Download Urdu Font

What are Collections?

Collections function more or less like folders on your computer drive. They are usefull in keeping related data together and organised in a way that all the important and related stuff lives in one place. Whle you browse our website you can save articles, videos, audios, blogs etc and almost anything of your interest into Collections.
Text Search Searches only in translations and commentaries
Verse #

Working...

Close
( 5 آیات ) Al-Falaq Al-Falaq
Go
  • الفلق (The Daybreak, Dawn)

    5 آیات | مکی
    سورہ کا مضمون اور سابق و لاحق سے تعلق

    سابق سورہ ۔۔۔ الاخلاص ۔۔۔ کی تمہید میں ہم نے یہ واضح کیا ہے کہ توحید کو دین کی اساس کی حیثیت حاصل ہے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کا آغاز بھی توحید ہی سے فرمایا اور پھر اس کا اتمام بھی اسی پر کیا۔ گویا اصلاً قرآن کی آخری سورۃ الاخلاص ہوئی۔ اس کے بعد دو سورتیں، جو معوّذتین کے نام سے موسوم ہیں، اس خزانۂ توحید کے پاسبان اور محافظ کی حیثیت سے اس کے ساتھ لگا دی گئی ہیں جن میں ان تمام آفتوں سے بندوں کو اپنے رب کی پناہ مانگنے کی دعا تلقین فرمائی گئی ہے جو درباب توحید ان کے لیے مزلۂ قدم ہو سکتی ہیں۔

    توحید کے لیے اس اہتمام خاص کی ضرورت اس وجہ سے ہے کہ یہی، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، تمام دین کی بنیاد ہے۔ اگر بندے کا قدم توحید میں استوار ہے تو وہ دین پر استوار ہے۔ اگر وقتی طور پر اس سے کوئی لغزش صادر بھی ہو گی تو اساس دین سے وابستہ ہونے کے سبب سے امید ہے کہ اس کو اصلاح کی توفیق ملے اور وہ راہ راست پر آ جائے۔ برعکس اس کے اگر درباب توحید اس کو کوئی گمراہی پیش آ گئی تو اندیشہ ہے کہ وہ ہر قدم پر دین سے دور ہی ہوتا جائے گا اور درجہ بدرجہ اتنا دور ہو جائے گا کہ اس کے لیے دین کی طرف بازگشت کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہ جائے گا۔

    اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان جس امتحان میں ڈالا گیا ہے اس میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مرتے دم تک شیطان کا مقابلہ کرے اور اس کو شکست دے۔ شیطان کے مقابل میں اس کی اسی فتح مندی پر اس کی اُخروی فوز و فلاح کا انحصار ہے۔ شیطان کا خاص داؤ جس پر اس نے انسان کو شکست دینے کی قسم کھا رکھی ہے یہی توحید ہے۔ اس نے اللہ تعالیٰ کو چیلنج دے رکھا ہے کہ وہ انسان کی گھات میں توحید کی راہ پر بیٹھے گا اور اس کو اس راہ سے ہٹا کر شرک کی راہ پر ڈال دے گا۔ سورۂ اعراف میں اس کے اس چیلنج کا ذکر یوں ہوا ہے:

    قَالَ فَبِمَا أَغْوَیْتَنِیْ لأَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرَاطَکَ الْمُسْتَقِیْمَ ثُمَّ لَاٰتِیَنَّہُمۡ مِّنۡ بَیْنِ أَیْدِیْہِمْ وَمِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ أَیْمَانِہِمْ وَعَنۡ شَمَآءِلِہِمْ وَلاَ تَجِدُ أَکْثَرَہُمْ شَاکِرِیْنَ (الاعراف ۷: ۱۶-۱۷)

    ’’شیطان نے کہا، بوجہ اس کے کہ تو نے مجھے گمراہی میں ڈالا، میں بھی ان کی (بنی آدم کی) گھات میں تیری سیدھی راہ (توحید) پر بیٹھوں گا۔ پھر میں ان کے آگے سے، ان کے پیچھے سے، ان کے دہنے سے اور ان کے بائیں سے ان پر تاخت کروں گا۔ پس تو ان سے اکثر کو اپنا شکرگزار (موحّد) نہیں پائے گا۔‘‘

    شیطان کے ان ہتھکنڈوں کی تفصیل جو وہ انسان کو شرک کے جال میں پھنسانے کے لیے اختیار کرے گا خود شیطان کی زبان سے سورۂ نساء میں یوں بیان ہوئی ہے:

    إِنَّ اللہَ لاَ یَغْفِرُ أَنۡ یُشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَشَآءُ وَمَنۡ یُشْرِکْ بِاللہِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلاَلاً بَعِیْدًا ۵ إِنۡ یَدْعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖٓ إِلاَّ إِنَاثًا وَإِنۡ یَدْعُوۡنَ إِلاَّ شَیْْطَانًا مَّرِیْدًا ۵ لَّعَنَہُ اللہُ وَقَالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِکَ نَصِیْبًا مَّفْرُوۡضًا ۵ وَلأُضِلَّنَّہُمْ وَلأُمَنِّیَنَّہُمْ وَلَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الأَنْعَامِ وَلَاٰمُرَنَّہُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللہِ وَمَنۡ یَتَّخِذِ الشَّیْطَانَ وَلِیًّا مِّنۡ دُوۡنِ اللہِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِیْنًا (النساء ۴: ۱۱۶-۱۱۹)

    ’’اللہ اس جرم کو ہرگز نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک ٹھہرایا جائے اور اس کے سوا جو گناہ ہیں ان کو جس کے لیے چاہے گا بخش دے گا۔ اور جو اللہ کا شریک ٹھہرائے گا تو وہ نہایت دور کی گمراہی میں جا پڑا۔ یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے بھی ہیں تو دیویوں کو، اور پکارتے بھی ہیں تو شیطان سرکش کو۔ اس پر اللہ کی لعنت۔ اور اس نے کہہ رکھا ہے کہ میں تیرے بندوں میں سے ایک مقرر حصہ ہتھیا کر رہوں گا۔ ان کو گمراہ کر ڈالوں گا، ان کو آرزوؤں کے جال میں پھنساؤں گا اور ان کو سجھاؤں گا تو وہ چوپایوں کے کان کاٹیں گے اور ان کو سجھاؤں گا تو وہ اللہ کی بنائی ہوئی ساخت کو بدلیں گے اور جو اللہ کو چھوڑ کر شیطان کو کارساز بنائے گا تو وہ نہایت کھلی نامرادی میں پڑا۔‘‘

    اس سے بھی زیادہ جامعیت سے یہی مضمون سورۂ بنی اسرائیل کی آیات ۶۱-۶۵ میں بھی آیا ہے۔ بہتر ہو گا کہ ان آیات کی تفسیر تدبر قرآن میں پڑھ لیجیے؂۱ تاکہ ان کے مضمرات اچھی طرح آپ کے سامنے آ جائیں اور واضح ہو جائے کہ شیطان کی سب سے بڑی کوشش یہ ہے کہ وہ انسان کو شرک کے کسی پھندے میں پھنسائے تاکہ وہ اس گناہ کا ارتکاب کر کے خدا کی رحمت سے بالکل محروم ہو جائے جس کے لیے مغفرت نہیں ہے۔ شیطان کے دل میں بنی آدم کے خلاف جو حسد و غصہ ہے وہ اسی انتقام سے تسکین پاتا ہے۔

    یہ چیز مقتضی ہوئی کہ آخر میں توحید کی جامع تعلیم کے ساتھ ساتھ شیطان کے فتنوں سے محفوظ رہنے کا وہ طریقہ بھی بتا دیا جائے جو سب سے زیادہ کامیاب طریقہ ہے اور جس کو اختیار کر کے اللہ کا ہر بندہ شیطان کے حملوں سے اپنے خزانۂ توحید کی حفاظت کر سکتا ہے۔

    اسی طریقہ کو واضح کرنے کے لیے آگے کی دونوں سورتوں میں پہلی بات تو یہ بتائی گئی کہ شیطان جیسے شاطر دشمن کے حملوں سے اپنے کو محفوظ رکھنے کا واحد طریق یہ ہے کہ انسان صرف اپنے رب کی پناہ ڈھونڈھے۔ اس کے سوا کوئی دوسرا اس کی شاطرانہ چالوں اور کیّادیوں سے بچانے والا نہیں ہے۔ اگر انسان اس کے لیے ہر لمحہ چوکنا نہیں رہے گا تو اندیشہ ہے کہ وہ شیطان سے مار کھا جائے اور پھر اس کے لیے اس کے دام سے نکلنا مشکل ہو جائے۔

    دوسری چیز یہ بتائی گئی ہے کہ خدا کی وہ کیا صفات ہیں جن کے واسطہ سے بندے کو خدا کی وہ پناہ حاصل ہوتی ہے جو اس کو شیطان کے فتنوں سے بالکل مامون کر دیتی ہے۔ یہ چیز اللہ تعالیٰ ہی کے بتانے کی تھی اور یہ اس کا اپنے بندوں پر عظیم احسان ہے کہ اس نے ان سورتوں میں اپنی ان صفات سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ بندے کا صحیح تعلق اس کی اعلیٰ صفات ہی کے ذریعہ سے قائم ہوتا ہے اور یہ اسی کو معلوم ہے کہ اس کے بندے اپنے کسی دشمن سے مقابلہ کے لیے اپنے رب کی کس صفت کو سپر بنائیں۔ یہ چیز ہر شخص نہیں جان سکتا اور اس میں معمولی غلطی بھی انسان کی جدوجہد کو بے اثر بنا سکتی ہے۔

    تیسری چیز اس میں یہ بتائی گئی ہے کہ انسان کو گمراہ کرنے کے معاملے میں شیطان کی جدوجہد کی رسائی کہاں تک ہے اور اس کے سب سے زیادہ مؤثر حربے کیا ہیں۔ اس سے مقصود انسان کو اس کے دشمن کی طاقت کا اندازہ کرا دینا ہے تاکہ وہ اس کی قوت سے نہ مرعوب ہو اور نہ اس سے بے پروا رہے بلکہ وہ اچھی طرح آگاہ رہے کہ دشمن کن راستوں سے اس پر وار کر سکتا ہے اور اس کے مقابلہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے خود اسے کن طاقت ور اسلحہ سے مسلح کر رکھا ہے۔

    _____

    ؂۱ ملاحظہ ہو تدبر قرآن۔ جلد سوم، صفحات ۷۶۳-۷۶۵۔

  • الفلق (The Daybreak, Dawn)

    5 آیات | مکی

    خاتمہ

    الفلق الناس

    ۱۱۳ - ۱۱۴

    الفلق ۱۱۳ - الناس ۱۱۴

    خاتمۂ باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلقین کہ آپ اپنی اور اپنے مشن کی حفاظت کے لیے دنیا کی تمام آفتوں سے اپنے پروردگار کی پناہ مانگتے رہیں۔ یہود و قریش اور ذریت ابلیس کے شیاطین جن و انس اگلے مراحل میں پوری قوت کے ساتھ آپ پر حملہ کرنے والے ہیں۔

    الفلق - الناس

    یہ دونوں سورتیں خاتمۂ قرآن کی دعا اور ہرلحاظ سے توام ہیں۔اِسی بنا پر اِنھیں معوذتین کہا جاتا ہے۔پہلی سورہ میں استدلال اور دوسری میں استرحام کا پہلو نمایاں ہے۔ اِن میں خطاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے اور اِن کے مضمون سے واضح ہے کہ ہجرت کے بعد مدینہ طیبہ میں یہ اُس وقت نازل ہوئی ہیں، جب یہود وقریش اور ذریت ابلیس کے سب شیاطین جن و انس آپ کی دعوت کو کامیابی سے ہم کنار ہوتے دیکھ کر آپ پر حملہ آور ہونے کی تیاری کر رہے تھے۔

    دونوں سورتوں کا موضوع حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ تلقین ہے کہ اپنی اور اپنے مشن کی حفاظت کے لیے آپ اِس دنیا کی تمام آفتوں اور تمام مخلوقات کے شر سے اپنے پروردگار کی پناہ مانگیں، اِس لیے کہ تنہا وہی ہے جو اِن سب آفات و شرور سے انسان کو فی الواقع پناہ دے سکتا ہے۔

    یہ مضمون ، اگر غور کیجیے تو قرآن کے ہر طالب علم کو اُس کی ابتدا میں سورۂ فاتحہ کی طرف متوجہ کرتا ہے، جہاں بندہ توحید کا اقرار کرتا اور اپنے پروردگار کے حضور میں دست بدعا ہوتا ہے کہ وہ اُسے صراط مستقیم کی ہدایت بخشے۔ اِس کے جواب میں پورا قرآن ہے جو اُس کے لیے صراط مستقیم کی وضاحت کرتا ہے، یہاں تک کہ وہ توحید کی جامع ترین سورہ—- الاخلاص—- تک پہنچ جاتا ہے۔ اِس کے بعد یہ سورتیں ہیں جن میں بندہ صفات الٰہی کے توسل سے ایک مرتبہ پھر دعا کرتا ہے کہ اُس کا پروردگار اُسے توحید کی راہ پر کھڑے ہر رہ زن سے اپنی پناہ میں رکھے اور اِس راہ کے نشیب و فراز میں ہر قدم پر اُس کی حفاظت فرمائے۔ قرآن کی ابتدا کے ساتھ یہ خاتمہ جو مناسبت رکھتا ہے، وہ کسی صاحب نظر سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔

  • In the Name of Allah
    • امین احسن اصلاحی کہہ، میں پناہ مانگتا ہوں نمودار کرنے والے خداوند کی۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      ’فلق‘ کا وسیع مفہوم:’الْفَلَقِ‘ کا ترجمہ عام طور پر لوگوں نے صبح کیا ہے لیکن اس کے اصل معنی پھاڑنے کے ہیں۔ صبح چونکہ شب کے پردے کو چاک کر کے نمودار ہوتی ہے اس وجہ سے اس پر بھی اس کا اطلاق ہوا۔ لیکن پھاڑ کر نمودار ہونے والی چیز صرف صبح ہی نہیں ہے۔ ہر چیز کسی نہ کسی چیز کے اندر سے اس کو چاک کر کے ہی نمودار ہوتی ہے۔ گٹھلی سے پودا نمودار ہوتا ہے، دانے کو پھاڑ کر انکھوے نکلتے ہیں، زمین کو پھاڑ کر نباتات اگتی ہے، پہاڑوں کا سینہ چاک کر کے چشمے اور دریا ابلتے ہیں، اسی طرح انڈے کو پھاڑ کر بچے نکلتے ہیں اور رحم کے منہ کو کھول کر دوسری تمام زندہ مخلوقات وجود پذیر ہوتی ہیں۔ پھر لفظ ’فَلَقٌ‘ کو اس قدر محدود کر دینے کے لیے کیا جواز ہے؟ ہمارے نزدیک اس کو اس کے وسیع معنی میں رکھنا ہی موقع و محل کے اعتبار سے زیادہ موزوں ہے۔ لغت میں یہ لفظ وسیع معنی میں آیا بھی ہے۔ قرآن میں جس طرح ’فَالِقُ الإِصْبَاحِ‘ (الانعام ۶: ۹۶) کی ترکیب استعمال ہوئی ہے اسی طرح ’فَالِقُ الْحَبِّ وَالنَّوٰی‘ (الانعام ۶: ۹۵) کی ترکیب بھی وارد ہوئی ہے۔ اسی طرح زمین اور آسمان سے متعلق ارشاد ہے کہ ’کَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاہُمَا‘ (الانبیاء ۲۱: ۳۰) وہ دونوں بند ہوتے ہیں تو ہم ان کو پھاڑتے ہیں۔ یعنی آسمان کو کھول کر اس سے پانی برساتے اور زمین کو پھاڑ کر اس سے نباتات اگاتے ہیں۔
      میں نے لفظ کی اس وسعت کو پیش نظر رکھ کر ’رَبِّ الْفَلَقِ‘ کا ترجمہ نمودار کرنے والے خداوند، کیا ہے۔ میرے نزدیک یہ ترجمہ زیادہ جامع اور معنی خیز ہے۔ آگے کے مضمون سے بھی اس کو، جیسا کہ وضاحت آ رہی ہے، زیادہ مناسبت ہے۔

      جاوید احمد غامدی تم دعا کرو،(اے پیغمبر) کہ میں اُس پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں جو نمودار کرنے والا ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل میں لفظ ’قُلْ‘ ہے۔ سورہ کے مضمون سے واضح ہے کہ اِس کا ترجمہ یہاں وہی ہونا چاہیے جو ہم نے کیا ہے۔
      یعنی اُس پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں جو رات سے صبح، گٹھلی سے کونپل، دانے سے انکھوا، رحم سے بچہ اور پہاڑوں کا سینہ چاک کر کے اُن سے دریا اور چشمے نمودار کرتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں، اِس لیے کہ پناہ صرف وہی دے سکتا ہے اور اُس کی توحید پر ایمان کا تقاضا بھی یہی ہے کہ پناہ صرف اُسی سے مانگی جائے۔

    • امین احسن اصلاحی ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مخلوقات کے شر سے پناہ خالق ہی دے سکتا ہے: یہ اس مقصد کا حوالہ ہے جس کے لیے تمام عالم کے نمودار کرنے والے خداوند کی دہائی کی تلقین کی گئی ہے۔ فرمایا کہ جس خداوند نے تمام عالم کو نمودار کیا ہے اس کی پیدا کی ہوئی چیزوں کے شر سے پناہ ان کے پیدا کرنے والے ہی سے مانگو، کسی دوسرے سے نہ مانگو۔ کوئی دوسرا ان کے شر سے پناہ اسی صورت میں دے سکتا ہے کہ جب وہ ان کے پیدا کرنے والے سے زیادہ طاقت ور ہو اور یہ بات بالکل خلاف عقل ہے کہ کوئی چیز خالق کائنات سے زیادہ قدرت و اختیار والی ہو۔ اس وجہ سے خدا کی پیدا کی ہوئی چیزوں کے شر سے کسی غیر خدا کی پناہ ڈھونڈنا سراسر سفاہت ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ چیزیں جتنی بھی ہیں سب خدا ہی کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ خالق اس کے سوا کوئی نہیں ہے۔
      اللہ نے چیزیں مقصد خیر سے پیدا کی ہیں لیکن وہ اس کے حکم سے شر بھی بن جاتی ہیں: اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں پیدا کی ہیں وہ اصلاً مقصد خیر سے پیدا کی ہیں لیکن وہ جب چاہے ان کو شر میں بھی تبدیل کر سکتا ہے۔ بارش اس دنیا کے لیے سراسر رحمت ہے لیکن اللہ تعالیٰ چاہتا ہے تو اس کو عذاب بھی بنا دیتا ہے۔ اسی طرح خود انسان اپنی بے خبری اور سوء استعمال سے ایک چیز کو جو اصلاً نافع ہے، مضر بنا لیتا ہے۔ اشیاء کے ان برے پہلوؤں سے اپنے کو محفوظ رکھنے کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ آدمی خدا ہی سے استعاذہ کرے۔ نہ ان اشیاء میں سے کسی چیز کو مؤثر بالذات سمجھ کر ان کی دہائی دینی شروع کر دے جس طرح مشرک قومیں کرتی ہیں اور نہ خدا کے سوا کسی ’غوث‘ یا ’قطب‘ کو پکارنا شروع کر دے کہ وہ آ کر خدا کی اس پکڑ سے اس کو بچائیں۔ خدا کی پکڑ سے خدا کے سوا کوئی دوسرا رہائی نہیں دے سکتا۔ آفتوں سے اپنے کو بچانے کی جو جائز تدبیریں انسان اختیار کرتا ہے، مثلاً کسی بیماری میں ڈاکٹر سے رجوع کرتا ہے، تو یہ چیز اس کے منافی نہیں ہے بشرطیکہ وہ یہ عقیدہ رکھے کہ طبیب حقیقی صرف اللہ ہے، شفا صرف اسی کے اختیار میں ہے، اگر وہ شفا نہ دے تو کسی دوسری طاقت کے بس میں نہیں ہے کہ وہ کسی معمولی سے معمولی بیماری سے بھی نجات دے سکے۔
      اس تفصیل سے واضح ہوا کہ یہ ایک ہی کلمہ شرک کے بہت سے دروازوں کے بند کر دینے کے لیے کافی ہے۔ اس سے ثنویت اور خیر و شر کی الگ الگ خدائی کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ مشرک قومیں ہر آفت کو بجائے خود ایک مستقل نافع و ضار وجود سمجھ کر اس کی دہائی پکارنی شروع کر دیتی ہیں۔ حالانکہ کوئی آفت اپنا خود کوئی مستقل وجود نہیں رکھتی بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزوں ہی کے ظلال و آثار میں سے ہیں جو اللہ کے اذن سے وجود میں آتی ہیں، اسی کے حکم سے اثرانداز ہوتی ہیں اور تنہا اسی کی مدد سے ان کے شر سے نجات ملتی ہے اس وجہ سے حقیقی پناہ اور ماویٰ و ملجا وہی ہے۔

      جاوید احمد غامدی ہر اُس چیز کے شر سے جو اُس نے پیدا کی ہے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      لفظ ’شَرّ‘ یہاں الم، تکلیف اور ضرر کے معنی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کسی مخلوق کو اِس طرح کے کسی شر کے لیے پیدا نہیں کیا ہے۔ جو چیزیں پیدا کی ہیں، اصلاً مقصد خیر سے پیدا کی ہیں۔ اپنی مخلوقات کے اندر جو صلاحیتیں ، البتہ اُس نے رکھی ہیں، اُن سے بعض اوقات یہ شرور پیدا ہو جاتے ہیں۔ اِن سے پناہ حاصل کرنے کے لیے موزوں ترین اور موثر ترین استعاذہ اُسی سے ہو سکتا ہے جو مخلوقات کا خالق ہے، اِس لیے کہ کوئی دوسرا اُن کے شر سے اُسی صورت میں پناہ دے سکتا ہے، جب وہ اُن کے پیدا کرنے والے سے زیادہ طاقت ور ہو۔ یہ بات، ظاہر ہے کہ کوئی عاقل تسلیم نہیں کر سکتا، اِس وجہ سے نری حماقت ہو گی، اگر کوئی شخص خدا کی پیدا کی ہوئی چیزوں کے شر سے کسی غیرخدا کی پناہ تلاش کرے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

      ’’...یہ ایک ہی کلمہ شرک کے بہت سے دروازوں کے بند کر دینے کے لیے کافی ہے۔ اِس سے ثنویت اور خیر و شر کی الگ الگ خدائی کی جڑ کٹ جاتی ہے۔ مشرک قومیں ہر آفت کو بجاے خود ایک مستقل نافع وضار وجود سمجھ کر اُس کی دہائی پکارنی شروع کر دیتی ہیں، حالاں کہ کوئی آفت اپنا خود کوئی مستقل وجود نہیں رکھتی، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزوں ہی کے ظلال و آثار میں سے ہیں جو اللہ ہی کے اذن سے وجود میںآتی ہیں، اُسی کے حکم سے اثر انداز ہوتی ہیں اور تنہا اُسی کی مدد سے اُن کے شر سے نجات ملتی ہے۔ اِس وجہ سے حقیقی پناہ اور ماویٰ و ملجا وہی ہے۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۶۶۱)

    • امین احسن اصلاحی اور اندھیرے کی آفت سے جب وہ چھا جائے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      شر کا وجود مستقل بالذات نہیں ہے: ’غَاسِقٌ‘ رات کو کہتے ہیں جب شفق غائب ہو جانے کے بعد اس کی تاریکی بڑھ جائے۔ ’وَقَب‘ کے معنی تاریکی چھا جانے کے ہیں۔ اہل لغت نے ’غَاسِقٌ‘ کے معنی چاند کے بھی لکھے ہیں لیکن یہاں ’اِذَا وَقَبَ‘ کا قرینہ اشارہ کر رہا ہے کہ اس سے مراد رات ہی ہے۔ اس لیے کہ اس کی تاریکی جب بڑھتی ہے تو اپنے دامن میں آفتیں لیے ہوئے بڑھتی ہے۔
      یہ ٹکڑا بہترین مثال ہے اس بات کی کہ اس دنیا میں شر کا وجود مستقل بالذات نہیں ہے کہ خیر و شر کے خالق الگ الگ مانے جائیں اور دونوں کی دہائی دی جائے بلکہ، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، یہ چیز اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی چیزوں ہی کے متعلقات و حواشی میں سے ہے اس وجہ سے اس سے بچنے کے لیے کسی غیر اللہ کی نہیں بلکہ اللہ ہی کی پناہ ڈھونڈنی اور اسی کی دہائی دینی چاہیے۔
      قرآن میں یہ بات جگہ جگہ بیان ہوئی ہے کہ اس دنیا کے بقا کے لیے جس طرح دن اور اس کی روشنی و حرارت ضروری ہے اسی طرح رات اور اس کی خنکی و سکون بخشی بھی ضروری ہے، پھر ظاہری تضاد کے باوصف دنیا کے بقا میں ان دونوں کے توافق کو توحید کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہاں اسی رات کے شر سے پناہ مانگنے کی دعا تلقین کر کے گویا یہ درس دیا گیا ہے کہ رات کی جو تاریکی تمہاری راحت کے لیے ناگزیر ہے اسی کے ظلال و آثار میں سے یہ چیز بھی ہے کہ اس میں چور، قاتل، دشمن اور حشرات و ہوام نکلتے ہیں جن سے تمہیں نقصان پہنچ سکتا ہے۔ شب کے سکون میں ان غیر مطلوب چیزوں کی مداخلت سے یہ نتیجہ نکالنا تو بالکل غلط ہو گا کہ رات کا خالق کوئی اور ہے اور ان کے نمودار ہونے والے ان ناخواندہ مہمانوں کا خالق کوئی اور، پھر دونوں کی دہائی پکاری جائے۔ بلکہ صحیح اور موافق عقل و فطرت بات یہی ہو سکتی ہے کہ ان دونوں کا خالق ایک ہی ہے۔ اسی نے رات کا سکون بخشا ہے اور وہی اس میں خلل انداز ہونے والی آفتوں سے پناہ دے سکتا ہے۔ یعنی جس طرح اس کی برکتیں خدا ہی کے فیض سے ہیں اسی طرح اس کی زحمتیں بھی اسی کے اذن سے ہیں۔ پس ہر حال میں مرجع اسی کو بنانا چاہیے۔
      یہاں وہ بات یاد رکھیے جس کی طرف ہم نے پیچھے اشارہ کیا کہ شر کے وجود کی اس نوعیت کو نہ سمجھ سکنے کے سبب ہی سے نادانوں نے شر کو بھی مستقل حیثیت دے دی اور پھر خیر و شر دونوں کے الگ الگ خالق مان کر ثنویت کی بنیاد رکھ دی۔ قرآن نے یہاں بہترین مثال دے کر واضح کر دیا کہ شر کی اصل حیثیت کیا ہے اور اس سے پناہ دینے والا کون ہے۔

      جاوید احمد غامدی بالخصوص اندھیرے کے شر سے، جب وہ چھا جائے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اِس لیے کہ چور، قاتل، دشمن اور ہوام و حشرات، سب اندھیرے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔اِس سے مزید وضاحت ہوئی کہ دنیا میں شرکا وجود مستقل بالذات نہیں ہے کہ خیر و شر کے الگ الگ خالق مانے جائیں اور دونوں کی دہائی دی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں پیدا کی ہیں، اُنھی کے ظلال و آثار ہیں جو دوسروں کے لیے الم، تکلیف اور نقصان کا باعث بن جاتے ہیں، اِس وجہ سے اِن سے بچنے کے لیے کسی دوسرے کی نہیں، بلکہ اللہ ہی کی پناہ ڈھونڈنی چاہیے۔

    • امین احسن اصلاحی اور گرہوں میں پھونک مارنے والوں کی آفت سے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      مادی اور محسوس آفات سے پناہ مانگنے کے بعد یہ روحانی و اخلاقی آفتوں سے پناہ مانگنے کی تلقین کی ہے۔
      روحانی آفات سے پناہ مانگنے کا طریقہ: ’نَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ‘ کے معنی گرہوں میں پھونک مارنے والوں کے ہیں۔ اگرچہ یہ مؤنث ہے لیکن اس سے عورتوں کو مراد لینا لازم نہیں ہے۔ عربیت کے قاعدہ سے آپ اس سے ارواح خبیثہ اور نفوس خبیثہ مراد لے سکتے ہیں؛ عام اس سے کہ وہ مرد ہوں یا عورتیں اور قطع نظر اس سے کہ ان کا اشارہ یہود و مجوس کی طرف ہو یا عرب کے ساحروں اور کاہنوں کی طرف۔
      گرہوں میں پھونک مارنے کا یہ طریقہ ٹونے ٹوٹکے اور گنڈے کا عمل کرنے والے اختیار کرتے ہیں۔ وہ دھاگے یا تانت پر اپنے تصور کے مطابق کچھ پڑھ کر پھونکتے اور گرہیں لگاتے جاتے ہیں۔ اور ان کے زعم کے مطابق ان کا معمول اس طرح ان کے دام میں اسیر ہو جاتا ہے اور پھر وہ اس کو جو اذیت پہنچانا چاہتے ہیں پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس صفت سے ان کا ذکر کرنے سے مقصود ان کے بھگل کی تصویر کھینچنا ہے۔ یہ اسی طرح کی تصویر ہے جس طرح سورۂ شعراء میں کاہنوں کے مراقبہ کی تصویر

      ’یُلْقُوْنَ السَّمْعَ وَأَکْثَرُہُمْ کَاذِبُوْنَ‘ (الشعراء ۲۶: ۲۲۳)
      (اور وہ کان لگا کر بیٹھتے ہیں اور ان میں کے اکثر جھوٹے ہوتے ہیں)

      کے الفاظ سے کھینچی گئی ہے۔ میرے نزدیک اس سے مقصود اس چیز کی لغویت کی طرف اشارہ کرنا ہے۔
      رہا یہ سوال کہ یہ اعمال سِفلیہ کچھ مؤثر ہوتے ہیں یا نہیں تو اس سوال پر ہم سورۂ بقرہ کی آیت ۱۰۲ کے تحت، بضمن قصۂ ہاروت و ماروت، اپنی رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔؂۱ ہمارے نزدیک اس کا اکثر حصہ، جیسا کہ سورۂ شعراء کی محولہ بالا آیت سے معلوم ہوتا ہے محض ڈھونگ اور بھگل ہے لیکن اس کے اندر اگر کچھ حقیقت ہے بھی تو قرآن میں یہ تصریح ہے کہ یہ مؤثر بالذات نہیں ہیں بلکہ ان سے کسی کو ضرر پہنچایا جا سکتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے اذن ہی سے پہنچایا جا سکتا ہے۔ چنانچہ سحر اور اعمال سفلیہ ہی سے متعلق فرمایا ہے:

      ’وَمَا ہُم بِضَآرِّیْنَ بِہٖ مِنْ أَحَدٍ إِلاَّ بِإِذْنِ اللّٰہِ‘ (البقرہ ۲: ۱۰۲)
      (اور اس کے ذریعہ سے وہ کسی کو ضرر پہنچانے والے نہیں بن سکتے مگر اللہ کے اذن سے)

      تو جب ان سے کوئی ضرر اللہ کے اذن ہی سے پہنچ سکتا ہے تو معلوم ہوا کہ اس شر سے بچنے کے لیے بھی اللہ کے سوا کسی اور کی پناہ ڈھونڈھنے کی حاجت باقی نہیں رہی۔
      اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی حفاظت کرتا ہے جو اس کو یاد رکھتے ہیں: اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ لوگ اپنے ذہن جس طرح کے بناتے ہیں ان کے ساتھ وہ اسی طرح کا معاملہ کرتا ہے۔ ایک شخص اگر اپنا تعلق اپنے رب سے استوار رکھتا ہے لاطائل اوہام سے اپنے کو بچاتا ہے، خدا کی یاد سے اپنے دل کو آباد رکھتا ہے، اگر کوئی افتاد پیش آتی ہے تو اس میں رہنمائی اور استعانت کے لیے اپنے رب ہی کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص پر شیطان کو غلبہ پانے نہیں دیتا۔ اگر اتفاق سے اس کو کوئی چھوت لگتی بھی ہے تو اللہ کی طرف توجہ اس کے شر سے اس کو بچا لیتی ہے۔
      اس کے برعکس اگر کوئی شخص بالکل منفعل مزاج اور وہمی ہوتا ہے۔ عقل و بصیرت سے کام لینے کے بجائے وساوس میں مبتلا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ پر مضبوط بھروسہ رکھنے کے بجائے اپنے دل کے دروازے شبہات و شکوک کے لیے کھول دیتا ہے تو اس طرح کا آدمی بالعموم کسی شیطان جن و انس کے ہتھے چڑھ جاتا ہے پھر وہ اس کو ہر وادی میں گردش کراتے ہیں۔ اس گردش سے اپنے کو محفوظ رکھنے کا واحد طریقہ اس سورہ نے یہی بتایا ہے کہ آدمی اپنے کو ہمیشہ اپنے رب کی پناہ میں رکھے، جب کبھی دل میں کوئی دغدغہ محسوس کرے فوراً اس کی امان طلب کرے جس کا بہترین ذریعہ یہ دونوں سورتیں ۔۔۔ معوذّتَین ۔۔۔ ہیں۔
      _____
      ؂۱ ملاحظہ ہو تدبر قرآن۔ جلد اول صفحات ۲۳۸-۲۴۴۔

      جاوید احمد غامدی اور گرہوں پر پھونکنے والوں کے شر سے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      اصل الفاظ ہیں: ’النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ‘۔ اِس کا موصوف ہمارے نزدیک لفظ ’نفوس‘ ہے۔ یہ جادوکے لیے ایک طرح کا استعارہ ہے، کیونکہ جادوگر عموماً کسی ڈور یا تاگے میں گرہ دیتے اور اُس پر پھونکتے جاتے ہیں۔ اِس طرح کے لوگ یہود میں بھی بہت رہے ہیں اور عرب کے ساحروں اور کاہنوں میں بھی۔ آیت سے واضح ہے کہ اِن کے علوم بھی اپنی کچھ حقیقت ضرور رکھتے ہیں۔ چنانچہ ہدایت کی گئی ہے کہ اِن کے شر سے خدا کی پناہ مانگی جائے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے وضاحت فرمائی ہے ۔ وہ لکھتے ہیں:

      ’’اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ لوگ اپنے ذہن جس طرح کے بناتے ہیں، اُن کے ساتھ وہ اُسی طرح کا معاملہ کرتا ہے۔ ایک شخص اگر اپنا تعلق اپنے رب سے استوار رکھتا ہے، لاطائل اوہام سے اپنے آپ کو بچاتا ہے، خدا کی یاد سے اپنے دل کو آباد رکھتا ہے، اگر کوئی افتاد پیش آتی ہے تو اُس میں رہنمائی اور استعانت کے لیے اپنے رب ہی کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص پر شیطان کو غلبہ پانے نہیں دیتا۔ اگر اتفاق سے اُس کو کوئی چھوت لگتی بھی ہے تو اللہ کی طرف توجہ اُس کے شر سے اُس کو بچا لیتی ہے۔
      اِس کے برعکس اگر کوئی شخص بالکل منفعل مزاج اور وہمی ہوتا ہے، عقل و بصیرت سے کام لینے کے بجاے وساوس میں مبتلا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ پر مضبوط بھروسا رکھنے کے بجاے اپنے دل کے دروازے شبہات وشکوک کے لیے کھول دیتا ہے تو اِس طرح کا آدمی بالعموم کسی شیطان جن و انس کے ہتھے چڑھ جاتا ہے، پھر وہ اُس کو ہر وادی میں گردش کراتے ہیں۔ اِس گردش سے اپنے کو محفوظ رکھنے کا واحد طریقہ اِس سورہ نے یہی بتایا ہے کہ آدمی اپنے کو ہمیشہ اپنے رب کی پناہ میں رکھے۔ جب کبھی دل میں کوئی دغدغہ محسوس کرے، فوراًاُس کی امان طلب کرے جس کا بہترین ذریعہ یہ دونوں سورتیں ۔۔۔ معوذتین ۔۔۔ ہیں۔‘‘(تدبرقرآن ۹/ ۶۶۳)

       

    • امین احسن اصلاحی اور حسد کرنے والے کی آفت سے جب وہ حسد کرے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ امین احسن اصلاحی

      حاسدوں کے حسد سے بچنے کی دعا: یہ آخر میں حاسدوں کے حسد کے شر سے بچنے کی دعا سکھائی گئی ہے۔ اگرچہ لفظ ’حَاسِد‘ یہاں عام ہے اور اس کو عام ہی رکھنا چاہیے بھی، اس لیے کہ جس حاسد کا حسد بھی بحرانی شکل اختیار کر لے وہ قابیل کے حسد کی طرح ہابیل کا خون بہا کر ہی اترتا ہے، اس وجہ سے اس سے پناہ مانگتے رہنا چاہیے۔ لیکن سورہ کی تمہید میں ہم واضح کر چکے ہیں کہ بنی آدم کا سب سے بڑا حاسد شیطان ہے اور اس کو خاص کد عقیدۂ توحید سے ہے۔ اس عقیدہ سے برگشتہ کرنے کے لیے اس نے اپنے جس عزم بالجزم کا اظہار کیا ہے اس کے شواہد ہم اوپر نقل کر آئے ہیں۔ یہاں سورۂ بنی اسرائیل کی آیات بھی نقل کیے دیتے ہیں تاکہ ’اِذَا حَسَدَ‘ کے الفاظ کا زور اچھی طرح واضح ہو جائے:

      قَالَ أَرَءَیۡتَکَ ہٰذَا الَّذِیْ کَرَّمْتَ عَلَیَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ لأَحْتَنِکَنَّ ذُرِّیَّتَہٗٓ إَلاَّ قَلِیْلاً ۵ قَالَ اذْہَبْ فَمَن تَبِعَکَ مِنْہُمْ فَإِنَّ جَہَنَّمَ جَزَآؤُکُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًا ۵ وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْہُمْ بِصَوْتِکَ وَأَجْلِبْ عَلَیْہِمۡ بِخَیْلِکَ وَرَجِلِکَ وَشَارِکْہُمْ فِی الأَمْوَالِ وَالأَوْلادِ وَعِدْہُمْ وَمَا یَعِدُہُمُ الشَّیْْطَانُ إِلاَّ غُرُوْرًا ۵ إِنَّ عِبَادِیْ لَیْْسَ لَکَ عَلَیْہِمْ سُلْطَانٌ وَکَفٰی بِرَبِّکَ وَکِیْلاً (بنی اسرائیل ۱۷: ۶۲-۶۵)
      ’’شیطان نے کہا، اچھا یہی ہے وہ جسے تو نے مجھ پر فضیلت بخشی ہے! اگر تو نے مجھے قیامت کے دن تک مہلت بخشی تو میں اس کی ذریت کو چٹ کر جاؤں گا، صرف تھوڑے ہی بچیں گے۔ خدا نے فرمایا، جا، جو ان میں سے تیرے پیرو بنیں گے تو تمہارا بدلہ پورا کرنے کے لیے جہنم کافی ہے تو ان میں سے جن پر تیرا بس چلے ان کو اپنے پراپیگنڈے سے گھبرا لے، ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا لے اور ان کے مال و اولاد میں حصہ بٹا لے اور ان سے پرفریب وعدے کر لے اور شیطان کے سارے وعدے محض فریب ہیں میرے خاص بندوں پر تیرا کوئی زور نہیں اور تیرا رب اعتماد کے لیے کافی ہے۔‘‘

      اس آیت سے اس زور، اس ولولہ اور ان اسباب و وسائل کا اظہار ہوتا ہے جو شیطان انسان کو توحید سے ہٹانے کے لیے بروئے کار لانے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ اسی چیز کی طرف ’اِذَا حَسَدَ‘ کے الفاظ اشارہ کر رہے ہیں یعنی جب کہ یہ حاسد اپنے حسد کے جوش میں اپنے ترکش کے سارے تیر آزمانے پر آمادہ ہو جائے۔
      ایک ضعیف روایت: یہ سورہ کسی شان نزول کی محتاج تو نہیں ہے لیکن اس کے تحت لوگوں نے ایک واقعہ نقل کیا ہے جس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر العیاذ باللہ کچھ یہودیوں نے ایک زمانہ میں جادو کر دیا تھا جس سے آپ بیمار ہو گئے تو آپ کو یہ سورہ سکھائی گئی اور آپ اس جادو کے اثرات بد سے محفوظ ہوئے۔
      اگرچہ دعویٰ یہ کیا جاتا ہے کہ اس جادو کا کوئی اثر آپ کے فرائض نبوت پر نہیں پڑا لیکن ساتھ ہی نہایت سادہ لوحی سے یہ اعتراف بھی لیا گیا ہے کہ اس کا اثر حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ پڑا کہ آپ گھلتے جا رہے تھے، کسی کام کے متعلق خیال فرماتے کہ کر لیا ہے لیکن نہیں کیا ہوتا، ازواج مطہرات کے متعلق خیال فرماتے کہ ان کے پاس گئے ہیں لیکن نہیں گئے ہوتے، بعض اوقات اپنی نظر پر بھی شبہ ہوتا کہ ایک چیز کو دیکھا ہے مگر نہیں دیکھا ہوتا۔ ان حضرات کے بیان کے مطابق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت گھنٹے دو گھنٹے یا دن دو دن نہیں بلکہ پورے چھ ماہ رہی۔ اب سوال یہ ہے کہ جب پورے چھ ماہ آپ پر، العیاذ باللہ، تعطل دماغ کی یہ کیفیت طاری رہی تو کیا یہ امکان مستبعد قرار دیا جا سکتا ہے کہ، العیاذ باللہ، آپ نے خیال فرمایا ہو کہ نماز پڑھ لی ہے درآنحالیکہ نہ پڑھی ہو یا یہ کہ نازل شدہ وحی کاتبین وحی کو لکھوا دی ہے حالانکہ نہ لکھوائی ہو یا یہ کہ جبریل امین کو دیکھا ہے حالانکہ نہ دیکھا ہو؟ ان امکانات کو کس دلیل سے آپ رد کر سکتے ہیں؟ اگر کوئی کہے کہ اس طرح کی کوئی بات روایات میں نہیں ملتی تو ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ روایات میں تمام جزئیات کہاں بیان ہو سکتی ہیں، لیکن ایک ایسے شخص سے جس کی ذہنی حالت آپ کے بیان کے مطابق وہ ہے جو مذکور ہوئی تو اس سے ان باتوں کا صادر ہونا تعجب انگیز نہیں بلکہ نہ صادر ہونا تعجب انگیز ہے۔
      میرے نزدیک اس شان نزول کو رد کرنے کے لیے یہ دلیل کافی ہے کہ یہ اس مسلمہ عقیدے کے بالکل منافی ہے جو قرآن نے انبیاء علیہم السلام سے متعلق ہمیں تعلیم کیا ہے۔ عصمت، حضرات انبیاء (علیہم السلام) کی ان خصوصیات میں سے ہے جو کسی وقت بھی ان سے منفک نہیں ہو سکتیں۔ اس عصمت کو اس امر سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا کہ نبی کے دندان مبارک شہید ہو گئے یا وہ زخمی ہو گیا یا وہ قتل کر دیا گیا۔ ان میں سے کوئی چیز بھی اس کی نبوت میں قادح نہیں ہے کہ اس کو آپ اس امر کی دلیل بنائیں کہ جب نبی ان چیزوں میں مبتلا ہو سکتا ہے تو مسحور بھی ہو سکتا ہے یہاں تک کہ اس کو کردہ اور ناکردہ، دیدہ اور نادیدہ میں کوئی امتیاز ہی باقی نہیں رہ جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس طرح کے شیطانی تصرفات سے اپنے نبیوں کو محفوظ رکھا ہے اور ان کی یہ محفوظیت دین کے تحفظ کے لیے ناگزیز ہے۔ یہ محفوظیت ہی نبی کے ہر قول و فعل کو سند بناتی ہے۔ پورا قرآن انبیاء کی عصمت پر گواہ ہے اور ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ ان کی عصمت پر ایمان رکھے۔
      شان نزول کے اس واقعے کو اگر روایت کے اصولوں پر جانچا جائے تو اس میں نمایاں ضعف موجود ہے۔ صِحاح کی ایک روایت میں رنگ آمیزی کرنے کے لیے تیسرے درجے کی ضعیف و موضوع روایتوں کا سہارا لیا گیا ہے اور اس کو ایک امر واقعہ کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔ یہ روایت صِحاح میں سے صرف بخاری، مسلم اور ابن ماجہ نے لی ہے اور سند کے تیسرے واسطہ تک یہ خبر واحد ہی رہی ہے۔ حتیٰ کہ بخاری کی ایک روایت میں سفیان بن عینیہ یہ اقرار کرتے ہیں کہ میں نے اسے ابن جریج سے بالکل پہلی مرتبہ سنا۔ گویا اس واقعہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے سو سال بعد شہرت پائی، اس سے پہلے اس کا علم صرف بعض افراد تک محدود رہا۔ ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ، العیاذ باللہ، اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم چھ ماہ تک مسحور رہے ہوتے تو یہ واقعہ اتنا غیر معمولی تھا کہ صدر اول ہی میں اس کا چرچا ہو جاتا اور یہ روایت ایک متواتر روایت کی حیثیت سے ہم تک پہنچتی۔
      صِحاح کی کسی روایت میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اگر یہ جادو ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کا اثر کتنا عرصہ رہا۔ اس کے برعکس ان تینوں کتابوں کی متفق علیہ روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ

      ’حتّٰی اذا کان ذات یوم او ذات لیلۃ دعا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ثم دعا ثم دعا‘
      (یہاں تک کہ جب ایک دن یا ایک رات گزر گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پے در پے دعا کی)


      اس سے معلوم ہوا کہ اگر اس کا کوئی اثر آپ کی قوت متخیلہ پر پڑا بھی تو وہ چند گھنٹوں سے زیادہ نہیں رہا۔ پھر آپ نے اللہ تعالیٰ سے بار بار دعا کی اور یہ اثر جاتا رہا۔ اگر ایسا ہوا تو یہ بالکل اسی قسم کی بات ہوئی جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جادوگروں کی رسیوں اور لاٹھیوں کو سانپ سمجھ لیا اور وقتی طور پر گھبرا گئے۔ اس طرح کی کیفیات تھوڑی دیر کے لیے طاری ہو جانا ناممکن نہیں ہوتا۔ یہ کیفیات بطور امتحان بھی نبی کو پیش آ سکتی ہیں لیکن ہوتی یہ وقتی اور عارضی ہیں تاکہ نبی کی عصمت مجروح نہ ہو۔
      یہ حقیقت بھی ملحوظ رہے کہ صحاح میں نہ اس واقعہ کو سورہ کے شان نزول کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور نہ یہ بتایا گیا ہے کہ معوذتین کی آیات پڑھ پڑھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی تانت کی گرہیں کھولیں۔ یہ چیز واضح کرتی ہے کہ محدثین نے اس واقعہ کو سورۂ فلق سے متعلق نہیں مانا۔ یہ بعد والوں کی ذہانت ہے کہ وہ اس روایت کو معوذتین کے ذیل میں لے آئے۔ حالانکہ، جیسا کہ سورۂ فلق کی تفسیر سے واضح ہوا اور آگے سورۂ ناس کی تفسیر سے واضح ہو گا، ان کا مفہوم اس سے اِبا کرتا ہے کہ ان کے نزول کو کسی مجہول جادوگر کے کسی شیطانی عمل کا نتیجہ قرار دیا جائے۔

      جاوید احمد غامدی اور ہر حاسد کے شر سے، جب وہ حسد کرے۔ (تفسیر)

      آیت کی تفسیر اور الفاظ کی وضاحت ۔ جاوید احمد غامدی

      یعنی جب حاسد حسد کے جوش میں اپنے ترکش کا ہر تیر آزمانے کے لیے تیار ہو جائے۔ لفظ ’حَاسِد‘ اگرچہ عام ہے اور اِس کو عام ہی رکھنا چاہیے، لیکن قرآن کی تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس میں خاص اشارہ شیطان کی طرف ہے جس نے پورے زور اور ولولے کے ساتھ اعلان کر رکھا ہے کہ وہ لوگوں کو خدا کی توحید سے برگشتہ کرکے رہے گا۔ چنانچہ دعوت حق اور اُس کے داعیوں کو بالخصوص متنبہ رہنا چاہیے ، اِس لیے کہ اُس کا اصل ہدف وہی ہوتے ہیں اور اُنھیں نقصان پہنچانے کے لیے وہ ہر اقدام کر گزرتا ہے۔ اگلی سورہ میں یہ چیز بالکل نمایاں ہو جائے گی۔

    Join our Mailing List