Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 200 آیات ) Aali Imran Aali Imran
Go
  • آل عمران (The Family of Imran)

    200 آیات | مدنی
    سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق

    مندرجہ ذیل پہلوؤں سے یہ سورہ سابق سورہ (بقرہ) سے نہایت گہرا ربط رکھتی ہے۔

    ۱۔ ان دونوں کا موضوع ایک ہی ہے یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اثبات۔ لوگوں پر عموماً اور اہل کتاب پر خصوصاً۔

    ۲۔ دونوں میں یکساں شرح و بسط کے ساتھ دین کی اصولی باتوں پر بحث ہوئی ہے۔

    ۳۔ دونوں کا قرآنی نام بھی ایک ہی ہے۔ یعنی الٓمٓ۔

    ۴۔ دونوں شکلاً بھی ایک ہی تنے سے پھوٹی ہوئی دو بڑی بڑی شاخوں کی طرح نظر آتی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کو شمس و قمر سے تشبیہ دی ہے اور فرمایا ہے کہ یہ دونوں حشر کے دن دو بدلیوں کی صورت میں ظاہر ہوں گی۔ اہل بصیرت سمجھ سکتے ہیں کہ وصف اور تمثیل میں یہ اشتراک بغیر کسی گہری مناسبت کے نہیں ہو سکتا۔

    ۵۔ دونوں میں زوجین کی سی نسبت ہے۔ ایک میں جو بات مجمل بیان ہوئی ہے، دوسری میں اس کی تفصیل بیان ہو گئی ہے۔ اسی طرح ایک میں جو خلا رہ گیا ہے، دوسری نے اس کو پر کر دیا ہے۔ گویا دونوں مل کر ایک اعلیٰ مقصد کو اس کی مکمل شکل میں نہایت خوب صورتی کے ساتھ پیش کرتی ہیں۔

  • آل عمران (The Family of Imran)

    200 آیات | مدنی
    البقرۃ آل عمران

    یہ دونوں سورتیں اپنے مضمون کے لحاظ سے توام ہیں۔ پہلی سورہ میں یہود اور دوسر ی میں یہود کے ساتھ ،بالخصوص نصاریٰ پر اتمام حجت کے بعد بنی اسمٰعیل میں سے ایک نئی امت امت مسلمہ کی تاسیس کا اعلان کیا گیا ہے ۔ اِن میں خطاب اگرچہ ضمناً نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ہوا ہے اورمشرکین عرب سے بھی ، لیکن دونوں سورتوں کے مخاطب اصلاً اہل کتاب اور اُن کے بعد مسلمان ہی ہیں۔ اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ یہ ہجرت کے بعد مدینہ میں اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب مسلمانوں کی ایک باقاعدہ ریاست وہاں قائم ہو چکی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اہل کتاب پر اتمام حجت اور مسلمانوں کا تزکیہ و تطہیر کر رہے تھے۔

    پہلی سورہ—- البقرۃ—- کا موضوع اہل کتاب پر اتمام حجت ، اُن کی جگہ ایک نئی امت کی تاسیس اوراُس کے فرائض کا بیان ہے۔

    دوسری سورہ—- آل عمران—- کا موضوع اہل کتاب ، بالخصوص نصاریٰ پر اتمام حجت، اُن کی جگہ ایک نئی امت کی تاسیس اوراُس کا تزکیہ وتطہیر ہے۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی یہ الٓمّٓ ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      سورۂ بقرہ کی تفسیر میں حروف مقطعات پر ایک جامع بحث ہم کر چکے ہیں۔ وہاں ہم نے اس باب میں استاذ امام مولانا فراہی رحمتہ اللہ علیہ کا نقطہ نظر بھی پیش کر دیا ہے ۔ اس کے سوا کوئی نئی چیز اس سلسلے میں ہمارے سامنے ایسی نہیں آئی جو یہاں قابل ذکر ہو۔

      جاوید احمد غامدی یہ سورہ الم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      سورۂ بقرہ کی طرح اِس سورہ کا نام بھی الم ہے ۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اپنے مضمون کے لحاظ سے یہ دونوں سورتیں توام ہیں۔ اِس نام کے معنی کیا ہیں ؟ اِس کے متعلق اپنا نقطۂ نظر ہم نے سورۂ بقرہ کی آیت ۱ کے تحت تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اللہ ہی معبود ہے، نہیں ہے کوئی معبود مگر وہی، زندہ اور قائم رکھنے والا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اس آیت میں جو اسمائے حسنی مذکور ہیں سب کی تحقیق گزر چکی ہے۔ بعض کی تفسیر سورۂ فاتحہ میں، بعض کی سورہ بقرہ میں۔
      صفات حیات و قیومیت کے اسرار و مقتضیات: یہ امر، جیسا کہ ہم تمھید میں اشارہ کر چکے ہیں، ملحوظ رہے کہ اس سورہ میں استدلال بیشتر صفاتِ الٰہی سے ہے۔ صفات الٰہی میں سب سے پہلے صفاتِ حیات و قیومیت کو لیا ہے۔ ان دونوں صفتوں کے اسرار و حقائق پر ہم آیت الکرسی کے اسرار و حقائق میں گفتگو کر چکے ہیں۔ یہاں ان کا اعادہ باعث طوالت ہو گا۔ یہاں موقع کلام کی مناسبت سے ان صفات کا حوالہ کتابِ الٰہی کی ضرورت کے اثبات کے پہلو سے ہے۔ چنانچہ بعد کی آیات سے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہو رہا ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ، جس کے سوا کوئی معبود نہیں، ایک زندہ خدا ہے تو ناگزیر ہے کہ وہ سب کچھ دیکھتا سنتا ہے، ہماری دعائیں، فریادیں اس تک پہنچتی ہیں ہمارے اعمال و افعال اس کی نظر میں ہیں۔ اس سے یہ بات لازم آتی ہے کہ وہ ہماری دعائیں اپنی حکمت کے مطابق قبول فرماتا ہے اور ہمارے اعمال پر وہ ایک دن جزا اور سزا بھی دے گا۔ پھر ایک قدم اور آگے بڑھ کر اس سے یہ بات بھی لازم آتی ہے کہ بندے اپنی زندگی میں وہ رویہ اختیار کریں جو اسے پسند ہو۔ یہ چیز اس بات کی مقتضی ہے کہ بندوں میں اس بات کی جستجو ہو کہ کون سے اعمال خدا کو پسند ہیں، کون سے ناپسند، تاکہ وہ اس کی اطاعت و ہدایت کی راہ اختیار کر کے سعادت کا مقام حاصل کر سکیں اور حقیقی زندگی کے چشمۂ حیواں سے فیض یاب ہو سکیں۔
      اہل کتاب ’’خداوند خدا، زندہ خدا‘‘ کی تعبیر سے اچھی طرح آگاہ تھے۔ ان کے انبیا کے صحیفوں میں بکثرت یہ تعبیر استعمال ہوئی ہے۔ جہاں کہیں بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت، اس کے علم اور اس کی غیرت کا اظہار ہوا ہے بالعموم اس کے لیے ’’زندہ خدا‘‘ ہی کی تعبیر ہوئی ہے۔ نصاریٰ اگرچہ اپنے زعم کے مطابق ایک مصلوب خدا کی پرستش کرتے ہیں لیکن وہ بھی ’’زندہ خدا‘‘ کی تعبیر سے نا آشنا نہیں تھے۔ اس وجہ سے یہ بات بداہتہً ان کے خلاف جاتی ہے کہ ایک طرف تو وہ زندہ خدا کا تصور رکھتے ہیں اور دوسری طرف اس کا مصلوب ہونا بھی مانتے ہیں۔
      اسی طرح ’’قیوم‘‘ کی صفت بھی انبیا کے صحیفوں میں بار بار مذکور ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قیوم ہونے کے معنی یہ ہیں کہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب اللہ ہی کے حکم اور اس کی قدرت سے قائم ہے۔ یہ صفت اللہ تعالیٰ کی ان بدیہی صفات میں سے ہے جن پر عقلاً بھی ایمان لانا ضروری ہے اور انبیا کے صحیفوں کی رو سے بھی۔ نصاریٰ بھی ان صحیفوں پر ایمان کے مدعی ہیں لیکن اس کے باوجود وہ حضرت مسیحؑ کی الوہیت کے قائل ہیں۔ اگر ان سے یہ سوال کیا جائے کہ جب تم خود اقرار کرتے ہوکہ حضرت مسیح بھوک پیاس محسوس کرتے تھے، غذا اور پانی کے محتاج تھے، بغیر ان چیزوں کے وہ اپنی ہستی کو قائم رکھنے پر قادر نہ تھے تو پھر وہ خدا کس طرح ہوئے، جب کہ خدا کے لیے تمھارے اپنے انبیا کے ارشاد کے بموجب قیوم ہونا صروری ہے؟ یا یہ سوال کیا جائے کہ جب تمھاری اپنی انجیلوں سے ثابت ہے کہ حضرت مسیحؑ مصائب و شداید پیش آنے پر روئے، ان کا دل تنگ ہوا اور سولی پر انھوں نے فریاد کی تو پھر وہ آسمان و زمین کے تھامنے والے اور قائم رکھنے والے کیسے ہوسکتے ہیں؟ تو ان سوالوں کے جواب میں ان کے پاس ضد اور کٹ حجتی کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔
      یہاں قیوم کی صفت کا حوالہ اس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قیوم ہونے کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ وہ ہمیں ہدایت بخشے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ واحد، ہمارا پروردگار، جس طرح ہمارا پیدا کرنے والا اور ہمیں زندگی بخشنے والا ہے اسی طرح وہ، جیسا کہ آیت الکرسی میں ارشاد ہوا، اپنی خلق کو قائم رکھنے والا بھی ہے اور اس کے لیے اس نے ہر قسم کے اسباب و وسائل پیدا کیے ہیں۔ پھر جب اس نے ہماری معیشت کے لیے یہ کچھ سامان کیے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ ہماری اجتماعی زندگی کے لیے وہ چیز نہ دے جو ہمارے قیام و بقا کی ضامن ہو سکے درآنحالیکہ یہ چیز ہماری خلقت کی اصل غایت ہے۔ چنانچہ یہی چیز قیام عدل و قسط کی اصل اور اللہ کی طرف سے شرائع و احکام کے نزول کی بنیاد بنی اس لیے کہ اس کے بغیر فطرتِ انسانی ارتقا کے اس درجے کو حاصل نہیں کر سکتی تھی جو اس کے وجود کے اندر مضمر ہے۔
      یہ قیومیت اس بات کی بھی مقتضی ہوئی کہ خدائے قیوم و کارساز اس امر کی بھی نگرانی رکھے کہ جب بندے اپنی خود مختاری اور سرکشی سے کام لے کر اس کے نظامِ عدل کو بالکل مٹا دینے کی کوشش کریں تو وہ اپنے ایسے بندوں کو بھی اٹھاتا رہے جو اس کو ازسرِ نو بحال کرنے کے لیے اپنی مساعی صرف کریں۔ چنانچہ دنیا کی تاریخ شاہد ہے کہ خاتم الانبیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے تک اللہ تعالیٰ نے دنیا کو عدل و حق اور اپنی سیدھی راہ پر استوار رکھنے کے لیے اپنے بے شمار نبی اور رسول بھیجے اور خاتم الانبیا پر دین کی تکمیل کر دینے اور کتابِ الٰہی کو ہر قسم کی دست اندازیوں سے محفوظ کر دینے کے بعد اس مقصد کے لیے یہ اہتمام فرمایا کہ ہر دور میں اس امت کے اندر ایک ایسا گروہ، خواہ وہ کتنا ہی قلیل التعداد ہو، پیدا ہوتا رہے گا جو خود حق و عدل پر قائم اور دوسروں کو اس عدل و حق کے قائم کرنے کی دعوت دیتا رہے گا۔ اس حقیقت کی وضاحت حدیثوں میں بھی ہوئی ہے اوراس کی طرف بعض لطیف اشارات اس سورہ میں بھی آ رہے ہیں جن کی طرف ہم آگے ان شاء اللہ موزوں مقامات میں توجہ دلائیں گے۔

      جاوید احمد غامدی اللہ وہ ہستی ہے کہ اُس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، زندہ اور سب کو قائم رکھنے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’الْقَیُّوْم‘ استعمال ہوا ہے ۔ اِس کے معنی ہیں: وہ ہستی جو خود اپنے بل پر قائم اور دوسروں کو قائم رکھنے والی ہو ۔ اِس سے اور اِس سے پہلے ’حَیّ‘ کی صفت سے قرآن نے اُن تمام معبودوں کی نفی کر دی ہے جو نہ زندہ ہیں ، نہ دوسروں کو زندگی دے سکتے ہیں، اور نہ اپنے بل پر قائم ہیں ، نہ دوسروں کو قائم رکھنے والے ہیں ، بلکہ خود اپنی زندگی اور بقا کے لیے ایک حی و قیوم کے محتاج ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اس نے تم پر کتاب اتاری حق کے ساتھ مصداق اس کی جو اس کے آگے سے موجود ہے۔ اور اس نے تورات اور انجیل اتاری۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قرآن کے اتارے جانے کی ضرورت: ’’حق‘‘ کے معنی کی تحقیق تفسیر سورۂ بقرہ کے شروع میں ہم بیان کر چکے ہیں۔ یہاں اس کے مختلف معانی میں سے ’’قولِ فیصل‘‘ مراد ہے۔ یعنی وہ بات جو نزاع و اختلاف کا فیصلہ کر دے۔ قرآن میں جگہ جگہ یہ بات بیان ہوئی ہے کہ یہود و نصاریٰ کو جو کتاب دی گئی تھی اس میں انھوں نے اختلاف پیدا کر دیے جس کے سبب سے اصل حقیقت گم ہو کر رہ گئی تھی۔ اس گم شدہ حقیقت کو واضح کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن اتارا تاکہ لوگ اللہ کے اصل دین سے بہرہ مند ہوں اور اختلاف و نزاعات کی بھول بھلیوں سے نکل کر دین کی اصلی شاہراہ پر آ جائیں۔
      ’مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ‘ پر بھی تفصیلی بحث سورہ بقرہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ قرآن کے ’مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ‘ ہونے کے ایک مشہور معنی تو یہ ہیں کہ یہ بنیادی طور پر پچھلے صحیفوں کی تمام صحیح تعلیمات کی تصدیق کرتا ہے، صرف ان باتوں کی تردید کرتا ہے جو ان میں ملاوٹ کرنے والوں کی طرف سے ملا دی گئی ہیں۔ قرآن اور دوسرے آسمانی صحیفوں کی یہ ہم اہنگی و ہم رنگی اس بات کی صاف شہادت ہے کہ یہ سب ایک ہی آفتابِ حق کی شعائیں اور ایک ہی منبع انوار کے پرتو ہیں۔ دوسرا مفہوم اس کا یہ ہے کہ قرآن اور اس کے حامل کی صفات پچھلے صحیفوں کی پیشین گوئیوں میں مذکور ہیں، یہ پیشین گوئیاں اب تک اپنے مصداق کی منتظر تھیں، قرآن کے نزول اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے ان کی تصدیق ہوئی۔ یہ قران کے حق ہونے کی ایک بہت بڑی شہادت ہے اور ساتھ ہی اس سے ان صحیفوں کی بھی تصدیق ہو رہی ہے کہ ان میں جو پیشین گوئیاں وارد تھیں وہ سچی ثابت ہوئیں۔ اس پہلو سے قرآن سب سے پہلے ان لوگوں کی طرف خیر مقدم کا سزاوار تھا جو اگلے صحیفوں پر ایمان کے مدعی تھے کہ اصلاً قرآن کے ظہور سے سب سے زیادہ انہی کے سر اونچے ہوئے تھے، لیکن انھوں نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کے سبب سے اس کا انکار کیا۔

      جاوید احمد غامدی (لوگوں کو امتحان میں ڈال کر وہ اُن کی ہدایت سے بے پروا نہیں ہو سکتا تھا ، لہٰذا) اُس نے یہ کتاب تم پر قول فیصل کے ساتھ اتاری ہے ، اُن پیشین گوئیوں کی تصدیق میں جو اِس سے پہلے موجود ہیں ، اور تورات و انجیل کو بھی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اس سے پہلے لوگوں کے لیے ہدایت بنا کر۔ اور پھر فرقان اُتارا۔ بے شک جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کیا، ان کے لیے سخت عذاب ہے اور اللہ غالب اور انتقام لینے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      خلاصۂ مطلب: ’وَاَنْزَلَ التَّوْرٰۃَ وَالْاِنْجِیْلَ مِنْ قَبْلُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَاَنْزَلَ الْفُرْقَانَ‘ الایۃ۔ یہ اوپر والے ٹکڑے کے اجمال کی تفصیل ہے جس سے قرآن کے اتارے جانے کی ضرورت واضح ہو جاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ حی و قیوم ہے اس وجہ سے اس نے ہماری زندگی کی رہنمائی اور ہمیں عدل و قسط پر استوار رکھنے کے لیے قران کو قولِ فیصل بنا کر اتارا ہے۔ اس سے پہلے اس نے لوگوں کی ہدایت کے لیے تورات اور انجیل نازل فرمائیں لیکن ان کے پیروؤں نے ان میں تحریف اور ان کے بعض حصوں کو فراموش کر کے ان میں بہت سے اختلافات پیدا کر دیے جس کے سبب سے حق و باطل میں امتیاز ناممکن ہو گیا۔ یہ صورتِ حال مقتضی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ قرآن کو حق و باطل کے درمیان امتیاز کی کسوٹی بنا کر اتارے۔ چنانچہ اس نے یہ کتاب نازل فرمائی۔ اب جو لوگ اس کتاب کا انکار کریں گے ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سخت عذاب ہے اس لیے کہ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے اس نظامِ عدل و قسط کے دشمن ہیں جو اس کی مخلوق کی صلاح و فلاح اور اس کی دنیا و آخرت دونوں کی سعادت کے لیے ضروری ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو چھوڑ دے، ان کی عدل دشمنی کی ان کو سزا نہ دے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس نے اپنی دنیا کو تباہی کے لیے چھوڑ دیا اور اس کے بقا سے اسے کوئی دلچسپی نہیں رہی۔ درآنحالیکہ اس کی صفت، جیسا کہ اسی سورہ میں آگے ذکر آئے گا ’قَاءِمًا بِالْقِسْط‘ ہے۔ اس قوامیت کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ اس قسط کے دشمنوں سے انتقام لے اوران کو واجبی سزا دے۔ وہ عزیز یعنی غالب اور قدرت والا ہے، کمزور اور ناتوان نہیں ہے کہ کوئی اسے بے بس کر دے، اسی طرح وہ انتقام والا ہے یعنی عدل و قسط کے معاملے میں غیور ہے، سرد مہر اور بے احساس نہیں ہے کہ ان کی پامالی پر راضی ہو جائے۔ یہ اس کی انھی صفات کا ظہور ہے کہ جن قوموں نے اس کے قائم کردہ قسط کو مٹایا ہے، ایک خاص حد تک ان کو مہلت دینے کے بعد اس نے ان کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا ہے اور جب جب اس کے شرائع و احکام کو نابود کرنے کی کوشش کی گئی ہے اس نے ان کو ازسرنو تازہ کرنے اور سنوارنے کا اہتمام فرمایا ہے۔ عدل و قسط کے قیام و بقا کے لیے اپنی اسی سنت کو یہاں انتقام سے تعبیر فرمایا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اِس سے پہلے اُسی نے لوگوں کے لیے ہدایت بنا کر اتارا تھا ، اور اب یہ فرقان بھی اُسی نے اتارا ہے۔ (یہ اللہ کی آیتیں ہیں، اور) جو لوگ (جانتے بوجھتے) اللہ کی آیتوں کے منکر ہوں، اُن کے لیے بڑا سخت عذاب ہے، اور اللہ زبردست ہے ، وہ (اِس طرح کے لوگوں سے) انتقام لینے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی جب وہ لوگوں کا معبود بھی ہے اور حی و قیوم بھی تو کس طرح ممکن ہے کہ وہ اُنھیں امتحان کے لیے دنیا میں بھیجے اور پھر حق و باطل کے معاملے میں اُن کی رہنمائی نہ فرمائے ۔ چنانچہ لوگوں کو اختلافات کی تاریکی سے نکالنے کے لیے اپنی کتابوں کی صورت میں یہ روشنی اُس نے نازل کر دی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اللہ سے کوئی چیز بھی مخفی نہیں ہے، نہ زمین میں نہ آسمان میں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      قیام عدل پر صفاتِ الٰہی سے استدلال: اوپر والی آیت میں کتابِ الٰہی کے مخالفین یا بالفاظِ دیگر عدل و قسط کے ہادمین کے لیے جو سزا مذکور ہوئی ہے یہ اس کی دلیل ہے کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ خدا کی اس دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اس سے وہ بے خبر رہتا ہے۔ اس سے کوئی بات بھی مخفی نہیں رہتی، خواہ وہ بڑی ہو یا چھوٹی، اور خواہ زمین میں پیش آئے یا آسمانوں میں، خدا کا علم ہر چیز اور ہر جگہ کو محیط ہے.

      جاوید احمد غامدی (اِس لیے کہ) اللہ سے نہ زمین میں کوئی چیز چھپی ہوئی ہے، نہ آسمان میں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی وہی ہے جو تمھاری صورت گری کرتا ہے رحموں کے اندر جس طرح چاہتا ہے۔ نہیں کوئی معبود مگر وہ، وہ غالب اور حکیم ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اس سے کوئی بات بھی مخفی نہیں رہتی، خواہ وہ بڑی ہو یا چھوٹی، اور خواہ زمین میں پیش آئے یا آسمانوں میں، خدا کا علم ہر چیز اور ہر جگہ کو محیط ہے. اور محیط کیوں نہ ہو اسی نے تو سب کو پیدا کیا اور وہی ہے جو رحموں کے اندر صورت گری فرماتا ہے تو جس نے پیدا کیا اور جس نے صورت گری فرمائی کیا وہ بھی بے خبر ہو سکتا ہے

      اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَق
      (کیا جس نے پیدا کیا وہ بھی نہ جانے گا)

      اس کے بعد توحید اور خدا کی صفات میں عزیز اور حکیم کا حوالہ دیا۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ محیط کُل علم رکھنے والی ہستی اگر قیام عدل و قسط کا اہتمام نہ کرے تو اس کی وجہ یا تو یہ ہو سکتی ہے کہ اس کو عزت وقدرت حاصل نہیں ہے یا عزت و قدرت تو حاصل ہے لیکن اس کو اپنے کاموں میں کسی حکمت و مصلحت کی کوئی پروا نہیں، بس ایک کھلنڈرے کا کھیل ہے، خیر ہو یا شر، ظلم ہو یا انصاف اس سے اسے کچھ بحث نہیں، دونوں ہی چیزیں اس کی نظر میں یکساں ہیں۔ یہ خیال بالبداہت باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ عزیز بھی ہے اور حکیم بھی، اسے ہر چیز پر قدرت بھی حاصل ہے اور اس کے ہر کام میں عدل و حکمت بھی ہے اور ساتھ ہی وہ ہر چیز سے با خبر بھی ہے تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ ان لوگوں سے انتقام نہ لے گا جو اللہ کی اس کتاب کا انکار کریں گے جو اس نے دنیا میں ازسرِ نو حق و عدل کے آثار و اعلام کو اجاگر کرنے کے لیے نازل فرمائی ہے۔

      جاوید احمد غامدی وہی تو ہے جو ماؤں کے پیٹ میں تمھاری صورتیں، جس طرح چاہتا ہے ، بنا دیتا ہے۔ اُس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ زبردست ہے، بڑی حکمت والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی وہ جب اُن کی سرکشی کو دیکھ بھی رہا ہے ، اُن کا معبود بھی وہی ہے ، اُن سے انتقام کی قدرت بھی رکھتا ہے اور ایک حکیم کی حیثیت سے اُس کی حکمت کا تقاضا بھی ہے کہ اِس طرح کے مجرموں کو اُن کے انجام تک پہنچا دے تو ضروری تھا کہ وہ بدلہ لینے والا ہو ۔ و ہ اگر ایسا نہ کرے تو اِس کے معنی یہ ہوں گے کہ یا تو وہ اُنھیں دیکھ نہیں رہا یا تنہا وہی معبود نہیں ہے یا دنیا کے بعض معاملات اُس نے دوسروں کے سپرد کر دیے ہیں یا بے بس ہے کہ اِس طرح کے مجرموں کو پکڑنے کی قدرت نہیں رکھتا یا کھلنڈرا ہے کہ خیر و شر کو ایک ہی جگہ رکھ کر اُن کا تماشا دیکھ رہا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی وہی ہے جس نے تمھارے اوپر کتاب اتاری جس میں مُحکم آیات ہیں جو اصل کتاب کا درجہ رکھتی ہیں اور دوسری کچھ آیتیں اس میں ایسی ہیں جو متشابہ ہیں۔ تو جن کے دلوں میں کجی ہے وہ اس میں سے متشابہات کے درپے ہوتے ہیں تاکہ فتنہ پیدا کریں اور ان کی حقیقت و ماہیت معلوم کریں حالانکہ ان کی اصل حقیقت اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ تو جو لوگ علم میں راسخ ہیں وہ یوں کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے، یہ سب ہمارے رب ہی کے پاس سے ہیں۔ اور یاددہانی تو اہلِ عقل ہی حاصل کرتے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’ھُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ عَلَیْکَ الْکِتٰبَ‘ (وہی خدا ہے جس نے تمھارے اوپر کتاب اتاری) سے اشارہ اس عزیز و حکیم اور حی و قیوم خدا کی طرف ہے جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے اور اس سے مقصود یہاں مخاطب کو کئی چیزوں کی طرف متوجہ کرنا ہے۔
      ایک تو اس عظیم رحمت کی طرف اشارہ کرنا ہے جو اس کتاب کی شکل میں ظہور میں آئی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی صفات حیات و قیومیت کا ظہور ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو زندگی جاوداں سے بہرہ مند اور ان کو جادۂ حق پر استوار کرنے کے لیے یہ کتاب اتاری ہے۔ اس عظیم نعمت کا حق یہ ہے کہ بندے اس کی قدر پہچانیں، اس پر ایمان لائیں اور اس کے ذریعے سے حیاتِ جاوداں اور بقائے دوام حاصل کریں۔
      دوسرے اس میں ان لوگوں کے لیے تخویف و تہدید کا پہلو بھی ہے جو اس کی تردید و تکذیب کریں گے اس لیے کہ جس خدا نے یہ کتاب اتاری ہے وہ عزیز بھی ہے اور قیوم بھی۔ اس کی اس عزت و حکمت اور اس قیومیت کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ وہ ان لوگوں کو سزا دے جو اس کے قانونِ حق و عدل کی راہ میں مزاحم ہوں۔
      تیسرے اس سے نفس کتاب کے مزاج کی طرف بھی اشارہ ہو رہا ہے کہ یہ ایک خدائے عزیز و حکیم کا کلام ہے اس وجہ سے یہ خود بھی عزیز و حکیم ہے۔ چنانچہ قرآن میں جگہ جگہ اس کی صفت عزیز و حکیم آئی بھی ہے۔ اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ یہ کتاب الجھنے اور موشگافی کرنے کے لیے نہیں ہے بلکہ بقدر ظرف و توفیق فائدہ اٹھانے کے لیے ہے۔ آدمی اس ناپیدا کنار سمندر کی حکمتوں سے جو فائدہ اٹھا سکے اٹھا لے، یہ توقع نہ کرے کہ وہ اس کے تمام اسرار و حقائق کا احاطہ کر سکتا ہے۔ اس کی جو باتیں سمجھ میں نہ آئیں ان کو فتنہ اور شبہات و شکوک کا ذریعہ نہ بنائے بلکہ ان کو اللہ کے حوالہ کرے۔
      اس آیت میں چند الفاظ ایسے استعمال ہوئے ہیں جن کی نوعیت کچھ قرآنی اصطلاحات کی سی ہے، چونکہ آیت کا ٹھیک ٹھیک مفہوم اس وقت تک واضح نہیں ہو سکے گا جب تک ان اصطلاحات کا مفہوم اچھی طرح واضح نہ ہو جائے اس وجہ سے پہلے ہم ان کی وضاحت کرتے ہیں۔
      ’آیات محکمات‘ سے مراد: آیاتٌ مُّحْکَمَات: آیات محکمات سے مراد قرآن کی وہ آیات ہیں جو آفاق و انفس کی بالکل بدیہیات، خیر و شر کے مسلمات، اور معرو ف و منکر کے قطعیات و یقینیات پر مشتمل ہیں۔ جن کو دل قبول کرتے ہیں اور جن کو قبول کرنے کے لیے اس کے سوا کوئی شرط نہیں ہے کہ دل سلیم ہو۔ جن کے حق میں ہر عقل گواہی دیتی ہے بشرطیکہ اس پر تعصب، جذبات اور غیر فطری عقلیات کے پردے پڑے ہوئے نہ ہوں۔ انھی محکمات پر ہر صحیح مذہب کی بنیاد ہوتی ہے اس وجہ سے تمام آسمانی مذاہب اور تمام انبیا سے یہ تواتر کے ساتھ نقل ہوئی ہیں۔ چونکہ فطرت انسانی کے اندر ان کی جڑیں نہایت مستحکم ہوتی ہیں۔ شبہات و شکوک کی آندھیاں ان کو ہلانے سے قاصر رہتی ہیں اس وجہ سے قرآن نے ان کو محکمات سے تعبیر کیا ہے۔
      ’اُمُّ الکتاب‘ کا مفہوم: اُمُّ الْکِتٰب: آیات محکمات کی تعریف یہ فرمائی ہے کہ ان کی حیثیت ام الکتاب کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بقیہ ساری کتاب کا مرجع و مرکز وہی محکمات ہوتی ہیں، انھی پر ساری بحث کا مدار ہوتا ہے۔ ساری شاخیں انھی سے پھوٹتی ہیں۔ اگر کوئی نزاع و اختلاف پیدا ہوتا ہے تو اس کا فیصلہ بھی انھی کی کسوٹی پر پرکھ کر ہوتا ہے۔ پھر انھی کا یہ درجہ ہوتا ہے کہ ان کو اصول قرار دے کر ان سے مسائل مستنبط کیے جائیں اور ان مسائل پر اسی طرح اعتماد کیا جائے جس طرح اصولوں پر اعتماد کیا جاتا ہے۔
      ’آیات متشابہات‘ سے مراد: مُتَشَابِھَاتٌ: متشابہات سے مراد وہ آیتیں ہیں جن میں ہمارے مشاہدات و معلومات کے دسترس سے باہر کی باتیں تمثیلی و تشبیہی رنگ میں قرآن نے بتائی ہیں۔ یہ باتیں جس بنیادی حقیقت سے تعلق رکھنے والی ہوتی ہیں وہ بجائے خود واضح اور مبرہن ہوتی ہے، عقل اس کے اتنے حصے کو سمجھ سکتی ہے جتنا سمجھنا اس کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ البتہ چونکہ اس کا تعلق ایک نادیدہ عالم سے ہوتا ہے اس وجہ سے قرآن ان کو تمثیل و تشبیہہ کے انداز میں پیش کرتا ہے تاکہ علم کے طالب بقدر استعداد ان سے فائدہ اٹھا لیں اور ان کے اصل صورت و حقیقت کو علم الٰہی کے حوالہ کریں۔ یہ باتیں خدا کی صفات و افعال یا آخرت کی نعمتوں اور اس کے آلام سے تعلق رکھنے والی ہوتی ہیں۔ ان کا جس حد تک ہمارے لیے سمجھنا ضروری ہے اتنا ہماری سمجھ میں آ جاتا ہے اور اس سے ہمارے علم و یقین میں اضافہ ہوتا ہے لیکن اگر ہم اپنی حد سے آگے بڑھ کر ان کی اصل حقیقت اور صورت کو اپنی گرفت میں لینے کی کوشش کریں تو یہ چیز فتنہ بن جاتی ہے اور اس کا نتیجہ صرف یہ نکلتا ہے کہ انسان اپنے ذہن سے شک کا ایک کانٹا نکالنا چاہتا ہے اور اس کے نتیجے میں بے شمار کانٹے اس کے اندر چبھا لیتا ہے۔ یہاں تک کہ اس نایافتہ کی طلب میں اپنی یافتہ دولت کو بھی ضائع کر بیٹھتا ہے اور نہایت واضح حقائق کی اس لیے تکذیب کر دیتا ہے کہ ان کی شکل و صورت ابھی اس کے سامنے نمایاں نہیں ہوئی۔ قرآن نے اسی چیز کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔

      بَلْ کَذَّبُوْا بِمَا لَمْ یُحِیْطُوْا بِعِلْمِہٖ وَلَمَّا یَاْتِھِمْ تَاْوِیْلُہٗ (یونس۔۳۹)
      (بلکہ انھوں نے اس چیز کو جھٹلایا جو ان کے علم کی گرفت میں نہیں آئی اور ابھی تک اس کی حقیقت ان کے سامنے ظاہر نہیں ہوئی ہے.)

      متشابہات کی بعض مثالیں: ہم یہاں قرآن سے اس قسم کے بعض متشابہات کی مثالیں نقل کرتے ہیں۔ سورۂ مدثر میں قرآن نے دوزخ کے عذاب کی تصویر ان الفاظ میں پیش کی ہے۔

      سَاُصْلِیْہِ سَقَرَo وَمَآ اَدْرٰکَ مَا سَقَرُo لَا تُبْقِیْ وَلَا تَذَرُo لَوَّاحَۃٌ لِّلْبَشَرِo عَلَیْھَا تِسْعَۃَ عَشَرَ (۲۶-۳۰)
      (میں اس کو دوزخ میں داخل کروں گا اور تمھیں کیا پتا کہ دوزخ کیا ہے؟ وہ نہ ذرا ترس کھائے گی اور نہ کسی چیز کو چھوڑے گی، جسموں کو جھلس دینے والی ہو گی۔ اس پر خدا کے انیس سرہنگ مقرر ہوں گے۔)

      اس آیت میں جس سزا کا ذکر ہے وہ ایک حقیقت ہے اور قانون مجازات پر جس کا ایمان ہو اس کے لیے اس سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں، رہی اس کی تفصیل تو اس کا تعلق چونکہ ایک نادیدہ عالم سے ہے اس وجہ سے اس کی اصل صورت کسی طرح ہماری گرفت میں نہیں آ سکتی۔ اس طرح کے معاملات میں صحیح روش یہ ہے کہ آدمی اتنے پر قناعت کرے جو سمجھ میں آتا ہے۔ جو سمجھ میں نہیں آتا وہ اس عالم میں سمجھ میں آ ہی نہیں سکتا، اس وجہ سے اس کے درپے ہونے کے بجائے اس کو خدا کے حوالے کرے۔ سلیم الطبع انسان ایسا ہی کرتے ہیں لیکن جن کے دلوں میں کجی اور عقلوں میں ٹیڑھ ہوتی ہے وہ یہ روش اختیار کرنے کے بجائے متشابہات و تمثیلات کی حقیقت معلوم کرنے کے درپے ہو جاتے ہیں جس سے وہ خود بھی فتنوں میں پڑتے ہیں اور اپنے جیسے دوسرے بہتوں کو بھی فتنوں میں ڈال دیتے ہیں۔ چنانچہ دیکھیے مذکورہ بالا آیت میں تِسْعَۃَ عَشَرَ کا جو لفظ آیا تو قرآن نے اس کے متعلق شرارت پسندوں کا ردِ عمل یہ بتایا ہے کہ وہ اسی کے درپے ہو گئے کہ اس سے کیا مراد ہے؟ اگر اس سے فرشتے مراد ہیں تو یہ سوال انھوں نے اٹھایا کہ انیس کے عدد کی تخصیص میں کیا رمز ہے؟ قرآن نے ان کے اس ردِ عمل پر ان الفاظ میں تبصرہ فرمایا۔

      وَمَا جَعَلْنَآ اَصْحٰبَ النَّارِ اِلَّا مَآٰءِکَۃً وَّمَا جَعَلْنَا عِدَّتَھُمْ اِلَّا فِتْنَۃً لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِیَسْتَیْقِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ وَیَزْدَادَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِیْمَانًا وَّلَا یَرْتَابَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَلِیَقُوْلَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ وَّالْکٰفِرُوْنَ مَاذَآ اَرَادَ اللّٰہُ بِھٰذَا مَثَلًاط کَذٰلِکَ یُضِلُّ اللّٰہُ مَنْ یَّشَآءُ وَیَھْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ وَمَا یَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّکَ اِلَّا ھُوَ وَمَا ھِیَ اِلَّا ذِکْرٰی لِلْبَشَرِ (المدثر ۷۴: ۳۱)
      (اور ہم نے دوزخ کی پہرہ داری پر نہیں مقرر کیے ہیں مگر فرشتے، اور ہم نے ان کی تعداد کو نہیں بنایا مگر کافروں کے لیے فتنہ، تاکہ وہ لوگ یقین کریں جن کو کتاب ملی ہے اور ایمان والے اپنے ایمان میں اضافہ کریں اور کتاب پانے والے اور اہل ایمان شک میں نہ پڑیں اور جن کے دلوں میں بیماری ہے اور جو کافر ہیں وہ یہ کہیں کہ اس قسم کی تمثیل سے اللہ تعالیٰ کا کیا مطلب ہے؟ اسی طرح اللہ جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے اور تیرے رب کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور یہ نہیں ہے مگرانسانوں کے لیے یاددہانی۔)

      اسی طرح سورۂ بقرہ میں جنت کی نعمتوں کا تمثیلی رنگ میں ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جب اہل جنت کے سامنے جنت کی نعمتیں پیش کی جائیں گی تو وہ خوشی سے پکار اٹھیں گے کہ یہ تو وہی نعمتیں ہیں جن کی ہمیں پہلے قرآن میں سیر کرا دی گئی تھی، قَالُوْا ھٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُلا وَ اُتُوْا بِہٖ مُتَشَابِھًا (البقرہ۔ ۲۵) (وہ پکاریں گے، یہ تو وہی چیز ہے جو ہمیں اس سے پہلے بخشی گئی اور وہ دیے جائیں گے اس سے ملتی جلتی) یعنی جنت کی نعمتوں کا ذکر جو تمثیلات و متشابہات کے رنگ میں قرآن میں ہوا ہے اس سے اہل ایمان کو تو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا میں بیٹھے ہوئے ایک سیر جنت کی کر لیتے ہیں لیکن انہی تمثیلات و متشابہات سے متعلق فتنہ جویوں اور ضلالت پسندوں کے رویہ کا ذکر قرآن نے ان الفاظ میں کیا ہے۔

      اِنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَحْیٖٓ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلاً مَّا بَعُوْضَۃً فَمَافَوْقَھَا فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّھِمْج وَاَمَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَاذَآ اَرَادَ اللّٰہُ بِھٰذَا مَثَلاً یُضِلُّ بِہٖ کَثِیْرًا وَّ یَھْدِیْ بِہٖ کَثِیْرًا وَمَا یُضِلُّ بِہٖٓ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَ (البقرہ ۲: ۲۶)
      (اللہ اس بات سے نہیں جھجکتا کہ کوئی تمثیل بیان کرے خواہ وہ کسی مچھر کی ہو یا اس سے بھی کسی چھوٹی چیز کی، تو جو لوگ ایمان رکھتے ہیں وہ تو جانتے ہیں کہ یہ حق ہے اور ان کے پروردگار ہی کی جانب سے ہے لیکن جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ اس قسم کی تمثیلیں پیش کرنے سے اللہ تعالیٰ نے کیا چاہا؟ اللہ ان تمثیلوں سے بہتوں کو گمراہ کرتا ہے اور ان سے بہتوں کو راہ یاب کرتا ہے اور ان سے نہیں گمراہ کرتا مگر انھی لوگوں کو جو خدا کی نافرمانی کرنے والے ہوں۔)

      اس تفصیل سے یہ بات معلوم ہوئی کہ آیات متشابہات سے مراد قرآن کی وہ آیتیں ہیں جن میں یا تو آخرت کی نعمتوں اور نقمتوں میں سے کسی نعمت یا نقمت کا بیان تمثیلی و تشبیہی رنگ میں ہوا ہے یا خدا کی صفات و افعال میں سے کوئی بات تمثیلی اسلوب میں پیش ہوئی ہے۔ مثلاً آدم میں خدا کا اپنی روح پھونکنا یا حضرت عیسیٰ کو بن باپ کے پیدا کرنا وغیرہ۔ اس طرح کی آیات سے، جیسا کہ اوپر بیان ہوا، اہل ایمان کے علم و ایمان میں اضافہ ہوتا ہے لیکن جن کی طبیعتوں میں فتنہ پسندی ہوتی ہے وہ انھی کے اندر موشگافیاں کر کے بہت سے فتنے پیدا کر لیتے ہیں۔
      تاویل کا مفہوم: تاویل: تاویل کا لفظ بھی اس آیت میں ذرا ایک خاص مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ اس سے یہاں مراد مذکورہ بالا قسم کی کسی بیان کردہ شے کی حقیقت اور اس کی صورت ہے۔ جس مفہوم میں یہ لفظ یہاں استعمال ہوا ہے اسی مفہوم میں سورۂ یوسف میں استعمال ہوا ہے۔

      قَالَ یٰٓاَبَتِ ھٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْ یَایَ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَھَا رَبِّیْ حَقًّا (یوسف۔ ۱۰۰)
      (اس نے کہا اے میرے باپ، یہ ہے میرے اس خواب کی حقیقت جو میں نے اس سے پہلے دیکھا تھا، میرے پروردگار نے اس کو واقعہ ثابت کر دکھایا.)

      محکمات و متشابہات کے بارے میں چند تنبیہات: یہاں چند باتیں بطور تنبیہ اور بھی قابل ذکر ہیں۔ ان سے اس راہ کی ساری الجھنیں انشاء اللہ دور ہو جائیں گی۔

      ایک یہ کہ اس آیت میں اسلوبِ کلام حصر کا نہیں ہے۔ اس وجہ سے یہ نہیں گمان کرنا چاہیے کہ بس قرآن کی آیات دو ہی قسموں، محکمات اور متشابہات، ہی میں تقسیم ہیں۔ یہاں صرف انھی دونوں قسموں کا ذکر دو متقابل قسموں کی حیثیت سے ہوا ہے اور مقصود ان کے ذکر سے محض فتنہ پسندوں اور ہدایت پسندوں کے اختلافِ ذوق کو نمایاں کرنا ہے کہ جو طبیعتیں فتنہ پسند ہوں ان کی ساری دلچسپی صرف متشابہات سے ہوتی ہے تاکہ ان کے ذوق فتنہ جوئی کے لیے کوئی غذا فراہم ہو سکے۔ برعکس اس کے جو علم و معرفت کے طالب ہوتے ہیں اور جن پر حقیقت پسندی کا رنگ غالب ہوتا ہے ان کی اصلی دلچسپی محکمات سے ہوتی ہے۔ جہاں تک متشابہات کا تعلق ہے ان کا جتنا حصہ ان کی سمجھ میں آتا ہے اس سے وہ فائدہ اٹھاتے ہیں، جو حصہ سمجھ میں نہیں آتا اس کی صورت و ہیئت معلوم کرنے کے پیچھے نہیں پڑتے بلکہ اس کو خدا کے حوالے کرتے ہیں۔ محکمات کی بدولت چونکہ ان کے قدم علم میں بہت راسخ ہو جاتے ہیں اس وجہ سے اس طرح کی چیزیں ان کو متزلزل نہیں کرتیں۔ قرآن میں ان دو قسموں کے علاوہ بھی آیات ہیں لیکن مقصود یہاں چونکہ آیاتِ قرآنی کی تمام انواع کا احاطہ نہیں ہے اس وجہ سے ان کے ذکر کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ مثلاً قصصِ قرآن، امثالِ قرآن، تلمیحات و اشارات۔ یہ چیزیں نہ تو ام الکتاب کے درجے اورمرتبے کی ہیں اور نہ ان کو ان متشابہات کے درجے میں رکھنا صحیح ہے جن کی تاویل میں غور و فکر کرنا ممنوع ہو۔
      دوسری یہ حقیقت یاد رکھنی چاہیے کہ قرآن کی آیات کا محکم و متشابہ ہونا ہرگز بلحاظ الفاظ نہیں ہے بلکہ صرف بلحاظ معنی ہے۔ قرآن، اپنے الفاظ اور اپنی زبان کے اعتبار سے، تمام تر عربی مبین میں ہے۔ الفاظ کی تاویل میں جو اختلافات ہوئے ہیں وہ بالعموم تین اسباب سے ہوئے ہیں یا تو غور و تحقیق میں کوتاہی ہوئی ہے یا کسی غلط عقیدے کی بے جا عصبیت اس کا باعث ہوئی ہے، یا عربی زبان سے ناواقفیت اس کا سبب بنی ہے۔ ظاہر ہے کہ جہاں اس طرح کے کسی سبب سے کوئی الجھن پیدا ہوئی ہو تو اس پر غور و فکر عربی زبان کے معروف و مسلم قواعد و ضوابط کی روشنی میں ہونا چاہیے۔ یہ ان چیزوں میں سے نہیں ہے جن پر غور و فکر ممنوع ہو۔
      تیسری بات یہ کہ متشابہات ہوں یا محکمات، قرآن میں یہ دونوں قسمیں ممیز اور معلوم ہیں۔ یہ بات نہیں ہے، جیسا کہ بعض متکلمین نے گمان کیا ہے کہ یہ دونوں غیر ممیز ہیں اور نہ یہ بات ہے کہ الفاظ کی اپنے معانی پر دلالت کوئی مشتبہ اور مشکوک چیز ہے۔ جن لوگوں نے ایسا سمجھا ہے انھوں نے بالکل غلط سمجھا ہے۔ ان میں سے پہلی بات تو صریحاً غلط ہے اور دوسری بات نہایت مبہم ہے جو سرے سے قرآن ہی سے مایوس کر دینے والی ہے حالانکہ قرآن کو اللہ تعالیٰ نے نور و برہان بنا کر اتارا ہے۔ جو باتیں عالم غیب سے تعلق رکھنے والی ہیں ان کے متعلق خدا نے ہماری ضرورت کے حد تک خبر دے دی ہے، اس کا جو حصہ ہم سے محجوب رکھا گیا ہے بس اس کی تاویل پردۂ خفا میں ہے۔
      چوتھی یہ کہ قرآن نے یہاں محکم اور متشابہ کا ایک خاص مفہوم مراد لیا ہے جو ان کے لغوی مفہوم سے ایک حد تک الگ ہے۔ بعض دوسرے مقامات میں بھی قرآن میں یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں جہاں ان کے لغوی مفہوم مراد ہیں۔ مثلاً محکم سے مراد وہ کلام ہے جو جامع، واضح اور موجز ہو۔ اس صورت میں اس کا مقابل لفظ مفصل آتا ہے۔ مثلاً کِتٰبٌ اُحْکِمَتْ اٰیَاتُہٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَکِیْمٍ خَبِیْرٍ (ھود۔ ۱) (یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیات پہلے محکم کی گئیں، پھر ان کی تفصیل کی گئی خدائے حکیم و خبیر کی طرف سے) سنت الٰہی یہ رہی ہے کہ شروع شروع میں اللہ تعالیٰ نے اپنی تعلیمات و ہدایات قولِ محکم کی شکل میں اتاریں تاکہ وہ ذہن و حافظے میں اچھی طرح راسخ ہو سکیں اور دل اور زبان دونوں کے لیے وہ ہلکی پھلکی محسوس ہوں۔ پھر بعد میں اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے یا نبی صلی اللہ علیہ ولسم کی سنت کے ذریعے سے ان کی تفصیل فرما دی۔ اسی طرح متشابہ کا ایک عام مفہوم بھی ہے وہ یہ کہ ایک دوسری سے ملتی جلتی ہم آہنگ و ہم رنگ چیز۔ اپنے اس مفہوم کے اعتبار سے پورا قرآن مشابہ ہے۔ چنانچہ اسی پہلو سے قرآن کو متشابہ کہا گیا ہے۔ کِتَابًا مُّتَشَابِھًا مَّثَانِیَ (زمر۔ ۲۳)
      پانچویں یہ کہ جس طرح قران محکمات و متشابہات دونوں ہی قسم کی آیات پر مشتمل ہے اسی طرح عالم انفس اور عالم آفاق میں جو نشانیاں ہیں وہ بھی محکمات و متشابہات دونوں ہی پر مشتمل ہیں۔ ان کے باب میں بھی اربابِ علم و اہل زیغ کا رویہ وہی ہوتا ہے جو اوپر مذکور ہوا۔ جن کے ذہن و فکر میں پختگی ہوتی ہے وہ محکمات سے اطمینان و یقین حاصل کرتے ہیں اور متشابہات سے شبہات و شکوک میں گرفتار ہونے کے بجائے ان کو خدا کے علم و حکمت کے حوالے کرتے ہیں اور اپنے علم کی کوتاہی کا اقرار کرتے ہیں۔ برعکس اس کے جن کے دلوں میں کجی ہوتی ہے وہ ان متشابہات کو اپنی اور دوسروں کی گمراہی کا ذریعہ بناتے ہیں۔ اس مسئلے پر مفصل بحث ان شاء اللہ ہم سورۂ کہف کی تفسیر میں کریں گے۔ غزوۂ احد کے واقعہ کو بھی، جیسا کہ ہم تمھیدی بحث میں اشارہ کر چکے ہیں ، ایک متشابہ واقعہ کی نوعیت حاصل ہے، چنانچہ اس جنگ کے بعد اس عظیم آیت کا اترنا اس کائنات کی ایک بہت بڑی حقیقت سے پردہ اٹھانے کے لیے تھا۔ ہم اوپر اشارہ کر چکے ہیں کہ جس طرح غزوۂ بدر حق و باطل کے درمیان ایک یومِ فرقان تھا جس سے اہل ایمان کے قلوب اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر مطمئن ہوئے اور اس نے ایک آیت محکم بن کر اہل کفر پر اللہ تعالیٰ کی حجت پوری کر دی اسی طرح غزؤہ احد کی حیثیت ایک متشابہ کی ہے اس لیے کہ اس میں بظاہر باطل کو حق پر غلبہ حاصل ہوا جس سے کفار کو یہ گمان ہوا کہ جنگ میں کامیابی و ناکامی کا تعلق صرف تدابیر اور اسباب و وسائل ہی سے ہے۔ اس میں نہ خدا کو کوئی دخل ہے اور نہ اس کا کوئی تعلق حق اور باطل سے ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک شدید قسم کی غلط فہمی تھی، جس کا دور ہونا نہایت ضروری تھا چنانچہ جب اس کے دور کرنے کے لیے مناسب وقت آ گیا تو اللہ تعالیٰ نے اس سورہ میں یہ دور فرمائی اور یہ اس سلسلے کی ایک عظیم آیت ہے۔
      ’زیغ‘ کی حقیقت: اس آیت میں ’زیغ‘ کا جو لفظ آیا ہے مختصراً اس کی حقیقت بھی سمجھ لینی چاہیے۔
      زیغ کے اصل معنی میل یعنی جھکنے اور مائل ہونے کے ہیں۔ یہ لفظ بیک وقت دو مفہوموں کا حامل ہے ، ایک کجی، اور دوسرے سقوط۔ کوئی چیز جو کھڑی ہو جب جھک جاتی ہے تو گرنے سے قریب ہو جاتی ہے۔ یہ حالت اس رسوخ کے برعکس حالت ہے جو اس آیت میں رَاسِخُوْنَ فِی الْعِلْم کی بیان ہوئی ہے۔
      اہل کتاب کی عام بیماری: یہ زیغ یوں تو اہل ضلالت کی عام بیماری ہے لیکن اہل کتاب اس مرض میں سب سے زیادہ شدت کے ساتھ مبتلا رہے ہیں۔ یہود کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ شروع ہی سے اس بیماری میں مبتلا رہے اور ان کے زیغ کا یہ پہلو خاص طور پر نہایت سنگین ہے کہ وہ اپنے پیغمبر کی موجودگی میں اس میں مبتلا رہے ۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ وہ اس کے سبب سے خدا کے غضب میں مبتلا ہوئے۔ قرآن میں اس بات کا ذکر ہوا ہے۔ سورہ صف میں اس کا ذکر اس طرح ہے۔

      وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ یٰقَوْمِ لِمَ تُؤْذُوْنَنِیْ وَقَدْ تَّعْلَمُوْنَ اَنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغَ اللّٰہُ قُلُوْبَھُمْ وَاللّٰہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ (صف۔ ۵)
      (اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو! تم مجھے کیوں دکھ پہنچا رہے ہو جب کہ تم اچھی طرح جان چکے ہو کہ میں تمھاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ پس جب وہ کج ہو گئے تو خدا نے بھی ان کے دل کج کر دیے اور اللہ بد عہدوں کو ہدایت نہیں بخشتا۔)

      یہودی و نصاریٰ کی گمراہی میں فرق: یہی یہود ہیں جنھوں نے’ کلمتہ اللہ‘ اور اس قسم کے بعض دوسرے الفاظ کی حقیقت کی تشریح میں فلسفیانہ قسم کی موشگافیاں پیدا کر کے ان کو ایک گورکھ دھندا بنایا جس سے نصاریٰ کے لیے گمراہی کی راہیں کھلیں اور وہ حضرت مسیحؑ کی الوہیت کے عقیدے میں مبتلا ہوئے۔ بعد میں نصاریٰ کی اس گمراہی پر مزید اضافہ بت پرست قوموں کی تقلید سے ہوا اور پھر آہستہ آہستہ وہ حق سے اتنے دور ہو گئے کہ اس سے ان کا رشتہ ہی منقطع ہو گیا اور وہ صریح کفر میں مبتلا ہو گئے۔ چنانچہ قرآن نے ان کے بارے میں یہ تصریح فرمائی ہے کہ

      لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّ اللّٰہَ ھُوَالْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ (مائدہ۔ ۷۲)
      (ان لوگوں نے کفر کیا جنھوں نے یہ کہا کہ اللہ تو وہی مسیح ابن مریم ہے.)

      یہود اور نصاریٰ کی گمراہی کی نوعیت میں بس یہ فرق ہے کہ یہود کی گمراہی اصلاً عملی ہے اور نصاریٰ کی اعتقادی۔ اس فرق کی وجہ سے حق کی مخالفت میں ان کا رویہ بھی ایک دوسرے سے مختلف رہا۔ یہود تو قرآن کو حق جاننے کے باوجود اس کی مخالفت کرتے تھے۔ نصاریٰ جس طرح تورات اور انجیل کے متشابہات میں پڑنے کی وجہ سے گمراہ ہوئے تھے اسی طرح قرآن میں بھی ان کی ساری دلچسپی بس متشابہات ہی سے تھی۔ انھی میں موشگافیاں کر کے وہ طرح طرح کے فتنے پیدا کرتے اور اس طرح اپنی گمراہی کا بھی سامان کرتے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے۔ قرآن کے محکمات سے نہ انھوں نے خود دلچسپی لی اور نہ ان لوگوں کو دلچسپی لینے دی جن پر ان کا بس چلا۔ الغرض قلب و نظر کے زیغ اور متشابہات کی پیروی کے باب میں تھے تو یہود و نصاریٰ دونوں ایک ہی سطح پر، یہ بیماری ان میں مشترک تھی لیکن ان کے ذوقی رجحانات ذرا الگ الگ تھے۔ یہود ابتغاء فتنہ سے زیادہ رغبت رکھتے تھے اور نصاریٰ ابتغائے تاویل سے۔ یہ گمراہیاں چونکہ دنیا کے تمام گمراہوں میں مشترک ہیں اس وجہ سے قرآن نے اسلوبِ بیان عام ہی رکھا ہے تاکہ کلام میں وسعت پیدا ہو سکے۔ یہود و نصاریٰ کی تخصیص نہیں کی۔ لیکن قرآن کا ذوق رکھنے والے جانتے ہیں کہ اشارہ انھی کی طرف ہے۔ یہی اندازہ سورۂ فاتحہ میں بھی ہے۔ اس میں بھی مَغضُوْبِ عَلَیْہِمْ اور ضَّالِّیْنَ کے الفاظ ہر چند عام ہیں اور ان کے عام ہونے کی وجہ سے ان میں بڑی وسعت پیدا ہو گئی ہے لیکن ان کا خاص اشارہ یہود و نصاریٰ کی طرف ہے۔
      متشابہات سے گمراہی کی ایک مثال: متشابہات کی پیروی کی وجہ سے نصاریٰ جس قسم کی گمراہیوں میں مبتلا ہوئے اس کو ایک مثال سے واضح کرنا مفید رہے گا۔
      قرآن اور انجیل دونوں اس امر میں باہم متفق ہیں کہ حضرت مسیحؑ کلمۃ اللہ ہیں۔ کلمتہ اللہ کا مفہوم بالکل واضح ہے کہ اس سے امر و حکم کی تعبیر کی جاتی ہے۔ حضرت مسیحؑ کی پیدائش چونکہ فطرت کے عام ضابطے کے خلاف ہوئی تھی اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے کلمہ سے تعبیر کیا یعنی ان کی ولادت اللہ تعالیٰ کے کلمہ ’’کن‘‘ سے ہوئی ہے۔ یہ اس حقیقت کا اظہار تھا کہ اصل شے کسی چیز کے واقع ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ کا حکم ہی ہے۔ اسباب محض ظاہر کا پردہ ہیں۔ یہ بات قرآن میں نہایت وضاحت سے بیان ہوئی ہے اور اس میں کسی قسم کا ایچ پیچ نہیں ہے جس سے کسی صاف ذہن کے آدمی کے اندر کوئی الجھن پیدا ہو سکے۔ قرآن نے نہایت غیر مبہم الفاظ میں فرمایا ہے۔

      اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰی عِنْدَاللّٰہِ کَمَثَلِ اٰدَمَ خَلَقَہٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ۔ (آلِ عمران۔ ۵۹)
      (بے شک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک ایسی ہے جیسی آدم کی، آدم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر اس سے کہا کہ ہو جا بس وہ ہو گیا)

      یعنی آدم کو کلمۂ ’’کن‘‘ کے ذریعے سے حی و ناطق بنایا۔ اسی چیز کو دوسری جگہ نفخ روح سے تعبیر فرمایا ہے۔ بعینہٖ یہی معاملہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ہے۔
      نصاریٰ نے اس واضح بات میں جو تحریف کی اس کی صورت یہ ہوئی کہ جب ان کو بت پرست قوموں سے سابقہ پیش آیا اور ان کے ساتھ ان کی مذہبی بحثیں شروع ہوئیں تو انھوں نے ان پر یہ اعتراض شروع کیا کہ تم تو ایک مصلوب خدا کی پرستش کرتے ہو، ہم تم سے ہزار درجے افضل ہیں اس لیے کہ ہم آسمانی دیوتاؤں کی پرستش کرتے ہیں۔ نصاریٰ نے اپنے حریفوں کے اس اعتراض سے بچنے کے لیے یہ کوشش کی کہ اپنے عقیدے کو بھی انھی کے عقیدے کے سانچے میں ڈھال دیں۔ اس مقصد کے لیے انھوں نے یہ دعویٰ کیا کہ مسیح تو ابن اللہ ہیں، وہ مخلوق نہیں ہیں۔ اپنے اس نئے عقیدے کی آرائش کے لیے انھوں نے ایک طرف تو یونانیوں، مجوسیوں اور ہندوؤں کے فکر و فلسفہ سے مواد لیا اور دوسرے ان یہودی متکلمین کے علم کلام سے رہنمائی حاصل کی جو یہود کے آخری دور کی پیداوار تھے اور جو نہ صرف خالق اور مخلوق کے درمیان وسائل و وسائط کے قائل تھے بلکہ ان کو مستقل ذوات کا درجہ دیتے اور ان کو کلمتہ اللہ کہتے تھے۔ نصاریٰ نے بعینہٖ یہی عقیدہ حضرت عیسیٰؑ کے لیے اختیار کر لیا۔ کچھ عرصے تک تو بات اسی حد تک رہی لیکن آہستہ آہستہ گمراہی سے گمراہی پیدا ہونی شروع ہوئی اور انھوں نے ان کو خدا کا کفو، اسی کے جوہر سے اور ازل سے اس کے ساتھ قرار دے دیا۔ اور پھر اس عقیدے کی تائید کے لیے انجیل یوحنا کے آغاز میں تحریف کے چور دروازے سے بعض عبارتیں بھی داخل کر دیں تاکہ باہر سے برآمد کیے ہوئے اس عقیدے کے لیے گھر کی ایک دلیل بھی فراہم ہو جائے۔
      وَمَا یَعْلَمُ الآیۃ، پر وقف ہے: وَمَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَہٗ اِلَّا اللّٰہ (اور اس کی اصل حقیقت نہیں جانتا مگر اللہ ) اوپر کی تفصیلات سے یہ بات آپ سے آپ واضح ہو گئی کہ یہاں وقف ہے۔ یہی مذہب جمہور اہل سنت کا ہے اور یہی حضرت ابن عباسؓ ، حضرت عائشہؓ، حضرت علیؓ، حضرت حسنؓ، مالک بن انسؓ، کسائی اور فراسے منقول ہے۔ البتہ شیعہ اور بعض متکلمین یہاں وصل کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک متشابہات کی تاویل اللہ تعالیٰ کے سوا راسخین فی العلم بھی جانتے ہیں۔ اس کی وجہ، جہاں تک شیعوں کا تعلق ہے، وہ تو یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے اماموں کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کو ہر بات کا علم ہوتا ہے۔ رہے دوسرے لوگ جو اس بات کے قائل ہوئے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ تاویل سے مراد معنی لیتے ہیں حالانکہ آیت کا سیاق و سباق اس کے خلاف ہے۔ اوپر اس کی وضاحت ہو چکی ہے۔ ( ان مطالب کا اکثر حصہ استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ کے افادات سے ماخوذ ہے، صرف بعض مطالب کی توضیح میری طرف سے ہے۔ اس وجہ سے اس کی صحیح باتیں مولاناؒ کی طرف منسوب کیجیے اور اگر کہیں خامی ہو تو اس کی ذمہ داری تنہا میرے سر ہے۔)
      اگرچہ آیت کے الفاظ اور اس کے مختلف اجزا کی اس وضاحت کے بعد آیت کی صحیح تاویل خود بخود سامنے آ گئی ہے لیکن اس کی اہمیت کے پیش نظر مزید اطمینان کے لیے ہم اس کا واضح مفہوم بھی پیش کیے دیتے ہیں۔
      مطلب یہ ہے کہ وہی خدا جو عزیز بھی ہے اور حکیم بھی، جو زندہ بھی ہے اور قیوم بھی، اسی نے تورات اور انجیل اتاریں۔ پھر جب ان میں گھپلا کر دیا گیا تو اس کی حکمت اور قیومیت مقتضی ہوئی کہ یہ قرآن اتارے تاکہ اس کے ذریعے سے حق و باطل میں امتیاز ہو سکے تو جو لوگ اس کی مزاحمت کریں گے وہ یاد رکھیں کہ خدائے عزیز حق کو مظلوم نہیں چھوڑے گا، وہ اس کا انتقام ضرور لے گا۔
      اس کے بعد اس بات کی وضاحت فرمائی کہ اہل کتاب جو اس فرقان کی مخالفت کر رہے ہیں تو اس کی اصل وجہ یہ نہیں ہے کہ فی نفسہٖ اس کتاب میں کوئی بات ایسی ہے جو ان کی وحشت کا باعث ہو رہی ہے بلکہ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان کے اپنے دلوں میں کجی ہے۔ اس کجی کے سبب سے ان کو اس کتاب کے محکمات سے، جن کی حیثیت اصل کتاب کی ہے اور جن پر اس کی تمام تعلیمات اور اس کے سارے حکمت و فلسفہ کی بنیاد ہے، کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ انھیں اگر دلچسپی ہے تو بس اس کی ان آیات متشابہات سے ہے جن میں کوئی با ت تمثیلی و تشبیہی رنگ میں بتائی گئی ہے۔ وہ اپنی طبیعت کے بگاڑ کے سبب سے انھی کے درپے ہوتے ہیں اور فساد انگیزی اور فتنہ آرائی کے لیے ان کی صورت و حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ ان کی اصل حقیقت اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ جس حد تک ان کا علم ضروری ہے وہ خدا نے کھول دیا ہے، بس اتنے پر قناعت کرنی چاہیے، ان کی اصل حقیقت کا معاملہ اللہ کے حوالہ کرنا چاہیے، وہ اس دن کھلیں گی جس دن وہ سامنے آئیں گی۔ جو لوگ علم میں راسخ ہیں ان کی روش متشابہات کے معاملے میں یہی ہے وہ محکمات اور متشابہات دونوں کو اپنے رب ہی کا عطیہ سمجھتے ہیں اور دونوں پر یکساں ایمان رکھتے ہیں۔ وہ اپنے علم کی پختگی کی وجہ سے اس رمز سے واقف ہیں کہ آیاتِ الٰہی کا مقصود بندوں کو یاد دہانی ہے اور چونکہ وہ عقل رکھتے ہیں اس وجہ سے ان سے جو فائدہ اٹھانا چاہیے وہ فائدہ اٹھاتے ہیں، کسی سعی نامراد و لاطائل میں اپنا وقت برباد کر کے اپنے خسران کے اسباب نہیں فراہم کرتے۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ اس کی آیات سے فائدہ وہی لوگ اٹھاتے ہیں جو عقل رکھتے ہیں اور اس عقل سے صحیح طور پر کام لیتے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی وہی ہے جس نے تم پر یہ کتاب اتاری ہے جس میں آیتیں محکم بھی ہیں جو اِس کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور (اِن کے علاوہ) کچھ دوسری متشابہات بھی ہیں۔ سو جن کے دل پھرے ہوئے ہیں، وہ اِس میں سے ہمیشہ متشابہات کے درپے ہوتے ہیں، اِس لیے کہ فتنہ پیدا کریں اور اِس لیے کہ اُن کی حقیقت معلوم کریں، دراں حالیکہ اُن کی حقیقت اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (اِس کے بر خلاف) جنھیں اِس علم میں رسوخ ہے ، وہ کہتے ہیں کہ ہم اِنھیں مانتے ہیں، یہ سب ہمارے پروردگار کی طرف سے ہے، اور ( حقیقت یہ ہے کہ اِس طرح کی چیزوں کو) وہی سمجھتے ہیں جنھیں اللہ نے عقل عطا فرمائی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی وہی عزیز وحکیم اور حی وقیوم جس کی اِن صفات کا تقاضا تھا کہ وہ یہ کتاب اتارے اور اِس کے ذریعے سے اتمام حجت کے بعد اِس کے منکروں کو سزا دے۔
      لفظ محکم یہاں متشابہ کے مقابل میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی وہ آیتیں جن میں ایسے حقائق بیان کیے گئے جنھیں سمجھنا انسان کے لیے ممکن ہے، جو اُس کے علم وعقل سے ماورا نہیں ہیں اور جن کی تہ تک پہنچنے کی صلاحیت اُس کی فطرت میں ودیعت ہے۔ قرآن کی زیادہ تر آیتیں یہی ہیں اور اِنھی پر اُس کی ہدایت کا مدار ہے۔ قرآن نے اِسی بنا پر اُنھیں ام الکتاب، یعنی کتاب کی اصل بنیاد قرار دیا ہے۔
      اِس سے مراد وہ آیتیں ہیں جن میں آخرت کی نعمتوں اور نقمتوں میں سے کسی نعمت یا نقمت کا بیان تمثیل اور تشبیہ کے انداز میں ہوا ہے یا اللہ تعالیٰ کے صفات و افعال اور ہمارے علم اور مشاہدے سے ماورا اُس کے کسی عالم کی کوئی بات تمثیلی اسلوب میں بیان کی گئی ہے، مثلاً آدم میں اللہ تعالیٰ کا اپنی روح پھونکنا یا سیدنا مسیح علیہ السلام کا بن باپ کے پیدا کرنا یا جنت اور جہنم کے احوال ومقامات وغیرہ۔ وہ سب چیزیں جن کے لیے ابھی الفاظ وجود میں نہ آئے ہوں، اُنھیں تمثیل اور تشبیہ کے اسلوب ہی میں بیان کیا جاسکتا ہے۔ کسی نادیدہ عالم کے حقائق دنیا کی سب زبانوں کے ادب میں اِسی طرح بیان کیے جاتے ہیں۔ آج سے دو صدی پہلے ہم میں سے کوئی شخص اگر مستقبل کا علم پا کر بجلی کے قمقموں کا ذکر کرتا تو غالباً اِسی طرح کرتا کہ دنیا میں ایسے چراغ جلیں گے جن میں نہ تیل ڈالا جائے گا اور نہ اُنھیں آگ دکھانے کی ضرورت ہو گی۔ متشابہ آیات کی نوعیت بالکل یہی ہے ۔ وہ نہ غیر متعین ہیں اور نہ اُن کے مفہوم میں کوئی ابہام ہے۔ اُن کے الفاظ عربی مبین ہی کے الفاظ ہیں اور اُن کے معنی بھی ہم بغیر کسی تردد کے سمجھتے ہیں۔ ہاں ، یہ ضرور ہے کہ اُن کی حقیقت ہم اِس دنیا میں نہیں جان سکتے، لیکن اِس جاننے یا نہ جاننے کا قرآن کے فہم سے چونکہ کوئی تعلق نہیں ہے، اِس لیے کسی صاحب ایمان کو اِس کے درپے بھی نہیں ہونا چاہیے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی اِس کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

      ’’... یہ باتیں جس بنیادی حقیقت سے تعلق رکھنے والی ہوتی ہیں وہ بجاے خود واضح اور مبرہن ہوتی ہے، عقل اُس کے اتنے حصے کو سمجھ سکتی ہے جتنا سمجھنا اُس کے لیے ضروری ہوتا ہے ۔ البتہ چونکہ اُس کا تعلق ایک نادیدہ عالم سے ہوتا ہے ، اِس وجہ سے قرآن اِن کو تمثیل و تشبیہ کے انداز میں پیش کرتا ہے تاکہ علم کے طالب بقدر استعداد اِن سے فائدہ اٹھالیں اور اِن کی اصل صورت و حقیقت کو علم الٰہی کے حوالہ کریں ۔ یہ باتیں خدا کی صفات و افعال یا آخرت کی نعمتوں اور اُس کے آلام سے تعلق رکھنے والی ہوتی ہیں ۔ اِن کا جس حد تک ہمارے لیے سمجھنا ضروری ہے ، اتنا ہماری سمجھ میں آ جاتا ہے اور اِس سے ہمارے علم و یقین میں اضافہ ہوتا ہے ، لیکن اگر ہم اپنی حد سے آگے بڑھ کر اِن کی اصل حقیقت اور صورت کو اپنی گرفت میں لینے کی کوشش کریں تو یہ چیز فتنہ بن جاتی ہے اور اِس کا نتیجہ صرف یہ نکلتا ہے کہ انسان اپنے ذہن سے شک کا ایک کانٹا نکالنا چاہتا ہے اور اِس کے نتیجے میں بے شمار کانٹے اُس کے اندر چبھا لیتا ہے ۔ یہاں تک کہ اِس نایافتہ کی طلب میں اپنی یافتہ دولت کو بھی ضائع کر بیٹھتا ہے اور نہایت واضح حقائق کی اِس لیے تکذیب کر دیتا ہے کہ اُن کی شکل و صورت ابھی اُس کے سامنے نمایاں نہیں ہوئی۔‘‘ (تدبر قرآن ۲/ ۲۵)

      اصل میں لفظ ’َزیْغٌ‘ استعمال ہوا ہے ۔ اِس کے معنی جھکنے اور مائل ہونے کے ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...یہ لفظ بیک وقت دو مفہوموں کا حامل ہے: ایک کجی اور دوسرے سقوط۔ کوئی چیز جو کھڑی ہو جب جھک جاتی ہے تو گرنے سے قریب ہو جاتی ہے۔ یہ حالت اُس رسوخ کے برعکس حالت ہے جو اِس آیت میں ’رَاسِخُوْنَ فِی الْعِلْم‘ کی بیان ہوئی ہے۔
      یہ زیغ یوں تو اہل ضلالت کی عام بیماری ہے ، لیکن اہل کتاب اِس مرض میں سب سے زیادہ شدت کے ساتھ مبتلا رہے ہیں۔ یہود کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ شروع ہی سے اِس بیماری میں مبتلا رہے ، اور اُن کے زیغ کا یہ پہلو خاص طور پر نہایت سنگین ہے کہ وہ اپنے پیغمبر کی موجودگی میں اِس میں مبتلا رہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ وہ اِس کے سبب سے خدا کے غضب میں مبتلا ہوئے۔‘‘ (تدبر قرآن ۲/ ۳۰)

      یہود ونصاریٰ کی گمراہی کی طرف اشارہ ہے۔ اُن کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود فتنہ پیدا کرنے سے زیادہ دل چسپی رکھتے تھے اور نصاریٰ متشابہ آیات کی حقیقت جاننے سے۔ استاذ امام کے الفاظ میں یہ گمراہیاں چونکہ دنیا کے تمام گمراہوں میں مشترک ہیں، اِس وجہ سے قرآن نے اسلوب بیان عام ہی رکھا ہے تاکہ کلام میں وسعت پیدا ہو سکے، یہود ونصاریٰ کی تخصیص نہیں کی۔ لیکن قرآن کا ذوق رکھنے والے جانتے ہیں کہ اشارہ اُنھی کی طرف ہے۔
      اِس آیت کے بارے میں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ اِس میں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ متشابہات کے معنی اُس کے سوا کوئی نہیں جانتا، بلکہ یہ فرمایا ہے کہ اُن کی حقیقت اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اِس کے لیے اصل میں ’تَاْوِیْل‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے اور بالکل اُسی مفہوم میں استعمال ہوا ہے جس مفہوم میں یہ سورۂ یوسف (۱۲) کی آیت ۱۰۰ میں آیا ہے: ’قَالَ: یٰٓاَبَتِ، ہٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْ یَایَ مِنْ قَبْلُ، قَدْ جَعَلَہَا رَبِّیْ حَقًّا‘ ( اُس نے کہا: ابا جان، یہ ہے میرے اُس خواب کی حقیقت جو میں نے اِس سے پہلے دیکھا تھا، میرے پروردگار نے اُسے سچ کر دکھایا ہے)۔یہ خواب جن لفظوں میں قرآن نے بیان کیا ہے، اُن کے معنی ہر شخص پر واضح ہیں۔ عربی زبان کا ایک عام طالب علم بھی سورۂ یوسف کی اِس آیت کا مفہوم ، جس میں یہ خواب بیان ہوا ہے، بغیر کسی دقت کے سمجھ لیتا ہے۔ لیکن سورج اور چاند اور اُن گیارہ ستاروں کا مصداق کیا تھا جنھیں یوسف علیہ السلام نے اپنے آپ کو سجدہ کرتے دیکھا، اُس سے پوری قطعیت کے ساتھ کوئی شخص اُس وقت تک واقف نہیں ہو سکتا تھا، جب تک یہ مصداق اپنی اصل صورت میں لوگوں کے سامنے نہ آ جاتا۔ متشابہ قرآن نے اِنھی چیزوں کو کہا ہے۔ اِس کے معنی، جس طرح کہ لوگ بالعموم سمجھتے ہیں، مشتبہ اور مبہم کے نہیں ہیں کہ اِس سے قرآن کی یہ حیثیت کہ وہ حق وباطل میں امتیاز کے لیے فرقان ہے، کسی حیثیت سے مجروح ہو۔
      یعنی جن کے دلوں میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے، جو انسان کے حدود کو سمجھتے اور اُسی کے مطابق اپنے علم کے حدود متعین کرتے ہیں۔
      یعنی جو لوگ علم میں رسوخ کے حامل ہیں، وہ محکمات اور متشابہات، دونوں کو اپنے پروردگار کا عطیہ سمجھتے اور دونوں پر یکساں ایمان رکھتے ہیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عقل رکھتے ہیں اور اِس عقل سے صحیح طور پر کا م بھی لیتے ہیں۔

       

    • امین احسن اصلاحی اے ہمارے پروردگار! ہمارے دلوں کو ہدایت بخشنے کے بعد کج نہ کر اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت بخش۔ تو نہایت بخشنے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      یہ راسخین فی العلم کی دعا ہے جس سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ اپنے دین کے معاملے میں اتنے بے پروا نہیں ہیں کہ خواہ مخواہ شبہات اور شکوک کو بلاوے بھیج کر بلائیں اور اپنے ایمان و اسلام کو خطرے میں ڈالیں بلکہ وہ اپنے ایمان کی سلامتی کے لیے برابر اپنے پروردگار سے دعا کرتے رہتے ہیں کہ دین میں ان کے جمے ہوئے قدم اکھڑنے نہ پائیں اور جب فتنوں کی یورش ہو تو خدائے وہاب اپنے پاس سے ان کے لیے وہ روحانی کمک بھیجے جو ان کے ثبات قدم کا ذریعہ بنے۔

      جاوید احمد غامدی (وہ کہتے ہیں): پروردگار، تو نے ہمیں ہدایت بخشی ہے تو اِس کے بعد اب تو ہمارے دل نہ پھیر اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما۔ لا ریب، تو ہی عطا فرمانے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی اے ہمارے پروردگار! تو سب لوگوں کو ایک ایسے دن کے لیے جمع کر کے رہے گا جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      آیت میں اس یقین کا اظہار ہے کہ جو ان راسخین کے اندر آخرت کے باب میں ہوتا ہے۔ موقع کلام یہاں اشارہ کر رہا ہے کہ درحقیقت یہی یقین ہے جو دل اور عقل دونوں کا اصلی پاسبان ہے۔ یہ نہ ہو تو انسان کے ذہن و فکر کو کوئی چیز بھی ہرزہ گردی سے نہیں روک سکتی۔ وہ زندگی کو ایک نہایت سہل بازی سمجھتا ہے اور ہر داؤں پر اس کو لگا دینے کے لیے تیار رہتا ہے لیکن جن کے اندر آخرت کا یقین رچا بسا ہوتا ہے وہ ہر قدم احتیاط کے ساتھ اٹھاتے اور نہایت پھونک پھونک کر رکھتے ہیں۔ یہ احتیاط ان کو ہمیشہ جادۂ مستقیم پر استوار رکھتی ہے۔

      جاوید احمد غامدی پروردگار، تو یقیناً سب لوگوں کو ایک ایسے دن کی پیشی کے لیے جمع کر کے رہے گا جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ اللہ اپنے وعدوں کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      درحقیقت یہی یقین ہے جو اُنھیں ہر زہ گردی سے بچا کر ہمیشہ جادۂ مستقیم پر پابرجا رکھتا ہے اور اِس کے نتیجے میں اُن کے رسوخ فی العلم کا باعث بنتا ہے۔

    • امین احسن اصلاحی بے شک جن لوگوں نے کفر کیا، نہ ان کے مال خدا کے ہاں کچھ کام آئیں گے، نہ ان کی اولاد۔ اور وہی لوگ دوزخ کے ایندھن بنیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      راہِ حق کی اصل رکاوٹ: ’’اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘‘ سے یہاں مراد، جیسا کہ آیت ۴ میں گزر چکا ہے، قرآن کے منکرین ہیں۔ ان کے بارے میں فرمایا کہ یہ مال و اولاد، جن کی محبت آج ان کے لیے ایک سورج سے زیادہ واضح حق کے قبول کرنے کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے، انھیں خدا کی پکڑ سے نہیں بچا سکیں گے۔ اس وجہ سے ان کی محبت میں اس خدا کو نہیں بھولنا چاہیے جس کے حقوق سب پر مقدم ہیں اور جس کی پکڑ بھی بے پناہ ہے۔ مال و اولاد کا ذکر یہاں قبولِ حق کی راہ کے اصل حجاب کی حیثیت سے ہوا ہے۔ آگے آیت ۱۴ میں ان کا ذکر تفصیل کے ساتھ آ رہا ہے۔ درحقیقت انھی کی محبت ہے جو انسان کے لیے قبولِ حق میں رکاوٹ بنتی ہے لیکن انسان اصل حقیقت کے اعتراف سے گریز کرتا ہے اور اپنے اغراض کے لیے کچھ ایسے بہانے تلاش کرتا ہے جو اس کی اصل بیماری پر پردہ ڈال سکیں۔ قرآن نے یہ ان لوگوں کی اصلی اندرونی بیماری سے پردہ اٹھایا ہے کہ یہ درحقیقت مال و اولاد کی محبت ہے جو انھیں قرآن کی پیش کردہ سچائیوں کے آگے جھکنے سے روک رہی ہے لیکن وہ اس کو چھپانے کے لیے متشابہات کے اندر سے کچھ اعتراضات و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ان کی دنیا پرستی بے نقاب نہ ہونے پائے۔ انسان کی یہ عام کمزوری ہے کہ وہ ایک حقیقت سے گریز تو اختیار کرتا ہے اپنے نفس کی کسی کمزوری کے سبب سے، لیکن نمائش کچھ ایسی کرتا ہے جس سے مخاطب پر یہ اثر پڑے کہ فی الواقع اس کے اس گریز کے لیے کچھ وجوہ و اسباب اور کچھ اعتراضات و شبہات ہیں۔

      جاوید احمد غامدی (اِس کتاب کے ) منکروں کو،(جن پر حجت پوری ہو گئی)، اللہ کے حضور میں اُن کا مال کچھ کام دے گا اور نہ اُن کی اولاد ، اور یہی ہیں جو دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ اِن منکروں کی اصلی بیماری کی طرف اشارہ کیا ہے کہ درحقیقت مال واولاد کی محبت ہی ہے جو اِنھیں قرآن کے پیش کردہ حقائق کے سامنے سرافگندہ ہونے سے روک رہی ہے، لیکن اِس کو چھپانے کے لیے وہ متشابہات کے درپے ہوتے اور اُن کے اندر سے کچھ اعتراضات ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اِن کی یہ کمزوری بے نقاب نہ ہونے پائے۔

    • امین احسن اصلاحی ان کا بھی وہی حال ہونا ہے جو آلِ فرعون اور ان لوگوں کا ہوا جو ان سے پہلے گزرے۔ انھوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی تو اللہ نے ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں پکڑ لیا اور اللہ سخت پاداش والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اصل بیماری پر پردہ ڈالنے کی کوشش: اس کے بعد فرمایا کہ ان کی یہ روش بعینہٖ وہی روش ہے جو اس سے پہلے فرعون اور اس کی قوم نے اور خدا کے رسولوں کو جھٹلانے والی دوسری قوموں نے اختیار کی۔ انہوں نے بھی جان بوجھ کر محض دنیا کی محبت میں، خدا کی نشانیوں اور اس کی آیتوں کو جھٹلایا اور ظاہر یہ کرنے کی کوشش کہ کہ گویا وہ نبی کو کوئی کاہن یا جادوگر اور اس کی پیش کردہ نشانیوں کو کوئی سحر و شعبدہ خیال کر رہے ہیں، اس وجہ سے ان کو قبول نہیں کر رہے ہیں۔ بالآخر اللہ تعالٰی نے ان کے گناہوں کی پاداش میں ان کو پکڑ لیا اور جب پکڑ لیا تو پھر کوئی نہیں تھا جو خدا کی پکڑ سے ان کو بچا سکے۔
      ’شدید العقاب‘ کا مفہوم: ’’شَدِیْدُ الْعِقَاب‘‘ کے لفظ میں دو مفہوم ہیں۔ ایک تویہ کہ خدا کی طرف سے انسان کو جو سزا بھی ملتی ہے وہ انسان کے اپنے ہی اعمال کا ردِ عمل ہوتی ہے، دوسرا یہ کہ جس طرح خدا کے قوانین طبیعی کے نتائج بے لاگ اور لازمی ہیں اسی طرح خدا کے اخلاقی قوانین کے نتائج بھی بے لاگ اور لازمی ہیں۔ جب ان کے ظہور کا مرحلہ آئے گا تو وہ اس طرح بے لاگ لپیٹ اور ایسی قطعیت اور قوت کے ساتھ ظاہر ہوں گے کہ نہ کوئی ان سے بچ سکے گا اور نہ کوئی ان سے بچا سکے گا۔

      جاوید احمد غامدی اِن کا معاملہ بھی وہی ہے جوفرعونیوں اور اُن سے پہلے کے لوگوں کا تھا۔ اُنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلا دیا تو اللہ نے اُن کے گناہوں کی پاداش میں اُنھیں پکڑ لیا اور(حق یہ ہے کہ) اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں ’کَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِس جملے کی تالیف ہمارے نزدیک یہ ہے: ’دَاْبُہُمْ کَدَاْبِ آلِ فِرْعَوْنَ‘۔ چنانچہ ہم نے ترجمہ اِسی کے لحاظ سے کیا ہے۔
      اصل میں ’شَدِیْدُ الْعِقَابِ‘ کے الفاظ آئے ہیں۔ اِن میں دو مفہوم موجود ہیں: ایک یہ کہ سزا عمل کا بدلہ ہے۔ دوسرا یہ کہ قانون طبیعی کی طرح اللہ تعالیٰ کے اخلاقی قانون کا نتیجہ بھی لازماً سامنے آتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اُس کے ظہور کا ایک دن مقرر ہے اور طبیعی قانون کے نتائج اِسی دنیا میں اور بالعموم فوراً ظاہر ہو جاتے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی ان لوگوں سے جنھوں نے کفر کیا ہے یہ کہہ دو کہ تم مغلوب ہو گے اور جہنم کی طرف ہانکے جاؤ گے اور وہ کیا ہی بُرا ٹھکانا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      منکرین قرآن کو عذاب کی دھمکی: اب یہ صاف صاف قرآن کے تمام منکرین کو دھمکی ہے کہ تم قرآن کے خلاف یہ سازشیں جو کر رہے ہو، کامیاب ہونے والی نہیں ہیں، تم قرآن کے حاملین کے ہاتھوں شکست اٹھاؤ گے اور تمھارے یہ اسباب و وسائل جن پر تمھیں بڑا ناز ہے اور تعداد کی یہ کثرت جس پر تمھیں بڑا بھروسا ہے، یہ چیزیں ذرا بھی کام آنے والی ثابت نہیں ہوں گی۔ تم دنیا میں بھی مغلوب ہو گے اور آخرت میں بھی جہنم کی طرف ہانکے جاؤ گے اور اس جہنم کو کوئی سہل چیز نہ خیال کرو، یہ نہایت برا ٹھکانا ہے۔ اس تنبیہ کی ضرورت اس وجہ سے تھی کہ جو چیز انسان نے دیکھی نہ ہو اول تو اس کا صحیح صحیح اندازہ ہی نہیں کر پاتا اور اگر کسی حد تک اندازہ کرتا بھی ہے تو اپنی غفلت سرشتی کے سبب سے اس کو ملحوظ رکھنے میں سہل انگار اور بے پروا ہو جاتا ہے۔

      جاوید احمد غامدی اِن منکروں سے کہہ دو کہ عنقریب تم بھی ( اِسی طرح ) مغلوب ہو جاؤ گے اور (اِس کے بعد) دوزخ کی طرف ہانکے جاؤ گے، اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      n/a

    • امین احسن اصلاحی جن دو گروہوں میں مڈبھیڑ ہوئی ان کی سرگزشت میں تمھارے لیے نشانی ہے۔ ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا، دوسرا کافر تھا، یہ ان کو کھلم کھلا ان سے دوگنے دیکھتے تھے اور اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی تائید سے مدد فرماتا ہے۔ اس میں آنکھیں رکھنے والوں کے لیے بصیرت ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      غزوۂ بدر سے عبرت حاصل کرنے کی دعوت: یہ اوپر والے دعوے کی ایک دلیل ایک ایسے واقعے سے پیش کی گئی ہے جس پر ابھی زیادہ زمانہ نہیں گزرا تھا۔ اشارہ بدر کے واقعے کی طرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن کے حاملین اور اس کے مخالفین میں اس وقت جو کشمکش برپا ہے اس میں بالآخر شکست مخالفین ہی کو ہو گی۔ اس پیشین گوئی کی صداقت کی ایک نشانی اس معرکے میں موجود ہے جو قریش اور مسلمانوں کے درمیان پیش آ چکا ہے۔ اس معرکے میں ایک گروہ اللہ کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے اٹھا تھا اور دوسرا، جو کفار کا تھا، شیطان کا کلمہ بلند کرنے کے لیے۔ ہر چند کفار کی تعداد ہزار سے متجاوز تھی اور مسلمان کل تین سو تیرہ تھے لیکن جب مقابلے کی نوبت آئی تو کفار نے کھلی آنکھوں سے مسلمانوں کو اپنے سے دو گنا دیکھا۔ یہ بات اللہ تعالیٰ کی خاص تائید و نصرت کی وجہ سے ہوئی اور فتح و شکست کا اصلی تعلق تعداد کی کثرت و قلت سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت ہی سے ہے اور یہ تائید و نصرت ان کو حاصل ہوتی ہے جو اس کا کلمہ بلند کرنے کے لیے اٹھتے ہیں جو لوگ آنکھیں رکھتے ہیں وہ اس واقعے میں مستقبل کا نقشہ دیکھ سکتے ہیں کہ حق و باطل کی یہ آویزش بالآخر کس فیصلے پر ختم ہونے والی ہے۔
      غزۂ بدر میں کفار کے لیے نشانی: بدر کے واقعہ میں کفار کے ان تمام گروہوں کے لیے غلبۂ حق کی نشانی موجود تھی جو اس وقت قرآن اور اسلام کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔ اس وقت یہود و نصاریٰ اور قریش تین جماعتیں براہِ راست اسلام کی مخالفت کر رہی تھیں، اب دیکھیے کہ ان تینوں جماعتوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے کس طرح بدر کے معرکے کو ایک نشانی بنایا۔
      یہود کے لیے نشانی: جہاں تک یہود کا تعلق ہے سورۂ بقرہ میں ہم، طالوت و جالوت کی جنگ کے سلسلہ میں بیان کر چکے ہیں کہ یہ جنگ اپنے مقصد، اپنی خصوصیات، اپنے نقشہ اور طالوت کی فوج کی تعداد کے لحاظ سے بالکل جنگ بدر کا آئینہ تھی۔ جس طرح مسلمان اپنے گھروں سے نکالے اور اپنے قبلہ سے محروم کیے گئے تھے اسی طرح بنی اسرائیل بھی اپنے گھروں سے بے دخل اور اپنے قبلہ ۔۔۔۔ تابوت ۔۔۔۔ سے محروم کیے گئے تھے۔ جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تین سو تیرہ آدمی تھے اسی طرح طالوت کے ساتھ بھی، جیسا کہ بنی اسرائیل کی روایات سے معلوم ہوتا ہے، اتنے ہی آدمی تھے، جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معرکہ سے پہلے اپنی فوج کے حوصلے کا امتحان لیا، اسی طرح ایک خاص طریقے پر طالوت نے بھی اپنے ساتھیوں کے عزم و نظم کی جانچ کی، پھر جس طرح اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس جنگ میں اپنی تائید و نصرت سے نوازا کہ نہایت نا موافق اور نا مساعد حالات میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی اور قریش کے بڑے بڑے لیڈر مارے گئے۔ اسی طرح طالوت کی اور ان کے ساتھیوں کی بھی اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی اور ان کے ساتھیوں کی قلیل تعداد دشمنوں کی نہایت بھاری تعداد پر غالب رہی اور فلسطینیوں کا مشہور سپہ سالار حضرت داؤدؑ کی فلاخن سے ڈھیر ہو کر رہ گیا۔ ان دونوں جنگوں کی یہ حیرت انگیز مشابہت یہود پر بالکل واضح تھی۔ ایک کا سارا نقشہ اپنے صحیفوں میں دیکھ چکے تھے اور دوسری کا ماجرا انھوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا۔ اس وجہ سے ان کے لیے یہ اندازہ کر لینا کچھ مشکل نہیں تھا کہ بدر کے میدان میں ہتھیاروں کی لڑائی نہیں تھی بلکہ حق و باطل کی جنگ تھی اور انسانوں اور انسانوں کی آویزش نہیں بلکہ فرشتوں اور شیطانوں کی جنگ تھی۔ چنانچہ قرآن میں، جیسا کہ سورۂ انفال کی تفسیر میں ہم وضاحت کریں گے، اس بات کا اشارہ موجود ہے کہ یہود پر یہ حقیقت پوری طرح آشکارا تھی لیکن اس کے باوجود انھوں نے نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی اس نشانی کی کوئی قدر نہیں کی اور برابر اسلام کی مخالفت ہی کرتے رہے۔
      نصاریٰ کے لیے نشانی: اسی طرح نصاریٰ کے لیے بھی اس جنگ میں بہت بڑی نشانی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کی موجود تھی۔ یوحنا کے مکاشفات میں یہ مکاشفہ موجود ہے کہ نبی موعود (خاتم النیین، صلی اللہ علیہ وسلم) جب ظاہر ہوں گے تو وہ حق کی طاقت کے ساتھ جہاد کریں گے اور ان کے جلو میں کروبیوں کا لشکر ہو گا۔ یہ پیشین گوئی بدر کے موقع پر اس طرح ظاہر ہوئی کہ لوگوں نے اپنی آنکھوں سے ملائکہ کو کفار سے لڑتے دیکھا۔ اس نشانی کے بعد بھی اگر نصاریٰ متشابہات کے چکروں ہی میں پھنسے رہے، اعترافِ حق کی سعادت انھیں حاصل نہیں ہوئی تو اس کو ان کی بد بختی کے سوا اور کیا کہا جا سکتا ہے۔
      قریش کے لیے نشانی: قریش کے لیے تو یہ جنگ ان کے اپنے مطالبے کے لحاظ سے بھی قرآن اور اسلام کی حقانیت کی ایک ناقابل تردید شہادت تھی۔ انھوں نے خود نہایت آشکارا طور پر اس جنگ کو حق و باطل کے درمیان امتیاز کی ایک کسوٹی قرار دیا تھا۔ ان کا اپنا اعلان یہ تھا کہ اس جنگ میں جس کی جیت ہو گی وہ حق پر سمجھا جائے گا اور جس کو شکست ہو گی وہ باطل پر۔ ابو جہل نے عین میدانِ جنگ میں یہ دعا کی تھی کہ اَللّٰھُمَّ اقطعْنَا للرحم فاحنہ الغداۃ (اے اللہ فریقین میں سے جو سب سے زیادہ رشتہ رحم کا کاٹنے والا بنا ہے کل تُو اس کو کچل دیجیو!) اس جنگ کے متعلق قرآن نے بھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نہایت غیر مبہم الفاظ میں پیشین گوئیاں فرمائی تھیں جو حرف بحرف پوری ہوئیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو قریش کے خاص خاص لیڈروں کے قتل ہونے کی جگہیں تک متعین کر دی تھیں اور جنگ کے خاتمہ پر لوگوں نے دیکھا کہ حضورؐ کی ہر بات سچی ثابت ہوئی ۔ چنانچہ انھی وجوہ سے قرآن نے غزوہ بدر کو فرقان سے تعبیر فرمایا جس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے حق و باطل کے درمیان ایک ایسا امتیاز قائم کر دیا جس سے اسلام کے موافقین کو اپنے برحق ہونے کی دلیل مل گئی اور اس کے مخالفین پر اللہ کی حجت پوری ہو گئی۔
      حذف کا ایک اسلوب: آیت میں اہل ایمان کے گروہ کی صفت یہ بیان کی ہے کہ ’’یہ اللہ کی راہ میں جنگ کر رہا تھا‘‘ لیکن کفار کے متعلق اس امر کی تصریح نہیں ہے کہ ان کی جنگ کس کی راہ میں تھی۔ اس تصریح کے نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ عربی زبان کا یہ معروف اسلوب قرآن میں بہت استعمال ہوا ہے کہ دو مقابل باتوں میں سے بخیالِ اختصار ایک مقابل کو حذف کر دیتے ہیں اس لیے کہ مذکور خود محذوف کی طرف رہنمائی کر دیتا ہے۔ یہاں اس اسلوب کے بموجب پوری بات اگر کھول دی جائے تو یوں ہو گی۔ فِءَۃٌ مُؤْمِنَۃ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَاُخْرٰی کَافِرَۃ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْت، فقرے کے پہلے حصے میں سے لفظ مومنۃ کو حذف کر دیا اوردوسرے میں سے فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْت، کو اس لیے کہ دوسرے میں کافرۃ کی صفت پہلے میں مومنۃ کا پتہ دے رہی ہے اور پہلے میں ’فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ‘ کا حوالہ دوسرے میں ’فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْت‘ کی ضرورت کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ حذف کا یہ اسلوب قرآن مجید میں بہت استعمال ہوا ہے، جو واضح نہ ہو تو کلام کا اصلی زور سمجھ میں نہیں آتا۔ یہ ایجاز کی ایک شاخ ہے اور ایجاز بلاغت کی جان ہے۔
      کس نے کس کو دُگنا دیکھا: ’’یَرَوْنَھُمْ مِثْلَیْھِمْ‘‘ میں ’’یَرَوْنَھُمْ‘‘ کی قراءت نافع نے ’’تَرَوْنَھُمْ‘‘ کی ہے لیکن یہ قراءت ہمارے نزدیک بطور تفسیر ہے، ان کا مطلب یہ ہے کہ یہ فعل مخاطبین یعنی کفار کے لیے ہے یعنی اے کافرو! تمھارا حال یہ تھا کہ تم مسلمانوں کو اپنے سے دگنا دیکھتے تھے۔ انھوں نے اپنی اس تفسیر سے یہ حقیقت واضح فرمائی کہ حریف کو اپنے سے دگنا دیکھنے کا معاملہ مسلمانوں کو نہیں پیش آیا بلکہ کفار کو پیش آیا۔ نافع کی یہ تاویل بہت صحیح معلوم ہوتی ہے اس لیے کہ آیت میں اس بات کی صاف تصریح ہے کہ اس چیز کو اللہ تعالیٰ نے کفار کے لیے ایک آیت (نشانی) بنایا اور اس بات کی بھی خاص طور پر تصریح فرمائی کہ انھوں نے اس نشانی کو سر کی آنکھوں سے دیکھا۔ اگر واقعہ اس کے برعکس ہوتا، مسلمانوں نے کفار کو اپنے سے دگنا دیکھا ہوتا تو اس میں کفار کے لیے کیا نشانی تھی اور ان کو مخاطب کر کے اس نشانی کا ذکر کیوں کیا جاتا؟
      ایک سوال کا جواب: ایک سوال ممکن ہے بعض لوگوں کے ذہن میں یہاں پیدا ہو۔ وہ یہ کہ سورہ انفال میں جہاں غزوۂ بدر کا واقعہ بیان ہوا ہے وہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ کفار بھی مسلمانوں کی نظر میں کم کر کے دکھائے گئے تھے اور مسلمان بھی کفار کی نگاہوں میں کم دکھائے گئے تھے۔ یہ چیز آیت کی مذکورہ بالا تاویل کے خلاف پڑتی ہے لیکن اس سوال کا جواب ہمارے نزدیک یہ ہے کہ یہ کم دکھانے اور زیادہ دکھانے کا معاملہ دو مختلف مرحلوں میں دو مختلف شکلوں میں ظاہر ہوا ہے۔ میدانِ جنگ میں اترنے سے پہلے تو بلاشبہ یہی صورت رہی کہ مسلمانوں نے بھی کفار کی تعداد معمولی محسوس کی اور کفار نے بھی مسلمانوں کو نہایت حقیر پوزیشن میں محسو س کیا لیکن میدانِ جنگ میں عملاً اتر جانے اور جنگ کے بالفعل شروع ہو جانے کے بعد دفعتہ صورتِ حال بدل گئی۔ اب جو کفار نے میدانِ جنگ پر نظر ڈالی تو دیکھا کہ نقشہ ہی اور ہے ، فرشتوں کی شرکت سے مسلمانوں کی فوج کو اتنی فوقیت حاصل ہو گئی کہ وہ کفار کی نگاہوں میں ان سے دگنی نظر آنے لگی۔ قرآن کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دو مختلف مرحلوں میں ظاہر ہونا ایک خدا ساز بات تھی اور مقصود اس سے یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ حق و باطل کو ایک دوسرے سے ٹکرائے اور حق کی امداد کے لیے اپنی غیبی تائید و نصرت ظاہر فرما کر حق کے مخالفوں پر اپنی حجت تمام کرے۔ چنانچہ اس حکمت کے تحت اس نے ابتدائی مرحلے میں مسلمانوں کی نگاہوں میں کفار کو اور کفار کی نگاہوں میں مسلمانوں کو کم کر دکھایا تاکہ ان میں کوئی فریق بھی ایک دوسرے سے ٹکر لینے سے خوف نہ کھائے۔ لیکن جب دونوں میں ٹکر ہو گئی اور میدانِ جنگ گرم ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کے ذریعے سے مسلمانوں کی مدد فرمائی اور کفار میدانِ جنگ کا نقشہ دیکھ کر بالکل مرعوب ہو گئے۔ ہم یہاں سورۂ انفال کی متعلق آیتیں نقل کیے دیتے ہیں تاکہ دونوں موقعوں کا فرق اور دونوں کی حکمت و مصلحت سامنے آ جائے۔ ارشاد ہوا ہے:

      اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَۃِ الدُّنْیَا وَھُمْ بِالْعُدْوَۃِ الْقُصْوٰی وَالرَّکْبُ اَسْفَلَ مِنْکُمْ وَلَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیْعادِط وَلٰکِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰہُ اَمْرًا کَانَ مَفْعُوْلاً لا لِّیَھْلِکَ مَنْ ھَلَکَ عَنْ بَیِّنَۃٍ وَّیَحْیٰی مَنْ حَیَّ عَنْ بَیِّنَۃٍط وَاِنَّ اللّٰہَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌo اِذْیُرِیْکَھُمُ اللّٰہُ فِیْ مَنَامِکَ قَلِیْلًاط وَلَوْ اَرٰکَھُمْ کَثِیْراً لَّفَشِلْتُمْ وَلَتَنَازَعْتُمْ فِے الْاَمْرِ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ سَلَّمَط اِنَّہٗ عَلِیْمٌم بِذَاتِ الصُّدُوْرِo وَاِذْ یُرِیْکُمُوْھُمْ اِذِا الْتَقَیْتُمْ فِیْٓ اَعْیُنِکُمْ قَلِیْلًا وَّیُقَلِّلُکُمْ فِیْٓٓٓ اَعْیُنِھِمْ لِیَقْضِیَ اللّٰہُ اَمْرًا کَانَ مَفْعُوْلاًط وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ (۴۲۔۴۴۔ انفال)
      “اور یاد کرو جب تم وادی کے ورلے کنارے پر تھے اور وہ پرلے سرے پر تھے اور قافلہ تم سے نیچے تھا اور اگر تم ایک دوسرے کو الٹی میٹم دے کر نکلتے تو میعاد میں ضرور اختلاف کرتے لیکن اللہ نے اس کا سامان کیا تاکہ ایسے معاملے کا فیصلہ فرمائے جس کا فیصلہ ہونا طے ہو چکا تھا۔ تاکہ جس کو ہلاکت کی راہ اختیار کرنی ہے وہ یہ راہ اتمامِ حجت کے بعد اختیار کرے اور جسے زندگی کی راہ اختیار کرنی ہے وہ بھی دلیل کے ساتھ یہ راہ اپنائے۔ بے شک اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ خیال کرو جب کہ اللہ تمھیں ان کو دکھاتا ہے رویا میں قلیل التعداد اور اگر وہ ان کو کثیر التعداد دکھاتا تو تم ہمت ہار بیٹھتے اور اس امر میں اختلاف کرتے۔ لیکن اللہ نے تمھیں اس سے بچایا۔ وہ سینوں کے بھیدوں کو جاننے والا ہے اور خیال کرو جب کہ وہ تمھیں ان کو دکھاتا ہے، اس وقت جب کہ تم آمنے سامنے ہوئے، تمھاری نگاہوں میں تھوڑا اور تم کو دکھاتا ہے ان کی نگاہوں میں تھوڑا تاکہ ایک ایسے معاملے کا فیصلہ کر دے جس کا فیصلہ کرنا طے ہو چکا ہے اور سارے معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں۔”

      اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوئی کہ آیت زیر بحث اور آیاتِ انفال میں موقع و محل کا فرق ہے۔ انفال میں جس موقع کا ذکر ہے وہ، جیسا کہ ہم نے ذکر کیا، جنگ شروع ہونے سے پہلے کا ہے۔ اور آیت زیر بحث میں جنگ شروع ہو جانے کے بعد کا جب تائید الٰہی ملائکہ کی کمک کی صورت میں ظاہر ہو گئی اس طرح ان دونوں آیتوں میں پوری پوری موافقت ہے۔ یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ انفال میں بھی یہ اشارہ موجود ہے کہ جنگ شروع ہو جانے کے بعد کفار کو میدانِ جنگ کا نقشہ کچھ اور ہی نظر آیا اور اس مشاہدہ نے ان کے حوصلے پست کر دیے۔ ان اشارات کی تفصیل اپنے مقام پر آئے گی۔ وہیں ہم یہ بھی واضح کریں گے کہ یہود اگرچہ درپردہ قریش کو مسلمانوں پر چڑھا لانے کی سازش میں شریک رہے لیکن بدر کا نقشہ دیکھ کر انھوں نے بھی ہمت چھوڑ دی۔ ’واللّٰہ یُؤیِّدُ بِنَصْرِہٖ مَنْ یَّشَآء‘ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی تائید و نصرت سے جس کو چاہے نواز سکتا ہے، کوئی اس کا ہاتھ نہیں پکڑ سکتا اور جس کو وہ اپنی تائید و نصرت سے نواز دے اس کے لیے کثرت و قلت کا سوال نہیں پیدا ہوتا۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو قطرے کو دریا اور ذرے کو آفتاب بنا دے۔ کتنے کمزور و ناتواں گروہوں کو اس نے دل بادل فوجوں پر فتح عطا فرمائی ہے۔ فتح و شکست کا اصلی سررشتہ اسی کے ہاتھ میں ہے۔
      ’عبرت‘ کا مفہوم: ’اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَعِبْرَۃً لِّاُ ولِی الْاَبْصَارِ‘ عبرت کے معنی ہیں ایک حقیقت سے دوسری حقیقت تک عبور کر جانا۔ ایک صاحب بصیرت اور ایک بلید میں سب سے بڑا فرق یہی ہے کہ ایک اپنی ناک سے آگے نہیں دیکھتا لیکن دوسرے کے لیے ایک معمولی سی نشانی، ایک ادنیٰ سی تنبیہ اور ایک سرسری سا اشارہ حقائق کا ایک دفتر کھول دیتا ہے۔ ایک دروازہ اس کے لیے کھل جائے تو دوسرے دروازے کھولنے کے لیے کلید ہاتھ آ جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کو قران۔ ’’اولوالابصار‘‘ کہتا ہے کیونکہ ان کی آنکھوں میں بصارت کے ساتھ بصیرت کا نور بھی ہوتا ہے جو جزو میں کل اور قطرہ میں دجلہ کے مشاہدہ کی صلاحیت رکھتا ہے۔

       

      جاوید احمد غامدی اور (تمھیں اگر ہماری اِس بات میں کوئی تردد ہے تو) جن دو گروہوں میں مڈ بھیڑ ہوئی، اُن کی سرگذشت میں تمھارے لیے ایک بڑی نشانی ہے۔ ایک( ماننے والوں کا ) گروہ جو اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا نہ ماننے والوں کا ( جو شیطان کی راہ میں لڑ رہا تھا)۔ وہ ( بدر کے میدان میں) ماننے والوں کو کھلم کھلا اپنے سے دو گنا دیکھ رہے تھے ۔ ( حقیقت یہ ہے کہ ) اللہ جس کی چاہتا ہے ( اِسی طرح) اپنی تائید سے مدد فرماتا ہے۔ اِس میں اُن کے لیے یقیناًبڑی بصیرت ہے جو آنکھوں والے ہوں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اِس بات کی نشانی کہ حق کو غلبہ حاصل ہو گا اور قرآن کے منکرین سر زمین عرب میں لازماً مغلوب ہو جائیں گے۔ بدر میں اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت جس شان کے ساتھ ظاہر ہوئی، اُس سے یہ بات قرآن کے تمام مخاطبین پر واضح ہو گئی۔اِس لیے کہ یہود اپنے ہاں طالوت کی جنگ میں تائید الٰہی کا یہ منظر صدیوں پہلے دیکھ چکے تھے ، نصاریٰ یوحنا عارف کے مکاشفے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق پیشین گوئی میں اِسے پڑھ چکے تھے اور قریش خود اِس جنگ کو حق وباطل کا فیصلہ قرار دے کر میدان میں اترے تھے۔
      اِس جملے میں مقابل کے الفاظ عربیت کے اسلوب پر حذف ہو گئے ہیں۔ اُنھیں کھول دیجیے تو پوری بات اِس طرح ہے: ’فِءَۃٌ مُؤْمِنَۃٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، وَاُخْرٰی کَافِرَۃٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ‘۔ جملے کے پہلے حصے میں لفظ ’مؤمنۃ‘ محذوف ہے جس کا پتا دوسرے میں ’کَافِرَۃٌ‘ کی صفت دے رہی ہے اوردوسرے میں ’تقاتل فی سبیل الطاغوت‘ جس پر ’تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ‘ کے الفاظ دلالت کرتے ہیں۔
      چنانچہ یہی چیز قریش کی مرعوبیت اور اِس کے نتیجے میں اُن کی شکست کا باعث بن گئی۔ یہ واقعہ ظاہر ہے کہ اُس وقت پیش آیا، جب جنگ شروع ہونے کے بعد فرشتوں کی کمک پہنچ گئی اور اُن کی شرکت سے تین سو تیرہ کا لشکر دفعتاً حملہ آوروں کی تعداد سے دوگنا، یعنی کم وبیش دو ہزار نظر آنے لگا۔ قرآن نے اِسی بنا پر اِسے اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی قرار دیا ہے اور خاص طور پر صراحت فرمائی ہے کہ کافروں نے اِس نشانی کو اپنے سر کی آنکھوں سے بالکل اُسی طرح دیکھا، جس طرح وہ میدان بدر کو دیکھ رہے تھے۔
      یہاں یہ بات واضح رہے کہ سورۂ انفال میں جس واقعے کا ذکر ہوا ہے کہ دونوں لشکر ایک دوسرے کی نگاہ میں کم کرکے دکھائے گئے تھے، وہ جنگ شروع ہونے سے پہلے کا ہے اور اُس کی مصلحت اللہ تعالیٰ نے وہاں بیان کر دی ہے۔ لہٰذا قرآن کے اِن دونوں بیانات میں کوئی تضاد نہیں ہے۔
      استاذ امام اِس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

      ’’... ایک صاحب بصیرت اور ایک بلیدمیں سب سے بڑا فرق یہی ہے کہ ایک اپنی ناک سے آگے نہیں دیکھتا، لیکن دوسرے کے لیے ایک معمولی سی نشانی، ایک ادنیٰ سی تنبیہ اور ایک سرسری سا اشارہ حقائق کا ایک دفتر کھول دیتا ہے۔ ایک دروازہ اُس کے لیے کھل جائے تو دوسرے دروازے کھولنے کے لیے کلید ہاتھ آ جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کو قرآن ’اُولُوا الْاَبْصَارِ‘ کہتا ہے، کیونکہ اُن کی آنکھوں میں بصارت کے ساتھ بصیرت کا نور بھی ہوتا ہے جو جزو میں کل اور قطرے میں دجلہ کے مشاہدے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘‘ (تدبر قرآن ۲/ ۴۰)

       

    • امین احسن اصلاحی لوگوں کی نگاہوں میں مرغوباتِ دنیا عورتیں، بیٹے، سونے چاندی کے ڈھیر، نشان زدہ گھوڑے، چوپائے اور کھیتی کُھبا دی گئی ہیں۔ یہ دنیوی زندگی کے سروسامان ہیں اور اللہ کے پاس اچھا ٹھکانا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’تزئین‘ کی حقیقت: شہوات کا لفظ یہاں مشتہیات یعنی مرغوبات کے معنی میں ہے۔ مال و اولاد اور زن و فرزند ان چیزوں میں سے ہیں جو انسان کو بالطبع مرغوب بھی ہیں اور ان کو مرغوب ہونا چاہیے بھی اس لیے کہ یہ چیزیں اس کے ذاتی و نوعی بقا کے لوازم میں سے ہیں لیکن یہاں مجرد ان کی رغبت زیر بحث نہیں ہے بلکہ ان کی تزئین کا ذکر ہے ’’تزئین‘‘ کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی چیز اس طرح آنکھوں میں کھب جائے کہ آدمی اس کے اثر سے ہر چیز اسی کے رنگ میں دیکھنے لگ جائے۔ یہاں تک کہ اس سے الگ ہو کر اس کے لیے کسی چیز کو دیکھنا ممکن ہی نہ رہ جائے۔ وہ ہر چیز کو تولنے اور پرکھنے کے لیے اسی کو پیمانہ اور کسوٹی قرار دے لے۔ کسی چیز کی رغبت کا اس درجہ غلبہ ظاہر ہے فاطر فطرت کے منشا کے خلاف ہے۔ اسی سے زندگی میں وہ بے اعتدالیاں ظہور میں آتی ہیں جو انسان کو فطرت اور شریعت کے جادۂ مستقیم سے ہٹا دیتی ہیں۔ یہ ایک بیماری کی حالت ہے جو بے بصیرتی اور حدودِ الٰہی کے عدمِ احترام یا بالفاظِ دیگر عدمِ تقویٰ سے پیدا ہوتی ہے اور اس میں اصل دخل نفس اور شیطان کا ہوتا ہے۔ نفس اپنی چاہتوں میں فطری حدود سے آگے نکل جاتا ہے، پھر شیطان ان چاہتوں پر ایسا دلفریب ملمع کر دیتا ہے کہ آدمی کی نظر ان سے کٹ کر کسی اور طرف کا رخ ہی نہیں کرتی۔ قرآن نے اسی وجہ سے اس تزئین کو دوسرے مقامات میں شیطانوں کی طرف منسوب کیا ہے۔
      قنطار اور مقنطرۃ کا مفہوم: ’قِنْطَار‘ کے معنی مال کثیر کے ہیں۔ اس کے ساتھ ’مُقَنْطَرَۃ‘ کی صفت اسی طرح استعمال ہوتی ہے جس طرح عربی میں ’لیل الیل‘ یا ’ظل ظلیل‘ وغیرہ کی ترکیبیں استعمال ہوئی ہیں۔
      ’مسومۃ‘ کا مفہوم: ’مسومۃ‘ سومۃ سے ہے جس کے معنی علامت کے ہیں۔ ’مسومۃ‘ کے معنی ہوں گے، نشان زدہ چونکہ اصیل اور نفیس گھوڑوں پر بالعموم نشان لگایا جاتا ہے اس وجہ سے یہ لفظ اصالت اور عمدگی کی تعبیر کے لیے معروف ہو گیا۔
      ’للناس‘ سے ایک خاص گروہ مراد ہے: آیت میں ’للنّاس‘ کا لفظ اگرچہ بظاہر عام ہے لیکن مراد اس سے ایک خاص گروہ ہے۔ یہ اسی طرح کا استعمال ہے جس طرح قرآن میں ’انسان‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے اور مقصود اس سے مخصوص وہ گروہ ہوتا ہے جس کے حالات اس مقام میں زیر بحث ہوتے ہیں۔ یہاں سیاق و سباق دلیل ہے کہ وہ لوگ مراد ہیں جو بصیرت اور تقویٰ سے عاری ہیں اس وجہ سے دنیا کی مرغوبات پر ٹوٹے پڑ رہے ہیں اورقرآن جن اعلیٰ اقدار کی طرف توجہ دلا رہا ہے ان کی طرف وہ آنکھ ہی نہیں اٹھاتے۔
      مرغوباتِ نفس: مرغوباتِ نفس کے بیان میں ایک خاص ترتیب ملحوظ ہے جو نگاہ میں رکھنے کی ہے۔ پہلے اہل و عیال کا ذکر کیا ہے اس لیے کہ محبت کے لحاظ سے سب سے اونچا مقام انھی کا ہے، دوسری چیزوں کی محبت اصلاً ان کے تابع ہے بلکہ زیادہ تر انھی کے لیے ہے۔ اس کے بعد مال کا ذکر ہے اور مال میں سونے کا ذکر اس کی گراں قیمتی کی وجہ سے دوسرے نقود پر مقدم ہے۔ سروسامان میں سب سے پہلے گھوڑوں کا ذکر ہے اس لیے کہ اہل عرب زینت، فخر اور دفاع ، تینوں کے نقطۂ نظر سے گھوڑے کو سب سے زیادہ اہمیت دیتے تھے۔ اس کے بعد چوپایوں کا ذکر ہے اس لیے کہ تمدن کے ظہور سے پہلے بدویت کے دور میں معاش کا انحصار بیشتر انھی پر تھا۔ آخر میں کھیتی اور باغ کا ذکر ہے اس لیے کہ ان کی اہمیت تمدن کے دور میں داخل ہونے کے بعد شروع ہوئی ہے جب انسان نے شہروں اور دیہاتوں کی رہائش اختیار کی ہے۔
      ’ذٰلِکَ مَتَاعُ الحَیٰوۃ الدُّنْیَا‘ کے چھوٹے سے فقرے میں معانی کا ایک جہان پوشیدہ ہے۔ اس میں اس دنیا کی ناپائداری کی طرف بھی اشارہ ہے، ان چیزوں کی بے حقیقتی کی طرف بھی، اور ایک عالم باقی کے مقابل میں اس جہانِ فانی کی ناپائدار لذتوں پر ریجھنے کی حماقت کی طرف بھی۔
      نظم کے پہلو سے یہ آیت گویا اوپر کی آیت ۹ کے مضمون کی تشریح ہے۔ اس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ اصل چیز جو لوگوں کو قران کی مخالفت پر اکسا رہی ہے وہ ہے تو اس دنیا کی محبت اور اس کی مرغوبات کی طمع لیکن اس بیماری کو چھپائے رکھنے کے لیے یہ طرح طرح کے شبہات و شکوک اور اعتراضات ایجاد کرتے اور پھیلاتے ہیں تاکہ اس طرح اپنے اس گریز کے لیے جواز پیدا کریں۔

      جاوید احمد غامدی اُن لوگو ں کے لیے(جو اِس بصیرت سے محروم ہیں )دنیا کے مرغوبات :عورتیں ، بیٹے، سونے چاندی کے ڈھیر ، نشان زدہ گھوڑے، چوپائے اورکھیت بہت لبھانے کی چیز بنا دیے گئے ہیں۔ یہ سب دنیا کی زندگی کا سروسامان ہے او راچھا ٹھکاناتو صرف اللہ کے پاس ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’الْقَنَاطِیۡرِ الْمُقَنْطَرَۃِ‘۔ یہ اُسی طرح کی ترکیب ہے ، جس طرح عربی زبان میں ’الف مولفۃ‘ ا ور ’بدرۃ مبدرۃ‘ وغیرہ کی تراکیب استعمال ہوتی ہیں ۔
      اِس سے مراد ہیں اصیل گھوڑے ۔ یہ تعبیر اِس لیے اختیار کی گئی ہے کہ عمدہ اوراصیل گھوڑوں پر بالعموم نشان لگایا جاتا ہے۔
      اصل میں ’زُیِّنَ لِلنَّاسِ‘ کے الفا ظ آئے ہیں ۔اِن میں مال و اولاد اورزن وفرزند کی محض رغبت پر کوئی تبصرہ نہیں ہے ، اِس لیے کہ یہ رغبت تو انسان کی فطرت کا تقاضا ہے ، بلکہ اُن کی تزیین کا ذکر ہے ۔استاذ امام اِس کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

      ’’... ’تزیین‘ کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی چیز اِس طرح آنکھوں میں کھب جائے کہ آدمی اُس کے اثر سے ہر چیز اُسی کے رنگ میں دیکھنے لگ جائے ، یہا ں تک کہ اُس سے الگ ہوکر اُس کے لیے کسی چیز کو دیکھنا ممکن ہی نہ رہ جائے ۔وہ ہر چیز کو تولنے اورپرکھنے کے لیے اُسی کو پیمانہ اور کسوٹی قرار دے لے۔ کسی چیز کی رغبت کا اِس درجہ غلبہ ، ظاہر ہے،فاطر فطر ت کے منشا کے خلاف ہے۔اِسی سے زندگی میں وہ بے اعتدالیاں ظہور میںآتی ہیں جو انسان کو فطرت اور شریعت کے جادۂ مستقیم سے ہٹا دیتی ہیں ۔ یہ ایک بیماری کی حالت ہے جو بے بصیرتی اور حدود الٰہی کے عدم احترام یا بالفاظ دیگر عدم تقویٰ سے پیدا ہوتی ہے اوراِس میں اصل دخل نفس اور شیطان کا ہوتا ہے۔ نفس اپنی چاہتوں میں فطر ی حدود سے آگے نکل جاتا ہے ،پھر شیطان اُن چاہتو ں پر ایسا دل فریب ملمع کردیتا ہے کہ آدمی کی نظر اُن سے ہٹ کر کسی اورطرف کا رخ ہی نہیں کرتی۔‘‘(تدبرقرآن ۲/ ۴۰)

      اِسی طرح مرغوبات نفس کے بیان میںیہاں جو ترتیب ملحوظ ہے ،اُس کی وضاحت میں اُنھوں نے لکھا ہے:

      ’’...پہلے اہل و عیال کا ذکرکیا ہے ،اِس لیے کہ محبت کے لحاظ سے سب سے اونچا مقام اُنھی کا ہے، دوسری چیزوں کی محبت اصلاًاُن کے تابع ہے ، بلکہ زیادہ تر اُنھی کے لیے ہے ۔ اِس کے بعد مال کا ذکرہے اور مال میں سونے کا ذکر اُس کی گراں قیمتی کی وجہ سے دوسرے نقود پر مقدم ہے۔ سروسامان میں سب سے پہلے گھوڑوں کا ذکر ہے ،اِس لیے کہ اہل عرب زینت، فخر اور دفاع، تینوں کے نقطۂ نظر سے گھوڑے کوسب سے زیادہ اہمیت دیتے تھے۔اِس کے بعد چوپایوں کا ذکر ہے ، اِس لیے کہ تمدن کے ظہور سے پہلے بدویت کے دورمیں معاش کا انحصار بیش تر اِنھی پرتھا۔ آخر میں کھیتی اور باغ کا ذکرہے،اِس لیے کہ اِن کی اہمیت تمدن کے دور میں داخل ہونے کے بعد شروع ہوئی ہے جب انسان نے شہروں اور دیہاتوں کی رہایش اختیار کی ہے ۔‘‘(تدبر قرآن ۲/ ۴۱)

      یعنی اِس دنیا کی زندگی کا سروسامان ہے جو خود بھی ناپائدارہے ،جس کی سب چیزیں بھی بالکل بے حقیقت ہیں اور قیامت کے بعد جو خدا کی ابدی بادشاہی قائم ہونے والی ہے ،اُس کے مقابلے میں جس کی لذتوں پر ریجھنا بھی سراسر حماقت ہے ۔یہ تمام معانی ،اگر غور کیجیے تواِس چھوٹے سے فقرے میں بیان ہو گئے ہیں۔

       

    • امین احسن اصلاحی ان سے کہو، کیا میں تمھیں ان چیزوں سے بہتر چیز کا پتہ دوں؟ جو لوگ تقویٰ اختیار کریں گے ان کے لیے ان کے رب کے پاس باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، ان میں ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور اللہ کی خوشنودی ہو گی۔ اللہ اپنے بندوں کی خبر رکھنے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مخاطبین کو زاویۂ نگاہ بدلنے کی دعوت: یہ مخاطبین کو زاویۂ نگاہ بدلنے کی دعوت ہے اس لیے کہ اس کے بدلے بغیر قرآنی اقدار کی طلب دل میں پیدا نہیں ہو سکتی۔ قرآن کے نزدیک انسان کی اصل بیماری اس کی تنگ نظری اور پست حوصلگی ہے۔ وہ اس دنیا کی چند روزہ زندگی کو کل زندگی سمجھ بیٹھا ہے۔ جس کے سبب سے اس کی ساری بھاگ دوڑ اسی دنیا کی مرغوبات و مطلوبات تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے حالانکہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے جو ابدی اور لازوال ہے۔ اگر انسان اس زندگی کی طلب میں تقویٰ کی روش اختیار کرے یعنی اس دنیا سے متعلق خدا نے جو حدود حرام و حلال ٹھہرا دیے ہیں ان کی پابندی کرے تو اسے آخرت کی ابدی زندگی میں وہ نعمتیں ملیں گی جن کا آج وہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔
      ازواجِ مطہرہ: نعمتوں میں ’ازواج مطہرۃ‘ کا ذکر خاص طور پر فرمایا ہے۔ اس لفظ پر بقرہ کی آیت ۲۵ کے تحت ہم بحث کر چکے ہیں۔ یہاں خاص طور پر جنت کی نعمتوں میں اس کا ذکر اس وجہ سے ہوا کہ اوپر آیت ۱۴ میں واضح ہو چکا ہے کہ دنیا کے مرغوبات میں سر فہرست جس چیز کو جگہ حاصل ہے وہ اہل و عیال ہیں اس وجہ سے جنت کی نعمتوں میں بھی ان کا ذکر خاص طور پر فرمایا۔
      رضوان: ’رضوان‘ کے معنی تو خدا کی خوشنودی اور رضا مندی کے ہیں۔ لیکن قرآن میں یہ لفظ بالعموم جنت کی نعمتوں کی ایک جامع تعبیر کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ جب اس کا ذکر ہو گیا تو گویا ہر نعمت کا ذکر ہو گیا۔ اس کا بھی جس کے لیے تعبیر کا کوئی جامہ موجود ہے اور اس کا بھی جو گمان و خیال اور قیاس و وہم ہر چیز سے بالا تر ہے۔
      ’بصیر بالعباد‘ میں دھمکی اور تسلی، دونوں ہے: ’وَاللّٰہُ بَصِیْرٌ بِالْعِبَادِ‘ دھمکی اور تسلی دونوں ہی قسم کے مواقع پر استعمال ہو سکتا ہے۔ یہاں موقع دلیل ہے کہ تسلی کے محل میں ہے۔ یعنی جو لوگ آخرت کے لیے اس دنیا کی زندگی میں تقویٰ کی روش اختیار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی تمام قربانیوں اور مشقتوں سے با خبر ہے۔ ان کو ان تمام قربانیوں کا پورا پورا صلہ دے گا، ان کی کوئی قربانی بھی ضائع نہیں جائے گی۔

      جاوید احمد غامدی اِن سے کہیے کہ میں تمھیں بتاؤں کہ اِن چیز وں سے بہتر کیا ہے؟ اللہ سے ڈر کر رہنے والو ں کے لیے اُن کے پروردگار کے ہاں باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی،وہ اُس میں ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ بیویاں ہیں اور (سب سے بڑھ کر) اللہ کی خوشنودی ہے ، اور اللہ اپنے اِن بندوں کو دیکھ رہا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ مخاطبین کو زاویۂ نظر بدلنے کی دعوت ہے کہ اِس دنیا کی چند روزہ زندگی کو اصل زندگی سمجھ کر گزارنے کے بجاے وہ آخرت کی طرف دیکھیں،جہاں ایک ابد ی اورلازوال زندگی اوراُس کی نعمتیں اُن کی منتظر ہیں ۔
      یہ جنت کی نعمتوں کے لیے ایک جامع تعبیر ہے ۔چنانچہ جب اِس کا ذکر ہوگیا تو استاذ امام کے الفاظ میں گویا ہر نعمت کا ذکر ہو گیا ، اُس کا بھی جس کے لیے تعبیر کا کوئی جامہ موجود ہے اوراُس کا بھی جوخیال وگمان اوروہم وقیاس ،ہر چیز سے بالا تر ہے ۔
      یہ جملہ تسلی کے محل میں ہے۔یعنی دیکھ رہا ہے تو اُن کے ایمان و عمل اور اُس پر اُن کی استقامت کا صلہ بھی اُنھیں لازماً دے گا ،اُن کی کوئی قربانی بھی اللہ کے حضور میں ضائع نہیں ہو گی۔

    • امین احسن اصلاحی جو یہ دعا کرتے رہتے ہیں، اے ہمارے پروردگار! ہم ایمان لائے پس تو ہمارے گناہوں کو بخش اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ الآیۃ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا سے بدل ہے۔ یہ تفصیل ان لوگوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے جو قرآن کی اس دعوت کو قبول کر کے آخرت سے غافل کرنے والی مرغوبات سے دست کش ہو گئے اور اپنی پچھلی زندگی کی خود فراموشیوں سے تائب ہو کر ایمان و عمل صالح کی پاکیزہ زندگی میں آ گئے۔ ساتھ ہی اس میں ایک خاموش تبلیغ بھی ان لوگوں کے لیے ہے جو اس راہ پر آنے سے ہچکچا رہے تھے اور اپنی اس ہچکچاہٹ کے لیے مختلف قسم کے حیلے بہانے پیدا کر رہے تھے۔

      جاوید احمد غامدی یہ جو دعائیں کرتے ہیں کہ پروردگا ر، ہم ایمان لے آئے ہیں، سو تو ہمارے گناہ بخش دے اورہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ پچھلی آیت میں ’لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا‘ سے بدل ہے ۔مدعا یہ ہے کہ خدا کے اِن بندوں کو دیکھو اورتم بھی دنیا کے مرغوبات ہی کے پیچھے بھاگتے رہنے کے بجاے اِنھیں چھوڑکر اِس راہ پر آ جاؤ۔

    • امین احسن اصلاحی جو صابر، راست باز، فرماں بردار، راہِ خدا میں خرچ کرنے والے اور اوقاتِ سحر میں مغفرت چاہنے والے ہیں۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حاملینِ قرآن کا کردار: اَلصَّابِرِیْنَ الآیۃ۔ یہ دوسرا بدل ہے۔ اس سے ان اخلاقی اوصاف کی وضاحت ہو گئی ہے جن سے یہ پاکیزہ صفات گروہ متصف ہے اور اسی سے یہ بات بھی واضح ہو رہی ہے کہ وہ اخلاق و کردار کن اجزا سے مرکب ہے جو قرآن کا حامل ہونے کے لیے ضروری ہے۔ یہ آیت گویا اس کے بالکل ضد اخلاق و کردار پیش کر رہی ہے جو اوپر ’زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّھَوَاتِ‘ والی آیت میں نمایاں ہوا۔
      یہاں صرف پانچ صفات بیان ہوئی ہیں۔ صبر، صدق، قنوت، انفاق، استغفار۔
      ’صبر‘ کی حقیقت: صبر کی حقیقت نرم و گرم ہر طرح کے حالات میں حق پر جزم و استقامت ہے۔ غربت ، بیماری، مصیبت، مخالفت، جنگ، غرض جس قسم کے بھی حالات سے آدمی کو دوچار ہونا پڑے عزم و ہمت کے ساتھ ان کو برداشت کرے، ان کا مقابلہ کرے، ان سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کرے اور اپنے امکان کے حد تک موقفِ حق پر جما رہے۔ دل کو مایوسی اور گھبراہٹ سے، زبان کو شکوۂ تقدیر سے اور اپنی گردن کو کسی باطل کے آگے جھکنے سے بچائے۔ دین کا بڑا حصہ اسی صبر پر قائم ہے۔ اگر آدمی کے اندر یہ وصف نہ ہو تو کوئی طمع، کوئی ترغیب، کوئی آزمائش بھی اس کو حق سے ہٹا کر باطل کے آگے سرنگوں کر دے سکتی ہے۔ جو شخص سچائی کے راستے پر چلنا چاہے اور اس پر چل کر استوار رہنے کا آرزومند ہو اسے سب سے پہلے اپنے اندر صبر کی صفت پیدا کرنی چاہیے۔ مزاحمتوں کے مقابلے کے لیے (اور اس راہ میں ہر قدم پر مزاحمتوں سے مقابلہ ہے) اصلی ہتھیار بندے کے پاس یہی ہے ۔ فلسفہ دین کے نقطۂ نظر سے دین نصف شکر ہے اور نصف صبر۔ لیکن عملی تجربہ گواہ ہے کہ آدمی میں صبر نہ ہو تو شکر کا حق بھی ادا نہیں ہو سکتا۔ یہاں چونکہ خطاب ان لوگوں سے ہے جنھیں سچائی کی سب سے بڑی بلندی پر چڑھنے کی دعوت دی جا رہی ہے اس وجہ سے ان کے سامنے، جن لوگوں کا نمونہ پیش کیا گیا ہے ان کے کردار میں سب سے پہلے ان کے صبر ہی کے پہلو کو نمایاں کیا گیا ہے۔
      ’صدق‘ کی حقیقت: ’صدق‘ کی اصل حقیقت کسی شے کا بالکل مطابق واقعہ ہونا ہے۔ اس کی روح پختگی اور ٹھوس پن ہے۔ نیزے کی گرہیں دیکھنے میں جیسی مضبوط ظاہر ہو رہی ہیں آزمائش سے بھی ویسی ہی مضبوط ثابت ہوں تو ایسے نیزے کو عربی میں صادق العکوب کہیں گے۔ زبان، دل سے ہم آہنگ ہو، عمل اور قول میں مطابقت ہو، ظاہر اور باطن ہم رنگ ہوں، عقیدہ اور فعل دونوں ہم عناں ہوں، یہ باتیں صدق کے مظاہر میں سے ہیں اور انسانی زندگی کا سارا ظاہر و باطن انھی سے روشن ہے۔ یہ نہ ہو تو انسان کی ساری معنویت ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔ یہی چیز ہو جو انسان کو وہ پرِ پرواز عطا کرتی ہے جس سے وہ روحانی بلندیوں پر چڑھتا ہے اور اس سے اس کے صبر کو بھی سہارا ملتا ہے۔
      ’قنوت‘ کی حقیقت: ’’قنوت‘‘کی اصل روح اللہ جل شانہ‘ کے لیے تواضع و تذلل ہے۔ یہ چیز اللہ تعالیٰ کی بے پایاں نعمتوں کے شعور اور اس کی بے نہایت عظمتوں کے احساس کا قدرتی ثمرہ ہے۔ یہ نعمت کو شکر کا اور مصیبت کو صبر کا ذریعہ بناتی ہے اور ہر حالت میں بندے کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف متوجہ رکھتی ہے۔ اصلاً تو یہ عقل و دل کی فروتنی اور انکساری ہے لیکن جس طرح قلب کی ہر حالت کا عکس انسان کے ظاہر پر بھی نمایاں ہوتا ہے اسی طرح اس کا عکس بھی انسان کی وضع قطع، چال ڈھال، گفتار کردار ہر چیز میں نمایاں ہوتا ہے۔ یہ اس غرور اور گھمنڈ کی ضد ہے جو نعمتوں کو اپنے استحقاقِ زندگی کا ثمرہ سمجھنے کا نتیجہ ہوتا ہے اور اس تلون اور بے صبرے پن کے بھی منافی ہے جو صبر و صدق کے فقدان سے پیدا ہوتا ہے۔
      ’انفاق‘ کی حقیقت: ’انفاق‘ کے معنی واضح ہیں۔ یہ مرغوبات دنیا کی اس محبت کی ضد صفت ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں ہوا۔ اگر مرغوباتِ دنیا کی محبت دل پر اس طرح چھا جائے کہ وہ خدا اور بندوں کے حقوق سے انسان کو روک دے تو یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن نے ’’زُیِّنَ لِلنَّاسِ‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ انفاق کی خصلت اس امر کی شہادت ہے کہ صاحبِ انفاق کی نظر میں اصلی قدر و قیمت دنیوی خزف ریزوں کی نہیں بلکہ آخرت کی ابدی زندگی اور اس کی لازوال نعمتوں کی ہے۔ برعکس اس کے جو شخص خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے گریز کرتا ہے وہ اپنے عمل سے ثابت کرتا ہے کہ اس کی نگاہوں میں ساری قدر و قیمت بس اس فانی دنیا کی فانی لذتوں ہی کی ہے، آخرت کی زندگی کا اس کے ذہن میں سرے سے کوئی تصور ہی نہیں ہے۔
      ’استغفار ‘کی حقیقت: ’استغفار‘ کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ سے تضرع و زاری کہ وہ اپنے بندے کی کوتاہیوں، گناہوں اور جرموں پر پردہ ڈالے۔ یہ تضرع اس حیا اور خوف کا نتیجہ ہے جو بندے کے دل میں اپنے پروردگار کے بے پایاں احسانات و انعامات کے احساس اور اس کے عدل و انتقام کے تصور سے پیدا ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ وقت سحر کی قید لگی ہوئی ہے جس سے اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ یہ وقت قبولیتِ استغفار کے لیے سب سے زیادہ موزوں، ریا کی آفتوں سے سب سے زیادہ محفوظ ، دلجمعی اور آیاتِ الٰہی میں تفکر و تدبر کے لیے سب سے زیادہ سازگار ہے ۔ قران اور حدیث دونوں ہی میں مختلف پہلوؤں سے اس کی وضاحت ہوئی ہے اور یہ رب کریم کا عظیم احسان ہے کہ اس نے استغفار کی ہدایت کے ساتھ ساتھ استغفار کی قبولیت کے لیے سب سے زیادہ سازگار وقت کا بھی خود ہی پتا دے دیا۔
      اس ٹکڑے پر تدبر کی نگاہ ڈالیے تو اس سے جہاں ایک طرف یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کن صفات کے لوگ ہیں جو قرآن کے حامل ہو سکتے ہیں وہیں یہ بات بھی اس سے نکلی کہ وہ موانع کیا ہیں جو قرآن کے ان مخالفین اور قرآن کے درمیان حائل ہیں۔ معلوم ہوا کہ ان میں وہ صبر نہیں ہے جو نفس اور شیطان کی مزاحمتوں کے مقابل میں ان کو پابرجا رکھ سکے، وہ صدق نہیں ہے جو ان کے عقیدہ اور عمل ، قول و فعل، ظاہر اور باطن میں مطابقت پیدا کر سکے، وہ قنوت نہیں ہے جو سب سے بڑے صاحب حق کے آگے ان کی گردن اور ان کے دل دونوں کو جھکا دے، ابدی زندگی کا وہ شوق نہیں ہے جو انھیں آخرت کے لیے دنیا کو قربان کرنے پر ابھار سکے اور خدائے منعم و دیان کی نعمتوں اور نقمتوں کا وہ شعور و احساس نہیں ہے جو انھیں غفلت کے بستروں سے اٹھا کر مناجات سحر کے لیے ان کو ان کے رب کے حضور لا کھڑا کرے ۔۔۔ اور ساتھ ہی اسلوبِ بیان نے ایک لطیف اشارہ اس بات کی طرف بھی کر دیا کہ آج جن لوگوں نے اس قرآن کو قبول کر لیا ہے اور اس کو پھیلانے میں اللہ کے رسولؐ کا ساتھ دے رہے ہیں۔ وہ ان صفات سے متصف ہیں اور ان صفات سے متصف ہونے ہی کے سبب سے وہ اس بارِ گراں کے اٹھانے کے اہل بن سکے ہیں۔

      جاوید احمد غامدی یہ صبر کرنے والے، سچے، فرماں بردار، اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے اور پچھلی رات کی گھڑیوں میں اٹھ کر اپنے گنا ہوں کی مغفرت چاہنے والے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یہ دوسرا بدل ہے جس سے قرآن نے اُن اخلاقی اوصاف کو نمایا ں کردیا ہے جواُس کے حاملین میں ہونے چاہییں۔
      غربت ، بیماری ،جنگ اور اِس نوعیت کے نرم وگرم حالات میں آدمی عزم و ہمت کے ساتھ اپنے اوپر آنے والی مصیبتوں کا مقابلہ کرے اور جس موقف کو وہ صحیح سمجھتا ہے ،بغیر کسی مایوسی، گھبراہٹ اور جزع فزع کے اُس پر قائم رہے تو یہ صبر ہے ۔قرآن نے یہاں اپنے حاملین کی صفات میں سب سے پہلے اِسی کو نمایا ں کیا ہے ۔اِس کی وجہ یہ ہے کہ جن لوگوں کو دعوت دی جارہی ہے ،اُن کے لیے قبول حق کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی ہے کہ وہ اپنے آپ کو صبرکا خوگر نہیں بنا سکے۔

    • امین احسن اصلاحی اللہ، فرشتوں اور اہل علم کی گواہی ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ عدل و قسط کا قائم رکھنے والا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ غالب اور حکمت والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      توحید اور قسط کی شہادت کے تین پہلو: اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت اور قائم بالقسط ہونے پر اپنی، اپنے فرشتوں اور اہل علم کی شہادت کا حوالہ دیا ہے۔ یہ شہادت تین مختلف پہلوؤں سے ہے۔
      آفاق کی شہادت: ایک تو آفاق کی شہادت ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اس کائنات کے خالق نے اس کو جس طرح بنایا ہے اور جس طرح اس کے نظام کو چلا رہا ہے اس سے اس بات کی صاف شہادت مل رہی ہے کہ وہ ایک ہی ہے، کوئی اس کا ساجھی نہیں ہے۔ قرآن نے اس شہادت کو توحید کی دلیل کے عنوان سے اتنی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے کہ اس کے شواہد نقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پھراسی نظامِ کائنات سے قرآن نے یہ ثابت کیا ہے کہ اس کے ہر گوشے میں اس کائنات کے خالق نے میزان رکھی ہے، مجال نہیں کہ کوئی شے اپنے معین محور و مدار سے انچ بھی ادھر ادھر ہو سکے۔ یہ اس بات کی شہادت ہے کہ اس کا خالق و فاطر عدل و قسط کو پسند کرتا ہے، یہ نہیں چاہتا کہ اس کی مخلوقات میں سے کوئی چیز اس عدل و قسط سے بال برابر بھی انحراف کرے۔ قرآن میں اس حقیقت کے شواہد بہت ہیں۔ ہم بخیال اختصار صرف ایک آیت بطورِ مثال نقل کرتے ہیں۔ ارشاد ہے:

      اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍo وَّالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ یَسْجُدٰنِo وَ السَّمَآءَ رَفَعَھَا وَوَضَعَ الْمِیْزَانَo اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِo وَاَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ (۵۔۹ رحمان)
      “سورج اور چاند دونوں ایک حساب کے ساتھ گردش کرتے ہیں۔ ستارے اور درخت سب سجدہ کرتے ہیں۔ اس نے آسمان کو بلند کیا اور اس میں ایک میزان رکھی، کہ تم بھی میزان کے معاملے میں تجاوز نہ کرو بلکہ وزن کو انصاف کے ساتھ قائم کرو، اور میزان میں کوئی کمی نہ کرو۔”

      یعنی یہ کائنات اپنے وجود سے اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ اس کا خالق عدل و قسط کو پسند کرنے والا ہے اور اس کے سورج اور چاند، شجر و حجر، آسمان و زمین اپنی زبانِ حال سے ہر وقت یہ سبق دے رہے ہیں کہ جس طرح وہ خدا کے مقرر کردہ پیمانے سے سرمو تجاوز نہیں کرتے، ان کی ہر حرکت اس پیمانے سے نپی تلی ہوئی ہے اسی طرح انسان بھی اپنی زندگی کے تمام گوشوں میں خدا کی میزان میں نپی تلی روش اختیار کرے اس کے ٹھہرائے ہوئے حدود سے ذرا بھی تجاوز نہ کرے۔
      تاریخ کی شہادت: اسی آفاقی شہادت کے ذیل میں قوموں کی تاریخ بھی آتی ہے۔ قرآن نے قوموں کی تاریخ بھی پیش کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ دنیا کوئی اندھیر نگری نہیں ہے بلکہ اس کا خالق و مالک اس کو ایک نظام عدل و قسط کے تحت چلا رہا ہے۔ اس کے اسٹیج پر یکے بعد دیگرے وہ مختلف قوموں کو بھیجتا ہے اور ان کا امتحان کرتا ہے کہ وہ خدا کے قانون عدل و قسط کے اندر اپنے اختیار اور اپنی قوتوں کو استعمال کرتی ہیں یا اس سے بغاوت اور سرکشی کی راہ اختیار کرتی ہیں۔ جب تک کوئی قوم خدا کے حدود کے اندر رہ کر اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرتی ہے، وہ اس کو برومند کرتا اور پروان چڑھاتا ہے، جب وہ اس راہ سے ہٹ کر سرکشی کی راہ اختیار کر لیتی ہے تو ایک خاص حد تک مہلت دے چکنے کے بعد وہ اس کو فنا کر دیتا ہے اور دوسری قوم کو اس کی وارث بناتا ہے۔ قرآن نے اس سنت کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔
      انفس کی شہادت: دوسری شہادت انفس کی شہادت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت ایسی بنائی ہے کہ وہ خود توحید کی اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی قائم بالقسط ہونے کی شہادت دے رہی ہے۔ اس شہادت کے دلائل ہم اپنی اس کتاب میں بھی جگہ جگہ بیان کر رہے ہیں اور خاص اس موضوع پر ہم نے حقیقت شرک اور حقیقت توحید کے نام سے دو کتابیں بھی لکھی ہیں۔ تفصیل کے طالب ان کو پڑھیں۔ انسانی فطرت کی یہی توحید پسندی ہے جس کے سبب سے قرآن نے توحید کو دین فطرت قرار دیا ہے۔

      فِطْرَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْھَا
      (اللہ کی بنائی ہوئی فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا)


      اور یہی عدل پسندی ہے جس کی بنا پر جزا و سزا کے منکرین سے قرآن یہ سوال کرتا ہے۔

      اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ کَالْمُجْرِمِیْنَo مَا لَکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ (۳۴۔۳۵: قلم)
      (کیا ہم فرماں برداروں کو مجرموں کی طرح کر دیں گے، تمھیں کیا ہو گیا ہے، تم کیسا فیصلہ کرتے ہو؟)

      وحی کی شہادت: تیسری شہادت وحی کی شہادت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی پسند و نا پسند اور اپنے اوامر و نواہی سے بندوں کو آگاہ کرنے کے لیے اپنے بے شمار نبی اور رسول بھیجے اور ان سب پر اپنی توحید اور اپنے قائم بالقسط ہونے کی شہادت دی اور ان نبیوں اور رسولوں نے یہ شہادت اپنی اپنی امتوں کو پہنچائی۔ اس شہادت کے آثار و نشانات آج بھی ان امتوں کی رویاات اور ان کے صحیفوں کی تعلیمات میں موجود ہیں لیکن انھوں نے ان آثار و روایات کو نظر انداز کر کے اپنے آپ کو ایسے نظریات و عقاید میں مبتلا کر لیا جو توحید کے بھی منافی ہیں اور خدا کے قائم بالقسط ہونے کے بھی، لیکن ان امتوں کی اس غلط روش کی وجہ سے وہ اپنی ان اعلیٰ صفات سے دست بردارنہیں ہو گیا ہے بلکہ وہ بدستور ان سے متصف ہے اور ہمیشہ متصف رہے گا۔ چنانچہ انھی صفات کا یہ تقاضا ہے کہ اس نے قرآن کو جیسا کہ اوپر کی تمھید میں گزرا، حق و باطل کے درمیان فرقان بنا کر اتارا تاکہ حق و عدل کی صراط مستقیم پھر واضح ہو کر لوگوں کے سامنے آ جائے اور باطل پر جمے رہنے کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے۔
      اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوئی کہ خدا کی وحدانیت اور اس قائم بالقسط ہونے کی شہادت کسی ایک ہی پہلو سے نہیں مل رہی ہے بلکہ تین مختلف پہلوؤں سے مل رہی ہے۔ اس کی بنائی ہوئی کائنات کا نظام اور اس کی تاریخ اس کی شہادت دے رہی ہے، اس کی پیدا کی ہوئی فطرت اس پر گواہ ہے اور اس کے پیغمبروں نے ہمیشہ اس حقیقت کی منادی کی ہے۔ اس آیت میں یہ بات نہایت اجمال کے ساتھ بیان ہوئی ہے لیکن قرآن کے تیس پاروں میں اس اجمال کی تفصیلات پھیلی ہوئی ہیں۔
      ملائکہ کی شہادت: اللہ تعالیٰ نے اپنی شہادت کے ساتھ یہاں ملائکہ کی شہادت کا بھی حوالہ دیا ہے۔ یہ ایک امر واقعی کا اظہار و بیان ہے۔ کائنات میں خدا کے ارادوں کے نفاذ کا ذریعہ اور خدا کے پیغمبروں تک اس کی وحی پہنچانے کا واسطہ ملائکہ ہی بنتے ہیں۔ اس وجہ سے خدا کی توحید اور اس کے قائم بالقسط ہونے کے اس کی مخلوقات میں شاہد اول وہی ہیں۔ ان کی گواہی ایک امر واقعی ہونے سے قطع نظر اس پہلوسے بھی خاص طور پر بیان ہوئی کہ نادانوں نے ان کو خدا کا شریک اور شفاعت باطل کا واسطہ قرار دے کر توحید کی بھی نفی کی اور خدا کے قائم بالقسط ہونے کی بھی۔ اس لیے کہ جب تصور یہ ہو کہ سفارش حق کو باطل اور باطل کو حق بنا دے سکتی ہے تو پھر خدا قائم بالقسط کہاں رہا؟ فرشتوں کے متعلق اس غلط فہمی کو رفع کرنے کے لیے قرآن نے خود ان کی زبان سے بھی جگہ جگہ اعترافات کا حوالہ دیا ہے۔ ہم بخیال اختصار صرف ایک مثال نقل کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ ارشاد ہے:

      وَمَا مِنَّآ اِلَّا لَہٗ مَقَامٌ مَّعْلُوْمٌo وَاِنَّا لَنَحْنُ الصَّآفُّوْنَo وَاِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُوْنَ (۱۶۴۔۱۶۶۔ صافات)
      (اور ہم میں سے ہر ایک کے لیے بس ایک متعین مقام ہے اور ہم تو صفیں باندھ کر حاضر رہنے والے ہیں اور ہم تو اس کی تسبیح کرنے والے ہیں۔)

      فرشتوں سے متعلق ایک تفصیلی بحث سورۂ بقرہ میں بضمن آیت ایمان ہم کر چکے ہیں۔
      اولوالعلم کی شہادت : ملائکہ کے بعد اولوالعلم کی شہادت کا ذکر ہے۔ العلم قرآن کی ایک اصطلاح ہے جس سے مراد وہ علم حقیقی ہوتا ہے جو نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے دنیا کو ملا ہے اس پر مفصل بحث ہم دوسرے مقام میں کر چکے ہیں۔ اس علم کے حاملین نے ہر دور میں خدا کی توحید اور اس کے قائم بالقسط ہونے کی شہادت دی ہے یہ مصلحین و مجددین کے گروہ کی طرف اشارہ ہے جو ہر دور میں پیدا ہوئے ہیں اور جنھوں نے اللہ کے دین کو بدعات اور آمیزشوں سے پاک کر کے عقاید کو توحید خالص کی بنیاد پر شرائع و قوانین اور اعمال و اخلاق کو حق و عدل کی اساس پر استوار کرنے کی جدوجہد کی ہے۔ یہی لوگ ہیں جن کی طرف آگے کی آیت میں ’’یَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ‘‘ کے الفاظ سے اشارہ ہوا ہے اور جن کے متعلق فرمایا ہے کہ اہل کتاب ان کو قتل کرتے رہے ہیں۔
      حکمت دین کا یہ نکتہ ملحوظ رہے کہ یہاں اللہ اور ملائکہ کے ساتھ حاملین علم کا حوالہ ہے اور توحید کے ساتھ عدل و قسط کا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی نظروں میں اہل علم کا کیا مقام ہے اور خدائی شریعت کے نظام میں عدل و قسط کا کیا درجہ و مرتبہ ہے۔ علم حقیقی کے حاملین ملائکہ کے زمرہ سے نسبت رکھنے والے ہیں اور عدل و قسط کا درجہ صفاتِ الٰہی میں اتنا بلند و ارفع ہے کہ توحید کے بعد سب سے پہلے جس کا ذکر ہو سکتا ہے وہ یہی ہے۔
      ’قسط‘ کا مفہوم: ’’قَاءِمًا بِالْقِسْطِ‘‘ ترکیب کے لحاظ سے ہمارے نزدیک ’’اَنَّہٗ‘‘ کی ضمیرسے حال پڑا ہوا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ واحد و یکتا ہے، کوئی اس کا ساجھی نہیں، تمام اختیار و تصرف تنہا اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ اس اختیار و تصرف کو ٹھیک ٹھیک عدل و قسط کے مطابق استعمال کر رہا ہے۔
      ’’قِسط‘‘ کا مفہوم وہی ہے جو ہم عام بول چال میں حق، عدل، انصاف وغیرہ کے الفاظ سے ادا کرتے ہیں۔ اس کا ضد ظلم، جور اور اس معنی کے دوسرے الفاظ ہیں۔ فکر، عمل، قول، اخلاق، کردار مظاہر اور اشکال غرض ظاہر و باطن کے ہر گوشے میں ایک نقطہ تو وہ ہے جو ہر چیز کے خالق و فاطر کی بنائی ہوئی فطرت اور اس کے مقرر کیے ہوئے حدود وقیود کے اندر ہے، اس کو نقطۂ اعتدال یا بالفاظِ دیگر مرجع عدل و قسط سمجھیے۔ اگر کسی گوشے میں اس نقطہ سے شوشے کے برابر بھی انحراف واقع ہو جائے تو یہ بات عدل و قسط کے منافی ہو گی۔ اعتبارات اور نسبتوں کی تبدیلی سے تعبیرات بدل بدل جائیں گی۔ کسی دائرے میں ہم اس انحراف کو ظلم و جور سے تعبیر کریں گے، کسی گوشے میں بد صورتی اور بد ہیئتی سے، اسی طرح کسی پہلو میں اس اعتدال کو حق و عدل سے تعبیر کریں گے، کسی محل میں حسن و جمال سے لیکن اصل حقیقت ہر جگہ ایک ہی ہو گی۔ وہ یہ کہ ایک شے اپنے اصل فطری مقام سے ہٹ گئی تو بگاڑ پیدا ہو گیا اور اگر اپنے جوڑ سے پیوست ہو گئی تو بناؤ نمودار ہو گیا۔
      خالق کائنات چونکہ اس دنیا کا خالق و مالک ہے اس وجہ سے اس کو اس کا بگاڑ نہیں بلکہ بناؤ مطلوب ہے۔ اس کے نظامِ تکوینی کی اس نے اس طرح چول سے چول بٹھائی ہے کہ مجال نہیں کہ کہیں کوئی رخنہ پیدا ہو جائے اور اگر اس کی قدرت ہی کی کسی معجز نمائی سے کہیں کوئی رخنہ پیدا ہوتا نظر آتا ہے تو دفعۃً اسی کے کارفرما ہاتھ اس کو درست کرنے کے لیے نمودار ہوجاتے ہیں تاکہ جس توازن پر یہ کارخانہ قائم ہے اس میں کوئی خلل نہ پیدا ہونے پائے۔ اس کی یہی توازن پسندی ہماری زندگی کے اس دائرے کے لیے بھی ہے جس دائرے میں اس نے ہمیں محدود قسم کی آزادی دی ہے۔ جب ہم اپنے اختیار کو غلط استعمال کر کے اپنے اخلاق و عمل کے کسی گوشے میں فساد پیدا کر لیتے ہیں تو وہ ہمیں ڈھیل تو دیتا ہے لیکن یہ ڈھیل بس ایک خاص حد تک ہی ہوتی ہے، اس کی عدل پسندی یہ گوارا نہیں کرتی کہ وہ ہمیں ہماری خواہشات کی پیروی کے لیے آزاد اور اس کے نتیجے میں اپنی خلق کو تاراج و پامال ہونے کے لیے چھوڑ دے بلکہ وہ اس ڈھیل پرگرفت کرتا ہے اور ہمارے پیدا کیے ہوئے بگاڑ کو ازسرِ نو درست کر دیتا ہے اس لیے کہ وہ قائم بالقسط ہے۔
      اس قیام بالقسط ہی کے لیے اس نے مکافاتِ عمل کا قانون رکھا ہے، اسی کے لیے اس نے انبیا و شرائع کے بھیجنے کا سلسلہ جاری کیا، اسی کے لیے اس نے یہ اہتمام فرمایا کہ جب شریعت میں تحریفات و بدعات سے فساد پیدا ہو جائے تو مجددین و مصلحین اس کی اصلاح و تجدید کے لیے سر دھڑ کی بازیاں لگائیں، اسی کی خاطر اس نے قوموں کے عروج و زوال کو ان کے اخلاقی عروج و زوال کے تابع کیا اور پھر سب سے بڑھ کر اس عدل و قسط ہی کے کامل ظہور کے لیے اس نے ایک ایسا دن مقرر کیا ہے جس میں اس کی میزانِ عدل نصب ہو گی اور وہ تول کر بتائے گی کہ کس کا کون سا عمل ترازو میں پورا ہے، کون سا نہیں، اور پھر اسی کے مطابق جزا و سزا ہو گی۔
      یہاں یہ نکتہ بھی ملحوظ رہے کہ ایک ہی آیت میں دو مرتبہ کلمہ توحید کا اعادہ ہے اور دونوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی دو الگ الگ صفتوں کا حوالہ ہے، پہلے فرمایا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ قائم بالقسط ہے۔ پھر فرمایا کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ عزیز و حکیم ہے۔ اس اسلوب میں مخاطب۔ اہل کتاب کے لیے سخت تنبیہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا، فرشتوں اور تمام حاملین علم کی شہادت یہی ہے کہ خدا کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور وہ الٰہ امورِ دنیا سے بے تعلق نہیں ہے کہ لوگوں کو ان کی خواہشات کی چراگاہ میں شتر بے مہار کی طرح چھوڑ رکھے، وہ دندناتے پھریں اور وہ حی و قیوم ہونے کے باوجود ان کا کوئی نوٹس نہ لے بلکہ وہ تمھاری خواہشوں کے علی الرغم اپنے نظامِ عدل و قسط کو ضرور قائم کرے گا اور کوئی اس کا ہاتھ نہ پکڑ سکے گا۔ پھر فرمایا کہ وہ ایسا کیوں نہ کرے گا جب کہ وہ وحدہٗ لا شریک بھی ہے اورعزیز و حکیم بھی۔ اس کی عزت اور حکمت دونوں کا تقاضا ہے کہ وہ ایسا کرے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ یا تو وہ بے بس اور حق کے لیے غیرت سے خالی ہے یا وہ ایک کھلنڈرا ہے جس نے دنیا کو محض ایک کھیل تماشا بنایا ہے۔ ظاہر ہے کہ خدا کی عظیم ہستی کے متعلق اس قسم کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

       

      جاوید احمد غامدی اللہ نے ،اُس کے فرشتو ں نے ،اور(اِس دنیا میں)علم حقیقی کے سب حاملین نے گواہی دی ہے کہ اُس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ، وہ انصاف پر قائم ہے، اُس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ،زبردست ہے، بڑی حکمت والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی اللہ کی وحدانیت اوراُس کا قائم بالقسط ہونا ایک ایسی حقیقت ہے کہ اللہ جو اِس عالم کے تمام حقائق کا علم رکھتا ہے، جس کے سامنے تمام موجودات بے حجاب ہیں ،جس کی نگاہوں سے زمین وآسمان کی کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں ہے ،وہ خو د بھی اِسی کی شہادت دیتا ہے ؛اُس کے فرشتے بھی جو اُس کی سلطنت کو دیکھتے اور اُس میں اُس کے احکام کی تنفیذ کرتے ہیں،یہی کہتے ہیں؛ اور انسانوں میں سے وہ سب لوگ بھی اِسی کی گواہی دیتے ہیں جنھیں حقائق کا علم دیا گیا اوراُنھوں نے اِس علم کو اپنی خواہشات ،جذبات اورتعصبات کی آلایشوں سے پاک رکھنے کا اہتمام کیا ہے ۔
      اصل میں ’قَآءِمًا بِالْقِسْطِ‘ کے الفاظ آئے ہیں ۔اِن میں ’قَآءِمًا‘، ہمارے نزدیک ’لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ‘ میں ’ھُوَ‘ سے حال موکدہ ہے اور اِس میں عامل جملے کا مفہوم ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے ساتھ یہ اُس کے قائم بالقسط ہونے کی شہادت ،اسلام کے ایمانیات میں بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ اِس کے معنی یہ ہیں کہ ہم جس طرح یہ مانتے ہیں کہ اللہ یکتا اور یگانہ ہے،اُس کی ذات وصفات میں کوئی اُس کا شریک نہیں ہے اور تمام اختیار اور تصرف اصلاًاُسی کے ہاتھ میں ہے ،اِسی طرح یہ بھی مانتے ہیں کہ اپنے اِس اختیار و تصرف کو وہ ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ استعمال کررہا ہے اور ہمیشہ انصاف کے ساتھ ہی استعمال کرے گا ۔یہ دنیا چونکہ امتحان کے لیے بنائی گئی ہے ،اِس لیے اِس کے تقاضے سے ظلم و عدوان اورعدم تواز ن کو اِس میں بڑی حدتک گوار ا کیا جاتا ہے ۔تاہم اِس سے کسی کوغلط فہمی نہیں ہونی چاہیے ۔یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے طبعی قوانین جس طرح اٹل ہیں،اُس کے اخلاقی قوانین بھی اِسی طرح اٹل اور بے لاگ ہیں۔ اِس حقیقت پر لوگوں کو متنبہ رکھنے کے لیے ،اللہ تعالیٰ اپنی دینونت اِس دنیامیں وقتاً فوقتاً برپا کرتا رہتا ہے ۔پہلے یہ رسولوں کے ذریعے سے برپا ہوتی تھی،پھر ذریت ابراہیم کے ذریعے سے برپا ہوئی اوراب گذشتہ کئی صدیوں سے اُنھی کے ذریعے سے برپا ہے۔اِس کو دیکھ کرکوئی صاحب بصیرت اِس بات میں شک نہیں کرسکتا کہ فرداًفرداًتمام انسانوں کے لیے بھی یہ ایک دن اِسی طرح برپا ہو جائے گی ۔
      لہٰذا و ہ اپنی دینونت لازماً برپا کرے گا ۔یہ اُس کی عزت اورحکمت ،دونو ں کا تقاضا ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو اِس کے معنی یہ ہوں گے کہ یا تووہ بے بس ہے یا محض ایک کھلنڈرا ہے جس نے یہ دنیا کھیل تماشے کے لیے بنا دی ہے۔

    • امین احسن اصلاحی اللہ کا اصل دین اسلام ہے۔ اہل کتاب نے تو اس میں اختلاف علمِ حق کے آ جانے کے بعد محض باہمی ضدّم ضدّا کے سبب سے کیا ہے۔ جو لوگ اللہ کی آیات کا انکار کریں گے تو وہ یاد رکھیں کہ اللہ بہت جلد حساب چکا دینے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’’الدین‘‘ سے مراد دین حقیقی، یعنی وہ دین جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے اتارا۔ اس پر الف لام اسی طرح کا ’’الکتٰب‘‘ پر ہے۔ اس کی وضاحت تفسیر سورۂ بقرہ کے شروع میں ہم کر چکے ہیں۔
      ’’اَلْعِلْمُ‘‘ سے مراد علم حق ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق کو واضح کرنے اور اختلاف کو دور کر دینے کے لیے نازل ہوا۔
      دین اسلام ہی اللہ کا دین ہے: مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ چونکہ عدل و قسط کو قائم کرنے والا ہے اس وجہ سے اس نے بندوں کو صحیح زندگی گزارنے کا طریقہ بتانے کے لیے ایک دین عطا فرمایا جس کا نام اسلام ہے۔ یہی دین اللہ کا دین ہے یہ دین عدل و قسط کی میزان ہے۔ یہی دین اس کائنات کے تمام نظام تکوینی میں نافذ ہے۔ اسی دین پر فطرتِ انسانی کی تخلیق ہوئی ہے۔ یہی دین اس نے ابتدا سے تمام نبیوں اور رسولوں پر اتارا۔ اس سے الگ اس نے کسی کو کوئی اور دین نہیں دیا لیکن یہود و نصاریٰ نے باہمی اختلاف و عناد اور ضدم ضدا کی وجہ سے اس میں بہت سے اختلافات پیدا کر دیے اور یہودیت و نصرانیت کے ناموں سے اپنے الگ الگ دین کھڑے کر لیے۔ ان کا یہ اختلاف کسی بے خبری پر مبنی نہیں تھا بلکہ حق واضح ہو جانے کے باوجود محض شرارت نفس، باہمی عناد اور اپنی اپنی بدعات کی پچ میں تھا۔ اس طرح انھوں نے اللہ کی عظیم نعمت پا کر ضائع کر دی۔ اللہ چونکہ حی و قیوم اورقائم بالقسط ہے اس وجہ سے اس نے اس نظام عدل و قسط یعنی اسلام کو ازسرِ نو تازہ اور مکمل صورت میں نازل فرمایا تاکہ لوگ ہدایت کی صراط مستقیم پائیں اور دنیا و آخرت دونوں کی فلاح حاصل کریں۔ اب بھی اگر انھوں نے وہی روش اختیار کیے رکھی جو اس سے پہلے اختیار کی اور خدا کی آیتوں کا انکار کرتے رہے تو یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کا حساب بہت جلد چکا دینے والا ہے۔ یعنی یہ مہلت جو انھیں ملی ہوئی ہے اس کو بہت طویل نہ سمجھیں بلکہ حضرت یحییٰؑ کے لفظوں میں یوں سمجھیں کہ درختوں کی جڑوں پر کلہاڑا رکھا ہوا ہے۔
      یہ مضمون سورہ بقرہ میں بھی آ چکا ہے اور وہاں ہم تفصیل کے ساتھ اس پر گفتگو کر چکے ہیں۔ ہم آیت نقل کیے دیتے ہیں ۔ تفصیل کے طالب اسی مقام میں اس کی تفسیر دیکھیں۔ فرمایا ہے:

      کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ وَ اَنْزَلَ مَعَھُمُ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ وَمَا اخْتَلَفَ فِیْہِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْہُ مِنْم بَعْدِ مَاجَآءَ تْھُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًا بَیْنَھُمْ فَھَدَی اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِہٖ وَاللّٰہُ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ (۲۱۳۔ بقرہ)
      (لوگوں کو اللہ نے ایک ہی امت بنایا۔ پھر انھوں نے اختلافات پیدا کیے تو اللہ نے اپنے انبیا بھیجے خوش خبری دیتے ہوئے اور آگاہ کرتے ہوئے اور ان کے ساتھ کتاب اتاری حق کے ساتھ تاکہ لوگوں کے درمیان ان کے اختلاف کا فیصلہ کرے۔ اور اس میں اختلاف انھی لوگوں نے کیا جن کو یہ کتاب ملی، کھلی کھلی تنبیہات کے باوجود، محض آپس کی ضدم ضدا کے سبب سے، تو اللہ نے ایمان لانے والوں کو اپنی توفیق بخشی سے اس حق کی ہدایت دی جس میں ان لوگوں نے اختلاف کیا اور اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ کی ہدایت دیتا ہے۔)

       

      جاوید احمد غامدی (یہ حقیقت ہے تو پھر اِس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ )اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے، (اِس لیے کہ وہی اللہ کو اِ س طرح ماننے کی دعوت دیتا ہے)، اور جنھیں کتاب دی گئی ، اُنھوں نے تو(اللہ کی طرف سے) اِس حقیقت کا علم اُن کے پاس آجانے کے بعد محض آپس کے ضدم ضدا کی وجہ سے (اِس میں) اختلاف کیا ہے۔ (یہ صریح انکارہے )، اورجو اللہ کی آیتوں کے اِس طرح منکر ہوں، (وہ اللہ کی گرفت سے اپنے آپ کو بچا نہ سکیں گے)، اِس لیے کہ اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      مطلب یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ کا دین بھی یہی تھا ۔اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں اور رسولوں پرابتداسے یہی دین اتارا۔ اِس سے الگ کوئی دین اُس نے کسی کونہیں دیا ۔یہودیت اورنصرانیت کے نام سے جودین اِس وقت موجو دہیں،یہ اُن کے ماننے والوں نے اصل دین میں محض ضدم ضدا کی وجہ سے بہت سے اختلاف پیدا کرکے کھڑے کر لیے ہیں۔

    • امین احسن اصلاحی اگر وہ تم سے اس بارے میں جھگڑتے رہیں تو تم ان سے کہہ دو کہ میں نے اور میرے پیرؤوں نے تو اپنے آپ کو اللہ کے حوالہ کیا اور اہل کتاب اور امّیوں سے پوچھو کہ کیا تم بھی اسی طرح اسلام لاتے ہو؟ اگر وہ بھی اسی طرح اسلام لائے تو وہ راہ یاب ہوئے اور اگر وہ اعراض کریں تو تمھارے اوپر ذمہ داری صرف پہنچا دینے کی ہے، اللہ اپنے بندوں کا نگرانِ حال ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’’اَسْلَمْتُ وَجْھِیَ لِلّٰہِ‘‘(میں نے اپنا چہرہ اللہ کے حوالے کیا) اپنی ذات کو اللہ کے حوالے کرنے کی تعبیر ہے۔ چہرہ انسان کی ذات کا سب سے اعلیٰ و اشرف حصہ ہے۔ جب سب سے اعلیٰ و اشرف حصہ حوالے کر دیا تو گویا سب کچھ حوالے کر دیا۔ یہ اسی طرح کی تعبیر ہے جس طرح ہم کسی کی اطاعت کی تعبیر کے لیے سر جھکا دینا بولتے ہیں۔ اس تعبیر میں غایت درجہ تذلل و نیاز مندی و سپردگی پائی جاتی ہے۔ موقع دلیل ہے کہ یہاں یہ اسلوب اصلاً تو اسلام لانے کے مفہوم کو ادا کرنے کے لیے استعمال ہوا ہے لیکن ساتھ ہی اس سے اسلام کی اصل روح بھی واضح ہو گئی ہے تاکہ دین داری کے ان مدعیوں کو، جو اسلام کی مخالفت میں بحث و جدال کے لیے آستینیں چڑھائے ہوئے تھے، تنبیہ ہو کہ وہ کس چیز کے خلاف یہ زور دکھا رہے ہیں۔
      ’اُمّی‘ کا مفہوم: ’اُمّی‘ مدرسی و کتابی تعلیم و تعلم سے نا آشنا کو کہتے ہیں۔ اُمِّیین، کا لفظ اسماعیلی عربوں کے لیے بطور لقب استعمال ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ مدرسی اور رسمی تعلیم و کتابت سے نا آشنا اپنی بدویانہ سادگی پر قائم تھے اور اس طرح بنی اسرائیل کے بالمقابل، جو حامل کتاب تھے، امیت ان کے لیے ایک امتیازی علامت تھی۔ ہو سکتا ہے کہ عربوں کے لیے اس کے استعمال کا آغاز اہل کتاب سے ہی ہوا ہو اس لیے کہ حضرت اسماعیل ؑ اور ان کی ذریت کی بدویت و امیت کا ذکر تورات میں بھی ہے لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس لفظ کے استعمال میں عربوں کے لیے تحقیر کا کوئی پہلو نہیں تھا۔ چنانچہ قرآن نے اس لفظ کو عربوں کے لیے ان کو اہل کتاب سے محض ممیز کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ اسی پہلو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ’نبی امی‘ کا لقب استعمال ہوا ہے۔ اس میں تورات کی پیشین گوئیوں کی ایک تلمیح بھی ہے۔ عرب خود بھی اس لفظ کو اپنے لیے استعمال کرتے تھے، جو اس بات کا نہایت واضح ثبوت ہے کہ وہ اس میں اپنے لیے تحقیر کا کوئی پہلو نہیں پاتے تھے۔ بعض حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی قوم کے لیے یہ لفظ استعمال فرمایا ہے۔ مثلاً وہ حدیث جس میں ارشاد ہوا ہے نَحْنُ اُمَّۃٌ اُمِّیّۃٌ الْحَدِیث بعض جگہ اگر یہ لفظ تحقیر کے طور پر استعمال ہوا ہے تو وہاں اس کا مفہوم محض لغوی ہے اصطلاحی نہیں مثلاً مِنْھُمْ اُمِّیُّوْنَ لَا یَعْلَمُوْن (الآیۃ) سے مراد یہود کے ان پڑھ عوام ہیں۔
      ’ءَ اَسْلَمْتُمْ‘ (کیا تم بھی اسلام لاتے ہو؟) یہ اسلوب دھمکی اور دعوت دونوں پر مشتمل ہے بلکہ فی الجملہ اس سے بیزاری کا بھی اظہار ہو رہا ہے۔ یعنی تم بھی اسلام لانا ہے تو لاؤ، ہم اپنا وقت اب تمھارے ساتھ مناظرہ بازی میں ضائع کرنا نہیں چاہتے، ہم نے تو اپنی راہ اختیار کر لی ہے، اب اپنی منزل کھوٹی کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
      آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ نے جس وقت اللہ کے دین ۔ اسلام کو یہودیت و نصرانیت کی صورت میں مسخ کیا جان بوجھ کر مسخ کیا اور اب جو یہودیت و نصرانیت کی حمایت اور اسلام کی مخالفت میں یہ تم سے مناظرہ و مباحثہ چھیڑے ہوئے ہیں یہ بھی جان بوجھ کر ہی ہے۔ انھیں خوب معلوم ہے کہ حق کیا ہے اور تم جس دین کی دعوت دے رہے ہو اس کی حیثیت کیا ہے؟ اس وجہ سے ان کے ساتھ بحث و جدال میں وقت ضائع کرنے سے کچھ حاصل نہیں۔ ان سے بھی اور امی عربوں سے بھی کہہ دو کہ میں نے اور میرے ساتھیوں نے تو اپنے آپ کو اللہ کے حوالہ کر دیا اور اسلام کا قلادہ اپنی گردن میں ڈال لیا۔ اگر تم بھی اس بازی کے لیے تیار ہو تو بسم اللہ آگے بڑھو اور اگر تیار نہیں تو ہماری راہ چھوڑو، اب تمھارے پیچھے ہم اپنی اوقات رائیگاں کرنا نہیں چاہتے۔
      اس کے بعد پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ اگر یہ اسلام کی راہ اختیار کرتے ہیں تو اور اگر یہ راہ نہیں اختیار کرتے بلکہ اپنی حماقتوں پر جمے رہنا چاہتے ہیں تو ان کو ان کے حال پر چھوڑو، تمھارے اوپر ذمہ داری صرف حق کو پہنچا دینے کی تھی، وہ ذمہ داری تم نے ادا کر دی، اب تم اپنے فرض سے سبکدوش ہو۔ اب ان کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے، وہ اپنے بندوں کے سارے حالات و معاملات دیکھ رہا ہے اور ہر ایک کے ساتھ وہ وہی معاملہ کرے گا جس کا اس کو مستحق پائے گا۔

      جاوید احمد غامدی چنانچہ وہ اگر تم سے جھگڑیں تو کہہ دو کہ میں نے اور میرے پیرووں نے تو اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردیاہے۔ اور اہل کتاب سے اور(بنی اسمٰعیل کے )اِن امیوں سے پوچھو کہ کیا تم بھی اِسی طرح اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کرتے ہو؟ پھر اگر کریں تو راستہ پاگئے اور اگر منہ موڑیں تو تم پر صرف پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے۔ اپنے بندوں کو تواللہ خود دیکھنے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں ’اَسْلَمْتُ وَجْھِیَ لِلّٰہِ‘ کے الفاظ آئے ہیں ۔اِن میں چہرہ حوالے کرنا، درحقیقت اپنی ذات کواللہ کے حوالے کرنے کی تعبیر ہے ۔استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اِس کی وضاحت اپنی تفسیر ’’تدبرقرآن ‘‘میں اِس طرح فرمائی ہے:

      ’’...چہرہ انسان کی ذات کا سب سے اعلیٰ واشرف حصہ ہے ۔جب سب سے اعلیٰ واشرف حصہ حوالے کردیا توگویاسب کچھ حوالے کردیا۔یہ اِسی طرح کی تعبیر ہے، جس طرح ہم کسی کی اطاعت کی تعبیر کے لیے سرجھکادینا بولتے ہیں۔ اِس تعبیرمیں غایت درجہ تذلل و نیازمندی اورسپردگی پائی جاتی ہے ۔موقع دلیل ہے کہ یہا ں یہ اسلوب اصلاً تو اسلام لانے کے مفہوم کو ادا کرنے کے لیے استعمال ہوا ہے ، لیکن ساتھ ہی اِس سے اسلام کی اصل روح بھی واضح ہوگئی ہے تاکہ دین داری کے اِن مدعیوں کو ،جواسلام کی مخالفت میں بحث وجدال کے لیے آستینیں چڑھائے ہوئے تھے ،تنبیہ ہو کہ وہ کس چیز کے خلاف یہ زور دکھا رہے ہیں ۔‘‘ (۲/ ۵۳)

      امی اُس شخص کوکہتے ہیں جو مدرسی اورکتابی تعلیم وتعلم سے ناواقف ہو ۔یہ لفظ بنی اسمٰعیل کے لیے اُن کے لقب کے طور پراستعمال ہوتا ہے ۔استاذ اما م لکھتے ہیں:

      ’’...اِس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ مدرسی اوررسمی تعلیم وکتابت سے ناآشنا اپنی بدویانہ سادگی پرقائم تھے اوراِس طرح بنی اسرائیل کے بالمقابل،جو حامل کتاب تھے،امیت اُن کے لیے ایک امتیازی علامت تھی۔ ہو سکتا ہے کہ عربوں کے لیے اِس کے استعمال کا آغاز اہل کتاب سے ہی ہوا ہو ،اِس لیے کہ حضرت اسمٰعیل اوراُن کی ذریت کی بدویت وامیت کا ذکر تورات میں بھی ہے،لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ اِس لفظ کے استعمال میں عربوں کے لیے تحقیر کا کوئی پہلو نہیں تھا ۔چنانچہ قرآن نے اِس لفظ کوعربوں کے لیے اُن کو اہل کتاب سے محض ممیز کرنے کے لیے استعمال کیا ہے ۔اِسی پہلو سے آں حضر ت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ’نبی امی ‘کا لقب استعمال ہوا ہے ۔اِس میں تورات کی پیشین گوئیوں کی ایک تلمیح بھی ہے ۔عرب خود بھی اِس لفظ کو اپنے لیے استعمال کرتے تھے ،جواِس بات کا نہایت واضح ثبوت ہے کہ وہ اِس میں اپنے لیے تحقیر کا کوئی پہلو نہیں پاتے تھے۔ بعض حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی قوم کے لیے یہ لفظ استعمال فرمایا ہے ۔مثلاًوہ حدیث جس میں ارشاد ہوا ہے :
      ’نحن امۃ امیۃ‘۔* بعض جگہ اگر یہ لفظ تحقیر کے طور پر استعمال ہواہے تو وہاں اِس کا مفہوم محض لغوی ہے، اصطلاحی نہیں، مثلاً ’مِنْھُمْ اُمِّیُّوْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ‘۔** اِس سے مراد یہود کے ان پڑھ عوام ہیں۔‘‘(تدبر قرآن۲/ ۵۳)

      یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی ہے کہ اگر یہ لوگ تمھاری دعوت قبول نہیں کرتے اوراپنی حماقتوں ہی میں مبتلارہناچاہتے ہیں تو اِنھیں اِن کے حال پر چھوڑو اورمطمئن رہو کہ اِ ن کا فیصلہ اب اللہ کے ہاتھ میں ہے ،وہ اِن کے ہر قول و فعل کو دیکھ رہا ہے ،اور ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کرے گا جس کا وہ مستحق ہو گا۔
      _____
      * بخاری ، رقم ۱۹۱۳۔ مسلم ، رقم ۱۰۸۵۔
      ** البقرہ ۲: ۷۸۔

       

    Join our Mailing List