اور ہم فرماں بردار ہیں، (اِسے یاد رکھو) اور اللہ سے ڈرو۔ بے شک، اللہ دلوں کے بھید تک جانتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یاد رکھنے کی یہ ہدایت اپنے حقیقی مفہوم میں ہے، یعنی ظاہر و باطن میں ہر پہلو سے اِس اتمام نعمت کا حق ادا کیا جائے۔
      یعنی اِس عہد و میثاق کو یاد رکھو کہ سمع و طاعت پر قائم رہو گے تو اللہ تمھاری مغفرت کرے گا اور قیامت کے دن ایک اجر عظیم تمھیں عطا فرمائے گا۔ آگے آیت ۹ میں اِس کی وضاحت فرما دی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اے ایمان والو، عدل کے علم بردار بنو، اللہ کے لیے اس کی شہادت دیتے ہوئے، اور کسی قوم کی دشمنی تمھیں اس بات پر نہ ابھارے کہ تم عدل نہ کرو۔ عدل کرو۔ یہی تقویٰ سے قریب تر ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے باخبر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      میثاقِ شریعت کی ذمہ داری امت مسلمہ پر: ’کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُھَدَآءَ بِالْقِسْطِ‘ تھوڑے سے تغیرالفاظ کے ساتھ یہ ٹکڑا سورۂ نساء کی آیت ۳۵ میں بھی گزر چکا ہے۔ وہاں اس کی وضاحت ہو چکی ہے۔ یہ اسی میثاق کی اجتماعی ذمہ داری واضح کی گئی ہے کہ مسلمانوں پر بحیثیت امت مسلمہ یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس حق و عدل کے علم بردار بنیں جو اس آخری شریعت کی شکل میں ان کو عطا ہوا ہے۔ خود اپنے اندر اس کو قائم کریں اور اسی کی شہادت دنیا کے سامنے رکھیں۔
      ’وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ‘ یہ ٹکڑا اسی سورہ کی آیت ۲ میں گزر چکا ہے۔ یہ حق و عدل کی راہ کے سب سے بڑے فتنے سے آگاہ کیا گیا ہے کہ کسی قوم کی دشمنی اور اس کا غلط سے غلط رویہ بھی ہمیں اس حق و عدل سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ شیطان نے راہِ حق سے گمراہ کرنے میں سب سے زیادہ جس حربے سے کام لیا وہ یہی ایک دوسرے کے ساتھ دشمنی کا حربہ ہے۔ یہود نے محض بنی اسمٰعیل اور مسلمانوں کی دشمنی میں اس تمام عہد و پیمان کو خاک میں ملا دیا جس کے وہ گواہ اور ذمہ دار بنائے گئے تھے۔ اس وجہ سے مسلمانوں سے یہ عہد لیا گیا کہ وہ شیطان کے اس فتنے سے بچ کے رہیں۔ دوستوں اور دشمنوں دونوں کے لیے ان کے پاس بس ایک ہی باٹ اور ایک ہی ترازو ہو۔
      ’اِعْدِلُوْا ھُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی‘ یہی عدل، تقویٰ سے اقرب ہے۔ یعنی تقویٰ جو تمام دین و شریعت کی روح اور اہل ایمان کے ہر قول و فعل کے لیے کسوٹی ہے۔ اس سے موافقت رکھنے والا طرزِ عمل یہی ہے کہ دشمن کی دشمنی کے باوجود اس کے ساتھ کوئی معاملہ عدل و حق سے ہٹ کر نہ کیا جائے۔ اس سے دین میں تقویٰ کا مقام واضح ہوا کہ تمام نیکیاں درحقیقت اسی کی جڑ سے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی ایمان والو،(اِس عہد و میثاق کا تقاضا ہے کہ ) اللہ کے لیے کھڑے ہو جاؤ، انصاف کی گواہی دیتے ہوئے اور کسی قوم کی دشمنی بھی تمھیں اِس پر نہ ابھارے کہ انصاف سے پھر جاؤ۔ انصاف کرو، یہ تقویٰ سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بے شک، اللہ تمھارے ہر عمل سے با خبر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ تم میں سے ہر شخص نہ صرف یہ کہ حق و انصاف پر قائم رہے، بلکہ یہ اگر گواہی کا مطالبہ کریں تو جان کی بازی لگا کر اُن کا یہ مطالبہ پورا کرے۔ حق کہے، حق کے سامنے سرتسلیم خم کرے۔ انصاف کرے، انصاف کی شہادت دے اور اپنے عقیدہ و عمل میں حق و انصاف کے سوا کبھی کوئی چیز اختیار نہ کرے۔ یہاں تک کہ کسی قوم کی دشمنی بھی اُسے آمادہ نہ کرے کہ وہ حق و انصاف کی راہ سے ہٹ جائے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...شیطان نے راہ حق سے گمراہ کرنے میں سب سے زیادہ جس حربے سے کام لیا، وہ یہی ایک دوسرے کے ساتھ دشمنی کا حربہ ہے۔ یہود نے محض بنی اسمٰعیل اور مسلمانوں کی دشمنی میں اُس تمام عہد و پیمان کو خاک میں ملا دیا جس کے وہ گواہ اور ذمہ دار بنائے گئے تھے۔ اِس وجہ سے مسلمانوں سے یہ عہد لیا گیا کہ وہ شیطان کے اِس فتنے سے بچ کے رہیں ۔ دوستوں اور دشمنوں، دونوں کے لیے اُن کے پاس بس ایک ہی باٹ اور ایک ہی ترازو ہو۔‘‘(تدبر قرآن ۲/ ۴۷۱)

       

    • امین احسن اصلاحی جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کے لیے مغفرت اور اجر عظیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ مذکورہ بالا میثاق پر عمل کرنے اور نہ کرنے دونوں کا نتیجہ بیان ہوا ہے کہ جو لوگ اس میثاق پر قائم رہیں گے ان کے لیے مغفرت اور اجر عظیم ہے اور جو اس کو توڑیں گے ان کے لیے جہنم ہے۔ اس سے ایک تو یہ بات نکلی کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہم پر اس میثاق کی ذمہ داری ڈالی ہے، اسی طرح اپنے اوپر بھی اس کے جواب میں ایک عہد کی ذمہ داری لی ہے۔ اس کا اظہار ’وَعَدَ اللَّہُ‘ کے الفاظ سے ہو رہا ہے۔ یہ رب کریم کی کتنی بڑی بندہ نوازی ہے کہ وہ اپنی ہی پیدا کی ہوئی اور اپنی ہی پروردہ مخلوق کے ساتھ ایک معاہدے میں شریک ہو اور جواب میں اپنی ذات پر بھی ایک عہد کی ذمہ داری اٹھائے۔ انسان کو یہ وہ شرف بخشا گیا ہے جس میں کوئی دوسرا اس کا شریک نہیں۔ دوسری بات یہ نکلی کہ ایمان و عمل صالح کی تعبیر ایک جامع تعبیر ہے جس میں وہ سب کچھ شامل ہے جو پروردگار نے اپنی شریعت کی شکل میں ہمیں عطا فرمایا ہے اور جس کی پابندی کا ہم سے اقرار لیا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اللہ نے اُن لوگوں سے وعدہ کر رکھا ہے جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے ہیں کہ اُن کے لیے مغفرت اور اجر عظیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی لوگ دوزخ والے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ مذکورہ بالا میثاق پر عمل کرنے اور نہ کرنے دونوں کا نتیجہ بیان ہوا ہے کہ جو لوگ اس میثاق پر قائم رہیں گے ان کے لیے مغفرت اور اجر عظیم ہے اور جو اس کو توڑیں گے ان کے لیے جہنم ہے۔ اس سے ایک تو یہ بات نکلی کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہم پر اس میثاق کی ذمہ داری ڈالی ہے، اسی طرح اپنے اوپر بھی اس کے جواب میں ایک عہد کی ذمہ داری لی ہے۔ اس کا اظہار ’وَعَدَ اللَّہُ‘ کے الفاظ سے ہو رہا ہے۔ یہ رب کریم کی کتنی بڑی بندہ نوازی ہے کہ وہ اپنی ہی پیدا کی ہوئی اور اپنی ہی پروردہ مخلوق کے ساتھ ایک معاہدے میں شریک ہو اور جواب میں اپنی ذات پر بھی ایک عہد کی ذمہ داری اٹھائے۔ انسان کو یہ وہ شرف بخشا گیا ہے جس میں کوئی دوسرا اس کا شریک نہیں۔ دوسری بات یہ نکلی کہ ایمان و عمل صالح کی تعبیر ایک جامع تعبیر ہے جس میں وہ سب کچھ شامل ہے جو پروردگار نے اپنی شریعت کی شکل میں ہمیں عطا فرمایا ہے اور جس کی پابندی کا ہم سے اقرار لیا ہے۔

      جاوید احمد غامدی (اِس کے برخلاف) جو منکر ہیں اور اُنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے، وہی دوزخ میں جانے والے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اے ایمان والو، اپنے اوپر اللہ کے فضل کو یاد کرو جب کہ ایک قوم نے ارادہ کیا کہ تم پر دست درازی کرے تو اللہ نے تم سے ان کے ہاتھ کو روک دیا اور اللہ سے ڈرتے رہو اور اللہ ہی پر چاہیے کہ اہل ایمان بھروسہ کریں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اوپر آیت ۸ میں مسلمانوں سے ہر حالت میں حق و عدل پر قائم رہنے اور مخالفین کے علی الرغم اس کو نباہنے اور اس کی شہادت دینے کا جو عہد لیا ہے اس میں یہ اشارہ موجود ہے کہ اب تمھیں مخالفوں کی مخالفت کی پروا نہیں کرنی ہے۔ اگر تم اس عہد پر جمے رہے تو خدا کی مدد و نصرت ہر قدم پر تمھارے ساتھ ہے۔ تمھارے دشمن تمھارا کچھ نہ بگاڑ کسیں گے۔ بعینہٖ یہی مضمون ’فَلَا تَخْشَوْھُمْ وَاخْشَوْنِ‘ میں گزر چکا ہے۔ اب یہ اسی بات کی تائید میں واقعاتی شہادت پیش کر دی ہے کہ دیکھ لو، ایک قوم نے اس راہ میں تمھاری مزاحمت کی کوشش کی لیکن وہ تمھارا کچھ نہ بگاڑ سکی۔ خدا نے اس کے ہاتھ باندھ دیے۔ اسی طرح اگر تم اپنے رب کے عہد و پیمان پر قائم رہے تو خدا ہر اس قوم کے مقابل میں تمھاری مدد فرمائے گا جو تمھارے مقابل میں سر اٹھائے گی۔ تم جب خدا پر ایمان لائے ہو تو تمھارے اس ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ تم اپنے رب پر بھروسہ کرو۔
      اس آیت میں ’’قوم‘‘ سے اشارہ میرے نزدیک قریش کی طرف ہے۔ اوپر آیت ۳ اور آیت ۸ میں بھی اشارہ انھی کی طرف ہے۔ لفظ کی تنکیر تحقیر شان کی طرف بھی اشارہ کر رہی ہے اور اس سے یہ ظاہر کرنا بھی مقصود ہے کہ متکلم کے پیش نظر ایک حقیقت کا بیان و اظہار ہے نہ کہ کسی خاص قوم کا، تاہم اشارے کی حد تک، جیسا کہ میں نے عرض کیا، اس سے مراد قریش ہی ہیں۔ اس سورہ کے مطالب سے، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اس دور کی صورت ہے جب مسلمان ایک سیاسی قوت بن چکے ہیں۔ ہجرت کے چھٹے، ساتویں سال تک ایسے حالات پیدا ہو چکے تھے کہ قریش متعدد زور آزمائیاں کر کے مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ کرنے پر مجبور ہو گئے تھے اور یہود بھی اپنی درپردہ سازشوں کی ناکامیوں کے نہایت تلخ تجربات کر کے ہمت ہار چکے تھے۔

      جاوید احمد غامدی ایمان والو، (اور) اپنے اوپر اللہ کی یہ عنایت بھی یاد رکھو کہ جب ایک قوم نے تم پردست درازی کا ارادہ کیا تو اللہ نے اُن کے ہاتھ تم سے روک دیے اور اللہ سے ڈرتے رہو اور (یاد رکھو کہ) ایمان والوں کو تو اللہ ہی پر بھروسا کرنا چاہیے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اشارہ ہے قریش مکہ کی طرف جن کی دست درازیوں کو روک کر اللہ تعالیٰ نے بالآخر مسلمانوں کو اُن پر غلبہ عطا فرمایا۔
      یہ اُسی عہد کی واقعاتی شہادت پیش فرمائی ہے جس کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب دنیا میں اللہ نے اپنا وعدہ اِس شان کے ساتھ پورا کیا ہے تو آخرت میں بھی یقیناً کرے گا۔

    • امین احسن اصلاحی اور اللہ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور ہم نے ان میں سے بارہ نقیب مامور کیے اور اللہ نے ان سے وعدہ کیا کہ میں تمھارے ساتھ ہوں، اگر تم نماز کا اہتمام رکھو گے، زکوٰۃ دیتے رہو گے، میرے رسولوں پر ایمان لاؤ گے، ان کی مدد کرتے رہو گے اور اللہ کو قرض حسن دیتے رہو گے تو میں تم سے تمھارے گناہ دور کر دوں گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا، جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ پس جو اس کے بعد بھی تم میں سے کفر کرے گا تو وہ اصل شاہراہ سے بھٹک گیا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’نقیب‘ کا مفہوم: ’نَقِیْب‘ کے معنی ہیں کھوج لگانے والا، معاملات کی ٹوہ میں رہنے والا، لوگوں کے حالات کی جستجو کرنے والا۔ یہیں سے یہ قوم اور قبیلہ کے سردار، نگران، ذمہ دار افسر اور مانیٹر کے معنی میں استعمال ہوا۔ اس لیے کہ نگرانوں اور مانیٹروں کا اصلی کام لوگوں کے حالات کی نگرانی اور ان کی محافظت ہی ہوتا ہے۔ بنی اسرائیل کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے شریعت کی پابندی اور اس کی حفاظت کا عہد لینے کے بعد بنی اسرائیل کے ہر قبیلے پر ایک ایک نقیب اس مقصد سے مقرر کیا کہ وہ لوگوں کی نگرانی رکھے کہ وہ شریعت کے حدود و قیود کی پابندی کریں اور کوئی ایسی چیز ان کے اندر گھسنے نہ پائے جو ان کو اللہ کے عہد سے روگردان کرے۔ بنی اسرائیل کے قبیلے چونکہ بارہ تھے اس وجہ سے نقیب بھی بارہ مقرر ہوئے۔ ان کا تقرر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے تحت کیا تھا اس وجہ سے اس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب فرمایا۔
      بنی اسرائیل سے میثاق: ’وَقَالَ اللّٰہُ اِنِّیْ مَعَکُمْ الایۃ‘ یہ اس عہد و میثاق کا بیان ہے جو بنی اسرائیل سے لیا گیا۔ اس میں نماز کے اہتمام، زکوٰۃ کی ادائیگی، آئندہ آنے والے رسولوں پر ایمان اور ان کی تائید اور خدا کی راہ میں انفاق سے عہد لیا گیا ہے اور اس کے صلے میں اللہ تعالیٰ نے ان سے اپنی معیت، ان کی عام لغزشوں سے درگزر اور ان کے لیے جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔
      ’وَقَالَ اللّٰہُ اِنِّیْ مَعَکُمْ‘ ایک جامع تعبیر ہے، خدا کی تائید و نصرت کے وعدے کی۔ ظاہر ہے کہ جن کے ساتھ خدا ہو ان کے ساتھ خدا کی پوری کائنات ہے۔
      ’لَءِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلٰوۃَ وَاٰتَیْتُمُ الزَّکٰوۃَ‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح امت مسلمہ کے میثاق میں نماز اور زکوٰۃ کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اسی طرح بنی سرائیل کے میثاق میں بھی ان کو بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے۔ شریعت الٰہی میں حکمت دین کے پہلو سے ان دونوں چیزوں کا جو درجہ ابتدا سے ہے، اس پر پوری تفصیل کے ساتھ تفسیر سورۂ بقرہ کے آغازمیں ہم بحث کر چکے ہیں۔
      ’وَاٰمَنْتُمْ بِرُسُلِیْ‘ میں یوں تو بعد میں آنے والے انبیاء کی طرف اشارہ ہے لیکن اس میں خاص اشارہ نبی خاتم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے جن کا ذکر تورات میں نہایت نمایاں علامات کے ساتھ ہوا ہے۔ بقرہ میں بعض حوالے گزر چکے ہیں۔ اعراف میں اس پر مزید بحث آئے گی۔
      ’وَاَقْرَضْتُمُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا‘ میں جس انفاق کا ذکر ہے یہ زکوٰۃ کے مقررہ نصاب سے الگ ہے۔ اس سے مراد وہ انفاق ہے جو جہاد فی سبیل اللہ اور اس قسم کے کسی اور دینی و ملی و اجتماعی مقصد کے لیے کیا جائے۔ اس کو قرض سے تعبیر کرنے کی وجہ اور اس کے ’قرض حسن‘ ہونے کے شرائط پر پوری تفصیل کے ساتھ ہم دوسرے مقام میں بحث کر چکے ہیں۔
      ’لَّاُکَفِّرَنَّ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ‘ میں ’سَیِّاٰت‘ سے مراد لغزشیں اور کوتاہیاں ہیں، اگر دین کی بنیادی باتوں کا اہتمام کیا جائے تو بندے سے جو چھوٹی موٹی غلطیاں صادر ہو جاتی ہیں اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرما دیتا ہے۔ اس مسئلہ پر بھی بحث گزر چکی ہے۔
      ’فَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ الایۃ‘ یہ ٹکڑا بھی معاہدے کا جزو ہے یعنی اس عہد اور اس عہد کی حفاظت کے اس اہتمام کے باوجود جس کا ذکر ہوا اگر کسی نے اس معاہدے سے انحراف اختیار کیا تو وہ خدا کی شاہراہ سے بھٹک گیا۔ یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ اس عہد سے انحراف کو کفر سے تعبیر کیا گیا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اللہ نے (اِسی طرح) بنی اسرائیل سے بھی عہد لیا تھا اور (اُس کی نگرانی کے لیے)ہم نے اُن میں سے بارہ نقیب اُن پر مقرر کیے تھے اوراللہ نے اُن سے وعدہ کیا تھا کہ میں تمھارے ساتھ رہوں گا۔ اگر تم نے نماز کا اہتمام کیا اور زکوٰۃ ادا کی اور میرے رسولوں کو مانا اور اُن کی مدد کی اور اللہ، (اپنے پروردگار) کو قرض دیتے رہے، اچھا قرض تو یقین رکھو کہ میں تمھاری لغزشیں تم سے دور کردوں گا اور تمھیں ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ پھر اِس (عہد و میثاق) کے بعد بھی جو تم میں سے منکر ہوں تو (اُنھیں معلوم ہونا چاہیے کہ)وہ سیدھی راہ سے بھٹک گئے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس لفظ کے اصل معنی کھوج لگانے والے اور حالات و معاملات کی جستجو کرنے والے کے ہیں، اِس لیے یہ قوم اور قبیلہ کے سردار اور نگران کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... بنی اسرائیل کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اِن سے شریعت کی پابندی اور اُس کی حفاظت کا عہد لینے کے بعد بنی اسرائیل کے ہر قبیلے پر ایک ایک نقیب اِس مقصد سے مقرر کیا کہ وہ لوگوں کی نگرانی رکھے کہ وہ شریعت کے حدود و قیود کی پابندی کریں اور کوئی ایسی چیز اُن کے اندر گھسنے نہ پائے جو اُن کو اللہ کے عہد سے روگردان کرے۔ بنی اسرائیل کے قبیلے چونکہ بارہ تھے، اِس وجہ سے نقیب بھی بارہ مقرر ہوئے۔ اُن کا تقرر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے تحت کیا تھا، اِس وجہ سے اِس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب فرمایا۔‘‘(تدبر قرآن ۲/ ۴۷۴)

      اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے لیے یہ ایک جامع تعبیر ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ جب خدا ساتھ ہے تو گویا پوری کائنات اُن کے ساتھ ہے۔
      یہ عہد چونکہ بنی اسرائیل سے لیا گیا تھا، اِس لیے اِس میں خاص اشارہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے جن کا ذکر تورات میں نہایت واضح علامتوں کے ساتھ ہوا ہے۔
      یہ اُس انفاق کے لیے قرآن کی خاص تعبیر ہے جو دین کی خدمت اور اللہ کی راہ میں جہاد و قتال کے لیے کیا جائے۔
      اصل میں لفظ ’سَیِّاٰت‘ آیا ہے۔ اِس سے مراد وہ لغزشیں اور کوتاہیاں ہیں جو اُن احکام کی خلاف ورزی سے پیدا ہوتی ہیں جو سد ذریعہ کے طور پر دیے جاتے ہیں۔
      اِس سے واضح ہے کہ بنی اسرائیل کے لیے اِس معاہدے سے انحراف گویا خدا اور اُس کی ہدایت کا انکار کر دینے کے مترادف تھا۔ چنانچہ اِسی بنا پر اِسے کفر سے تعبیر کیا ہے۔

       

    • امین احسن اصلاحی پس ان کے اپنے عہد کو توڑ دینے کے سبب سے ہم نے ان پر لعنت کر دی اور ان کے دلوں کو سخت کر دیا۔ وہ کلام کو اس کے موقع و محل سے ہٹاتے ہیں اور جس چیز کے ذریعے سے ان کو یاددہانی کی گئی تھی اس کا ایک حصہ وہ بھلا بیٹھے اور تم برابر ان کی کسی نہ کسی خیانت سے آگاہ ہوتے رہو گے۔ پس تھوڑے سے ان میں سے اس سے مستثنیٰ ہیں۔ پس ان کو معاف کرو اور ان سے درگزر کرو۔ اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہود کی عہد شکنی کے نتائج: یہود پر لعنت، ان کی قساوت اور ان کی تحریفات پر تفصیل کے ساتھ سورۂ بقرہ کی تفسیر میں گفتگو ہو چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی قوم کے ساتھ معاہدہ کر کے اس کو جس درجے کی عزت و سرفرازی بخشتا ہے، معاہدہ توڑ دینے کی صورت میں وہ اس کو اسی درجے کی ذلت کے ساتھ دھتکار بھی دیتا ہے۔ اس دھتکارنے کے لیے جامع تعبیر لعنت ہے۔ یعنی کی کو راندہ درگاہ قرار دے دینا۔ راندۂ درگاہ ہونے کا پہلا اثر جو اس قوم پر پڑتا ہے وہ یہ ہے کہ اس کے اندر سے خدا کی خشیت، جو دل کی زندگی کی ضامن ہے، ختم ہو جاتی ہے اور دل پتھر ہو کر توبہ و انابت کی روئیدگی کے لیے بالکل بنجر ہو جاتا ہے۔ یہ حالت پیدا تو ہوتی ہے عہد شکن قوم کے اپنے عمل کے نتیجہ کے طور پر لیکن چونکہ واقع ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی مقررہ سنت کے مطابق اس وجہ سے اس کو منسوب اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف فرمایا ہے۔ یہ قساوت، عہد شکن قوم کے اندر جسارت پیدا کرتی ہے جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ میثاق الٰہی کی خلاف ورزی ہی پر بس نہیں کرتی بلکہ وہ اس معاہدے کو اپنی خواہشات کے مطابق بنانے کے لیے اس کے الفاظ و کلمات کی تحریف بھی کرتی ہے۔ یہ تحریف یہود نے جن جن شکلوں میں کی ہے اس کی تفصیل سورۂ بقرہ کی تفسیر میں ہم پیش کر چکے ہیں۔
      ’وَنَسُوْا حَظًّا مِّمَّا ذُکِّرُوْا بِہٖ‘ اور وہ بھلا بیٹھے اس چیز کا ایک حصہ جس کے ذریعے سے ان کو یاددہانی کی گئی تھی۔ ’’جس کے ذریعے سے ان کو یاددہانی کی گئی تھی۔‘‘ سے مراد ہمارے نزدیک تورات ہے۔ اس لیے کہ اسی کے اندر میثاق الٰہی کا سارا ریکارڈ محفوظ کیا گیا تھا اور وہ اسی لیے محفوظ کیا گیا تھا کہ بنی اسرائیل اور ان کی آئندہ نسلوں کے لیے ایک قابل اعتماد یادداشت کا کام دے۔ لیکن جب وہ اس یادداشت ہی کا ایک حصہ بھلا بیٹھے تو اب ان کے پاس ایسی کیا چیز رہ گئی تھی جو ان کو یاد دہانی کرا سکتی۔ گھر کا چراغ ہی ہوتا ہے جس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے، اگر اسی کو بجھا دیا جائے یا چھپا دیا جائے تو اب دوسری کون سی چیز اجالا کرے گی۔
      یہ فراموش کر دینا قدرتی نتیجہ ہے تحریف اور اخفا کا۔ یہود تورات کی بعض چیزیں، جیسا کہ بقرہ کی تفسیر میں ہم واضح کر چکے ہیں، عام لوگوں سے چھپاتے تھے، اسی طرح تورات کی جو پیشین گوئیاں ان کے منشا کے خلاف تھیں۔ ان میں انھوں نے لفظی تحریفیں کر کے ان کا مفہوم بدل دیا۔ تاویل کے ذریعے سے بھی انھوں نے حقائق کی قلب ماہیت کی۔ پھر ستم بالائے ستم یہ ہوا کہ تورات حضرت موسیٰؑ کے زمانے میں مرتب نہیں ہوئی بلکہ ان کی وفات کے اتنے دنوں کے بعد اس کی ترتیب عمل میں آئی جب کسی کو یہ علم بھی نہیں رہا تھا کہ ان کی قبر کہاں ہے۔ اس کے مرتبین کا نام بھی معلوم نہیں کہ وہ کون اور کن صفات کے لوگ تھے۔ استثنا باب ۳۴ کے آخر میں ہے کہ ’’پر آج تک کسی آدمی کو اس کی قبر معلوم نہیں۔‘‘ اسی طرح یہ الفاظ بھی اس میں ہیں ’’اور اس وقت سے اب تک کوئی نبی موسیٰؑ کے مانند، جس سے خداوند نے روبرو باتیں کیں، نہیں پیدا ہوا۔‘‘ ظاہر ہے کہ جو کتاب اپنے لانے والے کی وفات کے اتنے طویل عرصہ کے بعد مرتب ہوئی کہ لوگ اس کی قبر بھی بھول چکے تھے اس کی تعلیمات کو محفوظ رکھنا ان کے لیے کس طرح ممکن تھا چنانچہ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ تورات کی بہت سی باتیں بھول گئے۔ پھر جو باتیں مرتب بھی ہوئیں وہ بھی اصل الفاظ میں محفوظ نہیں رہیں بلکہ ان کے پاس اصل تورات کے بجائے صرف اس کے ترجمے رہ گئے اور یہ ترجمے بدلتے بدلتے اصل سے اتنے مختلف ہو گئے کہ یہ تمیز کرنا ناممکن ہو گیا کہ اس میں اصل بات کتنی ہے اور کتنی جامعین اور مترجمین کی حاشیہ آرائی ہے۔ اس طرح تورات کا ایک بہت بڑا حصہ اس کے حاملین نے ضائع کر دیا۔
      ’وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلٰی خَآءِنَۃٍ مِّنْھُمْ‘، ’خَاءِنَۃ‘ کے معنی خیانت کے ہیں جس طرح ’لَاءِمَۃ‘ کے معنی ملامت کے۔ خیانت، بد عہدی اور عہد شکنی کے لیے عربی میں نہایت معروف ہے۔ قرآن نے یہود کی بہت سی بد عہدیوں اور ان کی تحریفات سے پردہ اٹھایا ہے جن کی تفصیل پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہے اور آگے ان کی مزید مثالیں آ رہی ہیں۔ قرآن سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس نے ان کی صرف انہی تحریفات سے تعرض کیا ہے جن سے تعرض تجدید شریعت کے نقطۂ نظر سے ضروری تھا، جن سے تعرض ضروری نہیں تھا ان کو نظر انداز کر دیا ہے اور ان کی مقدار بھی کم نہیں ہے، بہت زیادہ ہے۔ چنانچہ آگے آیت ۱۵ میں ارشاد ہے

      ’یُبَیِّنُ لَکُمْ کَثِیْرًا مِّمَّا کُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْکِتٰبِ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ‘
      (اور تمھارے لیے ظاہر کر رہا ہے بہت سی وہ چیزیں تورات کی جن کو تم چھپاتے تھے اور بہت سی چیزیں نظر انداز کر رہا ہے)

      ’اِلَّا قَلِیْلاً مِّنْھُمْ‘ سے یہود کے اس مختصر گروہ کی طرف اشارہ ہے جو نقضِ عہد اور اس کے مذکورہ بالا نتائج سے محفوظ رہا ہے۔ اگرچہ یہ گروہ نہ تو اپنی قوم کو فتنوں سے بچا سکا نہ تورات کو شریروں کی دست برد سے۔ تاہم یہ لوگ اپنے علم کے حد تک اصل شریعت پر قائم اور اس کی گواہی دیتے رہے۔ صالحین کا یہی گروہ ہے جس نے اسلام کا بھی خیر مقدم کیا۔
      ’فَاعْفُ عَنْھُمْ وَاصْفَحْ‘ میں عفو وصفح سے مراد دل سے معاف کرنا نہیں بلکہ مجرد درگزر کرنا ہے۔ عفو کے اس معنی کے لیے نظیر آیت ۱۵ کے اس ٹکڑے میں بھی ہے جو اوپر ہم نے نقل کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ابھی ان کو نظر انداز کرو اور مہلت دو۔ ان سے نمٹنے کا زمانہ آگے آئے گا۔

      جاوید احمد غامدی سو اپنے اِس عہد کو توڑ دینے ہی کی وجہ سے ہم نے اِن پر لعنت کی اور اِن کے دل سخت کر دیے۔ (اب اِن کی حالت یہ ہے کہ) یہ کلام کو اُس کے موقع و محل سے ہٹا دیتے ہیں اور جس چیز کے ذریعے سے اِنھیں یاددہانی کی گئی تھی ، اُس کا ایک حصہ بھلا بیٹھے ہیں اور (یہ اِسی کا نتیجہ ہے کہ) آئے دن تم اِن کی کسی نہ کسی خیانت کی خبر پاتے ہو۔ اِن میں سے بہت تھوڑے ہیں جو اِن چیزوں سے بچے ہوئے ہیں۔ (اِن سے اب تم کسی خیر کی توقع نہیں کر سکتے)، اِس لیے معاف کرو، (اے پیغمبر) اور اِن سے درگذر کرتے رہو (اوریاد رکھو کہ) اللہ اُن لوگوں کو پسند کرتا ہے جو احسان کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اپنی رحمت سے دور کیا اور اپنی بارگاہ سے ذلت کے ساتھ دھتکار دیا۔ اِس مفہوم کے لیے جامع تعبیر یہی لعنت ہے۔ اِس کے نتائج کیا ہوتے ہیں؟ یہ آگے کی آیتوں میں بیان ہوئے ہیں۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اِن کی وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’...راندۂ درگاہ ہونے کا پہلا اثر جو اُس قوم پر پڑتا ہے، وہ یہ ہے کہ اُس کے اندر سے خدا کی خشیت جو دل کی زندگی کی ضامن ہے، ختم ہو جاتی ہے اور دل پتھر ہو کر توبہ و انابت کی روئیدگی کے لیے بالکل بنجر ہو جاتا ہے۔ یہ حالت پیدا تو ہوتی ہے عہد شکن قوم کے اپنے عمل کے نتیجہ کے طور پر، لیکن چونکہ واقع ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی مقررہ سنت کے مطابق، اِس وجہ سے اِس کو منسوب اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف فرمایا ہے۔ یہ قساوت عہد شکن قوم کے اندر جسارت پیدا کرتی ہے جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ میثاق الٰہی کی خلاف ورزی ہی پر بس نہیں کرتی، بلکہ وہ اُس معاہدے کو اپنی خواہشات کے مطابق بنانے کے لیے اُس کے الفاظ و کلمات کی تحریف بھی کرتی ہے۔‘‘ (تدبر قرآن۲/ ۴۷۶)

      اِس سے تورات مراد ہے، اِس لیے کہ خدا کا یہی عہد نامہ تھا جس کے بنی اسرائیل پابند بنائے گئے اور جس کے ذریعے سے اُن کی یاددہانی کا اہتمام کیا گیا تھا۔ یہود کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اُنھوں نے اِس میں لفظی تحریفات بھی کی ہیں، اپنی تاویلات کے ذریعے سے اِس کے حقائق کی قلب ماہیت بھی کی ہے اور اِس کی بعض چیزیں عام لوگوں سے چھپائی بھی ہیں۔ یہ اُن کے لیے گھر کاچراغ تھا اور استاذ امام کے الفاظ میں گھر کا چراغ ہی ہوتا ہے جس سے روشنی حاصل کی جاتی ہے۔ اگر اُسی کو بجھا دیا جائے یا چھپا دیا جائے تو اب دوسری کون سی چیز اجالا کرے گی۔
      یہود کے اندر صالحین کا یہی گروہ ہے جس کا ذکر اِس سے پہلے بقرہ و آل عمران میں بھی ہوا ہے۔
      اصل میں ’فَاعْفُ عَنْھُمْ وَاصْفَحْ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔اِن سے مراد یہاں دل سے معاف کرنا نہیں، بلکہ محض درگذر کرنا ہے۔ یہی مفہوم ہم مہلت دینے اور نظر انداز کرنے کے الفاظ سے ادا کرتے ہیں۔ اِس معنی کی نظیر آگے آیت ۱۵ میں بھی ہے۔

       

    • امین احسن اصلاحی اور جو لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں، ہم نے ان سے بھی عہد لیا تو جس چیز کے ذریعے سے ان کو یاددہانی کی گئی وہ اس کا ایک حصہ بھلا بیٹھے تو ہم نے قیامت تک کے لیے ان کے درمیان عداوت اور بغض کی آگ بھڑکا دی اور جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں عنقریب اللہ اس سے ان کو آگاہ کرے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      نصاریٰ کی عہد شکنی کے نتائج: یہود کے نقض عہد کے بعد اب یہ نصاریٰ کے نقضِ عہد کا ذکر ہو رہا ہے اور ان کے ذکر کی تمہید ہی اس انداز سے اٹھائی ہے جس سے مترشح ہو رہا ہے کہ یہ نصاریٰ قرآن کے نزدیک نصاریٰ نہیں بلکہ صرف نصاریٰ ہونے کے مدعی ہیں۔ چنانچہ واقعہ یہی ہے کہ پال کے متبعین کو نہ صرف یہ کہ اصل نصرانیت سے کوئی علاقہ نہیں ہے بلکہ انھوں نے تو اپنا نام بھی بدل لیا۔ بقرہ میں، نصاریٰ پر مفصل بحث گزر چکی ہے۔ مزید بحث اسی سورہ کی آیات ۸۲۔۸۵ کے تحت آ رہی ہے۔
      ’فَاَغْرَیْنَا بَیْنَھُمُ الْعَدَاوَۃَ‘ یہ نتیجہ بیان ہوا ہے کتابِ الٰہی میں تحریف اور اس کے ایک حصے کو ضائع کر دینے کا۔ ملت کی شیرازہ بندی اللہ کے میثاق اور ا س کی کتاب ہی سے ہوتی ہے۔ اگر اسی میں فساد و اختلال پیدا ہو جائے تو پھر ملت کو فساد و اختلال اور خون خرابے سے کیا چیز بچا سکتی ہے۔ یہ صورت حال عہد شکنی کا قدرتی نتیجہ بھی ہے اور اس جرم کی سزا بھی، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف منسوب فرمایا۔ نصاریٰ کے لیے اس سے نجات کی واحد شکل یہ تھی کہ قرآن کی رہنمائی میں ان تاریکیوں سے نکل کر ہدایت کی روشنی اور امن و سلامتی کی شاہراہ پر آ جاتے لیکن ان کے تعصب نے ان کو یہ سیدھی راہ اختیار نہ کرنے دی۔ اب نہ کوئی کتاب آنی ہے اور نہ کوئی رسول، اس وجہ سے اس جنگ و جدل سے نکلنے کا اب ان کے لیے قیامت تک کوئی امکان ہی نہیں رہا۔
      ’وَسَوْفَ یُنَبِّءُھُمُ اللّٰہُ‘ یہ دھمکی ہے۔ یعنی عنقریب وہ وقت آئے گا جب اللہ ان کی یہ تمام کارستانیاں ان کے سامنے رکھ دے گا اور وہ اپنی ان تمام شرارتوں کے نتائج اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔
      یہ ملحوظ رہے کہ نقضِ عہد کی یہ تاریخ مسلمانوں کو محض ماضی کی ایک سرگزشت کی حیثیت سے نہیں سنائی جا رہی ہے بلکہ اس لیے سنائی جا رہی ہے کہ مسلمان اس سے سبق لیں اور یاد رکھیں کہ اگر انھوں نے بھی اپنے میثاق کے ساتھ وہی معاملہ کیا جو یہود و نصاریٰ نے کیا تو ان کا بھی وہی حشر ہو گا جو یہود و نصاریٰ کا ہوا۔

      جاوید احمد غامدی (اِسی طرح) ہم نے اُن سے بھی عہد لیا تھا جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ پھر جس چیز کے ذریعے سے اُنھیں یاددہانی کی گئی، اُس کا ایک حصہ وہ بھی بھلا بیٹھے تو ہم نے قیامت تک کے لیے اُن کے درمیان بغض و عداوت کی آگ بھڑکا دی۔ (وہ اُسی میں جل رہے ہیں) اور اللہ عنقریب اُنھیں بتا دے گا جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے واضح ہے کہ نصاریٰ کا نام بھی سیدنا مسیح علیہ السلام کے پیرووں نے اپنے لیے خود اختیار کیا تھا۔ یہ اللہ کا دیا ہوا نام نہیں ہے کہ اِس کی بنیاد پر لوگوں کو نصرانیت اختیار کرنے کی دعوت دی جائے۔ انبیا علیہم السلام کی دعوت کے لیے اللہ کا دیا ہوا نام ہمیشہ سے اسلام ہی ہے۔
      یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں تحریف اور اُس کے ایک حصے کو ضائع کر دینے کا نتیجہ بیان ہوا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...ملت کی شیرازہ بندی اللہ کے میثاق اور اُس کی کتاب ہی سے ہوتی ہے۔ اگر اُسی میں فساد و اختلال پیدا ہو جائے تو پھر ملت کو فساد و اختلال اور خون خرابے سے کیا چیز بچا سکتی ہے۔ یہ صورت حال عہد شکنی کا قدرتی نتیجہ بھی ہے اور اِس جرم کی سزا بھی، اِس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اِس کو اپنی طرف منسوب فرمایا۔ نصاریٰ کے لیے اِس سے نجات کی واحد شکل یہ تھی کہ قرآن کی رہنمائی میں اِن تاریکیوں سے نکل کر ہدایت کی روشنی اور امن و سلامتی کی شاہراہ پر آجاتے، لیکن اُن کے تعصب نے اُن کو یہ سیدھی راہ اختیار نہ کرنے دی۔ اب نہ کوئی کتاب آنی ہے اور نہ کوئی رسول، اِس وجہ سے اِس جنگ و جدل سے نکلنے کا اب اُن کے لیے قیامت تک کوئی امکان ہی باقی نہیں رہا۔‘‘(تدبر قرآن ۲/ ۴۷۸)

       

    • امین احسن اصلاحی اے اہل کتاب، تمھارے پاس ہمارا رسول وہ بہت سی باتیں ظاہر کرتا ہوا آ گیا ہے جو تم کتاب کی چھپاتے رہے ہو اور وہ بہت سی باتیں نظر انداز بھی کر رہا ہے۔ اب تمھارے پاس اللہ طرف سے ایک روشنی اور ایک واضح کرنے والی کتاب آ گئی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      لفظ ’اخفاء‘ تحریف کی ایک جامع تعبیر ہے: ’یُبَیِّنُ لَکُمْ کَثِیْرًا مِّمَّا کُنْتُمْ تُخْفُوْنَ مِنَ الْکِتٰبِ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ‘ تحریف خواہ تبدیلیٔ الفاظ کی نوعیت کی ہو یا تبدیلیٔ معنی کی نوعیت کی، اس کا اصل مقصد حقیقت پر پردہ ڈالنا اور خلق کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ہوتا ہے اس وجہ سے قرآن نے اس کے لیے جامع لفظ ’اِخْفَا‘ کا استعمال کیا ہے جس کے تحت ان کی لفظی و معنوی تحریفیں بھی آ گئیں اور ان کی کتابوں کی وہ آیتیں بھی جن کو اہل کتاب کے علماء اس اندیشے سے عام لوگوں سے چھپاتے تھے کہ ان کے خلافِ شریعت اقدامات کی پردہ دری نہ ہو یا ان کی بنا پر آخری بعثت کے باب میں ان پر کوئی حجت نہ قائم ہو سکے۔ فرمایا کہ یہ رسول تمھاری بہت سی تحریفات بے نقاب کر رہا ہے اور ایسی بھی بہت سی ہیں جن کو نظر انداز کر رہا ہے اس لیے کہ مقصود اصل حقیقت کو ظاہر کرنا اور شریعت الٰہی کی تجدید و تکمیل ہے نہ کہ تمھاری تذلیل و تفضیح۔
      ’نور‘ اور ’کتاب مبین‘ سے مراد: ’قَدْْ جَآءَ کُمْ مِّنَ اللّٰہِ نُوْرٌ وَّکِتٰبٌ مُّبِیْنٌ‘ نور سے مراد قرآن مجید ہے اور کتاب مبین کا لفظ بطور تفسیر ہے۔ قرآن مجید حکمت اور شریعت دونوں کا مجموعہ ہے۔ وہ ذہنی تاریکیوں سے بھی نکالتا ہے اور زندگی کے لیے عمل کی صحیح شاہراہ بھی متعین کرتا ہے اس وجہ سے وہ نور بھی ہے اور کتابِ مبین بھی۔ اہل کتاب کو اللہ تعالیٰ نے جو روشنی عطا فرمائی تھی اس کو ضائع کر کے وہ پھر تاریکیوں میں گھر گئے تھے، اصل حقیقت گم تھی اور شاہراہ ناپید۔ اس وجہ سے ان کے درمیان جنگ و جدل کی وہ آگ بھڑک اٹھی تھی جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اے اہل کتاب، ہمارا پیغمبر تمھارے پاس آگیا ہے جو کتاب الٰہی کی وہ بہت سی باتیں تمھارے لیے کھول رہا ہے جنھیں تم چھپاتے رہے ہو اور بہت سی باتیں نظرانداز بھی کر رہا ہے۔ تمھارے پاس یہ اللہ کی طرف سے ایک روشنی آگئی ہے، یعنی ایک ایسی کتاب جو (دین و شریعت سے متعلق ہر چیز کو) واضح کر دینے والی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی کبھی لفظی اور معنوی تحریفات کے ذریعے سے اور کبھی عام لوگوں کو کتاب الٰہی کی اصل تعلیمات سے اندھیرے میں رکھ کر چھپاتے رہے ہو۔ اِس مفہوم کے لیے ایک ہی لفظ ’تُخْفُوْنَ‘ آیا ہے جس کے تحت یہ تمام صورتیں آ جاتی ہیں۔
      اِس لیے کہ اِن کے کھولنے کی کوئی حقیقی ضرورت نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ کے پیش نظر دین کی اصل حقیقت اور اُس کے مطالبات واضح کرنا ہوتا ہے۔ وہ بغیر ضرورت کے کسی کی تذلیل و تفضیح نہیں کرتا۔

    • امین احسن اصلاحی اس کے ذریعے سے اللہ ان لوگوں کو جو اس کی خوشنودی کے طالب ہیں سلامتی کی راہیں دکھا رہا ہے اور اپنی توفیق بخشی سے ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لا رہا ہے اور ایک صراط مستقیم کی طرف ان کی رہنمائی کر رہا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ہدایت کے لیے طلب و جستجو شرط ہے: ’یَّھْدِیْ بِہِ اللّٰہُ الایۃ‘ یہ اس کتاب کا مقصد بیان ہوا ہے کہ اللہ نے یہ کتاب اس لیے اتاری ہے کہ تم اس پر ایمان لائے تو یہ تم کو اس جنگ و جدل سے نجات دے کر امن و سلامتی کی راہ پر، تاریکی سے نکال کر روشنی میں، کج روی اور ضلالت کی وادیوں سے نکال کر خدا کی صراط مستقیم پر لائے گی۔ بشرطیکہ تمھارے اندر خدا کی خوشنودی کی طلب ہو اور تم اپنے تعصبات کی پٹیاں اپنی آنکھوں سے کھول کر اس روشنی کو دیکھو اور اس کی قدر کرو۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جن کے اندر رضائے الٰہی کی جستجو نہ ہو بلکہ وہ اپنی خواہشات کے پرستار بنے رہیں، ان کے لیے توفیق کا دروازہ نہیں کھلتا۔ ’بِاِذْنِہٖ‘ کے لفظ سے اسی سنت اللہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ یعنی یہ سعادت خدا کے اذن سے حاصل ہوتی ہے اور یہ اذن ان کے لیے ہوتا ہے جن کے اندر رضائے الٰہی کی جستجو ہو۔

      جاوید احمد غامدی اِس کے ذریعے سے اللہ اُن لوگوں کو جو اُس کی خوشنودی چاہتے ہیں، سلامتی کی راہیں دکھاتا ہے اور اپنی توفیق و عنایت سے اُنھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے اور ایک سیدھی راہ کی طرف اُن کی رہنمائی کرتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’بِاِذْنِہٖ‘ آیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اندھیروں سے نکل کر روشنی میں آنے کی سعادت خدا کے اذن سے حاصل ہوتی ہے اور یہ اذن اُنھی کو ملتا ہے جو خدا کی رضا چاہتے ہیں۔ ہم نے اِس کا ترجمہ توفیق و عنایت اِسی رعایت سے کیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی بے شک ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے کہا اللہ تو وہی مسیح ابن مریم ہے۔ پوچھو، کون اللہ سے کچھ اختیار رکھتا ہے اگر وہ چاہے کہ ہلاک کر دے مسیح ابن مریم کو، اس کی ماں کو اور جو زمین میں ہیں ان سب کو۔ اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، سب کی بادشاہی۔ وہ پیدا کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      پال کے عقیدے کی اصل روح: اب یہ نصاریٰ کے نقض عہد کی ایک مثال بیان ہوئی ہے کہ انھوں نے تمام عہد و میثاق کی جو جڑ ہے یعنی توحید، اسی پر کلہاڑا رکھ دیا اور اللہ تعالیٰ کے بجائے مسیح ابن مریم کو خدا بنا بیٹھے۔ موجودہ مسیحیت جس کا بانی پال ہے، اصلاً تو حلول و اتحاد کے عقیدے پر مبنی ہے یعنی پال کے نزدیک مسیحؑ کی شکل میں خدا ہی نے ظہور کیا ہے لیکن بعض اعتراضات سے بچنے کے لیے، جیسا کہ ہم نے سورۂ نساء کی تفسیر میں اشارہ کیا ہے، اس کو اس نے اس چیستاں کی شکل میں پیش کیا ہے، جس کو تثلیث کہتے ہیں۔ گویا حلول اس عقیدے کی روح ہے اور تثلیث اس کی تعبیر۔ قرآن نے کہیں اس گمراہی کی روح کو واضح کیا ہے، کہیں اس کی معروف تعبیر سے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ پال کا اصل مقصود مسیحؑ کو خدا ثابت کرنا تھا۔ اس کے لیے اس نے ان کی خارق عادت ولادت اور ان کے کلمتہ اللہ اور روح اللہ ہونے سے مواد فراہم کیا لیکن انجیلوں میں چونکہ باپ اور روح القدس کا بھی ذکر تھا اس وجہ سے اسے یہ محنت کرنی پڑی کہ الوہیت کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے کوئی ایسی تعبیر اختیار کرے کہ ان سب کے لیے اس میں کوئی نہ کوئی جگہ نکل آئے۔ لیکن یہ سارا گورکھ دھندا تو بس چند بال کی کھال ادھیڑنے والوں کے ذہن میں یا چند چیستاں قسم کی کتابوں کے اندر بند رہتا ہے۔ عام ذہن تو خلاصہ پسند ہوتا ہے، وہ ان موشگافیوں میں کہاں پڑتا ہے چنانچہ عوام نے اس سارے افسانے میں سے صرف اتنی بات اپنے ذہن میں راسخ کر لی کہ مسیح خدا ہیں ۱؂ یہی حال عربوں کا ہوا۔ انھوں نے بھی خدا کے ساتھ دوسروں کو جو شریک کیا تو اپنے ایک مزعومہ فلسفے کے تحت کیا لیکن پھر صورتیں اور مورتیں خدا بن گئیں اور خدا یا تو بالکل غائب ہو گیا یا اس طرح پس منظر میں چھپا دیا گیا کہ اس کا ہونا اور نہ ہونا برابر ہو گیا۔ اس پر تفصیلی بحث انشاء اللہ مکی سورتوں میں آئے گی۔
      نصاریٰ پر اظہارِ غضب: ’فَمَنْ یَّمْلِکُ مِنَ اللّٰہِ شَیْءًا‘ کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے ارادے میں کوئی حائل و مانع نہیں ہو سکتا۔ مثلاً

      ’لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَکَ وَمَآ اَمْلِکُ لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنْ شَیْءٍ‘ (الممتحنہ۔ ۴)
      (میں آپ کے لیے خدا سے مغفرت مانگوں گا، لیکن میں آپ کے معاملے میں خدا کے کسی فیصلے میں کوئی دخل نہیں رکھتا)

      یہ مسیحؑ کو خدا بنانے پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اظہارِ غضب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نادانو، یہ کس قسم کی باتیں کرتے ہو، کیا مسیح، کیا ان کی ماں اور کیا یہ ساری مخلوق، خدا سب سے بے نیاز اور مستغنی ہے۔ سب کو وجود اسی نے بخشا ہے اور اگر وہ ان سب کو فنا کر دینا چاہے تو کون ہے جو اس کا ہاتھ پکڑ سکے۔ آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب خدا ہی کی ملکیت ہے۔ کوئی نہیں ہے جو اس میں اس کا شریک ہو۔ وہ چاہے، جس طرح چاہے اور جتنی مقدار میں چاہے پیدا کرتا اور پیدا کر سکتا ہے۔ کسی کا بن باپ کے پیدا ہو جانا اس بات کی دلیل نہیں ہو جاتا کہ وہ خدا بن گیا یا خدائی میں شریک ہو گیا۔ خدا کسی کو چاہے تو بن باپ کے بھی پیدا کر سکتا ہے بلکہ ماں اور باپ دونوں کے بغیر بھی پیدا کر سکتا ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

      ________
      ۱؂ اس مسئلے پر ہم نے اپنی کتاب ’’حقیقت شرک و توحید‘‘ میں بھی بحث کی ہے۔ تفصیل کے طالب اس کو پڑھیں۔

      جاوید احمد غامدی اِس میں شبہ نہیں کہ اُن لوگوں نے کفر کیا ہے جنھوں نے کہا کہ اللہ تو وہی مسیح ابن مریم ہے۔ اِن سے پوچھو کہ اللہ کے آگے کس کا کچھ چلتا ہے، اگر وہ چاہے کہ مسیح ابن مریم کو، اُس کی ماں کو اور تمام زمین والوں کو ہلاک کر دے۔ (اُس کے فیصلوں پر کوئی اثر انداز نہیں ہو سکتا، اِس لیے کہ) زمین اور آسمانوں اور اُن کے درمیان میں جو کچھ ہے، اُس کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے۔ وہ جو کچھ چاہتا ہے، پیدا کر دیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی سینٹ پال کے پیرو جنھوں نے مسیح علیہ السلام کو خدا کا ظہور قرار دے کر اپنے اِس عقیدے کے لیے تثلیث کی وہ تعبیر اختیار کی جو مسیحیت کی بنیاد ہے۔ وحدت الوجودی صوفیوں کی طرح اِس میں بھی فرق مراتب کو قائم رکھنے کے لیے بہت کچھ زور بیان صرف کیا جاتا ہے، مگر قرآن نے واضح کر دیا ہے کہ اِس طرح کی موشگافیوں کی اللہ کے نزدیک کوئی حیثیت نہیں ہے۔ وہ مسیح کو خدا بنانے کے مجرم ہیں اور اُنھوں نے یقیناًکفر کیا ہے۔
      یہ مسیح علیہ السلام کو خدا بنانے والوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے غضب کا اظہار ہے۔
      مطلب یہ ہے کہ مسیح اگر بن باپ کے پیدا ہوئے ہیں تو اِس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ خدا بن گئے ہیں یا خدائی میں شریک ہو گئے ہیں۔ یہ بن باپ کے پیدا ہونا کیا چیز ہے، خدا چاہے تو کسی کو ماں اور باپ کے بغیر بھی پیدا کر سکتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور یہود اور نصاریٰ نے دعویٰ کیا کہ ہم خدا کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔ ان سے پوچھو کہ پھر وہ تمھیں تمھارے جرموں پر سزا کیوں دیتا رہا ہے؟ بلکہ تم بھی اس کی پیدا کی ہوئی مخلوق میں سے بشر ہو۔ وہ جسے چاہے گا بخشے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا۔ اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کی بادشاہی اور اسی کی طرف سب کو لوٹنا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اہل کتاب کا محبوبِ خدا ہونے کا زعم باطل: ’نَحْنُ اَبْآٰؤُا اللّٰہِ وَاَحِبَّآؤُہٗ‘ اس ٹکڑے پر تفصیل کے ساتھ پچھلی سورتوں میں بحث گزر چکی ہے۔ اہل کتاب کا یہی زعم باطل تھا جس نے ان کو عہد الٰہی کی ذمہ داریوں سے سب زیادہ بے پروا بنایا۔ انھوں نے گمان کیا کہ وہ خدا کے محبوبوں اور برگزیدوں کی اولاد ہیں اس وجہ سے عمل و اطاعت کی ذمہ داریوں سے سبک دوش ہیں۔ جنت ان کا پیدائشی حق ہے۔ دوزخ میں اول تو وہ ڈالے نہیں جائیں گے اور اگر ڈالے بھی گئے تو بس یونہی چند دنوں کے لیے۔ اس فتنے کے اصل بانی تو یہود ہوئے لیکن آخر نصاریٰ ان کو جنت کا واحد اجارہ دار کیوں بننے دیتے۔ چنانچہ یہاں قرآن نے اس کو دونوں ہی کے مشترک عقیدے کی حیثیت سے ذکر کیا ہے۔
      زعمِ باطل کی تردید خود ان کی اپنی تاریخ سے: ’قُلْ فَلِمَ یُعَذِّبُکُمْ بِذُنُوْبِکُمْ‘ یہ ان کے اس زعم باطل کی تردید خود ان کی اپنی تاریخ سے کی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر خدا کے محبوب اور چہیتے ہونے کے سبب سے تم خدا کے مواخذے اور عذاب سے بری ہو تو تمھاری یہ محبوبیت اور تمھارا یہ چہیتا پن اس دنیا میں تمھارے کچھ کام کیوں نہ آیا؟ یہاں تو تمھاری پوری تاریخ اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ جب جب تم نے خدا سے سرکشی کی ہے۔ اس نے تمھیں نہایت عبرت انگیز سزائیں بھی دی ہیں۔ ایسی عبرت انگیز کہ دنیا کی کسی قوم کی تاریخ میں ایسی سزاؤں کی مثال نہیں مل سکتی۔ پوری قوم کی غلامی، پوری قوم کی صحرا گردی، پوری قوم کی جلا وطنی، متعدد بار پوری قوم کا قتل عام اور بیت المقدس کی عبرت انگیز تباہی، یہ سارے واقعات خود تورات میں موجود ہیں۔ اگر ابراہیم ؑ و اسحاقؑ کی اولاد ہونے کی وجہ سے تمھیں خدا کی طرف سے کوئی برأت نامہ حاصل ہے تو اس برأت نامے نے تمھیں ان عذابوں سے کیوں نہ بچایا؟
      اصل حقیقت کا اظہار: ’بَلْ اَنْتُمْ بَشَرٌ مِّمَّنْ خَلَقَ‘ یہ اصل حقیقت کا اظہار ہے کہ ’اَبْآٰؤُا اللّٰہِ‘ اور ’اَحِبَّآءُ اللّٰہ‘ ہونے کے خبط سے نکلو، جس طرح خدا کی ساری مخلوق ہے اسی طرح تم بھی اس کی مخلوق ہو اور جس طرح سب کو خدا سے نسبت ایمان و عمل صالح کے توسط سے حاصل ہوتی ہے اسی طرح تمھیں بھی خدا سے کوئی نسبت حاصل ہو گی تو ایمان و عمل صالح ہی کے واسطے سے حاصل ہو گی۔
      ’یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَیُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ‘ یعنی مغفرت اور عذاب خدا ہی کے اختیار میں ہے وہ جن کو مغفرت کا مستحق پائے گا ان کی مغفرت فرمائے گا، جن کو سزا کا مستحق پائے گا ان کو سزا دے گا۔ اگر کسی نے بزرگوں سے خاندانی نسبت یا ان کی موہوم شفاعتوں پر بھروسہ کر کے خدا کے عہد ہی کو توڑ دیا ہے تو اس کو خدا کے عذاب سے بچانے والا کوئی بھی نہیں بن سکے گا۔
      وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ الایۃ یہ اوپر والے مضمون کی تاکید ہے کہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب خدا ہی کی ملک ہے اور سب کو خدا ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ نہ اس کائنات میں کسی کی حصہ داری ہے اور نہ خدا کے سوا کسی اور کے ہاں پیشی ہونی ہے کہ اس سے کوئی امید باندھی جائے۔

      جاوید احمد غامدی اِن یہود و نصاریٰ کا دعویٰ ہے کہ ہم خدا کے بیٹے اور اُس کے چہیتے ہیں۔ اِن سے پوچھو، پھر تمھارے گناہوں پر وہ تمھیں سزا کیوں دیتا رہا ہے؟ (ہرگز نہیں)، بلکہ تم بھی اُس کے پیدا کیے ہوئے انسانوں میں سے انسان ہی ہو۔ وہ (تم میں سے) جس کو چاہے گا، بخش دے گا اور جس کو چاہے گا، (اپنے قانون کے مطابق) سزا دے گا۔ (اُس کے فیصلوں پر کوئی اثرانداز نہیں ہو سکتا، اِس لیے کہ) زمین اور آسمانوں اور اُن کے درمیان میں جو کچھ ہے، اُس کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے اور (تم میں سے ہر ایک کو) اُسی کی طرف لوٹنا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      بیٹے کا لفظ محبوب اور برگزیدہ ہونے کے لیے بائیبل کی خاص تعبیر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو جس منصب کے لیے منتخب کیا تھا، اُس کی ذمہ داریوں کو سمجھنے کے بجاے اُنھوں نے اِس سے یہ غلط نتیجہ نکالا اوراِس زعم باطل میں مبتلا ہو گئے کہ اب وہ جو چاہے کرتے رہیں، اللہ اُن کی کسی بات پر گرفت کرنے والا نہیں ہے۔
      یہ اُن کے زعم باطل کی تردید خود اُن کی تاریخ سے فرمائی ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... مطلب یہ ہے کہ اگر خدا کے محبوب اور چہیتے ہونے کے سبب سے تم خدا کے مواخذے اور عذاب سے بری ہو تو تمھاری یہ محبوبیت اور تمھارا یہ چہیتا پن اِس دنیا میں تمھارے کچھ کام کیوں نہ آیا؟ یہاں تو تمھاری پوری تاریخ اِس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ جب جب تم نے خدا سے سرکشی کی ہے، اُس نے تمھیں نہایت عبرت انگیز سزائیں بھی دی ہیں، ایسی عبرت انگیز کہ دنیا کی کسی قوم کی تاریخ میں ایسی سزاؤں کی مثال نہیں مل سکتی۔ پوری قوم کی غلامی، پوری قوم کی صحرا گردی، پوری قوم کی جلاوطنی، متعدد بار پوری قوم کا قتل عام اور بیت المقدس کی عبرت انگیز تباہی۔ یہ سارے واقعات خود تورات میں موجود ہیں۔ اگر ابراہیم و اسحق کی اولاد ہونے کی وجہ سے تمھیں خدا کی طرف سے کوئی براء ت نامہ حاصل ہے تو اِس براء ت نامے نے تمھیں اِن عذابوں سے کیوں نہ بچایا؟‘‘ (تدبرقرآن ۲ /۴۸۳)

      یعنی اُس کا کسی کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہے کہ وہ ضرور اُس کی مغفرت کرے گا۔ جزاو سزا کا انحصار اُس کی مشیت پر ہے اور اُس کی مشیت اُس کے قانون کی پابند ہے۔ وہ اُس کے مطابق ہی لوگوں کے لیے جزاو سزا کا فیصلہ کرتا ہے۔
      یعنی قیامت کی پیشی کے لیے کوئی اور بارگاہ نہیں ہے جس سے امیدیں وابستہ کی جائیں۔ تمھیں ہر حال میں اُسی کی طرف لوٹنا ہے۔

       

    • امین احسن اصلاحی اے اہل کتاب، تمھارے پاس ہمارا رسول، رسولوں کے ایک وقفے کے بعد، تمھارے لیے دین کو واضح کرتا ہوا آ گیا ہے۔ مبادا تم کہو کہ ہمارے پاس کوئی بشارت دینے والا اور ہوشیار کرنے والا تو آیا ہی نہیں۔ دیکھ لو، ایک بشیر و نذیر تمھارے پاس آ گیا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’فترۃ‘ کا مفہوم: ’فَتْرَۃ‘ اس وقفہ کو کہتے ہیں جو ایک چیز کے ظہور کے بعد اس کے دوسرے ظہور سے پہلے واقع ہوتا ہے۔ مثلاً باری کے بخار کے دو حملوں کے درمیان جو وقفہ ہو گا اس کو ’فترہ‘ کہیں گے۔ آیت میں اس سے مراد وہ وقفہ ہے جو دو نبیوں کی بعثت کے درمیان ہوتا ہے۔
      اہل کتاب کو تنبیہ: یہ اہل کتاب کو تنبیہ ہے کہ اپنی کتاب کی جن چیزوں کو تم نے چھپایا یا ضائع کر دیا ان سب کو واضح اور خدا کی صراطِ مستقیم کی طرف رہنمائی کرتا ہوا ہمارا رسول تمھارے پاس آ گیا ہے۔ اب تمھارے پاس اپنی گمراہی پر جمے رہنے کے لیے عذر بھی باقی نہیں رہا کہ پہلے رسولوں کی بعثت پر ایک زمانہ گزر چکا تھا اور تم ایک نذیر و بشیر کے محتاج تھے۔ تمھارے اس عذر کو بھی ختم کرنے کے لیے ہم نے نذیر و بشیر بھیج دیا۔ اب اس اتمامِ حجت کے بعد بھی تم نے اپنی روش نہ بدلی تو خدا کو بے بس ہستی نہ سمجھنا۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ یہ ملحوظ رہے کہ اہل کتاب کا یہ عذر کوئی قابل لحاظ عذر نہیں تھا لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اس کا بھی لحاظ فرمایا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ان پر آخری درجے میں حجت تمام کر دی گئی۔

      جاوید احمد غامدی اے اہل کتاب، ہمارا یہ پیغمبر رسولوں کی بعثت میں ایک وقفے کے بعد تمھارے پاس آیا ہے اور (دین کو ہر پہلو سے) تمھارے لیے واضح کر رہا ہے تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمارے پاس تو کوئی بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا آیا ہی نہیں۔ سو دیکھ لو، وہ بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا تمھارے پاس آگیا ہے۔ (اِسے نہیں مانو گے تو اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکو گے۔ وہ تم کو لازماً پکڑے گا) اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور یاد کرو جب کہ موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے کہا، اے میرے ہم قومو! اپنے اوپر اللہ کے فضل کو یاد کرو کہ اس نے تم میں نبی اٹھائے اور تم کو بادشاہ بنایا، اور تم کو وہ کچھ بخشا جو دنیا والوں میں سے کسی کو نہیں بخشا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہود کی تاریخ کا ایک ورق: ’اِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ اَنْبِیَآءَ وَجَعَلَکُمْ مُّلُوْکًا وَّاٰتٰکُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ‘۔ سورۂ نساء کی آیت ۵۴ کے تحت ہم یہ واضح کر چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے جو مستقبل سے متعلق ہوتے ہیں، بعض اوقات ماضی کے صیغے سے تعبیر کیے جاتے ہیں ۔۔۔ یہ وعدوں کی قطعیت کے اظہار کا ایک بلیغ اسلوب ہے جو قرآن میں بہت استعمال ہوا ہے۔ گویا یہ وعدے، محض وعدے نہیں بلکہ واقعات ہیں جو واقع ہو چکے ہیں۔ حضرت موسیٰؑ سے پہلے اگرچہ بنی اسرائیل میں بعض انبیاء مبعوث ہو چکے تھے لیکن نبوت کا غیر منقطع سلسلہ آپ کے بعد شروع ہوا جو حضرت مسیحؑ کی بعثت تک جاری رہا۔ بادشاہوں کے سلسلے کا تعلق تمام تر حضرت موسیٰؑ کے بعد ہی کے دور سے ہے۔ اس سے پہلے خاندان کے بزرگوں کی ایک قسم کی سیادت اور پدرسری (Patriarchy) تو حاصل رہی لیکن اس کو بادشاہی نہیں کہہ سکتے۔ تورات میں بھی اس کو بادشاہی سے تعبیر نہیں کیا گیا ہے۔
      ایک سیاسی نکتہ: یہاں اسلوب کا ایک اور فرق بھی قابل لحاظ ہے۔ سلسلۂ نبوت کی تعبیر کے لیے تو فرمایا
      ’جَعَلَ فِیْکُمْ اَنْبِیَآءَ‘ (تم میں انبیاء بنائے) لیکن سلسلۂ بادشاہی کی تعبیر کے لیے ’وَجَعَلَکُمْ مُّلُوْکًا‘ (اور تم کو بادشاہ بنایا) کی تعبیر اختیار فرمائی۔ ان دونوں اسلوبوں کے فرق سے یہ بات نکلتی ہے کہ نبوت ایک مرتبۂ اختصاص ہے جو صرف اس سے مخصوص ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ اس منصب پر فائز فرماتا ہے، دوسرے اس میں شریک نہیں ہوتے۔ اس کے برعکس بادشاہی ایک منصب اجتماعی ہے جس میں بادشاہ کے ساتھ اس کی پوری قوم حصہ دار ہوتی ہے۔ اگر کسی بادشاہی میں قوم شریک نہ ہو تو وہ استبداد اور مطلق العنانی ہے۔
      ’وَّاٰتٰکُمْ مَّا لَمْ یُؤْتِ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ‘ سے مراد وہ منصب امامت و شہادت حق ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو مامور فرمایا تھا اور جو امت مسلمہ کے ظہور میں آنے سے پہلے ان کے سوا کسی اور کو حاصل نہیں ہوا۔

      جاوید احمد غامدی (اپنے جرائم کی پاداش سے ڈرو، اے اہل کتاب) اور یاد کرو وہ واقعہ جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا: میری قوم کے لوگو، اپنے اوپر اللہ کی اِس نعمت کا خیال کرو کہ اُس نے تم میں نبی بنائے اور تمھیں بادشاہ ٹھیرایا ہے اور تمھیں وہ کچھ دے دیا ہے جو دنیا والوں میں سے اُس نے کسی کو نہیں دیا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں ’جَعَلَ فِیْکُمْ اَنْبِیَآءَ وَجَعَلَکُمْ مُّلُوْکًا‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن میں فعل ہمارے نزدیک فیصلۂ فعل کے معنی میں ہے، یعنی نبی اور بادشاہ بنانے کا فیصلہ کر دیا ہے۔ یہ وعدوں کی قطعیت کو ظاہر کرنے کے لیے ایک بلیغ اسلوب ہے۔ آیت کے الفاظ سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ بادشاہی کا منصب ایک اجتماعی منصب ہے جو پوری قوم کو دیا جاتا ہے۔ اِس میں کسی شخص یا خاندان کے استبداد اور مطلق العنانی کے لیے ہرگز کوئی گنجایش نہیں ہے۔ چنانچہ نبیوں کے لیے تو فرمایا ہے کہ ’جَعَلَ فِیْکُمْ اَنْبِیَآءَ‘، لیکن بادشاہی کے لیے ’جَعَلَکُمْ مُّلُوْکًا‘ کی تعبیر اختیار فرمائی ہے۔
      اِس سے مراد شہادت علی الناس اور دنیا کی امامت کا وہ منصب ہے جس کے لیے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی ذریت کو بالکل اُسی طرح منتخب کیا گیا، جس طرح اللہ تعالیٰ بنی آدم میں سے بعض ہستیوں کو نبوت و رسالت کے لیے منتخب کرتا ہے۔

    Join our Mailing List