Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 176 آیات ) Al-Nisa Al-Nisa
Go
  • النساء (The Women)

    176 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    یہ سورہ اپنی سابق سورہ ۔۔۔ آلِ عمران ۔۔۔ کے بعد اس طرح شروع ہو گئی ہے کہ اس کے ابتدائی الفاظ ہی سے نمایاں ہو جاتا ہے کہ یہ آل عمران کا تکملہ و تتمہ ہے۔ آلِ عمران کی آخری اور نساء کی پہلی آیت پڑھیے تو معلوم ہو گا کہ جس اہم مضمون پر آلِ عمران ختم ہوئی ہے اسی مضمون سے سورۂ نساء کی تمہید استوار ہوئی ہے۔ گویا آلِ عمران کے خاتمے اور نساء کے آغاز نے ایک حلقۂ اتصال کی صورت اختیار کر لی ہے۔ آل عمران کی آخری آیت یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَصَابِرُوْا وَرَابِطُوْاقف وَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ہے جس میں مسلمانوں کو فوز و فلاح کی راہ یہ بتائی گئی ہے کہ وہ انفرادی و اجتماعی حیثیت سے ثابت قدمی دکھائیں، آپس میں جڑے، دشمن کے مقابل میں ڈٹے اور خدا سے ڈرتے رہیں۔ اب اس سورہ کو دیکھئے تو اسی ’اِتَّقُوا اللّٰہ‘ کے مضمون سے شروع ہو گئی ہے۔ (یا یھا الناس اتقوا ربکم) اور آگے آپس میں جڑے رہنے اور مخالفین کے بالمقابل ثابت قدمی کے لیے جو باتیں ضروری ہیں وہ نہایت وضاحت و تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہیں۔۱؂

    ثابت قدمی، بالخصوص اجتماعی ثابت قدمی، بغیر مضبوط جماعتی اتصال کے ممکن نہیں ہے اور جماعتی اتصال کوئی اتفاق سے پیدا ہو جانے والی چیز نہیں ہے بلکہ یہ بنیاد کا بھی محتاج ہے، مثبت تدابیر کا بھی متقاضی ہے اور اس کو ان فتنوں سے محفوظ رکھنے کی بھی ضرورت ہے جو اس کو درہم برہم کر سکتے ہوں۔ چنانچہ اس سورہ میں وہ ساری چیزیں بیان ہوئیں جو اسلامی معاشرہ اور اس کے فطری نتیجہ اسلامی حکومت کو مستحکم رکھنے اور اس کو انتشار سے بچانے کے لیے ضروری ہیں۔

    اس سورہ کے مطالب پر ایک سرسری نظر بھی ڈالیے تو معلوم ہو گا کہ اس کا آغاز اس حقیقت کے اظہار سے ہوتا ہے کہ اسلامی معاشرہ اس عقیدے پر قائم ہے کہ مرد اور عورت سب کا خالق اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے، اسی نے سب کو ایک آدم و حوا سے وجود بخشا ہے۔ اس وجہ سے خدا اور رحم سب کے درمیان مشترک ہیں۔ اس کے بعد معاشرے کے سب سے زیادہ کمزور عناصر یتیموں اور عورتوں کے حقوق معین فرمائے ہیں اور ان کو ادا کرنے پر زور دیا ہے۔ پھر اسی تعلق سے وراثت کی تقسیم سے متعلق قانون کی وضاحت فرمائی ہے۔ پھر مسلمانوں کے باہمی حقوق و فرائض پر زور دیتے ہوئے اللہ، رسول اور اولوالامر کی اطاعت پر سب کو مجتمع و متفق رہنے کی تاکید فرمائی، اس لیے کہ اسی چیز پر اسلامی حکومت کی بنیاد ہے۔ اس کے بعد تفصیل کے ساتھ منافقین کی قلعی کھولی ہے جو اسلامی معاشرے کے اندر ناسور کی حیثیت رکھتے تھے اور مسلمانوں کے اندر ان کے دشمنوں ۔۔۔ یہود و نصاریٰ ۔۔۔ کے ایجنٹ کے طور پر کام کر رہے تھے۔ اس روشنی میں غور کیجیے تو اس سورہ میں گویا اس ارتباط باہمی کی بنیادیں استوار کی گئی ہیں جس کی ہدایت پر سابق سورہ ختم ہوئی تھی۔

    _____
    ۱؂ سابق اور لاحق سورہ میں ربط کی یہ صورت صرف انہی دو سورتوں کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ اس کی متعدد نہایت لطیف مثالیں قرآن مجید میں موجود ہیں جو اپنے مواقع پر بیان ہوں گی۔

  • النساء (The Women)

    176 آیات | مدنی
    النساء ——- المائدہ
    ۴——- ۵

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں جس امت کے لیے صالح معاشرت کی اساسات واضح کی گئی ہیں، دوسری سورہ میں اُسی پر اتمام نعمت اور اُس کے ساتھ اللہ کے آخری عہدوپیمان کا بیان ہے۔ اِن میں خطاب اگرچہ اہل کتاب سے بھی ہوا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی، لیکن دونوں سورتوں کے مخاطب اصلاً مسلمان ہی ہیں۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ بقرہ و آل عمران کی طرح یہ بھی ہجرت کے بعد مدینہ میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب مسلمانوں کی ایک باقاعدہ ریاست وہاں قائم ہوچکی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب پر اتمام حجت اور مسلمانوں کا تزکیہ وتطہیر کر رہے تھے۔
    پہلی سورہ —- النساء —- کا موضوع امت مسلمہ کے لیے صالح معاشرت کی اساسات اور اُس کا تزکیہ و تطہیر ہے۔ دوسری سورہ —- المائدۃ —- کا موضوع اِس امت پر اتمام نعمت اور اِس کے ساتھ اللہ، پروردگار عالم کے آخری عہد و پیمان کا بیان ہے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی اے لوگو، اپنے اس رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک ہی جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور ان دونوں سے بہت سارے مرد اور عورتیں پھیلا دیں۔ اور ڈرو اُس اللہ سے جس کے واسطے سے تم باہمدگر طالب مدد ہوتے ہو اور ڈرو قطع رحم سے۔ بے شک اللہ تمھاری نگرانی کر رہا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      خلق منھا زوجھا کا مفہوم: ’خَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا‘ کے معنی ہیں اس کی جنس سے۔ اگرچہ اس کے معنی لوگوں نے اور بھی لیے ہیں لیکن جس بنیاد پر لیے ہیں وہ نہایت کمزور ہے۔ ہم نے جو معنی لیے ہیں اس کی تائید خود قرآن میں موجود ہے۔
      سورۂ نحل میں فرمایا ہے وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا (۷۲) ظاہر ہے کہ اس کے معنی یہی ہو سکتے ہیں کہ ’’اللہ نے تمھارے لیے تمھاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں۔‘‘ اس کے یہ معنی کوئی بھی نہیں لے سکتا کہ یہ بیویاں ہر ایک کے اندر سے پیدا ہوئیں۔
      ’تساء ل‘ کا مفہوم: ’تساء ل‘ کے معنی باہمدگر ایک دوسرے سے پوچھنے، سوال کرنے اورمانگنے کے ہیں۔ اسی سے ترقی کر کے ایک دوسرے سے طالب مدد ہونے کے معنی میں بھی یہ استعمال ہوتا ہے۔ سورۂ مومنون میں ہے

      فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَآ اَنْسَابَ بَیْنَھُمْ یَوْمَءِذٍ وَّلَا یَتَسَآءَ لُوْنَ (۱۰۱)
      (جب صور پھونکا جائے گا تو نہ ان کے نسبی تعلقات باقی رہیں گے اور نہ وہ ایک دوسرے سے طلب مدد ہی کر سکیں گے.)

      ’ارحام‘ کا مفہوم: ’ارحام‘ سے مراد رحمی رشتے ہیں۔ اس کو ’اللہ ‘ پر عطف کر کے اس کی وہ اہمیت واضح فرمائی ہے جو دین میں اس کی ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ خدا کے بعد پہلی چیز جو تقویٰ اور احترام کی سزاوار ہے وہ رشتۂ رحم اور اس کے حقوق ہیں۔ خدا سب کا خالق ہے اور رحم سب کے وجود میں آنے کا واسطہ اور ذریعہ ہے اس وجہ سے خدا اور رحم کے حقوق سب پر واجب ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اسی بنیاد پر رحم کا یہ درجہ رکھا ہے کہ جو اس کو جوڑتا ہے خدا اس سے جڑتا ہے اور جو اس کو کاٹتا ہے خدا اس سے کٹتا ہے۔ یہ بات ایک حدیث قدسی سے بھی ثابت ہے اور یہی بات قرآن سے بھی نکلتی ہے۔
      معاشرہ کی تنظیم سے متعلق بنیادی حقائق: زیر بحث آیت ایک جامع تمہید ہے ان تمام احکامات و ہدایات کے لیے جو انسانی معاشرہ کی تنظیم کے لیے اللہ تعالیٰ نے اتارے ہیں اور جو آگے آ رہے ہیں۔ اس تمہید میں جو باتیں بنیادی حقائق کی حیثیت سے واضح کی گئی ہیں ان کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔
      پہلی بات یہ ہے کہ اس آیت میں جس تقویٰ کی ہدایت کی گئی ہے اس کا ایک خاص موقع و محل ہے۔ اس تقویٰ سے مراد یہ ہے کہ یہ خلق آپ سے آپ وجود میں نہیں آ گئی ہے بلکہ خدا کی پیدا کی ہوئی ہے جو سب کا خالق بھی ہے اور سب کا رب بھی۔ اس وجہ سے کسی کے لیے بھی یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اس کو ایک بے مالک اور بے راعی کا ایک آوارہ گلہ سمجھ کر اس میں دھاندلی مچائے اور اس کو اپنے ظلم و تعدی کا نشانہ بنائے بلکہ ہر ایک کا فرض ہے کہ وہ اس کے معاملات میں انصاف اور رحم کی روش اختیار کرے ورنہ یاد رکھے کہ خدا بڑا زور آور اور بڑا منتقم و قہار ہے۔ جو اس کی مخلوق کے معاملات میں دھاندلی مچائیں گے وہ اس کے قہر و غضب سے نہ بچ سکیں گے۔ وہ ہر چیز کی نگرانی کر رہا ہے۔
      دوسری یہ کہ تم نسل انسانی ایک ہی آدم کا گھرانا ہے۔ سب کو اللہ تعالیٰ نے ایک ہی آدمؑ و حوا کی نسل سے پیدا کیا ہے۔ نسل آدم ہونے کے اعتبار سے سب برابر ہیں۔ اس پہلو سے عربی و عجمی، احمر و اسود اور افریقی و ایشیائی میں کوئی فرق نہیں، سب خدا کی مخلوق اور سب آدمؑ کی اولاد ہیں۔ خدا اور رحم کا رشتہ سب کے درمیان مشترک ہے۔ اس کا فطری تقاضا یہ ہے کہ سب ایک ہی خدا کی بندگی کرنے والے اورایک ہی مشترک گھرانے کے افراد کی طرح آپس میں حق و انصاف اور مہر و محبت کے تعلقات رکھنے والے بن کر زندگی بسر کریں۔
      تیسری یہ کہ جس طرح آدمؑ تمام نسل انسانی کے باپ ہیں اسی طرح حوا تمام نسلِ انسانی کی ماں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حوا کو آدمؑ ہی کی جنس سے بنایا ہے اس وجہ سے عورت کوئی ذلیل، حقیر، فروتر اور فطری گنہگار مخلوق نہیں ہے بلکہ وہ بھی شرف انسانیت میں برابر کی شریک ہے۔ اس کو حقیر و ذلیل مخلوق سمجھ کر نہ اس کو حقوق سے محروم کیا جا سکتا نہ کمزور خیال کر کے اس کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
      چوتھی یہ کہ خدا اور رحم کا واسطہ ہمیشہ سے باہمی تعاون و ہمدردی کا محرک رہا ہے۔ جس کو بھی کسی مشکل یا خطرے سے سابقہ پیش آتا ہے وہ اس میں دوسروں سے خدا او ر رحم کا واسطہ دے کر اپیل کرتا ہے اور یہ اپیل چونکہ فطرت پر مبنی ہے اس وجہ سے اکثر حالات میں یہ موثر بھی ہوتی ہے۔ لیکن خدا اور رحم کے نام پر حق مانگنے والے اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ جس طرح ان واسطوں پر حق مانگنا حق ہے اسی طرح ان کا حق ادا کرنا بھی فرض ہے۔ جو شخص خدا اور رحم کے نام پر لینے کے لیے تو چوکس ہے لیکن دینے کے لیے آمادہ نہیں ہے وہ خدا سے دھوکا بازی اور رحم سے بے وفائی کا مجرم ہے اور اس جرم کا ارتکاب وہی کر سکتا ہے جس کا دل تقویٰ کی روح سے خالی ہو۔ خدا اور رحم کے حقوق پہچاننے والے جس طرح ان ناموں سے فائدے اٹھاتے ہیں اسی طرح ان کی ذمہ داریاں بھی اٹھاتے ہیں اور درحقیقت حق طلبی و حق شناسی کا یہی توازن ہے جو صحیح اسلامی معاشرے کا اصلی جمال ہے۔ اسی حقیقت کی طرف وَاتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَآءَ لُوْنَ بِہٖ وَالْاَرْحَامَ کا ٹکڑا اشارہ کر رہا ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی لوگو، اپنے اُس پروردگار سے ڈرو جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی کی جنس سے اُس کا جوڑا بنایا اور اِن دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں (دنیا میں) پھیلا دیں۔ اُس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے مدد چاہتے ہو اور ڈرو رشتوں کے توڑنے سے۔ بے شک، اللہ تم پر نگران ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس مفہوم کے لیے اصل میں ’خَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِنھیں سورۂ نحل (۱۶) کی آیت۷۲ ’وَاللّٰہُ جَعَلَ لَکُمْ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ اَزْوَاجًا‘ کی روشنی میں دیکھیے تو اِن کا ترجمہ یہی ہوسکتا ہے۔ اِسے ’اُس میں سے‘ یا ’اُس کے اندر سے‘ کے معنی میں لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
      اصل میں لفظ ’تَسَآءَ لُوْنَ‘ آیا ہے۔ اِس کے معنی جس طرح ایک دوسرے سے پوچھنے اور سوال کرنے کے ہیں، اِسی طرح ایک دوسرے سے مدد چاہنے کے بھی ہیں۔ یہاں یہ اِسی دوسرے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔
      اِس سورہ میں جو ہدایات آگے دی گئی ہیں، یہ آیت اُن کے لیے ایک جامع تمہید کی حیثیت رکھتی ہے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اِس کے حقائق اپنی تفسیر میں بیان فرمائے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’پہلی بات یہ ہے کہ اِس آیت میں جس تقویٰ کی ہدایت کی گئی ہے، اُس کا ایک خاص موقع و محل ہے۔ اِس تقویٰ سے مراد یہ ہے کہ یہ خلق آپ سے آپ وجود میں نہیں آگئی ہے، بلکہ خدا کی پیدا کی ہوئی ہے جو سب کا خالق بھی ہے اور سب کا رب بھی۔ اِس وجہ سے کسی کے لیے بھی یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اِس کو ایک بے مالک اور بے راعی کا ایک آوارہ گلہ سمجھ کر اِس میں دھاندلی مچائے اوراِس کو اپنے ظلم وتعدی کا نشانہ بنائے، بلکہ ہر ایک کا فرض ہے کہ وہ اِس کے معاملات میں انصاف اور رحم کی روش اختیار کرے ،ورنہ یاد رکھے کہ خدا بڑا زورآور اور بڑا منتقم وقہار ہے۔ جو اُس کی مخلوق کے معاملات میں دھاندلی مچائیں گے، وہ اُس کے قہروغضب سے نہ بچ سکیں گے۔ وہ ہر چیز کی نگرانی کر رہا ہے۔
      دوسری یہ کہ تمام نسل انسانی ایک ہی آدم کا گھرانا ہے۔ سب کو اللہ تعالیٰ نے ایک ہی آدم وحوا کی نسل سے پیدا کیا ہے۔ نسل آدم ہونے کے اعتبار سے سب برابر ہیں۔ اِس پہلو سے عربی و عجمی، احمر و اسود اور افریقی وایشیائی میں کوئی فرق نہیں، سب خدا کی مخلوق اور سب آدم کی اولاد ہیں۔ خدا اور رحم کا رشتہ سب کے درمیان مشترک ہے۔ اِس کا فطری تقاضا یہ ہے کہ سب ایک ہی خدا کی بندگی کرنے والے اور ایک ہی مشترک گھرانے کے افراد کی طرح آپس میں حق و انصاف اور مہرومحبت کے تعلقات رکھنے والے بن کر زندگی بسر کریں۔
      تیسری یہ کہ جس طرح آدم تمام نسل انسانی کے باپ ہیں، اِسی طرح حوا تمام نسل انسانی کی ماں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حوا کو آدم ہی کی جنس سے بنایا ہے، اِس وجہ سے عورت کوئی ذلیل، حقیر، فروتر اور فطری گنہ گار مخلوق نہیں ہے، بلکہ وہ بھی شرف انسانیت میں برابر کی شریک ہے۔ اُس کو حقیروذلیل مخلوق سمجھ کر نہ اُس کو حقوق سے محروم کیا جاسکتا نہ کمزور خیال کرکے اُس کو ظلم وستم کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
      چوتھی یہ کہ خدا اور رحم کا واسطہ ہمیشہ سے باہمی تعاون وہمدردی کا محرک رہا ہے۔ جس کو بھی کسی مشکل یا خطرے سے سابقہ پیش آتا ہے، وہ اُس میں دوسروں سے خدا اور رحم کا واسطہ دے کر اپیل کرتا ہے اور یہ اپیل چونکہ فطرت پر مبنی ہے، اِس وجہ سے اکثر حالات میں یہ مؤثر بھی ہوتی ہے۔ لیکن خدا اور رحم کے نام پر حق مانگنے والے اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ جس طرح اِن واسطوں پر حق مانگنا حق ہے، اِسی طرح اِن کا حق ادا کرنا بھی فرض ہے۔ جو شخص خدا اور رحم کے نام پر لینے کے لیے تو چوکس ہے، لیکن دینے کے لیے آمادہ نہیں ہے، وہ خدا سے دھوکا بازی اور رحم سے بے وفائی کا مجرم ہے اور اِس جرم کا ارتکاب وہی کر سکتا ہے جس کا دل تقویٰ کی روح سے خالی ہو۔ خدا اور رحم کے حقوق پہچاننے والے جس طرح اِن ناموں سے فائدے اٹھاتے ہیں، اِسی طرح اِن کی ذمہ داریاں بھی اٹھاتے ہیں اور درحقیقت حق طلبی وحق شناسی کا یہی توازن ہے جو صحیح اسلامی معاشرے کا اصلی جمال ہے۔ اِسی حقیقت کی طرف ’وَاتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَآءَ لُوْنَ بِہٖ وَالْاَرْحَامَ‘ کا ٹکڑا اشارہ کر رہا ہے۔‘‘(تدبر قرآن ۲/ ۲۴۶۔۲۴۷)

       

    • امین احسن اصلاحی اور یتیموں کے مال ان کے حوالہ کرو، نہ اپنے برے مال کو ان کے اچھے مال سے بدلو اور نہ ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ گڈ مڈ کر کے اس کو ہڑپ کرو۔ بے شک یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آیت ۲ کا خطاب یتیموں کے سرپرستوں سے ہے: اس آیت میں خطاب یتیموں کے اولیاء اور سرپرستوں سے ہے اوراوپر والی آیت پر اس کا عطف اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں جس بات کا حکم دیا جا رہا ہے یا جس چیز سے روکا جا رہا ہے اس کی بنیاد انھی اصولی حقائق پر ہے جو اوپر مذکور ہوئے
      ’خبیث و طیب ‘ کا مفہوم: ’خبیث‘ اور ’طیب‘ کے الفاظ جس طرح ان اشیا اور ذوات کے لیے استعمال ہوتے ہیں جو اخلاقی و شرعی نقطۂ نظر سے خبیث یا طیب ہوتی ہیں اسی طرح، جیسا کہ بقرہ کی آیت ۲۶۷ کے تحت گزر چکا ہے، ان اشیاء کے لیے بھی ان کا استعمال عربی میں معروف ہے جو مادی اعتبار سے ناقص یا عمدہ ہوتی ہیں۔
      ’اکل‘ کے ساتھ ’الٰی‘ کا صلہ اس بات پر دلیل ہے کہ یہاں ’’ضمٍّا‘‘ یا اس کے ہم معنی کوئی لفظ محذوف ہے۔
      یتیموں کے مال کی حفاظت کے لیے ضروری ہدایات: یتیموں کے بعض سرپرست، جن کے سینے خوفِ خدا سے خالی ہوتے ہیں اول تو یتیموں کا سارا حق ہی دبا بیٹھتے ہیں اور اگر دبا نہیں بیٹھتے تو اس میں خورد برد کرنے کی نیت سے، انتظامی سہولت کی نمائش کر کے، ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا لیتے ہیں اور اس طرح اپنے لیے ہاتھ رنگنے کے نہایت آسان مواقع پیدا کر لیتے ہیں۔ ان کو ہدایت فرمائی کہ یتیموں کا مال یتیموں کو دو۔ خود ہضم کرنے کی کوشش نہ کرو۔ پھر اس مقصد کے لیے جو ہتھکنڈے استعمال ہوتے ہیں ان سے واضح لفظوں میں بھی روک دیا کہ نہ اپنا ناقص مال ان کے اچھے مال سے بدلنے کی تدبیریں کرو اور نہ ان کا مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر اس کو خورد برد کرنے کی کوشش کرو۔
      اگر کوئی سرپرست انتظامی سہولت کے نقطۂ نظر سے یتیم کا مال اپنے مال کے ساتھ ملانا چاہے تو اس کی اجازت اگرچہ، جیسا کہ سورۂ بقرہ کی آیت ۲۲۰ کے تحت گزر چکی ہے، شریعت نے دی ہے، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اس اختلاط و اشتراک سے مقصود اصلاح ہو نہ کہ فساد۔ بصورت دیگر یتیم کے حق کی حفاظت اسلامی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

      جاوید احمد غامدی (اللہ سے ڈرو) اور یتیموں کے مال اُن کے حوالے کردو، نہ اپنے برے مال کو اُن کے اچھے مال سے بدلو اور نہ اُن کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر کھاؤ، اِ س لیے کہ یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں ’خَبِیْث‘ اور ’طَیِّب‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ جس طرح اخلاقی لحاظ سے خبیث و طیب چیزوں کے لیے آتے ہیں، اِس طرح مادی لحاظ سے عمدہ اور ناقص چیزوں کے لیے بھی آتے ہیں۔
      اصل الفاظ ہیں: ’وَلَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَھُمْ اِلآی اَمْوَالِکُمْ‘۔ اِن میں ’اِلٰی‘ کا صلہ ’ضَمًّا‘ یا اِس کے ہم معنی کسی لفظ سے متعلق ہے جو عربیت کے اسلوب پر حذف ہو گیا ہے۔
      اِس پوری آیت کا مدعا یہ ہے کہ یتیموں کے سرپرست اُن کے مال اُن کے حوالے کریں، اُسے خود ہضم کرنے کی کوشش نہ کریں۔ ظلم و ناانصافی سے یتیم کا مال ہڑپ کرنا گویا اپنے پیٹ میں آگ بھرنا ہے۔ لہٰذا کوئی شخص نہ اپنا برا مال اُن کے اچھے مال سے بدلنے کی کوشش کرے اور نہ انتظامی سہولت کی نمایش کرکے اُس کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر کھانے کے مواقع پیدا کرے۔ اِس طرح کا اختلاط اگر کسی وقت کیا جائے تو یہ خردبرد کے لیے نہیں، بلکہ اُن کی بہبود اور اُن کے معاملات کی اصلاح کے لیے ہونا چاہیے۔

    • امین احسن اصلاحی اور اگر تمھیں اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے معاملے میں انصاف نہ کر سکو گے تو عورتوں میں سے جو تمھارے لیے جائز ہوں ان سے دو دو، تین تین، چار چار تک نکاح کر لو۔ اور اگر ڈر ہو کہ ان کے درمیان عدل نہ کر سکو گے تو ایک ہی پر بس کرو یا پھر کوئی لونڈی جو تمھاری ملک میں ہو۔ یہ طریقہ اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ تم انصاف سے نہ ہٹو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’یتامیٰ‘ کا مفہوم: ’یَتَامٰی‘ کا لفظ ان نابالغوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جن کا باپ فوت ہو چکا ہو، عام اس سے کہ وہ نابالغ، لڑکے ہیں یا لڑکیاں۔ صرف نابالغ لڑکیوں کے لیے اس کا استعمال نہ عربی زبان میں معلوم ہے، نہ قرآن مجید اور حدیث میں۔ قرآن میں یہ لفظ کم از کم پندرہ جگہ اسی جمع کی صورت میں استعمال ہوا ہے لیکن کسی جگہ بھی صرف یتیم بچیوں کے مفہوم میں نہیں استعمال ہوا ہے۔
      ’مَا طَابَ لَکُمْ‘ کا مفہوم: ’مَا طَابَ لَکُمْ‘ کے معنی بعض اہل تاویل نے ’مَا حَلَّ لَکُمْ‘ (یعنی جو عورتیں تمھارے لیے جائز ہوں) لیے ہیں۔ یہ مفہوم لفظ کے استعمالات کے مطابق ہے، اگرچہ ازروئے لغت و ازروئے استعمال اس کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ ’’جو راضی ہوں۔‘‘ آگے والی آیت میں ’فَاِنْ طِبْنَ لَکُمْ‘ کے الفاظ سے اس مفہوم کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ نیز یہ مفہوم بھی اس کا ہو سکتا ہے کہ جن سے تمھاری زندگی میں خوشگواری پیدا ہو۔ یہاں یہ تمام معانی بنتے ہیں لیکن ہم نے پہلے معنی کو ترجیح دی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موقع و محل سے یہ زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔
      ’نِسَاء‘ سے مراد یتامیٰ کی مائیں ہیں: ’نِسَاء‘ کا لفظ اگرچہ ظاہر میں عام ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ اس سے عام عورتیں مراد نہیں ہیں بلکہ یتیموں کی مائیں مراد ہیں۔ عام بول کر خاص مراد لینا، بشرطیکہ قرینہ موجود ہو، عربی زبان میں بہت معروف ہے۔ قرآن میں اس کی مثالیں بکثرت ہیں۔ یہ قرینہ چونکہ مضمون کے تدریجی ارتقا سے خود بخود واضح ہو جائے گا اس وجہ سے یہاں اس کے دلائل کے ذکر کی ضرورت نہیں ہے۔
      مصلحت کے لیے تعددِ ازواج کی اجازت: آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم (مخاطب یتیموں کے اولیاء اور سرپرست ہی ہیں) بر بنائے احتیاط یہ اندیشہ رکھتے ہو کہ تمھارے لیے یتیموں کے مال اور ان کے واجبی حقوق کی کماحقہٗ نگہداشت ایک مشکل کام ہے، تم تنہا اپنی ذمہ داری پر اس سے بحسن و خوبی عہدہ بر آ نہیں ہو سکتے، اگر یتیموں کی ماں بھی اس ذمہ داری میں تمھارے ساتھ شریک ہو جائے تو تم اس فرض سے عمدہ طریقے پر عہدہ بر آ ہو سکتے ہو اس لیے کہ یتیموں کے ساتھ جو قلبی لگاؤ اس کو ہو سکتا ہے، کسی دوسرے کو نہیں ہو سکتا اور ان کے حقوق کی نگہداشت جس بیداری کے ساتھ وہ کر سکتی ہے کسی اور کے لیے ممکن نہیں تو ان میں سے جو تمھارے لیے جائز ہوں، ان سے تم نکاح کر لو، بشرطیکہ عورتوں کی تعداد کسی صورت میں چار سے زیادہ نہ ہونے پائے اور تم ان کے درمیان عدل قائم رکھ سکو۔ اگر یہ اندیشہ ہو کہ عدل نہیں قائم رکھ سکو گے تو پھر ایک سے زیادہ نکاح نہ کرو۔ فرمایا کہ یہ طریقہ تمھیں حق و انصاف پر استوار رکھنے کے نقطۂ نظر سے زیادہ صحیح ہے۔
      اس سے معلوم ہوا کہ بیویوں کے معاملے میں عدل کی شرط ایک ایسی اٹل شرط ہے کہ یتیموں کے حقوق کی نگہداشت جیسی اہم دینی مصلحت کے پہلو سے بھی اس میں کسی لچک کی شریعت نے گنجائش نہیں رکھی ہے۔
      ایک شبہے کا ازالہ: یہاں بعض لوگوں کے ذہن میں یہ شبہ پیدا ہو گا کہ آیت کی تاویل اگر یہ ہے جو بیان ہوئی تو اس سے تو صاف یہ بات نکلتی ہے کہ اسلام میں تعدد ازواج کی اجازت مطلق نہیں بلکہ یتیموں کی مصلحت کے ساتھ مقید ہے۔ اس شبہے کا جواب یہ ہے کہ یہاں مسئلے کے بیان کی نوعیت یہ نہیں ہے کہ یتیموں کی مصلحت کی قید کے ساتھ تعدد ازواج کی اجازت دی گئی ہو اور بصورتِ دیگر یہ ممنوع ہو بلکہ یہ ہے کہ یتامیٰ کی مصلحت کے نقطۂ نظر سے تعدد ازواج کے اس رواج سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی گئی ہے جو عرب میں تھا البتہ اس کو چار تک محدود کر دیا گیا ہے۔ اگر مقصود تعدد ازواج کو یتیموں کی مصلحت کے ساتھ مقید کرنا ہوتا تو اس کے لیے اسلوب بیان اس سے بالکل مختلف ہوتا۔ اس اسلوبِ بیان سے صرف یہ بات نکلتی ہے کہ تعدد ازواج کی مروجۂ وقت صورت پر ایک قید عائد کر کے اس سے ایک معاشرتی مصلحت میں فائدہ اٹھانے کی طرف رہنمائی فرمائی گئی ہے لیکن معاشرتی مصلحت صرف ایک یتیموں ہی کی مصلحت نہیں ہے بلکہ اور بھی ہو سکتی ہے۔ پھر کوئی وجہ نہیں ہے کہ اس میں اس سے فائدہ اٹھانے کی ممانعت ہو۔
      ایک اور شبہے کا جواب: ممکن ہے یہاں ایک اور شبہ بھی بعض لوگوں کو ہو کہ ہم نے یہاں ان لوگوں کے قول کو جنھوں نے یتامیٰ سے یتیم لڑکیوں کو مراد لیا ہے، محض اس دلیل کی بنیاد پر نظر انداز کر دیا ہے کہ اس لفظ کا استعمال صرف لڑکیوں کے لیے معروف نہیں ہے درآنحالیکہ ’نساء‘ سے ہم نے یتیموں کی ماؤں کو مراد لیا ہے جب کہ اس لفظ کا بھی استعمال اس معنی کے لیے معروف نہیں ہے۔ اس شبہے کا جواب یہ ہے کہ ہم نے اس قول کو صرف اسی بنیاد پر نظر انداز نہیں کیا ہے کہ لغت اور استعمال اس کے حق میں نہیں ہے بلکہ اس کی یہ وجہ بھی ہے کہ یہ معنی لینے میں آیت کی تاویل صحیح نہیں بنتی۔ کسی شخص کو یہ اندیشہ ہو کہ اگر وہ ایک یتیم بچی سے نکاح کرے گا تو چونکہ اس کا باپ یا بھائی موجود نہیں ہے اس وجہ سے وہ اس کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی کرے گا تو اس کو یہ ہدایت ہونی تھی کہ وہ اس وقت تک اس کے ساتھ نکاح کرنے میں توقف کرے جب تک وہ بالغ ہو کر اپنے حقوق و فرائض کو اپنے اختیار و ارادے کے ساتھ سمجھ نہ سکے یا صرف یہ ہدایت ہونی تھی کہ ایسا شخص کسی اور عورت سے نکاح کرے، اس کے ساتھ تعدد ازواج کی اجازت اور اس کے قیود و شرائط کے بیان کے لیے کوئی ضرورت داعی نہیں تھی۔ اگر یہ کہا جائے کہ ایک یتیمہ بالغ ہونے کے بعد بھی باپ بھائی کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے بے بس ہی ہوتی ہے تو یہ ہدایت ہونی تھی کہ ایسی عورتوں سے نکاح کرو جن کے باپ بھائی زندہ ہوں، اس لیے کہ اس قسم کی بے بسی دوسری عورتوں کو بھی لاحق ہو سکتی ہے اگرچہ ان کو یتیمی کی بے بسی سے سابقہ نہ پیش آیا ہو۔
      یہ بات بھی یادرکھنے کی ہے کہ اگر کسی کی نگرانی میں کوئی یتیمہ ہو، وہ اس کی اچھی طرح تعلیم و تربیت کرے اور اس کے بالغ ہونے پر اس کی مرضی سے اس سے نکاح کرے تو شریعت میں یہ بات نا پسندیدہ نہیں بلکہ پسندیدہ ہے۔
      بہرحال ہم نے اس قول کو صرف ایک ہی وجہ کی بنا پر نہیں بلکہ متعدد وجوہ کی بنا پر چھوڑا ہے اور نساء کے لفظ کی جو تخصیص کی ہے وہ ان قرائن کی بنا پر ہے جن میں سے بعض اوپر مذکور ہوئے اور بعض آگے آ رہے ہیں۔
      ’مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ‘ سے مراد لونڈیاں ہیں۔ چونکہ ان کے معاملے میں عدل وغیرہ کی شرط نہیں ہے اس وجہ سے ان کی اجازت دی۔ اس مسئلے کی صحیح نوعیت پر ہم بقرہ میں لکھ چکے ہیں۔ آگے موزوں مقام پر اس پر مزید بحث کریں گے۔

      جاوید احمد غامدی اور اگر اندیشہ ہو کہ یتیموں کے معاملے میں انصاف نہ کر سکو گے تو (اُن کے ساتھ) جو عورتیں ہیں، اُن میں سے جو تمھارے لیے موزوں ہوں، اُن میں سے دودو، تین تین، چار چار سے نکاح کرلو۔ پھر اگر ڈر ہو کہ (اُن کے درمیان) انصاف نہ کر سکو گے تو ایک ہی بیوی رکھو یا پھر لونڈیاں جو تمھارے قبضے میں ہوں۔ یہ اِس کے زیادہ قریب ہے کہ تم بے انصافی سے بچے رہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں ’مَا طَابَ لَکُمْ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن کے معنی ’جو پسند آئیں‘ اور ’جو راضی ہوں‘ کے بھی ہوسکتے ہیں۔ تاہم جس معنی کو ہم نے ترجیح دی ہے، وہ موقع ومحل سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔
      یہ آیت اصلاً تعدد ازواج سے متعلق کوئی حکم بیان کرنے کے لیے نازل نہیں ہوئی، بلکہ یتیموں کی مصلحت کے پیش نظر تعدد ازواج کے اُس رواج سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب کے لیے نازل ہوئی ہے جو عرب میں پہلے سے عام تھا۔ قرآن نے دوسرے مقامات پر صاف اشارہ کیا ہے کہ انسان کی تخلیق جس فطرت پر ہوئی ہے، اُس کی رو سے خاندان کا ادارہ اپنی اصلی خوبیوں کے ساتھ ایک ہی مردوعورت میں رشتۂ نکاح سے قائم ہوتا ہے۔ چنانچہ جگہ جگہ بیان ہوا ہے کہ انسانیت کی ابتدا سیدنا آدم سے ہوئی ہے اور اُن کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک ہی بیوی پیدا کی تھی۔ یہ تمدن کی ضروریات اور انسان کے نفسی، سیاسی اور سماجی مصالح ہیں جن کی بنا پر تعدد ازواج کا رواج کم یا زیادہ، ہر معاشرے میں رہا ہے اور اِنھی کی رعایت سے اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی کسی شریعت میں اِسے ممنوع قرار نہیں دیا۔ یہاں بھی اِسی نوعیت کی ایک مصلحت میں اِس سے فائدہ اٹھانے کی طرف رہنمائی کی گئی ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ یتیموں کے مال کی حفاظت اور اُن کے حقوق کی نگہداشت ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ لوگوں کے لیے تنہا اِس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونا مشکل ہو اور وہ یہ سمجھتے ہوں کہ یتیم کی ماں یا اُس کی بہن کو اُس میں شامل کر کے وہ اپنے لیے سہولت پیدا کر سکتے ہیں تو اُنھیں چاہیے کہ اِن عورتوں میں سے جو اُن کے لیے موزوں ہوں، اُن کے ساتھ نکاح کر لیں۔ تاہم دوشرطیں اِس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اِس پر عائد کر دی ہیں:

      ایک یہ کہ یتیموں کے حقوق جیسی مصلحت کے لیے بھی عورتوں کی تعداد کسی شخص کے نکاح میں چار سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔
      دوسری یہ کہ بیویوں کے درمیان انصاف کی شرط ایک ایسی اٹل شرط ہے کہ آدمی اگر اِسے پورا نہ کر سکتا ہو تو اِس طرح کی کسی اہم دینی مصلحت کے پیش نظر بھی ایک سے زیادہ نکاح کرنا اُس کے لیے جائز نہیں ہے۔
      یہ اِس لیے فرمایا ہے کہ غلامی کا ادارہ اُس وقت تک ختم نہیں ہوا تھا۔ چنانچہ سورۂ محمد میں جنگی قیدیوں کو لونڈی غلام بنانے کی ممانعت کے باوجود جو غلام پہلے سے معاشرے میں موجود تھے، اُن کے لیے یہ استثنا باقی رکھنا ضروری تھا۔ بعد میں قرآن نے اُن کے ساتھ لوگوں کومکاتبت کا حکم دے دیا۔ یہ اِس بات کا اعلان تھا کہ لوح تقدیر اب غلاموں کے ہاتھ میں ہے اور وہ اپنی آزادی کی تحریر اُس پر، جب چاہیں، رقم کر سکتے ہیں۔
      یہاں یہ بات واضح رہے کہ قرآن کے زمانۂ نزول میں غلامی کو معیشت اور معاشرت کے لیے اِسی طرح ناگزیر سمجھا جاتا تھا، جس طرح اب سود کو سمجھا جاتا ہے۔ نخاسوں پر ہر جگہ غلاموں اور لونڈیوں کی خرید و فروخت ہوتی تھی اور کھاتے پیتے گھروں میں ہر سن وسال کی لونڈیاں اور غلام موجود تھے۔ اِس طرح کے حالات میں اگر یہ حکم دیا جاتا کہ تمام غلام اور لونڈیاں آزاد ہیں تو اُن کی ایک بڑی تعداد کے لیے جینے کی کوئی صورت اِس کے سوا باقی نہ رہتی کہ مرد بھیک مانگیں اور عورتیں جسم فروشی کے ذریعے سے اپنے پیٹ کا ایندھن فراہم کریں۔ یہ مصلحت تھی جس کی وجہ سے قرآن نے تدریج کا طریقہ اختیار کیا اور اِس سلسلہ کے کئی اقدامات کے بعد بالآخر سورۂ نور (۲۴) کی آیت ۳۳ میں مکاتبت کا وہ قانون نازل فرمایا جس کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ اِس کے بعد نیکی اور خیر کے ساتھ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی صلاحیت رکھنے والے کسی شخص کو بھی غلام بنائے رکھنے کی گنجایش باقی نہیں رہی۔ اِس قانون کی وضاحت اگر اللہ نے چاہا تو ہم نور کی اِسی آیت کے تحت کریں گے۔

    • امین احسن اصلاحی اور ان عورتوں کو ان کے مہر دو مہر کی حیثیت سے، پس اگر وہ اس میں سے تمھارے لیے کچھ چھوڑ دیں اپنی خوشی سے تو تم اس کو کھاؤ کہ وہ تمھیں راس اور سازگار ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’نِحْلَۃ‘ کا مفہوم ۔۔۔ مہر کی ادائیگی کی شرط: اس آیت میں بھی ’نساء‘ سے مراد یتیموں کی مائیں ہی ہیں۔ ’نحل‘ کے معنی کسی کو کچھ دینے کے ہیں اورجب عورت کے تعلق سے یہ لفظ استعمال ہو تو اس کے معنی مہر ادا کرنے کے ہوتے ہیں۔ ’نحلہ‘ یہاں فعل کی تاکید کے لیے ہیں یعنی ان کو اس طرح مہردو جو مہر دینے کا طریقہ ہے۔ اس تاکید کی ضرورت اس وجہ سے پیش آئی کہ جب ان کے ساتھ نکاح انہی کے بچوں کی مصلحت کے پہلو سے کیا گیا ہے تو ایک شخص خیال کر سکتا ہے کہ اس صورت میں مہر وغیرہ کی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ فرمایا کہ نہیں جس طرح عدل شرط ہے اسی طرح مہر کی ادائیگی بھی شرط ہے اور یہ مہر، مہر کی طرح ادا ہونا چاہیے، صرف چھدا اتارنے کی کوشش نہیں ہونی چاہیے۔
      ’فَاِنْ طِبْنَ لَکُمْ عَنْ شَیْءٍ مِّنْہُ‘ میں حرف ’عن‘ دست برداری کے مفہوم کی طرف اشارہ کر رہا ہے یعنی وہ اپنی خوشی سے اگر اپنے مہر کا کوئی حصہ معاف کر دیں تو تم اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہو، یہ تمھارے لیے رچنے پچنے والی چیز ہو سکتی ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور اِن عورتوں کوبھی اِن کے مہر دو، مہر کے طریقے سے۔ پھر اگر وہ اُس میں سے تمھارے لیے خوشی سے کچھ چھوڑ دیں تو اُس کو، البتہ تم مزے سے کھا سکتے ہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں ’نِحْلَۃً‘ کا لفظ آیا ہے۔ اِس کا نصب ہمارے نزدیک مصدر کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اِن عورتوں کا مہر اُسی طریقے سے دیا جائے، جس طرح عام عورتوں کو دیا جاتا ہے۔ یہ عذر نہیں پیدا کرنا چاہیے کہ نکاح چونکہ اُنھی کی اولاد کی مصلحت سے کیا گیا ہے، اِس لیے اب کوئی ذمہ داری باقی نہیں رہی۔
      اصل الفاظ ہیں: ’فَاِنْ طِبْنَ لَکُمْ عَنْ شَیْءٍ مِّنْہُ‘۔ اِن میں حرف ’عَنْ‘ دست برداری کے مفہوم کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ یعنی اپنی خوشی سے اگر وہ مہر کے کسی حصے سے دست بردار ہو جائیں یا کوئی اور رعایت کریں تو اِس میں حرج نہیں ہے۔ لوگ اگر چاہیں تو اِس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اور تم وہ مال جس کو خدا نے تمھارے لیے قیام و بقا کا ذریعہ بنایا ہے، نادان یتیموں کے حوالہ نہ کرو۔ ہاں اس سے ان کو فراغت کے ساتھ کھلاؤ، پہناؤ اور دستور کے موافق ان کی دل داری کرتے رہو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’سُفَھَاء‘ سے مراد نادان یتامیٰ ہیں ۔۔۔ مال کے اندر انفرادی اور اجتماعی بہبود کے پہلو: ’سُفَھَاء‘ سے مراد وہی یتامیٰ ہیں جن کا ذکر چل رہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ حکم جو تمھیں دیا گیا ہے کہ تیموں کا مال ان کو دو تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اگر وہ بالکل نادان و نا سمجھ ہوں جب بھی جو کچھ ان کا ہے ان کے حوالہ کر دو۔ مال کو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے قیام و بقا کا ذریعہ بنایا ہے اس وجہ سے اس کے اندر انفرادی حق کے ساتھ خاندانی اور اجتماعی بہبود کا بھی ایک پہلو ہے۔ اس پہلو سے اس کی بربادی میں ایک ہی کا نقصان نہیں ہے بلکہ پورے خاندان اور بالآخر پورے معاشرے کا نقصان ہے۔ یہ چیز مقتضی ہے کہ کوئی ایسی شکل اختیار نہ کی جائے جو کسی مال کی بربادی کا باعث ہو۔ اگر یتیم ابھی نادان اور نا سمجھ ہے تو سرپرست کا فرض ہے کہ وہ اس کا مال اپنی حفاظت و نگرانی میں رکھے البتہ اس کو کھلائے پہنائے اور اس کی دل داری کرتا رہے تاکہ اس کو اطمینان رہے کہ یہ نگرانی اسی کے فائدے کے لیے ہے۔ ذمہ داری سنبھالنے کے قابل ہو جانے کے بعد اس کی ہر چیز اسی کو ملنی ہے۔
      ’وَّارْزُقُوْھُمْ فِیْھَا‘ میں ’فِیْھَا‘ کے لفظ سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ یتیموں کی ضروریات پوری کرنے میں سر پرستوں کو کشادہ دلی سے کام لینا چاہیے۔ خسیس اورمکھی چوس سرپرستوں کا سا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔ عربی میں جب کہیں گے کہ ’ارزقوھم فیھا‘ تو اس کے معنی ہوں گے ان کو فراخی سے کھلاؤ پلاؤ اور اگر کہیں ’وارزقوھم منھا‘ جیسا کہ آگے آیت ۸ میں آ رہا ہے، تو اس کے معنی ہوں گے ان کو اس میں سے کچھ دے دلا دو۔

      جاوید احمد غامدی اور (یتیم اگر ابھی نادان اور بے سمجھ ہوں تو) اپنا وہ مال جس کو اللہ نے تمھارے لیے قیام وبقا کا ذریعہ بنایا ہے، اِن بے سمجھوں کے حوالے نہ کرو۔ ہاں، اِ س سے فراغت کے ساتھ اُن کو کھلاؤ، پہناؤ اور اُن سے بھلائی کی بات کرو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس سے واضح ہے کہ حقوق ملکیت کے ساتھ خاندانی اور اجتماعی بہبود کا پہلو بھی لازماً ملحوظ رہنا چاہیے، اِس لیے کہ کسی شخص کے مال کی بربادی پورے خاندان، بلکہ بعض اوقات پورے معاشرے کے لیے نقصان کا باعث ہوجاتی ہے۔ یتیم کے مال کو اِسی بنا پر اِس آیت میں اللہ تعالیٰ نے معاشرے کا مال قرار دیا ہے اور ہدایت فرمائی ہے کہ یتیم اگر ابھی نادان اور بے سمجھ ہے تو اُس کے سرپرستوں کا فرض ہے کہ اُس کا مال اپنی حفاظت اور نگرانی میں رکھیں، اُسے ہرگز اُس کے حوالے نہ کریں، ورنہ اندیشہ ہے کہ وہ اپنا یہ مال جسے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے قیام وبقا کا ذریعہ بنایا ہے، ضائع کربیٹھے گا۔
      اصل میں ’وَارْزُقُوْھُمْ فِیْھَا‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن میں ’فِیْھَا‘ کا لفظ اشارہ کرتا ہے کہ یتیموں کے مال سے اُن کی ضروریات فراخ دلی کے ساتھ پوری کی جائیں۔ عربی زبان میں ’اُرْزُقُوْھُمْ فِیْھَا‘ کہا جائے تو اِس کا مفہوم یہی ہوگا۔ ’فِیْھَا‘ کے بجاے اِس جملے میں ’منھا‘ ہوتا تو اِس کے معنی، البتہ یہ ہوتے کہ اُن کو اِس میں سے کچھ دے دلا دیا جائے۔

    • امین احسن اصلاحی اور ان یتیموں کو جانچتے رہو یہاں تک کہ جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں تو اگر تم ان کے اندر سوجھ بوجھ پاؤ تو ان کا مال ان کے حوالے کر دو اور اس ڈر سے کہ وہ بڑے ہو جائیں گے اسراف اور جلد بازی کر کے اُن کا مال ہڑپ نہ کرو اور جو غنی ہو اس کو چاہیے کہ وہ پرہیز کرے اور جو محتاج ہو تو وہ دستور کے مطابق اس سے فائدہ اُٹھائے۔ پھر جب تم ان کا مال ان کے حوالے کرنے لگو تو ان پر گواہ ٹھہرا لو۔ ویسے اللہ حساب لینے کے لیے کافی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یتیموں کا مال کب اُن کے حوالے کیا جائے: یہ وہ طریقہ بتایا ہے جو یتیموں کا مال ان کے حوالے کرنے کے معاملے میں سر پرستوں کو اختیار کرنا چاہیے۔ فرمایا کہ یتیموں کو جانچتے رہو یعنی کوئی چھوٹی موٹی ذمہ داری ان کے سپرد کر کے ان کی صلاحیت کا امتحان کرتے رہو کہ معاملات کی سوجھ بوجھ ان کے اندر پیدا ہو رہی ہے یا نہیں۔ نکاح کی عمر، یعنی بلوغ تک، ان کے ساتھ یہی معاملہ رکھنا چاہیے۔ جب بالغ ہو جائیں تو اس وقت اگر یہ محسوس ہو کہ ان کے اندر اب اپنی ذمہ داریوں کے اٹھانے کی صلاحیت پیدا ہو چکی ہے تو ان کا مال ان کے سپرد کر دینا چاہیے۔
      جنسی بلوغ عقلی بلوغ کو مستلزم نہیں ہے: آیت میں اس بات کا اشارہ صاف موجود ہے کہ جنسی بلوغ ہر حال میں عقلی بلوغ کو مستلزم نہیں ہے۔ ایسے بھی کتنے بالغ ہو سکتے ہیں جو بالغ ہو جانے کو تو ہو جاتے ہیں لیکن ناک لگی ہی رہ جاتی ہے۔ ایسے الھڑ اور بالغ نادانوں کے معاملے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اس چیز کو ان کے مال پر قابض رہنے کا بہانہ نہیں بنانا چاہیے بلکہ جو کچھ کرنا چاہیے ان کی بہبود پیش نظر رکھ کر کرنا چاہیے۔
      غریب سرپرست کو یتیم کے مال سے معروف کے مطابق فائدہ اٹھانے کی اجازت: سرپرست اگر مستغنی آدمی ہو تو اس کو یتیم کے مال میں سے کچھ لینے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اگر غریب ہو تو دستور کے مطابق اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ دستور کے مطابق سے مراد یہ ہے کہ ذمہ داریوں کی نوعیت، جائداد کی حیثیت، مقامی حالات اور سرپرست کے معیارِ زندگی کے اعتبار سے وہ فائدہ اٹھانا معقولیت کے حدود کے اندر ہو، یہ نوعیت نہ ہو کہ ہر معقول آدمی پر یہ اثر پڑے کہ یتیم کے بالغ ہو جانے کے اندیشے سے اسراف اور جلد بازی کر کے یتیم کی جائداد ہضم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
      مال کی حوالگی کے وقت گواہ مقرر کرنے کی ہدایت: آخر میں یہ ہدایت ہوئی کہ یتیم کا مال جب اس کے حوالے کرنے لگو تو اس پر کچھ ثقہ اور معتبر لوگوں کو گواہ بھی بنا لو تاکہ کسی سوئے ظن اور نزاع کا احتمال باقی نہ رہے اور اس کے ساتھ یہ بات بھی یاد رکھو کہ سارے معاملات کا حساب خدا کے ہاں بھی دینا ہے۔ اگر کسی قسم کی خیانت ہوئی تو ہو سکتا ہے کہ دنیا کے شاہدوں اور گواہوں کی نگاہ اس پر نہ پڑے لیکن خدا کی نگاہ کسی چیز سے بھی نہیں چوک سکتی۔

      جاوید احمد غامدی اور نکاح کی عمر کو پہنچنے تک اِن یتیموں کو جانچتے رہو، پھر اگر اُن کے اندر اہلیت پاؤ تو اُن کے مال اُن کے حوالے کردو، اور اِ س اندیشے سے کہ بڑے ہوجائیں گے، اُن کے مال اڑا کر اور جلد بازی کرکے کھا نہ جاؤ۔ اور (یتیم کا) جو (سرپرست) غنی ہو، اُسے چاہیے کہ (اُس کے مال سے) پرہیز کرے اور جو محتاج ہو، وہ (اپنے حق خدمت کے طور پر) دستور کے مطابق (اُس سے) فائدہ اٹھائے۔ پھر جب اُن کا مال اُن کے حوالے کرنے لگو تو اُن پر گواہ ٹھیرا لو اور (یاد رکھو کہ) حساب کے لیے اللہ کافی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی کوئی چھوٹی یا بڑی ذمہ داری اُن کے سپرد کر کے دیکھتے رہو کہ معاملات کی سوجھ بوجھ اور اپنی ذمہ داریوں کو اٹھانے کی صلاحیت اُن کے اندر پیدا ہورہی ہے یا نہیں، اِس لیے کہ جنسی بلوغ ہر حال میں عقلی بلوغ کو مستلزم نہیں ہے۔ اِس طرح کے تمام معاملات میں یہ چیز لازماً پیش نظر رہنی چاہیے۔
      یہ سرپرستوں کو نصیحت فرمائی ہے کہ اپنی کسی خدمت کے عوض کچھ لینا اگرچہ ممنوع نہیں ہے، تاہم وہ اگر مستغنی ہوں تو بہتر یہی ہے کہ اِس سے پرہیز کریں، لیکن غریب ہوں تو یتیم کے مال سے اپنا حق خدمت دستور کے مطابق لے سکتے ہیں۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اِس کی وضاحت میں لکھا ہے:

      ’’... دستور کے مطابق سے مراد یہ ہے کہ ذمہ داریوں کی نوعیت، جائداد کی حیثیت، مقامی حالات اور سرپرست کے معیار زندگی کے اعتبار سے وہ فائدہ اٹھانا جو معقولیت کے حدود کے اندر ہو، یہ نوعیت نہ ہو کہ ہر معقول آدمی پر یہ اثر پڑے کہ یتیم کے بالغ ہوجانے کے اندیشے سے اسراف اور جلد بازی کر کے یتیم کی جائداد ہضم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔‘‘ (تدبرقرآن ۲/ ۲۵۵)

      یعنی اِس بات کو یاد رکھو کہ ایک دن یہی حساب اللہ تعالیٰ کو بھی دینا ہے اور وہ سمیع وعلیم ہے، اُس سے کوئی چیز چھپائی نہیں جاسکتی۔

       

    • امین احسن اصلاحی والدین اور اقربا کے ترکے میں سے مردوں کے لیے بھی ایک حصہ ہے اور والدین اور اقربا کے ترکے میں سے عورتوں کا بھی ایک حصہ ہے خواہ ترکہ کم ہو یا زیادہ۔ ایک مقررہ حصہ۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یتامیٰ کے حقوق کے تحفظ نے دوسروں کے حقوق کی راہ کھول دی ۔۔۔ قانونِ وراثت کی تمہید: یتیموں کے حقوق کے تحفظ کے بعد اب یہ تمہید ہے اس قانونِ وراثت کی جس میں مردوں اور عورتوں دونوں کے حقوق، ان کے والدین و اقربا کے ترکے میں سے معین کر دیے گئے تاکہ زور آور عصبات اور وارثوں کے لیے مورث کی تمام املاک و جائداد سمیٹ کر اس پر قابض ہو جانے کا کوئی موقع ہی باقی نہ رہے۔ اسلام سے پہلے نہ صرف عرب میں بلکہ ساری دنیا میں یہ حال رہا ہے کہ یتیموں اور عورتوں کا ذکر، تمام کمزور ورثہ زور آور وارثوں کے رحم و کرم پر تھے۔ قرآن نے اس صورتِ حال کی طرف دوسرے مقام ’وَتاْکُلُوْنَ التُّرَاثَ اَکْلًا لَّمًّا‘ کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے۔ اس صورتِ حال کو ختم کر دینے کے لیے قرآن نے تمام وارثوں کے حقوق معین کر دیے۔ مردوں کے بھی، عورتوں کے بھی۔ اوپر کی آیات کی تلاوت کرتا ہوا آدمی جب اس آیت پر پہنچتا ہے تو محسوس کرتا ہے کہ گویا یتیموں کی برکت سے دوسروں کے حقوق معین کرنے کی بھی راہ کھل گئی۔ یعنی جو خود حقوق سے محروم تھے انہوں نے نہ صرف یہ کہ حقوق حاصل کیے بلکہ ان کی بدولت دوسروں کو بھی حقوق حاصل ہوئے۔ خاص طور پر عورتوں کا ذکر اس طرح آیا ہے گویا پہلی بار ان کو بھی مردوں کے پہلو بہ پہلو حق داروں کی صف میں جگہ ملی اور اپنے والدین و اقربا کے ترکے میں سے، خواہ کم ہو یا زیادہ، ان کا بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک معین حصہ فرض کر دیا گیا۔
      حصے معین ہو جانے کے بعد قانونی حق دار تو وہی ہوں گے جو ازروئے شریعت وارث قرار پائے ہیں لیکن صلہ رحم اور خاندانی و انسانی ہمدردی کے عام حقوق پھر بھی باقی رہیں گے۔ چنانچہ وارثوں کو خطاب کر کے ہدایت ہوئی کہ اگر کسی کی وراثت تقسیم کرتے وقت قرابت مند، یتیم اور مسکین آ موجود ہوں تو ہر چند وراثت میں ان کا کوئی شرعی حق نہ ہو تاہم وہ ڈانٹے ڈپٹے نہ جائیں بلکہ ان کو بھی اس میں سے کچھ دے دلا کر ان کی دل داری کی کوشش کی جائے۔ فرمایا کہ یہ بات بھولنی نہیں چاہیے کہ جس طرح دوسروں کے بچے یتیم ہوئے ہیں اسی طرح ان کے بچے بھی یتیم ہو سکتے تھے۔ پھر سوچیں کہ اگر یہ اپنے پیچھے یتیم چھوڑتے تو ان کے دل میں ان سے متعلق کیا کچھ اندیشے ہوتے اس وجہ سے اللہ سے ڈرنا چاہیے اور سیدھی بات کرنی چاہیے۔
      آخر میں آخری تنبیہ فرمائی کہ جو لوگ ظلم و حق تلفی کی راہ سے اپنے پیٹوں میں یتیموں کے مال بھر رہے ہیں وہ انجام کار کے اعتبار سے اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں اور آخرت میں وہ اس آگ کو لیے ہوئے دوزخ کی بھڑکتی آگ میں پڑیں گے۔

      جاوید احمد غامدی (تمھارے) ماں باپ اور اقربا جو کچھ چھوڑیں، اُس میں مردوں کا بھی ایک حصہ ہے اور (تمھارے) ماں باپ اور اقربا جوکچھ چھوڑیں، اُس میں عورتوں کا بھی ایک حصہ ہے، خواہ ترکہ کم ہو یا زیادہ، ایک متعین حصے کے طور پر۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ میراث کے اُن حصوں کی طرف اشارہ ہے جو آگے کی آیات میں متعین کر دیے گئے ہیں تاکہ انسان جس چیز کا فیصلہ خود کرلینے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اُس کے بارے میں اُسے رہنمائی حاصل ہوجائے اور زورآور وارثوں کے لیے مرنے والے کی تمام املاک اور جائداد سمیٹ کر قبضہ کرلینے کا کوئی موقع باقی نہ رہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... اسلام سے پہلے نہ صرف عرب میں، بلکہ ساری دنیا میں یہ حال رہا ہے کہ یتیموں اور عورتوں کا کیا ذکر، تمام کمزور ورثہ زور آور وارثوں کے رحم وکرم پر تھے۔ قرآن نے اِس صورت حال کی طرف دوسرے مقام ’وَتَاْکُلُوْنَ التُّرَاثَ اَکْلاً لَّمًّا‘ کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے۔ اِس صورت حال کو ختم کر دینے کے لیے قرآن نے تمام وارثوں کے حقوق معین کردیے۔ مردوں کے بھی، عورتوں کے بھی۔ اوپر کی آیات کی تلاوت کرتا ہوا آدمی جب اِس آیت پر پہنچتا ہے تو محسوس کرتا ہے کہ گویا یتیموں کی برکت سے دوسروں کے حقوق معین کرنے کی بھی راہ کھل گئی۔ یعنی جو خود حقوق سے محروم تھے، اُنھوں نے نہ صرف یہ کہ حقوق حاصل کیے، بلکہ اُن کی بدولت دوسروں کوبھی حقوق حاصل ہوئے۔ خاص طور پر عورتوں کا ذکر اِس طرح آیا ہے گویا پہلی بار اُن کو بھی مردوں کے پہلو بہ پہلو حق داروں کی صف میں جگہ ملی اور اپنے والدین واقرباکے ترکے میں سے، خواہ کم ہو یا زیادہ، اُن کا بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک معین حصہ فرض کردیا گیا۔‘‘ (تدبرقرآن ۲/ ۲۵۶)

    • امین احسن اصلاحی اور اگر تقسیم کے وقت قرابت مند، یتیم اور مسکین آ موجود ہوں تو اس میں سے ان کو بھی کچھ دو اور ان سے دستور کے مطابق بات کرو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اسلام سے پہلے نہ صرف عرب میں بلکہ ساری دنیا میں یہ حال رہا ہے کہ یتیموں اور عورتوں کا ذکر، تمام کمزور ورثہ زور آور وارثوں کے رحم و کرم پر تھے۔ قرآن نے اس صورتِ حال کی طرف دوسرے مقام ’وَتاْکُلُوْنَ التُّرَاثَ اَکْلًا لَّمًّا‘ کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے۔ اس صورتِ حال کو ختم کر دینے کے لیے قرآن نے تمام وارثوں کے حقوق معین کر دیے۔ مردوں کے بھی، عورتوں کے بھی۔ اوپر کی آیات کی تلاوت کرتا ہوا آدمی جب اس آیت پر پہنچتا ہے تو محسوس کرتا ہے کہ گویا یتیموں کی برکت سے دوسروں کے حقوق معین کرنے کی بھی راہ کھل گئی۔ یعنی جو خود حقوق سے محروم تھے انہوں نے نہ صرف یہ کہ حقوق حاصل کیے بلکہ ان کی بدولت دوسروں کو بھی حقوق حاصل ہوئے۔ خاص طور پر عورتوں کا ذکر اس طرح آیا ہے گویا پہلی بار ان کو بھی مردوں کے پہلو بہ پہلو حق داروں کی صف میں جگہ ملی اور اپنے والدین و اقربا کے ترکے میں سے، خواہ کم ہو یا زیادہ، ان کا بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک معین حصہ فرض کر دیا گیا۔

      جاوید احمد غامدی لیکن تقسیم کے موقع پر جب قریبی اعزہ اور یتیم اور مسکین وہاں آ جائیں تو اُس میں سے اُن کو بھی کچھ دے دو اور اُن سے بھلائی کی بات کرو۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اِس میں شبہ نہیں کہ ہر ایک کا حصہ مقرر کر دیا گیا ہے، لیکن اِس کے باوجود ، اُنھیں کچھ دے دلا کر اور اُن سے بھلائی کی بات کر کے رخصت کرنا چاہیے اور اِس طرح کے موقعوں پر چھوٹے دل کے کم ظرف لوگ جس طرح کی باتیں کیا کرتے ہیں، اُس طرح کی کوئی بات نہیں ہونی چاہیے۔

    • امین احسن اصلاحی ان لوگوں کو ڈرنا چاہیے جو اپنے پیچھے اگر ناتوان بچے چھوڑتے تو ان کے معاملے میں بہت اندیشہ ناک ہوتے۔ پس انھیں چاہیے کہ اللہ سے ڈریں اور سیدھی بات زبان سے نکالیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حصے معین ہو جانے کے بعد قانونی حق دار تو وہی ہوں گے جو ازروئے شریعت وارث قرار پائے ہیں لیکن صلہ رحم اور خاندانی و انسانی ہمدردی کے عام حقوق پھر بھی باقی رہیں گے۔ چنانچہ وارثوں کو خطاب کر کے ہدایت ہوئی کہ اگر کسی کی وراثت تقسیم کرتے وقت قرابت مند، یتیم اور مسکین آ موجود ہوں تو ہر چند وراثت میں ان کا کوئی شرعی حق نہ ہو تاہم وہ ڈانٹے ڈپٹے نہ جائیں بلکہ ان کو بھی اس میں سے کچھ دے دلا کر ان کی دل داری کی کوشش کی جائے۔ فرمایا کہ یہ بات بھولنی نہیں چاہیے کہ جس طرح دوسروں کے بچے یتیم ہوئے ہیں اسی طرح ان کے بچے بھی یتیم ہو سکتے تھے۔ پھر سوچیں کہ اگر یہ اپنے پیچھے یتیم چھوڑتے تو ان کے دل میں ان سے متعلق کیا کچھ اندیشے ہوتے اس وجہ سے اللہ سے ڈرنا چاہیے اور سیدھی بات کرنی چاہیے۔

      جاوید احمد غامدی اُن لوگوں کو ڈرنا چاہیے جو اگر اپنے پیچھے ناتواں بچے چھوڑتے تو اُن کے بارے میں اُنھیں بہت کچھ اندیشے ہوتے۔ سو چاہیے کہ اللہ سے ڈریں اور (ہر معاملے میں) سیدھی بات کریں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی جو لوگ ظلم و ناانصافی سے یتیموں کے مال ہڑپ کر رہے ہیں وہ تو بس اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں اور وہ دوزخ کی بھڑکتی آگ میں پڑیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آخر میں آخری تنبیہ فرمائی کہ جو لوگ ظلم و حق تلفی کی راہ سے اپنے پیٹوں میں یتیموں کے مال بھر رہے ہیں وہ انجام کار کے اعتبار سے اپنے پیٹوں میں آگ بھر رہے ہیں اور آخرت میں وہ اس آگ کو لیے ہوئے دوزخ کی بھڑکتی آگ میں پڑیں گے۔

      جاوید احمد غامدی (سنو، خبردار رہو)، یہ حقیقت ہے کہ جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں آگ ہی بھرتے ہیں اور عنقریب وہ دوزخ کی بھڑکتی آگ میں پڑیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اللہ تمھاری اولاد کے باب میں تمھیں ہدایت دیتا ہے کہ لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔ اگر لڑکیاں دو سے زائد ہیں تو اُن کے لیے ترکے کا دو تہائی ہے اور اگر اکیلی ہے تو اُس کے لیے آدھا ہے اور میت کے ماں باپ کے لیے ان میں سے ہر ایک کے لیے اِس کا چھٹا حصہ ہے جو مورث نے چھوڑا، اگر میت کے اولاد ہو۔ اور اگر اُس کے اولاد نہ ہو اور اُس کے وارث ماں باپ ہی ہوں تو اُس کی ماں کا حصہ ایک تہائی اور اگر اُس کے بھائی بہنیں ہوں تو اُس کی ماں کے لیے چھٹا حصہ ہے۔ یہ حصے اس وصیت کی تعمیل یا ادائے قرض کے بعد ہیں جو وہ کر جاتا ہے۔ تم اپنے باپوں اور بیٹوں کے متعلق یہ نہیں جان سکتے کہ تمھارے لیے سب سے زیادہ نافع کون ہو گا۔ یہ اللہ کا ٹھہرایا ہوا فریضہ ہے۔ بے شک اللہ ہی علم و حکمت والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مذکورہ بالا مجموعۂ آیات میں وراثت کے جو احکام بیان ہوئے ہیں وہ خود بھی واضح ہیں اور ان کی تفصیل فرائض کی کتابوں میں بھی موجود ہے اس وجہ سے ہم صرف بعض اہم باتوں کی وضاحت پر کفایت کریں گے۔
      ’وصیت‘ کا صحیح مفہوم: پہلی قابل توجہ چیز یہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے تقسیم وراثت سے متعلق جو احکام دیے ہیں ان کو اپنی وصیت سے تعبیر فرمایا ہے۔ وصیت کا صحیح مفہوم عربی زبان میں یہ ہے کہ کوئی شخص کسی پر یہ ذمہ داری ڈالے کہ جب فلاں صورت پیش آئے تو وہ فلاں طریقہ یا فلاں طرزِ عمل اختیار کرے۔ اس میں وصیت کرنے والے کی پیش بینی، خیر خواہی اور شفقت کا پہلو بھی مضمر ہوتا ہے اور اس کے اندر ایک عہد اور معاہدے کی ذمہ داری بھی پائی جاتی ہے۔ لفظ کے ان تمام مضمرات کو ادا کرنے کے لیے اردو میں کوئی لفظ مجھے نہیں ملا۔ میں نے جو لفظ اختیار کیا ہے وہ اس کے مفہوم پر پوری طرح حاوی نہیں ہے۔
      لڑکیوں کے بالمقابل لڑکوں کا حصہ دونا رکھنے کی وجہ: دوسری چیز یہ ہے کہ وراثت میں لڑکوں کا حصہ اللہ تعالیٰ نے لڑکیوں کے بالمقابل دونا رکھا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام کے نظامِ معاشرت میں کفالتی ذمہ داریاں اللہ تعالیٰ نے تمام تر مرد ہی پر ڈالی ہیں۔ عورت پر کوئی ذمہ داری نہیں ڈالی ہے۔ مرد ہی بیوی کے نان نفقے کا بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے اور وہی بچوں کا بھی کفیل بنایا گیا ہے۔ قرآن نے یہ بات بھی واضح طور پر بتا دی ہے کہ اپنی خلقی صفات کے اعتبار سے مرد ہی اس کا اہل ہے کہ وہ خاندان کا سردھرا اور قوام بنایا جائے اور یہ قوامیت خاندان کے نظم اور اس کے قیام و بقا کے لیے ناگزیر ہے۔ اگر خاندان کا کوئی قوام نہ ہو تو یہ بات خاندان کی فطرت کے خلاف ہے اور اگر خاندان کی قوام مرد کے بجائے عورت ہو تو یہ چیز انسانی فطرت کے خلاف ہے اور فطرت کی ہر مخالفت لازماً فساد و اختلال کا سبب ہو گی جس سے سارا معاشرہ درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ یہ چیز مقتضی ہوئی کہ مرد کو اس کی ذمہ داریوں کے لحاظ سے بعض حقوق میں ترجیح ہو۔ جو لوگ ہر پہلو سے مردوعورت کی کامل مساوات کے مدعی ہیں ان کا دعویٰ عقل و فطرت کے بالکل خلاف ہے۔ اس موضوع پر آگے ہم اس سورہ میں بھی بحث کریں گے اور ہم نے اس پر ایک مستقل کتاب بھی لکھی ہے جس میں اس مسئلے کے سارے پہلو زیر بحث آئے ہیں۔ ۱؂
      ________

      ۱؂ اس کے لیے ہماری کتاب ’اسلامی معاشرہ میں عورت کا مقام‘ کا باب: نظریہ مساواتِ مردوزن پڑھیے۔

      جاوید احمد غامدی تمھاری اولاد کے بارے میں اللہ تمھیں ہدایت کرتا ہے کہ اُن میں سے لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہے۔ پھر اگر اولاد میں لڑکیاں ہی ہوں اور وہ (دو یا) دو سے زیادہ ہوں تو اُنھیں ترکے کا دوتہائی دیا جائے اور اگر ایک ہی لڑکی ہو تو اُس کے لیے آدھا ہے۔ لیکن ترکے کا چھٹا حصہ، (اِس سے پہلے) میت کے والدین میں سے ہر ایک کو ملنا چاہیے، اگر اُس کی اولاد ہو۔اور اگر اولاد نہ ہو اور والدین ہی اُس کے وارث ہوں تو تیسرا حصہ اُس کی ماں کا ہے (اور باقی اُس کے باپ کا)۔ لیکن اُس کے بھائی بہن ہوں تو ماں کے لیے وہی چھٹا حصہ ہے (اور باپ کے لیے بھی وہی چھٹا حصہ)۔ یہ حصے اُس وقت دیے جائیں، جب وصیت جو اُس نے کی ہو، وہ پوری کر دی جائے اور قرض، (اگر ہو تو) ادا کر دیا جائے۔ تم نہیں جانتے کہ تمھارے ماں باپ اور تمھاری اولاد میں سے کون بہ لحاظ منفعت تم سے قریب تر ہے۔ یہ حصے (اِسی بنا پر) اللہ نے مقرر کر دیے ہیں۔ بے شک، اللہ علیم و حکیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’یُوْصِیْکُمُ اللّٰہُ فِیْٓ اَوْلَادِکُمْ‘۔ اِن سے واضح ہے کہ آگے جو حصے بیان ہوئے ہیں، اُنھیں اللہ نے اپنی وصیت قرار دیا ہے۔ اِس کے بعد، ظاہر ہے کہ کوئی مسلمان اِس کے مقابلے میں اپنی وصیت پیش کرنے کی جسارت نہیں کرسکتا۔
      یہ حکم اگر اِسی جملے پر ختم ہوجاتا تو اِس کے معنی یہ تھے کہ مرنے والے کی اولاد میں اگر ایک لڑکا اور ایک لڑکی ہی ہو تو لڑکے کو لڑکی سے دونا ملے گا؛ لڑکے اور لڑکیاں اِس سے زیادہ ہوں تو میت کا ترکہ اِس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ ہر لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر رہے؛ اولاد میں صرف لڑکے یا صرف لڑکیاں ہو ں تو سارا ترکہ دونوں میں سے جو موجود ہوگا، اُسے دیا جائے گا۔ لیکن حکم یہاں ختم نہیں ہوا، بلکہ اِس سے متصل اگلے ہی جملے میں ایک استثنا کے ذریعے سے قرآن نے وضاحت کر دی ہے کہ اولاد میں صرف لڑکیاں ہی ہوں تو سارا ترکہ اُن میں تقسیم نہیں ہوگا۔ ایک ہی لڑکی ہو تو اُسے ترکے کا نصف اور دو یا دو سے زیادہ ہوں تو اُنھیں دوتہائی دیا جائے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کا قانون لوگوں کے جذبات پر نہیں، بے لاگ انصاف پر مبنی ہے۔ لڑکی کی منفعت والدین کے لیے لڑکے سے کم ہوتی ہے، اِس لیے کہ شادی کے بعد اُس کی منفعت بیش تر اُس کے شوہر اور شوہر کے گھر والوں کی طرف منتقل ہوجاتی ہے۔ قرآن نے اِسی بنا پر لڑکے سے اُس کا حصہ آدھا رکھا ہے اور اولاد میں صرف لڑکیاں ہوں تو اُن کا حصہ کم بھی کر دیا ہے۔
      اصل میں ’فَوْقَ اثْنَتَیْنِ‘ (دو سے زیادہ) کے الفاظ آئے ہیں، لیکن اِن کا مفہوم ہم نے دو یا دو سے زیادہ بیان کیا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ ’فَوْقَ اثْنَتَیْنِ‘ سے پہلے ’اثنتین‘ کا لفظ عربیت کے قاعدے سے حذف ہو گیا ہے۔ قرآن کی زبان میں اگر ہم ایک لڑکی اور دو یا دو سے زائد لڑکیوں کا حصہ اُن کے حصوں میں فرق کی وجہ سے الگ الگ بیان کرنا چاہیں تو اِس کے دو طریقے ہیں: ترتیب صعودی کے مطابق بیان کرنا پیش نظر ہو تو پہلے ایک لڑکی اور اُس کے بعد دو لڑکیوں کا حصہ بیان کیا جائے گا۔ دو سے زائد کا حصہ اگر وہی ہے جو دو کا ہے تو اُسے لفظوں میں بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایک کے فوراً بعد جب دو کا حصہ اِس طرح بیان کیا جائے کہ وہ ایک کے حصے سے زیادہ ہو تو اِس کے صاف معنی یہ ہیں کہ دو سے زائد کاحکم بھی وہی ہے جو دو لڑکیوں کا ہے۔ اِسی بات کو ہم ترتیب نزولی کے مطابق بیان کریں گے تو اِس کے لیے ’فوق اثنتین او اثنتین‘ کے الفاظ چونکہ عربیت کی رو سے موزوں نہ ہوں گے، اِس لیے دو سے زائد کا حصہ بیان کرنے کے بعد ایک کا حصہ بیان کر دیا جائے گا۔ اِس اسلوب میں ’فوق اثنتین‘ سے کلام کی ابتدا خود دلیل ہوگی کہ اِس سے پہلے ’اثنتین‘ کا لفظ محذوف ہے۔ اِس کا قرینہ بھی واضح ہے۔ اِس ترتیب کا حسن مقتضی ہے کہ ’فَوْقَ اثْنَتَیْنِ‘ سے پہلے ’اثنتین‘ کا لفظ استعمال نہ کیا جائے اور صحت زبان کا تقاضا ہے کہ ’فَوْقَ اثْنَتَیْنِ‘ سے بات شروع کی جائے تو بعد میں ’اثنتین‘ مذکور نہ ہو۔ قرآن مجید نے یہ حصے یہاں ترتیب نزولی کے مطابق بیان کیے ہیں، اِس لیے حذف کا یہ اسلوب ملحوظ ہے۔ سورۂ نساء کی آخری آیت میں یہی حصے ترتیب صعودی کے مطابق بیان ہوئے ہیں۔ چنانچہ وہاں ’اِثْنَتَیْنِ‘ کے بعد ’فوق اثنتین‘ کا لفظ حذف کر دیا ہے: ’اِنِ امْرُؤٌا ہَلَکَ لَیْْسَ لَہٗ وَلَدٌ وَّلَہٗٓ اُخْتٌ، فَلَہَا نِصْفُ مَا تَرَکَ، وَہُوَ یَرِثُہَآ، اِنْ لَّمْ یَکُنْ لَّہَا وَلَدٌ، فَاِنْ کَانَتَا اثْنَتَیْْنِ، فَلَہُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَکَ‘۔*
      یہ جملہ پچھلے جملے سے استثنا ہے، اِس لیے اِس کا حکم بھی وہی ہوگا جو پچھلے جملے کا ہے، یعنی اولاد میں صرف لڑکیاں ہی ہوں تو اُنھیں ترکے کے اُسی حصے کا دوتہائی یا نصف دیا جائے گا جو اگر تنہا لڑکے ہوتے تو اُن میں تقسیم کیا جاتا۔ وہ پورے ترکے کے دوتہائی یا نصف کی حق دار نہ ہوں گی۔ ’فَاِنْ کُنَّ نِسَآءً‘ پر اصل میں جو حرف ’ف‘ اور ’وَلِاَبَوََیْہِ‘ سے پہلے حرف ’و‘ آیا ہے، وہ اِسی پر دلالت کرتا ہے۔
      یہ جملہ اِس سے متصل پہلے لڑکیوں کے حصوں پر نہیں، بلکہ اُس پورے حکم پر عطف ہوا ہے جو اوپر اولاد کے لیے آیا ہے۔ چنانچہ اِس کا عطف اب استدراک کے لیے ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اِس سے پہلے یہ بات تو بیان ہوئی ہے کہ لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے برابر ہوگا، لیکن یہ کتنا ہوگا، اِسے متعین نہیں کیا گیا۔ چنانچہ والدین اور زوجین کے جو حصے اِس کے بعد آئے ہیں، وہ لازماً پہلے دیے جائیں گے اور اِس کے بعد جو کچھ بچے گا، صرف وہی اولاد میں تقسیم ہوگا۔ لڑکے اگر تنہا ہوں تو اُنھیں بھی یہی ملے گا اور لڑکے لڑکیاں، دونوں ہوں تو اُن کے لیے بھی یہی قاعدہ ہوگا۔ اِسی طرح میت کی اولاد میں اگر تنہا لڑکیاں ہوں تو اُنھیں بھی اِس بچے ہوئے ترکے ہی کا نصف یا دوتہائی دیا جائے گا۔ اِس کے لیے ’فَاِنْ کُنَّ نِسَآءً‘ کے جو الفاظ اصل میں آئے ہیں، اُن کے بارے میں ہم اوپر واضح کر چکے ہیں کہ یہ ’لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ‘ سے استثنا اور اِسی کے ایک پہلو کی وضاحت ہیں، اِن کا حکم اُس سے مختلف نہیں ہو سکتا۔
      اصل میں ’اِنْ کَانَ لَہٗ وَلَدٌ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن میں ’وَلَدٌ‘ کا لفظ ذکور و اناث، دونوں کے لیے ہے۔ یہاں اور اِس کے بعد ازواج کے حصوں میں بھی ہر جگہ اِس کا مفہوم یہی ہے۔ لڑکا لڑکی ایک ہوں یا دو، اولاد میں صرف لڑکے ہوں یا صرف لڑکیاں ہوں، نفی واثبات میں اِس شرط کا اطلاق لازماً ہوگا۔
      یہ الفاظ یہاں حذف ہیں۔ ہم اگر یہ کہیں کہ ۔۔۔’’اِس رقم کے وارث زید اور علی ہی ہوں تو زید کا حصہ ایک تہائی ہوگا‘‘ ۔۔۔تو اِس کے بعد یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ۔۔۔ ’’باقی دوتہائی علی کے لیے ہے۔‘‘
      اصل میں لفظ ’اِخْوَۃٌ‘ استعمال ہوا ہے۔ یہ جمع ہے، لیکن اِس طرح کے اسلوب میں جمع بیان عدد کے لیے نہیں، محض بیان وجود کے لیے آتی ہے۔ اِس سے مقصود صرف یہ ہے کہ بھائی بہنوں کی موجودگی میں، عام اِس سے کہ وہ ایک ہوں یا دو، یا دو سے زیادہ ہوں، والدین کا حصہ اپنی اصل کی طرف لوٹ آئے گا۔
      اصل الفاظ ہیں: ’فَاِنْ کَانَ لَہٗٓ اِخْوَۃٌ، فَلِاُمِّہِ السُّدُسُ‘۔ اِن کے بعد بھی ’ولابیہ‘ یا اِس کے ہم معنی الفاظ حذف ہوگئے ہیں۔ اِس میں جملوں کی تالیف اِس طرح ہے: ’’اولاد ہو تو ماں باپ میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ۔ اولاد نہ ہو اور والدین ہی وارث ہوں تو ماں کے لیے تہائی، لیکن اگر بھائی بہن ہوں تو ماں کے لیے وہی چھٹا حصہ۔‘‘ اِس میں دیکھ لیجیے، کلام خود پکار رہا ہے کہ ۔۔۔’’اور باپ کے لیے بھی وہی چھٹا حصہ۔‘‘ اِس سے اشارہ نکلتا ہے کہ اولاد کی عدم موجودگی میں اُن کا حصہ اب بھائی بہنوں کو ملنا چاہیے۔ یہ اشارہ واضح تھا، لیکن قرآن کے مخاطبین جب اِس کو نہیں سمجھ سکے تو اُس نے وضاحت فرما دی۔ یہ وضاحت اِسی سورہ کے آخر میں بطور ضمیمہ درج ہے۔
      اِس سے واضح ہے کہ وصیت کا حق باقی ہے، لیکن قرآن نے اِس کے ساتھ آگے ’غَیْرَ مُضَآرٍّ‘ کی شرط لگا دی ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ وصیت اتنی ہونی چاہیے جس سے وارثوں کی حق تلفی نہ ہو۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی بنا پر نصیحت فرمائی ہے کہ یہ تہائی مال تک محدود رہے تو بہتر ہے۔**
      سلسلۂ کلام کے بیچ میں یہ آیت جس مقصد کے لیے آئی ہے، وہ یہ ہے کہ لوگوں پر یہ بات واضح کر دی جائے کہ جن رشتہ داروں کو اللہ تعالیٰ نے کسی میت کے وارث قرار دیا ہے، اُن کے بارے میں مبنی بر انصاف قانون وہی ہے جو اُس نے خود بیان فرما دیا ہے۔ چنانچہ اُس کی طرف سے اِس قانون کے نازل ہو جانے کے بعد اب کسی مرنے والے کو محض رشتہ داری کی بنیاد پر اللہ کے ٹھیرائے ہوئے اِن وارثوں کے حق میں وصیت کا حق باقی نہیں رہا۔ اُن کے لیے کوئی وصیت اب اگر وہ کرے گا تو صرف اُس صورت میں کرے گا، جب اُن میں سے کسی کی کوئی ضرورت یا اُس کی کوئی خدمت یا اِس طرح کی کوئی دوسری چیز اِس کا تقاضا کرتی ہو۔ اِس لیے کہ جس منفعت کے کم یا زیادہ ہونے کا علم اِس آیت میں اللہ تعالیٰ کے لیے خاص قرار دیا گیا ہے، وہ رشتہ داری کی منفعت ہے۔ اِس کا اُن ضرورتوں اور منفعتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے جو ہمارے لیے معلوم اور متعین ہوتی ہیں۔
      آیت کا اصل مدعا یہی ہے، لیکن اگر غور کیجیے تو اِس سے یہ بات بھی نہایت لطیف طریقے سے واضح ہوگئی ہے کہ وراثت کا حق جس بنیاد پر قائم ہوتا ہے، وہ قرابت نافعہ ہے اور حصوں میں فرق کی وجہ بھی اُن کے پانے والوں کی طرف سے مرنے والے کے لیے اُن کی منفعت کا کم یا زیادہ ہونا ہی ہے۔ چنانچہ لڑکوں کا حصہ اِسی بنا پر لڑکیوں سے اور شوہر کا بیوی سے دوگنا رکھا گیا ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ والدین، اولاد، بھائی بہن، میاں بیوی اور دوسرے اقربا کے تعلق میں یہ منفعت بالطبع موجود ہے اور عام حالات میں یہ اِسی بنا پر بغیر کسی تردد کے وارث ٹھیرائے جاتے ہیں، لیکن اِن میں سے کوئی اگر اپنے مورث کے لیے منفعت کے بجاے سراسر مضرت بن جائے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے علت حکم کا یہ بیان تقاضا کرتا ہے کہ اُسے وراثت سے محروم قرار دیا جائے۔
      اِسی طرح یہ رہنمائی بھی ضمناً اِس آیت سے حاصل ہوتی ہے کہ ترکے کا کچھ حصہ اگر بچا ہوار ہ جائے اور مرنے والے نے کسی کو اُس کا وارث نہ بنایا ہو تو اُسے بھی ’اَقْرَبُ نَفْعًا‘ ہی کو ملنا چاہیے۔
      آیت کے آخر میں تنبیہ فرمائی ہے کہ اللہ علیم وحکیم ہے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اِس کی وضاحت میں لکھا ہے:

      ’’...یہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے علم اور اُس کی حکمت پر مبنی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم پیش وعقب، ہر چیز پر حاوی اور حاضر و غائب، سب پر محیط ہے۔ کسی کا علم بھی اُس کے علم کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ اِسی طرح اُس کی ہر بات اور اُس کے ہر کام میں نہایت گہری حکمت ہوتی ہے اور کسی کا بھی یہ مرتبہ نہیں ہے کہ اُس کی حکمت کی تمام باریکیوں کو سمجھ سکے۔ اِس وجہ سے خدا کی اِس تقسیم پر نہ تو اپنے علم و فلسفہ کے غرے میں کسی کو معترض ہونا چاہیے، نہ جذباتی جنبہ داری کے جوش میں کسی کو کوئی قدم اِس کے خلاف اٹھانا چاہیے۔ بسااوقات آدمی اپنے ذاتی میلان کی بنا پر ایک کو دوسرے پر ترجیح دیتا ہے، لیکن یہ ترجیح دنیا اور آخرت، دونوں ہی اعتبارات سے غلط ہوتی ہے۔ اِسی طرح کسی کو اپنے ذاتی میلان کی بنا پر نظرانداز کرتا ہے، حالاں کہ بعد کے حالات ثابت کرتے ہیں کہ دنیا اور عقبیٰ، دونوں ہی اعتبار سے اُس کا رویہ زیادہ صحیح رہا جس کو اُس نے نظرانداز کیا۔ پس صحیح روش یہی ہے کہ آدمی جو قدم بھی اٹھائے، اپنے ذاتی میلانات کے بجاے شریعت کی ہدایت کے مطابق اٹھائے۔ اِسی میں خیروبرکت ہے۔ جولوگ شریعت کے خلاف قدم اٹھاتے ہیں، وہ خدا کے علم و حکمت کی تحقیر کرتے ہیں جس کی سزا بالعموم اُنھیں دنیا میں بھی ملتی ہے اور آخرت میں تو بہرحال ملنی ہی ہے۔‘‘ (تدبرقرآن ۲/ ۲۶۱)


      _____
      * ۴: ۱۷۶۔
      ** بخاری، رقم ۲۷۴۲۔ مسلم، رقم ۱۶۲۸۔

    • امین احسن اصلاحی اور تمھارے لیے اس ترکے کا نصف ہے جو تمھاری بیویاں چھوڑیں، اگر اُن کے اولاد نہیں ہے۔ اور اگر اُن کے اولاد ہے تو ان کے ترکے میں سے تمھارے لیے چوتھائی ہے۔ بعد اِس وصیت کی تعمیل اور ادائے قرض کے جو وہ کر جائیں۔ اور اُن کے لیے چوتھائی ہے تمھارے ترکے کا اگر تمھارے اولاد نہیں ہے اور اگر تمھارے اولاد ہے تو اُن کے لیے آٹھواں حصہ ہے تمھارے ترکے کا۔ اس وصیت کی تعمیل اور ادائے قرض کے بعد جو تم کر جاؤ۔ اور اگر کسی مرد یا عورت کی وراثت اِس حال میں تقسیم ہو کہ نہ اس کے اصول میں کوئی ہو، نہ فروع میں، اور ایک بھائی یا ایک بہن ہو تو اُن میں سے ہر ایک کے لیے چھٹا حصہ ہے اور اگر وہ اس سے زیادہ ہوں تو وہ ایک تہائی میں شریک ہوں گے۔ اس وصیت کی تعمیل کے بعد جو کی گئی یا ادائے قرض کے بعد۔ بغیر کسی کو ضرر پہنچائے۔ یہ اللہ کی طرف سے وصیت ہے اور اللہ علیم و حلیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      خدا کی تقسیم کی خلاف ورزی خدا کی حکمت کی تحقیر ہے: تیسری چیز یہ ہے کہ قرآن حکیم نے یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ یہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی حکمت پر مبنی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم پیش و عقب ہر چیز پر حاوی اور حاضر و غائب سب پر محیط ہے۔ کسی کا علم بھی اس کے علم کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ اسی طرح اس کی ہر بات اور اس کے ہر کام میں نہایت گہری حکمت ہوتی ہے اور کسی کا بھی یہ مرتبہ نہیں ہے کہ اس کی حکمت کی تمام باریکیوں کو سمجھ سکے۔ اس وجہ سے خدا کی اس تقسیم پر نہ تو اپنے علم و فلسفے کے غرے میں کسی کو معترض ہونا چاہیے نہ جذباتی جنبہ داری کے جوش میں کسی کو کوئی قدم اس کے خلاف اٹھانا چاہیے۔ بسا اوقات آدمی اپنے ذاتی میلان کی بنا پر ایک کو دوسرے پر ترجیح دیتا ہے لیکن یہ ترجیح دنیا اور آخرت دونوں ہی اعتبارات سے غلط ہوتی ہے، اسی طرح کسی کو اپنے ذاتی میلان کی بنا پر نظر انداز کرتا ہے حالانکہ بعد کے حالات ثابت کرتے ہیں کہ دنیا اور عقبیٰ دونوں ہی اعتبار سے اس کا رویہ زیادہ صحیح رہا جس کو اس نے نظر انداز کیا۔ پس صحیح روش یہی ہے کہ آدمی جو قدم بھی اٹھائے اپنے ذاتی میلانات کے بجائے شریعت کی ہدایت کے مطابق اٹھائے۔ اسی میں خیر و برکت ہے۔ جو لوگ شریعت کے خلاف قدم اٹھاتے ہیں وہ خدا کے علم و حکمت کی تحقیر کرتے ہیں جس کی سزا بالعموم انھیں دنیا میں بھی ملتی ہے اور آخرت میں بھی بہرحال ملنی ہی ہے۔ لَا تَدْرُوْنَ اَیُّھُمْ اَقْرَبُ لَکُمْ نَفْعًا الایۃ پر اس روشنی میں غور فرمائیے۔
      وارثوں کے حق میں وصیت جائز نہیں: چوتھی چیز یہ ہے کہ خدا نے جب اس تقسیم کو اپنی وصیت سے تعبیر فرمایا ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ جن کو اس نے کسی مورث کا وارث قرار دیا ہے ان کے لیے اس نے انصاف اور حکمت پر مبنی وصیت خود فرما دی ہے۔ رب کریم و حکیم کی اس وصیت کے بعد اگر کوئی مورث کسی وارث کے لیے وصیت کرتا ہے تو درحقیقت یہ خدا کی وصیت کی اصلاح بلکہ صحیح تر الفاظ میں اس کی مخالفت ہوئی جو تقویٰ کے بالکل منافی ہے۔ اس سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ مورثوں کو وصیت کی جو اجازت دی گئی ہے اس کا تعلق ان وارثوں سے نہیں ہے جن کے باب میں خود خدا کی وصیت موجود ہے بلکہ یہ غیر وارثوں کے لیے خاص ہے۔ چنانچہ اسی بنیاد پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ لا وصیۃ لوارث۔
      ’غیر مضار‘ کی قید کی حکمت: پانچویں یہ کہ مورث کی وصیت کی تعمیل اور اس کے قرض کی ادائیگی کی تاکید جو بار بار آئی ہے اس کے ساتھ ’غیر مضار‘ کی شرط بھی لگی ہوئی ہے۔ اگرچہ اس شرط کا ذکر صرف ’کلالہ‘ کے سلسلے میں ہوا ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ یہ ہر جگہ مقصود ہے۔ کلالہ کے ساتھ اس کے ذکر کی وجہ صرف یہ ہے کہ جس مورث کے اصول میں کوئی ہو نہ فروغ میں، اس کے اندر اس خواہش کے ابھرنے کا بڑا امکان ہوتا ہے کہ وہ اپنی جائداد ان لوگوں کی طرف نہ منتقل ہونے دے جن کی طرف اس کا طبعی میلان نہیں ہے اگرچہ قانونی حق دار وہی ہیں۔ اس کے لیے وہ وصیت میں بھی تجاوز کر سکتا ہے اور غلط قسم کے نمائشی قرض کا بھی مظاہرہ کر سکتا ہے۔ اس رجحان کو روکنے کے لیے قرآن نے وصیت اور قرض دونوں کے لیے یہ شرط لگا دی کہ یہ ’’غیر مضار‘‘ ہو یعنی اس سے مقصود محض شرعی وارثوں کو نقصان پہنچانا نہ ہو اسی بنیاد پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کو ثلث مال تک محدود فرمادیا تاکہ اس سے اصلی وارثوں کی حق تلفی نہ ہو۔

      جاوید احمد غامدی اور تمھاری بیویوں نے جو کچھ چھوڑا ہو ، اُس کا آدھا حصہ تمھیں ملے گا، اگر اُن کے اولاد نہیں ہے۔ اور اگر اولاد ہے تو اُن کے ترکے کا ایک چوتھائی تمھارا ہے، جبکہ وصیت جو اُنھوں نے کی ہو، وہ پوری کر دی جائے اور قرض (اگر ہو تو) ادا کر دیا جائے۔ اور وہ تمھارے ترکے میں سے ایک چوتھائی کی حق دار ہیں، اگر تمھارے اولاد نہیں ہے۔ اور اگر اولاد ہے تو تمھارے ترکے کا آٹھواں حصہ اُن کا ہے، جبکہ وصیت جو تم نے کی ہو، وہ پوری کر دی جائے اور قرض (اگر ہو تو) ادا کر دیا جائے۔ اور (اِن وارثوں کی عدم موجودگی میں) اگر کسی مرد یا عورت کو اُس سے رشتہ داری کی بنا پر وارث بنا دیا جاتا ہے اور اُس کا ایک بھائی یا بہن ہے تو بھائی اور بہن، ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا، اور اگر وہ ایک سے زیادہ ہوں تو ایک تہائی میں سب شریک ہوں گے (اور باقی اُس کو ملے گا جسے وارث بنایا گیا ہے)، جبکہ وصیت جو کی گئی ہو، پوری کر دی جائے اور قرض (اگر ہو تو) ادا کر دیا جائے، بغیر کسی کو نقصان پہنچائے۔ یہ حکم ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ جاننے والا ہے، وہ بڑا نرم خو ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ حصے ہر لحاظ سے واضح ہیں اور والدین کے حصوں کی طرح یہ بھی پورے ترکے میں سے دیے جائیں گے۔
      اصل الفاظ ہیں: ’وَاِنْ کَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ کَلٰلَۃً اَوِ امْرَاَۃٌ‘۔ اِن میں لفظ ’کَلٰلَۃً‘ والدین اور اولاد کے سوا باقی سب رشتہ داروں کے لیے آیا ہے۔ اِس معنی کے لیے اِس کا استعمال عربی زبان میں معروف ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ یہ اُس شخص کے لیے بھی آتا ہے جس کے پیچھے اولاد اور والد، دونوں میں سے کوئی نہ ہو، لیکن آیت ہی میں دلیل موجود ہے کہ یہ معنی یہاں مراد نہیں ہیں۔ ’یُوْصِیْکُمُ اللّٰہُ فِیْٓ اَوْلَادِکُمْ‘ سے جو سلسلۂ بیان شروع ہوتا ہے، اُس میں اولاد اور والدین کا حصہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے وصیت پر عمل درآمد کی تاکید ’مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصِیْ بِھَآ اَوْدَیْنٍ‘ کے الفاظ میں کی ہے۔ زوجین کے حصوں میں اِسی مقصد کے لیے ’مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُّوْصِیْنَ بِھَآ اَوْدَیْنٍ‘ اور ’مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ تُوْصُوْنَ بِھَآ اَوْدَیْنٍ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ تدبر کی نگاہ سے دیکھیے تو اِن سب مقامات پر فعل مبنی للفاعل استعمال ہوا ہے اور ’یُوْصِیْ‘، ’یُوْصِیْنَ‘ اور ’تُوْصُوْنَ‘ میں ضمیر کا مرجع ہر جملے میں بالصراحت مذکور ہے، لیکن کلالہ کے احکام میں یہی لفظ مبنی للمفعول ہے۔ یہ تبدیلی صاف بتا رہی ہے کہ ’اِنْ کَانَ رَجُلٌ یُّوْرَثُ کَلٰلَۃً اَوِ امْرَاَۃٌ‘ میں ’یُوْصٰی‘ کا فاعل، یعنی مورث مذکور نہیں ہے، اِس وجہ سے اِس آیت میں ’کَلٰلَۃً‘ کو کسی طرح مرنے والے کے لیے اسم صفت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ تغیر حجت قطعی ہے کہ قرآن مجید نے یہ لفظ یہاں اُس شخص کے لیے جس کے پیچھے اولاد اور والد، دونوں میں سے کوئی نہ ہو، استعمال نہیں کیا ہے۔ چنانچہ آیت کی تالیف ہمارے نزدیک یہ ہے کہ ’یُوْرَثُ‘ باب افعال سے مبنی للمفعول ہے۔ ’کَلٰلَۃً‘ اِس سے مفعول لہ ہے۔ ’کَانَ‘ ناقصہ ہے اور ’یُوْرَثُ‘ اُس کی خبر واقع ہوا ہے۔ ’رَجُلٌ اَوِ امْرَاَۃٌ‘ ’کَانَ‘ کے لیے اسم ہیں۔ وارث بنانے کا جو اختیار اِس آیت میں دیا گیا ہے، وہ ظاہر ہے کہ مرنے والے ہی کو ہو گا اور اِس کے معنی اِس سیاق میں یہی ہو سکتے ہیں کہ اُن وارثوں کی عدم موجودگی میں ترکے کا وارث بنا دیا جاتا ہے جن کے حصے اوپر بیان ہوئے ہیں۔
      یعنی ایک ہی رشتہ کے متعلقین میں سے اگر کسی ایک مرد یا عورت کو وارث بنایا جاتا ہے تو جس کو وارث بنایا جائے گا،اُس کا ایک بھائی یا بہن ہو تواُس مال کا چھٹا حصہ جس کا اُسے وارث بنایا گیا ہے، اُس کے بھائی یا بہن کو دیا جائے گا اور اگر اُس کے بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو وہ سب ایک تہائی میں برابر کے شریک ہوں گے۔ اِس کے بعد یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ باقی ۶/۵ یا دو تہائی اُس مرد یا عورت کو دیا جائے گا جسے وارث بنایا گیا ہے۔قرآن نے اِسی بنا پر اِسے لفظوں میں بیان نہیں کیا ہے۔ ہم اگر یہ کہیں کہ ’’زید نے اِس رقم کا وارث اپنے بیٹے کو بنایا ہے، لیکن اُس کا کوئی بھائی ہو تو ایک تہائی کا حق دار وہ ہو گا‘‘ تو اِس جملے کا مطلب ہر شخص یہی سمجھے گا کہ بھائی کا حصہ دینے کے بعد باقی روپیہ اُس بیٹے کو دیا جائے گا جسے رقم کا وارث بنایا گیا ہے۔
      قرآن مجید کی یہ ہدایت بڑی حکمت پر مبنی ہے۔ مرنے والا کلالہ رشتہ داروں میں سے اپنے کسی بھائی، بہن ، ماموں ، پھوپھی یا چچا وغیرہ کو وارث بنا سکتا ہے۔ لیکن، ظاہر ہے کہ جس بھائی یا ماموں کو وارث بنایا جائے گا، مرنے والے کے بھائی اور ماموں اِس کے علاوہ بھی ہو سکتے ہیں۔ یہی معاملہ چچا، پھوپھی اور خالہ وغیرہ کا ہے۔ کوئی شخص اپنے ذاتی رجحان کی بنا پر کسی ایک ماموں یا پھوپھی کو ترجیح دے سکتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے اِس کو پسند نہیں فرمایا کہ ایک ہی رشتے کے دوسرے متعلقین بالکل محروم کر دیے جائیں۔ چنانچہ اِس کے لیے یہ ہدایت فرمائی کہ کوئی شخص اگر ، مثال کے طور پر اپنے چچا زید کو ترکے کا وارث بنا دیتا ہے اور اُس کے چچا عثمان اور احمد بھی ہیں تو ترکے کے جس حصے کا وارث زید کو بنایا گیا ہے، اُس کا ایک تہائی عثمان اور احمد میں تقسیم کرنے کے بعد باقی ترکہ زید کو دیا جائے گا۔
      آیت کے آخر میں یہ الفاظ اِس تنبیہ کے لیے آئے ہیں کہ یہ پروردگار عالم کی وصیت ہے۔ اُس کا بندہ جانتے بوجھتے کسی حق دار کو محروم کرتا ہے تو اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ اُس کے ہر عمل سے با خبر ہے اور اگر بے جانے بوجھے اُس سے کوتاہی ہو جاتی ہے تو اُس کا خالق بردبار ہے، اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف کرتا ہے۔ وہ نرم خو ہے، بندوں پر اُن کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ اُس کی ہدایات میں اُن کے لیے سہولت ہے، تنگی اور مشقت نہیں ہے۔

    • امین احسن اصلاحی یہ اللہ کی ٹھہرائی ہوئی حدیں ہیں۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہیں گے اللہ اُن کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      خدا کی تقسیم کی خلاف ورزی خدا کی حکمت کی تحقیر ہے: تیسری چیز یہ ہے کہ قرآن حکیم نے یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ یہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی حکمت پر مبنی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم پیش و عقب ہر چیز پر حاوی اور حاضر و غائب سب پر محیط ہے۔ کسی کا علم بھی اس کے علم کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ اسی طرح اس کی ہر بات اور اس کے ہر کام میں نہایت گہری حکمت ہوتی ہے اور کسی کا بھی یہ مرتبہ نہیں ہے کہ اس کی حکمت کی تمام باریکیوں کو سمجھ سکے۔ اس وجہ سے خدا کی اس تقسیم پر نہ تو اپنے علم و فلسفے کے غرے میں کسی کو معترض ہونا چاہیے نہ جذباتی جنبہ داری کے جوش میں کسی کو کوئی قدم اس کے خلاف اٹھانا چاہیے۔ بسا اوقات آدمی اپنے ذاتی میلان کی بنا پر ایک کو دوسرے پر ترجیح دیتا ہے لیکن یہ ترجیح دنیا اور آخرت دونوں ہی اعتبارات سے غلط ہوتی ہے، اسی طرح کسی کو اپنے ذاتی میلان کی بنا پر نظر انداز کرتا ہے حالانکہ بعد کے حالات ثابت کرتے ہیں کہ دنیا اور عقبیٰ دونوں ہی اعتبار سے اس کا رویہ زیادہ صحیح رہا جس کو اس نے نظر انداز کیا۔ پس صحیح روش یہی ہے کہ آدمی جو قدم بھی اٹھائے اپنے ذاتی میلانات کے بجائے شریعت کی ہدایت کے مطابق اٹھائے۔ اسی میں خیر و برکت ہے۔ جو لوگ شریعت کے خلاف قدم اٹھاتے ہیں وہ خدا کے علم و حکمت کی تحقیر کرتے ہیں جس کی سزا بالعموم انھیں دنیا میں بھی ملتی ہے۔

      جاوید احمد غامدی یہ اللہ کی ٹھیرائی ہوئی حدیں ہیں، (اِن سے آگے نہ بڑھو) اور (یاد رکھو کہ) جو اللہ اور اُس کے رسول کی فرماں برداری کریں گے، اُنھیں وہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ اُن میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کریں گے اور اس کے مقرر کردہ حدود سے تجاوز کریں گے، اُن کو ایسی آگ میں داخل کرے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور ان کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      خدا کی تقسیم کی خلاف ورزی خدا کی حکمت کی تحقیر ہے: تیسری چیز یہ ہے کہ قرآن حکیم نے یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ یہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے علم اور اس کی حکمت پر مبنی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم پیش و عقب ہر چیز پر حاوی اور حاضر و غائب سب پر محیط ہے۔ کسی کا علم بھی اس کے علم کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ اسی طرح اس کی ہر بات اور اس کے ہر کام میں نہایت گہری حکمت ہوتی ہے اور کسی کا بھی یہ مرتبہ نہیں ہے کہ اس کی حکمت کی تمام باریکیوں کو سمجھ سکے۔ اس وجہ سے خدا کی اس تقسیم پر نہ تو اپنے علم و فلسفے کے غرے میں کسی کو معترض ہونا چاہیے نہ جذباتی جنبہ داری کے جوش میں کسی کو کوئی قدم اس کے خلاف اٹھانا چاہیے۔ بسا اوقات آدمی اپنے ذاتی میلان کی بنا پر ایک کو دوسرے پر ترجیح دیتا ہے لیکن یہ ترجیح دنیا اور آخرت دونوں ہی اعتبارات سے غلط ہوتی ہے، اسی طرح کسی کو اپنے ذاتی میلان کی بنا پر نظر انداز کرتا ہے حالانکہ بعد کے حالات ثابت کرتے ہیں کہ دنیا اور عقبیٰ دونوں ہی اعتبار سے اس کا رویہ زیادہ صحیح رہا جس کو اس نے نظر انداز کیا۔ پس صحیح روش یہی ہے کہ آدمی جو قدم بھی اٹھائے اپنے ذاتی میلانات کے بجائے شریعت کی ہدایت کے مطابق اٹھائے۔ اسی میں خیر و برکت ہے۔ جو لوگ شریعت کے خلاف قدم اٹھاتے ہیں وہ خدا کے علم و حکمت کی تحقیر کرتے ہیں جس کی سزا بالعموم انھیں دنیا میں بھی ملتی ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور جو اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کریں گے اور اُس کی ٹھیرائی ہوئی حدوں سے آگے بڑھیں گے، اُنھیں وہ آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور اُن کے لیے رسوا کر دینے والی سزا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اور تمھاری عورتوں میں سے جو بدکاری کی مرتکب ہوں تو ان پر اپنے اندر سے چار گواہ طلب کرو۔ پس اگر وہ گواہی دے دیں تو ان کو گھروں کے اندر محبوس کر دو، یہاں تک کہ موت ان کا خاتمہ کرے یا اللہ اُن کے لیے کوئی راہ نکالے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’فاحشۃ‘ زنا کی تعبیر کے لیے معروف ہے: ’فاحشۃ‘ کھلی ہوئی بے حیائی اور بدکاری کو کہتے ہیں اور زنا کی تعبیر کے لیے یہ لفظ معروف ہے۔
      ’مِنْ نِّسَآءِکُمْ‘ کا مفہوم: ’مِنْ نِّسَآءِکُمْ‘ (تمھاری عورتوں میں سے) یعنی بدکاری کا ارتکاب کرنے والی عورت مسلمانوں کے معاشرے سے تعلق رکھنے والی ہو۔
      یہ اشارہ کہ یہ حکم عارضی ہے: ’’اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَھُنَّ سَبِیْلاً‘‘ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ حکم عارضی ہے۔ اس باب میں آخری حکم بعد میں نازل ہونے والا ہے۔ چنانچہ سورۂ نور میں زنا کی جو سزا بیان ہوئی ہے اس سے یہ وعدہ پورا ہوا۔

      جاوید احمد غامدی اور تمھاری عورتوں میں سے جو بدکاری کرتی ہیں، اُن پر اپنے اندر سے چار گواہ طلب کرو۔ پھر اگر وہ گواہی دے دیں تو اُنھیں گھروں میں بند کردو، یہاں تک کہ اُن کی موت آجائے یا اللہ اُن کے لیے کوئی راستہ نکال دے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’وَالّٰتِیْ یَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ‘۔ اِن میں ’الْفَاحِشَۃَ‘ سے مراد زنا ہے۔ عربی زبان میں یہ لفظ اِس معنی کے لیے معروف ہے۔ اِس کے ساتھ جو فعل اِس جملے میں آیا ہے، وہ بیان مداومت کے لیے ہے۔ ہم نے ترجمہ اِسی کے لحاظ سے کیا ہے۔ اِس سے واضح ہے کہ یہ قحبہ عورتوں کا ذکر ہے۔ اِس صورت میں اصل مسئلہ چونکہ عورت ہی کا ہوتا ہے، اِس لیے مرد زیربحث نہیں آئے۔
      یعنی اِس بات کے گواہ کہ یہ فی الواقع زنا کی عادی قحبہ عورتیں ہیں۔ سورۂ نور میں بھی اللہ تعالیٰ نے اِس جرم کو ثابت کرنے کے لیے چار گواہوں کی یہ شرط اِسی طرح برقرار رکھی ہے۔
      اِس سے واضح ہے کہ یہ ایک عارضی حکم تھا۔ چنانچہ اِس میں جس راہ نکالنے کا ذکر ہے، وہ بعد میں اِس طرح نکلی کہ قحبہ ہونے کی وجہ سے اِن عورتوں کو زنا اور فساد فی الارض، دونوں کا مجرم قرار دیا گیا اور اِن جرائم کی جو سزائیں سورۂ نور (۲۴) کی آیت ۲ اور سورۂ مائدہ (۵) کی آیت ۳۳ میں بیان ہوئی ہیں، وہ بعض روایتوں کے مطابق اِن پر نافذ کرنے کی ہدایت کی گئی۔

    • امین احسن اصلاحی اور جو دونوں تم میں سے اس بدکاری کا ارتکاب کریں تو ان کو ایذا پہنچاؤ، پس توبہ کر لیں اور اصلاح کر لیں تو ان سے درگزر کرو۔ بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      صیغہ کا استعمال شریک غالب کے اعتبار سے: ’وَالَّذٰنِ یَاْتِیٰنِھَا مِنْکُمْ‘ یعنی بدکاری کا ارتکاب کرنے والے دونوں فریق، مرد اور عورت، مسلمانوں ہی کے اندر کے ہوں۔ اس میں مذکر کا صیغہ عربی زبان کے معروف قاعدے کے مطابق شریک غالب کے لحاظ سے استعمال ہوا ہے۔ جیسے کہ ’والذین‘ کا لفظ ہے جو ہے تو مذکر لیکن ماں باپ دونوں ہی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
      ’ایذاء‘ کا مفہوم: ’فَاٰذُوْھُمَا‘ میں توہین و تذلیل، ڈانٹ ڈپٹ اور نصیحت و ملامت سے لے کر اصلاح کے حد تک مار پیٹ ہر چیز داخل ہے۔
      ان آیات میں خطاب ظاہر ہے کہ معاشرہ کے اربابِ حل و عقد اور ذمہ داروں سے ہے۔ ان کو خطاب کر کے بدکاری پر تعزیر کے لیے دو مختلف صورتوں میں دو الگ الگ ہدایات دی گئی ہیں۔
      دو صورتوں کے لیے دو الگ الگ ہدایات: ایک صورت یہ ہے کہ بد کاری کا ارتکاب کرنے والی عورت تو مسلمانوں کے معاشرے سے تعلق رکھتی ہے لیکن اس کا شریک مرد، اسلامی معاشرے کے دباؤ میں نہیں ہے۔ ایسی صورت میں یہ ہدایت فرمائی کہ عورت کو گھر کے اندر محبوس کر دیا جائے، اس کی باہر کی آمد و شد پر پوری پابندی عائد کر دی جائے تا آنکہ موت اس کا خاتمہ کرے یا اس باب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نیا حکم نازل ہو۔
      دوسری صورت یہ ہے کہ بدکاری کے دونوں فریق مسلمانوں ہی سے تعلق رکھتے ہوں۔ ایسی صورت میں ان کو زجر و توبیخ، تحقیر و تذلیل، ڈانٹ ڈپٹ اور اصلاح کے حد تک مار پیٹ سے درست کرنے کی کوشش کی جائے۔ اگر وہ اس کے اثر سے توبہ کر کے اپنے چال چلن درست کر لیں تو ان سے درگزر کیا جائے۔ اللہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
      عورت کے معاملے میں شدتِ احتیاط کی حکمت: ان دونوں صورتوں پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ پہلی صورت میں احتیاط کا پہلو زیادہ شدت کے ساتھ ملحوظ ہے۔ دوسری صورت میں تو عورت اور مرد دونوں کو یہ موقع دیا گیا ہے کہ اگر وہ توبہ کر کے اپنے چال چلن درست کر لیں تو ان سے درگزر کر لیا جائے لیکن پہلی صورت میں عورت کے بارے میں یہ نہیں فرمایا کہ اگر وہ توبہ و اصلاح کر لے تو اس پر عائد کردہ قدغن اٹھا لی جائے۔ اس کی وجہ بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ دوسری صورت میں تو دونوں فریق اسلامی معاشرہ کے دباؤ میں ہیں، ان کے رویے میں جو تبدیلی ہو گی وہ سب کے سامنے ہوں گی، نیز ان کے اثرات اور وسائل معلوم و معین ہیں، ان کے لیے بہرحال اپنے خاندان اور قبیلے سے بے نیاز ہو کر کوئی اقدام ناممکن نہیں تو نہایت دشوار ہو گا۔ لیکن پہلی صورت میں مرد، جو اصل جرم میں شریک غالب کی حیثیت رکھتا ہے، مسلمانوں کے معاشرہ کے دباؤ سے بالکل آزاد ہے، نہ اس کے رویے کا کچھ پتا نہ اس کے عزائم کا کچھ اندازہ، نہ اس کے اثرات و وسائل کے حدود معلوم و معین۔ ایسی حالت میں اگر عورت کو یہ موقع دے دیا جاتا کہ توبہ کے بعد اس سے درگزر کی جائے تو یہ بات نہایت خطرناک نتائج پیدا کر سکتی تھی۔ اول تو مرد کے رویہ کو نظر انداز کر کے عورت کی توبہ و اصلاح کا صحیح اندازہ ہی ممکن نہیں ہے اور ہو بھی تو جب مرد بالکل قابو سے باہر اور مطلق العنان ہے تو اغوا، فرار اور قتل و خون کے امکانات کسی حال میں بھی نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ اس پہلو سے اس میں احتیاط کی شدت ملحوظ ہے۔
      اگرچہ یہ تعزیرات سورۂ نور میں نازل شدہ حدود کے بعد منسوخ ہو گئیں لیکن بدکاری کے معاملے میں شہادت کا یہی ضابطہ بعد میں بھی باقی رہا۔
      تعزیری مقاصد کے لیے جیل کے سسٹم کا جواز: علاوہ ازیں ’فَاَمْسِکُوْھُنَّ فِی الْبُیُوْتِ‘ کے الفاظ سے تعزیری مقاصد کے لیے جیل کے سسٹم کا جواز بھی نکلتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اور جو مرد و عورت تمھارے لوگوں میں سے اِس جرم کا ارتکاب کریں، اُنھیں ایذا دو۔ پھر اگر وہ توبہ کریں اور اصلاح کر لیں تو اُن سے درگذر کرو۔ بے شک، اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے، اُس کی شفقت ابدی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ زنا کے عام مجرموں کا ذکر ہے جو بالعموم یاری آشنائی کے نتیجے میں اِس جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اِس میں زانی اور زانیہ، دونوں چونکہ متعین ہوتے ہیں، اِس لیے دونوں کا ذکر ہوا ہے اور مذکر کے صیغے زبان کے عام قاعدے کے مطابق شریک غالب کے لحاظ سے آئے ہیں۔
      یہی ایذا ہے جو بعد میں سو کوڑوں کی صورت میں متعین کر دی گئی ۔ یہ اِس جرم کی انتہائی سزا ہے اور صرف اُنھی مجرموں کو دی جاتی ہے جن سے جرم بالکل آخری درجے میں سرزد ہوجائے اور اپنے حالات کے لحاظ سے وہ کسی رعایت کے مستحق نہ ہوں۔
      اِس سے معلوم ہوا کہ رویے کی اصلاح توبہ کے لازمی شرائط میں سے ہے۔ اگر کوئی شخص برائی سے باز نہیں آتا تو زبان سے توبہ توبہ کا ورد کرلینے سے اُس کی توبہ قبول نہیں ہوتی، بلکہ الٹا خدا کی ناراضی کا باعث بن سکتی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اللہ پر توبہ قبول کرنے کی ذمہ داری تو انہی کے لیے ہے جو جہالت سے مغلوب ہو کر برائی کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں، پھر جلدی ہی توبہ کر لیتے ہیں، وہی ہیں جن کی توبہ اللہ قبول فرماتا ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      لفظ ’جہالت‘ کا مفہوم: ’جہالت‘ کے معنی عربی میں صرف نہ جاننے کے نہیں آتے بلکہ اس کا غالب استعمال جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی شرارت یا ظلم یا گناہ کا کام کر گزرنے کے معنی میں ہے۔ یہ لفظ عام طور پر علم کے بجائے حلم کے ضد کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ ایک حماسی کا شعر ہے۔

      وللحلم خیر فاعلمن مغبۃ
      من الجھل الا ان تشمس من ظلم


      ’’اور یاد رکھو کہ جہالت کے مقابلے میں تحمل و بردباری انجام کار کے اعتبار سے بہتر ہے مگر یہ کہ تمھیں ظلم کی وجہ سے ذلیل کرنے کی کوشش کی جائے۔‘‘

      معلقات کا مشہور شعر ہے۔

      الا لا یجھلن احد علینا
      فنجھل فرق جھل الجاھلینا


      ’’آگاہ، کہ کوئی ہمارے خلاف جہالت کا اظہار نہ کرے کہ ہم بھی تمام جاہلوں سے بڑھ کر جہالت کرنے پر مجبور ہو جائیں۔‘‘

       

      جاوید احمد غامدی (یہ بات، البتہ واضح رہنی چاہیے کہ) اللہ پر توبہ قبول کرنے کی ذمہ داری اُنھی لوگوں کے لیے ہے جو جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی گناہ کر بیٹھتے ہیں، پھر جلدی ہی توبہ کر لیتے ہیں۔ وہی ہیں جن کی توبہ اللہ قبول فرماتا ہے اور اللہ علیم وحکیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’جَھَالَۃ‘ استعمال ہوا ہے۔ اِس کے معنی اگرچہ نہ جاننے کے بھی آتے ہیں، لیکن اِس کا غالب استعمال جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی شرارت یا کسی گناہ کا ارتکاب کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ چنانچہ عربی زبان میں یہ لفظ عام طور پر علم کے بجاے حلم کے ضد کے طور پر آتا ہے۔ یہاں بھی قرینہ دلیل ہے کہ یہ اِسی معنی میں آیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اور ان لوگوں کی توبہ نہیں ہے جو برابر برائی کرتے رہے، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت سر پر آن کھڑی ہوئی تو بولا کہ اب میں نے توبہ کر لی اور نہ ان لوگوں کی توبہ ہے جو کفر ہی پر مر جاتے ہیں۔ ان کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      توبہ کی قبولیت کے شرائط: اوپر والی آیت میں یہ جو فرمایا تھا کہ اگر وہ توبہ اور اصلاح کر لیں تو ان سے درگزر کرو اس سے اتنی بات تو بالکل واضح ہو گئی تھی کہ رویے کی اصلاح توبہ کے لازمی شرائط میں سے ہے، اگر کوئی شخص اس برائی سے باز نہ آئے جس کا وہ مرتکب ہوا ہے تو زبان سے لاکھ توبہ توبہ کا ورد کرے، اس کی توبہ بالکل غیر معتبر ہے۔ اسی تعلق سے توبہ کے آداب و خصوصیات کی مزید وضاحت فرما دی۔
      فرمایا کہ اللہ کے اوپر صرف ان کی توبہ کا حق قائم ہوتا ہے جو جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی برائی کر گزرتے ہیں پھر فوراً توبہ کر لیتے ہیں۔ انہی لوگوں کی توبہ اللہ قبول فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ علیم اور حکیم ہے۔ نہ وہ کسی بات سے بے خبر نہ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی۔ پھر وہ ان لوگوں کی توبہ کی کوئی ذمہ داری اپنے اوپر کیوں لے گا جو جانتے بوجھتے ٹھنڈے دل سے گناہ بھی کیے جا رہے ہیں اور توبہ کا وظیفہ بھی پڑھتے جا رہے ہیں۔
      اسی طرح ان لوگوں کی توبہ بھی توبہ نہیں ہے جو زندگی بھر تو گناہوں میں ڈوبے رہے، جب دیکھا کہ موت سر پر آن کھڑی ہوئی تو بولے کہ اب میری توبہ! علیٰ ہذا القیاس کفر کی حالت میں مرنے والوں کی بھی توبہ نہیں ہے۔
      ایک سوال اور اس کا جواب: ان دونوں آیتوں پر غور کرنے سے توبہ کی قبولیت اور عدم قبولیت کی دو صورتیں معین ہو جاتی ہیں۔ جو لوگ جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی برائی کر بیٹھتے ہیں پھر فوراً توبہ اور اصلاح کر لیتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر ان کی توبہ قبول کرنے کی ذمہ داری لی ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ برابر گناہ کیے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب ملک الموت ان کے سر پر آ دھمکتا ہے اس وقت وہ توبہ کرتے ہیں یا وہ لوگ جو کفر کی حالت ہی میں مرتے ہیں ان کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ ان دونوں حدوں کے معین ہو جانے کے بعد اب ایک سوال رہ جاتا ہے کہ ان لوگوں کی توبہ کا کیا حکم ہے جن کو گناہ کے بعد جلدی توبہ کرنے کی سعادت تو حاصل نہیں ہوئی لیکن اتنی دیر بھی انھوں نے نہیں لگائی کہ موت کا وقت آن پہنچا ہو۔ اس سوال کے جواب میں یہ آیت خاموش ہے اور یہ خاموشی جس طرح امید پیدا کرتی ہے اسی طرح خوف بھی پیدا کرتی ہے اور قرآن حکیم کا منشا یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ بین الرجاء والخوف ہی رہے لیکن کبھی کبھی ذہن اس طرف جاتا ہے کہ اس امت کے اس طرح کے لوگ امید ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے نجات پا جائیں گے۔ اس لیے کہ ان کے باب میں شفاعت کے ممنوع ہونے کی وجہ موجود نہیں ہے۔

      جاوید احمد غامدی اُن لوگوں کے لیے کوئی توبہ نہیں ہے جو گناہ کیے چلے جاتے ہیں، یہاں تک کہ جب اُن میں سے کسی کی موت کا وقت قریب آ جاتا ہے، اُس وقت وہ کہتا ہے کہ اب میں نے توبہ کر لی ہے۔ (اِسی طرح) اُن کے لیے بھی توبہ نہیں ہے جو مرتے دم تک منکر ہی رہیں۔ یہی تو ہیں جن کے لیے ہم نے دردناک سزا تیار کر رکھی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      توبہ کی قبولیت اور عدم قبولیت کی یہ دو صورتیں قرآن نے بالکل متعین کر دی ہیں۔ اِس کے بعد صرف ایک صورت باقی رہ جاتی ہے کہ کوئی شخص گناہ کے بعد جلد ہی توبہ کرلینے کی سعادت تو حاصل نہیں کر سکا، لیکن اُس نے اتنی دیر بھی نہیں کی کہ موت کا وقت آپہنچا ہو۔ اِس صورت کے بارے میں قرآن خاموش ہے اور استاذ امام کے الفاظ میں، یہ خاموشی جس طرح امید پیدا کرتی ہے، اِسی طرح خوف بھی پیدا کرتی ہے اور قرآن حکیم کا منشا یہی معلوم ہوتا ہے کہ معاملہ خوف ورجا کے درمیان ہی رہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اِس کے باوجود ذہن کبھی کبھی اِس طرف جاتا ہے کہ اِس امت کے اِس طرح کے لوگ، امید ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے نجات پا جائیں گے، اِس لیے کہ اُن کے بارے میں شفاعت کے ممنوع ہونے کی کوئی وجہ موجود نہیں ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اے ایمان والو، تمھارے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ تم عورتوں کے زبردستی وارث بن جاؤ اور نہ یہ بات جائز ہے کہ جو کچھ تم نے ان کو دیا ہے اس کا کچھ حصہ واپس لینے کے لیے ان کو تنگ کرو مگر اس صورت میں کہ وہ کسی کھلی ہوئی بدکاری کی مرتکب ہوئی ہوں اور ان کے ساتھ معقول طریقے کا برتاؤ کرو۔ اگر تم ان کو ناپسند کرتے ہو تو بعید نہیں کہ ایک چیز کو تم ناپسند کرو اور اللہ تمھارے لیے اس میں بہت بڑی بہتری پیدا کر دے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’عضل‘ کے معنی: ’عضل یعضل‘ کے معنی تنگ کرنے، زچ کرنے اور روکنے کے ہیں۔
      معاشرت بالمعروف: ’عاشروھن بالمعروف‘ یعنی ان کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ کرو جو شریفوں کے شایانِ شان، عقل و فطرت کے مطابق، رحم و مروت اور عدل و انصاف پر مبنی ہو۔ یہاں لفظ معروف کے استعمال سے یہ بات نکلتی ہے کہ اگر چہ عرب جاہلیت کے بعض طبقات میں عورتوں کے ساتھ سلوک کے معاملہ میں بعض نہایت ناروا قسم کی زیادتیاں رواج پا گئی تھیں۔ تاہم وہ اس بات سے ناآشنا نہیں تھے کہ عورت کے ساتھ معقولیت کا برتاؤ کیا ہے۔
      عرب جاہلیت کے ایک مکروہ رواج کی اصلاح: اس آیت میں پہلے عرب جاہلیت کی ایک نہایت مکروہ رسم کی اصلاح کی ہے۔ وہ یہ کہ ان کے بعض طبقات میں یہ رواج تھا کہ مورث کی جائداد اور اس کے مال مویشی کی طرح اس کی بیویاں بھی وارث کی طرف منتقل ہو جاتی تھیں۔ حد یہ ہے کہ باپ کی منکوحہ عورتوں پر بھی بیٹے قبضہ کر لیتے تھے۔ باپ کے مرنے پر خلف اکبر اس کی منکوحات میں سے جن پر اپنی چادر ڈال دیتا تھا وہ سب اس کے تصرف میں آ جاتیں اور آگے آیت ۲۲ سے واضح ہوتا ہے کہ وہ ان سے زن و شو کے تعلقات قائم کرنے میں بھی قباحت محسوس نہیں کرتے تھے۔ قرآن نے یہاں واضح فرمایا کہ عورت متروکہ جائداد نہیں بلکہ آزاد ہستی ہے۔ اس کے ساتھ مورث کی بھیڑ بکریوں کی طرح کا معاملہ جائز نہیں ہے بلکہ وہ اپنی مرضی کی مالک اور شریعت کے حدود کے اندر آزاد ہے۔
      ناپسند بیوی سے حسن سلوک کی ہدایت: دوسری بات یہ فرمائی کہ اگر کسی کو اس کی بیوی نا پسند ہو تو اس سے اپنا دیا دلایا اور کھلایا پہنایا اگلوانے کے لیے اس کو ضیق میں ڈالنے اور تنگ کرنے کی کوشش نہ کرے۔ اس قسم کا رویہ صرف اس شکل میں جائز ہے جب اس کی طرف سے کھلی ہوئی بدکاری کا صدور ہو۔ اگر اس قسم کی کوئی بات اس سے صادر نہیں ہوئی ہے، وہ بدستور اپنی وفاداری اور پاک دامنی پر قائم ہے تو مجرد اس بنیاد پر کہ بیوی پسند نہیں ہے اس سے کچھ اینٹھنے کے لیے اس کو تنگ کرنا عقل، انصاف، شرافت اور فتوت کے بالکل منافی ہے۔ قابل نفرت چیز صرف اخلاقی فساد ہے۔ محض شکل و صورت اور رنگ و روغن کے ناپسند ہونے کی بنا پر یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ شریفانہ معاشرت کے حقوق سے محروم کر دی جائے۔ ہو سکتا ہے کہ مجرد شکل و صورت کی بنا پر کوئی شخص اپنی بیوی کو نا پسند کرتا ہو لیکن اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اس کے لیے دنیا و آخرت دونوں میں برکتوں کے بہت سے دروازے کھول دے۔ پس صحیح مومنانہ رویہ یہی ہے کہ اگر کسی کو اس طرح کی آزمایش پیش آ جائے تو ذوقی عدم مناسبت کے باوجود خدا کے خوف اور اپنی فتوت و شرافت کے پیش نظر ایسی بیوی سے نہایت اچھا برتاؤ کرے اور خدا سے خیر و برکت کی امید رکھے۔
      ایک ادبی نکتہ: یہاں لفظ اگرچہ ’’عسیٰ‘‘ استعمال ہوا ہے جو عربی میں صرف اظہارِ امید اور اظہار توقع کے لیے آتا ہے لیکن عربیت کے ادا شناس جانتے ہیں کہ اس طرح کے مواقع میں، جیسا کہ یہاں ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک قسم کا وعدہ مضمر ہوتا ہے۔ اس اشارے کے پیچھے جو حقیقت جھلک رہی ہے وہ یہی ہے کہ جو لوگ ظاہری شکل و صورت کے مقابل میں اعلیٰ اخلاقی و انسانی اقدار کو اہمیت اور ان کی خاطر اپنے جذبات کی قربانی دیں گے ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر کثیر کا وعدہ ہے۔ جن لوگوں نے اس وعدے کے لیے بازیاں کھیلی ہیں وہ گواہی دیتے ہیں کہ یہ بات سو فی صدی حق ہے اور خدا کی بات سے زیادہ سچی بات کس کی ہو سکتی ہے۔

      جاوید احمد غامدی ایمان والو، تمھارے لیے جائز نہیں ہے کہ زبر دستی عورتوں کے وارث بن جاؤ اور نہ یہ جائز ہے کہ (نکاح کر لینے کے بعد) جو کچھ تم نے اُن کو دیا ہے، اُس کا کچھ حصہ واپس لینے کے لیے اُنھیں تنگ کرو۔ ہاں، اِس صورت میں کہ وہ کسی کھلی ہوئی بدکاری کا ارتکاب کریں۔ اور اُن سے اچھا برتاؤ کرو، اِس لیے کہ اگر تم اُنھیں ناپسند کرتے ہو تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمھیں پسند نہ ہو اور اللہ اُسی میں تمھارے لیے بہت کچھ بہتری پیدا کر دے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں ’اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ کَرْھًا‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن میں ’کَرْھًا‘ ’و ہن کارھات اومکرھات‘ کے مفہوم میں ہے۔ یہ مفہوم، اگر غور کیجیے تو اِس سے مانع ہے کہ وارث بننے کو اِس جملے میں اُن کے مال کا وارث بننے کے معنی میں لیا جائے۔ اِس لیے کہ آدمی کسی کے مال کا وارث اُس کے مرنے کے بعد ہی بنتا ہے اورزبردستی کی جس حالت کا یہاں ذکر ہے، وہ اُس کے وارثوں پر تو ہو سکتی ہے، اُس کے مر جانے کے بعد خود اُس پر نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ وارث بننے سے مراد یہاں عورتوں کو میراث سمجھ کر اُن کا مالک بن جانا ہی ہے۔ اِس مفہوم کی تائید اُن روایتوں سے بھی ہوتی ہے جن میں بیان کیا گیا ہے کہ عرب جاہلیت کے بعض طبقوں میں یہ رواج تھا کہ مرنے والے کی جائداد اور اُس کے مال مواشی کی طرح اُس کی بیویاں بھی وارثوں کی طرف منتقل ہو جاتی تھیں۔ قرآن نے اِس آیت میں واضح کر دیا ہے کہ عورتیں جانور نہیں ہیں کہ جس کو میراث میں ملیں، وہ اُن کو لے جا کر اپنے باڑے میں باندھ لے۔ اُن کی حیثیت ایک آزاد ہستی کی ہے۔ وہ اپنی مرضی کی مالک ہیں اور حدود الٰہی کے اندر اپنے فیصلے کرنے کے لیے پوری طرح آزاد ہیں۔ اُن کی مرضی کے بغیر کوئی چیز اُن پر مسلط نہیں کی جا سکتی۔
      یعنی جس طرح زبردستی کسی عورت کا مالک بن بیٹھنا جائز نہیں ہے۔ اِسی طرح یہ بات بھی جائز نہیں ہے کہ بیوی اگر ناپسند ہے تو اُس سے اپنا دیا دلایا واپس لینے کے لیے اُس کو ضیق میں ڈالنے اور تنگ کرنے کی کوشش کی جائے۔ اِس طرح کا رویہ صرف اُس صورت میں گوارا کیا جا سکتا ہے، جب وہ کھلی ہوئی بد کاری کرنے لگے۔ اِس قسم کی کوئی چیز اگر اُس سے صادر نہیں ہوئی ہے، وہ اپنی وفاداری پر قائم ہے اور پاک دامنی کے ساتھ زندگی بسر کر رہی ہے تو محض اِس بنیاد پر کہ بیوی پسند نہیں ہے، اُس کو تنگ کرنا عدل و انصاف اورفتوت و شرافت کے بالکل منافی ہے۔ اخلاقی فساد، بے شک قابل نفرت چیز ہے، لیکن محض صورت کے نا پسند ہونے یا کسی ذوقی عدم مناسبت کی بنا پر اُسے شریفانہ معاشرت کے حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
      یعنی نا پسندیدگی کے باوجود اُن کے ساتھ اُس طرح کا برتاؤ کرو جو شریفوں کے شایان شان ہو، عقل و فطرت کے مطابق ہو، رحم و مروت پر مبنی ہو، اُس میں عدل و انصاف کے تقاضے ملحوظ رہے ہوں۔ اِس کے لیے آیت میں ’وَعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ ’مَعْرُوْف‘ کا لفظ قرآن مجید میں خیر و صلاح کے رویوں اور شرفا کی روایات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہاں بھی یہ اِسی مفہوم میں ہے۔ مدعا یہ ہے کہ بیوی پسند ہو یا ناپسند، بندۂ مومن سے اُس کے پروردگار کا تقاضا یہی ہے کہ وہ ہرحال میں نیکی اور خیر کا رویہ اختیار کرے اور فتوت و شرافت کی جو روایت انسانی معاشروں میں ہمیشہ سے قائم رہی ہے، اُس سے سر مو انحراف نہ کرے۔
      یہ ترغیب دی ہے کہ نا پسند یدگی کے باوجود اچھا برتاؤ کرتے ہو تو ہو سکتا ہے کہ دنیا اور آخرت کی برکتوں کے بہت سے دروازے اِسی کے ذریعے سے تم پر کھول دیے جائیں۔ اِس مفہوم کے لیے جو الفاظ آیت میں آئے ہیں، استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اُن کی وضاحت میں لکھا ہے:

      ’’یہاں لفظ اگرچہ ’عسٰی‘ استعمال ہوا ہے جو عربی میں صرف اظہار امید اور اظہار توقع کے لیے آتا ہے، لیکن عربیت کے اداشناس جانتے ہیں کہ اِس طرح کے مواقع میں، جیسا کہ یہاں ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک قسم کا وعدہ مضمر ہوتا ہے۔ اِس اشارے کے پیچھے جو حقیقت جھلک رہی ہے، وہ یہی ہے کہ جولوگ ظاہری شکل و صورت کے مقابل میں اعلیٰ اخلاقی و انسانی اقدار کو اہمیت اور اُن کی خاطر اپنے جذبات کی قربانی دیں گے، اُن کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر کثیر کا وعدہ ہے۔ جن لوگوں نے اِس وعدے کے لیے بازیاں کھیلی ہیں، وہ گواہی دیتے ہیں کہ یہ بات سو فی صدی حق ہے اور خداکی بات سے زیادہ سچی بات کس کی ہو سکتی ہے۔‘‘ (تدبر قرآن ۲/ ۲۷۰)

       

    • امین احسن اصلاحی اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی بدلنا چاہو اور تم نے ایک کو ڈھیروں مال دے رکھا ہو تو بھی اس میں سے کچھ نہ لو، کیا تم بہتان لگا کر اور کھلی ہوئی حق تلفی کر کے اس کو لو گے؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’قنطار‘ کا مفہوم: ’قنطار‘ اصل میں تو ایک وزن ہے جس کی مقدار زمانے کے ساتھ گھٹتی بڑھتی رہی ہے لیکن عام استعمال میں اس سے مراد مالِ کثیر ہوتا ہے۔ جیسے ہم منوں مال، ڈھیروں مال بولتے ہیں، عربی میں اسی مفہوم کی تعبیر کے لیے یہ لفظ ہے۔ اسی سے ’’قناطیر مقنطرہ‘‘ کی ترکیب بھی قرآن میں استعمال ہوئی ہے۔
      ’افضی بعضکم الٰی بعض‘ کا مفہوم: ’اَفْضٰی بَعْضُکُمْ اِلٰی بَعْضٍ، افضی فلان الی فلان کے معنی ہیں وصل الیہ ودخل فی حیزہ۔ اسی طرح افضی الی فلان بسرّہ، کے معنی ہیں ’اس نے فلاں کے آگے اپنے سارے بھید بے نقاب کر دیے‘ یہ میاں بیوی کے ازدواجی تعلقات کی نہایت جامع اور نہایت شائستہ تعبیر ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے اس طرح بے نقاب ہو جاتے ہیں کہ ان کے ظاہر و باطن اور احساسات و جذبات کا کوئی گوشہ اور کوئی پہلو ایک دوسرے سے مخفی نہیں رہ جاتا۔
      بیوی سے دیا ہوا مال واپس لینا فتوت کے منافی ہے: اوپر کی آیت میں بتایا تھا کہ نا پسندیدگی کے باوجود اعلیٰ طریقہ یہی ہے کہ آدمی بیوی کے ساتھ شائستہ طریقے پر نباہنے کی کوشش کرے۔ اب یہ بتایا جا رہا ہے کہ کوئی شخص اپنے حالات کے تقاضوں سے اگر اس فیصلہ پر پہنچ ہی گیا ہے کہ ایک بیوی کو چھوڑ کر کسی دوسری عورت سے شادی کرے تو یہ تو بہرحال وہ نہ کرے کہ جو کچھ پہلی بیوی کو اس نے دیا ہے اس کو واپس لینے کی کوشش کرے۔ یہاں تک کہ اگر اس کو ڈھیروں مال بھی اس نے دیا ہے جب بھی اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس کے واپس لینے کے لیے ہتھکنڈے استعمال کرے۔ خاص کر اس خیال سے اس پر بہتان لگانا کہ اس سے دیا ہوا مال واپس لینے کے لیے جواز پیدا ہو سکے اور بھی بڑا گناہ اور ظلم ہے۔ پھر فرمایا کہ یہ مرد کی فتوت کے بالکل منافی ہے کہ جس عورت کے ساتھ اس نے زندگی بھر کا پیمانِ وفا باندھا، جو ایک نہایت مضبوط میثاق کے تحت اس کے حبالۂ عقد میں آئی، جس نے اپنا سب ظاہر و باطن اس کے لیے بے نقاب کر دیا اور دونوں نے ایک مدت تک یک جان و دو قالب ہو کر زندگی گزاری، اس سے جب جدائی کی نوبت آئے تو اپنا کھلایا پہنایا اس سے اگلوانے کی کوشش کی جائے یہاں تک کہ اس ذلیل غرض کے لیے اس کو بہتانوں اور تہمتوں کا ہدف بھی بنایا جائے۔

      جاوید احمد غامدی اور اگر ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لے آنے کا ارادہ کر لو اور تم نے اُن میں سے کسی کو ڈھیروں مال بھی دے رکھا ہو تو اُس میں سے کچھ واپس نہ لو۔ کیا تم بہتان لگا کر اورکھلی ہوئی حق تلفی کر کے اُسے لو گے؟ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ اگر اِس فیصلے پر پہنچ ہی گئے ہو کہ بیوی کو چھوڑ دینا ضروری ہے تو اِس صورت میں بھی جو کچھ اُسے دے چکے ہو، اُس کا واپس لینا تمھارے لیے جائز نہیں ہے۔ یہی بات سورۂ بقرہ (۲) کی آیت ۲۲۹ میں بھی اِسی تاکید کے ساتھ فرمائی ہے۔ اِس سے صاف واضح ہے کہ بیوی کو کوئی مال، جائداد، زیورات اور ملبوسات، خواہ کتنی ہی مالیت کے ہوں، اگر تحفے کے طور پر دیے گئے ہیں تو قرآن کا حکم یہی ہے کہ اُس سے علیحدگی کے وقت وہ ہرگز واپس نہ لیے جائیں۔
      اِس سے پہلے آیت ۱۹ میں چونکہ اجازت دی ہے کہ بیوی اگر بدکاری کی مرتکب ہو تو شوہر اُس سے اپنا دیا ہوا مال واپس لے سکتا ہے، اِس لیے یہ آخر میں تنبیہ فرما دی ہے کہ کوئی شخص بیوی پر بہتان لگا کر اِس کا جواز پیدا کرنے کی جسارت نہ کرے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’... یہ مرد کی فتوت کے بالکل منافی ہے کہ جس عورت کے ساتھ اُس نے زندگی بھر کا پیمان وفا باندھا، جو ایک نہایت مضبوط میثاق کے تحت اُس کے حبالۂ عقد میں آئی، جس نے اپنا سب ظاہر و باطن اُس کے لیے بے نقاب کر دیا اور دونوں نے ایک مدت تک یک جان ودو قالب ہو کر زندگی گزاری، اُس سے جب جدائی کی نوبت آئے تو اپنا کھلایا پہنایا اُس سے اگلوانے کی کوشش کی جائے، یہاں تک کہ اِس ذلیل غرض کے لیے اُس کو بہتانوں اور تہمتوں کا ہدف بھی بنایا جائے۔‘‘ (تدبر قرآن ۲/ ۲۷۱)

       

    Join our Mailing List